حدیث نمبر: 7319
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْظُرُ أَحَدُكُمْ إِلَى مَنْ فَوْقَهُ فِي الْخَلْقِ أَوْ الْخُلُقِ أَوْ الْمَالِ ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ تم میں سے کسی شخص کو جسم اور مال کے اعتبار سے اپنے سے اوپر والے کو نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ ہمیشہ اپنے سے نیچے والے کو دیکھنا چاہیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7319
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6490، م: 2963.
حدیث نمبر: 7320
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طَعَامُ الِاثْنَيْنِ كَافِي الثَّلَاثَةِ ، وَالثَّلَاثَةِ كَافِي الْأَرْبَعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کو اور تین آدمیوں کا کھانا چار آدمیوں کو کفایت کر جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7320
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5392، م: 2058.
حدیث نمبر: 7321
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) " إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ ، كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا ، فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ جَعَلَ الْفَرَاشُ ، وَالدَّوَابُّ تَتَقَحَّمُ فِيهَا ، فَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ ، وَأَنْتُمْ تَوَاقَعُونَ فِيهَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور میری اور لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی جب آگ نے آس پاس کی جگہ کو روشن کر دیا تو پروانے اور درندے اس میں گھسنے لگے چنانچہ میں تمہیں پشت سے پکڑ کر کھینچ رہا ہوں اور تم اس میں گرے چلے جا رہے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7321
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3426، م: 2284.
حدیث نمبر: 7322
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَبِإِسْنَادِهِ " وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ ، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا ، فَأَحْسَنَهُ ، وَأَكْمَلَهُ ، وَأَجْمَلَهُ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُطِيفُونَ بِهِ ، يَقُولُونَ مَا رَأَيْنَا بُنْيَانًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا ، إِلَّا هَذِهِ الثُّلْمَةَ ، فَأَنَا تِلْكَ الثُّلْمَةُ " . وَقِيلَ لِسُفْيَانَ مَنْ ذَكَرَ هَذِهِ ؟ قَالَ : أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ ، عَنْ .
مولانا ظفر اقبال
اور انبیاء کرام (علیہم السلام) کی مثال ایسے ہے کہ ایک آدمی نے کوئی عمارت تعمیر کی اسے خوب حسین و جمیل اور کامل بنایا لوگ اس کے گرد چکر لگاتے جاتے اور کہتے جاتے کہ ہم نے اس سے خوبصورت کوئی عمارت نہیں دیکھی البتہ اگر یہ سوراخ بھی بھر دیا جاتا تو کتنا اچھا ہوتا (ختم نبوت کی عمارت کا) وہ سوراخ میں ہوں (جس نے اب اس عمارت کو مکمل کر دیا ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7322
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3535، م: 2286.
حدیث نمبر: 7323
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے کیونکہ اللہ نے حضرت أدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7323
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2559، م: 2612.
حدیث نمبر: 7324
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُمْنَعُ فَضْلُ الْمَاءِ ، لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ " . قَالَ سُفْيَانُ : يَكُونُ حَوْلَ بِئْرِكَ الْكَلَأُ ، فَتَمْنَعُهُمْ فَضْلَ مَائِكَ ، فَلَا يَعُودُونَ أَنْ يَدَعُوا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ زائد پانی روک کر نہ رکھا جائے کہ اس سے گھاس روکی جاسکے۔ راوی حدیث سفیان اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ آپ کے کنوئیں کے پاس گھاس ہو اور آپ لوگوں کو زائد از ضرورت پانی لینے سے روکیں تو وہ لوگ اپنے جانور چرانے کے لئے وہاں دوبارہ نہیں آئیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7324
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2353، م: 1566.
حدیث نمبر: 7325
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ ؟ فَقَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے نابالغ فوت ہوجانے والے بچوں کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ اللہ اس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا اعمال سر انجام دیتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7325
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6599، م: 2659.
