حدیث نمبر: 9473
حَدَّثَنَا غَسَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ شِفَاءٌ لِكُلِّ دَاءٍ ، إِلَّا السَّامَ ، وَالسَّامُ الْمَوْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9473
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 5688 ، م : 2215
حدیث نمبر: 9474
حَدَّثَنَا غَسَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَعَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمْ الْأَذَانَ ، وَالْإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ ، فَلَا يَدَعْهُ حَتَّى يَقْضِيَ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
خواجہ حسن بصری سے مرسلاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو جب تک کھانا مکمل نہ کرلے اسے نہ چھوڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9474
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ حسن من الطریق الأول ، و إسنادہ الثاني مرسل من جھة الحسن البصري
حدیث نمبر: 9475
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ ، وَأَمْوَالَهُمْ ، إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " ، قَالَ : فَلَمَّا كَانَتِ الرِّدَّةُ ، قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ : تُقَاتِلُهُمْ ، وَقَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَاللَّهِ لَا أُفَرِّقُ بَيْنَ الصَّلَاةِ ، وَالزَّكَاةِ ، وَلَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَهَا ، قَالَ : فَقَاتَلْنَا مَعَهُ فَرَأَيْنَا ذَلِكَ رَشَدًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے لوگوں سے اس وقت تک قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لاالہ الا اللہ نہ کہہ لیں، جب وہ کلمہ کہہ لیں تو انہوں نے اپنی جان مال کو مجھ سے محفوظ کرلیا الاّ یہ کہ اس کلمہ کا کوئی حق ہو اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہے جب فتنہ ارتداد پھیلا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ ان سے کیونکر قتال کرسکتے ہیں جبکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بخدا ! میں نماز اور زکوٰۃ میں فرق نہیں کروں گا اور ان دونوں کے درمیان فرق کرنے والوں سے ضرور قتال کروں گا، چنانچہ ہم نے ان کی معیت میں قتال کیا اور بعد میں ہم نے اسی میں خیروبھلائی دیکھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9475
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، م : 21
حدیث نمبر: 9476
قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَمِيرِ فِيهَا زَكَاةٌ ؟ ، فَقَالَ : " مَا جَاءَنِي فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا هَذِهِ الْآيَةُ الْفَاذَّةُ : مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ سورة الزلزلة آية 5 - 7 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کی زکوٰۃ کے متعلق دریافت کیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں تو یہی ایک جامع مانع آیت نازل فرما دی ہے کہ جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی نیک عمل سر انجام دے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جو شخص ایک ذرے کے برابر بھی برا عمل سر انجام دے گا وہ اسے دیکھ لے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9476
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 2371 ، م : 987
حدیث نمبر: 9477
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ يَخْرُجُ فِي سَبِيلِهِ ، أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرُدَّهُ إِلَى مَنْزِلِهِ ، نَائِلًا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے متعلق اپنے ذمے یہ بات لے رکھی ہے جو اس کے راستے میں نکلے کہ اسے جنت میں داخل کرے یا اس حال میں اس کے ٹھکانے کی طرف واپس پہنچا دے کہ وہ ثواب یا مال غنیمت کو حاصل کرچکا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9477
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 3123 ، م : 1876
حدیث نمبر: 9478
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْإِمَامُ ضَامِنٌ ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ ، اللَّهُمَّ أَرْشِدْ الْأَئِمَّةَ ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار اے اللہ اماموں کی رہنمائی فرما اور موذنین کی مغفرت فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9478
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9478M
وَكَذَا حَدَّثَنَاهُ أَسْوَدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، كَمَا قَالَ مُحَمَّدٌ : " أَرْشِدْ الْأَئِمَّةَ ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9478M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، شریك ، وإن کان سیئ الحفظ ، متابع
حدیث نمبر: 9478M
وَكَذَا قَالَ يَعْنِي ابْنَ فُضَيْلٍ أَيْضًا .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9478M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9478M
وَزَائِدَةُ أَيْضًا حَدَّثَنَاهُ , مُعَاوِيَةُ يَعْنِي عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9478M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9479
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " المِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9479
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9480
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أَتَخَلَّفَ عَنْ سَرِيَّةٍ تَخْرُجُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَيْسَ عِنْدِي مَا أَحْمِلُهُمْ ، وَلَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أَحْيَا ، ثُمَّ أُقْتَلُ ، ثُمَّ أَحْيَا ، ثُمَّ أُقْتَلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ میں اللہ کے راستہ میں نکلنے والے کسی سریہ سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ ان سب کو سواری مہیا کرسکوں مجھے اس بات کی تمنا ہے کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کروں اور جام شہادت نوش کرلوں، پھر زندگی عطا ہو اور جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں، پھر جہاد میں شرکت کروں اور شہید ہوجاؤں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9480
