حدیث نمبر: 10108
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قََالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میت کو غسل دے اسے چاہئے کہ خود بھی غسل کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10108
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات غير صالح، وهو صدوق كان قد اختلط ، وقد اختلف في رفع الحديث ووقفه
حدیث نمبر: 10109
حَدَّثَنَا يَحْيَى , وَابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي ، إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَشَبَّهُ بِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہوجائے اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10109
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، ورجاله ثقات
حدیث نمبر: 10110
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ زَكَرِيَّا ، قََالَ : حَدَّثَنِي عَامِرٌ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الظَّهْرُ يُرْكَبُ بِنَفَقَةٍ ، إِذَا كَانَ مَرْهُونًا ، وَيُشْرَبُ لَبَنُ الدَّرِّ ، إِذَا كَانَ مَرْهُونًا ، وَعَلَى الَّذِي يَشْرَبُ وَيَرْكَبُ نَفَقَتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر جانور کو بطور رہن کے کسی کے پاس رکھوایا جائے تو اس کا چارہ مرتہن کے ذمے واجب ہوگا اور دودھ دینے والے جانور کا دودھ پیا جاسکتا ہے البتہ جو شخص اس کا دودھ پیے گا اس کا خرچہ بھی اس کے ذمے ہوگا اور اس پر سواری بھی کی جاسکتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10110
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2512
حدیث نمبر: 10111
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عِمْرَانَ أَبِي بَكْرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " أَوْصَانِي خَلِيلِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ : الْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں نے انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا۔ (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) جمعہ کے دن غسل کرنے کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10111
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، خ: 1178، م: 721، فيه انقطاع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 10112
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا ، أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے " سوائے مسجد حرام کے " ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10112
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1190، م: 1394
حدیث نمبر: 10113
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قََالَ : حَدَّثَنَا سَلْمَانُ الْأَغَرُّ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10113
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، فهو كسابقه
حدیث نمبر: 10114
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قََالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدٌ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَالْحَسَنِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ , وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ امام کے بھول جانے پر سبحان اللہ کہنے کا حکم مرد مقتدیوں کے لئے ہیں اور تالی بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10114
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد الموصول منه صحيح، خ: 1203، م: 422، ورواية الحسن، مرسلة
حدیث نمبر: 10115
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ هِشَامٍ ، قََالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ، إِلَّا كَلْبَ حَرْثٍ أَوْ مَاشِيَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص شکاری کتے اور کھیت یا ریوڑ کی حفاظت کے علاوہ شوقیہ طور پر کتے پالے اس کے ثواب میں سے روزانہ ایک قیراط کے برابر کمی ہوتی رہے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10115
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2322، م: 1575
حدیث نمبر: 10116
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قََالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى ، قََالَ : حَدَّثَنِي ضَمْضَمٌ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ : الْحَيَّةِ وَالْعَقْرَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دے رکھا ہے کہ دوران نماز بھی " دو کالی چیزوں یعنی سانپ اور بچھو کو " مارا جاسکتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10116
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10117
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کرے، اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے، اسی طرح جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کرے اس کے گزشتہ گناہ معاف ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10117
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1901، م: 760
حدیث نمبر: 10118
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , وَأَبُو عَامِرٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، فَذَكَرَا مِثْلَهُ ، إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا : " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10118
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 37، م: 760
حدیث نمبر: 10119
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيمَا أَعْلَمُ شَكَّ يَحْيَى ، قَالَ : " دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَدِينَارٌ فِي الْمَسَاكِينِ ، وَدِينَارٌ فِي رَقَبَةٍ ، وَدِينَارٌ فِي أَهْلِكَ ، أَعْظَمُهَا أَجْرًا الدِّينَارُ الَّذِي تُنْفِقُهُ عَلَى أَهْلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ دینار جو تم اللہ کے راستہ میں خرچ کرو اور وہ دینار جو مساکین میں تقسیم کرو اور وہ دینار جس سے کسی غلام کو آزاد کراؤ اور وہ دینار جو اپنے اہل خانہ پر خرچ کرو ان میں سب سے زیادہ ثواب اس دینار پر ہوگا جو تم اپنے اہل خانہ پر خرچ کروگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10119
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 995
حدیث نمبر: 10120
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، قََالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ ، فَتَمَسُّهُ النَّارُ , إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس مسلمان کے تین بچے نابالغ فوت ہوگئے ہوں ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ اس کے باوجود جہنم میں داخل ہوجائے الاّ یہ کہ قسم پوری کرنے کے لئے جہنم میں جانا پڑے (ہمشہ جہنم میں نہیں رہے گا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10120
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1251، م: 2632
