حدیث نمبر: 9590
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 9591
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ الْوُضُوءِ ، وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِ اللَّيْلِ ، فَإِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفُ اللَّيْلِ ، نَزَلَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا , فَقَالَ : هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ ؟ ، هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَأَغْفِرَ لَهُ ؟ ، هَلْ مِنْ تَائِبٍ فَأَتُوبَ عَلَيْهِ ؟ ، هَلْ مِنْ دَاعٍ فَأُجِيبَهُ ؟ ، " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے اور نماز عشاء کو تہائی یا نصف رات تک مؤخر کرنے کا حکم دیتا۔ کیونکہ تہائی یا نصف رات گذرنے کے بعد اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اسے عطاء کروں ؟ ہے کوئی گناہوں کی معافی مانگنے والا کہ میں اسے معاف کروں ؟ ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں اس کی توبہ قبول کروں ؟ ہے کوئی پکارنے والا کہ اس کی پکار کو قبول کروں ؟
حدیث نمبر: 9592
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ " ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، وَقَالَ : " فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا " ، وَقَالَ فِيهِ : " حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس کے آخر میں یہ بھی ہے کہ یہ طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 9593
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ ، خِيَارُهُمْ أَتْبَاعٌ لِخِيَارِهِمْ ، وَشِرَارُهُمْ أَتْبَاعٌ لِشِرَارِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اس دین کے معاملے میں تمام لوگ قریش کے تابع ہیں اچھے لوگ اچھوں کے اور برے لوگ بروں کے تابع ہیں
حدیث نمبر: 9594
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : الْإِمَامُ الْكَذَّابُ ، وَالشَّيْخُ الزَّانِي ، وَالْعَامِلُ الْمَزْهُوُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین آدمی ایسے ہیں جن پر اللہ قیامت کے دن نظر کرم نہ فرمائے گا جھوٹاحکمران، بڈھازانی، شیخی خورا فقیر۔
حدیث نمبر: 9595
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِيَنَّ جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ " ، وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً : " أَوْ لِيَصْمُتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو نہ ستائے جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کا اکرام کرنا چاہئے اور جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔
حدیث نمبر: 9596
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَبُلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ، وَلَا يَغْتَسِلْ فِيهِ مِنَ الْجَنَابَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے اور نہ ہی غسل جنابت۔
حدیث نمبر: 9597
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ بِيَدِهِ عَلَى نَفْسِهِ ، إِنَّ رَحْمَتِي تَغْلِبُ غَضَبِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جب مخلوق کو وجود عطاء کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس کتاب میں جو اس کے پاس عرش پر ہے لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔
حدیث نمبر: 9598
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ اسْمِي وَكُنْيَتِي ، فَإِنِّي أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ ، اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُعْطِي ، وَأَنَا أَقْسِمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا نام اور کنیت اپنے اندر جمع نہ کرو (صرف نام رکھو یا صرف کنیت) کیونکہ میری کنیت ابوالقاسم ہے اللہ تعالیٰ عطاء فرماتے ہیں اور میں تقسیم کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 9599