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 36 ، م : 1876
حدیث نمبر: 9481
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنَا بِعَمَلٍ يَعْدِلُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . قَالَ : " لَا تُطِيقُونَهُ " مَرَّتَيْنِ , أَوْ ثَلَاثًا . قَالَ : قَالُوا : أَخْبِرْنَا فَلَعَلَّنَا نُطِيقُهُ . قَالَ : " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ ، الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللَّهِ ، لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ ، حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ إِلَى أَهْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کوئی ایسا عمل بتائیے جو جہاد کے برابر ہو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اس کی طاقت نہیں رکھتے (دو تین مرتبہ فرمایا) لوگوں نے عرض کیا کہ آپ بتا دیجئے شاید ہم کرسکیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس آدمی کی سی ہے جو دن کو روزہ، رات کو قیام اور اللہ کی آیات کے سامنے عاجز ہو اور اس نماز روزے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کرے، یہاں تک کہ وہ مجاہد اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9481
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 2785 ، م : 1878
حدیث نمبر: 9482
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عُذِّبَتْ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ ، رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تُرْسِلْهَا تَأْكُلُ مِنْ حَشَرَاتِ الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت جہنم میں صرف ایک بلی کے وجہ سے داخل ہوگئی، جسے اس نے باندھ دیا تھا، خود اسے کھلایا پلایا اور نہ ہی اسے کھلا چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9482
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 3318 ، م : 2243
حدیث نمبر: 9483
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُهُ يَضْرِبُ جَبْهَتَهُ بِيَدِهِ , وَيَقُولُ : يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ ، تَزْعُمُونَ أَنِّي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لِيَكُنْ لَكُمُ الْمَهْنَأُ ، وَعَلَيَّ الْإِثْمُ ، أَشْهَدُ أني سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ ، فَلَا يَمْشِي فِي الْأُخْرَى حَتَّى يُصْلِحَهَا " . رقم الحديث : 9279 " وَإِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ ، فَلَا يَتَوَضَّأْ حَتَّى يَغْسِلَهَا سَبْعَ مَرَّاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ابورزین کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنی پیشانی پر ہاتھ مارتے ہوئے دیکھا وہ کہہ رہے تھے کہ اے عراقی کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی نسبت کرسکتا ہوں ؟ تم تو بلا مشقت ایک چیز حاصل کرلو اور مجھ پر اس کا وبال ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جب تم میں سے کسی کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ دوسری جوتی کو پہن کر نہ چلے یہاں تک کہ اسے ٹھیک کروا لے۔ اور جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ مار دے تو اس برتن سے اس وقت تک وضو نہ کرے جب تک اسے سات مرتبہ دھو نہ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9483
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 2098
حدیث نمبر: 9484
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَدَنَا وَأَنْصَتَ وَاسْتَمَعَ ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ ، وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ " ، قَالَ : " وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى ، فَقَدْ لَغَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن وضو کرے اور خوب اچھی طرح کرے پھر جمعہ کے لئے آئے امام کے قریب خاموش بیٹھ کر توجہ سے اس کی بات سنے تو اگلے جمعہ تک اور مزید تین دن تک اس کے گناہ معاف ہوجائیں گے اور جو شخص کنکریوں سے کھیلتا رہا وہ لغو کام میں مشغول رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9484
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 857
حدیث نمبر: 9485
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَوَكِيعٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أُهْدِيَتْ لِي ذِرَاعٌ لَقَبِلْتُ ، وَلَوْ دُعِيتُ إِلَى كُرَاعٍ لَأَجَبْتُ " ، قَالَ وَكِيعٌ فِي حَدِيثِهِ : " لَوْ أُهْدِيَتْ إِلَيَّ ذِرَاعٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے صرف ایک دستی کی دعوت دی جائے تو میں قبول کرلوں گا اور اگر ایک پائے کی دعوت دی جائے تب بھی قبول کرلوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9485
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 5178
حدیث نمبر: 9486