حدیث نمبر: 7326
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَضْحَكُ مِنَ الرَّجُلَيْنِ قَتَلَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ ، يَدْخُلَانِ الْجَنَّةَ جَمِيعًا " يَقُولُ : " كَانَ كَافِرًا قَتَلَ مُسْلِمًا ، ثُمَّ إِنَّ الْكَافِرَ أَسْلَمَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ ، فَأَدْخَلَهُمَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان دو آدمیوں پر ہنسی آتی ہے جن میں سے ایک نے دوسرے کو شہید کر دیا ہو لیکن پھر دونوں ہی جنت میں داخل ہو جائیں اس کی وضاحت یہ ہے کہ ایک آدمی کافر تھا اس نے کسی مسلمان کو شہید کر دیا پھر اپنی موت سے پہلے اس کافر نے بھی اسلام قبول کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو جنت میں داخلہ نصیب فرما دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7326
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2826، م: 1890.
حدیث نمبر: 7327
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَعَمْرٌو ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ : " إِنَّ نَارَكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ ، وَضُرِبَتْ بِالْبَحْرِ مَرَّتَيْنِ ، وَلَوْلَا ذَلِكَ مَا جَعَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْفَعَةً لِأَحَدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری یہ دنیا کی آگ جہنم کی آگ کا سترواں جزء ہے اور دو مرتبہ اس پر سمندر کا پانی لگایا گیا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو اس میں اللہ بندوں کا کوئی فائدہ نہ رکھتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7327
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وله إسنادان، الأول: متصل، والثاني: مرسل، خ: 3265، م: 2843.
حدیث نمبر: 7328
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا فَيُقِيمَ الصَّلَاةَ ، ثُمَّ آمُرَ فِتْيَانِي ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : فِتْيَانًا ، فَيُخَالِفُونَ إِلَى قَوْمٍ لَا يَأْتُونَهَا ، فَيُحَرِّقُونَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ ، وَلَوْ عَلِمَ أَحَدُكُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا ، أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ ، إِذًا لَشَهِدَ الصَّلَوَاتِ " . وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : " الْعِشَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرادل چاہتا ہے کہ ایک آدمی کو حکم دوں اور وہ نماز کھڑی کر دے پھر اپنے نوجوانوں کو حکم دوں اور وہ ان لوگوں کے پاس جائیں جو نماز باجماعت میں شرکت نہیں کرتے اور لکڑیوں کے گٹھوں سے ان کے گھروں میں آگ لگا دیں اگر تم میں سے کسی کو یقین ہو کہ اسے خوب موٹی تازی ہڈی یا دو عمدہ گھر ملیں گے تو وہ ضرور نماز میں (دوسری روایت کے مطابق نماز عشاء میں بھی) شرکت کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7328
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2420، م: 651.
حدیث نمبر: 7329
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَخْنَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، رَجُلٌ تَسَمَّى بِمَلِكِ الْأَمْلَاكِ " . قال عبدُ الله : قال أبى : سَأَلْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ عَنْ " أَخْنَعِ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ " ، فَقَالَ : أَوْضَعُ اسْمٍ عِنْدَ اللَّهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن بارگاہ الٰہی میں سب سے حقیر نام اس شخص کا ہو گا جو اپنے آپ کو شہنشاہ کہلواتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7329
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6206، م: 2143.
حدیث نمبر: 7330
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ تُوَاصِلُ ! قَالَ : " إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي ، وَيَسْقِينِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس معاملے میں تم میری طرح نہیں ہو میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ اس لئے تم اپنے اوپر عمل کا اتنا بوجھ ڈالو جسے برداشت کرنے کی تم میں طاقت موجود ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7330
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1966، م: 1103
حدیث نمبر: 7331
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يُصْرَفُ عَنِّي شَتْمُ قُرَيْشٍ ! كَيْفَ يَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا ، وَيَشْتُمُونَ مُذَمَّمًا ، وَأَنَا مُحَمَّدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہیں اس بات پر تعجب نہیں ہوتا کہ کس عجیب طریقے سے قریش کی دشنام طرازیوں کو مجھ سے دور کر دیا جاتا ہے ؟ وہ کس طرح مذمم پر لعنت اور سب و شتم کرتے ہیں جبکہ میرا نام تو محمد ہے (مذمم نہیں )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7331
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3533.
حدیث نمبر: 7332
(حديث مرفوع) قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ يُحَدِّثُ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ : أَنْصِتْ ، فَقَدْ لَغَيْتَ " . قَالَ سُفْيَانُ : قَالَ أَبُو الزِّنَادِ : وهِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : امام جس وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7332
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 934، م: 851.
