حدیث نمبر: 9870
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الضَّحَّاكِ ، يُحَدِّثُ : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا سَبْعِينَ أَوْ مِائَةَ سَنَةٍ ، هِيَ شَجَرَةُ الْخُلْدِ " . قَالَ حَجَّاجٌ : " أَوْ مِائَةَ سَنَةٍ , شَجَرَةُ الْخُلْدِ " . قُلْتُ لِشُعْبَةَ : " هِيَ شَجَرَةُ الْخُلْدِ " ! . قَالَ : لَيْسَ فِيهَا " هِيَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ سوار اس کے سائے میں ستر سال تک یا سواسال تک چل سکتا ہے وہی شجرہ خلد ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9870
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله: « شجرة الخلد » ، خ: 4881، م: 2826، وهذا إسناد ضعيف، أبو الضحاك مجهول
حدیث نمبر: 9871
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ . وَعَفَّانُ قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الْجَبَّارِ يُحَدِّثُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الرَّحِمَ شُجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ , تَقُولُ : يَا رَبِّ إِنِّي قُطِعْتُ , يَا رَبِّ إِنِّي ظُلِمْتُ , يَا رَبِّ إِنِّي أُسِيءَ إِلَيَّ , يَا رَبِّ ، يَا رَبِّ . فَيُجِيبُهَا رَبُّهَا عَزَّ وَجَلَّ , فَيَقُولُ : أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ ، وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ " . حَدَّثَنَاه أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رحم رحمن کا ایک جزو ہے جو قیامت کے دن آئے گا اور عرض کرے گا کہ اے پروردگار مجھے توڑا گیا مجھ پر ظلم کیا گیا پروردگار میرے ساتھ برا سلوک کیا گیا۔ اللہ اسے جواب دے گا کیا تو اس پر بات پر راضی ہے کہ میں اسے جوڑوں گا جو تجھے جوڑے گا اور میں اسے کاٹوں گا جو تجھے کاٹے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9871
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5988، م: 2554، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن عبدالجبار
حدیث نمبر: 9872
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَحَجَّاجٌ , قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَنْ يَدَعُوهُنَّ : التَّطَاعُنُ فِي الْأَنْسَابِ ، وَالنِّيَاحَةُ ، وَمُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا ، وَالْعَدْوَى الرَّجُلُ يَشْتَرِي الْبَعِيرَ الْأَجْرَبَ ، فَيَجْعَلُهُ فِي مِائَةِ بَعِيرٍ فَتَجْرَبُ ، فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں میرے امتی کبھی ترک نہیں کریں گے۔ حسب نسب میں عار دلانا، میت پر نوحہ کرنا، بارش کو ستاروں سے منسوب کرنا اور بیماری کو متعدی سمجھنا، ایک اونٹ خارش زدہ ہوا اور اس نے سو اونٹوں کو خارش میں مبتلا کردیا، تو پہلے اونٹ کو خارش زدہ کس نے کیا ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9872
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9873
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَرْقَاءَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اقامت ہونے کے بعد وقتی نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9873
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 710
حدیث نمبر: 9874
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ الْمَعْنَى , يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ كَافِرٌ ، فَكَانَ يَأْكُلُ أَكْلًا كَثِيرًا ، ثُمَّ إِنَّهُ أَسْلَمَ فَكَانَ يَأْكُلُ أَكْلًا قَلِيلًا ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " إِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ ، وَإِنَّ الْمُسْلِمَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جو کافر تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بہت سا کھانا کھا گیا بعد میں اس نے اسلام قبول کرلیا تو بہت تھوڑا کھانا کھایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9874
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5397، م: 2062
حدیث نمبر: 9875
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا وُلِّيتُهُ " ، قَالَ بَهْزٌ : " وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بچے چھوڑ کر جائے ان کی پرورش میرے ذمے ہیں اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9875
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2398، م: 1619
حدیث نمبر: 9876
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُمْ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَحَدَنَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ بِالشَّيْءِ ، مَا يُحِبُّ أَنَّهُ يَتَكَلَّمُ بِهِ ، وَإِنَّ لَهُ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ ، قَالَ : " ذَاكَ مَحْضُ الْإِيمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے دل میں ایسے وساوس اور خیالات آتے ہیں کہ انہیں زبان پر لانے سے زیادہ مجھے آسمان سے نیچے گرجانا محبوب ہے (میں کیا کروں ؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو صریح ایمان ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9876
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 132
حدیث نمبر: 9877
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، بِإِسْنَادِهِ , قَالَ : مِنْ شَأْنِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے تاہم یہاں آخر میں یہ الفاظ ہیں کہ یہ پروردگار عالم کا کام ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں لوگ کبھی ترک نہیں کریں گے۔۔۔۔۔ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9877
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 9878
