حدیث نمبر: 7359
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ الْعَجْلَانِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ ، فَلْيَغْمِسْهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ شِفَاءً ، وَالْآخَرِ دَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو وہ یاد رکھے کہ مکھی کے ایک پر میں شفا اور دوسرے میں بیماری ہوتی ہے اس لئے اسے چاہئے کہ اس مکھی کو اس میں مکمل ڈبو دے (پھر اسے استعمال کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7359
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 5782.
حدیث نمبر: 7360
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ فَقَالَ سُفْيَانُ : هُوَ هَكَذَا ، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَضَعَ جَنْبَهُ يَقُولُ : " بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي ، فَإِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا ، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا ، فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر اپنا پہلو رکھتے تو یوں فرماتے کہ پروردگار میں نے آپ کے نام کی برکت سے اپنا پہلو زمین پر رکھ دیا اگر میری روح کو اپنے پاس روک لیں تو اس پر رحم فرمائیے اور اگر واپس بھیج دیں تو اس کی اسی طرح حفاظت فرمائیے جیسے آپ اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7360
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 7393، م: 2714.
حدیث نمبر: 7361
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، قَالَ سُفْيَانُ الَّذِي سَمِعْنَاهُ مِنْهُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، لَا أَدْرِي عَمَّنْ سُئِلَ سُفْيَانُ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ أُثَال ؟ ! فَقَالَ : كَانَ الْمُسْلِمُونَ أَسَرُوهُ أَخَذُوهُ ، فَكَانَ إِذَا مَرَّ بِهِ ، قَالَ : " مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ؟ " قَالَ : إِنْ تَقْتُلْ ، تَقْتُلْ ذَا دَمٍ ، وإِِنْ تُنْعِمْ ، تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ ، وَإِنْ تُرِدْ مَالًا ، تُعْطَ مَالًا ، قَالَ : فَكَانَ إِذَا مَرَّ بِهِ ، قَالَ : " مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ؟ " قَالَ : إِنْ تُنْعِمْ ، تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ ، وَإِنْ تَقْتُلْ ، تَقْتُلْ ذَا دَمٍ ، وَإِنْ تُرِدْ الْمَالَ ، تُعْطَ الْمَالَ ، قَالَ : فَبَدَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَطْلَقَهُ ، وَقَذَفَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِهِ ، قَالَ : فَذَهَبُوا بِهِ إِلَى بِئْرِ الْأَنْصَارِ ، فَغَسَلُوهُ ، فَأَسْلَمَ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَمْسَيْتَ وَإِنَّ وَجْهَكَ كَانَ أَبْغَضَ الْوُجُوهِ إِلَيَّ ، وَدِينَكَ أَبْغَضَ الدِّينِ إِلَيَّ ، وَبَلَدَكَ أَبْغَضَ الْبُلْدَانِ إِلَيَّ ، فَأَصْبَحْتَ وَإِنَّ دِينَكَ أَحَبُّ الْأَدْيَانِ إِلَيَّ ، وَوَجْهَكَ أَحَبُّ الْوُجُوهِ إِلَيَّ ، لَا يَأْتِي قُرَشِيًّا حَبَّةٌ مِنَ الْيَمَامَةِ ، حَتَّى قَالَ عُمَرُ : لَقَدْ كَانَ وَاللَّهِ فِي عَيْنِي أَصْغَرَ مِنَ الْخِنْزِيرِ ، وَإِنَّهُ فِي عَيْنِي أَعْظَمُ مِنَ الْجَبَلِ ، خَلَّى عَنْهُ ، فَأَتَى الْيَمَامَةَ حَبَسَ عَنْهُمْ ، فَضَجُّوا وَضَجِرُوا ، فَكَتَبُوا تَأْمُرُ بِالصِّلَةِ ؟ قَالَ : وَكَتَبَ إِلَيْهِ . قال عبد الله بن أحمد : وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : عَنْ سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ أُثَالٍ ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسلمانوں نے ثمامہ بن اثال نامی ایک شخص کو (جو اپنے قبیلے میں بڑا معزز اور مالدار آدمی تھا) گرفتار کر کے قید کر لیا جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ ثمامہ کا کیا ارادہ ہے ؟ اس نے کہا کہ اگر آپ مجھے قتل کر دیں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کا خون قیمتی ہے اگر آپ مجھ پر احسان کریں گے تو ایک شکر گزار پر احسان کریں گے اور اگر آپ کو مال و دولت درکار ہو تو آپ کو وہ مل جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب بھی اس کے پاس سے گزر ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مذکورہ بالا سوال کرتے اور وہ حسب سابق وہی جواب دے دیتا۔ ایک دن اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں یہ بات ڈالی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے یہ ہوئی کہ اسے چھوڑ دیا جائے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد کر دیا لوگ اس کی درخواست پر اسے انصار کے ایک کنوئیں کے پاس لے گئے اور اسے غسل دلوایا اور پھر اس نے اسلام قبول کر لیا اور کہنے لگا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کل شام تک میری نگاہوں میں آپ کے چہرے سے زیادہ کوئی چہرہ ناپسندیدہ اور آپ کے دین سے زیادہ کوئی دین اور آپ کے شہر سے زیادہ کوئی شہر ناپسندیدہ نہ تھا اور اب آپ کا دین میری نگاہوں میں تمام ادیان سے زیادہ اور آپ کا مبارک چہرہ تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہو گیا ہے آج کے بعد یمامہ سے غلہ کا ایک دانہ بھی قریش کے پاس نہیں پہنچے گا۔ _x000D_ یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : واللہ یہ میری نگاہوں میں خنزیر سے بھی زیادہ حقیر تھا اور اب پہاڑ سے بھی زیادہ عظیم ہے اور اس کا راستہ چھوڑ دیا چنانچہ ثمامہ نے یمامہ پہنچ کر قریش کا غلہ روک لیا جس سے قریش کی چیخیں نکل گئیں اور وہ سخت پریشان ہوگئے مجبور ہو کر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ عریضہ لکھا کہ ثمامہ کو مہربانی اور نرمی کرنے کا حکم دیں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثمامہ کو اس نوعیت کا ایک خط لکھ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7361
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 462، م: 1764.
حدیث نمبر: 7362
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً : " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا ، وَشَرُّهَا آخِرُهَا ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا ، وَشَرُّ صُفُوفِ النِّسَاءِ أَوَّلُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایۃ منقول ہے کہ مردوں کی صف سب سے بہترین اور آخری صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں آخری صف سب سے بہترین اور پہلی صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7362
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 440.
حدیث نمبر: 7363
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ الدَّوْسِيِّ ، قَالَ : فَأَهْدَى لَهُ نَاقَةً ، يَعْنِي قَوْلَهُ ، قَالَ : " لَا أَتَّهِبُ إِلَّا مِنْ قُرَشِيٍّ ، أَوْ دَوْسِيٍّ ، أَوْ ثَقَفِيٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک اونٹنی بطور ہدیہ کے پیش کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آئندہ میں صرف کسی قریشی یا دوسی یا ثقفی ہی کا ہدیہ قبول کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7363
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد قوي.
حدیث نمبر: 7364
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ ، وَكِسْوَتُهُ ، وَلَا تُكَلِّفُونَهُ مِنَ الْعَمَلِ مَا لَا يُطِيقُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : غلام کا حق ہے کہ اسے کھانا اور لباس مہیا کیا جائے اور تم انہیں کسی ایسے کام کا مکلف مت بناؤ جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7364
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، م: 1662.
حدیث نمبر: 7365
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَارُونُ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ ، عَنْ الْعَجْلَانِ مَوْلَى فَاطِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ ، وَكِسْوَتُهُ ، وَلَا يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ مَا لَا يُطِيقُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : غلام کا حق ہے کہ اسے کھانا اور لباس مہیا کیا جائے اور تم انہیں کسی ایسے کام کا مکلف مت بناؤ جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7365
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 7366
(حديث مرفوع) قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَجْلَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَجْلَان ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ " يَعْنِي الْحَيَّاتِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سانپوں کے متعلق فرمایا : ہم نے جب سے ان کے ساتھ جنگ شروع کی ہے کبھی صلح نہیں کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7366
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد.