حدیث نمبر: 7333
(حديث مرفوع) قُرئَ عَلَى سُفْيَانَ أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَرَى خُشُوعَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہارا خشوع و خضوع دیکھتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7333
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 418، م: 423.
حدیث نمبر: 7334
(حديث مرفوع) قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعْتُ سُفْيَانَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي ، فَقَدْ أَطَاعَنِي ، وَمَنْ أَطَاعَنِي ، فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص میرے امیر کی اطاعت کرتا ہے وہ میری اطاعت کرتا ہے اور جو میری اطاعت کرتا ہے گویا وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7334
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2957، م: 1835.
حدیث نمبر: 7335
(حديث مرفوع) وقَالَ سُفْيَانُ فِي حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ : عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَبَغَتْ الدِّرْعُ ، أَوْ أُمِرَّتْ ، تُجِنُّ بَنَانَهُ ، وَتَعْفُو أَثَرَهُ يُوَسِّعُهَا " . قَالَ أَبُو الزِّنَادِ : " يُوَسِّعُهَا ، وَلَا تَتَّسِعُ " ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ : " وَلَا يَتَوَسَّعُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قمیص بعض اوقات کشادہ ہوتی ہے اور بعض اوقات تنگ (مراد آدمی کی سخاوت اور کنجوسی ہے) وہ اس کی انگلیوں کو ڈھانپ لیتی ہے اور اس کے نشانات کو مٹادیتی ہے اور کنجوس آدمی کشادگی حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن اسے کشادگی حاصل نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7335
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، له إسنادان: الأول: صحيح، والثاني: فيه جريج مدلس وقد عنعنه، لكنه قد توبع، خ: 1443، م: 1021.
حدیث نمبر: 7336
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قِيلَ لِسُفْيَانَ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ " الْمَطْلُ ظُلْمُ الْغَنِيِّ ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ ، فَلْيَتْبَعْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو کسی مالدار کے حوالے کر دیا جائے تو اسے اس ہی کا پیچھا کرنا چاہیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7336
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2288، م: 1564.
حدیث نمبر: 7337
(حديث مرفوع) قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ ، سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَمِعْتُ سُفْيَانَ يَقُولُ : " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ ، فَإِنَّهُ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بدگمانی کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7337
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6066، م: 2563.
حدیث نمبر: 7338
(حديث مرفوع) سَمِعْت سُفْيَانَ يَقُولُ : " إِذَا كَفَى الْخَادِمُ أَحَدَكُمْ طَعَامَهُ ، فَلْيُجْلِسْهُ ، فَلْيَأْكُلْ مَعَهُ ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ ، فَلْيَأْخُذْ لُقْمَةً ، فَلْيُرَوِّغْهَا فِيهِ ، فَيُنَاوِلْهُ " . وَقُرِئَ عَلَيْهِ إِسْنَادُهُ : سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ لے کر اسے سالن میں اچھی طرح تر بتر کر کے ہی اسے دے دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7338
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2557، م: 1663.
حدیث نمبر: 7339
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ، وَتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعامروی ہے کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے اور نماز عشاء کو تاخیر سے ادا کرنے کا حکم دیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7339
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 887، م: 252.
حدیث نمبر: 7340
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً ، قَالَ مَرَّةً : يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُكُمُ صَائِمًا ، فَلَا يَرْفُثْ ، وَلَا يَجْهَلْ ، فَإِنْ امْرُؤٌ شَاتَمَهُ ، أَوْ قَاتَلَهُ ، فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص روزہ دار ہونے کی حالت میں صبح کرے تو اسے کوئی بیہودگی یا جہالت کی بات نہیں کرنی چاہئے بلکہ اگر کوئی آدمی اس سے لڑنا یا گالی گلوچ کرنا چاہے تو اسے یوں کہہ دینا چاہیے کہ میں روزے سے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7340
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ : 1894، م : 1151 .
حدیث نمبر: 7341
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَجِدُونَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ ، وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں میں سب سے بدترین شخص اس آدمی کو پاؤگے جو دوغلا ہو ان لوگوں کے پاس ایک رخ لے کر آتا ہو اور ان لوگوں کے پاس دوسرا رخ لے کر آتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7341
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3494، م: 2526.
