حدیث نمبر: 9949
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سَلِيمٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّوْمُ جُنَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ ڈھال ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9949
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
حدیث نمبر: 9950
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي الضَّحَّاكِ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً ، يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا شَجَرَةَ الْخُلْدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے تب بھی اسے قطع نہ کرسکے وہی شجرہ خلد ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9950
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: « شجرة الخلد » خ: 4881، م: 2826، وهذا إسناد ضعيف، أبو الضحااك ، مجهول
حدیث نمبر: 9951
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَخْطُبُ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیجے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9951
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2140، م: 1413
حدیث نمبر: 9952
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا ، وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9952
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
حدیث نمبر: 9953
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، وَعَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک نوافل پڑھنے سے منع فرمایا ہے اسی طرح نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک بھی نماز کی ممانعت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9953
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 825
حدیث نمبر: 9954
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَعَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْس فَقَدْ أَدْرَكَ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، فَقَدْ أَدْرَكَ الْعَصْر " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی اور جو شخص غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9954
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 556، م: 608
حدیث نمبر: 9955
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " . وَذَكَرَ " أَنَّ النَّارَ اشْتَكَتْ إِلَى رَبِّهَا ، فَأَذِنَ لَهَا فِي كُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ ، نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اور فرمایا ایک مرتبہ جہنم کی آگ نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں شکایت کی اللہ نے اسے دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دے دی ایک مرتبہ سردی میں اور ایک مرتبہ گرمی میں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9955
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 533، 537، م: 615، 617
حدیث نمبر: 9956
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ ، فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9956
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 533، م: 615
حدیث نمبر: 9957
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِت ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَنْعَمُ وَلَا يَبْأَسُ ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ ، إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنت میں داخل ہوجائے گا وہ نازونعم میں رہے گا پریشان نہ ہوگا اس کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے اور اس کی جوانی فنا نہ ہوگی اور جنت میں ایسی چیزیں ہوں گی جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کا خیال بھی گذرا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9957
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3244، م: 2836
حدیث نمبر: 9958
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى ، فَأَرْصَدَ اللَّهُ عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا ، فَقَالَ لَهُ : أَيْنَ تَذْهَبُ ؟ قَالَ : أَزُورُ أَخًا لِي فِي اللَّهِ فِي قَرْيَةِ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : هَلْ لَهُ عَلَيْكَ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا ؟ قَالَ : لَا , وَلَكِنَّنِي أَحْبَبْتُهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ ، أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّكَ كَمَا أَحْبَبْتَهُ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی اپنے دینی بھائی سے ملاقات کے لئے جو دوسری بستی میں رہتا تھا روانہ ہوا اللہ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو بٹھا دیا جب وہ فرشتے کے پاس سے گذرا تو فرشتے نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں جا رہے ہو ؟ اس نے کہا کہ فلاں آدمی سے ملاقات کے لئے جارہاہوں فرشتے نے پوچھا کیا تم دونوں کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے ؟ اس نے کہا نہیں فرشتے نے پوچھا کہ کیا اس کا تم پر کوئی احسان ہے جسے تم پال رہے ہو ؟ اس نے کہا نہیں فرشتے نے پوچھا پھر تم اس کے پاس کیوں جارہے ہو ؟ اس نے کہا کہ میں اس سے اللہ کی رضا کے لئے محبت کرتا ہوں فرشتے نے کہا کہ میں اللہ کے پاس سے تیری طرف قاصد بن کر آیا ہوں کہ اس کے ساتھ محبت کرنے کی وجہ سے اللہ تجھ سے محبت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9958
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2567
حدیث نمبر: 9959
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَعَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِح ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَسْتَامَ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ، أَوْ يَخْطُبَ عَلَى خِطْبَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح بھیج دے یا اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع کرے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9959
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، م: 1413
حدیث نمبر: 9960
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَلْيَحْلِبْهَا ، فَإِنْ لَمْ يَرْضَهَا فَلْيَرُدَّهَا ، وَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دئیے گئے ہوں تو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے ( اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9960
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524
حدیث نمبر: 9961
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ سَأَلَهُ جَارُهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ ، فَلَا يَمْنَعْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا پڑوسی اس کی دیوار میں اپنا شہتیر گاڑنے کی اجازت مانگے تو اسے منع نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9961
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2463، م: 1609
حدیث نمبر: 9962
