حدیث نمبر: 9909
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، قََالَ : أَخْبَرَنِي مَوْلًى لِقُرَيْشٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ : وَيَعْلَمُ مَا هِيَ ، قَالَهَا يَزِيدُ : آخِرَ مَرَّة ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يُحْرَزَ مِنْ كُلِّ عَارِضٍ ، وَأَنْ لَا يُصَلِّيَ الرَّجُلُ إِلَّا وَهُوَ مُحْتَزِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم سے قبل مال غنیمت اور ہر آفت سے محفوظ ہونے سے قبل پھل کی خریدوفروخت سے منع فرمایا ہے نیز کمر کسنے سے قبل نماز پڑھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 9910
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " أَوْصَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ يُوَرِّثُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت اتنے تسلسل کے ساتھ کرتے رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ عنقریب وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔
حدیث نمبر: 9911
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ " مَا كَانَ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ إِلَّا الْأَسْوَدَانِ : التَّمْرُ وَالْمَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمارے پاس سوائے دو کالی چیزوں " کھجور اور پانی سوا کھانے کی کوئی چیز نہ ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 9912
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : يَعْنِي اللَّهَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " الصَّوْمُ هُوَ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حدیث نمبر: 9913
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْجُلَاسِ ، قََالَ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ شَمَّاسٍ ، قََالَ : كَانَ مَرْوَانُ يَمُرُّ عَلَى الْمَدِينَةِ ، قََالَ : فَيَمُرُّ بِأَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يُحَدِّثُ ، فَقَالَ : بَعْضَ حَدِيثِكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ : ثُمَّ مَضَى ، قََالَ : ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ ؟ قَالَ : قَالَ : " خَلَقْتَهَا أَوْ قَالَ : أَنْتَ خَلَقْتَهَا ، شُعْبَةُ الَّذِي شَكَّ , وَهَدَيْتَهَا إِلَى الْإِسْلاِِم ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا ، تَعْلَمُ سِرَّهَا وَعَلَانِيَتَهَا , جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
عثمان بن شماس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان کا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذر ہوا تو وہ کہنے لگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اپنی کچھ حدیثیں سنبھال کر رکھو تھوڑی دیر بعد وہ واپس آگیا ہم لوگوں نے اپنے دل میں سوچا کہ اب یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کرے گا (کیونکہ ان کے درمیان کچھ ناراضگی تھی) مروان کہنے لگا کہ آپ نے نماز جنازہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سی دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ آپ ہی نے اسے پیدا کیا آپ ہی نے اسے رزق دیا آپ ہی نے اسلام کی طرف اس کی رہنمائی فرمائی اور آپ ہی نے اس کی روح قبض فرمائی آپ اس کے پوشیدہ اور ظاہر سب کو جانتے ہیں ہم آپ کے پاس اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں آپ اسے معاف فرما دیجئے۔
حدیث نمبر: 9914
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ " زَيْنَبَ كَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ ، فَقِيلَ تُزَكِّي نَفْسَهَا ، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت زینب رضی اللہ عنہ کا نام پہلے برہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر ان کا نام " زینب " رکھ دیا۔
حدیث نمبر: 9915
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قََالَ : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ " يَسْجُدُ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ سورة الانشقاق آية 1 ، فَقُلْتُ : أَتَسْجُدُ فِيهَا ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، رَأَيْتُ خَلِيلِي " يَسْجُدُ فِيهَا ، وَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ فِيهَا حَتَّى أَلْقَاهُ " ، قَالَ : شُعْبَةُ قُلْتُ : النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نَعَمْ .
