حدیث نمبر: 9550
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، وَكَانَ كَاتِبًا لِعَلِيٍّ ، قَالَ : كَانَ مَرْوَانُ يَسْتَخْلِفُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَاسْتَخْلَفَهُ مَرَّةً ، فَصَلَّى الْجُمُعَةَ ، فَقَرَأَ سُورَةَ الْجُمُعَةِ ، وَ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ مَشَيْتُ إِلَى جَنْبِهِ ، فَقُلْتُ : أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَرَأْتَ بِسُورَتَيْنِ ، قَرَأَ بِهِمَا عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَام ، قَالَ : " قَرَأَ بِهِمَا حِبِّي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی رافع " جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کاتب تھے " کہتے ہیں کہ مروان اپنی غیر موجودگی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ پر اپنا جانشین بنا کرجاتا تھا ایک مرتبہ اس نے انہیں اپنا جانشین بنایا تو نماز جمعہ بھی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہی پڑھائی اور اس میں سورت منافقوں کی تلاوت فرمائی، نماز سے فارغ ہو کر میں ان کی ایک جانب چلنے لگا، راستے میں میں نے ان سے پوچھا کہ اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ نے بھی وہی دو سورتیں پڑھیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ دراصل میرے محبوب ! ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی دو سورتیں پڑھی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9550
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 877
حدیث نمبر: 9551
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ اتَّبَعَ جَنَازَةَ مُسْلِمٍ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا فَصَلَّى عَلَيْهَا ، وَأَقَامَ حَتَّى تُدْفَنَ رَجَعَ بِقِيرَاطَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا وَرَجَعَ قَبْلَ أَنْ تُدْفَنَ ، فَإِنَّهُ يَرْجِعُ بِقِيرَاطٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان کی نماز جنازہ ایمان اور ثواب کی نیت سے پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا جن میں سے ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9551
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 1325 ، م : 945
حدیث نمبر: 9552
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَوْفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خِلَاسٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلُ الَّذِي يَعُودُ فِي هِبَتِهِ ، مَثَلُ الْكَلْبِ إِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کو ہدیہ دے کر واپس مانگ لے اس کی مثال اس کتے کی سی ہے جو خواب سیراب ہو کر کھائے اور جب پیٹ بھر جائے تو اسے قے کر دے اور اس قے کو چاٹ کر دوبارہ کھانے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9552
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد منقطع ، خلاس لم یسمع من أبي ھریرۃ ، قد توبع
حدیث نمبر: 9553
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ , وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبَا هُرَيْرَةَ . قَالَ غُنْدَرٌ فِي حَدِيثِهِ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً دَعَا بها ، وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَدَّخِرَ دَعْوَتِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : فِي أُمَّتِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کی ایک دعاء ضرور قبول ہوتی ہے اور میں نے اپنی وہ دعاء قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے رکھ چھوڑی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9553
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 7474 ، م : 199
حدیث نمبر: 9554
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ . وَحَجَّاجٌ قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَمُرُّ بِنَا ، وَنَحْنُ نَتَوَضَّأُ مِنَ الْمَطْهَرَةِ ، فَيَقُولُ لَنَا : أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " ، قَالَ حَجَّاجٌ : " الْعَقِبِ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گذرے جو وضو کر رہے تھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وضو خوب اچھی طرح کرو کیونکہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9554
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 165 ، م : 242
حدیث نمبر: 9555
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : كَانَ مَرْوَانُ يَسْتَخْلِفُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَيَضْرِبُ بِرِجْلِهِ ، فَيَقُولُ : خَلُّوا الطَّرِيقَ ، خَلُّوا ، قَدْ جَاءَ الْأَمِيرُ ، قَدْ جَاءَ الْأَمِيرُ ، قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ ، إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ بعض اوقات مروان حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ پر اپنا نائب مقرر کرجاتا تھا وہ اسے پاؤں سے ٹھوکر مارتے اور کہتے کہ راستہ چھوڑ دو ، امیر آگیا، امیر آگیا اور ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے ازار کو زمین پر کھینچتے ہوئے چلتا ہے اللہ اس پر نظر کرم نہیں فرماتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9555