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الرَّبِيعِ ، وَكَانَ يُقَاعِدُ أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي . . . " , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے تاہم یہاں آخر میں یہ الفاظ ہیں کہ یہ پروردگار عالم کا کام ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں لوگ کبھی ترک نہیں کریں گے۔۔۔۔۔ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9878
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9879
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَرْوَانَ الْأَصْغَرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ سَجَدَ فِي السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ، قَالَ : فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : " سَجَدَ فِيهَا خَلِيلِي ، وَلَا أَزَالُ أَسْجُدُ حَتَّى أَلْقَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابورافع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو سورت انشقاق میں سجدہ تلاوت کرتے ہوئے دیکھا میں نے ان سے پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت پر سجدہ کیا ہے اس لئے میں اس آیت پر پہنچ کر ہمیشہ سجدہ کرتا رہوں گا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9879
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 768، م: 578
حدیث نمبر: 9880
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ ، فَأَغْلَظَ لَهُ ، فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا " ، وَقَالَ لَهُمْ : " اشْتَرُوا لَهُ سِنًّا فَأَعْطُوهُ " . فَقَالُوا : إِنَّا لَا نَجِدُ إِلَّا سِنًّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ ، فَقَالَ : " اشْتَرُوا لَهُ فَأَعْطُوهُ " ، فَقَالَ : " إِنَّ مِنْ خَيْرِكُمْ ، أَوْ خَيْرُكُمْ أَحْسَنَكُمْ قَضَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے کے لئے آیا اور اس میں سختی کی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اسے مارنے کا ارادہ کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو کیونکہ حقدار بات کرسکتا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے فرمایا اس کے اونٹ جتنی عمر کا ایک اونٹ خرید کرلے آؤ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے تلاش کیا لیکن مطلوبہ عمر کا اونٹ نہ مل سکا ہر اونٹ اس سے بڑی عمر کا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے بڑی عمر کا ہی اونٹ خرید کر دے دو ، تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو اداء قرض میں سب سے بہترین ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9880
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2305، م: 1601
حدیث نمبر: 9881
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ شُعْبَةُ : رَفَعَهُ مَرَّةً ، ثُمَّ لَمْ يَرْفَعْهُ بَعْدُ أَنَّهُ قَالَ : " لَا هِجْرَةَ بَعْدَ ثَلَاثٍ ، أَوْ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، فَمَنْ هَاجَرَ بَعْدَ ثَلَاثٍ أَوْ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمَاتَ دَخَلَ النَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین دن سے زیادہ قطع تعلقی جائز نہیں جو شخص تین سے زیادہ اپنے بھائی سے بول چال بند رکھے اور مرجائے تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9881
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات لكن شك منصور في رفعه، فالصحيح من المرفوع هو قوله: « لا هجرة بعد ثلاث » ، م: 2562
حدیث نمبر: 9882
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جانور سے مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کنویں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9882
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
حدیث نمبر: 9883
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ " . قَالَ : فَقَالَ عُكَّاشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ " . قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ . قَالَ : فَقَالَ : " سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بلاحساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ اپنی چادر اٹھاتے ہوئے کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعا کردیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کردی اے اللہ اسے بھی ان میں شامل فرما پھر ایک اور آدمی نے کھڑے ہو کر بھی یہی عرض کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9883
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6542، م: 216
حدیث نمبر: 9884
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ حَجَّاجٌ ، أَوْ قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ : " أَمَا يَخْشَى ، أَلَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ ، أَوْ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ ، إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ ، وَالْإِمَامُ سَاجِدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ آدمی جو امام سے پہلے سر اٹھائے اور امام سجدہ ہی میں ہو اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کا سر یا اس کی شکل گدھے جیسی بنا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9884
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 691، م: 427
حدیث نمبر: 9885
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ " . أو قَالَ : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غَبِيَ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ " . قَالَ شُعْبَةُ : وَأَكْثَرُ عِلْمِي ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْا الْهِلَالَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو اور جب تک چاند نہ دیکھ لو عید نہ مناؤ بلکہ چاند کو دیکھ کر روزہ رکھا کرو، چاند دیکھ کر عید منایا کرو، اگر چاند نظر نہ آئے اور آسمان پر ابر چھایا ہو تو تیس کی گنتی پوری کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9885
