حدیث نمبر: 9433
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَتَصَدَّقُ أَحَدٌ بِتَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ ، إِلَّا أَخَذَهَا اللَّهُ بِيَمِينِهِ يُرَبِّيهَا لَهُ ، كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى تَكُونَ لَهُ مِثْلَ الْجَبَلِ أَوْ أَعْظَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ جب مال میں سے کوئی چیزصدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے قبول فرما لیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے، اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاتھ میں بڑھتے بڑھتے ایک پہاڑ کے برابر بن جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9433
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 1410 ، م : 1014
حدیث نمبر: 9434
وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَلَوْ سَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَهُمْ أَوْ شِعْبَهُمْ ، الْأَنْصَارُ شِعَارِي ، وَالنَّاسُ دِثَارِي " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا، اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصاری دوسری وادی میں تو میں انصار کے ساتھ ان کی وادی میں چلوں گا انصار میرا اندر کا کپڑا ہیں اور عام لوگ باہر کا کپڑا ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9434
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 3779 ، م : 76
حدیث نمبر: 9435
وأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ لُبْسَتَيْنِ : الصَّمَّاءِ ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ بِثَوْبِهِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ ، وَعَنِ الْمُلَامَسَةِ ، وَالْمُنَابَذَةِ ، وَالْمُحَاقَلَةِ ، وَالْمُزَابَنَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے، ایک تو یہ ہے کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرہ سا بھی کپڑا نہ ہو اور دوسرا یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے اور بیع ملامسہ، منابذہ، محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9435
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 2145 ، م : 1511 ، 1545
حدیث نمبر: 9436
وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا كُلَّ لَيْلَةٍ حِينَ يَمْضِي ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ ، فَيَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ , مَرَّتَيْنِ ، مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ له ؟ ، مَنْ الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ؟ ، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ ؟ . فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يُضِيءَ الْفَجْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزانہ جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ میں ہوں حقیقی بادشاہ (دو مرتبہ) کون ہے جو مجھ سے دعاء کرے ے کہ میں اسے قبول کرلوں ؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخشش دوں ؟ کون ہے جو مجھ سے طلب کرے کہ میں اسے عطاء کروں ؟ یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9436
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 1145 ، م : 758
حدیث نمبر: 9437
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثِ بْنِ طَلْقِ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّخَعِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ طَلْقَ بْنَ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَبِيٍّ لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ لَهُ فَقَدْ دَفَنْتُ ثَلَاثَةً . فَقَالَ : " لَقَدْ احْتَظَرْتِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ مِنَ النَّارِ " . قَالَ حَفْصٌ : سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ سِتِّينَ سَنَةً , وَلَمْ أَبْلُغْ عَشْرَ سِنِينَ ، وَسَمِعْتُ حَفْصًا يَذْكُرُ هَذَا الْكَلَامَ سَنَةَ سَبْعٍ وَثَمَانِينَ وَمِائَةٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بچہ لے کر حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس (کی زندگی) کے لئے دعاء فرما دیجئے کہ میں اس سے پہلے اپنے تین بچے دفنا چکی ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو تم نے جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو خوب بچا لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9437
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح ، وإسنادہ قوي ، م : 2636
حدیث نمبر: 9438