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَافَرَ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ ، وَسُوءِ الْمَنْظَرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ ، اللَّهُمَّ اطْوِ لَنَا الْأَرْضَ ، وَهَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سفر پر جاتے تو یہ دعا پڑھتے اے اللہ میں سفر کی مشکلات واپسی کی پریشانیوں اور اپنے اہل خانہ اور مال میں برے منظر کے دیکھنے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ آپ سفر میں میرے ساتھی اور اہل خانہ میں میرے جانشین ہیں، اے اللہ ہمارے لئے زمین کو لپیٹ دے اور ہم پر سفر کو آسان فرما۔
حدیث نمبر: 9600
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَغْلِبَنَّكُمْ أَهْلُ الْبَادِيَةِ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیہاتی لوگ کہیں تمہاری نماز (عشاء) کے نام پر غالب نہ آجائیں (اور تم بھی اسے عتمہ کہنے لگو)
حدیث نمبر: 9601
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میت کو غسل دے اسے چاہئے کہ خود بھی غسل کرلے۔
حدیث نمبر: 9602
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " كَانَ جُرَيْجٌ يَتَعَبَّدُ فِي صَوْمَعَتِهِ ، قَالَ : فَأَتَتْهُ أُمُّهُ ، فَقَالَتْ : يَا جُرَيْجُ ، أَنَا أُمُّكَ فَكَلِّمْنِي . قَالَ : وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَصِفُ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصِفُهَا ، وَضَعَ يَدَهُ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ ، قَالَ : فَصَادَفَتْهُ يُصَلِّي ، فَقَالَ : يَا رَبِّ , أُمِّي وَصَلَاتِي ! فَاخْتَارَ صَلَاتَهُ ، فَرَجَعَتْ ثُمَّ أَتَتْهُ فَصَادَفَتْهُ يُصَلِّي ، فَقَالَتْ : يَا جُرَيْجُ ، أَنَا أُمُّكَ فَكَلِّمْنِي ، فَقَالَ : يَا رَبِّ , أُمِّي وَصَلَاتِي ! فَاخْتَارَ صَلَاتَهُ ، ثُمَّ أَتَتْهُ فَصَادَفَتْهُ يُصَلِّي ، فَقَالَتْ : يَا جُرَيْجُ ، أَنَا أُمُّكَ فَكَلِّمْنِي ، قَالَ : يَا رَبِّ , أُمِّي وَصَلَاتِي ! فَاخْتَارَ صَلَاتَهُ ، فَقَالَتْ : اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا جُرَيْجٌ ، وَإِنَّهُ ابْنِي ، وَإِنِّي كَلَّمْتُهُ فَأَبَى أَنْ يُكَلِّمَنِي ، اللَّهُمَّ فَلَا تُمِتْهُ حَتَّى تُرِيَهُ الْمُومِسَاتِ ، وَلَوْ دَعَتْ عَلَيْهِ أَنْ يُفْتَتَنَ لَافْتُتِنَ . قَالَ : وَكَانَ رَاعٍ يَأْوِي إِلَى دَيْرِهِ ، قَالَ : فَخَرَجَتِ امْرَأَةٌ فَوَقَعَ عَلَيْهَا الرَّاعِي ، فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقِيلَ : مِمَّنْ هَذَا ؟ ، فَقَالَتْ : هُوَ مِنْ صَاحِبِ الدَّيْرِ . فَأَقْبَلُوا بِفُؤُوسِهِمْ وَمَسَاحِيهِمْ وَأَقْبَلُوا إِلَى الدَّيْرِ فَنَادَوْهُ ، فَلَمْ يُكَلِّمْهُمْ ، فَأَخَذُوا يَهْدِمُونَ دَيْرَهُ ، فَنَزَلَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : سَلْ هَذِهِ الْمَرْأَةَ . قَالَ : أُرَاهُ تَبَسَّمَ . قَالَ : ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَ الصَّبِيِّ ، فَقَالَ : مَنْ أَبُوكَ ؟ ، قَالَ : رَاعِي الضَّأْنِ . فَقَالُوا : يَا جُرَيْجُ نَبْنِي مَا هَدَمْنَا مِنْ دَيْرِكَ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ . قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ أَعِيدُوهُ تُرَابًا كَمَا كَانَ . فَفَعَلُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بنی اسرائیل میں ایک شخص کا نام جریج تھا یہ ایک مرتبہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کی ماں نے آ کر آواز دی جریج بیٹا ! میری طرف جھانک کر دیکھو میں تمہاری ماں ہوں تم سے بات کرنے کے لئے آئی ہوں یہ اپنے دل میں کہنے لگا کہ والدہ کو جواب دوں یا نماز پڑھوں آخرکار ماں کو جواب نہیں دیا کئی مرتبہ اسی طرح ہوا بالاآخر ماں نے (بددعا دی اور) کہا الٰہی جب تک اس کا بدکار عورتوں سے واسطہ نہ پڑجائے اس پر موت نہ بھیجنا۔ ادھر ایک باندی اپنے آقا کی بکریاں چراتی تھی اور اس کے گرجے کے نیچے آ کر پناہ لیتی تھی اس نے بدکاری کی اور امید سے ہوگئی لوگوں نے اسے پکڑ لیا اس وقت رواج یہ تھا کہ زانی کو قتل کردیا جائے لوگوں نے اس سے پوچھا کہ یہ بچہ کس کا ہے ؟ اس نے کہا کہ یہ لڑکا جریج کا ہے لوگ کلہاڑیاں اور رسیاں لے کر جریج کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے ریاکار جریج ! نیچے اتر جریج نے نیچے اترنے سے انکار کردیا اور نماز پڑھنے لگا لوگوں نے اس کا گرجا ڈھانا شروع کردیا جس پر وہ نیچے اتر آیا لوگ جریج اور عورت کی گردن میں رسی ڈال کر انہیں لوگوں میں گھمانے لگے اس نے بچے کے پیٹ پر انگلی رکھ کر اس سے پوچھا اے لڑکے تیرا باپ کون ہے ؟ لڑکا بولا فلاں چرواہا لوگ (یہ صداقت دیکھ کر) کہنے لگے ہم تیرا عبادت خانہ سونے چاندی کا بنائے دیتے ہیں جریج نے جواب دیا جیسا تھا ویسا ہی بنادو۔
