حدیث نمبر: 9670
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَوْلَى السَّعْدِيِّينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِنَّ رِجَالًا يَسْتَنْفِرُونَ عَشَائِرَهُمْ ، يَقُولُونَ : الْخَيْرَ الْخَيْرَ ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ ، لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ . وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا ، أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهَا لَتَنْفِي أَهْلَهَا ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَخْرُجُ مِنْهَا أَحَدٌ رَاغِبًا عَنْهَا ، إِلَّا أَبْدَلَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ اپنے قبیلے والوں کو بہتر، بہتر قرار دے کر برانگیختہ کررہے ہیں (اور مدینے سے جا رہے ہیں) حالانکہ اگر انہیں معلوم ہوتا تو مدینہ ہی ان کے حق میں خیر ہے، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے جو شخص مدینہ منورہ کی پریشانیوں اور تکالیف پر صبر کرے گا، میں قیامت کے دن اس کے حق میں سفارش کروں گا، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے مدینہ منورہ اپنے باشندوں کو اس طرح پاک صاف کردیتا ہے جیسے بھٹی لوہے کی میل کچیل کو دور کردیتی ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے جو شخص یہاں سے بےرغبتی کے ساتھ نکل کر جائے گا اللہ اس کے بدلے میں اس سے بہتر شخص کو یہاں آباد فرما دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9670
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1871، م: 1381
حدیث نمبر: 9671
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ . ووكيع , قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ عَلَيْهِ ، فَبَاتَ وَهُوَ غَضْبَانُ ، لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ " . قَالَ وَكِيعٌ : " عَلَيْهَا سَاخِطٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنی بیوی کو بستر پر بلائے اور وہ عورت (کسی ناراضگی کی بنا پر) اپنے شوہر کا ببستر چھوڑ کر (دوسرے بستر پر) رات گذارتی ہے اس پر ساری رات فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں تاآنکہ صبح ہوجائے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9671
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3237، م: 1436
حدیث نمبر: 9672
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " يَا بِلَالُ ، حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي الْإِسْلَامِ عِنْدَكَ مَنْفَعَةً ، فَإِنِّي سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ " ، فَقَالَ بِلَالٌ : مَا عَمِلْتُ عَمَلًا فِي الْإِسْلَامِ أَرْجَى عِنْدِي مَنْفَعَةً ، إِلَّا أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طُهُورًا تَامًّا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ ، إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ ، مَا كَتَبَ اللَّهُ لِي أَنْ أُصَلِّيَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا بلال مجھے اپنا کوئی ایسا عمل بتاؤ جو زمانہ اسلام میں کیا ہو اور تمہیں اس کا ثواب ملنے کی سب سے زیادہ امید ہو ؟ کیونکہ میں نے آج رات جنت میں تمہارے قدموں کی چاپ اپنے آگے سنی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے زمانہ اسلام میں اس کے علاوہ کوئی ایسا عمل نہیں کیا جس کا ثواب ملنے کی مجھے سب سے زیادہ امید ہو کہ میں نے دن یا رات کے جس حصے میں بھی وضو کیا اس وضو سے حسب توفیق نماز ضرور پڑھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9672
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1149، م: 2458
حدیث نمبر: 9673
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ حَسَنٌ , وَحُسَيْنٌ هَذَا عَلَى عَاتِقِهِ وَهَذَا عَلَى عَاتِقِهِ ، وَهُوَ يَلْثِمُ هَذَا مَرَّةً وَيَلْثِمُ هَذَا مَرَّةً ، حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ تُحِبُّهُمَا . فَقَالَ : " مَنْ أَحَبَّهُمَا فَقَدْ أَحَبَّنِي ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائیں تو آپ کے ساتھ حضرات حسنین رضی اللہ عنہ بھی تھے ایک کندھے پر ایک اور دوسرے کندھے پر دوسرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ایک کو بوسہ دیتے اور کبھی دوسرے کو اسی طرح چلتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب آگئے ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان دونوں سے بڑی محبت کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ان دونوں سے محبت کرتا ہے گویا وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور جو ان سے بغض رکھتا ہے وہ مجھ سے بغض رکھتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9673
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن
حدیث نمبر: 9674
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " سَيْحَانُ , وَجَيْحَانُ ، وَالنِّيلُ , وَالْفُرَاتُ ، وَكُلٌّ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ " . قَالَ أَبُو أُسَامَةَ : " كُلٌّ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دریائے فرات، دریائے نیل، دریائے جیحون، دریائے سیحون، سب جنت کی نہریں ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9674
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2839
حدیث نمبر: 9675
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فُلَانَةَ يُذْكَرُ مِنْ كَثْرَةِ صَلَاتِهَا ، وَصِيَامِهَا ، وَصَدَقَتِهَا ، غَيْرَ أَنَّهَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا ، قَالَ : " هِيَ فِي النَّارِ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَإِنَّ فُلَانَةَ يُذْكَرُ مِنْ قِلَّةِ صِيَامِهَا ، وَصَدَقَتِهَا ، وَصَلَاتِهَا ، وَإِنَّهَا تَصَدَّقُ بِالْأَثْوَارِ مِنَ الْأَقِطِ ، وَلَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا ، قَالَ : " هِيَ فِي الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں عورت کثرت سے نماز، روزہ اور صدقہ کرنے میں مشہور ہے لیکن وہ اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو ستاتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جہنمی ہے پھر اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں عورت نماز، روزہ اور صدقہ کی کمی میں مشہور ہے وہ صرف پنیر کے چند ٹکڑے صدقہ کرتی ہے لیکن اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو نہیں ستاتی فرمایا وہ جنتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9675
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9676
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ عَادَ مَرِيضًا ، وَمَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ وَعْكٍ كَانَ بِهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبْشِرْ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلَى عَبْدِي الْمُؤْمِنِ فِي الدُّنْيَا ، لِتَكُونَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ایک مریض کی عیادت کے لئے " جسے بخار ہوگیا تھا " تشریف لے گئے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا خوش ہوجاؤ کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنی آگ کو اپنے مومن بندے پر دنیا ہی میں مسلط کردیتا ہوں تاکہ آخرت میں اس کا جو حصہ ہے وہ دنیا ہی میں پورا ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9676
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 9677
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، طَوْقٌ مِنْ ذَهَبٍ . قَالَ : " طَوْقٌ مِنْ نَارٍ " ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ . قَالَ : " سِوَارَانِ مِنْ نَارٍ " . قَالَتْ : قُرْطَانِ مِنْ ذَهَبٍ . قَالَ : " قُرْطَانِ مِنْ نَارٍ " ، قَالَ وَكَانَ عَلَيْهَا سِوَارٌ مِنْ ذَهَبٍ فَرَمَتْ بِهماِ ، ثُمَّ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ إِحْدَانَا إِذَا لَمْ تَزَّيَّنْ لِزَوْجِهَا صَلِفَتْ عِنْدَهُ ، قَالَ : فَقَالَ : " مَا يَمْنَعُ إِحْدَاكُنَّ تَصْنَعُ قُرْطَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ ، ثُمَّ تُصَفِّرُهُمَا بِالزَّعْفَرَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سونے کا ہار ہے فرمایا یہ جہنم کی آگ کا طوق ہے اس نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سونے کے دو کنگن ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ آگ کے کنگن ہیں اس نے کہا یہ سونے کی دو بالیاں ہیں فرمایا آگ کی بالیاں ہیں اس خاتون نے سونے کے کنگن پہن رکھے تھے اس نے وہ اتار کر پھینک دئیے اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے جو عورت اپنے شوہر کے سامنے زیب وزینت اختیار نہ کرے وہ اس کی نگاہوں میں بےوقعت ہوجاتی ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں اس بات سے کس نے روکا ہے کہ چاندی کی بالیاں بنا کر ان پر زعفران کا رنگ پھیر دو ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9677
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبي زيد
حدیث نمبر: 9678
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ : عَلِيمٌ حَكِيمٌ ، غَفُورٌ رَحِيمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے قرآن کریم سات حرفوں پر نازل کیا ہے مثلا علیم حکیم غفور رحیم۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9678
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9679
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ ، مَا كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کی جان اس وقت تک لٹکتی رہتی ہے جب تک اس پر قرض موجود ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9679
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9680
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمْ بَعْدُ : نِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مَائِلَاتٌ مُمِيلَاتٌ عَلَى رُءُوسِهِنَّ أَمْثَالُ أَسْنِمَةِ الْإِبِلِ لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا ، وَرِجَالٌ مَعَهُمْ أَسْيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنمیوں کے دو گروہ ایسے ہیں جنہیں میں نے اب تک نہیں دیکھا ایک تو وہ عورتیں جو کپڑے پہنیں گی لیکن پھر بھی برہنہ ہوں گی خود بھی مردوں کی طرف مائل ہوں گی اور انہیں اپنی طرف مائل کریں گی ان کے سروں پر بختی اونٹوں کی کوہانوں کی طرح چیزیں ہوں گی یہ عورتیں جنت میں دیکھ سکیں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پاسکیں گی اور دوسرے وہ آدمی جن کے ہاتھوں میں گائے کی دموں کی طرح لمبے ڈنڈے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کو مارتے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9680
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2128، وهذا إسناد فيه شريك سیئ الحفظ ، قد توبع
حدیث نمبر: 9681
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام کو یاد دلانے کے لئے سبحان اللہ کہنا مردوں کے لئے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9681
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422
حدیث نمبر: 9682
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة , قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا أَنْ لَا نُبَادِرَ الْإِمَامَ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ، وَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا ، وَإِذَا قَالَ : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 , فَقُولُوا : آمِينَ ، فَإِذَا وَافَقَ كَلَامَ الْمَلَائِكَةِ ، غُفِرَ لِمَنْ فِي الْمَسْجِدِ ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس بات کی تعلیم دیتے تھے کہ ہم رکوع و سجود میں امام سے آگے نہ بڑھیں اور یہ کہ جب وہ تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو، جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، جب وہ غیر المغضوب علیہم و لا الضالین کہے تو تم آمین کہو کیونکہ جس شخص کی آمین ملائکہ کے موافق ہوجائے تو اس کی برکت سے مسجد میں موجود تمام لوگوں کی بخشش ہوجاتی ہے اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9682
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 782، م: 415
حدیث نمبر: 9683
حَدَّثَنَا يَعْلَى ، وَمُحَمَّدٌ ابْنَا عُبَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ شَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ بَدَا جَفَا ، وَمَنْ تَبِعَ الصَّيْدَ غَفَلَ ، وَمَنْ أَتَى أَبْوَابَ السُّلْطَانِ افْتُتِنَ ، وَمَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنَ السُّلْطَانِ قُرْبًا إِلَّا ازْدَادَ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بُعْدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دیہات میں رہتا ہے وہ اپنے ساتھ زیادتی کرتا ہے جو شخص شکار کے پیچھے پڑتا ہے وہ غافل ہوجاتا ہے جو بادشاہوں کے دروازے پر آتا ہے وہ فتنے میں مبتلا ہوتا ہے اور جو شخص بادشاہ کا جتنا قرب حاصل کرتا جاتا ہے اللہ سے اتنا ہی دور ہوتا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9683
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث ضعيف للاضطراب الذي وقع في إسناد
حدیث نمبر: 9684
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ الْأَوْدِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا سورة الإسراء آية 79 ، قَالَ : " هُوَ الْمَقَامُ الَّذِي أَشْفَعُ لِأُمَّتِي فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " مقام محمود " کی تفسیر میں فرمایا یہ وہی مقام ہے جہاں پر کھڑے ہو کر میں اپنی امت کی سفارش کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9684
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف داود
حدیث نمبر: 9685
حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنْ أُسَامَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " كَمْ مِنْ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الْجُوعُ ، وَكَمْ مِنْ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کتنے ہی روزے دار ایسے ہوتے ہیں جن کے حصے میں بھوک پیاس آتی ہے اور کتنے ہی تراویح میں قیام کرنے والے ہیں جن کے حصے میں صرف شب بیداری آتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9685
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9686
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ ، فَقَالَ : " ائْتُونِي بِجَرِيدَتَيْنِ " ، فَجَعَلَ إِحْدَاهُمَا عِنْدَ رَأْسِهِ ، وَالْأُخْرَى عِنْدَ رِجْلَيْهِ ، فَقِيلَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَيَنْفَعُهُ ذَلِكَ ؟ ، قَالَ : " لَنْ يَزَالَ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُ بَعْضُ عَذَابِ الْقَبْرِ ، مَا كَانَ فِيهِمَا نُدُوٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک قبر پر ہوا تو فرمایا کہ میرے پاس دو ٹہنیاں لے کر آؤ ایک ٹہنی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کے سرہانے اور دوسری کو پائنتی کی جانب گاڑ دیا کسی نے پوچھا اے اللہ کے نبی ! کیا یہ چیز اسے فائدہ پہنچا سکے گی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک اس ٹہنی میں تراوٹ باقی ہے اس کے عذاب میں کچھ تخفیف رہے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9686
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9687
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بن كيْسانِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم لِعَمِّهِ : " قُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدْ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ ، لَأَقْرَرْتُ عَيْنَكَ بِهَا ، قَالَ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ سورة القصص آية 56 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا (خواجہ ابوطالب سے ان کی موت کے وقت) فرمایا کہ لاالہ الا اللہ کا اقرار کرلیجئے میں قیامت کے دن اس کے ذریعے آپ کے حق میں گواہی دوں گا انہوں نے کہا کہ اگر مجھے قریش کے لوگ یہ طعنہ نہ دیتے کہ خوف کی وجہ سے انہوں نے یہ کلمہ پڑھا ہے تو میں آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کردیتا اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9687
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 25
حدیث نمبر: 9688
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : زَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى ، وَبَكَى مَنْ حَوْلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي ، وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي ، فَزُورُوا الْقُبُورَ ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کی قبر پر حاضری دی اور رو پڑے آپ کے ہمراہی بھی رونے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کی بخشش طلب کرنے کی اجازت مانگی لیکن مجھے اجازت نہیں ملی میں نے قبر پر حاضری دینے کی اجازت مانگی تو وہ مل گئی اس لئے قبرستان جایا کرو کیونکہ قبرستان موت کو یاد دلاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9688
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 976
حدیث نمبر: 9689
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا لَمَمٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَنِي ، قَالَ : " إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يَشْفِيَكِ ، وَإِنْ شِئْتِ فَاصْبِرِي ، وَلَا حِسَابَ عَلَيْكِ " ، قَالَتْ : بَلْ أَصْبِرُ ، وَلَا حِسَابَ عَلَيَّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اسے مرگی کا دورہ پڑتا تھا وہ کہنے لگی یا رسول اللہ ! میرے لئے دعاء کیجئے کہ وہ مجھے شفاء عطاء فرمائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم چاہو کہ میں اللہ سے تمہارے لئے شفاء کی دعا کر دوں تو میں دعاء کردیتا ہوں اور اگر چاہو تو دنیا میں اس تکلیف پر صبر کرلو آخرت میں تمہارا کوئی حساب نہ ہوگا اس عورت نے کہا کہ پھر تو میں صبر ہی کرلوں گی تاکہ میرا حساب نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9689
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9690
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثِنْتَانِ هُمَا بِالنَّاسِ كُفْرٌ : نِيَاحَةٌ عَلَى الْمَيِّتِ ، وَطَعْنٌ فِي النَّسَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے دو چیزیں کفر ہیں ایک تو نوحہ کرنا اور دوسرا کسی کے نسب پر طعنہ مارنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9690
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 67
حدیث نمبر: 9691
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ الْأَعْمَشُ : لَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ رَفَعَهُ ، قَالَ : " وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ أَمْرٍ قَدْ اقْتَرَبَ ، أَفْلَحَ مَنْ كَفَّ يَدَهُ " ، وَوَافَقَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ عرب کی ہلاکت قریب آ لگی ہے اس شر سے جو قریب آگیا ہے اس میں کامیاب وہی گا جو اپنا ہاتھ روک لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9691
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9692
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا مَثَلُ هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ، مَثَلُ نَهْرٍ جَارٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، فَمَاذَا يُبْقِينَ مِنْ دَرَنِهِ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ نمازوں کی مثال ایسے ہے جسے تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر بہہ رہی ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو۔ کیا خیال ہے کہ اس کے جسم پر کوئی میل کچیل باقی رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9692
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 667
حدیث نمبر: 9693
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَجْتَمِعُ الشُّحُّ وَالْإِيمَانُ ، فِي جَوْفِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ ، وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَدُخَانُ جَهَنَّمَ ، فِي جَوْفِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان کے دل میں ایمان اور بخل اکٹھے نہیں ہوسکتے اسی طرح ایک مسلمان کے نتھنوں میں جہاد فی سبیل اللہ کا گردوغبار اور جہنم کا دھواں اکٹھے نہیں ہوسکتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9693
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد فيه حُصين، وقد اختلف في أسمه، وهو مقبول، يعني إذا توبع
حدیث نمبر: 9694
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَيَزِيدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَسُرُّنَا نَتَكَلَّمُ بِهِ ، وَإِنَّ لَنَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ ، قَالَ : " أَوَجَدْتُمْ ذَلِكَ " ، قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے دلوں میں بعض اوقات ایسے خیالات آتے ہیں جنہیں ہم زبان پر لانا پسند نہیں کرتے اگرچہ اس کے بدلے میں ہمیں ساری دنیا مل جائے نبی کریم صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا واقعی ایسا ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو خالص ایمان ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9694
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 132
حدیث نمبر: 9695
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي مَالِكِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ ؟ " ، قَالُوا الَّذِي يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يُقْتَلَ ، قَالَ : " إِنَّ الشَّهِيدَ فِي أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتِيلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ ، وَالطَّعِينُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ ، وَالْغَرِيقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ ، وَالْخَارُّ عَنْ دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ ، وَالْمَجْنُوبُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ " ، قَالَ مُحَمَّدٌ : الْمَجْنُوبُ : صَاحِبُ الْجَنْبِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم لوگ اپنے درمیان " شہید " کسے سمجھتے ہو ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہوا مارا جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح تو میری امت میں شہدا کی تعداد بہت کم ہوگی، جہاد فی سبیل اللہ میں مارا جانا بھی شہادت ہے پیٹ کی بیماری میں مرنا بھی شہادت ہے، دریا میں غرق ہو کر مرنا بھی شہادت ہے، سواری سے گر کر مرنا بھی شہادت ہے اور ذات الجنب کی بیماری میں مبتلا ہو کر مرنا بھی شہادت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9695
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 653، م: 1915، وهذا إسناد ضعيف، أبو مالك مجهول، وابن إسحاق مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 9696
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَكْثَرَ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ ، الْأَجْوَفَانِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْأَجْوَفَانِ ؟ ، قَالَ " الْفَرْجُ ، وَالْفَمُ " . قَالَ : " أَتَدْرُونَ أَكْثَرَ مَا يُدْخِلُ الْجَنَّةَ ؟ تَقْوَى اللَّهِ ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو جوف دار چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ انسان کو سب سے زیادہ جہنم میں لے کر جائیں گی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! دو جوف دار چیزوں سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منہ اور شرم گاہ کیا تم جانتے ہو کہ لوگوں کو سب سے زیادہ کثرت کے ساتھ جنت میں تقویٰ اور حسن اخلاق لے کر جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9696
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، داود ضعيف لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 9697
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقُومَنَّ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ وَبِهِ أَذًى ، يَعْنِي الْبَوْلَ وَالْغَائِطَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو پیشاب پاخانہ کی ضرورت ہو تو وہ نماز کے لئے کھڑا نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9697
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف داود
حدیث نمبر: 9698
حَدَّثَنَا تَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْحَجَّافِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : نَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَلِيٍّ ، وَالْحَسَنِ ، وَالْحُسَيْنِ ، وَفَاطِمَةَ ، فَقَالَ : " أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبَكُمْ ، وَسِلْمٌ لِمَنْ سَالَمَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ حسن رضی اللہ عنہ حسین رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہ پر ایک نظر ڈالی اور فرمایا میں اس کے لئے جنگ کا اعلان کرتا ہوں جو تم سے جنگ کرے اور اس کے لئے سلامتی کا اعلان کرتا ہوں جو تمہارے ساتھ سلامتی کا معاملہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9698
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جدا، تليد بن سليمان متهم بالكذب
حدیث نمبر: 9699
حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ يَذْكُرُ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّيْتُمْ بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَصَلُّوا أَرْبَعًا ، فَإِنْ عَجِلَ بِكَ شَيْءٌ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ، وَرَكْعَتَيْنِ إِذَا رَجَعْتَ " . قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ : وَلَا أَدْرِي هَذَا مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَمْ لَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم جمعہ کے بعد نوافل پڑھنا چاہو تو پہلے چار رکعتیں پڑھو اگر تمہیں کسی وجہ سے جلدی ہو تو دو رکعتیں مسجد میں پڑھ لو اور دو رکعتیں واپس آ کر پڑھ لینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9699
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 881
حدیث نمبر: 9700
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُ الْإِيمَانِ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ ، وَغَزْوٌ لَا غُلُولَ فِيهِ ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ " . قَالَ : فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : حَجٌّ مَبْرُورٌ يُكَفِّرُ خَطَايَا تِلْكَ السَّنَةِ . قَالَ مَرْوَانُ : أَشُكُّ فِيهِ : عَنْ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ ، أَوْ عَنْ هِشَامٍ ! .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے افضل عمل اللہ پر ایسا ایمان ہے جس میں کوئی شک نہ ہو اور ایسا جہاد ہے جس میں خیانت نہ ہو اور حج مبرور ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حج مبرور اس سال کے سارے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9700
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 26، م: 83، وهذا إسناد ضعيف ، أبو جعفر فى عداد المجهولين، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 9701
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا صَبِيحٌ أَبُو الْمَلِيحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَا يَسْأَلْهُ يَغْضَبْ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ سے نہیں مانگتا اللہ اس سے ناراض ہوجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9701
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو صالح مجهول
حدیث نمبر: 9702
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ أُخْتِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ إِلَّا مِنْ شَقِيٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رحمت اسی شخص سے کھینچی جاتی ہے جو خود شقی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9702
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9703
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي ، وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي ، فَمَنْ نَازَعَنِي شَيْئًا مِنْهُمَا أَلْقَيْتُهُ فِي جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے کہ کبریائی میری اوپر کی چادر ہے اور عزت میری نیچے کی چادر ہے جو دونوں میں سے کسی ایک کے بارے میں مجھ سے جھگڑا کرے گا، میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9703
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2620
حدیث نمبر: 9704
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ قُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا تَنْطَحَ ذَاتُ قَرْنٍ جَمَّاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک سینگ والی بکری بےسینگ بکری سے لڑنے نہ لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9704
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة الصلت
حدیث نمبر: 9705
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے جوامع الکلم دیئے گئے ہیں اور میرے لئے روئے زمین کو مسجد اور پاکیزگی بخش قرار دے دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9705
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6998، م: 523
حدیث نمبر: 9706
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنِ ابْنِ الْمُطَوِّسِ ، عَنِ الْمُطَوِّسِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ رُخْصَةٍ ، لَمْ يَجْزِهِ صِيَامُ الدَّهْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بغیر کسی عذر کے رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دے یا توڑ دے ساری عمر کے روزے بھی اس ایک روزے کے بدلے کفایت نہیں کرسکتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9706
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة المطوس وأبيه
حدیث نمبر: 9707
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ عُتْبَةُ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ النِّصْفُ مِنْ شَعْبَانَ ، فَأَمْسِكُوا عَنِ الصَّوْمِ حَتَّى يَكُونَ رَمَضَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پندرہ شعبان کے بعد روزہ رکھنے سے رمضان تک رک جایا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9707
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9708
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْهِرُّ سَبُعٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلی (ایسا) درندہ ہے (جو رحمت کے فرشتوں کو آنے سے نہیں روکتا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9708
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عيسی
حدیث نمبر: 9709
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا ، وَلَا تُؤْمِنُونَ حَتَّى تَحَابُّوا " ، ثُمَّ قَالَ : " هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ ؟ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک کامل مومن نہ ہوجاؤ اور کامل مومن نہیں ہوسکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرنے لگو کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جس پر عمل کرنے کے بعد تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو ؟ آپ میں سلام کو پھیلاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9709
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 54