حدیث نمبر: 7367
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ ، وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ ، فَانْتَهُوا ، وَمَا أَمَرْتُكُمْ ، فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں جب تک کسی مسئلے کو بیان کرنے میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7367
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 7288، م: 1337
حدیث نمبر: 7368
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ ، إِذَا أَتَيْتُمْ الْغَائِطَ ، فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ ، وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا " . وَنَهَى عَنِ الرَّوْثِ ، وَالرِّمَّةِ ، وَلَا يَسْتَطِيبُ الرَّجُلُ بِيَمِينِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہارے لئے باپ کی طرح ہوں (اس لئے تمہیں سمجھانا میری ذمہ داری ہے) جب بیت الخلاء جایا کرو تو قبلہ کی جانب منہ کر کے یا پشت کر کے مت بیٹھا کرو نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لید اور بوسیدہ ہڈی سے استنجاء کرنا ممنوع قرار دیا ہے اور فرمایا : کہ کوئی شخص دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7368
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، وأخرجه مسلم مختصرا: 265.
حدیث نمبر: 7369
(حديث مرفوع) قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ : عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ " . قَالَ سُفْيَانُ : لَا يُرَشُّ فِي وَجْهِهِ ، تَمْسَحُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو راتوں کو اٹھ اٹھ کر نماز پڑھتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7369
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي.
حدیث نمبر: 7370
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى ، يَقُولُونَ : يَثْرِبُ ، وَهِيَ الْمَدِينَةُ ، تَنْفِي النَّاسَ كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے ایسی بستی میں جانے کا حکم ملا جو دوسری تمام بستیوں کو کھآ جائے گی۔ لوگ اسے یثرب کہتے ہیں حالانکہ اس کا صحیح نام مدینہ ہے اور مدینہ لوگوں کے گناہوں کو ایسے دور کردیتا ہے جیسے لوہار کی بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7370
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1871، م: 1382.
حدیث نمبر: 7371
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَجَدَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ و َاقْرَأْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت انشقاق اور سورت علق میں آیت سجدہ پر سجدہ تلاوت کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7371
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 768، م: 578.
حدیث نمبر: 7372
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَجَدَ مَالَهُ عِنْدَ رَجُلٍ مُفْلِسٍ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس آدمی کو مفلس قرار دے دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7372
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2402، م: 1559.
حدیث نمبر: 7373
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أُحَدِّثُكُمْ بِأَشْيَاءَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قِصَارٍ : " لَا يَشْرَبْ الرَّجُلُ مِنْ فَمِ السِّقَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہارے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے مختصر احادیث بیان کرتا ہوں مثلا یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7373
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5628.
حدیث نمبر: 7374
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " سَجَدَهُمَا بَعْدَ التَّسْلِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دو سجدے سلام پھیرنے کے بعد کئے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7374
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 482، م: 573.
حدیث نمبر: 7375
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ : اخْتَصَمَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ ، أَيُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ ؟ فَقال أبو هريرة : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِثْلُ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَضْوَإِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ ، لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ اثْنَتَانِ ، يُرَى مُخُّ سَاقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ ، وَمَا فِي الْجَنَّةِ أَعْزَبُ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں نے اس بات پر آپس میں جھگڑا کیا کہ جنت میں مردوں کی تعدادزیادہ ہو گی یا عورتوں کی ؟ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہنے لگے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ جنت میں جو گروہ سب سے پہلے داخل ہو گا وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوئے چہروں والا ہو گا اس کے بعد داخل ہونے وال اگر وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن ستارے کی طرح ہو گا ان میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا گوداگوشت کے باہر سے نظر آ جائے گا اور جنت میں کوئی شخص کنوارہ نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7375
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3254، م: 2834.
