حدیث نمبر: 9830
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : لَيْثٌ قَالَ : حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ نُعَيْمٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، أَنَّهُ قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَوْقَ هَذَا الْمَسْجِدِ , فَقَرَأَ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ، فَسَجَدَ فِيهَا ، وَقَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
نعیم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس مسجد کے اوپر نماز پڑھی اس میں انہوں نے سورت انشقاق کی تلاوت کی اور آیت سجدہ پر پہنچ کر سجدہ تلاوت کیا فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہاں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9830
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 768، م: 578
حدیث نمبر: 9831
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَيُونُسُ , قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا يُنَجِّي أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : وَلَا أَنْتَ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ ، وَلَكِنْ سَدِّدُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے البتہ تم سیدھی راہ اختیار کئے رہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9831
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816
حدیث نمبر: 9832
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ سوار اس کے سائے میں سو سال تک چل سکتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9832
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4881، م: 2826
حدیث نمبر: 9833
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ لَهُ : " مَاذَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ؟ " . قَالَ : عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ ، إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ ، وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ . فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ ، قَالَ لَهُ : " مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ؟ " . قَالَ : مَا قُلْتُ لَكَ ، إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ ، وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ . فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْغَدِ , فَقَالَ : " مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ؟ " . فَقَالَ عِنْدِي مَا قُلْتُ لَكَ ، إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ ، وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " انْطَلِقُوا بِثُمَامَةَ " . فَانْطَلَقُوا بِهِ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ ، , فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ , فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ ، أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى وَجْهٌ الْأَرْضِ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ وَجْهِكَ ، فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ كُلِّهَا إِلَيَّ ، وَوَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ دِينِكَ ، فَأَصْبَحَ دِينُكَ أَحَبَّ الْأَدْيَانِ إِلَيَّ ، وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ بَلَدِكَ ، فَأَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبِلَادِ إِلَيَّ ، وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِي ، وَإِنِّي أُرِيدُ الْعُمْرَةَ ، فَمَاذَا تَرَى ؟ . فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ ، فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ قَالَ لَهُ قَائِلٌ : صَبَأْتَ ؟ فَقَالَ : لَا ، وَلَكِنْ أَسْلَمْتُ مَعَ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا وَاللَّهِ لَا يَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ ، حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک دستہ بھیجا مسلمانوں نے ثمامہ بن اثال نامی ایک شخص کو جو یمامہ کا سردار تھا معزز اور مالدار آدمی تھا گرفتار کر کے قید کرلیا جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گذرا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ ثمامہ کیا ارادہ ہے ؟ اس نے کہا کہ اگر آپ مجھے قتل کردیں گے تو ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کا خون قیمتی ہے اگر آپ مجھ پر احسان کریں گے تو ایک شکر گذار پر احسان کریں گے اور اگر آپ کو مال و دولت درکار ہو تو آپ کو وہ مل جائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب بھی اس کے پاس سے گذر ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مذکورہ بالا سوال کرتے اور وہ حسب سابق وہی جواب دے دیتا۔ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ثمامہ کو چھوڑ دو لوگ اس کی درخواست پر اسے انصار کے ایک کنوئیں کے پاس لے گئے اور اسے غسل دلوایا اور پھر اس نے کلمہ پڑھ لیا اور کہنے لگا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کل شام تک میری نگاہوں میں آپ کے چہرے سے زیادہ کوئی چہرہ ناپسندیدہ اور آپ کے دین سے زیادہ کوئی دین اور آپ کے شہر سے زیادہ کوئی شہر ناپسندیدہ نہ تھا اور اب آپ کا دین میری نگاہوں میں تمام ادیان سے زیادہ اور آپ کا مبارک چہرہ تمام چہروں سے زیادہ محبوب ہوگیا ہے آپ کے سواروں نے مجھے پکڑ لیا تھا حالانکہ میں عمرے کے ارادے سے جارہا تھا اب آپ کی کیا رائے ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خوشخبری دی اور عمرہ کرنے کی اجازت دے دی جب وہ مکہ مکرمہ پہنچے تو کسی نے ان سے کہا کہ کیا تم بھی بےدین ہوگئے ہو ؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر مسلمان ہوگیا ہوں اور واللہ آج کے بعد یمامہ سے غلہ کا ایک دانہ بھی تمہارے پاس نہیں پہنچے گا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دے دیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9833
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 462، م: 1764
حدیث نمبر: 9834
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَبَيْنَ خَالَةِ أَبِيهَا ، وَالْمَرْأَةِ وَخَالَةِ أُمِّهَا ، أَوْ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّةِ أَبِيهَا ، أَوْ الْمَرْأَةِ وَعَمَّةِ أُمِّهَا ، فَقَالَ : قَالَ قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا ، وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا " . فَنَرَى خَالَةَ أُمِّهَا ، وَعَمَّةَ أُمِّهَا ، بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ ، وَإِنْ كَانَ مِنَ الرَّضَاعِ يَكُونُ مِنْ ذَلِكَ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ .
مولانا ظفر اقبال
امام زہری رحمہ اللہ سے کسی شخص نے پوچھا کہ کیا کوئی آدمی اپنے نکاح میں ایک عورت اور اس کے باپ کی خالہ کو یا اس کی ماں کی خالہ کو یا اس کے باپ کی پھوپھی کو یا اس کی پھوپھی کو جمع کرسکتا ہے ؟ انہوں نے قبیصہ بن ذؤیب کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت اور اس کی خالہ یا پھوپھی کو نکاح میں جمع کرنے کی ممانعت فرمائی ہے اور ہماری رائے یہ ہے کہ اس کی ماں کی خالہ اور پھوپھی بھی اسی زمرے میں آتی ہے اور رضاعت کا رشتہ ہو تو وہ بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9834
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
حدیث نمبر: 9835
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوهَا تَسْعَوْنَ ، وَأْتُوهَا تَمْشُونَ , وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا ، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کے لئے دوڑتے ہوئے مت آیا کرو بلکہ اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9835
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 908، م: 602
حدیث نمبر: 9836
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ قَالَ لِصَبِيٍّ : تَعَالَ هَاكَ ثُمَّ لَمْ يُعْطِهِ ، فَهِيَ كَذْبَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بچے سے یوں کہے کہ ادھر آؤ یہ لے لو اور پھر اسے کچھ نہ دے تو یہ جھوٹ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9836
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9837
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ . وَحَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : أَنَا أَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، قَالَ : اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، قَالَا : وَكَانَ يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السُّجُودِ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز کے حوالے سے میں تم سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو اللہم ربناولک الحمد کہتے اور جب رکوع میں جاتے یا ایک سجدہ سے سر اٹھا کر دوسرا سجدہ کرنا چاہتے یا دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوتے تو ہر موقع پر تکبیر کہتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9837
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 795، م: 392
حدیث نمبر: 9838
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ . وَحَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ ، لَا يُبَالِي الْمَرْءُ بِمَا أَخَذَ مِنَ الْمَالِ بِحَلَالٍ أَوْ بِحَرَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں آدمی کو اس چیز کی کوئی پرواہ نہ ہوگی کہ وہ حلال طریقے سے مال حاصل کررہا ہے یا حرام طریقے سے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9838
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2059
حدیث نمبر: 9839
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَيَزِيدُ , قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ وَالْجَهْلَ ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص روزہ رکھ کر بھی جھوٹی بات اور کام اور جہالت نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9839
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1903
حدیث نمبر: 9840
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : لَوْلَا أَمْرَانِ لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ عَبْدًا مَمْلُوكًا ، وَذَلِكَ أَنَّ الْمَمْلُوكَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَصْنَعَ فِي مَالِهِ شَيْئًا ، وَذَلِكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا خَلَقَ اللَّهُ عَبْدًا يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ سَيِّدِهِ ، إِلَّا وَفَّاهُ اللَّهُ أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر دو چیزیں نہ ہوتیں تو مجھے کسی کی ملکیت میں غلام بن کر رہنا زیادہ پسند تھا کیونکہ غلام اپنے مال میں بھی کوئی تصرف نہیں کرسکتا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کوئی غلام اللہ اور اپنے آقا دونوں کے حقوق کو ادا کرتا ہو تو اسے ہر عمل پر دہرا اجر ملتا ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9840
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2549، م: 1666
حدیث نمبر: 9841
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا يُوطِنُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ الْمَسَاجِدَ لِلصَّلَاةِ وَالذِّكْرِ ، إِلَّا تَبَشْبَشَ اللَّهُ بِهِ ، يَعْنِي حِينَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ ، كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِغَائِبِهِمْ إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح اور مکمل احتیاط سے کرے پھر مسجد میں آئے اور اس کا مقصد صرف نماز پڑھنا ہی ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوتے ہیں جیسے کسی مسافر کے اپنے گھر پہنچنے پر اس کے اہل خانہ خوش ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9841
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات، لكن روي الحدیث بزيادة رجل مجهول، جهله الدارقطني، انظر ما بعده
حدیث نمبر: 9842
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9842
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن عبيدة، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 9843
