حدیث نمبر: 9790
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ ، أُمُّ الْقُرْآنِ ، وَأُمُّ الْكِتَابِ , وَالسَّبْعُ الْمَثَانِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت فاتحہ کے بارے میں فرمایا یہی ام القرآن اور ام الکتاب ہے، یہی سبع مثانی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9790
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4704
حدیث نمبر: 9791
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ ، وَسَتَصِيرُ نَدَامَةً ، وَحَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَنْعِمَتِ الْمُرْضِعَةُ ، وبِئْسَتِ الْفَاطِمَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم، سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عنقریب تم لوگ حکمرانی کی خواہش اور حرص کروگے لیکن یہ حکمرانی قیامت کے دن باعث حسرت و ندامت ہوگی پس وہ بہترین دودھ پلانے اور بدترین دودھ چھڑانے والی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9791
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7148
حدیث نمبر: 9792
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " اخْتَصَمَ آدَمُ , وَمُوسَى عليهما السلام ، فَخَصَمَ آدَمُ مُوسَى ، فَقَالَ مُوسَى : أَنْتَ آدَمُ الَّذِي أَشْقَيْتَ النَّاسَ ، وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ ؟ فَقَالَ آدَمُ : أَنْتَ مُوسَى الَّذِي اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ وَبِكَلَامِهِ ، وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ التَّوْرَاةَ ؟ أَلَيْسَ تَجِدُ فِيهَا أَنْ قَدْ قَدَّرَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَنِي ؟ قَالَ : بَلَى " . قَالَ عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيُّ : فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى ، قَالَ مُحَمَّدٌ : يَكْفِينِي أَوَّلُ الْحَدِيثِ ، فَخَصَمَ آدَمُ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم و موسیٰ (علیہم السلام) کی باہم ملاقات ہوگئی حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ وہی آدم ہیں کہ اللہ نے آپ کو اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اپنی جنت میں آپ کو ٹھہرایا اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا پھر آپ نے یہ کام کردیا ؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کیا تم وہی ہو جس سے اللہ نے کلام کیا اور اس پر تورات نازل فرمائی ؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا جی ہاں حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کیا میری پیدائش سے قبل یہ حکم لکھا ہوا تم نے تورات میں پایا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! اس طرح حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9792
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4736، م: 2652
حدیث نمبر: 9793
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ ، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ ، وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ ، اشْتَرِيَا أَنْفُسَكُمَا مِنَ اللَّهِ لَا أُغْنِي عَنْكُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، سَلَانِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوعبدالمطلب سے فرمایا کہ اے بنی عبد المطلب اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو اے بنی ہاشم اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو اے بنی عبدمناف اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو اے پیغمبر اللہ کی پھوپھی ام زبیر اور اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو کیونکہ میں اللہ کی طرف سے تمہارے لئے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا البتہ تم جو چاہو مجھ سے (مال و دولت) مانگ سکتی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9793
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3527، م: 206
حدیث نمبر: 9794
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أَحَدِكُمْ يَوْمٌ لَأَنْ يَرَانِي ، ثُمَّ لَأَنْ يَرَانِي أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَهُ مِثْلُ أَهْلِهِ وَمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم میں سے کسی پر ایک دن ایسا بھی آئے گا جب اس کے نزدیک مجھے دیکھنا اپنے اہل خانہ اور اپنے مال و دولت سے زیادہ محبوب ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9794
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3589، م: 2364
حدیث نمبر: 9795
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا تَسْتَقِيمُ لَكَ الْمَرْأَةُ عَلَى خَلِيقَةٍ وَاحِدَةٍ ، إِنَّمَا هِيَ كَالضِّلَعِ إِنْ تُقِمْهَا تَكْسِرْهَا ، وَإِنْ تَتْرُكْهَا تَسْتَمْتِعْ بِهَا ، وَفِيهَا عِوَجٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت ایک خصلت پر کبھی نہیں رہ سکتی وہ تو پسلی کی طرح ہوتی ہے اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کروگے تو اسے توڑ ڈالو گے اور اگر اسے اس کے حال پر چھوڑ دوگے تو اس کے اس ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی اس سے فائدہ اٹھا لوگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9795
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5184، م: 1468
حدیث نمبر: 9796