حدیث نمبر: 7376
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، سَمِعَ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ سِيرِينَ يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : صَلَّى رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ ، إِمَّا الظُّهْرُ ، أو العصر وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهَا الْعَصْرُ ، فَسَلَّمَ فِي اثْنَتَيْنِ ، ثُمَّ أَتَى جِذْعًا كَانَ يُصَلِّي إِلَيْهِ ، فَجَلَسَ إِلَيْهِ مُغْضَبًا ، وَقَالَ سُفْيَانُ : ثُمَّ أَتَى جِذْعًا فِي الْقِبْلَةِ كَانَ يُسْنِدُ إِلَيْهِ ظَهْرَهُ ، فَأَسْنَدَ إِلَيْهِ ظَهْرَهُ ، قَالَ : ثُمَّ خَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ ، فَقَالُوا : قُصِرَتْ الصَّلَاةُ ، وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، فهاباهُ أَن يُكلِّماه ، فقِال ذو اليَدينِ : أي رسولَ الله ، قُصِرَتِ الصَّلاةُ أَم نَسِيتَ ؟ قَالَ : " مَا قُصِرَتْ ، وَمَا نَسِيتُ " ، قَالَ : فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ إِلَّا رَكْعَتَيْنِ ، قَالَ : فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَقَامَ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ كَسَجْدَتِهِ أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ ، ثُمَّ سَجَدَ وَكَبَّرَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوپہر کی دو میں سے کوئی ایک نماز ظہر یا عصر، غالب گمان کے مطابق پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھا کر ہی سلام پھیر دیا اور مسجد میں موجود اس تنے کے پاس تشریف لائے جو چوڑائی میں تھا اور اپنے ہاتھ سے ایسا اشارہ کیا گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں ہوں جلد باز قسم کے لوگ مسجد سے نکلنے اور کہنے لگے کہ نماز کی رکعتیں کم ہو گئیں اس وقت لوگوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تھے لیکن اس معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے میں انہیں ہیبت محسوس ہوئی اس پر ذوالیدین نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ بھول گئے یا نماز کی رکعتیں کم ہو گئی ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھولا ہوں اور نہ ہی نماز کی رکعتیں کم ہوئی ہیں ذو الیدین نے کہا آپ نے تو دو رکعتیں پڑھی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے ان کی تائید کی اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کردو رکعتیں پڑھیں اور سلام پھیر کر اللہ اکبر کہا اور نماز کے سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ طویل سجدہ کیا، پھر سر اٹھا کر تکبیر کہی اور بیٹھ گئے، پھر دوبارہ تکبیر کہہ کر دوسرا سجدہ کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7376
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 482، م: 573.
حدیث نمبر: 7377
(حديث مرفوع) قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7377
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3539، م: 2134.
حدیث نمبر: 7378
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7378
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 7379
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَفِظْتُ عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ يَحْيَى أَخْبَرَهُ ، عَنْ ضَمْضَمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَسْوَدَيْنِ فِي الصَّلَاةِ الْعَقْرَبِ وَالْحَيَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دے رکھا ہے کہ دوران نماز بھی دو کالی چیزوں کو مارا جا سکتا ہے یعنی سانپ اور بچھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7379
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7380
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، قِيلَ لِسُفْيَانَ : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قِيلَ لَهُ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، " مَنْ ابْتَاعَ مُحَفَّلَةً ، أَوْ مُصَرَّاةً ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ ، فَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرُدَّهَا ، فَلْيَرُدَّهَا ، وَإِنْ شَاءَ يُمْسِكُهَا ، أَمْسَكَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے جو اس کے حق میں بہتر ہو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کر دے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7380
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524.
حدیث نمبر: 7381
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَمَّ هَذَا الْبَيْتَ ، فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ ، رَجَعَ كَيَوْمِ ، وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اس طرح حج کرے کہ اس میں اپنی عورتوں سے بےحجاب بھی نہ ہو اور کوئی گناہ کا کام بھی نہ کرے وہ اس دن کی کیفیت لے کر اپنے گھر لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7381
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1819، م: 1350.
حدیث نمبر: 7382
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ سُفْيَانُ أَوَّلَ مَرَّةٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ أَعَادَهُ ، فَقَالَ : الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي ، وَالْعِزَّةُ إِزَارِي ، فَمَنْ نَازَعَنِي ، وَاحِدًا مِنْهُمَا ، أُلْقِيهِ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ کبریائی میری اوپر کی چادر ہے اور عزت میری نیچے کی چادر ہے جو دونوں میں سے کسی ایک کے بارے مجھ سے جھگڑا کرے گا میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7382
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2620.
حدیث نمبر: 7383
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَهُ الشَّاعِرُ : أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ وَكَادَ ابْنُ أَبِي الصَّلْتِ يُسْلِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کسی شاعر نے جو سب سے زیادہ سچاشعر کہا ہے وہ یہ کہ یاد رکھو اللہ کے علاوہ ہر چیز باطل (فانی) ہے اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی الصلت اسلام قبول کرلیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7383
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3841، م: 2256.
حدیث نمبر: 7384
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الْأَوْبَرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَائِمًا ، وَقَاعِدًا ، وَحَافِيًا ، وَمُنْتَعِلًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر بھی نماز پڑھتے تھے اور بیٹھ کر بھی جوتی اتار کر بھی اور جوتی پہن کر بھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7384
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وفي هذا الإسناد أبو الأوبر، وهو لا يعرف.