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَحَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا لَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ وَلَمْ يُصَلُّوا عَلَى نَبِيِّهِمْ ، إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ کسی جگہ پر مجلس کریں لیکن اس میں اللہ کا ذکر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دورد نہ کریں اور جدا ہوجائیں وہ اس کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9843
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9844
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّهُ قَالَ : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ ، وَقَالَ : " إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا لِرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ : " إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحْرِقُوا فُلَانًا وَفُلَانًا بِالنَّارِ ، وَإِنَّ النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللَّهُ ، فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ہمیں ایک لشکر کے ساتھ بھیجا اور قریش کے دو آدمیوں کا نام لے کر فرمایا اگر تم ان دونوں کو پاؤ تو انہیں آگ میں جلا دینا پھر جب ہم لوگ روانہ ہونے کے ارادے سے نکلنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں فلاں فلاں آدمیوں کے متعلق یہ حکم دیا تھا کہ انہیں آگ میں جلا دینا لیکن آگ کا عذاب صرف اللہ ہی دے سکتا ہے اس لئے اگر تم انہیں پاؤ تو انہیں قتل کردینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9844
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3016
حدیث نمبر: 9845
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّهُ قَالَ : أَتَى رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ , فَنَادَاهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي زَنَيْتُ . فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَتَنَحَّى ، تِلْقَاءَ وَجْهِهِ ، فَقَالَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي زَنَيْتُ . فَأَعْرَضَ عَنْهُ , حَتَّى ثَنَّى ذَلِكَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " أَبِكَ جُنُونٌ ؟ " قَالَ : لَا . قَالَ : " فَهَلْ أَحْصَنْتَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ " . قَالَ ابْنِ شِهَابٍ : فَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : كُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ ، فَرَجَمْنَاهُ فِي الْمُصَلَّى ، فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ هَرَبَ ، فَأَدْرَكْنَاهُ بِالْحَرَّةِ ، فَرَجَمْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ ! مجھ سے بدکاری کا گناہ سرزد ہوگیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر منہ پھیرلیا انہوں نے دائیں جانب سے آکر یہی کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیرلیا پھر بائیں جانب سے آکر یہی عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اعراض فرمایا لیکن جب چوتھی مرتبہ بھی انہوں نے اقرار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم دیوانے تو نہیں ہو ؟ اس نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم شادی شدہ ہو ؟ اس نے کہا ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے جا کر ان پر حد رجم جاری کرو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ انہیں لے گئے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسے رجم کرنے والوں میں میں بھی شامل تھا ہم نے اسے عیدگاہ میں رجم کیا تھا جب انہیں پتھر لگے تو وہ بھاگنے لگا ہم نے " حرہ " میں اسے پکڑ لیا اور سنگسار کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9845
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6815، م: 1691
حدیث نمبر: 9846
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ قَضَى فِيمَنْ زَنَى وَلَمْ يُحْصِنْ ، أَنْ يُنْفَى عَامًا مَعَ الْحَدِّ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنوارے زانی کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ اسے حد جاری کرنے کے ساتھ ساتھ ایک سال کے لئے سیاسۃً جلاوطن بھی کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9846
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6833
حدیث نمبر: 9847
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کچھ میں جانتاہوں اگر وہ تمہیں پتہ چل جائے تو تم آہ و بکاء کی کثرت کرنا شروع کردو اور ہنسنے میں کمی کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9847
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6485
حدیث نمبر: 9848
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفَّى عَلَيْهِ دَيْنٌ ، فَيَسْأَلُ : " هَلْ تَرَكَ لِذَلِكَ مِنْ قَضَاءٍ ؟ " . فَإِنْ قَالُوا : نَعَمْ ، إِنَّهُ تَرَكَ وَفَاءً صَلَّى عَلَيْهِ ، وَإِلَّا قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " . فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ ، قَامَ فَقَالَ : " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ ، فَمَنْ تُوُفِّيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَتَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی جنازہ لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے یہ سوال پوچھتے کہ اس شخص پر کوئی قرض ہے ؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے کہ اسے ادا کرنے کے لئے اس نے کچھ مال چھوڑا ہے ؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے اور اگر وہ ناں میں جواب دیتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیتے کہ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو پھر اللہ نے فتوحات کا دروازہ کھولا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ میں مؤمنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں اس لئے جو شخص قرض چھوڑ کر جائے اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9848