حدیث نمبر: 7342
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، لَأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ ، وَالسِّوَاكِ مَعَ الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے اور نماز عشاء کو تاخیر سے ادا کرنے کا حکم دیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7342
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 887، م: 252.
حدیث نمبر: 7343
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَلَا تَصُومُ امْرَأَةٌ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ يَوْمًا غَيْرَ رَمَضَانَ ، إِلَّا بِإِذْنِهِ " . وَقُرِئَ عَلَيْهِ هَذَا الْحَدِيثُ : سَمِعْتُ أَبَا الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
اور کوئی عورت جبکہ اس کا خاوند گھر میں موجود ہو ماہ رمضان کے علاوہ کوئی نفلی روزہ اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7343
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وله إسنادان: الأول: صحيح، والثاني: حسن، خ: 5195، م: 1026.
حدیث نمبر: 7344
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي الْمُؤْمِنِينَ ، مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ لَيْسَ عِنْدِي مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ ، وَلَا يَتَخَلَّفُونَ عَنِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر میں سمجھتا کہ مسلمان مشقت میں نہیں پڑیں گے تو میں اللہ کے راستہ میں نکلنے والے کسی سریہ سے کبھی پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی وسعت نہیں پاتا کہ میں ان سب کو سواریاں مہیا کرسکوں اور کہیں وہ میرے بعد جہاد میں شرکت کرنے سے پیچھے نہ ہٹنے لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7344
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 36، م:1876.
حدیث نمبر: 7345
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَرْفَعُهُ : " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَسْتَجْمِرْ وِتْرًا ، فَإِنَّ اللَّهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْر " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص پتھروں سے استنجاء کرے تو طاق عدد میں پتھر استعمال کرے کیونکہ اللہ طاق ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7345
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 162، م: 237.
حدیث نمبر: 7346
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَعَلَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ ، فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ غَسَلَاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ماردے تو اسے چاہئے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7346
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، والحديث رفعه ثابت دون شك، خ: 172، م: 279.
حدیث نمبر: 7347
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُفْيَانُ : لَعَلَّهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ : «إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ غَسَلَاتٍ»
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7347
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وهو مكرر ماقبله.
حدیث نمبر: 7348
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ يَعْنِي عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سب سے افضل صدقہ تو دل کے غناء کے ساتھ ہوتا ہے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتدا کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7348
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح موقوفا، وهو صحيح مرفوعا، خ: 1426.
حدیث نمبر: 7349
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأُ بِالْيَمِينِ وَ إِذَا خَلَعَ الْيُسْرَى وَإِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدٍ لِيُحْفِهِمَا جَمِيعًا، أَوْ لِيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا»
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے کہ تم میں سے کوئی شخص جوتی پہنے تو دائیں پاؤں سے ابتداء کرے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاوں کی اتارے نیز یہ کہ اگر تم میں سے کسی کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ صرف ایک جوتی پہن کر نہ پھرے بلکہ دونوں اتار دے یا دونوں پہن لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7349
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5856، م: 2097.
حدیث نمبر: 7350
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَوْ عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً ، فَقَالَ : " ارْكَبْهَا " ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ! قَالَ : " ارْكَبْهَا " ، قَالَ : إِنَّهَا بَدَنَةٌ ! قَالَ : " ارْكَبْهَا " . وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ مَرَّةً ، فَقَالَ : عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک اونٹ کو ہانک کر لئے جا رہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : کہ اس پر سوار ہو جاؤ اس نے عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : کہ اس پر سوار ہو جاؤ اس نے دوبارہ عرض کیا کہ یہ قربانی کا جانور ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر سوار ہونے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7350
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: الحديث صحيح، على ما فيه من شك، فإن كان رواه بالإسناد الأول: فهو حسن، وإن كان رواه بالثاني: فهو صحيح، خ: 1689، م: 1322.
