حدیث نمبر: 10068
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا ، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ اللہ سے خیر کا سوال کررہاہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطاء فرما دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10068
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6400، م: 852
حدیث نمبر: 10069
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَمَا يَخْشَى ، أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ وَالْإِمَامُ سَاجِدٌ ، أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ تَعَالَى رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کیا وہ آدمی جو امام سے پہلے سر اٹھائے اور امام سجدہ ہی میں ہو اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر گدھے جیسا بنا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10069
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 691، م: 427
حدیث نمبر: 10070
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم " يَتَعَوَّذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا ، وَالْمَمَاتِ ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ میں عذاب قبر سے، مسیح دجال کے فتنہ سے اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10070
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588
حدیث نمبر: 10071
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قََالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنِ ابْنِ قَارِظٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10071
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: م: 352
حدیث نمبر: 10072
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قََالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ ، قَنَتَ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ َنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، اللَّهُمَّ َنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، اللَّهُمَّ َنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، اللَّهُمَّ َنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَام " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز عشاء کی آخری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ دعاء فرماتے کہ اے اللہ ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزوروں کو قریش کے ظلم وستم سے نجات عطاء فرما، اے اللہ ! قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما اور ان پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے جیسی قحط سالی مسلط فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10072
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6393، م: 675
حدیث نمبر: 10073
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، قََالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى , عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، قََالَ : كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ : " لَأُقَرِّبَنَّ بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ وَصَلَاةِ الصُّبْحِ ، بَعْدَمَا يَقُول : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، وَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْكَافِرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بخدا ! نماز میں میں تم سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوں ابوسلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز ظہر عشاء اور نماز فجر کی آخری رکعت میں سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد قنوت نازلہ پڑھتے تھے جس میں مسلمانوں کے لئے دعا اور کفار پر لعنت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10073
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4598، م: 675
حدیث نمبر: 10074
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قََالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ ، كَلِمَةُ لَبِيدٍ : أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ " ، وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شاعر نے جو سب سے زیادہ سچا شعر کہا ہے وہ یہ ہے کہ یاد رکھو اللہ کے علاوہ ہر چیز باطل (فانی) ہے اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی الصلت اسلام قبول کرلیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10074
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 797، م: 676
حدیث نمبر: 10075
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُؤْمِنِ فِي عَبْدِهِ وَلَا فِي فَرَسِهِ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10075
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1464، م: 982
حدیث نمبر: 10076
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ عِنْدَهُ رَجُلٌ مَاتَ ، فَقَالُوا : خَيْرًا ، وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ " ، وَذُكِرَ عِنْدَهُ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالُوا شَرًّا ، وَأَثْنَوْا شَرًّا ، فَقَالَ : النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَجَبَتْ " ، قَالَ : " أَنْتُمْ شُهَدَاءُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک فوت شدہ آدمی کا تذکرہ ہوا لوگ اس کے عمدہ خصائل اور اس کی تعریف بیان کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی اسی اثناء میں ایک اور آدمی کا تذکرہ ہوا اور لوگوں نے اس کے برے خصائل اور اس کی مذمت بیان کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی پھر فرمایا کہ تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10076
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10077
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ : حَدَّثَنِي سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنِ أَبِيه ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10077
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3539، م: 2134، وهذا إسناد ضعيف لجهالة والد سليم
حدیث نمبر: 10078
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سَلِيمٌ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ ، فَإِنَّ الظَّنَّ مِنْ أَكْذَبِ الْحَدِيثِ ، وَلَا تَجَسَّسُوا ، وَلَا تَحَسَّسُوا ، وَلَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَحَاسَدُوا ، وَلَا تَنَافَسُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدگمانی کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے کسی کی جاسوسی اور ٹوہ نہ لگاؤ باہم مقابلہ نہ کرو ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو قطع رحمی نہ کرو بغض نہ رکھو اور بندگان خدا ! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10078