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1909، م: 1081
حدیث نمبر: 9886
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ , أَنَّهُ قَالَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ مُرَجِّلًا جُمَّتَهُ تُعْجِبُهُ نَفْسُهُ ، إِذْ خُسِفَ بِهِ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِي الْأَرْضِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . وَقَالَ حَجَّاجٌ : " إِذْ خَسَفَ اللَّهُ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی بہترین لباس زیب تن کرکے نازوتکبر کی چال چلتا ہوا جا رہا تھا اسے اپنے بالوں پر بڑا عجب محسوس ہورہا تھا اور اس نے اپنی شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکا رکھی تھی کہ اچانک اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9886
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5789، م: 2088
حدیث نمبر: 9887
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا أُهْلِكَ أَهْلُ الْكِتَابِ قَبْلَكُمْ ، أَوْ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ اخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، وَكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ ، فَانْظُرُوا مَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَاتَّبِعُوهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ، وَمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَدَعُوهُ أَوْ ذَرُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جب تک کسی مسئلے کو بیان کرنے میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9887
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7288، م: 1337
حدیث نمبر: 9888
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ : " كُلُّ الْعَمَلِ كَفَّارَةٌ ، وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے ہر عمل کفارہ ہے لیکن روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار کی منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9888
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7538، م: 1151
حدیث نمبر: 9889
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عَجِبَ اللَّهُ مِنْ أَقْوَامٍ يُجَاءُ بِهِمْ فِي السَّلَاسِلِ حَتَّى يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کو اس قوم پر تعجب ہوتا ہے جسے زنجیروں میں جکڑ کر جنت کی طرف لے جایا جاتا ہے (ان کے اعمال انہیں جہنم کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی نظر کرم انہیں جنت کی طرف لے جارہی ہوتی ہے) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9889
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3010
حدیث نمبر: 9890
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ الْأُكْلَةُ وَالْأُكْلَتَان ، وَاللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ ، أَوِ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ ، شُعْبَةُ شَكَّ فِي اللُّقْمَةِ وَالتَّمْرَة ، وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَيْسَ لَهُ غِنًى يُغْنِيهِ ، وَلَا يَسْأَلُ النَّاسَ إِلْحَافًا " أَوْ " يَسْتَحِي أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ إِلْحَافًا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہوتا جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیں اصل مسکین وہ ہوتا ہے جس کے پاس خود بھی مالی کشادگی نہ ہو اور دوسروں سے بھی وہ لگ لپٹ کر سوال نہ کرتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9890
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1479، م: 1039
حدیث نمبر: 9891
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " دَخَلَتِ النَّارَ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کی وجہ سے داخل ہوگئی جسے اس نے باندھ دیا تھا خود اسے کھلایا پلایا اور نہ اسے کھلا چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9891
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3318، م: 2243
حدیث نمبر: 9892
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , قال : سَمِعْتُ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا خَيْرًا ، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ اگر وہ کسی بندہ مسلم کو اس حال میں میسر آجائے کہ وہ اللہ سے خیر کا سوال کررہاہو تو اللہ اسے وہ چیز ضرور عطاء فرما دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9892
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6400، م: 852
حدیث نمبر: 9893
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , قال : سَمِعْتُ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا " ، قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ : " مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا ، أَدَعُ يَوْمَ أَمُوتُ دِينَارًا ، إِلَّا أَنْ أُرْصِدَهُ لِدَيْنٍ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے پاس احد پہاڑ بھی سونے کا بن کر آجائے تو میں ایک دینار بھی چھوڑ کر مرنا پسند نہیں کروں گا سوائے اس چیز کے جو میں اپنے اوپر واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9893
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2389، م: 991
حدیث نمبر: 9894
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ النَّخَعِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9894
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1875
حدیث نمبر: 9894M
