حدیث نمبر: 9510
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ لَقِيَ الْحَسَنَ بن علي ، فَقَالَ لَهُ : " اكْشِفْ عَنْ بَطْنِكَ حَتَّى أُقَبِّلَ ، حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ مِنْهُ " ، قَالَ : فَكَشَفَ عَنْ بَطْنِهِ , فَقَبَّلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
عمیر بن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا کہ راستے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی وہ کہنے لگے کہ مجھے دکھاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے جسم کے جس حصے پر بوسہ دیا تھا میں بھی اس کی تقبیل کا شرف حاصل کروں اس پر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی قمیض اٹھائی اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی ناف کو بوسہ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9510
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف لتفرد عمیر بن إسحاق ، وروایته عند انفرادہ ضعیفة
حدیث نمبر: 9511
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " طُهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ ، أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ مار دے تو اسے چاہئے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے اور پہلی مرتبہ اسے مانجھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9511
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 172 ، م : 279
حدیث نمبر: 9512
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ , فَلْيُخَالِفْ مَا بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اسے کپڑے کے دونوں کنارے مخالف سمت سے اپنے کندھوں پر ڈال لینے چاہئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9512
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 360 ، م : 516
حدیث نمبر: 9513
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ هِشَامٍ ، وَيَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هارون , قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا مِائَةٌ إِلَّا وَاحِدًا ، مَنْ أَحْصَاهَا كُلَّهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ایک سو یعنی ننانوے اسماء گرامی ہیں جو شخص ان کا احصاء کرلے وہ جنت میں داخل ہوگا، بیشک اللہ طاق ہے اور طاق عدد کو پسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9513
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 6410 ، م : 2677
حدیث نمبر: 9514
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ فَلَا يَسْعَى إِلَيْهَا أَحَدُكُمْ ، وَلَكِنْ لِيَمْشِ وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ ، صَلِّ مَا أَدْرَكْتَ ، وَاقْضِ مَا سَبَقَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کے لئے دوڑتے ہوئے مت آیا کرو بلکہ اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9514
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 908 ، م : 602
حدیث نمبر: 9515
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا تُتْبَعُ الْجِنَازَةُ بِنَارٍ ، وَلَا صَوْتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنازے کے ساتھ آگ اور آوازیں (باجے) نہ لے کر جایا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9515
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة الراوي عن أبي ھریرة
حدیث نمبر: 9516
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ فُلَانًا نَامَ الْبَارِحَةَ ، وَلَمْ يُصَلِّ شَيْئًا حَتَّى أَصْبَحَ . فَقَالَ : " بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ " ، قَالَ يُونُسُ : قَالَ الْحَسَنُ : إِنَّ بَوْلَهُ وَاللَّهِ ثَقِيلٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں ایک آدمی نے ایک شخص کا تذکرہ کرتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فلاں ساری رات سوتا رہا اور فجر کی نماز بھی نہیں پڑھی یہاں تک کہ صبح ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9516
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد فیه عنعنة الحسن البصري
حدیث نمبر: 9517
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَا مِنْ رَجُلٍ يَأْخُذُ مِمَّا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ كَلِمَةً أَوْ ثِنْتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا ، فَيَجْعَلُهُنَّ فِي طَرَفِ رِدَائِهِ فَيَعْمَلُ بِهِنَّ وَيُعَلِّمُهُنَّ ؟ " . قُلْتُ : أَنَا . وَبَسَطْتُ ثَوْبِي ، وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ , حَتَّى انْقَضَى حَدِيثُهُ ، فَضَمَمْتُ ثَوْبِي إِلَى صَدْرِي ، فَأَنَا أَرْجُو أَنْ أَكُونَ لَمْ أَنْسَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسمل کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہے کوئی آدمی جو اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے فرض کیا ہو ایک کلمہ یا دو تین چار پانچ کلمات حاصل کرے انہیں اپنی چادر کے کونے میں رکھے انہیں سیکھے اور دوسروں کو سکھائے ؟ میں نے اپنے آپ کو پیش کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اپنا کپڑا بچھاؤ چنانچہ میں نے اپنا کپڑا بچھا دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث بیان کی اور فرمایا کہ اسے اپنے جسم کے ساتھ لگا لو میں نے اسے اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا اسی وجہ سے میں امید رکھتا ہوں کہ اس کے بعد میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث بھی سنی ہے اسے کبھی نہیں بھولوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9517
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، خ : 118 ، م : 2492 ، في ھذا الإسناد عنعنة الحسن البصري : وھو مدلس
حدیث نمبر: 9518
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَسُمْ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نہ بھیجے یا اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9518
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، خ : 2140 ، م : 1413 ، وھذا إسناد منقطع ، الحسن لم یسمع من أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 9519