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6724، م: 2563، وهذا إسناد ضعيف لجهالة والد سليم
حدیث نمبر: 10079
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قََالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ كُتِبَ لَهُ قِيرَاطٌ ، فَإِنْ تَبِعَهَا حَتَّى يُقْضَى دَفْنُهَا ، فَلَهُ قِيرَاطَانِ أَصْغَرُهُمَا أَوْ أَحَدُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ " ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ فَتَعَاظَمَهُ ، فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ : صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَة .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہا اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا جن میں سے چھوٹا قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث معلوم ہوئی تو انہوں نے اسے بہت اہم سمجھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس یہ دریافت کرنے کے لئے ایک آدمی کو بھیجا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ابوہریرہ سچ کہتے ہیں، اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس طرح تو ہم نے بہت سے قیراط ضائع کردئیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10079
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1325، م: 945
حدیث نمبر: 10080
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قََالَ : حَدَّثَنِي حَبِيبٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنِ ابْنِ الْمُطَوِّسِ ، فَلَقِيتُ ابْنَ الْمُطَوِّسِ فَحَدَّثَنِي , عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ رَخَّصَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صِيَامُ الدَّهْرِ ، وَإِنْ صَامَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بغیر کسی عذر کے رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دے یا توڑ دے ساری عمر کے روزے بھی اس ایک روزے کا بدلہ نہیں بن سکتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10080
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة المطوس، وأبيه
حدیث نمبر: 10081
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، قََالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُطَوِّسِ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا فِي رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ مَرَضٍ وَلَا رُخْصَةٍ ، لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ ، وَإِنْ صَامَهُ " ، قَالَ سُفْيَان : قَالَ حَبِيبٌ : حَدَّثَنِي عُمَارَةُ ، عَنِ أَبِي الْمُطَوِّس ، فَلَقِيتُ أَبَا الْمُطَوِّسِ فَحَدَّثَنِي . حَدَّثَنَاه أَبُو نُعَيْمٍ ، فَقَالَ : أَبُو الْمُطَوِّس .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بغیر کسی عذر کے رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دے یا توڑ دے ساری عمر کے روزے بھی اس ایک روزے کا بدلہ نہیں بن سکتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10081
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 10082
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُطَوِّسِ ، عَنِ أَبِيهِ , فَذَكَرَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10082
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 10083
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ وَاجْتَهَدَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مرد اپنی بیوی کے چاروں کونوں کے درمیان بیٹھ جائے اور کوشش کرلے تو اس پر غسل واجب ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10083
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 291 ، م: 348، الحسن: لم يسمع من أبي هريره لكن عرفت الواسطه بينهما، وهو أبو رافع الثقه
حدیث نمبر: 10084
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قََالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَة ، َعَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم سُئِلَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے نابالغ فوت ہوجانے والے بچوں کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا اعمال سرانجام دیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10084
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6599، م: 2659
حدیث نمبر: 10085
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُمَيْدٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ ، فَانْخَنَسْتُ فَذَهَبْتُ فَاغْتَسَلْتُ ، ثُمَّ جِئْتُ ، فَقَالَ : " أَيْنَ كُنْتَ ؟ " قَالَ : كُنْتَ لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ناپاکی کی حالت میں میری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوگئی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا رہا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جگہ بیٹھ گئے میں موقع پاکر پیچھے سے کھسک گیا اور اپنے خیمے میں آکر غسل کیا اور دوبارہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی وہیں تشریف فرما تھے مجھے دیکھ کر پوچھنے لگے کہ تم کہاں چلے گئے تھے ؟ میں نے عرض کیا کہ جس وقت آپ سے ملاقات ہوئی تھی۔ میں ناپاکی حالت میں تھا مجھے ناپاکی کی حالت میں آپ کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اچھا نہ لگا اس لئے میں چلا گیا اور غسل کیا (پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن تو ناپاک نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10085
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 283، م: 371
حدیث نمبر: 10086
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَثَّ عَلَى الصَّدَقَة ، فَقَالَ رَجُلٌ : عِنْدِي دِينَارٌ ، قَالَ : " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ " ، قَال : عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ ، قَالَ : " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجَتِكَ " ، قَالَ : عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ ، قَالَ : " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ " ، قَالَ : عِنْدِي دِينَارٌ آخَر ، قَالَ : " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ " ، قَالَ : عِنْدِي دِينَارٌ آخَرُ ، قَال ، " أَنْتَ أَبْصَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی، یک آدمی کہنے لگا کہ اگر میرے پاس صرف ایک دینار ہو تو ؟ فرمایا اسے اپنی ذات پر صدقہ کردو اس نے پوچھا کہ اگر ایک دینار اور بھی ہو تو ؟ فرمایا اپنی بیوی پر صدقہ کردو اس نے پوچھا کہ اگر ایک دینار اور بھی ہو تو ؟ فرمایا اسے اپنے بچے پر صدقہ کردو اس نے پوچھا کہ اگر ایک دینار اور بھی ہو تو ؟ فرمایا اسے اپنے خادم پر صدقہ کردو اس نے پوچھا کہ اگر ایک دینار اور بھی ہو تو ؟ فرمایا تم زیادہ بہتر سمجھتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10086