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ ، وَفِي مُؤَخَّرِ الصُّفُوفِ رَجُلٌ فَأَسَاءَ الصَّلَاةَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا فُلَانُ ، أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ ؟ ، أَلَا تَرَى كَيْفَ تُصَلِّي ؟ ، إِنَّكُمْ تَرَوْنَ أَنَّهُ يَخْفَى عَلَيَّ شَيْءٌ مِمَّا تَصْنَعُونَ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى مِنْ خَلْفِي كَمَا أَرَى مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز ظہر پڑھائی پچھلی صفوں میں ایک آدمی کھڑا تھا جو نماز صحیح طریقے سے نہیں پڑھ رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو اسے پکار کر فرمایا کہ تم اللہ سے نہیں ڈرتے ؟ تم کیسی نماز پڑھ رہے تھے ؟ تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ تمہاری حرکات مجھ پر مخفی رہتی ہیں بخدا ! میں تمہیں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے اپنے سامنے سے دیکھتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9796
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 418، م: 423
حدیث نمبر: 9797
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو بچپن میں اپنی اولاد پر شفیق اور اپنے شوہر کی اپنی ذات میں سب سے بڑی محافظ ہوتی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9797
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5082، م: 2527، محمد بن إسحاق قد توبع
حدیث نمبر: 9798
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيْسَ بِالَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ ، وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَا يَسْأَلُ النَّاسَ ، وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُعْطَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہوتا جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیں اصل مسکین وہ ہوتا ہے جو لوگوں سے سوال بھی نہ کرے اور دوسروں کو بھی اس کی ضروریات کا علم نہ ہو کہ لوگ اس پر خرچ ہی کردیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9798
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1479، م: 1039
حدیث نمبر: 9799
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة . وَمُحَمَّدٌ ، عمن سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ السَّمَّانَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9799
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2559، م: 2612، له إسنادان: الأول حسن، والثاني ضعيف لإبهام الراوي عن أبي صالح
حدیث نمبر: 9800
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لِكُلِّ أَهْلِ عَمَلٍ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ، يُدْعَوْنَ بِذَلِكَ الْعَمَلِ ، وَلِأَهْلِ الصِّيَامِ بَابٌ يُدْعَوْنَ مِنْهُ ، يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ أَحَدٌ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ ، وَأَنَا أَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ يَا أَبَا بَكْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر عمل والوں کے لئے جنت کا ایک دروازہ مقرر ہے جہاں سے انہیں پکارا جائے چنانچہ روزہ داروں کے لئے بھی ایک دروزاہ ہوگا جس کا نام ریان ہے۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا کسی آدمی کو سارے دروازوں سے بھی بلایا جائے گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اور مجھے امید ہے کہ آپ بھی ان لوگوں میں سے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9800
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9801
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " نَزَلَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ ، فَأَمَرَ بِجَهَازِهِ ، فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ بِالنَّارِ ، فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ : فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک نبی نے کسی درخت کے نیچے پڑاؤ کیا انہیں کسی چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے اپنے سامان کو وہاں سے ہٹانے کا حکم دیا اور چیونٹیوں کے پورے بل کو آگ لگا دی اللہ نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ ایک ہی چیونٹی کو کیوں نہ سزا دی ؟ (صرف ایک چیونٹی نے کاٹا تھا سب نے تو نہیں )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9801
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3319، م: 2241
حدیث نمبر: 9802
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ مُعَيْقِيبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدٍ ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : لَمْ يُضْبَطْ إِسْنَادُهُ إِنَّمَا هُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْعُتْوَارِيُّ ، وَهُوَ صَاحِبُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَبُو الْهَيْثَمِ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ . وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ ، فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ ، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَصَلَاةً وَقُرْبَةً ، تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ میں تجھ سے یہ وعدہ لیتا ہوں جس کی تو مجھ سے کبھی خلاف ورزی نہیں کرے گا میں نے انسان ہونے کے ناطے جس مسلمان کو کوئی اذیت پہنچائی ہو یا اسے برا بھلا کہا ہو یا اسے کوڑے مارے ہوں یا اسے لعنت کی ہو تو اس شخص کے حق میں اسے باعث رحمت و تزکیہ اور قیامت کے دن اپنی قربت کا سبب بنا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9802