مولانا ظفر اقبال
ابورافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سورت انشقاق میں سجدہ تلاوت کرتے ہوئے دیکھا میں نے ان سے پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت پر سجدہ کیا ہے اس لئے میں اس آیت پر پہنچ کر ہمیشہ سجدہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں۔
حدیث نمبر: 9916
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ بْنُ جَعَفْرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَأَبُو دَاوُدَ , قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبَّاسٍ يَعْنِي الْجُرَيْرِيَّ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قََالَ : " أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ : الْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْم ، وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى ، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں نے انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا۔ (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) چاشت کی نماز کی (٣) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی۔
حدیث نمبر: 9917
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي شِمْرٍ الضُّبَعِيِّ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قََالَ : " أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ : الْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ ، وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى ، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں نے انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا۔ (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) چاشت کی نماز کی (٣) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی۔
حدیث نمبر: 9918
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , وَأَبُو النَّضْرِ , قَالاَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَتَيْنِ مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی اور جو شخص غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پالے اسے نے وہ نماز پا لی۔
حدیث نمبر: 9919
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ : " لاَ تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلاَمِ ، وَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فِي طَرِيقٍ ، فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب کے متعلق فرمایا جب تم ان لوگوں سے راستے میں ملو تو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کردو۔
حدیث نمبر: 9920
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، مَثَلُ الْقَائِمِ لَا يَفْتُرُ ، وَمَثَلُ الصَّائِمِ لَا يُفْطِرُ ، حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی ایسا عمل بتائیے جو جہاد کے برابر ہو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کی طاقت نہیں رکھتے (دو تین مرتبہ فرمایا) لوگوں نے عرض کیا کہ آپ بتا دیجئے شاید ہم کرسکیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس آدمی کی سی ہے جو دن کو روزہ، رات کو قیام اور اللہ کی آیات کے سامنے عاجز ہو اور اس نماز روزے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرے، یہاں تک کہ وہ مجاہد اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آجائے۔
حدیث نمبر: 9921
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ " إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ فَأَمِّنُوا ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلائِكَةِ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام غیرالمغضوب علیہم ولاالضالین کہہ لے تو مقتدی اس پر آمین کہے کیونکہ جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوجائے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 9922
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَالَ الإِمَامُ : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، فَقُولُوا : آمِينَ , فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلائِكَةِ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام غیرالمغضوب علیہم ولاالضالین کہہ لے تو مقتدی اس پر آمین کہے کیونکہ جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوجائے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 9923
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے اور مقتدی اللہم ربنا ولک الحمد کہے اور اس کا یہ جملہ آسمان والوں کے اللہم ربنا لک الحمد کے موافق ہوجائے تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 9924
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال : " إِذَا قَالَ أَحَدُكُمْ : آمِينَ ، قَالَتْ الْمَلَائِكَةُ فِي السَّمَاءِ : آمِينَ ، فَوَافَقَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص آمین کہتا ہے تو فرشتے بھی اس پر آمین کہتے ہیں سو جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوجائے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 9925