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 5788 ، م : 2087
حدیث نمبر: 9556
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھا کرو چاند دیکھ کر عید منایا کرو، اگر چاند نظر نہ آئے اور آسمان پر ابر چھایا ہو تو تیس کی گنتی پوری کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9556
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 1909 ، م : 1081
حدیث نمبر: 9557
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَحْفِهِمَا جَمِيعًا ، أَوْ انْعَلْهُمَا جَمِيعًا ، فَإِذَا انْتَعَلْتَ فَابْدَأْ بِالْيُمْنَى ، وَإِذَا خَلَعْتَ فَابْدَأْ بِالْيُسْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دونوں جوتیاں پہنا کرو یا دونوں اتار دیا کرو جب تم میں سے کوئی شخص جوتی پہنے تو دائیں پاؤں سے ابتداء کرے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاؤں کی اتارے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9557
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 5856 ، م : 2097
حدیث نمبر: 9558
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ فَلْيُجْلِسْهُ مَعَهُ ، فَإِنْ لَمْ يُجْلِسْهُ مَعَهُ ، فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ ، أو لُقْمةَ أو لُقْمَتين وقال ابن جعفر : أَكْلة أَو أَكلتينِ ، فَإِنَّهُ وَلِيَ عِلَاجَهُ وَحَرَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک دو لقمے ہی اسے دے دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9558
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 2557 ، م : 1663
حدیث نمبر: 9559
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً فَرَدَّهَا ، رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، لَا سَمْرَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص (اس دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دئیے گئے ہوں تو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کر دے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالہ کر دے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9559
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 2151 ، م : 1524
حدیث نمبر: 9560
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " كَانَ اسْمُ زَيْنَبَ بَرَّةَ ، فَسَمَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت زینب رضی اللہ عنہ کا نام پہلے برہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر ان کا نام زینب رکھ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9560
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 6192 ، م : 2141
حدیث نمبر: 9561
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة . وَابْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَحْفَظُهُ " ، قَالَ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، الم تَنْزِيلُ ، وَ هَلْ أَتَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نماز فجر میں سورت سجدہ اور سورت دہر کی تلاوت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9561
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 1068 ، م : 880
حدیث نمبر: 9562
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً ، أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ إِرْبٍ مِنْهُ إِرْبًا مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی غلام کو آزاد کرے اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد فرما دیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9562
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 2517 ، م : 1509
حدیث نمبر: 9563
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خَالِي الْحَارِثُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَتَبَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ حَظَّهَا مِنَ الزِّنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ہر انسان پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ چھوڑا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9563
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 6612 ، م : 2657
حدیث نمبر: 9564
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الضِّيَافَةَ ثَلَاثَةٌ ، فَمَا زَادَ فَهُوَ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ضیافت (مہمان نوازی) تین دن تک ہوتی ہے، اس کے بعد جو کچھ بھی وہ صدقہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9564
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، و ھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9565
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ ، وَلَا يَصْعَدُ إِلَى السَّمَاءِ إِلَّا طَيِّبٌ ، إِلَّا كَأَنَّمَا يَضَعُهَا فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُرَبِّيهَا ، كَمَا يُرَبِّي الرَّجُلُ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ ، حَتَّى إِنَّ التَّمْرَةَ لَتَعُودُ مِثْلَ الْجَبَلِ الْعَظِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ جب حلال مال میں سے کوئی چیز صدقہ کرتا ہے تو اللہ " جو حلال قبول کرتا ہے " اسے قبول فرما لیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے، اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے، حتیٰ کہ ایک کھجور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں بڑھتے بڑھتے ایک پہاڑ کے برابر بن جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9565