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، و إسنادان حسنان ، خ: 6361، م: 2601
حدیث نمبر: 9803
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ سَجَدَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ، فَقُلْتُ : سَجَدْتَ فِي سُورَةٍ مَا يُسْجَدُ فِيهَا ، قَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے سورت انشقاق کی تلاوت کی اور آیت سجدہ پر پہنچ کر سجدہ تلاوت کیا میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو اس سورت میں سجدہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں سجدہ کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی سجدہ نہ کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9803
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 768، م: 578
حدیث نمبر: 9804
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِذَا قَالَ الْقَارِئُ : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، فَقَالَ : مَنْ خَلْفَهُ آمِينَ ، فَوَافَقَ ذَلِكَ قَوْلَ أَهْلِ السَّمَاءِ : آمِينَ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام غیر المغضوب علیہم و لا الضالین کہہ لے تو مقتدی اس پر آمین کہے کیونکہ جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوجائے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9804
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 782، م: 410
حدیث نمبر: 9805
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَا أَذِنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِشَيْءٍ كَإِذْنِهِ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّى بِالْقُرْآن ، يَجْهَرُ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے کسی چیز کی ایسی اجازت نہیں دی جیسی اپنے نبی کو قرآن کریم ترنم کے ساتھ پڑھنے کی اجازت دی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9805
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5023، م: 792
حدیث نمبر: 9806
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ ، فَسَمِعَ قِرَاءَةَ رَجُلٍ ، فَقَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " ، قِيلَ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ ، فَقَالَ : " لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو ایک آدمی کی تلاوت کی آواز سنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا یہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ عبداللہ بن قیس (ابو موسیٰ اشعری) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں حضرت داؤدعلیہ السلام جیسا سر عطاء کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9806
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9807
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں دن میں روزانہ سو مرتبہ توبہ استغفار کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9807
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6307
حدیث نمبر: 9808
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " الْمَدِينَةُ مَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا ، أَوْ آوَى مُحْدِثًا ، أَوْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوْلَاهُ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ منورہ حرم ہے جو شخص اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے یا اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا کہے اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے قیامت کے دن اللہ اس سے کوئی فرض یا نفلی عبادت قبول نہ کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9808
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1371
حدیث نمبر: 9809
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ الْأَسْلَمِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ . فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ جَاءَ مِنْ شِقِّهِ الْأَيْمَنِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ . فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ شِقِّهِ الْأَيْسَرِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ . فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ : " انْطَلِقُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ " ، وَقَالَ : فَانْطَلَقُوا بِهِ ، فَلَمَّا مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ أَدْبَرَ وَاشْتَدَّ ، فَاسْتَقْبَلَهُ رَجُلٌ فِي يَدِهِ لَحْيُ جَمَلٍ ، فَضَرَبَهُ بِهِ ، فَذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرَارُهُ حِينَ مَسَّتْهُ الْحِجَارَةُ , قَالَ : " فَهَلَّا تَرَكْتُمُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی سے مروی ہے کہ حضرت ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے بدکاری کا گناہ سرزد ہوگیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر منہ پھیرلیا انہوں نے دائیں جانب سے آ کر یہی کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیرلیا پھر بائیں جانب سے آ کر یہی عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اعراض فرمایا لیکن جب چوتھی مرتبہ بھی انہوں نے اقرار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں لے جا کر ان پر حد رجم جاری کرو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ انہیں لے گئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ جب انہیں پتھر لگے تو وہ بھاگ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9809
