حدیث نمبر: 9750
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الزَّبِيبِ ، وَالتَّمْرِ ، وَالْبُسْرِ ، وَالتَّمْرِ ، وَقَالَ : " يُنْبَذُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کشمش اور کھجور کچی اور پکی کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بنائی جاسکتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9750
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، م: 1989
حدیث نمبر: 9751
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ ، عَنْ زُبَيْبَةِ ، ابْنَةِ النُّعْمَانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْأَوْعِيَةِ ، إِلَّا وِعَاءً يُوكَأُ رَأْسُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا ہے سوائے ان برتنوں کے جن کا منہ دھاگے وغیرہ سے باندھا گیا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9751
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1993، وهذا إسناد ضعيف لجهالة زيينة
حدیث نمبر: 9752
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ الضَّبِّيُّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " ثَلَاثٌ إِذَا خَرَجْنَ لَمْ يَنْفَعْ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ ، أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا : طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَالدُّخَانُ ، وَدَابَّةُ الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں کہ جب ان کا خروج ہوجائے تو پہلے سے ایمان نہ لانے والے یا اپنے ایمان میں نیکی نہ کمانے والے کسی نفس کو اس کا اس وقت ایمان لانا کوئی فائدہ نہ دے گا۔ (١) مغرب کی جانب سے طلوع آفتاب (٢) دھواں (٣) دابۃ الارض۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9752
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 158
حدیث نمبر: 9753
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا رزق اتنا مقرر فرما کہ گذارا ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9753
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6460، م: 1055
حدیث نمبر: 9754
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَرِيضًا كَذَا قَالَ كَمَا أُنْزِلَ ، فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص قرآن کو مضبوطی کے ساتھ اسی طرح پڑھنا چاہتا ہے جیسے وہ نازل ہوا ہے تو اسے چاہئے کہ اس کی تلاوت ابن ام عبد (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے طرز پر کیا کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9754
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف جرير
حدیث نمبر: 9755
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " هُوَ أَحَقُّ بِمَجْلِسِهِ إِذَا رَجَعَ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے تو واپس آنے کے بعد وہی اس کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9755
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2179
حدیث نمبر: 9756
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّوَاءِ الْخَبِيثِ ، يَعْنِي السُّمَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام ادویات (زہر) کے استعمال سے منع فرمایا ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9756
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9757
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ ثُوَيْبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَشْتَكِي ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِهِ : يَعُودُنِي ، فَقَالَ : " أَلَا أُعَلِّمُكَ " ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : " أَلَا أَرْقِيكَ بِرُقْيَةٍ رَقَانِي بِهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ؟ " ، قُلْتُ : بَلَى ، بِأَبِي وَأُمِّي . قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ أَرْقِيكَ ، وَاللَّهُ يَشْفِيكَ مِنْ كُلِّ دَاءٍ يُؤْذِيكَ ، وَمِنْ شَرِّ النَّفَّاثَاتِ فِي الْعُقَدِ ، وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ " . وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : " مِنْ كُلِّ دَاءٍ فِيكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بیمار ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لئے تشریف لائے اور فرمایا کیا میں تمہیں جھاڑ پھونک کے ایسے کلمات نہ سکھا دوں جن سے جبرائیل علیہ السلام نے مجھے دم کیا تھا ؟ میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیوں نہیں فرمایا وہ کلمات یہ ہیں اللہ کے نام سے میں تمہیں جھاڑتا ہوں اللہ تمہیں ہر اس بیماری سے جو تمہیں تکلیف پہنچائے گرہوں میں پھونکیں مارنے والیوں کے شر سے اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرنے پر آجائے شفاء عطاء فرمائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9757
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم ولجهالة زیاد
حدیث نمبر: 9758
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الضُّحَى قَطُّ ، إِلَّا مَرَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سوائے ایک مرتبہ کے کبھی چاشت کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9758
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 9759
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا اے اللہ میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9759