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ أَوْ قَارَضٍ ، لَا أَدْرِي شَكَّ إِسْمَاعِيلُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَكَلَ أَثْوَارَ أَقِطٍ ، فَتَوَضَّأَ , فَقَالَ : أَتَدْرُونَ مِمَّا تَوَضَّأْتُ ؟ ، إِنِّي أَكَلْتُ أَثْوَارَ أَقِطٍ ، فَتَوَضَّأْتُ مِنْهُ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابراہیم بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پنیر کے ٹکڑے کھائے اور وضو کرنے لگے مجھے دیکھ کر فرمانے لگے کہ تم جانتے ہو کہ میں کسی چیز سے وضو کر رہا ہوں ؟ میں نے پنیر کے کچھ ٹکڑے کھائے تھے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد وضو کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9519
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 352
حدیث نمبر: 9520
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : ذُكِرَ الشَّهِيدُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " لَا تَجِفُّ الْأَرْضُ مِنْ دَمِهِ ، حَتَّى تَبْتَدِرَهُ زَوْجَتَاهُ كَأَنَّهُمَا ظِئْرَانِ أَضَلَّتَا , فَصِيلَيْهِمَا فِي بَرَاحٍ مِنَ الْأَرْضِ بِيَدِ أَوْ قَالَ : فِي يَدِ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا حُلَّةٌ ، هِيَ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں شہید کا تذکرہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمین پر شہید کا خون خشک نہیں ہونے پاتا کہ اس کے پاس اس کی دو جنتی بیویاں سبقت کر کے پہنچ جاتی ہیں اور وہ اس ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتی ہوئی آتی ہیں جنہوں نے زمین کے کسی حصے میں اپنے بچوں کو سایہ لینے کے لئے چھوڑ دیا ہو، ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک ایک جوڑا ہوتا ہے جو دنیا ومافیہا سے بہتر ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9520
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف لجھالة ھلال و ضعف شھر
حدیث نمبر: 9521
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُنْكَحُ النِّسَاءُ لِأَرْبَعٍ لِمَالِهَا ، وَجَمَالِهَا ، وَحَسَبِهَا ، وَدِينِهَا ، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت سے چار وجوہات کی بناء پر نکاح کیا جاتا ہے اس کے مال و دولت کی وجہ سے اس کے حسن و جمال کی وجہ سے اس کے حسب نسب کی وجہ سے اور ان کے دین کی وجہ سے تو دین دار کو منتخب کر کے کامیاب ہوجاؤ تمہارے ہاتھ خاک آلودہ ہوں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9521
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 5090 ، م : 1466
حدیث نمبر: 9522
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ يَسِيرُ ، فَلَعَنَ رَجُلٌ نَاقَةً ، فَقَالَ : " أَيْنَ صَاحِبُ النَّاقَةِ ؟ " . فَقَالَ الرَّجُلُ : أَنَا . قَالَ : " أَخِّرْهَا فَقَدْ أُجِبْتَ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں تھے ایک آدمی نے اپنی اونٹنی کو لعنت ملامت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اونٹنی کا مالک کہاں ہے ؟ اس آدمی نے کہا میں حاضر ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس اونٹنی کو پیچھے لے جاؤ کہ اس کے بارے میں تمہاری بات قبول ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9522
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد جید
حدیث نمبر: 9523
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ أَنْبِيَاءَهُمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَيْهِمْ ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَانْتَهُوا ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں جب تک کسی مسئلے کو بیان کرنے میں تمہیں چھوڑے رکھوں اس وقت تک تم بھی مجھے چھوڑے رکھو اس لئے کہ تم سے پہلی امتیں بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئی تھیں میں تمہیں جس چیز سے روکوں اس سے رک جاؤ اور جس چیز کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق پورا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9523
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید ، خ : 7288 ، م : 1337
حدیث نمبر: 9524
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ فَإِنْ تَحْرِصْ عَلَى إِقَامَتِهِ تَكْسِرْهُ ، وَإِنْ تَتْرُكْهُ تَسْتَمْتِعْ بِهِ وَفِيهِ عِوَجٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت پسلی کی طرح ہوتی ہے اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ ڈالو گے اور اگر اسے اس کے حال پر چھوڑ دو گے تو اس کے اس ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی اس سے فائدہ اٹھا لوگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9524
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید ، خ : 3331 ، م : 1468
حدیث نمبر: 9525
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَأَبَا الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَيْكَ فِي بَيْتِكَ فَحَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ ، لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ جُنَاحٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی آدمی تمہاری اجازت کے بغیر تمہارے گھر میں جھانک کر دیکھے اور تم اسے کنکری دے مارو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9525
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، له إسنادان ، الأول جید ، والثاني قوي ، خ : 6902 ، م : 2158
حدیث نمبر: 9526
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُكْثِرُونَ هُمْ الْأَسْفَلُونَ ، إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " , أَمَامَهُ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ وَخَلْفَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہی نیچے ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9526
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید
حدیث نمبر: 9527
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ " ، قِيلَ : وَمَا الْهَرْجُ ؟ ، قَالَ : " الْقَتْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک علم اٹھا نہ لیا جائے جہالت کا غلبہ نہ ہوجائے اور " ہرج " کی کثرت نہ ہونے لگے کسی نے پوچھا کہ ہرج کیا معنی ہے ؟ فرمایا قتل۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9527
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید ، خ : 7061 ، م : 2672
حدیث نمبر: 9528