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2298، م: 1619
حدیث نمبر: 9849
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا طِيَرَةَ , وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْفَأْلُ ؟ قَالَ : " كَلِمَةٌ صَالِحَةٌ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے البتہ فال سب سے بہتر ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! فال سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا اچھا کلمہ جو تم میں سے کوئی سنے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9849
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5755، م: 2223
حدیث نمبر: 9850
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، وَالنَّصَارَى ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مار ہو یہودیوں پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9850
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 437، م: 530
حدیث نمبر: 9851
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ ، ثُمَّ يَقُولُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ ، ثُمَّ يَقُولُ : وَهُوَ قَائِمٌ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي الصَّلَاةِ كُلِّهَا حَتَّى يَقْضِيَهَا ، وَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے اور رکوع میں جاتے تو تکبیر کہتے اور جب رکوع سے اپنی کمر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور کھڑے کھڑے ربنا لک الحمد کہتے پھر سجدے میں جاتے ہوئے سجدے سے سر اٹھاتے ہوئے دوبارہ سجدے میں جاتے ہوئے اور سر اٹھاتے ہوئے تکبیر کہتے تھے پھر ساری نماز میں اسی طرح کرتے تھے یہاں تک کہ نماز مکمل کرلیتے اسی طرح قعدہ کے بعدجب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تب بھی تکبیر کہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9851
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 789، م: 392
حدیث نمبر: 9852
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنِ ابْنِ دَارَّةَ مَوْلَى عُثْمَانَ ، قَالَ : إِنَّا لَبِالْبَقِيعِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ إِذْ سَمِعْنَاهُ يَقُولُ : أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ : فَتَدَاكَّ النَّاسُ عَلَيْهِ ، فَقَالُوا : إِيهٍ يَرْحَمُكَ اللَّهُ ! قَالَ : يَقُولُ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِكُلِّ عَبْدٍ مُسْلِمٍ لَقِيَكَ يُؤْمِنُ بِي ، لَا يُشْرِكُ بِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابن وارہ جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے آزادہ کردہ غلام ہیں کہتے ہیں کہ ہم نے جنت البقیع میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ہم نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگوں میں اس چیز کو سب سے زیادہ جانتا ہوں کہ قیامت کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے کون بہرہ مند ہوگا لوگ ان پر جھک پڑے اور اصرار کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کی آپ پر رحمتیں نازل ہوں بیان کیجئے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے اے اللہ ! ہر اس بندہ مسلم کی مغفرت فرما جو تجھ سے اس حال میں ملے کہ وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہو اور تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9852
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9853
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چاند کو دیکھ کر روزہ رکھا کرو، چاند دیکھ کر عید منایا کرو، اگر چاند نظر نہ آئے اور آسمان پر ابر چھایا ہو تو تیس کی گنتی پوری کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9853
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1909، م: 1081
حدیث نمبر: 9854
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے ازار کو زمین پر کھینچتے ہوئے چلتا ہے اللہ اس پر نظر کرم نہیں فرماتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9854
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5788، م: 2087
حدیث نمبر: 9855
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ بُدَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ كَانَ يَتَعَوَّذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَمِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی عذاب جہنم سے، عذاب قبر سے اور مسیح دجال کے فتنہ سے پناہ مانگتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9855
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1377، م: 588
حدیث نمبر: 9856
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَيُذَادَنَّ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِي عَنِ الْحَوْضِ ، كَمَا تُذَادُ الْغَرِيبَةُ مِنَ الْإِبِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے کچھ ساتھیوں کو میرے حوض سے اس طرح دور کیا جائے گا جیسے کسی اجنبی اونٹ کو اونٹوں سے دور کیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9856
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2367، م: 2302
حدیث نمبر: 9857
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ جُحَادَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ : " نَهَى عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندیوں کی جسم فروشی کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9857