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 1410 ، م : 1014
حدیث نمبر: 9566
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُجَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، عَنِ الْمُحَرِّرِ بْنِ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا يَزَالُ النَّاسُ يَسْأَلُونَ ، حَتَّى يَقُولُوا : كَانَ اللَّهُ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ ، فَمَا كَانَ قَبْلَهُ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگوں پر سوال کی عادت غالب آجائے گی حتیٰ کہ وہ یہ سوال کرنے لگیں گے کہ ساری مخلوق کو تو اللہ نے پیدا کیا، پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9566
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، خ : 3276 ، م : 135 ، وھذا إسناد ضعیف لضعف مجالد
حدیث نمبر: 9567
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نُعْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ نَبِيُّ التَّوْبَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ بَرِيئًا مِمَّا قَالَ لَهُ ، إِلَّا قَامَ عَلَيْهِ يَعْنِي الْحَدَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم، نبی التوبہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے اپنے کسی غلام پر ایسے کام کی تہمت لگائی جس سے وہ بری ہو قیامت کے دن اس پر اس کی حد جاری کی جائے گی، ہاں ! اگر وہ غلام ویسا ہی ہو جیسے اس کے مالک نے کہا تو اور بات ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9567
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 6858 ، م : 1660
حدیث نمبر: 9568
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ ؟ ، قَالَ : " أَتْقَاهُمْ " ، قَالُوا : لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ . قَالَ : " فَيُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ، ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ ، ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ ، ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ " . قَالُوا : لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ . قَالَ : " فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي ؟ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ معزز آدمی کون ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو سب سے زیادہ متقی ہو، صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ سے یہ سوال نہیں پوچھ رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر حضرت یوسف علیہ السلام سب سے زیادہ معزز ہیں جو نبی ابن نبی ابن نبی ابن خلیل اللہ ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ سے یہ بھی نہیں پوچھ رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر عرب کی کانوں کے متعلق پوچھ رہے ہو ؟ ان میں جو لوگ زمانہ جاہلیت میں سب سے بہتر تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی سب سے بہتر ہیں جبکہ دین کی سمجھ بوجھ کرلیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9568
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 3353 ، م : 2378
حدیث نمبر: 9569
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالْفُحْشَ ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ ، وَإِيَّاكُمْ وَالشُّحَّ ، فَإِنَّهُ دَعَا مَنْ قَبْلَكُمْ فَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ ، وَسَفَكُوا دِمَاءَهُمْ ، وَقَطَّعُوا أَرْحَامَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ظلم سے آپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ قیامت کے دن بارگاہ الٰہی میں ظلم اندھیروں کی شکل میں ہوگا اور فحش گوئی سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ اللہ فحش باتوں اور کاموں کو پسند نہیں کرتا اور بخل سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ اسی بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو دعوت دی اور انہوں نے محرمات کو حلال سمجھا خونریزی کی اور قطع رحمی کی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کی باندی زنا کرے اور اس کا جرم ثابت ہوجائے تو اسے کوڑوں کی سزا دے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ظلم سے اپنے آپ کو بچاؤ۔۔۔۔ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9569
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9570
حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ " ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9570
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 9571
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِذَا زَنَتْ خَادِمُ أَحَدِكُمْ " ، فَذَكَرَ مَعْنَى الْحَدِيثِ يَعْنِي لِيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9571
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 2152 ، م : 1703
حدیث نمبر: 9572