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ , أَنَّهُ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ ، فَسَلَّمَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ ، فَقَامَ ذُو الْيَدَيْنِ ، فَقَالَ : أَقَصُرَتْ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ " , فَقَالَ : قَدْ كَانَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ ، فَقَالَ : " أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " فَقَالُوا : نَعَمْ ، " فَأَتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنْ صَلَاتِهِ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا اس پر ذوالیدین نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ بھول گئے یا نماز کی رکعتیں کم ہوگئی ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھولا بھی نہیں ہوں اور نہ ہی نماز کی رکعتیں کم ہوئی ہیں اس نے کہا کچھ تو ہوا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے ان کی تائید کی اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دو رکعتیں چھوٹ گئی تھیں انہیں ادا کیا۔ اور سلام پھیر کر بیٹھے بیٹھے سجدہ سہو کے دو سجدے کر لئے۔
حدیث نمبر: 9926
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، قََالَ : وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّان ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ , فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : غُسْلَ الْجَنَابَةِ ، ثُمَّ رَاح ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَة ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا , قَالَ إِسْحَاقُ : أَقْرَنَ ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ ، أَقْبَلَتْ الْمَلَائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْر " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرکے نماز جمعہ کے لئے روانہ ہو تو وہ اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے دوسرے نمبر پر آنے والا گائے ذبح کرنے والے کی طرح تیسرے نمبر پر آنے والا مینڈھا قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے چوتھے نمبر پر آنے والا مرغی اور پانچویں نمبر پر آنے والا انڈہ صدقہ کرنے کا ثواب پاتا ہے پھر امام نکل آتا ہے تو فرشتے ذکر سننے کے لئے متوجہ ہوجاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9927
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سَيَّارٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لاَ تَبَايَعُوا بِالْحَصَاةِ ، وَلا تَنَاجَشُوا ، وَلا تَبَايَعُوا بِالْمُلَامَسَة ، وَمَنْ اشْتَرَى مِنْكُمْ مُحَفَّلَةً فَكَرِهَهَا فَلْيَرُدَّهَا ، وَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنکریاں مار کر بیع مت کرو خریدوفروخت میں ایک دوسرے کو دھوکہ مت دو چھو کر بیع مت کرو اور جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دیئے گئے ہوں تو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے ( اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔
حدیث نمبر: 9928
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ كُلِّ وُضُوءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا۔
حدیث نمبر: 9929
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، قََالَ : وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ ، فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ مار دے تو اسے چاہئے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے۔
حدیث نمبر: 9930
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , وَإِسْحَاقَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلاةِ ، فَلا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ ، وَأْتُوهَا وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ فِي صَلاَةٍ إِذَا مَا كَانَ يَعْمِدُ الصَّلاَة " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کے لئے دوڑتے ہوئے مت آیا کرو بلکہ اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو کیونکہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز کا ارادہ کرلیتا ہے وہ نماز ہی میں شمار ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 9931
قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاَةِ ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ ، فَإِذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أَقْبَلَ ، حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلاة ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لاَ يَسْمَعَ التَّأْذِينَ ، حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ ، حتى يَخْطِرُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ ، يَقُولُ اذْكُرْ كَذَا ، اذْكُرْ كَذَا ، لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ ، حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے پھر جب اقامت شروع ہوتی ہے تو دوبارہ بھاگ جاتا ہے اور اقامت مکمل ہونے پر پھر واپس آجاتا ہے اور انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں بات یاد کرو فلاں بات یاد کرو اور وہ باتیں یاد کراتا ہے جو اسے پہلے یاد نہ تھیں حتی کہ انسان کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتی پڑھی ہیں ؟۔
حدیث نمبر: 9932