حدیث نمبر: 9603
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ تَاجِرًا ، وَكَانَ يَنْقُصُ مَرَّةً ، وَيَزِيدُ أُخْرَى ، فَقَالَ : مَا فِي هَذِهِ التِّجَارَةِ خَيْرٌ ، أَلْتَمِسُ تِجَارَةً هِيَ خَيْرٌ مِنْ هَذِهِ ، فَبَنَى صَوْمَعَةً ، وَتَرَهَّبَ فِيهَا ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ جُرَيْجٌ " , فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک آدمی تاجر تھا اسے تجارت میں کبھی نقصان ہوتا اور کبھی نفع اس نے دل میں سوچا کہ یہ کیسی تجارت ہے اس سے بہتر یہ ہے کہ میں کوئی ایسی تجارت تلاش کروں جس میں نفع ہی نفع ہو چنانچہ اس نے ایک گرجا بنا لیا اور اس میں راہبانہ زندگی گذارنے لگا اس کا نام جریج تھا اس کے بعد راوی نے گزشتہ حدیث مکمل ذکر کی۔
حدیث نمبر: 9604
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ ، وَلَا يَقُلْ : قَبَّحَ اللَّهُ وَجْهَكَ , وَوَجْهَ مَنْ أَشْبَهَ وَجْهَكَ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَى صُورَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے اور یہ نہ کہے کہ اللہ تمہارا اور تم سے مشابہت رکھنے والے کا چہرہ ذلیل کرے کیونکہ اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔
حدیث نمبر: 9605
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ ، وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ إِذْنُهَا ؟ قَالَ : " أَنْ تَسْكُتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری لڑکی سے نکاح کی اجازت لی جائے اور شوہردیدہ عورت سے مشورہ کیا جائے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنواری لڑکی شرماتی ہے (تو اس سے اجازت کیسے حاصل کی جائے ؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی کی علامت ہے۔
حدیث نمبر: 9606
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ لَا شَكَّ فِيهِنَّ : دَعْوَةُ الْمُسَافِرِ ، وَالْمَظْلُومِ ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان کی قبولیت میں کوئی شک و شبہ نہیں مظلوم کی دعا مسافر کی دعا اور باپ کی اپنے بیٹے کے متعلق دعا۔
حدیث نمبر: 9607
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ سَجَدَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ، قُلْتُ : تَسْجُدُ فِيهَا ؟ قَالَ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَجَدَ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے سورت انشقاق کی تلاوت کی اور آیت سجدہ پر پہنچ کر سجدہ تلاوت کیا میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو اس سورت میں سجدہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا ؟ انہوں نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سجدہ فرمایا ہے
حدیث نمبر: 9608
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ الْمَعْنَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَمْعَانَ ، قَالَ : أَتَانَا أَبُو هُرَيْرَةَ فِي مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ ، قَالَ : " ثَلَاثٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِنَّ ، قَدْ تَرَكَهُنَّ النَّاسُ : كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ مَدًّا إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ , وَيُكَبِّرُ كُلَّمَا رَكَعَ وَرَفَعَ ، وَالسُّكُوتُ قَبْلَ الْقِرَاءَةِ يَسْأَلُ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ " . قَالَ يَزِيدُ : يَدْعُو وَيَسْأَلُ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ .
مولانا ظفر اقبال
سعید بن سمعان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مسجد بنی زریق میں ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمل فرماتے تھے لیکن اب لوگوں نے انہیں چھوڑ دیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر رفع یدین کرتے تھے ہر جھکنے اور اٹھنے کے موقع پر تکبیر کہتے تھے اور قرأت سے کچھ پہلے سکوت فرماتے اور اس میں اللہ سے اس کا فضل مانگتے تھے۔
حدیث نمبر: 9609
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلَّهِ مِائَةُ رَحْمَةٍ ، أَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ وَالْهَوَامِّ ، فَبِهَا يَتَعَاطَفُونَ ، وَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ ، وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَى أَوْلَادِهَا ، وَأَخَّرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں جن میں سے اللہ نے تمام جن و انس اور جانوروں پر صرف ایک رحمت نازل فرمائی ہے اسی کی برکت سے وہ ایک دوسرے پر مہربانی کرتے اور رحم کھاتے ہیں اور اسی ایک رحمت کے سبب وحشی جانور تک اپنی اولاد پر مہربانی کرتے ہیں اور باقی ننانوے رحمتیں اللہ نے قیامت کے دن کے لئے رکھ چھوڑی ہیں جن کے ذریعے وہ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔
حدیث نمبر: 9610
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ كَيْسَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم لِعَمِّهِ : " قُلْ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدْ لَكَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ : لَوْلَا أَنْ تُعَيِّرَنِي قُرَيْشٌ ، يَقُولُونَ : إِنَّمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ الْجَزَعُ ، لَأَقْرَرْتُ بِهَا عَيْنَكَ . فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّكَ لا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ سورة القصص آية 56 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا (خواجہ ابو طالب سے ان کی موت کے وقت) فرمایا کہ لاالہ الا اللہ " کا اقرار کرلیجئے میں قیامت کے دن اس کے ذریعے آپ کے حق میں گواہی دوں گا انہوں نے کہا کہ اگر مجھے قریش کے لوگ یہ طعنہ نہ دیتے کہ خوف کی وجہ سے انہوں نے یہ کلمہ پڑھا ہے تو میں آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کردیتا اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں دے سکتے۔
حدیث نمبر: 9611
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبِي هُرَيْرَةَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ مِرَارًا : وَالَّذِي نَفْسُ أَبَا هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ ، " مَا شَبِعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأَهْلُهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ حِنْطَةٍ ، حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا " .
مولانا ظفر اقبال
ابوحازم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی انگلیوں سے اشارے کرتے جا رہے ہیں اور فرماتے جا رہے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل خانہ نے کبھی بھی مسلسل تین دن گندم کی روٹی سے پیٹ نہیں بھرا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے
حدیث نمبر: 9612
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ " . وَقَالَ : وَقَالَ : " لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ ، فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیمار جانوروں کو تندرست جانوروں کے پاس نہ لایا کرو نیز فرمایا بیماری متعدی ہونے، بدشگونی اور الو کے منحوس ہونے کی کوئی اصلیت نہیں، ورنہ پہلے آدمی کو اس بیماری میں کس نے مبتلا کیا۔
حدیث نمبر: 9613
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " ، وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً : " لَا صَدَقَةَ إِلَّا مِنْ ظَهْرِ غِنًى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اصل صدقہ تو دل کے غناء کے ساتھ ہوتا ہے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9614
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ حَدَثٍ أَوْ رِيحٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضو اسی وقت واجب ہوتا ہے جب حدث لاحق ہو یا خروج ریح ہو۔
حدیث نمبر: 9615
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مَالِكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ . ح وَحدَّثَنَا وَحَجَّاجٌ يعني الأعور , قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَعْنَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كَانَتْ يَعْنِي عِنْدَهُ مَظْلَمَةٌ فِي مَالِهِ أَوْ عِرْضِهِ ، فَلْيَأْتِهِ فَلْيَسْتَحِلَّهَا مِنْهُ قَبْلَ أَنْ يُؤْخَذَ أَوْ تُؤْخَذَ ، وَلَيْسَ عِنْدَهُ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ حَسَنَاتِهِ فَأُعْطِيَهَا هَذَا ، وَإِلَّا أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ هَذَا فَأُلْقِيَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے کسی پر مال یا آبرو کے حوالے سے ظلم کیا ہو تو ابھی جا کر اس سے معافی مانگ لے اس سے پہلے کہ وہ دن آجائے جہاں کوئی درہم اور دینار نہ ہوگا اگر اس کی نیکیاں ہوئیں تو اس کی نیکیاں دے کر ان کا بدلہ دلوایا جائے گا اگر اس کے گناہوں کا فیصلہ مکمل ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں تو حقداروں کے گناہ لے کر اس پر لاد دئیے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 9616
