حدیث نمبر: 9710
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حیاء بھی ایمان کا ایک اہم شعبہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9710
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ: 9 ، م: 35
حدیث نمبر: 9711
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّنَا ، فَيَجْهَرُ وَيُخَافِتُ ، فَجَهَرْنَا فِيمَا جَهَرَ ، وَخَافَتْنَا فِيمَا خَافَتَ ، وَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : " لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز میں ہماری امامت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے وہ کبھی جہری قرأت فرماتے تھے اور کبھی سری۔ لہٰذا ہم بھی ان نمازوں میں جہر کرتے ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہر کیا اور سری قرأت کرتے ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سری قرأت فرمائی ہے اور میں نے انہیں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرأت کے بغیر کوئی نماز نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9711
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 772، م: 35، وهذا إسناد ضعيف، ابن أبي ليلى سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 9712
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ فِي النَّجْمِ ، إِلَّا رَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ ، أَرَادَا بِذَلِكَ الشُّهْرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سورت نجم کی آیت سجدہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمانوں (بلکہ تمام مشرکین) نے سجدہ کیا سوائے (مشرکین میں سے) قریش کے دو آدمیوں کے جو اپنی شہرت کروانا چاہتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9712
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 9713
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَيَعْلَى ، وَمُحَمَّدٌ ابْنَا عُبَيْدٍ ، قَالُوا : أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ ، اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي يَقُولُ : يَا وَيْلَهُ , أُمِرَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ فَلَهُ الْجَنَّةُ ، وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَعَصَيْتُ فَلِي النَّارُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب انسان آیت سجدہ پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا پیچھے ہٹ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہائے افسوس ابن آدم کو سجدہ کا حکم ملا اس نے سجدہ کرلیا اور اس کے لئے جنت ہے اور مجھے سجدہ کا حکم ملا تو میں نہ مانا لہٰذا میرے لئے جہنم ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9713
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 81
حدیث نمبر: 9714
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى مَا شَاءَ اللَّهُ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي ، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، يَدَعُ طَعَامَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي ، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ : فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، الصَّوْمُ جُنَّةٌ , الصَّوْمُ جُنَّةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن آدم کی ہر نیکی کو اس کے لئے دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے سوائے روزے کے (جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار میری وجہ سے اپنی خواہشات اور کھانے کو ترک کرتا ہے روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تب بھی وہ خوش ہوگا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔ روزہ ڈھال ہے روزہ ڈھال ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9714
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 9715
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، وَأَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ , وَالْأَعْمَشُ يَرْفَعُهُ : " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ ، فَلَا يَمْشِي فِي النَّعْلِ الْوَاحِدَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ صرف ایک جوتی پہن کر نہ چلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9715
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2098
حدیث نمبر: 9716
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ الصُّبَحِيُّ ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَافَظَ عَلَى شُفْعَةِ الضُّحَى ، غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص چاشت کی دو رکعتوں کی پابندی کرلیا کرے اس کے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9716
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف النهاس، وشداد لم يسمع من أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 9717
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلِيلُ بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يُوتِرْ ، فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9717
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الخليل ، ومعاوية لم يسمع من أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 9718
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ ، إِنَّمَا الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالداری سازوسامان کی کثرت سے نہیں ہوتی اصل مالداری تو دل کی مالداری ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9718
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6446، م: 1051
حدیث نمبر: 9719
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَلِيحٍ الْمَدَنِيُّ ، سَمِعَهُ مِنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَدْعُ اللَّهَ ، غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ سے نہیں مانگتا اللہ اس سے ناراض ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9719
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبي صالح
حدیث نمبر: 9720