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد : سَمِعْت أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام کو مقرر ہی اس لئے کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے۔ اس لئے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9438
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 9439
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ , حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَرَّ بِسَعْدٍ وَهُوَ يَدْعُو ، فَقَالَ : " أَحِّدْ أَحِّدْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے تو وہ دعاء کر رہے تھے ( اور اس دوران دو انگلیوں سے اشارہ کر رہے تھے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک انگلی سے اشارہ کرو ایک انگلی سے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9439
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد اختلف فیه علی الأعمش
حدیث نمبر: 9440
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كَانَ الْعِلْمُ بِالثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ نَاسٌ مِنْ أبنَاءِ فَارِسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہوا تو ابناء فارس کے کچھ لوگ اسے وہاں سے بھی حاصل کرلیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9440
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف لضعف شھر
حدیث نمبر: 9441
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ مَوْلَى آلِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِكُلِّ إِرْبٍ مِنْهُ إِرْبًا مِنَ النَّارِ ، حَتَّى أَنَّهُ لَيَعْتِقُ بِالْيَدِ الْيَدَ ، وَبِالرِّجْلِ الرِّجْلَ ، وَبِالْفَرْجِ الْفَرْجَ " . فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ : أَأَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ؟ ، فَقَالَ سَعِيدٌ نَعَمْ : فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ لِغُلَامٍ لَهُ أَفْرَهَ غِلْمَانِهِ ، ادْعُ لِي مُطَرِّيًا ، قَالَ : فَلَمَّا قَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ ، قَالَ : اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے، اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد فرما دیں گے حتی کہ ہاتھ کے بدلے میں ہاتھ کو اور پاؤں کے بدلے میں پاؤں کو اور شرمگاہ کے بدلے میں شرمگاہ کو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9441
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 2517 ، م : 1509
حدیث نمبر: 9442
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " أَسْلَمُ , وَغِفَارٌ وَشَيْءٌ مِنْ جُهَيْنَةَ , وَمُزَيْنَةَ ، خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ تَمِيمٍ , وَأَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ , وَهَوَازِنَ , وَغَطَفَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن قبیلہ اسلم، غفار اور مزینہ و جہینہ کا کچھ حصہ اللہ کے نزدیک بنو اسد، بنو غطفان و ہوازن اور تمیم سے بہتر ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9442
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 3523 ، م : 2521
حدیث نمبر: 9443
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " نِسَاءُ أَهْلِ الْجَنَّةِ يُرَى مُخُّ سُوقِهِنَّ مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی عورتوں کی پنڈلیوں کا گودا گوشت کے باہر سے نظر آجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9443
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 3254 ، م : 2834
حدیث نمبر: 9444
حَدَّثَنا حسنُ بن موسى ، حدثنا شيبان بن عبد الرحمن ، حدثنا يحيى بن أبى كثير ، عن أبى سَلَمة بن عبد الرحمن ، عن أبى هريرة ، قال : بينما أنا أُصَلّى مع رسولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ من ركعتين ، فقام رجلٌ من بنى سُلَيْم فقال : يا رسولَ الله ، أَقَصُرَت الصَّلاةُ أم نَسِيتَ ؟ ، فقال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لم تَقْصُرِ الصَّلاةُ ولم أَنْسَهْ " . قال : يا رسولَ الله ، إنَّما صَلَّيْتَ ركعتين . فقال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحَقَّ ما يقولُ ذو اليَدَيْنِ ؟ " . قالوا : نَعَمْ . قال : فقام , فصَلَّى بهم رَكْعتينِ أُخْرَيَيْنِ . قال يحيى : حدثني ضَمْضَم بن جوس أنه سمع أبا هريرة يقول : ثم سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَتين
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9444
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 482 ، م : 573
حدیث نمبر: 9445