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " كُلُّ الصَّلَاةِ يُقْرَأُ فِيهَا , فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر نماز میں ہی قرأت کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرأت سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قراءت فرمائی ہے اس میں ہم بھی سراً قرأت کریں گے۔
حدیث نمبر: 9617
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ يَحْيَى : وَرُبَّمَا ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا يَتَقَرَّبُ الْعَبْدُ إِلَيَّ شِبْرًا إِلَّا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا ، وَلَا يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ ذِرَاعًا إِلَّا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا ، أَوْ بُوعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے بندہ اگر ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں پورے ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں۔
حدیث نمبر: 9618
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الَّذِي يَطْعَنُ نَفْسَهُ إِنَّمَا يَطْعَنُهَا فِي النَّارِ ، وَالَّذِي يَتَقَحَّمُ فِيهَا يَتَقَحَّمُ فِي النَّارِ ، وَالَّذِي يَخْنُقُ نَفْسَهُ يَخْنُقُهَا فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے آپ کو کسی تیز دھار آلے سے قتل کرلے (خودکشی کرلے) اس کا وہ تیز دھار آلہ اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ جہنم کے اندر اپنے پیٹ میں گھونپتا ہوگا اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا جو شخص زہر پی کر خودکشی کرلے اس کا وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ جہنم کے اندر پھانکتا ہوگا اور وہاں ہمیشہ ہمیش رہے گا اور جو شخص اپنا گلا گھونٹ کر خودکشی کرلے وہ جہنم میں بھی اپنا گلا گھونٹتا رہے گا۔
حدیث نمبر: 9619
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَعْنِي : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : أَنَا خَيْرُ الشُّرَكَاءِ ، مَنْ عَمِلَ لِي عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ غَيْرِي ، فَأَنَا مِنْهُ بَرِيءٌ ، وَهُوَ لِلَّذِي أَشْرَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پروردگار کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ میں تمام شرکاء میں سب سے بہتر ہوں جو شخص کوئی عمل سر انجام دے اور اس میں میرے ساتھ کسی کو شریک کرے تو میں اس سے بیزار ہوں اور وہ عمل اسی کا ہوگا جسے اس نے میرا شریک قرار دیا۔
حدیث نمبر: 9620
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ بِمَا أَخَذَ مِنَ الْمَالِ ، بِحَلَالٍ أَوْ بِحَرَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں آدمی کو اس چیز کی کوئی پرواہ نہ ہوگی کہ وہ حلال طریقے سے مال حاصل کر رہا ہے یا حرام طریقے سے۔
حدیث نمبر: 9621
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو . ح وَيَزِيدُ قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔
حدیث نمبر: 9622
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِينَ ، اخْتَتَنَ بِالْقَدُومِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے اسی سال کی عمر میں اپنے ختنے کئے جس جگہ ختنے کئے اس کا نام " قدوم " تھا۔
حدیث نمبر: 9623
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَدُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ ، وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ , فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً ، ثُمَّ قَالَ : " أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَهَلْ تَدْرُونَ لِمَ ذَلِكَ ؟ ، يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ، يُسْمِعُهُمْ الدَّاعِي ، وَيَنْفُذُهُمْ الْبَصَرُ ، وَتَدْنُو الشَّمْسُ ، فَيَبْلُغُ النَّاسَ مِنَ الْغَمِّ وَالْكَرْبِ مَا لَا يُطِيقُونَ ، وَلَا يَحْتَمِلُونَ ، فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ : أَلَا تَرَوْنَ إِلَى مَا أَنْتُمْ فِيهِ ؟ أَلَا تَرَوْنَ إِلَى مَا قَدْ بَلَغَكُمْ ؟ أَلَا تَنْظُرُونَ مَنْ يَشْفَعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ ؟ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ : أَبُوكُمْ آدَمُ . فَيَأْتُونَ آدَمَ ، فَيَقُولُونَ : يَا آدَمُ ، أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ ، وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ ؟ أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ؟ فَيَقُولُ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام : إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا ، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَإِنَّهُ نَهَانِي عَنِ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ نَفْسِي ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي ، اذْهَبُوا إِلَى نُوحٍ . فَيَأْتُونَ نُوحًا ، فَيَقُولُونَ : يَا نُوحُ ، أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ ، وَسَمَّاكَ اللَّهُ عَبْدًا شَكُورًا ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ ؟ أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ؟ فَيَقُولُ نُوحٌ : إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا ، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَإِنَّهُ كَانَتْ لِي دَعْوَةٌ عَلَى قَوْمِي , نَفْسِي ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي ، اذْهَبُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ . فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ ، فَيَقُولُونَ : يَا إِبْرَاهِيمُ أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ ، وَخَلِيلُهُ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ ؟ أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ؟ فَيَقُولُ لَهُمْ إِبْرَاهِيمُ : إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا ، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، فَذَكَرَ كَذِبَاتِهِ , نَفْسِي ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي ، اذْهَبُوا إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام . فَيَأْتُونَ مُوسَى ، فَيَقُولُونَ : يَا مُوسَى أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ ، وَبِتَكْلِيمِهِ عَلَى النَّاسِ ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ ؟ أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ؟ فَيَقُولُ لَهُمْ مُوسَى : إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا ، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَإِنِّي قَتَلْتُ نَفْسًا لَمْ أُومَرْ بِقَتْلِهَا , نَفْسِي ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، نَفْسِي ، اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي ، اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى . فَيَأْتُونَ عِيسَى ، فَيَقُولُونَ : يَا عِيسَى أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ، وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ ، قَالَ : هَكَذَا هُوَ وَكَلَّمْتَ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ ؟ أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ؟ فَيَقُولُ لَهُمْ عِيسَى : إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا ، لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ ، وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ لَهُ ذَنْبًا اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي ، اذْهَبُوا إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَيَأْتُونِي ، فَيَقُولُونَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ، وَخَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ ، غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ذَنْبَكَ ، مَا تَقَدَّمَ مِنْهُ وَمَا تَأَخَّرَ ، فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ ، أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ ؟ أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا ؟ فَأَقُومُ ، فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ ، فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ، ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ , وَيُلْهِمُنِي مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَى أَحَدٍ قَبْلِي , فَيُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ , وَسَلْ تُعْطَهْ , اشْفَعْ تُشَفَّعْ . فَأَقُولُ : يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي ، يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي ، يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي ، يَا رَبِّ . فَيَقُولُ : يَا مُحَمَّدُ أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِكَ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِ مِنَ الْبَابِ الْأَيْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ ، وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ ، فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْأَبْوَابِ " ، ثُمَّ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَمَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ ، كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرَ ، أَوْ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَبُصْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ کچھ گوشت پیش کیا گیا اور بکری کی دستی اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دست کا گوشت پسند تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانتوں سے اس کا کچھ گوشت نوچا پھر فرمایا کہ قیامت کے دن میں سب لوگوں کو سردار ہوں گا اور کیا تم کو علم ہے کہ میرے سردار ہونے کی کیا وجہ ہے ؟ وجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اگلے پچھلے سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کرے گا ایک پکارنے والا ان کو (اپنی آواز) سنائے گا اور نگاہیں دوسری طرف کی سب چیزیں دیکھ سکیں گے اور سورج (سروں کے) قریب ہوجائے گا اور لوگوں پر ناقابل برداشت غم کا ہجوم ہوگا۔ بعض لوگ کہیں گے دیکھو تمہاری حالت کس نوبت تک پہنچ گئی ہے کوئی ایسا آدمی تلاش کرنا چاہئے جو خدا تعالیٰ کے سامنے ہماری سفارش کرے چنانچہ بعض لوگ کہیں گے کہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس چلو سب لوگ آدم علیہ السلام کے پاس پہنچ کر کہیں گے آپ سب آدمیوں کے باپ ہیں آپ کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور آپ کے اندر اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا فرشتوں نے آپ کو سجدہ کیا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم کس مصیبت میں ہیں کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہماری کیا حالت ہوگئی آپ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہماری سفارش کر دیجئے۔ حضرت آدم علیہ السلام فرمائیں گے آج میرا رب اس قدر غضب میں ہے کہ نہ اس سے قبل کبھی اتنے غضب میں ہوا ہے نہ بعد میں ہوگا۔ اس نے مجھے درخت کے کھانے کی ممانعت فرمائی لیکن میں نے اس کا فرمان نہ مانا نفسی نفسی نفسی تم مجھے چھوڑ کر نوح کے پاس جاؤ۔ لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے آپ زمین پر اللہ کے سب سے پہلے رسول ہیں اللہ نے آپ کا نام شکر گزار بندہ رکھا ہے آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہم کس مصیبت میں مبتلا ہیں اللہ کے سامنے ہماری سفارش کر دیجئے۔ حضرت نوح علیہ السلام کہیں گے آج میرا پروردگار اس قدر غضب میں ہے کہ نہ اس سے قبل کبھی اتنا غضبناک ہوا نہ بعد میں ہوگا میں تو اپنی قوم کے لئے بدعا کرچکا ہوں (جس سے تمام قوم غرق آب ہوگئی تھی) نفسی نفسی نفسی تم مجھے چھوڑ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور کہیں گے آپ اللہ کے نبی اور خلیل ہیں آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہم کس مصیبت میں مبتلا ہیں اللہ کے سامنے سفارش کر دیجئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کہیں گے آج میرا پروردگار اس قدر غضب میں ہے کہ نہ اس سے قبل کبھی اتنا غضب ناک ہوا نہ بعد میں ہوگا اور میں نے تو (دنیا میں) تین جھوٹ بولے تھے نفسی نفسی نفسی تم مجھے چھوڑ کر موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جا کر کہیں گے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اللہ نے تمام آدمیوں پر آپ کو ہم کلام ہونے کی فضیلت عطاء کی ہے آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہم کس مصیبت میں مبتلا ہیں آپ اللہ سے ہماری سفارش کر دیجئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کہیں گے آج میرا پروردگار اس قدر غضب میں ہے کہ نہ اس سے قبل کبھی اتنا غضب ناک ہوا نہ بعد میں ہوگا اور مجھ سے تو ایک قتل سرزد ہوگیا جس کا مجھ کو حکم نہ ہوا تھا نفسی نفسی نفسی تم مجھے چھوڑ کر عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے جا کر کہیں گے آپ اللہ کے رسول اور کلمہ ہیں اور آپ روح اللہ بھی ہیں آپ نے اس وقت لوگوں سے کلام کیا جب بہت چھوٹے جھولے میں پڑے تھے اللہ تعالیٰ سے آج ہماری سفارش کر دیجئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنا قصور ذکر نہیں کریں گے البتہ یہ فرمائیں گے آج میرا پروردگار اس قدر غضب میں ہے کہ نہ اس سے قبل کبھی اتنا غضب ناک ہوا نہ بعد میں ہوگا تم مجھے چھوڑ کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ لوگ مجھ سے آ کر کہیں گے آپ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے قصور معاف فرما دیئے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے ہیں کہ ہم کس قدر مصیبت میں ہیں ہماری سفارش اللہ کے سامنے کر دیجئے میں یہ سن کر فوراً جا کر عرش کے نیچے اپنے رب کے سامنے سجدہ میں گر پڑوں گا اللہ تعالیٰ میری زبان پر اپنی وہ حمدوثنا جاری کرا دے گا جو مجھ سے پہلے کسی کی زبان سے جاری نہ کرائی ہوگی پھر حکم ہوگا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سر اٹھا کر استدعاء پیش کرو تمہارا سوال پورا کیا جائے گا تم سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی میں سر اٹھا کر عرض کروں گا پروردگار میری امت پروردگار میری امت حکم ہوگا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو بےحساب کتاب بہشت میں داہنے دروازے سے داخل کرو اور دیگر دروازوں میں بھی یہ لوگ ساتھ شریک ہیں (یعنی
حدیث نمبر: 9624