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6815، م: 1691
حدیث نمبر: 9810
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ ، إِنَّ الْيَهُودَ , وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ روزہ افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہودونصاری اسے وقت مقررہ سے بہت مؤخر کردیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9810
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: « إن اليهود والنصارى يؤخرون » ، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9811
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا يَزَالُ الْبَلَاءُ بِالْمُؤْمِنِ أَوْ الْمُؤْمِنَةِ فِي جَسَدِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ ، حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان مرد و عورت پر جسمانی یا مالی یا اولاد کی طرف سے مستقل پریشانیاں آتی رہتی ہیں یہاں تک کہ جب وہ اللہ سے ملتا ہے تو اس کا گناہ بھی باقی نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9811
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9812
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مِنْبَرِي هَذَا عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا یہ منبر جنت کے دروازوں میں سے کسی دروازے پر ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9812
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1196، م: 1391
حدیث نمبر: 9813
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ يَعْنِي ابنَ عَمْرو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " غِفَارُ , وَأَسْلَمُ , وَمُزَيْنَةُ , وَمَنْ كَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ ، خَيْرٌ مِنَ الْحَيَّيْنِ الْحَلِيفَيْنِ أَسَدٍ وَغَطَفَانَ , وَهَوَازِنَ وَتَمِيمٍ ، فَإِنَّهُمْ أَهْلُ الْخَيْلِ وَالْوَبَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن قبیلہ اسلم، غفار اور مزینہ و جہینہ کا کچھ حصہ اللہ کے نزدیک بنو اسد، بنو غطفان و ہوازن اور تمیم سے بہتر ہوگا کیونکہ یہ لوگ گھوڑوں اور اونٹوں والے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9813
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3523، م: 2521
حدیث نمبر: 9814
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنِ عَمْرو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ ، وَمَنْ تَرَكَ ضِيَاعًا فَإِلَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے اور جو شخص بچے چھوڑ کر جائے ان کی پرورش میرے ذمے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9814
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6731، م: 1619
حدیث نمبر: 9815
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً مَنْ يَتَمَنَّى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , فَيُقَالُ : لَكَ ذَلِكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ إِلَّا أَنَّهُ يُلَقيَّ ، فَيُقَالُ لَهُ : كَذَا وَكَذَا ، فَيُقَالُ : لَكَ ذَلِكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ " . فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " فَيُقَالُ : لَكَ ذَلِكَ , وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں سب سے کم درجے کا آدمی وہ ہوگا جو اللہ کے سامنے اپنی تمناؤں کا اظہار کرے گا تو اس سے کہا جائے گا کہ یہ اور اتنا ہی مزید تجھے دیا جاتا ہے اور اس کے دل میں ڈالا جائے گا کہ فلاں فلاں چیز بھی مانگ اور پھر یہ جملہ کہا جائے گا جبکہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق فرمایا کہ یہ اور اس سے دس گنا مزید تجھے دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9815
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6573، م: 182
حدیث نمبر: 9816
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " احْتَجَّتِ النَّارُ وَالْجَنَّةُ ، فَقَالَتِ النَّارُ : يَدْخُلُنِي الْجَبَّارُونَ وَالْمُتَكَبِّرُونَ . وَقَالَتِ الْجَنَّةُ : يَدْخُلُنِي الضُّعَفَاءُ وَالْمَسَاكِينُ . فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلنَّارِ : أَنْتِ عَذَابِي أَنْتَقِمُ بِكِ مِمَّنْ شِئْتُ . وَقَالَ لِلْجَنَّةِ : أَنْتِ رَحْمَتِي أَرْحَمُ بِكِ مَنْ شِئْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جنت اور جہنم میں باہمی مباحثہ ہوا جنت کہنے لگی کہ مجھ میں صرف فقراء اور کم تر حیثیت کے لوگ داخل ہوں گے ؟ اور جہنم کہنے لگی کہ مجھ میں صرف جابر اور متکبر لوگ داخل ہوں گے ؟ اللہ نے جہنم سے فرمایا کہ تو میرا عذاب ہے میں جسے چاہوں گا تیرے ذریعے اسے سزا دوں گا اور جنت سے فرمایا کہ تو میری رحمت ہے میں جس پر چاہوں گا تیرے ذریعے رحم کروں گا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9816
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4849، م: 2846
حدیث نمبر: 9817
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا ، يَمُرُّ عَلَيَّ ثَالِثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ ، فَأَجِدُ مَنْ يتَقْبَلُهُ مِنِّي ، إِلَّا أَنْ أَرْصُدَهُ فِي دَيْنٍ يَكُونُ عَلَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے پاس احد پہاڑ سونے کا بن کر آجائے تو مجھے اس میں خوشی ہوگی کہ اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کردوں اور تین دن بھی مجھ پر نہ گذرنے پائیں کہ ایک دینار یا درہم بھی میرے پاس باقی نہ بچے سوائے اس چیز کے جو میں اپنے اوپر واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9817