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 9760
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَوْشَبُ بْنُ عَقِيلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَهْدِيٌّ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فِي بَيْتِهِ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ ؟ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ صَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے گھر ان کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے میدان عرفات میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا مسئلہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدان عرفات میں یوم عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9760
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضيف لجهالة مهدي
حدیث نمبر: 9761
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هَارُونَ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " فِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ ، وَمَا لَمْ يُسْمِعْنَا لَمْ نُسْمِعْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر نماز میں ہی قرأت کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرأت سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قرأت فرمائی ہے اس میں ہم بھی سراً قراءت کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9761
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 772، م: 396
حدیث نمبر: 9762
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذُبَابٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشِعْبٍ فِيهِ عَيْنٌ عَذْبَةٌ ، قَالَ : فَأَعْجَبَتْهُ ، يَعْنِي طِيبَ الشِّعْبِ ، فَقَالَ : لَوْ أَقَمْتُ هَاهُنَا وَخَلَوْتُ ، ثُمَّ قَالَ : لَا ، حَتَّى أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَسَأَلَهُ فَقَالَ : " مُقَامُ أَحَدِكُمْ يَعْنِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ عِبَادَةِ أَحَدِكُمْ فِي أَهْلِهِ سِتِّينَ سَنَةً ، أَمَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَتَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ؟ ، جَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ ، وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کا کسی ایسی جگہ سے گذر ہوا جہاں پر میٹھے پانی کا چشمہ تھا اور انہیں وہاں کی آب و ہوا بھی اچھی لگی انہوں نے سوچا کہ میں یہیں رہائش اختیار کرکے خلوت گزیں ہوجاتا ہوں پھر انہوں نے سوچا کہ نہیں پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوں گا چنانچہ انہوں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی کا جہاد فی سبیل اللہ میں شریک ہونا اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہتے ہوئے ساٹھ سال تک مسلسل عبادت کرنے سے کہیں زیادہ بہتر ہے کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں بخش دے اور تم جنت میں داخل ہوجاؤ ؟ اللہ کی راہ میں جہاد کرو جو شخص اونٹنی کے تھن میں دودھ اترنے کی مقدار کے برابر بھی اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا ہے اس کے لئے جنت واجب ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9762
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9763
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " كُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ، لَا تَعَادَوْا وَلَا تَبَاغَضُوا ؟ ، سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بندو ! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہا کرو آپس میں دشمنی اور بغض نہ رکھا کرو راہ راست پر رہو صراط مستقیم کے قریب رہو اور خوشخبری قبول کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9763
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9764
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ صَالِحٍ يَعْنِي مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي مَجْلِسٍ فَتَفَرَّقُوا ، وَلَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَيُصَلُّوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَّا كَانَ مَجْلِسُهُمْ تِرَةً عَلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ کسی جگہ پر مجلس کریں لیکن اس میں اللہ کا ذکر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دورد نہ بھیجیں اور جدا ہوجائیں وہ ان کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9764
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9765
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَجَّ بِنِسَائِهِ , قَالَ : " إِنَّمَا هِيَ هَذِهِ الْحَجَّةُ ، ثُمَّ الْزَمْنَ ظُهُورَ الْحُصْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی ازواج مطہرات کے ساتھ حج کیا تو فرمایا کہ یہ حج تو ہوگیا اس کے بعد تمہیں گھروں میں بیٹھنا ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9765
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9766