حدیث نمبر: 7385
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَزَادَ فِيهِ : وَيَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث میں اس دوسری سند سے یہ اضافہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں جانب سے بھی واپس چلے جاتے تھے اور بائیں جانب سے بھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7385
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وانظر ما قبله.
حدیث نمبر: 7386
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ مُحَيْصِنٍ ، شَيْخٌ مِنْ قُرَيْشٍ سَهْمِيٌّ ، سَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123 شَقَّتْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، وَبَلَغَتْ مِنْهُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَبْلُغَ ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَارِبُوا وَسَدِّدُوا ، فَكُلُّ مَا يُصَابُ بِهِ الْمُسْلِمُ كَفَّارَةٌ ، حَتَّى النَّكْبَةِ يُنْكَبُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ جو شخص برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا۔۔ تو یہ بات مسلمانوں پر بہت شاق گزری اور ان کے دلوں میں مختلف قسم کے وسوسے پیدا ہونے لگے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمل کے قریب رہو اور سیدھی راہ اور بات پر رہو کیونکہ مسلمان کو جو بھی مصیبت پیش آتی ہے وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے حتیٰ کہ جو زخم اسے لگتا ہے یا جو کانٹا اسے چبھتا ہے (وہ بھی اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7386
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5641، م: 2574.
حدیث نمبر: 7387
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ طَاوُسًا ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام ، فَقَالَ مُوسَى : يَا آدَمُ ، أَنْتَ أَبُونَا ، خَيَّبْتَنَا ، وَأَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّة ! فَقَالَ لَهُ آدَمُ : يَا مُوسَى ، أَنْتَ اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ ، وَقَالَ مَرَّةً : بِرِسَالَتِهِ وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ ، أَتَلُومُنِي عَلَى أَمْرٍ قَدَّرَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي بِأَرْبَعِينَ سَنَةً ؟ ! قَالَ : حَجَّ آدَمُ مُوسَى ، حَجَّ آدَمُ مُوسَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام میں مباحثہ ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ اے آدم ! آپ ہمارے باوا ہیں آپ نے ہمیں شرمندہ کیا اور جنت سے نکلوادیا ؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا : اے موسیٰ اللہ نے تمہیں اپنے سے ہم کلام ہونے کے لئے منتخب کیا اور تمہیں اپنے ہاتھ سے تورات لکھ کردی کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کرتے ہو جس کا فیصلہ اللہ نے میرے متعلق میری پیدائش سے چالیس برس پہلے کر لیا تھا ؟ اس طرح حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7387
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6614، م: 2652.
حدیث نمبر: 7388
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْقَارِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : لَا وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ مَا أَنَا قُلْتُ : " مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا ، فَلَا يَصُومُ " مُحَمَّدٌ وَرَبِّ الْبَيْتِ قَالَهُ ، مَا أَنَا نَهَيْتُ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، مُحَمَّدٌ نَهَى عَنْهُ وَرَبِّ الْبَيْتِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس بیت اللہ کے رب کی قسم یہ بات میں نے نہیں کہی کہ جو آدمی حالت ت میں صبح کرے وہ روزہ نہ رکھے بلکہ بیت اللہ کے رب کی قسم یہ بات محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے اور جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے میں نے منع نہیں کیا بلکہ بیت اللہ کے رب کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7388
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وفي هذا الإسناد عبدالله بن عمرو القاري، وقد تفرد بالرواية عنه يحيى، وقد توبع أيضاً.
حدیث نمبر: 7389
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ ابْنِ مُنَبِّهٍ يَعْنِي وَهْبًا ، عَنْ أَخِيهِ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : " لَيْسَ أَحَدٌ أَكْثَرَ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي إِلَّا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ ، وَكُنْتُ لَا أَكْتُبُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مجھ سے زیادہ بکثرت جاننے والا کوئی نہیں سوائے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے کیونکہ وہ لکھ لیتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7389
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 113.
حدیث نمبر: 7390
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ هِشَامِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَيَحْيَى ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَجَدَ مَالَهُ عِنْدَ رَجُلٍ مُفْلِسٍ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس آدمی کو مفلس قرار دے دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7390
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2402، م: 1559، لسفيان فيه إسنادان: الأول: فيه هشام ابن يحيى، وإن كان مستورا، وقد توبع، والثاني: صحيح.