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ . وَبَهْزٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا هُمَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ " ، قَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ : " فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے کیونکہ اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9962
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداه صحيحان، خ: 2559، م: 2612
حدیث نمبر: 9963
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَن ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَنْذِرُوا , فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يَرُدُّ شَيْئًا مِنَ الْقَدَرِ ، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منت ماننے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس سے کوئی تقدیر ٹل نہیں سکتی البتہ منت کے ذریعے بخیل آدمی سے مال نکلو الیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9963
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6694، م: 1640
حدیث نمبر: 9964
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ : حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِي وَأَمَتِي ، كُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ ، وَكُلُّ نِسَائِكُمْ إِمَاءُ اللَّهِ ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ غُلَامِي وَجَارِيَتِي ، وَفَتَايَ وَفَتَاتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے غلام کے متعلق یہ نہ کہے عبدی امتی کیونکہ تم سب اللہ کے بندے ہو اور تمہاری عورتیں اس کی بندیاں ہیں بلکہ یوں کہے میرا جوان میری جوان میرا غلام۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9964
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2552، م: 2249
حدیث نمبر: 9965
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا قَعَدَ قَوْمٌ مَقْعَدًا لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَيُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَإِنْ دَخَلُوا الْجَنَّة ، لِلثَّوَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ کسی جگہ پر مجلس کریں لیکن اس میں اللہ کا ذکر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دورد نہ کریں اور جدا ہوجائیں وہ ان کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت ہوگی اگرچہ وہ جنت میں داخل ہوجائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9965
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9966
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِمِثْلِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہوجائے اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9966
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6993، م: 2266
حدیث نمبر: 9967
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو نہ ستائے جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کا اکرام کرنا چاہئے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9967
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6136، م: 47
حدیث نمبر: 9968
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ ، وَلَكِنْ لِيَعْزِمْ الْمَسْأَلَةَ ، فَإِنَّهُ لَا مُكْرِهَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب دعاء کرے تو یوں نہ کہا کرے کہ اے اللہ ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف فرمادے بلکہ پختگی اور یقین کے ساتھ دعا کرے کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9968
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7477، م: 2679
حدیث نمبر: 9969
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے اسے طاق عدد اختیار کرنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9969
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 162، م: 237
حدیث نمبر: 9970
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو نہ ستائے جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کا اکرام کرنا چاہئے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9970
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6138، م: 47
حدیث نمبر: 9971
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَنْعِ فَضْلِ الْمَاءِ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ زائد پانی روک کر نہ رکھا جائے کہ اس سے گھاس روکی جاسکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9971
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2353، م: 1566
حدیث نمبر: 9972
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ,قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ لَا نُورَثُ ، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ مَئُونَةِ عَامِلِي ، وَنَفَقَةِ نِسَائِي صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم گروہ انبیاء کے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی میں نے اپنی بیویوں کے نفقہ اور اپنی زمین کے عامل کی تنخواہوں کے علاوہ جو کچھ چھوڑا ہے وہ سب صدقہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9972
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2776، م: 1760
حدیث نمبر: 9973
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ ، وَمَنْ أُحِيلَ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَحْتَلْ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو کسی مالدار کے حوالے کردیا جائے تو اسے اس ہی کا پیچھا کرنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9973
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2288، م: 1564
حدیث نمبر: 9974
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ، الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ أَوْلَادُ عَلَّاتٍ ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام نَبِيٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمام لوگوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں تمام انبیاء (علیہم السلام) باپ شریک بھائی ہیں میرے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9974
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3442، م: 2365
حدیث نمبر: 9975
حَدَّثَنَا عُمَرَ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي الْأَعْرَجَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ، الْأَنْبِيَاءُ أَبْنَاءُ عَلَّاتٍ ، وَلَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَ عِيسَى نَبِيٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمام لوگوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں تمام انبیاء (علیہم السلام) باپ شریک بھائی ہیں میرے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9975
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، أنظر ما قبله
حدیث نمبر: 9976