حدثنا حسنُ بن موسى ، قال : حدثنا شَيْبانُ ، عن يَحيى بن أبي كثيرٍ ، قال : أخبرني أبو سَلَمة ، أن أبا هريرة أخبره , أنَّ رسولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال : " مَنْ قامَ رمضانَ إيمانًا واحتسابًا ، غُفِرَ له ما تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِه ، ومَنْ قامَ لَيْلَةَ القَدْرِ إِيمانًا واحْتِسابًا ، غُفِرَ له ما تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9445
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 37 ، م : 760
حدیث نمبر: 9446
حدثنا حسنٌ ، قال : حدثنا شَيْبانُ ، عن يحيى ، قال : حدثني أبو سلمة ، أنه سمع أبا هريرة ، يقول : قال رسولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُنْكَحُ المرأَةُ وخالَتُها ، ولا المرأَةُ وعَمَّتُها "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9446
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 5110 ، م : 1408
حدیث نمبر: 9447
حدثنا حسنٌ ، قال : حدثنا شَيبانُ ، عن يحيى ، حدثني أبو سَلَمة ، عن أبى هريرة ، قال : كان رسولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يدعو بهَؤُلاء الكلماتِ : " اللَّهمَّ إنَّي أَعُوذ بِكَ مِنْ عَذابِ النارِ ، ومِن عَذابِ القَبرِ ، ومِن فِتْنَةِ المَحْيا والمَمات ، ومِن شَرَّ المَسِيحِ الدَّجالِ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9447
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 1377 ، م : 588
حدیث نمبر: 9448
حدثنا حسنٌ ، قال : حدثنا شَيبانُ ، عن يحيى ، عن سعيدٍ , أن أباه أخبره , أنه سمع أبا هريرة ، يقول : قال رسولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَحِلُ لاِمْرَأَةٍ أَنْ تُسافِرَ يومًا فما فَوْقَهُ إلاَّ وَمَعْهَا ذُو حُرْمَةٍ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9448
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 1088 ، م : 1339
حدیث نمبر: 9449
حدثنا غَسَّانُ بن الرَّبيعِ المَوصِلي ، قال : حدثنا حماد بن سَلَمة ، عن عاصم بن بَهْدلة ، عن أبى صالحٍ ، عن أبى هريرة , أنَّ النبيّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال : " يُؤْتَى بالموتِ كَبْشًا أَغْثَرَ ، فيُوقَفُ بين الجَنَّة والنار ، فيُقالُ : يا أهلَ الجَنَّةِ ، فيَشْرَئِبُّون ويَنْظُرُونَ ، فَيُذْبَحُ , فيقالُ : خُلُودًا لا مَوْتَ " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9449
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9450
حدثنا أبو معاويةَ ، وَمحمد بن عبيد الله , قالا : حدثنا الأعمشُ ، عن أبى صالحٍ أبى سعيد ، عنِ النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فذَكَراه
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9450
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9451
حدثنا غسان بن الرَّبيع ، قال : حدثنا حماد بن سَلَمة ، عن أيوبَ ، عن ابنِ سِيرِين ، عن أبى هريرة ، قال : قال النبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَقُولَنَّ أَحَدُكم : عَبْدي وأَمَتي ، ولا يَقُولَنَّ المَمْلُوكُ : رَبَّي ورَبتي ، لِيَقُلِ المالِكُ : فَتَايَ وفتاتِي ، ولْيَقُلِ الْمَمْلُوكُ : سَيَّدي وسَيَّدَتِي ، فإنهم المَمْلُوكُون ، والَّربُّ الله عَزَّ وجلَّ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9451
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن، خ : 2552 ، م : 2249
حدیث نمبر: 9452
حدثنا غسانُ ، حدثنا حماد بن سَلَمة ، عن محمد بن عَمْرو ، عن أبى سَلمة ، عن أبى هريرة , أن رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال : " إنْ كانَ في شيءٍ مِما تَدَاوَوْنَ به خَيْرٌ ، ففيِ الحِجامَةِ "
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9452
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناد حسن
حدیث نمبر: 9453
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْهُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ ، أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ ، كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے، اللہ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو پسند نہیں کرتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9453
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، خ : 7504 ، م : 2685 ، وھذا إسناد ضعیف ، روایة محمد عن عطاء بعد اختلاطه
حدیث نمبر: 9454
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَعْرُوفُ بْنُ سُوَيْدٍ الْجُذَامِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ رَبَاحٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا عَدْوَى ، وَلَا طِيَرَةَ ، وَالْعَيْنُ حَقٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور پرندوں (کو موثر سمجھنے کی) کوئی حقیقت نہیں اور نظر لگنا برحق ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9454