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " كُلُّ ابْنِ آدَمَ يَبْلَى وَيَأْكُلُهُ التُّرَابُ ، إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ ، مِنْهُ خُلِقَ ، وَفِيهِ يُرَكَّبُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین ابن آدم کا سارا جسم کھاجائے گی سوائے ریڑھ کی ہڈی کے کہ اسی سے انسان پیدا کیا جائے گا اور اسی سے اس کی ترکیب ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9528
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، م : 2955
حدیث نمبر: 9529
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَخْرُجَ , فَيُنَادِيَ : " أَنْ لَا صَلَاةَ ، إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَمَا زَادَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ باہر نکل کر اس بات کی منادی کردیں کہ سورت فاتحہ اور اس کے ساتھ کسی دوسری سورت کی قرأت کے بغیر کوئی نماز نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9529
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لضعف جعفر
حدیث نمبر: 9530
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الْعُطَاسَ ، وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ ، فَمَنْ عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ ، فَحَقٌّ عَلَى مَنْ سَمِعَهُ أَنْ يَقُولَ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، وَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ ، وَلَا يَقُلْ : آهْ آهْ , فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا فَتَحَ فَاهُ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ مِنْهُ أَوْ بِهِ " . قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ : " وَأَمَّا التَّثَاؤُبُ ، فَإِنَّمَا هُوَ مِنَ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی سے نفرت کرتا ہے۔ لہذا جس آدمی کو چھینک آئے اور وہ اس پر الحمدللہ کہے تو ہر سننے والے پر حق ہے کہ یرحمک اللہ کہے اور جب کسی کو جمائی آئے تو حتی الامکان اسے روکے اور ہاہا نہ کہے کیونکہ جب آدمی جمائی لینے کے لئے منہ کھول کر ہاہا کرتا ہے تو وہ شیطان ہوتا ہے جو اس کے پیٹ میں سے ہنس رہا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9530
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 3289 ، م : 2995
حدیث نمبر: 9531
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مِهْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " الْأَبْعَدُ فَالْأَبْعَدُ مِنَ الْمَسْجِدِ ، أَعْظَمُ أَجْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مسجد سے جتنے زیادہ فاصلے سے آتا ہے اس کا اجر اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9531
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة عبد الرحمن بن مھران
حدیث نمبر: 9532
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَجْلَانُ مَوْلَى الْمُشْمَعِلِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُسَابَّ وَأَنْتَ صَائِمٌ ، وَإِنْ سَبَّكَ إِنْسَانٌ , فَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہو تو اسے کوئی گالی گلوچ کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہے تو اسے یوں کہہ دینا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9532
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 1894 ، م : 1151
حدیث نمبر: 9533
حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيْدَ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ , نَاوِلِينِي الثَّوْبَ " . قَالَتْ : إِنِّي لَسْتُ أُصَلِّي . قَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ فِي يَدِكِ " ، فَنَاوَلَتْهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا مجھے کپڑا پکڑا دو انہوں نے کہا کہ میں نماز نہیں پڑھ سکتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری ناپاکی تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ کپڑا پکڑا دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9533
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 299
حدیث نمبر: 9534
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : عَرَّسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ ، فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ " ، قَالَ : فَفَعَلْنَا ، قَالَ فَدَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَصَلَّى الْغَدَاةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے کسی سفر میں رات کے آخری حصے میں پڑاؤ کیا، ہم سونے کے بعد طلوع آفتاب سے قبل بیدار نہ ہو سکے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر آدمی اپنی سواری کا سر پکڑے (اور یہاں سے نکل جائے) کیونکہ اس جگہ شیطان ہم پر غالب آگیا ہے چنانچہ ہم نے ایسا ہی کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا، پھر نماز فجر سے پہلے کی دو سنتیں پڑھیں، پھر اقامت کہی گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9534
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 680
حدیث نمبر: 9535
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " احْشُدُوا فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " ، قَالَ : فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ ، ثُمَّ خَرَجَ , فَقَرَأَ : قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ، ثُمَّ دَخَلَ ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ : هَذَا خَبَرٌ جَاءَهُ مِنَ السَّمَاءِ ، فَذَلِكَ الَّذِي أَدْخَلَهُ ثُمَّ خَرَجَ ، فَقَالَ : " إِنِّي قَدْ قُلْتُ لَكُمْ : إِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ، وَإِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمع ہوجاؤ میں تمہیں ایک تہائی قرآن پڑھ کر سناؤں گا چنانچہ جمع ہونے والے جمع ہوگئے تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے اور سورت اخلاص کی تلاوت فرمائی اور واپس گھر میں داخل ہوگئے ہم ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے اس لئے آپ گھر چلے گئے ہیں لیکن تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا میں نے تم سے کہا تھا کہ میں تمہیں ایک تہائی قرآن پڑھ کر سناؤں گا سورت اخلاص ایک تہائی قرآن کے برابر ہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9535
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 812