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 10087
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَوْ عَنِ أَبِي سَعِيدٍ شَكَّ الْأَعْمَشُ ، قََالَ : " يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : اقْرَهْ وَارْقَهْ ، فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یا ابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قیامت کے دن حامل قرآن سے کہا جائے گا پڑھتا جا اور چڑھتا جا، تیر ا ٹھکانہ اس آخری آیت پر ہوگا جو تو پڑھے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10087
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وهو في حكم المرفوع
حدیث نمبر: 10088
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ . وَإِسْمَاعِيلُ , قََالَ : أَخْبَرَنَا عَبَّادٌ , الْمَعْنَى ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : قَالَ إِسْمَاعِيلُ : عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ قال : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْبَلُ الصَّدَقَاتِ ، وَيَأْخُذُهَا بِيَمِينِهِ ، فَيُرَبِّيهَا لِأَحَدِكُمْ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ أَوْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ ، حَتَّى إِنَّ اللُّقْمَةَ لَتَصِيرُ مِثْلَ أُحُدٍ " ، وَقَالَ وَكِيعٌ : فِي حَدِيثِهِ : وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ : وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ سورة الشورى آية 25 وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ ، وَ يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ سورة البقرة آية 276 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ جب حلال مال میں سے کوئی چیزصدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے قبول فرما لیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے اور انسان ایک لقمہ صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں بڑھتے بڑھتے وہ ایک لقمہ پہاڑ کے برابر بن جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10088
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات، خ: 1410، م: 1014
حدیث نمبر: 10089
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمَنْ أَطَاعَ الْإِمَامَ فَقَدْ أَطَاعَنِي ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ ، وَمَنْ عَصَى الْإِمَامَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی درحقیقت اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10089
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2957، م: 1835
حدیث نمبر: 10090
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَبَهْزٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، قََالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ : قََالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ يَمِيلُ مَعَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَحَدُ شِقَّيْهِ سَاقِطٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کو دوسری پر ترجیح دیتا ہو (ناانصافی کرتا ہو) وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کا جسم فالج زدہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10090
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10091
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ , وَأَبِي رَزِينٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ كَذَا , قََالَ : الْأَعْمَشُ قََالَ : " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ ، فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10091
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 162، م: 278
حدیث نمبر: 10092
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ رَأَى قَوْمًا يَتَوَضَّئُونَ مِنَ الْمَطْهَرَةِ ، فَقَالَ : أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جو وضو کررہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وضو خوب اچھی طرح کرو کیونکہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10092
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 165، م: 242
حدیث نمبر: 10093
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ صَوْتٍ أَوْ رِيحٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو اسی وقت واجب ہوتا ہے جب آواز آئے یا خروج ریح ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10093
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10094
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ الْأَوْدِيُّ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُومَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ وَبِهِ أَذًى مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسی کو پیشاب پاخانہ کی ضرورت ہو تو وہ نماز کے لئے کھڑا نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10094
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بطرقه و شواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف داود
حدیث نمبر: 10095
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، قََالَ : خَرَجَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ مَا أُذِّنَ فِيهِ بِالْعَصْرِ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالشعثاء محاربی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نماز عصر کی اذان کے بعد ایک آدمی اٹھا اور مسجد سے نکل گیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس آدمی نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10095
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10096
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَوْدُودٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِي أَوْ الْمَسْجِدِ فَلْيَحْفِرْ وَلْيُعَمِّق ، أَوْ لِيَبْزُقْ فِي ثَوْبِهِ حَتَّى يُخْرِجَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص مسجد میں تھوکنا چاہے تو اسے چاہئے کہ وہ خوب زیادہ مٹی کھود لے ورنہ اپنے کپڑے میں تھوک لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10096
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وإسناده حسن، خ: 416، م: 550
