حدیث نمبر: 9989
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمَّارٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَقِيَ آدَمَ مُوسَى ، فَقَالَ : أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ ، وَأَسْكَنَكَ الْجَنَّةَ ثُمَّ فَعَلْتَ ؟ ! , فَقَالَ : أَنْتَ مُوسَى الَّذِي كَلَّمَكَ اللَّهُ ، وَاصْطَفَاكَ بِرِسَالَتِهِ ، وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ التَّوْرَاةَ ؟ ! , ثُمَّ أَنَا أَقْدَمُ أَمْ الذِّكْرُ ؟ قَالَ : لَا , بَلْ الذِّكْرُ ، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ، فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام میں مباحثہ ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ اے آدم ! اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا اور آپ کو جنت میں ٹھہرایا پھر آپ نے یہ کام کیا ؟ اے موسیٰ اللہ نے تمہیں اپنے سے ہم کلام ہونے کے لئے منتخب کیا اور تم پر تورات نازل فرمائی یہ بتاؤ کہ میں پہلے تھا یا اللہ کا حکم انہوں نے کہا اللہ کا حکم اس طرح حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9989
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6614، م: 2952
حدیث نمبر: 9990
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَحُمَيْدٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ رَجُلٍ ، قَالَ حَمَّادٌ : أَظُنُّهُ جُنْدُبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَقِيَ آدَمَ مُوسَى " , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9990
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وله إسنادان، الأول: صحيح، والثاني: ضعيف، الحسن البصري، مدلس وقد عنعن، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 9991
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَالْمَوْلُودُ ؟ قَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے نابالغ فوت ہوجانے والے بچوں کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا اعمال انجام دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9991
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6599، م: 2659
حدیث نمبر: 9992
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا أَطَاعَ الْعَبْدُ رَبَّهُ ، وَأَطَاعَ سَيِّدَهُ , فَلَهُ أَجْرَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی غلام اللہ اور اپنے آقا دونوں کی اطاعت کرتا ہے تو اسے ہر عمل پر دہرا اجر ملتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9992
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9993
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , وَعَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيَخْرُجَنَّ مِنَ الْمَدِينَةِ رِجَالٌ رَغْبَةً عَنْهَا ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ لوگ مدینہ منورہ سے بےرغبتی کے ساتھ نکل جائیں گے حالانکہ اگر انہیں پتہ ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے زیادہ بہتر تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9993
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1378
حدیث نمبر: 9994
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ , وَمُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَه .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9994
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 9995
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا ، وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9995
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
حدیث نمبر: 9996
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , قََالَ : وَحَدَّثَنَا إِسْحَاق ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ ، فَلْيَغْسِلْ يَدَهُ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهَا فِي إِنَائِهِ ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9996
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 162، م: 278
حدیث نمبر: 9997
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بدترین شخص وہ آدمی ہے جو دوغلا ہو ان لوگوں کے پاس ایک رخ لے کر آتا ہو اور ان لوگوں کے پاس دوسرا رخ لے کر آتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9997
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3494، م: 2526
حدیث نمبر: 9998
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الصِّيَامَ جُنَّةٌ ، فَإِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ صَائِمًا ، فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ ، فَإِنْ امْرُؤٌ شَاتَمَهُ أَوْ قَاتَلَهُ ، فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ ڈھال ہے جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے تو اسے بیہودگی یا جہالت کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہئے تو اسے یوں کہہ دینا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9998
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
حدیث نمبر: 9999
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، " لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رِيحِ الْمِسْك " . يَقُول عَزَّ وَجَلَّ : " إِنَّمَا يَذَرُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ أَجْلِي ، فَالصَّوْمُ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، مِنْ كُلِّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ ، إِلَّا الصِّيَامَ فَهُوَ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بندہ اپنا کھانا پینا اور اپنی خواہشات پر عمل کرنا میری وجہ سے چھوڑتا ہے لہٰذا روزہ میرے لئے ہوا اور میں اس کا بدلہ بھی خود ہی دوں گا اور روزے کے علاوہ ہر نیکی کا بدلہ دس سے لے کر سات سو گنا تک ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9999
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10000
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، كَمَثَلِ الصَّائِمِ الدَّائِمِ الْقَائِمِ الَّذِي لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَصَلَاةٍ حَتَّى يَرْجِعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے مجاہد کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اپنے گھر میں شب زندہ دار اور صائم النہار ہو اسے صیام و قیام کا یہ ثواب اس وقت تک ملتا رہتا ہے جب تک وہ مال غنیمت لے کر اپنے گھر نہ لوٹ آئے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10000
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10001
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال : " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ ، وَلَا تَجَسَّسُوا ، وَلَا تَحَسَّسُوا ، وَلَا تَنَافَسُوا ، وَلَا تَحَاسَدُوا ، وَلَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدگمانی کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے کسی کی جاسوسی اور ٹوہ نہ لگاؤ باہم مقابلہ نہ کرو ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو قطع رحمی نہ کرو بغض نہ رکھو اور بندگان خدا ! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10001
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6066، م: 2563
حدیث نمبر: 10002
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال : " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو کسی مالدار کے حوالے کردیا جائے تو اسے اس ہی کا پیچھا کرنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10002
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2287، م: 1564
حدیث نمبر: 10003
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَبْدَأْ بِالْيَمِينِ ، وَإِذَا نَزَعَ ، فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ ، وَلْتَكُنْ الْيُمْنَى أَوَّلَهُمَا تُنْعَلُ ، وَآخِرَهُمَا تُنْزَعُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص جوتی پہنے تو دائیں پاؤں سے ابتداء کرے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاؤں کی اتارے تاکہ دایاں پاؤں جوتی پہننے کے اعتبار سے پہلا ہو اور اتارنے کے اعتبار سے آخری ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10003
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5856، م: 2097
حدیث نمبر: 10004