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَجُلًا تَقَاضَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا ، فَقَالُوا : مَا نَجِدُ إِلَّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ ، فَقَالَ : " أَعْطُوهُ " ، فَقَالَ : أَوْفَيْتَنِي ، أَوْفَى اللَّهُ لَكَ ، قَالَ : " خِيَارُ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے کے لئے آیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ہمیں مطلوبہ عمر کا اونٹ نہ مل سکا ہر اونٹ اس سے بڑی عمر کا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے بڑی عمر کا ہی اونٹ دے دو وہ دیہاتی کہنے لگا کہ آپ نے مجھے پورا پورا ادا کیا اللہ آپ کو پورا پورا عطاء فرمائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے سب سے بہترین وہ ہے جو اداء قرض میں سب سے بہتر ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9572
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 2392 ، م : 1601
حدیث نمبر: 9573
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ : وَسَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قُلْتُ لِيَحْيَى : كِلَاهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ ، إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولًا ، لَا يَفُكُّهُ إِلَّا الْعَدْلُ ، أَوْ يُوبِقُهُ الْجَوْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی صرف دس افراد پر ہی ذمہ دار (حکمران) رہا ہو وہ بھی قیامت کے دن زنجیروں میں جکڑا ہوا پیش ہوگا، پھر یا تو اس کا عدل چھڑا لے گا یا اس کا ظلم و جور ہلاک کروا دے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9573
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ قوي
حدیث نمبر: 9574
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ : وَسَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, قُلْتُ لِيَحْيَى : كِلَاهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " شُعْبَتَانِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُهُمَا النَّاسُ أَبَدًا : النِّيَاحَةُ ، وَالطَّعْنُ فِي النَّسَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کرتے تھے زمانہ جاہلیت کے دو شعبے ایسے ہیں جنہیں لوگ کبھی نہیں ترک کریں گے، ایک تو نوحہ کرنا اور دوسرا کسی کے نسب پر طعنہ مارنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9574
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 9575
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ جَارِيَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مِنْ حِينِ يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى مَسْجِدِهِ ، فَرِجْلٌ تَكْتُبُ حَسَنَةً ، وَأُخْرَى تَمْحُو سَيِّئَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اپنے گھر سے میری مسجد کے لئے نکلے تو اس کے ایک قدم پر نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرا قدم اس کے گناہ مٹاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9575
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9576
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَهْوَنُ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا عَلَيْهِ ، نَعْلَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم میں سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جن سے اس کا دماغ ہنڈیا کی طرح جوش مارے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9576
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد جید
حدیث نمبر: 9577
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کچھ میں جانتا ہوں اگر وہ تمہیں پتہ چل جائے تو تم آہ و بکاء کی کثرت کرنا شروع کردو اور ہنسنے میں کمی کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9577
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید ، خ : 6637
حدیث نمبر: 9578
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خُثَيْمُ بْنُ عِرَاكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ وَلَا مَمْلُوكِهِ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9578
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 1464 ، م : 982
حدیث نمبر: 9579
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُسَامَةُ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عِرَاكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9579
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، خ : 1464 ، م : 982 ، وھذا الإسناد فیه انقطاع ، مکحول لم یسمع من عراك ھذا الحدیث بعینه
حدیث نمبر: 9580
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ . ح وَحَجَّاجٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ " ، قَالَ يَحْيَى : قَالَهَا ثَلَاثًا ، " لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا ، وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کرتے تھے خواتین اسلام ! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کی بھیجی ہوئی چیز کو حقیر نہ سمجھے خواہ بکری کا ایک کھر ہی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9580
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناداہ صحیحان ، خ : 6017 ، م : 1030
حدیث نمبر: 9581