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2283
حدیث نمبر: 9858
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرَّكَائِزِ الْخُمُسُ " ، قَالَ شُعْبَةُ : مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَقُولُ : الرَّكَائِزَ غَيْرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جانور سے مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کنویں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9858
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
حدیث نمبر: 9859
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ سَجَدَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت انشقاق میں سجدہ تلاوت کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9859
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 768، م: 578، وهذا إسناد ضعيف الجهالة عبدالعزيز
حدیث نمبر: 9860
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " تَفْضُلُ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ عَلَى صَلَاةِ الْوَحْدَةِ سَبْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً ، أَوْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت ستائیں یا پچیس درجے زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9860
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 648، م: 649، شريك - وإن كان سيئ الحفظ - قد توبع
حدیث نمبر: 9861
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ ، دَعَا بِمَاءٍ فَاسْتَنْجَى ، ثُمَّ مَسَحَ بِيَدِهِ عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ تَوَضَّأَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو پانی منگوا کر استنجاء کرتے پھر اپنا ہاتھ زمین پر رگڑ کر اسے دھوتے پھر وضو فرماتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9861
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 9862
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ ، وَمَنْ حَمَلَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میت کو غسل دے اسے چاہئے کہ خود بھی غسل کرلے اور جو شخص جنازہ اٹھائے وہ وضو کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9862
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات غير صالح، وهو صدوق كان قد اختلط ، وقد اختلف في رفع الحديث ووقفه
حدیث نمبر: 9863
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّخَعِيِّ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ تَسَمَّى بِاسْمِي ، فَلَا يَتَكَنَّى بِكُنْيَتِي ، وَمَنْ تَكَنَّى بِكُنْيَتِي ، فَلَا يَتَسَمَّى بِاسْمِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص میرے نام پر اپنا نام رکھے وہ میری کنیت اختیار نہ کرے اور جو میری کنیت پر اپنی کنیت رکھے وہ میرا نام اختیار نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9863
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 9864
حَدَّثَنَاه أَسْوَدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ فَذَكَرَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9864
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: انظر ما قبله
حدیث نمبر: 9865
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ ، فَلَا شَيْءَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز جنازہ مسجد میں پڑھے اس کے لئے کوئی ثواب نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9865
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف من أجل صالح
حدیث نمبر: 9866
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِرَاكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ , وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگوں میں سب سے بدترین شخص وہ آدمی ہوتا ہے جو دوغلا ہو ان لوگوں کے پاس ایک رخ لے کر آتا ہے اور ان کے پاس دوسرا رخ لے کر آتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9866
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7179، م: 2526
حدیث نمبر: 9867
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " بُعِثْتُ بِجَوَامِعِ الْكَلِمِ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، وَبَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ ، فَوُضِعَتْ فِي يَدَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے جوامع الکلم کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے اور ایک مرتبہ سوتے ہوئے زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں میرے پاس لا کر میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9867
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2977، م: 523
حدیث نمبر: 9868
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَأَنْ يَحْتَزِمَ أَحَدُكُمْ حُزْمَةَ حَطَبٍ فَيَحْمِلَهَا عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا يُعْطِيهِ أَوْ يَمْنَعُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی لکڑیوں کا گٹھا پکڑ کر اپنی پیٹھ پر لاد کر اسے بیچے اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی خود کھائے یا صدقہ کردے یہ بہت بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ کسی آدمی کے پاس جا کر سوال کرے اس کی مرضی ہے کہ اسے کچھ دے یا نہ دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9868
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2079، م: 1062
حدیث نمبر: 9869
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9869
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 162، م: 278