حدیث نمبر: 10097
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنِ أَبِيهِ ، قََالَ : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ " صَلَّى صَلَاةً تَجَوَّزَ فِيهَا ، فَقُلْتُ لَهُ : هَكَذَا كَانَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نَعَمْ , وَأَوْجَزَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوخالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مختصر نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو ان سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح نماز پڑھتے تھے ؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہاں ! بلکہ اس سے بھی مختصر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10097
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10098
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْإِمَامُ ضَامِنٌ ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ ، اللَّهُمَّ أَرْشِدْ الْأَئِمَّةَ ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار اے اللہ اماموں کی رہنمائی فرما اور مؤذنین کی مغفرت فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10098
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10099
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَجَوَّزُوا فِي الصَّلَاةِ ، فَإِنَّ فِيهِمْ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (جب تم امام بن کر نماز پڑھایا کرو تو) ہلکی نماز پڑھایا کرو کیونکہ نمازیوں میں عمر رسیدہ، کمزور اور ضرورت مند سب ہی ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10099
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 703، م: 467
حدیث نمبر: 10100
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ ، صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فجر اور عشاء کی نمازیں منافقین پر سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہیں اور اگر انہیں ان دونوں کا ثواب پتہ چل جائے تو وہ ان میں ضرور شرکت کریں اگرچہ انہیں گھٹنوں کے بل ہی آنا پڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10100
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 657، م: 651
حدیث نمبر: 10101
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَتِي فَيَجْمَعُوا حُزَمَ الْحَطَبِ ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ ، ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى قَوْمٍ لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ اپنے نوجوانوں کو حکم دوں کہ لکڑیوں کے گٹھے جمع کریں، پھر ایک آدمی کو حکم دوں اور وہ نماز کھڑی کردے پھر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز باجماعت میں شرکت نہیں کرتے اور لکڑیوں کے گٹھوں سے ان کے گھروں میں آگ لگادوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10101
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2420، م: 651
حدیث نمبر: 10102
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ " يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ : الم تَنْزِيلُ , وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نماز فجر میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10102
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1068، م: 880
حدیث نمبر: 10103
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , الْمَعْنَى ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَة , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَتَيْتُمْ الصَّلَاة ، فَأْتُوهَا بِالْوَقَارِ وَالسَّكِينَةِ ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے آیا کرو تو اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو، جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10103
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 908، م: 602
حدیث نمبر: 10104
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " أَمَا يَخَافُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ ، أَنْ يُحَوَّلَ رَأْسُهُ رَأْسَ حِمَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ آدمی جو امام سے پہلے سر اٹھائے اور امام سجدہ ہی میں ہو اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر گدھے جیسا بنا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10104
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 691، م: 427
حدیث نمبر: 10105
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يُحَدِّثُ مُعَاوِيَةَ ، قََالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ حَتَّى يَحْتَزِمَ " . قَال : وَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ " , قَالَ شُعْبَةُ : قَالَ مَرَّةً : وَيُعْلَمَ مَا هِيَ . قَالَ : " وَنَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ ، حَتَّى تُحْرَزَ مِنْ كُلِّ عَارِضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کمر کسنے سے قبل نماز پڑھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم سے قبل مال غنیمت کی خریدوفروخت منع فرمایا ہے۔ اور یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر آفت سے محفوظ ہونے سے قبل پھل کی خریدوفروخت سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10105
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 10106
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قََالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا ، وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام مسلمانوں میں سب سے زیادہ کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں اور تم میں سب سے بہترین وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں اچھے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10106
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10107
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ ، فَعَلَيْهِ خَلَاصُهُ كُلِّهِ فِي مَالِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ ، اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی کسی غلام میں شراکت ہو اور وہ اپنے حصے کے بقدر اسے آزاد کر دے تو اگر وہ مالدار ہے تو اس کی مکمل جان خلاصی کرانا اس کی ذمہ داری ہے اور اگر وہ مالدار نہ ہو تو بقیہ قیمت کی ادائیگی کے لئے غلام سے اس طرح کوئی محنت مزدوری کروائی جائے کہ اس پر بوجھ نہ بنے (اور بقیہ قیمت کی ادائیگی کے بعد وہ مکمل آزاد ہوجائے گا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10107
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2492، م: 1503