قَرَأْتُ عَلَى قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قََالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ ، فَهِيَ خِدَاجٌ ، هِيَ خِدَاجٌ ، هِيَ خِدَاجٌ ، غَيْرُ تَمَامٍ " . فَقُلْتُ : يَا فَقُلْتُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، إِنِّي أَحْيَانًا أَكُونُ وَرَاءَ الإِمَامِ ، قَالَ : فَغَمَزَ ذِرَاعِي ، وَقَالَ : اقْرَأْ بِهَا يَا فَارِسِيُّ فِي نَفْسِكَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ ، فَنِصْفُهَا لِي ، وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اقْرَءُوا ، يَقُولُ الْعَبْدُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 ، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : حَمِدَنِي عَبْدِي ، يَقُولُ الْعَبْدُ : الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 ، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي ، يَقُولُ الْعَبْدُ : مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 ، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : مَجَّدَنِي عَبْدِي ، يَقُولُ الْعَبْد : إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سورة الفاتحة آية 5 ، يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : هَذِهِ الآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ، يَقُولُ الْعَبْدُ : اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 6 - 7 ، فَهَؤُلاءِ لِعَبْدِي , وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نماز میں سورت فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہے نامکمل ہے نامکمل ہے اور یہ بات مجھ سے پہلے میرے حبیب علیہ السلام نے بھی فرمائی ہے پھر فرمایا کہ اے فارسی ! سورت فاتحہ پڑھا کرو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ارشادباری تعالیٰ ہے میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کردیا ہے ( اور میرا بندہ جو مانگے گا اسے وہ ملے گا) چنانچہ جب بندہ۔ الحمد للہ رب العلمین۔۔ کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری تعریف بیان کی جب بندہ کہتا ہے الرحمن الرحیم۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری بزرگی یا ثناء بیان کی جب بندہ کہتا ہے مالک یوم الدین تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے اپنے آپ کو میرے سپرد کردیا جب بندہ ایاک نعبد وایاک نستعین کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرا بندہ مجھ سے جو مانگے گا اسے وہ ملے گا پھر جب بندہ اہدناالصراط المستقیم سے آخر تک پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ میرے بندے کے لئے ہے اور جو تو نے مجھ سے مانگا وہ تجھے مل کر رہے گا۔
حدیث نمبر: 9933
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , وَحَجَّاجٌ , قََالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، قََالَ : حَجَّاجٌ مِنَ النَّخْعِ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " . " وَكَانَ يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ " , قََالَ : حَجَّاجٌ يَعْنِي : إِحْدَى رِجْلَيْهِ سَوَادٌ , أَوْ بَيَاضٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے گھوڑے کو ناپسند فرماتے تھے جس کی تین ٹانگوں کا رنگ سفید ہو اور چوتھی کا رنگ باقی جسم کے رنگ کے مطابق ہو۔
حدیث نمبر: 9934
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , قََالَ : قََالَ شُعْبَةُ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ بَعْدَمَا كَبِرَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا أَسْفَلُ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تہبند کا جو حصہ ٹخنوں کے نیچے رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔
حدیث نمبر: 9935
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا يَحْيَى يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُغْفَرُ لِلْمُؤَذِّنِ مَدَّ صَوْتِهِ ، وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ ، وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ ، وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے ان کی برکت سے اس کی بخشش کردی جاتی ہے کیونکہ ہر تر اور خشک چیز اس کے حق میں گواہی دیتی ہے اور نماز میں باجماعت شریک ہونے والے کے لئے پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دو نمازوں کے درمیانی وقفے کے لئے کفارہ بنادیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 9936
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا إِغْرَارَ فِي صَلَاةٍ وَلَا تَسْلِيمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز اور سلام میں " اغرار " بالکل نہیں ہے امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوعمروالشیبانی رحمہ اللہ سے اس حدیث کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ لفظ اغرار نہیں بلکہ غرار ہے اور غرار کا معنی امام احمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ ہے کہ انسان کو جب تک نماز کے مکمل ہوجانے کا یقین کامل نہ ہوجائے اور اس کا یہ گمان ہو کہ نماز کا کچھ حصہ باقی ہے اس وقت تک نماز سے خارج نہ ہو۔
حدیث نمبر: 9937
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى أَبِي رَهْمٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ مِنْ الْمَسْجِدِ فَرَأَى امْرَأَةً تَنْضَخُ طِيبًا لِذَيْلِهَا إِعْصَارٌ قَالَ يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ مِنْ الْمَسْجِدِ جِئْتِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ وَلَهُ تَطَيَّبْتِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَارْجِعِي فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يَقُولُ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ لِامْرَأَةٍ صَلَاةً تَطَيَّبَتْ لِلْمَسْجِدِ أَوْ لِهَذَا الْمَسْجِدِ حَتَّى تَغْتَسِلَ غُسْلَهَا مِنْ الْجَنَابَةِ
حدیث نمبر: 9938