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَرِيكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " نِعْمَ الْإِبِلُ الثَّلَاثُونَ يُحْمَلُ عَلَى نَجِيبِهَا ، وَتُعِيرُ أَدَاتَهَا ، وَتُمْنَحُ غَزِيرَتُهَا ، وَيُجْبِيهَا يَوْمَ وِرْدِهَا فِي أَعْطَانِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین اونٹ (تعداد کے اعتبار سے) تیس ہوتے ہیں جن میں سے عمدہ اونٹ پر آدمی سامان لادتا ہے کم درجے والے کو عاریت پردے دیتا ہے دودھ سے لبریز کو ہدیہ کردیتا ہے اور جب وہ باڑے میں آتے ہیں تو انہیں دوہ لیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9766
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9767
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ شَيْخٍ , سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُخَيَّرُ الرَّجُلُ فِيهِ بَيْنَ الْعَجْزِ وَالْفُجُورِ ، فَلْيَخْتَرْ الْعَجْزَ عَلَى الْفُجُورِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں انسان کو لاچاری اور فسق و فجور میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کا موقع دیا جائے گا جو شخص وہ زمانہ پائے اسے چاہئے کہ لاچاری کو فسق و فجور پر ترجیح دے کر اسی کو اختیار کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9767
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة الراوي المبهم
حدیث نمبر: 9768
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ ، قَالَ : " أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ شَحِيحٌ ، أَوْ صَحِيحٌ تَأْمُلُ الْعَيْشَ ، وَتَخْشَى الْفَقْرَ ، وَلَا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا كَانَتْ بِالْحُلْقُومِ قُلْتَ : لِفُلَانٍ كَذَا ، وَلِفُلَانٍ كَذَا ، وَقَدْ كَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس موقع کے صدقہ کا ثواب سب سے زیادہ ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ تم تندرستی کی حالت میں صدقہ کرو جبکہ مال کی حرص تمہارے اندر موجود ہو۔ تمہیں فقروفاقہ کا اندیشہ ہو۔ اور تمہیں اپنی زندگی باقی رہنے کی امید ہو اس وقت سے زیادہ صدقہ خیرات میں تاخیر نہ کرو کہ جب روح حلق میں پہنچ جائے تو تم یہ کہنے لگو کہ فلاں کو اتنا دے دیا جائے اور فلاں کو اتنا دے دیا جائے حالانکہ وہ تو فلاں (ورثاء) کا ہوچکا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9768
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1419، م: 1032
حدیث نمبر: 9769
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي عِكْرِمَةَ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَضَعَ خَشَبَاتِهِ عَلَى جِدَارِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار پر لکڑی (یا شہتیر) رکھنے سے منع نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9769
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5627، وهذا إسناد ضعيف لضعف منصور، ولجهالة أبي عكرمة
حدیث نمبر: 9770
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمَدِينَةُ مَنْ صَبَرَ عَلَى شِدَّتِهَا وَلَأْوَائِهَا ، كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بھی مدینہ منورہ کی مشقتوں اور سختیوں پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی بھی دوں گا اور سفارش بھی کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9770
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9771
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا ، فَأَرَادَتْ أَنْ تَأْخُذَ وَلَدَهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " اسْتَهِمَا فِيهِ " ، فَقَالَ الرَّجُلُ : مَنْ يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ ابْنِي ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم لِلِابْنِ : " اخْتَرْ أَيَّهُمَا شِئْتَ " . فَاخْتَارَ أُمَّهُ فَذَهَبَتْ بِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت جسے اس کے شوہر نے طلاق دے دی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی وہ اپنا بچہ لینا چاہتی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرعہ اندازی کرلو بچے کا باپ کہنے لگا کہ میرے اور میرے بچے کے درمیان کون حائل ہوسکتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے کو اختیار دیتے ہوئے فرمایا اے لڑکے ان میں سے جس کے ساتھ جانے کا ارادہ ہو اسے اختیار کرلے اس نے اپنی ماں کو ترجیح دی اور وہ اسے اپنے ساتھ لے گئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9771
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1378
حدیث نمبر: 9772
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ إِسْرَائِيلُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُمَا شَهِدَا لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " مَا قَعَدَ قَوْمٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا حَفَّتْ بِهِمْ الْمَلَائِكَةُ ، وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ ، وَتَغَشَّتْهُمْ الرَّحْمَةُ ، وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے شہادۃً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کی جو جماعت بھی اللہ کا ذکر کرنے کے لئے بیٹھتی ہے فرشتے اسے گھیر لیتے ہیں ان پر سکینہ نازل ہوتا ہے رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ ان کا تذکرہ ملأ اعلیٰ میں کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9772
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6408، م: 2689
حدیث نمبر: 9773