حدیث نمبر: 7351
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ ، فَقَالَ : " بَيْنَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَقَرَةً إِذْ رَكِبَهَا ، فَضَرَبَهَا ، قَالَتْ : إِنَّا لَمْ نُخْلَقْ لِهَذَا ، إِنَّمَا خُلِقْنَا لِلْحِرَاثَةِ " ، فَقَالَ النَّاسُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، بَقَرَةٌ تَتَكَلَّمُ ! فَقَالَ : " فَإِنِّي أُومِنُ بِهَذَا أَنَا ، وَأَبُو بَكْرٍ غَدًا غَدًا ، وَعُمَرُ ، وَمَا هُمَا ثَمَّ ، وَبَيْنَا رَجُلٌ فِي غَنَمِهِ ، إِذْ عَدَا عَلَيْهَا الذِّئْبُ ، فَأَخَذَ شَاةً مِنْهَا ، فَطَلَبَهُ ، فَأَدْرَكَهُ ، فَاسْتَنْقَذَهَا مِنْهُ ، فَقَالَ : يَا هَذَا ، اسْتَنْقَذْتَهَا مِنِّي ، فَمَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ ، يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي ؟ " قَالَ النَّاسُ : سُبْحَانَ اللَّهِ ، ذِئْبٌ يَتَكَلَّمُ ! فَقَالَ : " إِنِّي أُومِنُ بِذَلِكَ وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ " وَمَا هُمَا ثَمَّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور نماز کے بعد ہماری طرف رخ کرکے بیٹھ گئے اور فرمایا : کہ ایک آدمی ایک بیل کو ہانک کر لئے جا رہا تھا راستے میں وہ اس پر سوار ہو گیا اور اسے مارنے لگا وہ بیل قدرت الٰہی سے گویا ہوا اور کہنے لگا ہمیں اس مقصد کے لئے پیدا نہیں کیا گیا ہمیں تو ہل جوتنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے لوگ کہنے لگے سبحان اللہ ! کبھی بیل بھی بولتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لیکن میں ابوبکر اور عمر تو اس پر ایمان رکھتے ہیں جبکہ وہ دونوں اس مجلس میں موجود نہ تھے۔ _x000D_ پھر فرمایا : کہ ایک آدمی اپنی بکریوں کے ریوڑ میں تھا کہ ایک بھیڑیے نے ریوڑ پر حملہ کر دیا اور ایک بکری اچک کرلے گیا وہ آدمی بھیڑئیے کے پیچھے بھاگا اور کچھ دور جا کر اسے جا لیا اور اپنی بکری کو چھڑا لیا یہ دیکھ کر وہ بھیڑیا قدرت الٰہی سے گویا ہوا اور کہنے لگا کہ اے فلاں ! آج تو تو نے مجھ سے اس بکری کو چھڑا لیا اس دن اسے کون چھڑائے گا جب میرے علاوہ اس کا کوئی چرواہانہ ہو گا ؟ لوگ کہنے لگے سبحان اللہ کیا بھیڑیا بھی بولتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لیکن میں ابوبکر اور عمر تو اس پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ دونوں اس مجلس میں موجود نہ تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7351
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3471، م: 2388.
حدیث نمبر: 7352
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : خَيَّرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا وَامْرَأَةً وَابْنًا لَهُمَا ، فَخَيَّرَ الْغُلَامَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا غُلَامُ ، هَذَا أَبُوكَ ، وَهَذِهِ أُمُّكَ ، اخْتَرْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی اور عورت اور ان دونوں کے بیٹے کو اختیار دیا اور لڑکے کو اختیار دیتے ہوئے فرمایا : اے لڑکے یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے ان میں سے جس کے ساتھ جانے کا ارادہ ہو اسے اختیار کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7352
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7353
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، أَنَا سَأَلْتُهُ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ ، فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ اتَّبَعَهَا ، حَتَّى يُفْرَغَ مِنْ شَأْنِهَا ، فَلَهُ قِيرَاطَانِ ، أَصْغَرُهُمَا ، أَوْ أَحَدُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا جن میں سے چھوٹا یا ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہو گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7353
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1325، م: 945.
حدیث نمبر: 7354
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي سُمَيٌّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ ، إِلَّا الْجَنَّةُ ، وَالْعُمْرَتَانِ ، أَوْ الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ تُكَفَّرُ مَا بَيْنَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حج مبرور کی جزاء جنت کے علاوہ کچھ نہیں اور دو عمرے اپنے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7354
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1773، م: 1349.