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ ، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ ، فَمَنْ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ ، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا ، إِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا ، وَإِنْ سَخِطَهَا ، رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تاجروں سے باہر باہر ہی مل کر سودا مت کیا کرو کوئی شخص دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے ایک دوسرے کو دھوکہ مت دو کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال تجارت فروخت نہ کرے اور اچھے داموں فروخت کرنے کے لئے بکری یا اونٹنی کے تھن مت باندھا کرو جو شخص (اس دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے جو اس کے حق میں بہتر ہو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10004
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2150، م: 1515
حدیث نمبر: 10005
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا سَمِعْتَ الرَّجُلَ يَقُولُ : هَلَكَ النَّاس ، فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ لوگ تباہ ہوگئے تو سمجھ لو کہ وہ ان میں سب سے زیادہ تباہ ہونے والا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10005
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2623
حدیث نمبر: 10006
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ يَوْمَ الْاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ ، فَيَقُولُ : أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں (دوسری روایت کے مطابق اعمال پیش کئے جاتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ ہر اس بندے کو بخش دیتے ہیں جو ان کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے ان دو آدمیوں کے جن کے درمیان آپس میں لڑائی جھگڑا ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان دونوں کو چھوڑے رکھو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کرلیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10006
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2565
حدیث نمبر: 10007
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ، قََالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ؟ قَالَ : نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی آدمی کو نامناسب حالت میں دیکھوں تو کیا اسے چھوڑ کر پہلے چار گواہ تلاش کرکے لاؤں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! (بعد میں یہ حکم لعان کے ساتھ تبدیل ہو گیا جس کی تفصیل سورت نور کے پہلے رکوع میں کی گئی ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10007
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1498
حدیث نمبر: 10008
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , عَنْ خُبَيْبٍ . وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ خُبَيْبٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ عَنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین کا جو حصہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کا باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر نصب کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10008
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1196، م: 1391
حدیث نمبر: 10009
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلْمَانَ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا ، خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ , إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے " سوائے مسجد حرام کے " ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10009
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1190، م: 1394، ولعل هذا الإسناد مما وهم فيه إسحاق لأنه لم يرو عن مالك هكذا إلا هو
حدیث نمبر: 10010
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَدِّدُوا وَقَارِبُوا ، وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ لَيْسَ بِمُنْجِيهِ عَمَلُه " ، قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا راہ راست پر رہو اور صراط مستقیم کے قریب رہو اور یاد رکھو ! تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10010
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816
حدیث نمبر: 10011
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : مُرْنِي بِأَمْرٍ ، قَالَ : " لَا تَغْضَبْ " ، قَالَ : فَمَرَّ أَوْ فَذَهَبَ , ثُمَّ رَجَعَ ، قَالَ : مُرْنِي بِأَمْرٍ ، قَالَ " لَا تَغْضَبْ " ، قَالَ : فَرَدَّدَ مِرَارًا ، كُلُّ ذَلِكَ يَرْجِعُ ، فَيَقُولُ : " لَا تَغْضَبْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ مجھے کسی ایک بات پر عمل کرنے کا حکم دے دیجئے (زیادہ باتوں کا نہیں تاکہ میں اسے اچھی طرح سمجھ جاؤں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو۔ اس نے کئی مرتبہ یہی سوال پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہر مرتبہ یہی جواب دیا کہ غصہ نہ کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10011
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6116
حدیث نمبر: 10012
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اجْعَلُوا الطَّرِيقَ سَبْعَ أَذْرُعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا راستے کی پیمائش سات گز رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10012
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2473، م: 1613
حدیث نمبر: 10013
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ , وَمِسْعَرٍ , عَنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَامِرِ بْنِ مَسْعُودٍ الْجُمَحِيِّ ، قََالَ : سُفْيَانُ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، وَقَالَ مِسْعَرٌ : أَظُنُّهُ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : مَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقَالَ : " وَجَبَت " ، ثُمَّ مَرُّوا عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ ، فَأَثْنَوْا عَلَيْهَا شَرًّا ، فَقَالَ : " وَجَبَت " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا وَجَبَتْ ؟ قَالَ : " بَعْضُكُمْ شُهَدَاءُ عَلَى بَعْضٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک جنازہ گذرا لوگ اس کے عمدہ خصائل اور اس کی تعریف بیان کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی اسی اثناء میں ایک اور جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کے برے خصائل اور اس کی مذمت بیان کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واجب ہونے سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10013
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 10014
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ أَبِي صَالِح ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا فَرَغَ اللَّهُ مِنَ الْخَلْقِ ، كَتَبَ عَلَى عَرْشِهِ : رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جب مخلوق کو وجود عطاء کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس کتاب میں جو اس کے پاس عرش پر ہے لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10014
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3194، م: 2751
حدیث نمبر: 10015
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزارگنا زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10015
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1190، م: 1394
حدیث نمبر: 10016
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ , يَجِدُ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ ؟ فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ بِهِنَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کے پاس تین حاملہ اونٹنیاں لے کر لوٹے ؟ صحابہ نے عرض کیا جی ہاں (ہر شخص چاہتا ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی قرآن کریم کی تین آیتیں نماز میں پڑھتا ہے اس کے لئے وہ تین آیتیں تین حاملہ اونٹنیوں سے بھی بہتر ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10016
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 802
حدیث نمبر: 10016M
وقَال : " إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ ، صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " .
مولانا ظفر اقبال
اور منافقین پر دو نمازیں سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہیں نماز عشاء اور نماز فجر۔ حالانکہ اگر انہیں ان نمازوں کا ثواب معلوم ہوتا تو وہ ان میں ضرور شرکت کرتے خواہ انہیں گھٹنوں کے بل گھس کر آنا پڑتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10016M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 657، م: 651
حدیث نمبر: 10017
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ، ذُخْرًا مِن بَلْهَ مَا أَطْلَعَكُمْ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کا خیال بھی گذرا وہ چیزیں ذخیرہ ہیں اور اللہ نے تمہیں ان پر مطلع نہیں کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10017
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3244، م: 2824
حدیث نمبر: 10018
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قََالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مَا قَدْ أَطْلَعَكُمْ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10018
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، أنظر ما قبله
حدیث نمبر: 10019
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، قََالَ : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ " سَجَدَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ سورة الانشقاق آية 1 ، فَقُلْتُ : أَلَمْ أَرَكَ سَجَدْتَ فِيهَا ؟ قََالَ : لَوْ لَمْ أَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِيهَا لَمْ أَسْجُدْ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے سورت انشقاق کی تلاوت کی اور آیت سجدہ پر پہنچ کر سجدہ تلاوت کیا میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو اس سورت میں سجدہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں سجدہ کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی سجدہ نہ کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10019
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 768، م: 578
حدیث نمبر: 10020
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مروان الأصفر , وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا رَافِعٍ ، قََالَ : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ " يَسْجُدُ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ سورة الانشقاق آية 1 ، قََالَ : قُلْتُ : تَسْجُدُ فِيهَا ؟ قََالَ : رَأَيْتُ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَسْجُدُ فِيهَا ، فَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ فِيهَا حَتَّى أَلْقَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابورافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سورت انشقاق کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھا میں نے ان سے پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت پر سجدہ کیا ہے اس لئے میں اس آیت پر پہنچ کر ہمیشہ سجدہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10020
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 768، م: 578
حدیث نمبر: 10021
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يَقُولُ : " الْوَلَدُ لِرَبِّ الْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بچہ بستر والے کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10021
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6818، م: 1458
حدیث نمبر: 10022
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " خِيَارُكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا ، إِذَا فَقِهُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں اور وہ فقہیہ ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10022
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 10023
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يَقُولُ : " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى الَّذِي يَجُرُّ إِزَارَهُ بَطَرًا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے ازار کو زمین پر کھینچتے ہوئے چلتا ہے اللہ اس پر نظر کرم نہیں فرماتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10023
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5788، م: 2087
حدیث نمبر: 10024
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : أَحْسِنُوا الْوُضُوءَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ وضو کو خوب اچھی طرح کرو کیونکہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10024
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 165، م: 242
حدیث نمبر: 10025
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُول : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " كُلُّ الْعَمَلِ كَفَّارَةٌ إِلَّا الصَّوْمَ ، وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ارشادباری تعالیٰ ہے روزہ کے علاوہ ہر عمل کا کفارہ ہے روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10025
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10026
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يَقُولُ : " لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10026
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 10027
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَة ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يقول : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ ، فَأَمَرَ فِيهِ بِأَمْرٍ ، ثُمَّ حَمَلَ الْحَسَنَ , أَوْ الْحُسَيْنَ عَلَى عَاتِقِهِ ، وَإِنََّ لُعَابُهُ لَيَسِيلُ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ ، فََإِذَا هُوَ يَلُوكُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ ، قَالَ : فَقَالَ : " أَلْقِهَا ، أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلُونَ الصَّدَقَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ کی کھجوریں لائی گئیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق ایک حکم دے دیا اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ یا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا ان کا لعاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر دیکھا تو ان کے منہ میں ایک کھجور نظر آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ڈال کر منہ میں سے وہ کھجور نکالی اور فرمایا کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 10027
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1485، م: 1069