حدیث نمبر: 9536
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خِلَاسٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، وَالْحَسَنِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَتَى كَاهِنًا أَوْ عَرَّافًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ ، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کاہن یا نجومی کے پاس جائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کرے تو گویا اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی شریعت سے کفر کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9536
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث حسن ، وھذا إسناد منقطع من جھة خلاس ، فإنه لم یسمع من أبي ھریرۃ ، ومرسل من جھة الحسن البصري
حدیث نمبر: 9537
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا اخْتَلَفْتُمْ أَوْ تَشَاجَرْتُمْ فِي الطَّرِيقِ ، فَدَعُوا سَبْعَةَ أَذْرُعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب راستے کی پیمائش میں تم لوگوں کے درمیان اختلاف ہوجائے تو اسے سات گز پر اتفاق کر کے دور کرلیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9537
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 2473 ، م : 1613
حدیث نمبر: 9538
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى رَجُلٍ تَرَكَ دِينَارَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيَّتَانِ ، أَوْ ثَلَاثَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھائی جس نے دو تین دینار چھوڑے تھے (جو مال غنیمت میں خیانت کر کے لئے گئے تھے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ آگ کے انگارے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9538
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9539
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9539
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9540
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً ، أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ إِرْبٍ مِنْهَا إِرْبًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ "
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد فرما دیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9540
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 2517 ، م : 1509
حدیث نمبر: 9541
حَدَِّثَنَا مَكِيٌّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ إِرْبٍ مِنْهَا إِرْبًا مِنَ النَّارِ " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9541
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد صحیح ، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 9542
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ فَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَّ صَوْتِهِ ، وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ ، وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَةً ، وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے اس کی برکت سے اس کی بخشش کردی جاتی ہے کیونکہ ہر تر اور خشک چیز اس کے حق میں گواہی دیتی ہے اور نماز میں باجماعت شریک ہونے والے کے لئے پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دو نمازوں کے درمیانی وقفے کے لئے کفارہ بنادیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9542
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید
حدیث نمبر: 9543
حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ ، فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا السَّامُ ؟ ، قَالَ : " الْمَوْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی کا استعمال اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9543
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 5688 ، م : 2215
حدیث نمبر: 9544
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، وَيَعْلَى , قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو مِثْلَهُ فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9544
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، انظر ما قبله
حدیث نمبر: 9545
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : وَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِيحَ ثُومٍ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ الْخَبِيثَةِ ، فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں لہسن کی بدبو آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس گندے درخت (لہسن) میں کچھ کھا کر آئے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9545
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 563
حدیث نمبر: 9546
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعُمْرَى مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا ، أَوْ جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر بھر کے لئے کسی چیز کو وقف کردینا صحیح ہے اور اس شخص کی میراث بن جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9546
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 2626 م : 1626
حدیث نمبر: 9547
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9547
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9548
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَوْفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خِلَاسٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ دَجَّالِينَ كَذَّابِينَ ، كُلُّهُمْ يَقُولُ : أَنَا نَبِيٌّ ، أَنَا نَبِيٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت سے پہلے تیس کے قریب دجال و کذاب لوگ آئیں گے جن میں سے ہر ایک کا گمان یہی ہوگا کہ وہ اللہ کا پیغمبر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9548
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، خ : 3609 ، م : 157 ، وھذا إسناد منقطع ، خلاس لم یسمع من أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 9549
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ، أَوْ مَعَ كُلِّ صَلَاةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9549
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 887 ، م : 252