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ ، أَنَّهُ حَدَّثَ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً ، كَانَ لَهُ بِعِتْقِ كُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوٌ مِنَ النَّارِ " . حَتَّى ذَكَرَ الْفَرْجَ ، قَالَ : فَدَعَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ غُلَامًا لَهُ ، فَأَعْتَقَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے، اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد فرما دیں گے حتی کہ ہاتھ کے بدلے میں ہاتھ کو اور پاؤں کے بدلے میں پاؤں کو اور شرمگاہ کے بدلے میں شرمگاہ کو۔ یہ حدیث سن کر علی بن حسین رحمہ اللہ نے اپنے غلام کو بلا کر اسے آزاد کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9773
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2517، م: 1509، وقد سقط من هذا الإسناد إسماعيل بن أبي حكيم
حدیث نمبر: 9774
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِذَا قَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ ، ثُمَّ رَجَعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے تو واپس آنے کے بعد اس جگہ کا سب سے زیادہ حقدار وہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9774
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2179
حدیث نمبر: 9775
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنِ الطُّفَاوِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ ، وَلَا الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ ، إِلَّا الْوَلَدُ وَالْوَالِدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت دوسری عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے اسی طرح کوئی مرد دوسرے مرد کے ساتھ ایسا نہ کرے سوائے باپ بیٹے کے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9775
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: « إلا الولد والوالد » ، وهذا إسناد ضعيف الجهالة الطفاوي
حدیث نمبر: 9776
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَكْوَانَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ : جَمْعِ الْمَالِ ، وَطُولِ الْحَيَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بوڑھے آدمی میں دو چیزوں کی محبت جوان ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9776
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6420، م: 1046
حدیث نمبر: 9777
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا ، فَلَمَّا سَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی نماز کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سہو ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9777
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 482، م: 573
حدیث نمبر: 9778
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ فُلَانًا يُصَلِّي بِاللَّيْلِ ، فَإِذَا أَصْبَحَ سَرَقَ . قَالَ : " إِنَّهُ سَيَنْهَاهُ مَا يَقُولُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ فلاں آدمی رات کو نماز پڑھتا ہے اور دن کو چوری کرتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب اس کی نماز و تلاوت اسے اس کام سے روک دے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9778
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9779
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَامِلًا الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ ، وَلُعَابُهُ يَسِيلُ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر اٹھا رکھا ہے اور ان کا لعاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بہہ رہا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9779
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9780
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ، فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ ، وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَاتَّبِعُوهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ أَمْرٍ فَاجْتَنِبُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک کسی مسئلے کو بیان کرنے میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9780
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7288، م: 1337
حدیث نمبر: 9781
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ لَهُ سَكْتَةٌ فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ کہنے کے بعد تکبیر اور قراءۃ کے درمیان کچھ دیر کے لئے سکوت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9781
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 744، م: 598
حدیث نمبر: 9782
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " عَجِبَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قَوْمٍ يُقَادُونَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي السَّلَاسِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہمارے رب کو اس قوم پر تعجب ہوتا ہے جسے زنجیروں میں جکڑ کر جنت کی طرف لے جایا جاتا ہے۔ (ان کے اعمال انہیں جہنم کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی نظر کرم انہیں جنت کی طرف لے جا رہی ہوتی ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9782
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبي صالح
حدیث نمبر: 9783