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ الْمَعْنَى ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَثْقَلُ الصَّلَاةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ ، وَصَلَاةُ الْفَجْرِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا ، وَلَوْ حَبْوًا ، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ الْمُؤَذِّنَ فَيُؤَذِّنَ ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزُمُ الْحَطَبِ إِلَى قَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الصَّلَاةِ ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافقین پر نماز عشاء اور نماز فجر سب سے زیادہ بھاری ہوتی ہے لیکن اگر انہیں ان دونوں نمازوں کا ثواب پتہ چل جائے تو وہ ضرور ان نمازوں میں شرکت کریں اگرچہ گھٹنوں کے بل چل کر آنا پڑے، میرا دل چاہتا ہے مؤذن کو اذان کا حکم دوں اور ایک آدمی کو حکم دوں اور وہ نماز کھڑی کر دے، پھر اپنے ساتھ کچھ لوگوں کو لے جاؤں جن کے ہمراہ لکڑی کے گٹھے ہوں اور وہ ان لوگوں کے پاس جائیں جو نماز باجماعت میں شرکت نہیں کرتے ان کے گھروں میں آگ لگا دیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9486
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 657 ، م : 651
حدیث نمبر: 9487
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ مَوْلَى اللَّيْثِيِّينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا سَبَقَ إِلَّا فِي خُفٍّ ، أَوْ حَافِرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف اونٹ یا گھوڑے میں ریس لگائی جاسکتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9487
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد ضعیف من أجل أبي الحکم
حدیث نمبر: 9488
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي الْحَقَّ ، إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَتَشَبَّهَ بِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہوجائے، اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9488
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 6993 ، م : 2266
حدیث نمبر: 9489
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ . وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَكَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص روزہ رکھے اور بھولے سے کچھ کھا پی لے تو اسے اپنا روزہ پھر بھی پورا کرنا چاہئے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9489
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 1933 ، م : 1155
حدیث نمبر: 9490
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ ، وَالْحِمَارُ ، وَالْمَرْأَةُ " ، قَالَ هِشَامٌ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت، کتا اور گدھا نمازی کے آگے سے گذرنے پر نماز ٹوٹ جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9490
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وقد وقع فیه اختلاف کبیر علی قتادۃ
حدیث نمبر: 9491
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الثَّيِّبُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا ، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ إِذْنُهَا ؟ قَالَ : " أَنْ تَسْكُتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنواری لڑکی سے نکاح کی اجازت لی جائے اور شوہردیدہ عورت سے مشورہ کیا جائے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کنواری لڑکی شرماتی ہے) تو اس سے اجازت کیسے حاصل کی جائے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی کی علامت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9491
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 6970 ، م : 1419
حدیث نمبر: 9492
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عَامِرٍ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عُرِضَ عَلَيَّ أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ، وَأَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ ، فَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ : فَالشَّهِيدُ ، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَنَصَحَ لِسَيِّدِهِ ، وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو عِيَالٍ ، وَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ : فَأَمِيرٌ مُسَلَّطٌ ، وَذُو ثَرْوَةٍ مِنْ مَالٍ لَا يُعْطِي حَقَّ مَالِهِ ، وَفَقِيرٌ فَخُورٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے سامنے جنت اور جہنم میں سب سے پہلے داخل ہونے والے تین تین گروہ پیش کئے گئے چنانچہ جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے تین گروہوں میں " شہید " وہ عبد مملوک جو اپنے رب کی عبادت بھی خوب کرے اور اپنے آقا کا بھی خیرخواہ رہے اور وہ عفیف آدمی جو زیادہ عیال دار ہونے کے باوجود اپنی عزت نفس کی حفاظت کرے " شامل تھے اور جو تین گروہ سب سے پہلے جہنم میں داخل ہوں گے ان میں حکمران جو زبردستی قوم پر مسلط ہوجائے شامل ہے نیز وہ مالدار آدمی جو مال کا حق ادانہ کرے اور وہ فقیر جو فخر کرتا پھرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9492
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف لجھالة عامر العقیلي و أبیه
حدیث نمبر: 9493
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا فَإِنَّهُ يُنْقِصُ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطًا ، إِلَّا كَلْبَ حَرْثٍ أَوْ مَاشِيَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص شکاری کتے اور کھیت یا ریوڑ کی حفاظت کے علاوہ شوقیہ طور پر کتے پالے اس کے ثواب میں سے روزانہ ایک قیراط کے برابر کمی ہوتی رہے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9493
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 2322 ، م : 1575
حدیث نمبر: 9494