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَيْدٍ يعني مَوْلَى أَبِي رَهْمٍ ، قََالَ : خَرَجْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ مِنَ الْمَسْجِد ، فَرَأَى امْرَأَةً تَنْضَخُ طِيبًا لِذَيْلِهَا إِعْصَارٌ ، قََالَ : يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ ، مِنَ الْمَسْجِدِ جِئْتِ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قََالَ : وَلَهُ تَطَيَّبْتِ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قََالَ : فَارْجِعِي ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يَقُولُ : " لَا يَقْبَلُ اللَّهُ لِامْرَأَةٍ صَلَاةً تَطَيَّبَتْ لِلْمَسْجِدِ أَوْ لِهَذَا الْمَسْجِدِ , حَتَّى تَغْتَسِلَ غُسْلَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابورہم کے آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا سامنا ایک ایسی خاتون سے ہوگیا جس نے خوشبولگا رکھی تھی انہوں نے اسے پوچھا کہ اے امۃ الجبار کہاں کا ارادہ ہے ؟ اس نے کہا مسجد کا انہوں نے پوچھا کیا تم نے اسی وجہ سے خوشبو لگا رکھی ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں۔ فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو عورت اپنے گھر سے خوشبو لگا کر مسجد کے ارادے سے نکلے اللہ اس کی نماز کو قبول نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس جا کر اسے اس طرح دھوئے جیسے ناپاکی کی حالت میں غسل کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 9939
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : " سَجَدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ , وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سورت انشقاق اور سورت علق میں آیت سجدہ پر سجدہ تلاوت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 9940
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قََالَ : كَتَبَ إِلَيَّ مَنْصُورٌ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ صَاحِبَ هَذِهِ الْحُجْرَةِ ، يَقُولُ : " لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے صادق و مصدوق صاحب الحجرۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رحمت اسی شخص کو کھینچتی جاتی ہے جو خود شقی ہو۔
حدیث نمبر: 9941
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ ، وَالْعُمْرَتَانِ تُكَفِّرَانِ مَا بَيْنَهُمَا مِنَ الذُّنُوبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حج مبرور کی جزاء جنت کے علاوہ کچھ نہیں اور دو عمرے اپنے درمیان گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9942
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْإِمَامُ ضَامِنٌ ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ ، اللَّهُمَّ أَرْشِدْ الْأَئِمَّةَ ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار اے اللہ اماموں کی رہنمائی فرما اور موذنین کی مغفرت فرما۔
حدیث نمبر: 9943
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ ، وَلَا يَجْهَلْ ، فَإِنْ جُهِلَ عَلَيْهِ ، فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کا کسی دن روزہ ہو تو اسے چاہئے کہ بےتکلف نہ ہو اور جہالت کا مظاہرہ بھی نہ کرے اگر کوئی شخص اس کے سامنے جہالت دکھائے تو اسے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔
حدیث نمبر: 9944
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قََالَ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 9945
حَدَّثَنَا حَسيَنٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَنَحْنُ فِي مَسْجِدِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : قََالَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو الْقَاسِمِ صَاحِبُ هَذِهِ الْحُجْرَةِ : " لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے صادق و مصدوق صاحب الحجرۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رحمت اسی شخص کو کھینچتی جاتی ہے جو خود شقی ہو۔
حدیث نمبر: 9946
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ : حَدَّثَنِي سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ : قََالَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " ، قَالَ بَهْزٌ : " يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کی منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حدیث نمبر: 9947
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قََالَ : حَدَّثَنَا سَلِيمٌ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَبَهْزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الصَّوْمُ جُنَّةٌ ، وَإِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا صَائِمًا ، فَلَا يَرْفُثْ ، وَلَا يَجْهَلْ ، فَإِنْ أَحَدٌ شَتَمَهُ أَوْ فَإِنْ امْرُؤٌ شَتَمَهُ ، فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ " ، قَالَ بَهْزٌ : " فَإِنْ امْرُؤٌ شَتَمَهُ أَوْ قَاتَلَهُ , فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ " ، وَكَذَا قَالَ عَفَّانُ : " أَوْ قَاتَلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ ڈھال ہے جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے تو اسے بیہودگی یا جہالت کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہے تو اسے یوں کہہ دینا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں۔
حدیث نمبر: 9948
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعُمْرَةُ تُكَفِّرُ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعُمْرَةِ ، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حج مبرور کی جزاء جنت کے علاوہ کچھ نہیں اور دو عمرے اپنے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔
…