قَالَ : " وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ ، أَوْ الْأَشْكَالَ " ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : قَالَ أَبِي : شُعْبَةُ يُخْطِئُ فِي هَذَا الْقَوْلِ : عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ ، وَإِنَّمَا هُوَ سَلْمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيُّ .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے گھوڑے کو ناپسند فرماتے تھے جس کی تین ٹانگوں کا رنگ سفید ہو اور چوتھی کا رنگ باقی جسم کے رنگ کے مطابق ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9894M
حدیث نمبر: 9895
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْكُفْرُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ ، وَإِنَّ السَّكِينَةَ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ ، وَإِنَّ الرِّيَاءَ وَالْفَخْرَ فِي أَهْلِ الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ وَأَهْلِ الْخَيْلِ ، وَيَأْتِي الْمَسِيحُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ ، وَهِمَّتُهُ الْمَدِينَةُ ، حَتَّى إِذَا جَاءَ دُبُرَ أُحُدٍ تَلَقَّتْهُ الْمَلَائِكَةُ فَضَرَبَتْ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ ، هُنَالِكَ يُهْلَكُ , هُنَالِكَ يُهْلَكُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان (اور حکمت) یمن والوں کے ہاں بہت عمدہ ہے کفر مشرقی جانب ہے سکون و اطمینان بکریوں کے مالکوں میں ہوتا ہے جبکہ دلوں کی سختی اونٹوں کے مالکوں میں ہوتی ہے۔ مسیح دجال مشرق کی طرف سے آئے گا اور اس کی منزل مدینہ منورہ ہوگی یہاں تک کہ وہ احد کے پیچھے آکر پڑاؤ ڈالے گا پھر ملائکہ اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے اور وہیں وہ ہلاک ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9895
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52، 1380
حدیث نمبر: 9896
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ بِيَوْمٍ وَلَا تَغْرُبُ بِأَفْضَلَ أَوْ أَعْظَمَ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا تَفْزَعُ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ إِلَّا هَذَانِ الثَّقَلَانِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ، وَعَلَى كُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ يَكْتُبَانِ الْأَوَّلَ ، فَالْأَوَّلَ كَرَجُلٍ قَدَّمَ بَدَنَةً ، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَقَرَةً ، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ شَاةً ، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ طَيْرًا ، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَيْضَةً ، فَإِذَا قَعَدَ الْإِمَامُ طُوِيَتْ الصُّحُفُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن سے زیادہ کسی افضل دن پر سورج طلوع یا غروب نہیں ہوتا اور جن و انس کے علاوہ ہر جاندار مخلوق جمعہ کے دن گھبراہٹ کا شکار ہوجاتی ہے (کہ کہیں آج ہی کا جمعہ وہ نہ ہو جس میں قیامت قائم ہوگی) جمعہ کے دن مسجد کے ہر دروازے پر دو فرشتے مقرر ہوتے ہیں جو درجہ بدرجہ پہلے آنے والے افراد کو لکھتے رہتے ہیں اس آدمی کی طرح جس نے اونٹ پیش کیا پھر جس نے گائے پیش کی پھر جس نے بکری پیش کی پھر جس نے پرندہ پیش کیا پھر جس نے انڈہ پیش کیا اور جب امام آکر بیٹھ جاتا ہے تو صحیفے لپیٹ دیئے جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9896
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3211، م: 850
حدیث نمبر: 9897
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَظْهَرَ ثَلَاثُونَ دَجَّالُونَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ، وَيَفِيضَ الْمَالُ فَيَكْثُرَ ، وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ " ، قَالَ : قِيلَ : وَأَيُّمَا الْهَرْجُ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ , الْقَتْلُ " ، ثَلَاثًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تیس دجال ظاہر ہوجائیں ان میں سے ہر ایک کا گمان یہ ہوگا کہ وہ اللہ کا رسول ہے مال کی خوب کثرت ہوجائے گی فتنوں کا دور دورہ ہوگا اور ہرج کی کثرت ہوگی کسی نے پوچھا ہرج سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا قتل قتل قتل (تین مرتبہ)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9897
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7121، 7061، م: 2672، 157
حدیث نمبر: 9898
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَة ، قََالَ : سَمِعْتُ الْعَلاء يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قََالَ : " كُلُّ صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاج ، ٌفَهِيَ خِدَاجٌ ، فَهِيَ خِدَاج ، غَيْرُ تَمَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نماز میں سورت فاتحہ بھی نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہے نامکمل ہے نامکمل ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9898
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 395
حدیث نمبر: 9899
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَة ، قََالَ : سَمِعْتُ الْعَلاء يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَسْتَامُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَتِه " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اپنے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ کرے اور کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیجے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9899
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1413
حدیث نمبر: 9900
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَة ، قََالَ : سَمِعْتُ الْعَلاء يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُولَنَّ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ ، وَلَكِنْ لِيُعْظِمْ رَغْبَتَهُ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَتَعَاظَمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ أَعْطَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب دعاء کرے تو یوں نہ کہا کرے کہ اے اللہ اگر تو چاہے تو مجھے معاف فرما دے بلکہ پختگی اور یقین کے ساتھ دعاء کرے کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9900