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2389، م: 991
حدیث نمبر: 9818
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلَاثُونَ كَذَّابًا دَجَّالًا ، كُلُّهُمْ يَكْذِبُ عَلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تیس کذاب و دجال لوگ ظاہر ہوجائیں۔ جن میں سے ہر ایک اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9818
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3609، م: 157
حدیث نمبر: 9819
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بَاعًا بِبَاعٍ ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ ، وَشِبْرًا بِشِبْرٍ ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا فِي جُحْرِ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمْ مَعَهُمْ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْيَهُودُ , وَالنَّصَارَى ؟ ، قَالَ : " فَمَنْ إِذًا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم گزشتہ امتوں کی پورے پورے ہاتھ گز اور بالشت کے تناسب سے ضرور پیروی کروگے حتیٰ کہ اگر وہ لوگ کسی گوہ کے سوراخ اور بل میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی ایسا ہی کروگے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اس سے یہودونصاریٰ مراد ہیں ؟ فرمایا تو پھر اور کون ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9819
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7319
حدیث نمبر: 9820
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَمَا أَنَا عَلَى بِئْرٍ أَسْقِي ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ ، وَفِيهِمَا ضَعْفٌ ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ فَنَزَعَ حَتَّى اسْتَحَالَتْ فِي يَدِهِ غَرْبًا ، وَضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا يَفْرِي فَرْيَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ خواب میں میں نے دیکھا کہ میں ایک حوض پر ڈول کھینچ کر لوگوں کو پانی پلا رہا ہوں پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور مجھے راحت پہنچانے کے لئے میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا اور ایک دو ڈول کھینچے لیکن اس میں کچھ کمزروی کے آثار تھے اللہ ان پر رحم فرمائے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے انہوں نے وہ ڈول لیا اور وہ ڈول ان کے ہاتھ میں آ کر بڑا ڈول بن گیا لوگ اس سے سیراب ہوگئے اور میں نے عمر سے اچھا ڈول کھینچنے والا کوئی عبقری آدمی نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9820
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3664، م: 2392
حدیث نمبر: 9821
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ يَهُودِيٌّ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ . قَالَ : فَلَطَمَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : تَقُولُ هَذَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا . قَالَ : فَأَتَى الْيَهُودِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ إِلا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ سورة الزمر آية 68 ، قَالَ : " فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ، فَإِذَا مُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ فَلَا أَدْرِي أَرَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلِي ، أَمْ كَانَ مِمَّنْ اسْتَثْنَى اللَّهُ ، وَمَنْ قَالَ أَنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى ، فَقَدْ كَذَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ (ایک مرتبہ دو آدمیوں میں " جن میں سے ایک مسلمان اور دوسرا یہودی تھا " تلخ کلامی ہوگئی مسلمان نے اپنی بات پر قسم کھاتے ہوئے کہا کہ اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہان والوں پر برگزیدہ کیا اور) یہودی نے قسم کھاتے ہوئے کہہ دیا کہ اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہان والوں پر برگزیدہ کیا اس پر مسلمان کو غصہ آیا اور اس یہودی کو ایک طمانچہ دے مارا اور اس سے کہا کہ تو یہ بات کہہ رہا ہے جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہیں اس یہودی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس دن صور پھونکا جائے گا تو زمین و آسمان کی تمام مخلوقات بیہوش ہوجائیں گی سوائے اس کے جسے اللہ چاہے پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ دیکھتے بھالتے کھڑے ہوجائیں گے سب سے پہلے مجھے افاقہ ہوگا میں اس وقت دیکھوں گا کہ موسیٰ نے عرش کے پائے کو پکڑ رکھا ہے مجھے معلوم نہیں کہ وہ بھی بیہوش ہونے والوں میں سے ہوں گے کہ انہیں مجھ سے قبل افاقہ ہوگیا یا ان لوگوں میں سے ہوں گے جہنیں اللہ نے مستثنیٰ قرار دیا ہے اور جو شخص یہ کہے کہ میں حضرت یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں وہ جھوٹ بولتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9821
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2411، م: 2373
حدیث نمبر: 9822
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِذَا أَحَبَّ الْعَبْدُ لِقَائِي أَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ ، وَإِذَا كَرِهَ الْعَبْدُ لِقَائِي كَرِهْتُ لِقَاءَهُ " . قَالَ : فَقِيلَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : مَا مِنَّا مِنْ أَحَدٍ ، إِلَّا وَهُوَ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَيَفْظَعُ بِهِ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنَّهُ إِذَا كَانَ ذَلِكَ كَشَفَ له .