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ : عَلَى جَمْعِ الْمَالِ ، وَطُولِ الْحَيَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بوڑھے آدمی میں دو چیزوں کی محبت جوان ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9720
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6420، م: 1046
حدیث نمبر: 9721
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي طَعَامِ أَحَدِكُمْ أَوْ شَرَابِهِ فَلْيَغْمِسْهُ ، إِذَا أَخْرَجَهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً ، وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً ، وَإِنَّهُ يُقَدِّمُ الدَّاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گرجائے تو وہ یاد رکھے کہ مکھی کے ایک پر میں شفاء اور دوسرے پر میں بیماری ہوتی ہے اس لئے اسے چاہئے کہ اس مکھی کو اس میں مکمل ڈبو دے (پھر اسے استعمال کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9721
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5782، وهذا إسناد ضعيف لضعف إبراهيم، وقد توبع
حدیث نمبر: 9722
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا النَّهَّاسُ ، عَنْ شَيْخٍ بِمَكَّةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " فِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ ، فِرَارَكَ مِنَ الْأَسَدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کوڑھی سے ایسے بھاگا کرو جیسے شیر کو دیکھ کر بھاگتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9722
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف النھَۤاس، ولجهالة الراوي عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 9723
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ بَعْجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ أَفْضَلُ النَّاسِ فِيهِ بِمَنْزِلَةِ رَجُلٍ أَخَذَ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، كُلَّمَا سَمِعَ بِهَيْعَةٍ اسْتَوَى عَلَى مَتْنِهِ ، ثُمَّ طَلَبَ الْمَوْتَ مَظَانَّهُ ، وَرَجُلٌ فِي شِعْبٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ يُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَيَدَعُ النَّاسَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک زمانہ ایسا ضرور آئے گا جس میں مقام و مرتبہ کے اعتبار سے سب سے زیادہ افضل وہ آدمی ہوگا جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑ کر اللہ کے راستے میں نکلا ہو جہاں سے کوئی پکار سنے اس کی پیٹھ پر سوار ہو اور موت کی تلاش میں نکل کھڑا ہو یا وہ آدمی جو عوام ہی میں رہتا ہو نماز قائم کرتا ہو زکوٰۃ ادا کرتا ہو اور خیر کے علاوہ لوگوں کو چھوڑے رکھے (کوئی نقصان نہ پہنچائے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9723
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1889
حدیث نمبر: 9724
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ سَفَرًا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي . قَالَ : " أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ " ، فَلَمَّا مَضَى قَالَ : " اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الْأَرْضَ ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا وہ سفر پر جانا چاہ رہا تھا کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی وصیت فرما دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی اور ہر بلندی پر تکبیر کہنے کی وصیت کرتا ہوں جب اس شخص نے واپسی کے لئے پشت پھیری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ اس کے لئے زمین کو لپیٹ دے اور سفر کو آسان فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9724
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9725
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدَانُ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ سَعْدٍ أَبِي مُجَاهِدٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ أَبِي مُدِلَّةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْإِمَامُ الْعَادِلُ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عادل حکمران کی دعاء کبھی رد نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9725
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، أبو مدۤلة مجهول
حدیث نمبر: 9726
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ وَهُوَ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا لَقِيتُمْ الْيَهُودَ فِي الطَّرِيقِ فَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهَا ، وَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ " ، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ : " الْمُشْرِكِينَ بِالطَّرِيقِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب یہودیوں سے راستے میں ملو تو سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9726
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2167
حدیث نمبر: 9727
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ ثُمَّ خَرَجَتْ إِلَى الْمَسْجِدِ لِيُوجَدَ رِيحُهَا لَمْ يُقْبَلْ مِنْهَا صَلَاةٌ ، حَتَّى تَغْتَسِلَ اغْتِسَالَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا جو عورت اپنے گھر سے خوشبو لگا کر مسجد کے ارادے سے نکلے اللہ اس کی نماز کو قبول نہیں کرتے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس جا کر اسے اس طرح دھوئے جیسے ناپاکی کی حالت میں غسل کیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9727
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9728
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ الْمَعْنَى : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخَذَ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ , فَلَاكَهَا فِي فِيهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كِخْ كِخْ ، فَإِنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے صدقہ کی کھجور لے کر منہ میں ڈال لی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے نکالو کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ ہم آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9728