حدیث نمبر: 7391
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، سَمِعَهُ مِنْ شَيْخٍ ، فَقَالَ مَرَّةً : سَمِعْتُهُ مِنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَعْرَابِيٍّ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَرَأَ : وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا سورة المرسلات آية 1 فَبَلَغَ : فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ سورة المرسلات آية 50 ، فَلْيَقُلْ : آمَنَّا بِاللَّهِ ، وَمَنْ قَرَأَ : وَالتِّينِ وَالزَّيْتُون ، فَلْيَقُلْ : بَلَى ، وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ ، وَمَنْ قَرَأَ : أَلَيْسَ ذَلِكَ بِقَادِرٍ عَلَى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَى سورة القيامة آية 40 ، فَلْيَقُلْ : بَلَى " . قَالَ إِسْمَاعِيلُ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ ، هَلْ حَفِظَ ؟ وَكَانَ أَعْرَابِيًّا ، فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، أَظَنَنْتَ أَنِّي لَمْ أَحْفَظْهُ ! لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّينَ حَجَّةً ، مَا مِنْهَا سَنَةٌ ، إِلَّا أَعْرِفُ الْبَعِيرَ الَّذِي حَجَجْتُ عَلَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص سورت مرسلات کی آخری آیت فبأی حدیث بعدہ یؤمنون کی تلاوت کرے اسے یوں کہنا چاہئے آمنا باللہ (ہم اللہ پر ایمان لائے) اور جو شخص سورت قیامۃ کی آخری آیت الیس ذلک بقادر علی ان یحییٰ الموتی کی تلاوت کرے اسے یوں کہنا چاہئے بلی (کیوں نہیں) ۔ راوی حدیث اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے جس سے یہ حدیث سنی چونکہ وہ ایک دیہاتی آدمی تھا اس لئے میں نے اس کے حافظے کا امتحان لینا چاہا کہ وہ صحیح طرح یاد بھی رکھ سکا ہے یا نہیں ؟ وہ کہنے لگا کہ اے بھتیجے کیا تم یہ سمجھ رہے ہو کہ میں اس حدیث کو یاد نہیں رکھ سکا میں نے ساٹھ مرتبہ حج کیا ہے اور جس سال میں نے جس اونٹ پر حج کیا ہے مجھے اس تک کی شناخت یاد ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7391
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، لجهالة الراوي عن أبي هريرة.
حدیث نمبر: 7392
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ الْعُذْرِيِّ ، قَالَ مَرَّةً : عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ جَدِّهِ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ، فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ شَيْئًا ، فَلْيَنْصِبْ عَصًا ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ عَصًا ، فَلْيَخُطَّ خَطًّا ، وَلَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو اپنے سامنے کوئی چیز (بطور سترہ کے) رکھ لے اگر کوئی چیز نہ ملے تو لاٹھی ہی کھڑی کرلے اور اگر لاٹھی بھی نہ ہو تو ایک لکیر ہی کھینچ لے اس کے بعد اس کے سامنے سے کچھ بھی گزرے اسے کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7392
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لاضطرابه وجهالة راويه أبي محمد بن عمرو.
حدیث نمبر: 7393
حَدَّثَنَا سُفْيَان ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَرْفَعُهُ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7393
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه.
حدیث نمبر: 7394
وقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَرْفَعُهُ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7394
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه.
حدیث نمبر: 7395
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ ، فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا ، فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ ، وَلَا يُثَرِّبْ " . قَالَ سُفْيَانُ : لَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا أَيْ لَا يُعَيِّرْهَا عَلَيْهَا فِي الثَّالِثَةِ ، أَوْ الرَّابِعَةِ : " فَليَبِعْهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7395
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2152، م: 1703.
حدیث نمبر: 7396
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : " سَجَدْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ، و اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت انشقاق اور سورت علق میں آیت سجدہ پر سجدہ تلاوت کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7396
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 768، م: 578.
حدیث نمبر: 7397
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي عَبْدِهِ ، وَلَا فَرَسِهِ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7397
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1464، م: 982.
حدیث نمبر: 7398
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِحَسَنٍ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ ، فَأَحِبَّهُ ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا : اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما اور اس سے محبت کرنے والوں سے بھی محبت فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7398
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2122، م: 2421.