مولانا ظفر اقبال
اور ارشاد باری تعالیٰ ہے جب میرا بندہ مجھ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے تو میں بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہوں اور جب وہ مجھ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے کسی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہم میں سے تو ہر شخص موت کو ناپسند کرتا اور اس سے گھبراتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا اس سے مراد وہ وقت ہے جب پردے ہٹا دیئے جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9822
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7504، م: 2685
حدیث نمبر: 9823
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ ، بِنِصْفِ يَوْمٍ خَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فقراء مومنین مالدار مسلمانوں کی نسبت پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9823
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9824
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ يعنِي ابْنِ عَمْرو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ خَلَقَ كَخَلْقِي ، فَلْيَخْلُقُوا بَعُوضَةً , أَوْ لِيَخْلُقُوا ذَرَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو میری طرح تخلیق کرنے لگے ایسے لوگوں کو چاہئے کہ ایک ذرہ یا مچھر پیدا کرکے دکھائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9824
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7559، م: 2111
حدیث نمبر: 9825
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ يعْنِي ابنَ حَسَّان ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا لَمْ تَجِدُوا إِلَّا مَرَابِضَ الْغَنَمِ ، وَمَعَاطِنَ الْإِبِلِ ، فَصَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَلَا تُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الْإِبِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں نماز پڑھنے کے لئے بکریوں اور اونٹوں کے باڑوں کے علاوہ کوئی جگہ نہ ملے تو بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لینا اونٹوں کے باڑے میں مت پڑھنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9825
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9826
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ " ، فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَنَادَاهُمْ : " يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ ، أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا " . فَقَالُوا : قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ . قَالَ لهم رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَاكَ أُرِيدُ " . ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ , فَقَالَ : " اعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَرْضِ ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ ، وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمایا یہودیوں کے پاس چلو چنانچہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے اور بیت المدراس " (یہودیوں کے ایک گرجے) میں پہنچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں پہنچ کر انہیں تین مرتبہ دعوت دی اے گروہ یہود ! اسلام قبول کرلو، سلامتی پا جاؤگے اور تینوں مرتبہ انہوں نے یہی جواب دیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اپنا پیغام پہنچا (کر اپناحق ادا کر) دیا آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو ! کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور میں تمہیں اس علاقے سے جلا وطن کرنا چاہتا ہوں اس لئے تم میں سے جس کے پاس کوئی مال ہو وہ اسے پیچ لے ورنہ یاد رکھو ! کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9826
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3167، م: 1765
حدیث نمبر: 9827