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَضْحَكُ اللَّهُ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ ، كِلَاهُمَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ ، يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَيُسْتَشْهَدُ ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى قَاتِلِهِ ، فَيُسْلِمُ ، فَيُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يُسْتَشْهَدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو ان دو آدمیوں پر ہنسی آتی ہے جن میں سے ایک نے دوسرے کو شہید کر دیاہو لیکن پھر دونوں ہی جنت میں داخل ہوجائیں اس کی وضاحت یہ ہے کہ ایک آدمی کافر تھا اس نے کسی مسلمان کو شہید کردیا پھر اپنی موت سے پہلے اس کافر نے بھی اسلام قبول کرلیا اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو جنت میں داخلہ نصیب فرما دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9976
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2826، م: 1890
حدیث نمبر: 9977
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُسَمُّوا الْعِنَبَ الْكَرْمَ ، فَإِنَّمَا الْكَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انگور کے باغ کو کرم نہ کہا کرو کیونکہ اصل کرم تو مرد مومن ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9977
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6183، م: 2247
حدیث نمبر: 9978
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَال : " الْمَطْلُ ظُلْمُ الْغَنِيِّ ، وَمَنْ أُتْبِعَ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو کسی مالدار کے حوالے کردیا جائے تو اسے اس ہی کا پیچھا کرنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9978
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2288، م: 1564
حدیث نمبر: 9979
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا مُسْتَكْرِهَ لَه ، وَلَكِنْ لِيَعْزِمْ فِي الْمَسْأَلَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب دعاء کرے تو یوں نہ کہا کرے کہ اے اللہ اگر تو چاہے تو مجھے معاف فرما دے بلکہ پختگی اور یقین کے ساتھ دعاء کرے کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9979
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7477، م: 2679
حدیث نمبر: 9980
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ ، لَيْسَ عَلَى عَاتِقِهِ مِنْهُ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
اسی سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اس طرح ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر کپڑے کا کوئی حصہ بھی نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9980
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 359، م: 516
حدیث نمبر: 9981
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا يَقْسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي ، وَمَئُونَةِ عَامِلِي ، فَإِنَّهُ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے ورثاء دینارودرہم کی تقسیم نہیں کریں گے میں نے اپنی بیویوں کے نفقہ اور اپنی زمین کے عامل کی تنخواہوں کے علاوہ جو کچھ چھوڑا ہے وہ سب صدقہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9981
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2776 ، م: 1760
حدیث نمبر: 9982
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ : النِّبَاذِ وَاللِّمَاسِ ، وَعَنْ لُبْسِ الصَّمَّاءِ ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَرْضِ شَيْء " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کی بیع یعنی بیع منابذہ اور بیع ملامسہ سے منع فرمایا ہے اور ایک چادر میں لپٹنے سے اور چادر میں اس طرح گوٹ مار کر بیٹھنے سے بھی منع فرمایا ہے کہ انسان اور زمین کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9982
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 368، م: 1511
حدیث نمبر: 9983
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِلْوَارِثِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں اس لئے جو شخص قرض یا بچے چھوڑ کر جائے وہ میرے ذمے ہے اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9983
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6745، م: 1619
حدیث نمبر: 9984
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنِ عَمَّارٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ ، قَدْ كَفَاهُ حَرَّهُ وَعَمَلَهُ ، فَلْيُقْعِدْهُ يَأْكُلُ مَعَهُ ، أَوْ يُنَاوِلْهُ لُقْمَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اس کی گرمی سردی سے کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ لے کر ہی اسے دے دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9984
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2557، م: 1663
حدیث نمبر: 9985
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ , وَمُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قِيلَ لَهُ : " أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ " ، قَالَ مُعَاوِيَةُ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : يَقُولُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ : " أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْك " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہیں اے ابن آدم خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9985
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 993
حدیث نمبر: 9986
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ موسي بن أبي عثمانَ , عن أبيه ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَزَوْجُهَا حَاضِرٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت " جبکہ اس کا خاوند گھر میں موجود ہو " ماہ رمضان کے علاوہ کوئی نفلی روزہ اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9986
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5195، م: 1026
حدیث نمبر: 9987
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ , وَمُؤَمَّلٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قََالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَة ، قَالَ : ارْكَبْهَا " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا بَدَنَةٌ ! قَالَ " ارْكَبْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص کے پاس سے گذرتے ہوئے اسے دیکھا کہ وہ ایک اونٹ کو ہانک کر لئے جارہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9987
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1689، م: 1322
حدیث نمبر: 9988
قََالَ : " وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَالَ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ الَّذِي لَا يَجْرِي ، ثُمَّ يُغْتَسَلَ مِنْهُ " ، قَالَ مُؤَمَّلٌ : الرَّاكِدِ ثُمَّ يُغْتَسَلَ مِنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے غسل کرنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9988
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 239، م: 282