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 5717 ، 5755 ، م : 2220 ، 2223
حدیث نمبر: 9455
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَيْسَ فِي الْعَبْدِ صَدَقَةٌ ، إِلَّا صَدَقَةَ الْفِطْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی نے فرمایا صدقہ فطر کے علاوہ غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9455
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 1464 ، م : 982
حدیث نمبر: 9456
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ ، فَمَنْ ابْتَاعَ مُصَرَّاةً فَهُوَ بِآخِرِ النَّظَرَيْنِ ، إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ ، وَلَا تَسْأَلْ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اچھے داموں فروخت کرنے کے لئے بکری یا اونٹنی کا تھن مت باندھا کرو جو شخص (اس دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے جو اس کے حق میں بہتر ہو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے ( اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔ اور تاجروں سے باہر باہر ہی مل کر سودا مت کیا کرو۔ اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے اور ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو اور ایک دوسرے کی بیع پر بیع مت کرو اور کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان تجارت فروخت نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9456
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، خ : 2151 ، م: 1524 ، وھذا إسناد منقطع ، إبراھیم النخعي لم یسمع من أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 9457
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ فِي الْمَسْجِدِ ضَالَّةً ، فَلْيَقُلْ : لَا أَدَّاهَا اللَّهُ إليك ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کسی آدمی کو مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرتے ہوئے سنے تو اسے چاہئے کہ یوں کہہ دے اللہ کرے تجھے وہ چیز نہ ملے کیونکہ مساجد (اس قسم کے اعلانات کے لئے نہیں بنائی گئیں) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9457
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 568
حدیث نمبر: 9458
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَيْوَةَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى غِفَارَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا تَبِيعُوا فَضْلَ الْمَاءِ ، وَلَا تَمْنَعُوا الْكَلَأَ ، فَيَهْزُلَ الْمَالُ وَيَجُوعَ الْعِيَالُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ زائد پانی روک کر نہ رکھا کرو زائد گھاس نہ روکا کرو، ورنہ مال کمزور ہوجائے گا اور بچے بھوکے رہ جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9458
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح دون قوله : «فیھزل المال...... الخ » ، وھذا إسناد قابل للتحسین
حدیث نمبر: 9459
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ حَيْوَةَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنْ كَانَ قَالَهُ : " جِهَادُ الْكَبِيرِ وَالضَّعِيفِ وَالْمَرْأَةِ : الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بوڑھے، کمزور اور عورت کا جہاد حج اور عمرہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9459
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف لانقطاعه ، فإن محمدا لم یدرک أبا ھریرۃ
حدیث نمبر: 9460
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ ، أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ رَبِيعَةَ حَدَّثَهُ , أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجَ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا هَامَ , لَا هَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردے کی کھوپڑی میں سے کیڑا نکلنے کی کوئی حقیقت نہیں، یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9460
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 5717 ، م : 2220
حدیث نمبر: 9461
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، اس لئے (سجدے میں) دعاء کثرت سے کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9461
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م :482
حدیث نمبر: 9462