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ ، أَنَّهُ خَافَ زَمَنَ زِيَادٍ أَوْ ابْنِ زِيَادٍ فَأَتَى الْمَدِينَةَ ، فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فقال : فَانْتَسَبَنِي , فَانْتَسَبْتُ لَهُ ، فَقَالَ : يَا فَتَى , أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ ؟ ، قُلْتُ : بَلَى ، رَحِمَكَ اللَّهُ . قَالَ : " إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، مِنَ الصَّلَاةِ ، قَالَ : يَقُولُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِكَتِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ : انْظُرُوا فِي صَلَاةِ عَبْدِي أَتَمَّهَا أَمْ نَقَصَهَا ؟ ، فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً ، وَإِنْ كَانَ انْتَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا ، قَالَ : انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ ؟ ، فَإِنْ كَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ ، قَالَ : أَتِمُّوا لِعَبْدِي فَرِيضَتَهُ مِنْ تَطَوُّعِهِ . ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكُمْ " . قَالَ يُونُسُ : وَأَحْسَبُهُ قَدْ ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
انس بن حکیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زیاد یا ابن زیاد کے زمانے میں انہیں خطرہ لاحق ہوا تو مدینہ منورہ آگئے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی انہوں نے مجھ سے نام و نسب پوچھا میں نے انہیں بتایا، وہ کہنے لگے کہ اے نوجوان کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جس سے اللہ تمہیں نفع پہنچائے ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں آپ پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں انہوں نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ فرض نماز ہوگی پروردگار اپنے فرشتوں سے فرمائے گا " حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہے " کہ میرے بندے کی نماز دیکھو، مکمل ہے ناقص ! اگر مکمل ہوئی تو مکمل لکھ دی جائے گی اور نامکمل ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھو میرے بندے کے پاس نوافل بھی ہیں ؟ اگر اس کے پاس نوافل ہوئے تو اللہ فرمائے گا کہ میرے بندے کے فرائض کو اس کے نوافل سے مکمل کردو، اس کے بعد دیگر فرض اعمال میں بھی اسی طرح کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9494
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة أنس الضبي
حدیث نمبر: 9495
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يؤْمَنُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ فِي صَلَاتِهِ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا وہ آدمی جو امام سے پہلے سر اٹھائے اور امام سجدہ ہی میں ہو اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کی شکل گدھے جیسی بنا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9495
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 691 ، م : 427
حدیث نمبر: 9496
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ إِذَا صَلَّى أَنْ يَتَقَدَّمَ ، أَوْ يَتَأَخَّرَ ، أَوْ عَنْ يَمِينِهِ ، أَوْ عَنْ شِمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کرسکتا کہ نماز پڑھتے وقت تھوڑا سا آگے پیچھے یا دائیں بائیں ہوجائے (تاکہ گذرنے والوں کو تکلیف نہ ہو)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9496
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف جدا ، إبراھیم وحجاج مجھولان ، ولیث ضعیف
حدیث نمبر: 9497
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا حَضَرَ رَمَضَانُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ جَاءَكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ ، افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ ، تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ ، وَتُغَلُّ فِيهِ الشَّيَاطِينُ ، فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا ، فَقَدْ حُرِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ماہ رمضان قریب آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آ رہا ہے یہ مبارک مہینہ ہے اللہ نے تم پر اس کے روزے فرض کئے ہیں اس مبارک مہینے میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ اس مہینے میں ایک رات ایسی بھی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو شخص اس کی خیروبرکت سے محروم رہا وہ مکمل طور پر محروم ہی رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9497
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، فیه أبو قلابة و روایته عن أبي ھریرۃ مرسلة
حدیث نمبر: 9498
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَتَكَلَّمْ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کو چھوٹ دی گئی ہے کہ اس کے ذہن میں جو وسوسے پیدا ہوتے ہیں ان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا بشرطیکہ وہ اس وسوسے پر عمل نہ کرے یا اپنی زبان سے اس کا اظہار نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9498
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 2528 ، م : 127
حدیث نمبر: 9499
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي مُصْعَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحَا بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ : " الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، رَأْسُ الْكُفْرِ الْمَشْرِقُ ، وَالْكِبْرُ ، وَالْفَخْرُ فِي الْفَدَّادِينَ : أَصْحَابِ الْوَبَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف اپنے دست مبارک سے اشارہ کر کے تین مرتبہ فرمایا یمن والوں کا ایمان بہت عمدہ ہے کفر کا مرکز مشرق کی جانب ہے اور غروروتکبر اونٹوں کے مالکوں میں ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9499
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 4388 ، م : 52
حدیث نمبر: 9500