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7477، م: 2679
حدیث نمبر: 9901
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قََالَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ تَدْرُونَ مَا الْغِيَابَةُ ؟ " , قَال : قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا لَيْسَ فِيهِ " ، قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ لَه ؟ قَالَ : " إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ ، فَقَدْ اغْتَبْتَهُ , وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ ، فَقَدْ بَهَتَّه " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر ایک ایسے عیب کے ساتھ کرو جو اس میں نہ ہو کسی نے پوچھا کہ یہ بتائیے اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو جو میں اس کی غیر موجودگی میں بیان کروں تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9901
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2589
حدیث نمبر: 9902
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : مَا أَنَا أَنْهَاكُمْ أَنْ تَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَة ، إِلَّا أَنْ تَصُومُوا قَبْلَهُ " . وَمَا أَنَا أُصَلِّي فِي نَعْلَيْنِ ، وَلَكِنْ " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جمعہ کا روزہ رکھنے سے میں تم کو منع نہیں کرتا بلکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھا کرو الاّ یہ کہ اس سے پہلے کا بھی روزہ رکھو اور میں جوتوں میں نماز نہیں پڑھتا بلکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتوں میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9902
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، خ: 1985، م: 1144، وهذا إسناد ضعيف لجهالة زياد الحارثي
حدیث نمبر: 9903
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ زِيَادٍ الْحَارِثِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا يَسْأَلُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9903
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، أنظر ما قبله
حدیث نمبر: 9904
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ سَالِمًا الْبَرَّادَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قََالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَصَلَّى عَلَيْهَا أَوْ قَالَ : مَنْ صَلَّى عَلَيْهَا ، شُعْبَةُ شَكَّ فَلَهُ قِيرَاط ، فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا ، فَلَهُ قِيرَاطَانِ ، الْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہا اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9904
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1325، م: 945
حدیث نمبر: 9905
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ أَصْدَقَ بَيْتٍ قَالَتْهُ الشُّعَرَاءُ : أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شاعر نے جو سب سے زیادہ سچا شعر کہا ہے وہ یہ ہے کہ یاد رکھو ! اللہ کے علاوہ ہر چیز باطل (فانی) ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9905
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6489، م: 2256
حدیث نمبر: 9906
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا يَحْيَى ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قََالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَّ صَوْتِهِ ، وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ ، وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَةً ، وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے ان کی برکت سے اس کی بخشش کردی جاتی ہے کیونکہ ہر تر اور خشک چیز اس کے حق میں گواہی دیتی ہے اور نماز میں باجماعت شریک ہونے والے کے لئے پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دو نمازوں کے درمیانی وقفے کے لئے کفارہ بنادیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9906
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد جید
حدیث نمبر: 9907
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قََالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ الْأَغَرَّ ، قََالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَال : " تَوَضَّئُوا مِمَّا أَنْضَجَتْ النَّارُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9907
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 352
حدیث نمبر: 9908
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر , وَبَهْزٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، قََالَ : بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ ، قََالَ : أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قََالَ : سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُطَوِّسِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ : عَنِ ابْنِ الْمُطَوِّسِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا فِي رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ رَخَّصَهَا اللَّهُ ، لَمْ يَقْضِ عَنْهُ صِيَامُ الدَّهْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بغیر کسی عذر کے رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دے یا توڑ دے ساری عمر کے روزے بھی اس کے ایک روزے کا بدلہ نہیں بن سکتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9908
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة المطوس، وأبيه