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ ، فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ ، فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ ، فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ ، غَضِبْتَ وَقُمْتَ ؟ ! ، قَالَ : " إِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَنْكَ ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ وَقَعَ الشَّيْطَانُ ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ " . ثُمَّ قَالَ : " يَا أَبَا بَكْرٍ ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ : مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلِمَ بِمَظْلَمَةٍ فَيُغْضِي عَنْهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا أَعَزَّ اللَّهُ بِهَا نَصْرَهُ ، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ عَطِيَّةٍ يُرِيدُ بِهَا صِلَةً إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا كَثْرَةً ، وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ يُرِيدُ بِهَا كَثْرَةً إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا قِلَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے سکوت پر تعجب اور تبسم فرماتے رہے لیکن جب وہ آدمی حد سے ہی آگے بڑھ گیا تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے بھی اس کی کسی بات کا جواب دیا اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناراضگی میں وہاں سے کھڑے ہوگئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پیچھے سے جا کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تک وہ مجھے برا بھلا کہتا رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہے اور جب میں نے اس کی کسی بات کا جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آ کر کھڑے ہوگئے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو تمہاری جانب سے اسے جواب دے رہا تھا اور جب تم نے اسے جواب دیا تو درمیان میں شیطان آگیا اس لئے میں شیطان کی موجودگی میں نہ بیٹھ سکا۔ پھر فرمایا ابوبکر ! تین چیزیں برحق ہیں (١) جس بندے پر ظلم ہو اور وہ اللہ کی خاطر اس پر خاموشی اختیار کرلے اللہ اس کی زبردست مدد ضرور فرماتا ہے (٢) جو آدمی صلہ رحمی کے لئے جود و سخا کا دروازہ کھولتا ہے اللہ اس کے مال میں اتنا ہی اضافہ کرتا ہے (٣) اور جو آدمی اپنے اوپر مانگنے کا دروازہ کھولتا ہے تاکہ اپنا مال بڑھا لے اللہ اس کی قلت میں اور اضافہ کردیتا ہے۔
حدیث نمبر: 9625
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ : مَرَّ أَبِي عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ ، قَالَ : غُنَيْمَةً لِي . قَالَ : نَعَمْ ، " امْسَحْ رُعَامَهَا ، وَأَطِبْ مُرَاحَهَا ، وَصَلِّ فِي جَانِبِ مُرَاحِهَا ، فَإِنَّهَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ ، وَأْنَسْ بِهَا " ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّهَا أَرْضٌ قَلِيلَةُ الْمَطَرِ " ، قَالَ : يَعْنِي الْمَدِينَةَ .
مولانا ظفر اقبال
وہب بن کیسان رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے والد صاحب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے انہوں نے پوچھا کہ کہاں کا ارادہ ہے ؟ والد صاحب نے جواب دیا کہ اپنی بکریوں کے باڑے میں جا رہا ہوں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اچھا ان کی ناک صاف کرنا چرنے کی جگہ کو صاف رکھنا اور چراگاہ میں ان کے ساتھ نرمی برتنا کیونکہ یہ جنت کے جانور ہیں اور ان کے ساتھ انس رکھا کرو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سر زمین مدینہ کے متعلق فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ علاقہ کم بارشوں والا ہے۔
حدیث نمبر: 9626
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَلْمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنَ الْخَيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے گھوڑے کو ناپسند فرماتے تھے جس کی تین ٹانگوں کا رنگ سفید ہو اور چوتھی کا رنگ باقی جسم کے رنگ کے مطابق ہو۔
حدیث نمبر: 9627
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ فَصَلَّتْ ، فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ ، وَرَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ ، وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَصَلَّى ، فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے جو رات کو اٹھ کر خود بھی نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی نماز پڑھنے کے لئے جگائے اور اگر وہ انکار کرے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔
حدیث نمبر: 9628
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ ، وَبَيْعِ الْغَرَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں مار کر بیع کرنے سے اور دھوکہ کی تجارت سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 9629
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الزُّرَقِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسُبُّوا الرِّيحَ فَإِنَّهَا تَجِيءُ بِالرَّحْمَةِ وَالْعَذَابِ ، وَلَكِنْ سَلُوا اللَّهَ مِنْ خَيْرِهَا ، وَتَعَوَّذُوا مِنْ شَرِّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہوا کو برا بھلا نہ کہا کرو کیونکہ وہ تو رحمت اور زحمت دونوں کے ساتھ آتی ہے البتہ اللہ سے اس کی خیر مانگا کرو اور اس کے شر سے پناہ مانگا کرو۔
…