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ ، وَإِمَارَةِ الصِّبْيَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ستر کی دہائی اور بچوں کی حکومت سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9783
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3010
حدیث نمبر: 9784
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ الطُّفَيْلُ وَأَصْحَابُهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : إِنَّ دَوْسًا قَدْ اسْتَعْصَتْ . قَالَ : " اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا ، وَأْتِ بِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ قبیلہ دوس کے لوگ نافرمانی اور انکار پر ڈٹے ہوئے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعاء فرمائی کہ اے اللہ ! قبیلہ دوس کو ہدایت عطا فرما اور انہیں یہاں پہنچا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9784
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4392، م: 2524
حدیث نمبر: 9785
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَنْصِبُ وَجْهَهُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي مَسْأَلَةٍ ، إِلَّا أَعْطَاهَا إِيَّاهُ ، إِمَّا أَنْ يُعَجِّلَهَا لَهُ ، وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان اپنا چہرہ اللہ کے سامنے گاڑ کر کسی چیز کا سوال کرتا ہے اللہ اسے وہ چیز ضرور عطاء فرماتا ہے خواہ جلدی عطاء کرے یا اس کے لئے ذخیرہ کر کے رکھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9785
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عم عبيدالله
حدیث نمبر: 9786
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ ، فَلَمَّا كَبَّرَ انْصَرَفَ ، وَأَوْمَأَ إِلَيْهِمْ ، أَيْ كَمَا أَنْتُمْ ثُمَّ خَرَجَ فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ جَاءَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ فَصَلَّى بِهِمْ ، فَلَمَّا صَلَّى ، قَالَ : " إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا ، فَنَسِيتُ أَنْ أَغْتَسِلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کی اقامت ہونے لگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور اپنے مقام پر کھڑے ہوگئے جب تکبیر ہونے لگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو ہاتھ کے اشارے سے فرمایا کہ تم لوگ یہیں ٹھہرو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے جب واپس آئے تو سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ اور نماز سے فارغ ہو کر فرمایا مجھ پر غسل واجب تھا لیکن میں غسل کرنا بھول گیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9786
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 640، م: 605
حدیث نمبر: 9787
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ . ح وَرَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَنْعَتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " كَانَ شَبْحَ الذِّرَاعَيْنِ ، أَهْدَبَ أَشْفَارِ الْعَيْنَيْنِ ، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ ، يُقْبِلُ إِذَا أَقْبَلَ جَمِيعًا ، وَيُدْبِرُ إِذَا أَدْبَرَ جَمِيعًا " . قَالَ رَوْحٌ فِي حَدِيثِهِ : بِأَبِي وَأُمِّي ، " لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا ، وَلَا مُتَفَحِّشًا ، وَلَا سَخَّابًا بِالْأَسْوَاقِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بھرے ہوئے آنکھوں کی پلکیں لمبی اور گھنی اور دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری طرح متوجہ ہوتے اور پوری طرح رخ پھیرتے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں وہ فحش گو یا بتکلف بےحیاء نہ بنتے تھے اور نہ ہی بازاروں میں شور مچاتے پھرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9787
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9788
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ . ح وَهَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي أُمِّ الْقُرْآنِ : " هِيَ أُمُّ الْقُرْآنِ ، وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي ، وَهِيَ الْقُرْآنُ الْعَظِيمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت فاتحہ کے بارے میں فرمایا یہی ام القرآن ہے یہی سبع مثانی اور یہی قرآن عظیم ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9788
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4704
حدیث نمبر: 9789
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَهَاشِمٌ , قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ هَاشِمٌ فِي حَدِيثِهِ : عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَوْلَا أَمْرَانِ لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ مَمْلُوكًا ، وَذَلِكَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا خَلَقَ اللَّهُ عَبْدًا يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ ، وَحَقَّ سَيِّدِهِ ، إِلَّا وَفَّاهُ اللَّهُ أَجْرَهُ مَرَّتَيْنِ " . قَالَ يَزِيدُ : إِنَّ الْمَمْلُوكَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَصْنَعَ فِي مَالِهِ شَيْئًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی غلام اللہ اور اپنے آقا دونوں کے حقوق کو ادا کرتا ہے تو اسے ہر عمل پر دہرا اجر ملتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9789
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2549، م: 1666