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1485، م: 1069
حدیث نمبر: 9729
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ لِعَبْدِهِ : عَبْدِي ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ : فَتَايَ ، وَلَا يَقُلْ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ : رَبِّي ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ : سَيِّدِي " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے غلام کے متعلق یہ نہ کہے عبدی بلکہ یوں کہے میرا جوان اور تم میں سے کوئی شخص اپنے آقا کو میرا رب نہ کہے بلکہ میرا سردار میرا آقا کہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9729
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2552، م: 2249
حدیث نمبر: 9730
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فِي الْمَسْجِدِ ، فَلَيْسَ لَهُ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نماز جنازہ مسجد میں پڑھے اس کے لئے کوئی ثواب نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9730
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، صالح مختلط
حدیث نمبر: 9731
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنَازَةٍ ، فَرَأَى عُمَرُ امْرَأَةً فَصَاحَ بِهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " دَعْهَا يَا عُمَرُ فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ ، وَالنَّفْسَ مُصَابَةٌ ، وَالْعَهْدَ حَدِيثٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی جنازے میں تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو دیکھ کر ڈانٹا اور منع کرنا شروع کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عمر رہنے دو کیونکہ آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے اور زخم ابھی ہرا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9731
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف الانقطاعه، فإن محمدا لم يسمعه من أبي هريرة
حدیث نمبر: 9732
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ حَتَّى تَحْتَرِقَ ثِيَابُهُ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کسی چنگاری پر بیٹھ جائے اور اس کے کپڑے جل جائیں یہ کسی قبر پر بیٹھنے سے بہت بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9732
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 971
حدیث نمبر: 9733
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَخْلَدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی عورت کی پچھلی شرمگاہ میں مباشرت کرے وہ ملعون ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9733
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الحارث
حدیث نمبر: 9734
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصُمْ الْمَرْأَةُ يَوْمًا وَاحِدًا وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ " . قَالَ وَكِيعٌ : " إِلَّا رَمَضَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت جبکہ اس کا خاوند گھر میں موجود ہو ماہ رمضان کے علاوہ کوئی نفلی روزہ اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9734
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5195، م: 1026
حدیث نمبر: 9735
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ الزَّعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا سورة الإسراء آية 79 ، قَالَ : " الشَّفَاعَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " مقام محمود " کی تفسیر میں فرمایا یہ وہی مقام ہے جہاں پر کھڑے ہو کر میں اپنی امت کی سفارش کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9735
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف داود
حدیث نمبر: 9736
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : جَاءَ مُشْرِكُو قُرَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُخَاصِمُونَهُ فِي الْقَدَرِ ، فَنَزَلَتْ : يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ {48} إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ {49} سورة القمر آية 48-49 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مشرکین قریش نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسئلہ تقدیر میں جھگڑتے ہوئے آئے اس مناسبت سے یہ آیت نازل ہوئی " جس دن آگ میں ان کے چہروں کو جھلسایا جائے گا تو ان سے کہا جائے گا کہ عذاب جہنم کا مزہ چکھو ہم نے ہر چیز کو ایک مقررہ اندازے سے پیدا کیا ہے "۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9736
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، م: 2656
حدیث نمبر: 9737
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ : " أَشْعَرُ كَلِمَةٍ قَالَتْهَا الْعَرَبُ قَوْلُ لَبِيدِ بْنِ رَبِيعَةَ : أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برسر منبر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی شاعر نے جو سب سے زیادہ سچا شعر کہا ہے وہ لبید بن ربیعہ کا یہ شعر ہے کہ یاد رکھو اللہ کے علاوہ ہر چیز باطل (فانی) ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9737
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3841، م: 2256، وهذا إسناد ضعيف، شريك - وإن كان سيئ الحفظ- قد توبع
حدیث نمبر: 9738
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي شَرِيكٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ ، وَلَا جَرَسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9738
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2113، وهذا إسناد ضعيف، شريك -وإن كان سيئ الحفظ - قد توبع
حدیث نمبر: 9739
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ وَاقِدٍ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ ، عَنْ كِدَامِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي كِبَاشٍ ، قَالَ : جَلَبْتُ غَنَمًا جُذْعَانًا إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَكَسَدَتْ عَلَيَّ ، فَلَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " نِعْمَ , أَوْ نِعْمَتِ الْأُضْحِيَّةُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ " ، فَانْتَهَبَهَا النَّاسُ .
مولانا ظفر اقبال
ابوکباش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ بھیڑ کے چند بچے مدینہ منورہ امپورٹ کرکے لے گیا لیکن وہاں مجھے نقصان ہوا اتفاقاً حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی میں نے ان سے کچھ سوال جواب کئے انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قربانی کے لئے بھیڑ کا بچہ بہترین جانور ہے راوی کے بقول پھر لوگ اسے لے اڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9739
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة كدام، وأبي كباش
حدیث نمبر: 9740
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ ، يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ نَوْمَهُ وَطَعَامَهُ ، فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ سَفَرِهِ ، فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفر بھی عذاب کا ایک ٹکڑا ہے جو تم میں سے کسی کو اس کے کھانے پینے اور نیند سے روک دیتا ہے اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص اپنی ضرورت کو پورا کرچکے تو وہ جلد از جلد اپنے گھر کو لوٹ آئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9740
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1804، م: 1927
حدیث نمبر: 9741
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ مَسِيرَةَ يَوْمٍ تَامٍّ ، إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کے لئے حلال نہیں ہے کہ اپنے اہل خانہ میں سے کسی محرم کے بغیر ایک دن کا بھی سفر کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9741
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1088، م: 1339
حدیث نمبر: 9742
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ السُّدِّيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ سُفْيَانُ يَرْفَعُهُ , قَالَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ ، إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (مرفوعاً ) مروی ہے کہ مردہ لوگوں کے جوتوں کی آہٹ تک سنتا ہے جب کہ وہ اسے دفن کر کے واپس جا رہے ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9742
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، والد السدۤي مجهول الحال
حدیث نمبر: 9743
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سَعْدَانُ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ أَبِي مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مُدِلَّةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " ثَلَاثَةٌ لَا يُرَدُّ دُعَاؤُهُمْ : الْإِمَامُ الْعَادِلُ ، وَالصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ ، وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ ، يَرْفَعُهَا اللَّهُ فَوْقَ الْغَمَامِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَيَفْتَحُ لَهَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ ، وَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ : بِعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكِ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین آدمی ایسے ہیں جن کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی عادل حکمران، روزہ دار تاآنکہ روزہ کھول لے اور مظلوم کی بددعا وہ بادلوں پر سوار ہو کر جاتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مجھے اپنی عزت کی قسم میں تیری مدد ضرور کروں گا خواہ کچھ دیر بعد ہی کروں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9743
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده دون قوله: « يوم القيامة » ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبي مُدلۤة
حدیث نمبر: 9744
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدَانُ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ أَبِي مُجَاهِدٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ أَبِي مُدِلَّةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنَا عَنِ الْجَنَّةِ ، مَا بِنَاؤُهَا ؟ قَالَ : " لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ ، مِلَاطُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ ، حَصْبَاؤُهَا الْيَاقُوتُ وَاللُّؤْلُؤُ ، وَتُرْبَتُهَا الْوَرْسُ وَالزَّعْفَرَانُ ، مَنْ يَدْخُلُهَا يَخْلُدُ لَا يَمُوتُ ، وَيَنْعَمُ لَا يَبْأَسُ ، لَا يَبْلَى شَبَابُهُمْ ، وَلَا تُخَرَّقُ ثِيَابُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جنت کے بارے میں کچھ بتائیے کہ اس کی تعمیر کیسی ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی ایک اینٹ چاندی کی اس کا گارا خالص مشک ہے اس کی کنکریاں موتی اور یاقوت ہیں اور اس کی مٹی ورس اور زعفران ہے جو شخص اس میں داخل ہوگا وہ ہمیشہ نازونعم میں رہے گا کبھی تنگ نہ ہوگا ہمیشہ رہے گا اسے کبھی موت نہ آئے گی اس کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے اور اس کی جوانی ختم نہ ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9744
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 9745
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ ، إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی اولاد اپنے والد کے جرم کا بدلہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی (باپ کے جرم کا بدلہ اس کی اولاد سے نہیں لیا جائے گا) البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے باپ کو غلامی کی حالت میں پائے تو اسے خرید کر آزاد کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9745
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1510
حدیث نمبر: 9746
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت اتنے تسلسل کے ساتھ کرتے رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ عنقریب وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9746
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9747
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالطَّوَّافَ عَلَيْكُمْ ، الَّذِي تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ ، وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الْمُتَعَفِّفُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہوتا جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیں اصل مسکین وہ ہوتا ہے جو سوال کرنے سے بچے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9747
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1479، م: 1039
حدیث نمبر: 9748
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ بَابًا ، فَأَدْنَاهُ إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ ، وَأَرْفَعُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان کے ستر سے زائد شعبے ہیں جن میں سے سب سے افضل اور اعلیٰ لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے ہلکا شعبہ راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9748
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 9، م: 35
حدیث نمبر: 9749
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي ، وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9749
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2675