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَالْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا ، وَالْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا ، وَالْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا ، لَا تُنْكَحُ الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى ، وَلَا الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھوپھی کی موجودگی میں اس کی بھتیجی سے یا بھتیجی کی موجودگی میں اس کی پھوپھی سے خالہ کی موجودگی میں بھانجی سے یا بھانجی کی موجودگی میں خالہ سے نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا بڑی کی موجودگی میں چھوٹی سے اور چھوٹی کی موجودگی میں بڑی سے نکاح نہ کیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9500
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 5109 ، م : 1408
حدیث نمبر: 9501
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْإِيمَانُ ؟ ، قَالَ : " الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكِتَابِهِ وَلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ , وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخِرِ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْإِسْلَامُ ؟ ، قَالَ : " الْإِسْلَامُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ ، لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْإِحْسَانُ ؟ ، قَالَ : " أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ ، فَإِنَّكَ إِنْ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ ، قَالَ : " مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ ، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا : إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ رَبَّهَا ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا ، وَإِذَا كَانَتِ الْعُرَاةُ الْحُفَاةُ الْجُفَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ ، فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا ، وَإِذَا تَطَاوَلَ رُعَاةُ الْبَهْمِ فِي الْبُنْيَانِ ، فَذَلِكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا ، فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ " ، ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ : إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34 . ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " رُدُّوا عَلَيَّ الرَّجُلَ " . فَأَخَذُوا لِيَرُدُّوهُ فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا ، فَقَالَ : " هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کیا چیز ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں، کتابوں اس سے ملنے اس کے رسولوں اور دوبارہ جی اٹھنے پر یقین رکھو اس نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کیا ہے ؟ فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ فرض نماز قائم کرو فرض زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اس نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احسان کیا چیز ہے ؟ فرمایا اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو اگر یہ تصور نہ کرسکو تو یہ تصور ہی کرلو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اس سے اگلا سوال پوچھا یا رسول اللہ ! قیامت کب آئے گی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس سے سوال پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، البتہ میں تمہیں اس کی علامات بتائے دیتا ہوں جب لونڈی اپنے مالک کو جنم دینے لگے تو یہ قیامت کی علامت ہے جب ننگے جسم اور ننگے پاؤں رہنے والے لوگوں کے سردار (حکمران) بن جائیں تو یہ قیامت کی علامت ہے اور جب بکریوں کے چرواہے بڑی بڑی عمارتوں میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگیں تو یہ قیامت کی علامت ہے اور پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کا یقینی عمل صرف اللہ ہی کے پاس ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ' بیشک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش برساتا ہے اور جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے ؟ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا ؟ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس علاقے میں مرے گا ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9501
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 50 ، م : 9
حدیث نمبر: 9502
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ فِي عَبْدٍ ، فَخَلَاصُهُ فِي مَالِهِ ، إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی کسی غلام میں شراکت ہو اور وہ اپنے حصے کے بقدر اسے آزاد کر دے تو اگر وہ مالدار ہے تو اس کی مکمل جان خلاصی کرانا اس کی ذمہ داری ہے اور اگر وہ مالدار نہ ہو تو بقیہ قیمت کی ادائیگی کے لئے غلام سے اس طرح کوئی محنت مزدوری کروائی جائے کہ اس پر بوجھ نہ بنے ( اور بقیہ قیمت کی ادائیگی کے بعد وہ مکمل آزاد ہوجائے گا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9502
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 2492 ، م : 1503
حدیث نمبر: 9503
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَذَكَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ ، وَعَظَّمَ أَمْرَهُ ثُمَّ قَالَ : " لَا أُلْفِيَنَّ يَجِيءُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغِثْنِي . فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا , قَدْ أَبْلَغْتُكَ . لَا أُلْفِيَنَّ ، يَجِيءُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا ثُغَاءٌ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَغِثْنِي . فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا , قَدْ أَبْلَغْتُكَ . لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغِثْنِي . فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا , قَدْ أَبْلَغْتُكَ . لَا أُلْفِيَنَّ ، يَجِيءُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغِثْنِي . فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا , قَدْ أَبْلَغْتُكَ . لَا أُلْفِيَنَّ ، يَجِيءُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغِثْنِي ، فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا , قَدْ أَبْلَغْتُكَ . لَا أُلْفِيَنَّ ، يَجِيءُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ ، فَيَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَغِثْنِي . فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا , قَدْ أَبْلَغْتُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور اس میں مال غنیمت میں خیانت کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی شناخت کو خوب واضح فرمایا اور فرمایا میں تم میں سے کسی ایسے آدمی کو نہ پاؤں جو قیامت کے دن اپنی گردن پر ایک چلاتے ہوئے اونٹ کو سوار کرا کے لے آئے اور کہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مدد کیجئے اور میں کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا میں نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا۔ میں تم میں سے کئی آدمی کو اس طرح نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن ایک بکری کو منمناتا ہوا اپنی گردن پر لے آئے اور کہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مدد کیجئے اور میں کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا میں نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا۔ میں تم میں سے کسی آدمی کو اس طرح نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن ایک گھوڑے کو ہنہناتا ہوا اپنی گردن پر لے آئے اور کہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مدد کیجئے اور میں کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا میں نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا۔ میں تم میں کسی آدمی کو اس طرح نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن ایک شخص چلاتا ہوا اپنی گردن پر لے آئے اور کہے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مدد کیجئے اور میں کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا میں نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا۔ میں تم میں سے کسی آدمی کو اس طرح نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن لدے ہوئے کپڑے اپنی گردن پر لے آئے اور کہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مدد کیجئے اور میں کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا میں نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا۔ میں تم میں سے کسی آدمی کو اس طرح نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن سونا چاندی لاد کر اپنی گردن پر لے آئے اور کہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری مدد کیجئے اور میں کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا میں نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9503
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 3073 ، م : 1831
حدیث نمبر: 9504
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً مُسْتَجَابَةً فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا " . قَالَ يَعْلَى : الشَّفَاعَةُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر نبی کی ایک دعا ایسی ضرور رہی ہے جو قبول ہوئی ہو اور ہر نبی نے دنیا میں اپنی دعاء قبول کروا لی لیکن میں نے اپنی دعاء کو اپنی امت کی شفاعت کے لئے ذخیرہ کرلیا ہے اور ان شاء اللہ یہ شفاعت ہر اس شخص کو نصیب ہوگی جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9504
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 7474 ، م : 199
حدیث نمبر: 9505
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ، كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ نمازوں کی مثال اس نہر کی سی ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے پر بہہ رہی ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9505
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 668 ، وسیأتي في مسند جابر
حدیث نمبر: 9506
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ : " فَمَاذَا يُبْقِي ذَلِكَ مِنَ الدَّرَنِ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث ایک دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9506
حدیث نمبر: 9507
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَابَ طَعَامًا قَطُّ ، كَانَ إِذَا اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ ، وَإِنْ لَمْ يَشْتَهِهِ سَكَتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کسی کھانے میں عبیب نکالتے ہوئے نہیں دیکھا اگر تمنا ہوتی تو کھالیتے اور اگر تمنا نہ ہوتی تو سکوت فرما لیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9507
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م :2064
حدیث نمبر: 9508
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنِ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي ، وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي ، فَمَنْ يُنَازِعُنِي وَاحِدَةً مِنْهُمَا أَلْقَيْتُهُ فِي جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ کبریائی میری اوپر کی چادر ہے اور عزت میری نیچے کی چادر ہے جو دونوں میں سے کسی ایک کے بارے مجھ سے جھگڑا کرے گا میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9508
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م 2620
حدیث نمبر: 9509
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مغرب سے سورج نکلنے کا واقعہ پیش آنے سے قبل جو شخص بھی توبہ کرلے اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9509
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 4635 ، م : 157