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَوْتَ صَبِيٍّ فِي الصَّلَاةِ ، فَخَفَّفَ الصَّلَاةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران نماز کسی بچے کے رونے کی آواز سنی تو اپنی نماز ہلکی فرما دی (تاکہ اس کی ماں پریشان نہ ہو)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9581
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ جید
حدیث نمبر: 9582
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ ، طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی زمین پر ناحق قبضہ کرتا ہے قیامت کے دن سات زمینوں سے اس ٹکڑے کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9582
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید ، م : 1611
حدیث نمبر: 9583
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا فَلَمْ يَذْكُرُوا اللَّهَ فِيهِ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِمْ تِرَةً ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ مَشَى طَرِيقًا فَلَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ فَلَمْ يَذْكُرْ اللَّهَ إِلَّا كَانَ عَلَيْهِ تِرَةً " . حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أبي إِسْحَاقَ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، وَلَمْ يَقُلْ : " إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگ کسی جگہ پر مجلس کریں لیکن اس میں اللہ کا ذکر نہ کریں وہ ان کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت ہوگی اور جو آدمی کسی راستے پر چلتے ہوئے اللہ کا ذکر نہ کرے وہ چلنا بھی قیامت کے دن اس کے لئے باعث حسرت ہوگا اور جو آدمی اپنے بستر پر آئے لیکن اللہ کا ذکر نہ کرے وہ بھی اس کے لئے باعث حسرت ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9583
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة أبي إسحاق
حدیث نمبر: 9584
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ ، وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ : أَنْ يَشْتَمِلَ أَحَدُكُمْ الصَّمَّاءَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، أَوْ يَحْتَبِيَ بِثَوْبٍ ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سودے میں دو سودے کرنے اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے اور وہ یہ کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرہ سا بھی کپڑا نہ ہو اور یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9584
حدیث نمبر: 9585
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، وَالْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام کو یاد دلانے کے لئے سبحان اللہ کہنا مردوں کے لئے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9585
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد الموصول منه صحيح، خ: 1203، م: 422 ، ورواية الحسن مرسلة
حدیث نمبر: 9586
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9586
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5110، م: 1408
حدیث نمبر: 9587
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ ؟ ، قَالَ : " الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا ، وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ ، وَلَا تُخَالِفُهُ فِيمَا يَكْرَهُ فِي نَفْسِهَا ، وَلَا فِي مَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال پوچھا کہ کون سی عورت سب سے بہتر ہے ؟ فرمایا وہ عورت کہ جب خاوند اسے دیکھے تو وہ اسے خوش کر دے جب حکم دے تو اس کی بات مانے اور اپنی ذات اور اس کے مال میں جو چیز اس کے خاوند کو ناپسند ہو اس میں اپنے خاوند کی مخالفت نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9587
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 9588
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا سَالَمْنَاهُنَّ مُنْذُ حَارَبْنَاهُنَّ ، مَنْ تَرَكَ شَيْئًا خَشْيَةً فَلَيْسَ مِنَّا " ، يَعْنِي الْحَيَّاتِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سانپوں کے متعلق فرمایا ہم نے جب سے ان کے ساتھ جنگ شروع کی ہے کبھی صلح نہیں کی جو شخص خوف کی وجہ سے انہیں چھوڑ دے وہ ہم سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9588
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 9589
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ فَلْيَنْفُضْ فِرَاشَهُ بِدَاخِلَةِ إِزَارِهِ ، وَلْيَتَوَسَّدْ يَمِينَهُ ، ثُمَّ لِيَقُلْ بِاسْمِكَ رَبِّ وَضَعْتُ جَنْبِي ، وَبِكَ أَرْفَعُهُ ، اللَّهُمَّ إِنْ أَمْسَكْتَهَا فَارْحَمْهَا ، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا ، بِمَا حَفِظْتَ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص رات کو بیدار ہو پھر اپنے بستر پر آئے تو اسے چاہیے کہ اپنے تہبند ہی سے اپنے بستر کو جھاڑ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے پیچھے کیا چیز اس کے بستر پر آگئی ہو پھر یوں کہے کہ اے اللہ میں نے آپ کے نام کی برکت سے اپنا پہلو زمین پر رکھ دیا اور آپ کے نام سے ہی اٹھاؤں گا اگر میری روح کو اپنے پاس روک لیں تو اس کی مغفرت فرمائیے اور اگر بھیج دیں تو اس کی اسی طرح حفاظت فرمائیے جیسے آپ اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9589
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7393، م: 2714