حدیث نمبر: 10121
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، قََالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فَضْلُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ ، خَمْسَةٌ وَعِشْرُونَ جُزْءًا " ، قَالَ يَحْيَى : إِنْ شَاءَ اللَّهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10121
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 648، م: 649
حدیث نمبر: 10122
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَأَوَّلُ زُمْرَةٍ مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ، صُورَةُ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، كَأَشَدِّ ضَوْءِ نَجْمٍ فِي السَّمَاءِ ، ثُمَّ هُمْ مَنَازِلُ بَعْدَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں تو ہم سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے جنت میں جائیں گے جنت میں میری امت کا جو گروہ سب سے پہلے داخل ہوگا ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان کے بعد داخل ہونے والا گروہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہوگا۔ اس کے بعد درجہ بدرجہ لوگ ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10122
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3254، م: 2834
حدیث نمبر: 10123
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قََالَ : َحَدَّثَنَا زِيَادٌ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ دَاخِلٌ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ " , قِيلَ : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10123
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5673، م: 2816، وهذا إسناد ضعيف لجهالة زياد، لكنه متابع
حدیث نمبر: 10124
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10124
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816
حدیث نمبر: 10125
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ ، فَلْيُجْلِسْهُ مَعَهُ ، فَإِنْ لَمْ يُجْلِسْهُ ، فَلْيُنَاوِلْهُ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکا کر لائے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ لے کر ہی اسے دے دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10125
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2557، م: 1663
حدیث نمبر: 10126
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، قََالَ : حَدَّثَنِي ذَكْوَانُ أَبُو صَالِحٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَخْرُجُ ، وَلَكِنْ لَا يَجِدُونَ حَمُولَةً ، وَلَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ ، وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي ، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي قَاتَلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقُتِلْتُ ، ثُمَّ أُحْيِيتُ ، ثُمَّ قُتِلْتُ ، ثُمَّ أُحْيِيتُ ، ثُمَّ قُتِلْتُ ، ثُمَّ أُحْيِيتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ میں اللہ کے راستہ میں نکلنے والے کسی سریہ سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ ان سب کو سواری مہیا کرسکوں مجھے اس بات کی تمنا ہے کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کروں اور جام شہادت نوش کرلوں، پھر زندگی عطاہو اور جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں، پھر جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10126
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 36 م: 1876
حدیث نمبر: 10127
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قََالَ : حَدَّثَنِي عَجْلَانُ مَوْلَى الْمُشْمَعِلِّ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رُكُوبِ الْبَدَنَةِ , فَقَالَ : " ارْكَبْهَا " ، قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ ! قَالَ " ارْكَبْهَا وَيْلَك " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی نے قربانی کے جانور پر سوار ہونے کا حکم پوچھا (جبکہ انسان حج کے لئے جارہاہو اور اس کے پاس کوئی دوسری سواری نہ ہو) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10127
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1689، م: 1322
حدیث نمبر: 10128
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، قََالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِصَاحِبِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ أَنْصِتْ فَقَدْ لَغَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ امام جب وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10128
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 934، م: 851
حدیث نمبر: 10129
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ سَجْدَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، فَقَدْ أَدْرَكَ ، وَمَنْ أَدْرَكَ سَجْدَةً مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، فَقَدْ أَدْرَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی اور جو شخص غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10129
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 556، م: 608
حدیث نمبر: 10130
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قََالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم بنی اسرائیل سے روایات بیان کرسکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10130
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10131
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَحْيَى ، قََالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ وَجَدَ مَالَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10131
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2402، م: 1559
حدیث نمبر: 10132
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ يَوْمٌ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ ، فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ ، فَإِنْ جُهِلَ عَلَيْهِ ، فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ ڈھال ہے جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے تو اسے کوئی بیہودگی یا جہالت کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہے تو اسے یوں کہہ دینا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10132
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1511
حدیث نمبر: 10133
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : وَحَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : " وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا سورة الإسراء آية 78 ، قَالَ : تَشْهَدُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَار " .
مولانا ظفر اقبال
خضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآنی ان قرآن الفجر کان مشہودا کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ اس وقت رات اور دن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10133
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 648، م: 649، وله هنا إسنادان، الأول: منقطع فإن إبراهيم لم يسمع من ابن مسعود، والثاني: صحيح
حدیث نمبر: 10134
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ ، هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً ، الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10134
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52
حدیث نمبر: 10135
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا الْمُثَنَّى ، قََالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا تَشَاجَرْتُمْ أَوْ اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ ، فَدَعُوا سَبْعَ أَذْرُعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب راستے کی پیمائش میں لوگوں کے درمیان اختلاف ہوجائے تو اسے سات گز پر اتفاق کرکے دور کرلیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10135
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2473، م: 1613
حدیث نمبر: 10136
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، قََالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ زُرَارَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا ، مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَكَلَّمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے میری امت کو یہ چھوٹ دی ہے کہ اس کے ذہن میں جو وسوسے پیدا ہوتے ہیں ان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا بشرطیکہ وہ اس وسوسے پر عمل نہ کرے یا اپنی زبان سے اس کا اظہار نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10136
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2528، م: 127
حدیث نمبر: 10137
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ . وَحَجَّاجٌ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , الْمَعْنَى ، قََالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : إِذَا مُتُّ فَلَا تَضْرِبُوا عَلَيَّ فُسْطَاطًا ، وَلَا تَتْبَعُونِي بِنَارٍ ، وَأَسْرِعُوا بِي إِلَى رَبِّي ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا وُضِعَ الْعَبْدُ أَوْ الرَّجُلُ الصَّالِحُ عَلَى سَرِيرِهِ ، قَالَ : قَدِّمُونِي قَدِّمُونِي ، وَإِذَا وُضِعَ الرَّجُلُ السَّوْءُ ، قَالَ وَيْلَكُمْ أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِي " .
مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن مہران رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس وقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا موقع قریب آیا تو وہ فرمانے لگے مجھ پر کوئی خیمہ نہ لگانا میرے ساتھ آگ نہ لے کر جانا اور مجھے جلدی لے جانا کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب کسی نیک آدمی کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے مجھے جلدی آگے بھیجو مجھے جلدی آگے بھیجو اور اگر کسی گناہ گار آدمی کو چارپائی پر رکھاجائے تو وہ کہتا ہے ہائے افسوس ! مجھے کہاں لئے جاتے ہو ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10137
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 1314، م: 944
حدیث نمبر: 10138
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا سَبَقَ إِلَّا فِي خُفٍّ ، أَوْ نَصْلٍ ، أَوْ حَافِرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف اونٹ یا گھوڑے میں ریس لگائی جا سکتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10138
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10138M
وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَيَزِيدُ , عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10138M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 10139
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10139
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5110، م: 1408
حدیث نمبر: 10140
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، قََالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَمْرُ فِي هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ ، وَالْعِنَبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے ایک کھجور اور ایک انگور۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10140
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1985
حدیث نمبر: 10141
حَدَّثَنَا يَحْيَى , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , الْمَعْنَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قََالَ : يَحْيَى ، قََالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ ، كَانَ إِذَا اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ ، وَإِذَا لَمْ يَشْتَهِهِ تَرَكَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا، اگر تمنا ہوتی تو کھالیتے اور اگر تمنا نہ ہوتی تو سکوت فرما لیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10141
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5409، م: 2064
حدیث نمبر: 10142
حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ ، قََالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ ، فَإِنْ اتَّبَعَهَا حَتَّى تُوضَعَ فِي الْقَبْرِ ، فَلَهُ قِيرَاطَان " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , مَا الْقِيرَاطُ ؟ قَالَ : مِثْلُ أُحُد .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہا اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا قیراط سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے فرمایا احد پہاڑ کے برابر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10142
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1325، م: 945
حدیث نمبر: 10143
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قََالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مِرَاءٌ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10143
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10144
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، قََالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ ، وَلْيَخْرُجْنَ تَفِلَات " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بندیوں کو مسجد میں آنے سے نہ روکا کرو، البتہ انہیں چاہئے کہ وہ بناؤ سنگھار کے بغیر عام حالت میں ہی آیا کریں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10144
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10145
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، قََالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ : فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ ، وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْك " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ سے ملاقات کرے گا تب بھی وہ خوش ہوگا اور روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10145
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10146
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، قََالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا ، فَإِنْ سَكَتَتْ فَهُوَ إِذْنُهَا ، وَإِنْ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری لڑکی سے نکاح کی اجازت لی جائے اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی جانب سے اجازت تصور کی جائے گی اور اگر وہ انکار کردے تو اس پر زبردستی کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10146
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن