حدیث نمبر: 9630
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، تُسَافِرُ يَوْمًا إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی ایسی عورت کے لئے " جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو " حلال نہیں ہے کہ اپنے اہل خانہ میں سے کسی محرم کے بغیر ایک دن کا بھی سفر کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9630
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1088، م: 1339
حدیث نمبر: 9631
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : عَوْنُهُ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَالنَّاكِحُ لِيَسْتَعْفِفَ ، وَالْمُكَاتَبُ يُرِيدُ الْأَدَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین آدمی ایسے ہیں کہ جن کی مدد کرنا اللہ کے ذمے واجب ہے (١) اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا (٢) اپنی عفت کی حفاظت کی خاطر نکاح کرنے والا (٣) وہ عبد مکاتب جو اپنا بدل کتابت ادا کرنا چاہتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9631
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 9632
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ دِينُهُمْ وَاحِدٌ ، وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى ، وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ، لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ ، وَإِنَّهُ نَازِلٌ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَاعْرِفُوهُ ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ مَرْبُوعٌ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ ، سَبْطٌ كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ ، وَإِنْ لَمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ بَيْنَ مُمَصَّرَتَيْنِ ، فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ ، وَيُعَطِّلُ الْمِلَلَ ، حَتَّى يُهْلِكَ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمِلَلَ كُلَّهَا غَيْرَ الْإِسْلَامِ ، وَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ الْكَذَّابَ ، وَتَقَعُ الْأَمَنَةُ فِي الْأَرْضِ ، حَتَّى تَرْتَعَ الْإِبِلُ مَعَ الْأُسْدِ جَمِيعًا ، وَالنُّمُورُ مَعَ الْبَقَرِ ، وَالذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ ، وَيَلْعَبَ الصِّبْيَانُ وَالْغِلْمَانُ بِالْحَيَّاتِ ، لَا يَضُرُّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا ، فَيَمْكُثُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ، ثُمَّ يُتَوَفَّى ، فَيُصَلِّيَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ وَيَدْفِنُونَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) علاتی بھائیوں (جن کا باپ ایک ہو مائیں مختلف ہوں) کی طرح ہیں ان سب کی مائیں مختلف اور دین ایک ہے اور میں تمام لوگوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ' اور عنقریب وہ زمین پر نزول بھی فرمائیں گے اس لئے تم جب انہیں دیکھنا تو مندرجہ ذیل علامات سے انہیں پہچان لینا۔ وہ درمیانے قد کے آدمی ہوں گے سرخ وسفید رنگ ہوگا گیروے رنگے ہوئے دو کپڑے ان کے جسم پر ہوں گے ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپکتے ہوئے محسوس ہوں گے گو کہ انہیں پانی کی تری بھی نہ پہنچی ہو پھر وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ موقوف کردیں گے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں گے ان کے زمانے میں اللہ اسلام کے علاوہ تمام ادیان کو مٹا دے گا اور ان ہی کے زمانے میں مسیح دجال کو ہلاک کروائے گا اور روئے زمین پر امن وامان قائم ہوجائے گا حتی کہ سانپ اونٹ کے ساتھ چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑئیے بکریوں کے ساتھ ایک گھاٹ سے سیراب ہوں گے اور بچے سانپوں سے کھیلتے ہوں گے اور وہ سانپ انہیں نقصان نہ پہنچائیں گے اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک زمین پر رہ کر فوت ہوجائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ ادا کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9632
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وفي هذا الإسناد انقطاع، لم يثبت سماع قتادة من عبدالرحمن
حدیث نمبر: 9633
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " الْأَنْبِيَاءُ " ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " حَتَّى يُهْلَكَ فِي زَمَانِهِ مَسِيحُ الضَّلَالَةِ الْأَعْوَرُ الْكَذَّابُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9633
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع كسابقه
حدیث نمبر: 9634
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ , عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ آدَمَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9634
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع كسابقه
حدیث نمبر: 9635
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ ، وَقَالَ : " ارْجِعْ فَصَلِّ ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " ، فَرَجَعَ ، فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَالَ : فَقَالَ : وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا فَعَلِّمْنِي . قَالَ : " إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی میں ایک آدمی آیا اور نماز پڑھنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد ہی میں تھے نماز پڑھ کر وہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دے کر فرمایا جا کر دوبارہ پڑھو، تمہاری نماز نہیں ہوئی اس نے واپس جا کر دوبارہ نماز پڑھی اور تین مرتبہ اسی طرح ہوا اس کے بعد وہ کہنے لگا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا اس لئے آپ مجھے سکھا دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو تو تکبیر کہو، پھر جتنا ممکن ہو قرآن کی تلاوت کرو پھر اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور ساری نماز میں اسی طرح کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9635
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 757، م: 397
حدیث نمبر: 9636
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زِيَادٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا كِسْرَى بَعْدَ كِسْرَى ، وَلَا قَيْصَرَ بَعْدَ قَيْصَرَ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ رہے گا اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستہ میں ضرور خرچ کروگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9636
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 3618، م: 2918، وهذا إسناد ضعيف، زياد هو المخزومي: مجهول
حدیث نمبر: 9637
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، وَيَزِيدُ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ " كَانَ يُصَلِّي بِهِمْ بِالْمَدِينَةِ نَحْوًا مِنْ صَلَاةِ قَيْسٍ ، وَكَانَ قَيْسٌ لَا يُطَوِّلُ ، قَالَ : قُلْتُ : هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، أَوْ أَوْجَزُ . وَقَالَ يَزِيدُ : وَأَوْجَزُ . حَدَّثَنَاه وَكِيعٌ , قَالَ : نَعَمْ , وَأَوْجَزُ .
مولانا ظفر اقبال
اسماعیل اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ انہیں مدینہ میں قیس جیسی نماز پڑھاتے تھے اور قیس لمبی نماز نہیں پڑھاتے تھے میں نے ان سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! بلکہ اس سے بھی مختصر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9637
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9638
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، وأبي سعيد , وَجَابِرٍ ، أو اثنين من هؤلاء الثلاثة : " أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الصَّرْفِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ابوسعید رضی اللہ عنہ اور جابر رضی اللہ عنہ میں سے کسی دو سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھار پر سونے چاندی کی خریدوفروخت سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9638
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9639
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نُعْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ ، وَالْوَرِقُ بِالْوَرِقِ ، مِثْلًا بِمِثْلٍ , يَدًا بِيَدٍ ، مَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ ، فَقَدْ أَرْبَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاندی کو چاندی کے بدلے اور سونے کو سونے کے بدلے برابر سرابر وزن کر کے بیچا جائے جو شخص اس میں اضافہ کرے گویا اس نے سودی معاملہ کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9639
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1588
حدیث نمبر: 9640
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندیوں کی جسم فروشی کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9640
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2283
حدیث نمبر: 9641
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین کا جو حصہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کا باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر نصب کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9641
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1196، م: 1391
حدیث نمبر: 9642
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤْمِنُ يَغَارُ ، وَاللَّهُ أَشَدُّ غَيْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن غیرت مند ہوتا ہے اور اللہ اس سے بھی زیادہ غیور ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9642
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5223، م: 2761
حدیث نمبر: 9643
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا عَفَا رَجُلٌ إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا عِزًّا ، وَلَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ ، وَلَا عَفَا رَجُلٌ قَطُّ إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ عِزًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی کسی ظلم سے درگذر کرلے اللہ اس کی عزت میں ہی اضافہ فرماتا ہے اور صدقہ کے ذریعے مال کم نہیں ہوتا ہے اور جو آدمی معاف کردیتا ہے اللہ اس کی عزت میں اضافہ کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9643
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2588
حدیث نمبر: 9644
حَدَّثَنَا يَحْيَى بن سَعيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَرْفَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ الدَّرَجَاتِ ، وَيُكَفِّرُ بِهِ الْخَطَايَا ؟ كَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ ، وَإِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعے اللہ درجات بلند فرماتا ہے اور گناہوں کا کفارہ بناتا ہے ؟ طبعی ناپسندیدگی کے باوجود (خاص طور پر سردی کے موسم میں) خوب اچھی طرح وضو کرنا، کثرت سے مسجدوں کی طرف قدم اٹھانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9644
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 251
حدیث نمبر: 9645
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ مَسَاجِدَ اللَّهِ ، وَلْيَخْرُجْنَ تَفِلَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی بندیوں کو مسجد میں آنے سے نہ روکا کرو البتہ انہیں چاہئے کہ وہ بناؤ سنگھار کے بغیر عام حالت میں ہی آیا کریں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9645
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9646
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " نَعَى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَّ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، فَخَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى ، فَصَفَّ أَصْحَابُهُ خَلْفَهُ وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دن نجاشی فوت ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی موت کی اطلاع ہمیں دی اور عیدگاہ کی طرف روانہ ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں باندھ لیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں چار تکبیرات کہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9646
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1245، م: 951
حدیث نمبر: 9647
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالداری سازوسامان کی کثرت سے نہیں ہوتی اصل مالداری تو دل کی مالداری ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9647
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6446، م: 1051
حدیث نمبر: 9648
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ , حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ : " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، مَثَلُ الْقَانِتِ الصَّائِمِ فِي بَيْتِهِ الَّذِي لَا يَفْتُرُ حَتَّى يَرْجِعَ بِمَا رَجَعَ مِنْ غَنِيمَةٍ ، أَوْ يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ فَيُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے مجاہد کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اپنے گھر میں شب زندہ دار اور صائم النہار ہو اسے صیام و قیام کا یہ ثواب اس وقت تک ملتا رہتا ہے جب تک وہ مال غنیمت لے کر اپنے گھر نہ لوٹ آئے یا اللہ اسے وفات دے کر جنت میں داخل کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9648
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9649
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : ثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : أَعْدَدْتُ لِعِبَادِي الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ، وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ سورة السجدة آية 17 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی چیزیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کا خیال بھی گذرا۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو کسی نفس کو معلوم نہیں کہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے کیا چیزیں چھپائی گئی ہیں " اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے تب بھی اسے قطع نہ کرسکے۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو لمبے اور طویل سائے میں ہوں گے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں تم میں سے کسی ایک کے کوڑے کی جگہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور یہ آیت تلاوت فرمائی " جس شخص کو جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کردیا گیا وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کا سامان ہے۔ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9649
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3244، م: 2824
حدیث نمبر: 9650
وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ ، مَا يَقْطَعُهَا ، فَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : وَظِلٍّ مَمْدُودٍ سورة الواقعة آية 30 " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9650
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4881، م: 2826
حدیث نمبر: 9651
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " وَمَوْضِعُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا ، وَقَرَأَ : فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلا مَتَاعُ الْغُرُورِ سورة آل عمران آية 185 " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9651
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2793
حدیث نمبر: 9652
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عن مُحَمَّدُ , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ : " إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا ، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب امام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہوجب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9652
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 734، م: 414
حدیث نمبر: 9653
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عن مُحَمَّدُ , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ : " النَّاسُ مَعَادِنُ ، فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ چھپے ہوئے دفینوں (کان) کی طرح ہیں ان میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں بشرطیکہ وہ فقیہہ بن جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9653
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 4396، م: 2526
حدیث نمبر: 9654
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عن مُحَمَّدُ , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ : " لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ بِيَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ ، إِلَّا أَنْ يُوَافِقَ أَحَدُكُمْ صَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا ، ثُمَّ أَفْطِرُوا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھا کرو البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزہ رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہئے۔ گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر عیدالفطر مناؤ اگر ابر چھا جائے تو تیس دن روزہ رکھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9654
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1914، م: 1082
حدیث نمبر: 9655
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عن مُحَمَّدُ , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ : " فِي الْجَنِينِ غُرَّةٌ : عَبْدٌ ، أَوْ أَمَةٌ " . فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ : أَيَعْقِلُ مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ ، وَلَا صَاحَ ، وَلَا اسْتَهَلَّ ؟ ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ . فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا ليقَوْلَ ، بقَوْلُ شَاعِرٍ , فِيهِ غُرَّةٌ : عَبْدٌ ، أَوْ أَمَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنین کی دیت ایک غرہ یعنی غلام یا باندی ہے جس کے خلاف یہ فیصلہ ہوا اس نے کہا کہ کیا یہ بات عقل میں آتی ہے کہ جس بچے نے کھایا پیا اور نہ ہی چیخاچلایا (اس کی دیت دی جائے) ایسی چیزوں میں تو نرمی کی جاتی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مقفی عبارتیں شاعروں کی طرح بنا کر کہہ رہا ہے، لیکن مسئلہ پھر بھی وہی ہے کہ اس میں ایک غرہ یعنی غلام یا باندی واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9655
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5758، م: 1681
حدیث نمبر: 9656
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عن مُحَمَّدُ , حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ : " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ ، أَوْ تُرَى لَهُ , جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤمن کا اچھا خواب " جو وہ خود دیکھے یا کوئی دوسرا اس کے لئے دیکھے " اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9656
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6988، م: 2263
حدیث نمبر: 9657
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " تَنَامُ عَيْنِي ، وَلَا يَنَامُ قَلْبِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری آنکھیں تو سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9657
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 9658
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ ؟ ، قَالَ : " الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ ، وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ ، وَلَا تُخَالِفُهُ فِيمَا يَكْرَهُ فِي نَفْسِهَا ، وَمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سی عورت سب سے بہتر ہے ؟ فرمایا وہ عورت کہ جب خاوند اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے جب حکم دے تو اس کی بات مانے اور اپنی ذات اور اس کے مال میں جو چیز اس کے خاوند کو ناپسند ہو اس میں اپنے خاوند کی مخالفت نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9658
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 9659
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَغْلِبَنَّكُمْ أَهْلُ الْبَادِيَةِ ، عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیہاتی لوگ کہیں تمہاری نماز (عشاء) کے نام پر غالب نہ آجائیں (اور تم بھی اسے " عتمہ " کہنے لگو)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9659
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 9660
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَدْنَى أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا ، رَجُلٌ يُجْعَلُ لَهُ نَعْلَانِ يَغْلِي ، مِنْهُمَا دِمَاغُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم میں سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جن سے اس کا دماغ ہنڈیا کی طرح جوش مارے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9660
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وإسناده قوي
حدیث نمبر: 9661
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أُقَاتِلُ النَّاسَ ، حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لاالہ الا اللہ نہ کہہ لیں، جب وہ یہ کلمہ کہہ لیں تو انہوں نے اپنی جان مال کو مجھ سے محفوظ کرلیا الاّ یہ کہ اس کلمہ کا کوئی حق ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9661
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 9662
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُمَيٌّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَطَسَ ، وَضَعَ ثَوْبَهُ أَوْ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ ، وَخَفَضَ أَوْ غَضَّ مِنْ صَوْتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب چھینک آتی تو اپنا ہاتھ یا کپڑا چہرہ پر رکھ لیتے اور آواز کو پست رکھتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9662
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 9663
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " نَعَى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَّ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، فَخَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ أَصْحَابُهُ خَلْفَهُ , فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دن نجاشی فوت ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی موت کی اطلاع ہمیں دی اور عیدگاہ کی طرف نکلے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں باندھ لیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں چار تکبیرات کہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9663
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1245، م: 951
حدیث نمبر: 9664
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ فَلْيُسَلِّمْ ، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ ، ثُمَّ إِنْ قَامَ وَالْقَوْمُ جُلُوسٌ فَلْيُسَلِّمْ ، فَلَيْسَتْ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں پہنچے تو اسے سلام کرنا چاہئے پھر اگر بیٹھنا چاہئے تو بیٹھ جائے اور جب کسی مجلس سے جانے کے لئے کھڑا ہونا چاہے تب بھی سلام کرنا چاہئے اور پہلا موقع دوسرے موقع سے زیادہ حق نہیں رکھتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9664
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 9665
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمْ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ : الْإِمَامُ الْعَادِلُ ، وَشَابٌّ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللَّهِ ، وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُتَعَلِّقٌ بِالْمَسَاجِدِ ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ أَخْفَاهَا لَا تَعْلَمُ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ ، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امرأة ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ إِلَى نَفْسِهَا ، قَالَ : أَنَا أَخَافُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سات قسم کے آدمیوں کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطاء فرمائے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ کہیں سایہ نہ ہوگا۔ (١) عادل حکمران (٢) اللہ کی عبادت میں نشو و نما پانے والا نوجوان (٣) وہ آدمی جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو۔ (٤) وہ دو آدمی جو صرف اللہ کی رضا کے لئے ایک دوسرے سے محبت کریں، اسی پر جمع ہوں اور اسی پر جدا ہوں۔ (٥) وہ آدمی جو اس خفیہ طریقے سے صدقہ دے کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔ (٦) وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑیں۔ (٧) وہ آدمی جسے کوئی منصب و جمال والی عورت اپنی ذات کی دعوت دے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا الہٰی میں دو کمزوروں یعنی یتیم اور عورت کا مال ناحق کھانے کو حرام قرار دیتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9665
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 660، م: 1031
حدیث نمبر: 9666
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِيفَيْنِ : الْيَتِيمِ ، وَالْمَرْأَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وٹے سٹے کے نکاح سے " جس میں مہر مقرر کئے بغیر ایک دوسرے کے رشتے کے تبادلے ہی کو مہر سمجھ لیا جائے " منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9666
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 9667
حَدَّثَنَا عَبْدُ الله بْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشِّغَارِ ، قَالَ : وَالشِّغَارُ : أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ وَأُزَوِّجُكَ ابْنَتِي ، أَوْ زَوِّجْنِي أُخْتَكَ وَأُزَوِّجُكَ أُخْتِي " . قَالَ : " وَنَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ ، وَعَنِ الْحَصَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں مار کر بیع کرنے سے اور دھوکہ کی تجارت سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9667
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1513، 1416
حدیث نمبر: 9668
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَوْرٌ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " الْعَيْنُ حَقٌّ ، وَيَحْضُرُ بِهَا الشَّيْطَانُ , وَحَسَدُ ابْنِ آدَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نظر کا لگنا برحق ہے اور شیطان اس وقت موجود ہوتا ہے اور انسان حسد کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9668
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: قوله: « العين الحق » صحيح فقط ، خ: 5740، م: 2187، وهذا إسناد منقطع، مکحول لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 9669
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " غُفِرَ لِرَجُلٍ نَحَّى غُصْنَ شَوْكٍ عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی نے مسلمانوں کے راستے سے ایک کانٹے دار ٹہنی کو ہٹایا، اس کی برکت سے اس کی بخشش ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9669
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1914