حدیث نمبر: 7355
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَسْتَعِيذُ مِنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثِ : دَرَكِ الشَّقَاءِ ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ ، وَسُوءِ الْقَضَاءِ ، أَوْ جَهْدِ الْقَضَاءِ " . قَالَ سُفْيَانُ : زِدْتُ أَنَا وَاحِدَةً ، لَا أَدْرِي أَيَّتُهُنَّ هِيَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان تین چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے بدنصیبی ملنے سے دشمنوں کے ہنسی اڑانے سے برے فیصلے سے اور مصیبتوں کی مشقت سے راوی حدیث سفیان کہتے ہیں کہ ان میں ایک چیز کا اضافہ مجھ سے ہو گیا ہے معلوم نہیں کہ وہ کون سی چیز ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7355
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6347، م: 2707.
حدیث نمبر: 7356
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ مَوْلَى ابْنِ أَبِي رُهْمٍ ، سَمِعَهُ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، اسْتَقْبَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ امْرَأَةً مُتَطَيِّبَةً ، فَقَالَ : أَيْنَ تُرِيدِينَ يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ ؟ فَقَالَتْ : الْمَسْجِدَ ، فَقَالَ : وَلَهُ تَطَيَّبْتِ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنَّهُ قَالَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ خَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا مُتَطَيِّبَةً تُرِيدُ الْمَسْجِدَ ، لَمْ يَقْبَلْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهَا صَلَاةً ، حَتَّى تَرْجِعَ ، فَتَغْتَسِلَ مِنْهُ غُسْلَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابورہم کے آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا سامنا ایک ایسی خاتون سے ہو گیا جس نے خوشبولگا رکھی تھی انہوں نے اس سے پوچھا کہ اے امۃ الجبار کہاں کا ارادہ ہے ؟ اس نے کہا مسجد کا انہوں نے پوچھا کیا تم نے اسی وجہ سے خوشبولگا رکھی ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں۔ فرمایا : کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو عورت اپنے گھر سے خوشبو لگا کر مسجد کے ارادے سے نکلے اللہ اس کی نماز کو قبول نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس جا کر اسے اس طرح دھوئے جیسے ناپاکی کی حالت میں غسل کیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7356
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث محتمل للتحسين، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيدالله.
حدیث نمبر: 7357
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : جَاءَ نِسْوَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا نَقْدِرُ عَلَيْكَ فِي مَجْلِسِكَ مِنَ الرِّجَالِ ، فَوَاعِدْنَا مِنْكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ ، قَالَ : " مَوْعِدُكُنَّ بَيْتُ فُلَانٍ " ، وَأَتَاهُنَّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ ، وَلِذَلِكَ الْمَوْعِدِ ، قَالَ : فَكَانَ مِمَّا قَالَ لَهُنَّ ، يَعْنِي : " مَا مِنَ امْرَأَةٍ تُقَدِّمُ ثَلَاثًا مِنَ الْوَلَدِ تَحْتَسِبُهُنَّ ، إِلَّا دَخَلَتْ الْجَنَّةَ " ، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ : أَوْ اثْنَانِ ؟ قَالَ : " أَوْ اثْنَان " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ عورتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ ! مردوں کی موجودگی میں ہم آپ کے پاس بیٹھنے سے محروم رہتی ہیں آپ ایک دن ہمارے لئے مقرر فرما دیجئے جس میں ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر (دین سیکھ) سکیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم فلاں شخص کے گھر میں اکٹھی ہوجانا اور اس دن اس جگہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے منجملہ ان باتوں کے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمائیں ایک بات یہ بھی تھی کہ تم میں سے جو عورت اپنے تین بچے آگے بھیجے (فوت ہو جائیں) اور وہ ان پر صبر کرے وہ جنت میں داخل ہو گی کسی عورت نے پوچھا اگر دو ہوں تو کیا حکم ہے ؟ فرمایا : دو ہوں تب بھی یہی حکم ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7357
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2632.
حدیث نمبر: 7358
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا ، لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے کہ اے اللہ میری قبر کو بت نہ بنائیے گا (جس کی پوجا شروع کر دیں) ان لوگوں پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7358
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 437، م: 530.