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا فُتِحَتْ خَيْبَرُ ، أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ فِيهَا سُمٌّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " اجْمَعُوا لِي مَنْ كَانَ هَاهُنَا مِنَ الْيَهُودِ " . فَجَمَعُوا لَهُ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي سَائِلُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَهَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْهُ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ , يَا أَبَا الْقَاسِمِ . فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَبُوكُمْ ؟ " . قَالُوا : أَبُونَا فُلَانٌ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " كَذَبْتُمْ ، أَبُوكُمْ فُلَانٌ " . قَالُوا : صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ . قَالَ لَهُمْ : " هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ , يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، وَإِنْ كَذَبْنَاكَ عَرَفْتَ كَذِبَنَا كَمَا عَرَفْتَهُ فِي أَبِينَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ أَهْلُ النَّارِ ؟ " . قَالُوا : نَكُونُ فِيهَا يَسِيرًا ، ثُمَّ تَخْلُفُونَنَا فِيهَا . فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا نَخْلُفُكُمْ فِيهَا أَبَدًا " ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ : " هَلْ أَنْتُمْ صَادِقِيَّ عَنْ شَيْءٍ سَأَلْتُكُمْ عَنْهُ ؟ " . فَقَالُوا : نَعَمْ , يَا أَبَا الْقَاسِمِ . فَقَالَ : " هَلْ جَعَلْتُمْ فِي هَذِهِ الشَّاةِ سُمًّا ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " فَمَا حَمَلَكُمْ عَلَى ذَلِكَ ؟ " . قَالُوا : أَرَدْنَا إِنْ كُنْتَ كَاذِبًا نَسْتَرِيحُ مِنْكَ ، وَإِنْ كُنْتَ نَبِيًّا لَمْ تَضُرَّكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خیبر فتح ہوگیا تو (یہودیوں کی طرف سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بکری ہدیہ کے طور پر بھیجی گئی جو در حقیقت زہر آلود تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چل گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں جتنے یہودی ہیں ان سب کو جمع کرو چنانچہ وہ لوگ اکٹھے ہوگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں کیا تم سچ بولوگے ؟ انہوں نے کہا جی اے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا باوا کون ہے ؟ انہوں نے کہا فلاں آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جھوٹ بولتے ہو تمہارا باوا فلاں آدمی ہے انہوں نے کہا کہ آپ سچ کہتے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں تم سے کچھ پوچھوں تو کیا تم اس کا جواب صحیح دوگے ؟ انہوں نے اقرار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے جھوٹ بولا تو آپ کو خود ہی پتہ چل جائے گا جیسے ہمارے باوا کے بارے آپ کو پتہ چل گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنمی کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ کچھ عرصے تک تو ہم اس میں رہیں گے اس کے بعد آپ کی امت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہم کبھی بھی تمہارے پیچھے جہنم میں نہیں جائیں گے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں تم سے پوچھوں تو کیا تم اس کا صحیح جواب دوگے ؟ انہوں نے اقرار کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے اس بکری میں زہر ملایا تھا ؟ انہوں نے اقرار کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم نے ایسا کیوں کیا ؟ انہوں نے کہا کہ ہم یہ چاہتے تھے کہ اگر آپ (معاذاللہ) جھوٹے ہیں تو ہمیں آپ سے چھٹکارا مل جائے گا اور اگر آپ سچے نبی ہیں تو یہ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9827
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3169
حدیث نمبر: 9828
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلَّا قَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلَهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُهُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ إِلَيَّ ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَابِعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کو کچھ نہ کچھ معجزات ضرور دئیے گئے جن پر لوگ ایمان لاتے رہے اور مجھے جو معجزہ دیا گیا ہے وہ اللہ کی وحی ہے جو وہ میری طرف بھیجتا ہے اور مجھے امید ہے کہ تمام انبیاء سے زیادہ قیامت کے دن میرے پیروکار ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9828
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4981، م: 152
حدیث نمبر: 9829
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَخِيهِ عَبَّادِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْأَرْبَعِ : مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ میں چار چیزوں سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے ایسے دل سے جو خشیت اور خشوع سے خالی ہو ایسے نفس سے جو کبھی سیراب نہ ہو اور ایسی دعاء سے جو قبول نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9829
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، عباد لم يرو عنه غير أخيه، وذكره ابن حبان والعجلي وأبن خلفون فى جملة الثقات