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنِ ابْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ مَا قَعَدَ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فِي صَلَاةٍ مَا لَمْ يُحْدِثْ ، تَدْعُو لَهُ الْمَلَائِكَةُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے، اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور فرشتے اس کے لئے اس وقت تک دعاء مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ بےوضو نہ ہوجائے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ ! اس کی بخشش فرما، اے اللہ ! اس پر رحم فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9462
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 477 ، م : 649
حدیث نمبر: 9463
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ السَّمَاءِ بَرَكَةً ، إِلَّا أَصْبَحَ كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ بِهَا كَافِرِينَ ، يُنَزِّلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْغَيْثَ ، فَيَقُولُونَ : بِكَوْكَبِ كَذَا وَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ جب بھی آسمان سے برکت (بارش) نازل فرماتے ہیں تو بندوں کا ایک گروہ اس کی ناشکری کرنے لگتا ہے، بارش اللہ نازل کرتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ فلاں ستارے کی تاثیر سے ہوئی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9463
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 72
حدیث نمبر: 9464
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ بَهْرَامَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ لَهُ فِي السَّلَفِ الْخَالِي لَا يَقْدِرَانِ عَلَى شَيْءٍ ، فَجَاءَ الرَّجُلُ مِنْ سَفَرِهِ , فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَتِهِ جَائِعًا ، قَدْ أَصَابَتْهُ مَسْغَبَةٌ شَدِيدَةٌ ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ : أَعِنْدَكِ شَيْءٌ ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ , أَبْشِرْ أَتَاكَ رِزْقُ اللَّهِ . فَاسْتَحَثَّهَا ، فَقَالَ : وَيْحَكِ ، ابْتَغِي إِنْ كَانَ عِنْدَكِ شَيْءٌ . قَالَتْ : نَعَمْ ، هُنَيَّةً نَرْجُو رَحْمَةَ اللَّهِ ، حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَيْهِ الطَّوَى ، قَالَ : وَيْحَكِ ، قُومِي فَابْتَغِي إِنْ كَانَ عِنْدَكِ خُبْزٌ فَأْتِينِي بِهِ فَإِنِّي قَدْ بَلَغْتُ وَجَهِدْتُ . فَقَالَتْ : نَعَمْ ، الْآنَ يَنْضَجُ التَّنُّورُ فَلَا تَعْجَلْ . فَلَمَّا أَنْ سَكَتَ عَنْهَا سَاعَةً , وَتَحَيَّنَتْ أَيْضًا أَنْ يَقُولَ لَهَا , قَالَتْ هِيَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهَا : لَوْ قُمْتُ فَنَظَرْتُ إِلَى تَنُّورِي ، فَقَامَتْ فَوَجَدَتْ تَنُّورَهَا مَلْآنَ جُنُوبَ الْغَنَمِ وَرَحْيَيْهَا تَطْحَنَانِ ، فَقَامَتْ إِلَى الرَّحَى , فَنَفَضَتْهَا وَأَخْرَجَتْ مَا فِي تَنُّورِهَا مِنْ جُنُوبِ الْغَنَمِ . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَوَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ ، عَنْ قَوْلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ أَخَذَتْ مَا فِي رَحْيَيْهَا وَلَمْ تَنْفُضْهَا لَطَحَنَتْهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پہلے زمانے میں دو میاں بیوی تھے انہیں کسی چیز پر دسترس حاصل نہ تھی، وہ آدمی ایک مرتبہ سفر سے واپس آیا، اسے شدید بھوک لگی ہوئی تھی، وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچ کر اس سے کہنے لگا کیا تمہارے پاس کچھ ہے ؟ اس نے کہا ہاں ! خوش ہوجاؤ کہ اللہ کا رزق تمہارے پاس آیا ہے، اس نے اسے چمکار کر کہا کہ اگر تمہارے پاس کچھ ہے تو جلدی سے لے آؤ، اس نے کہا اچھا، بس تھوڑی دیر ہمیں رحمت الٰہی کی امید ہے لیکن جب انتظار کی گھڑیاں مزید لمبی ہوتی گئیں تو اس نے اپنی بیوی سے کہا کمبخت ! جا اگر تیرے پاس کوئی روٹی ہے تو لے آ، بھوک کی وجہ سے میں نڈھال ہوچکا ہوں، اس نے کہا اچھا ابھی تنور لگتا ہے، جلدی نہ کرو۔ جب وہ تھوڑی دیر مزید خاموش رہا اور اس کی بیوی نے دیکھا کہ اب یہ دوبارہ تقاضا کرنے والا ہے تو اس نے اپنے دل میں سوچا کہ مجھے اٹھ کر تنور کو دیکھنا تو چاہئے (شاید اس میں کچھ ہو) چنانچہ وہ کھڑی ہوئی تو دیکھا کہ تنور بکری کی رانوں سے بھرا پڑا ہے اور اس کی دونوں چکیوں میں آٹا پس رہا ہے وہ چکی کی طرف بڑھی اور آٹا لے کرچھانا اور تنور میں سے بکری کی رانیں نکالیں ( اور خوب لطف لے کر سیراب ہوئے) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ارشادنقل کرتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، اگر وہ چکیوں میں سے آٹا نکال کر انہیں جھاڑ نہ لیتی تو قیامت تک اس میں سے آٹا نکلتا رہتا اور وہ پیستی رہتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9464
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف لضعف شھر بن حوشب
حدیث نمبر: 9465
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَجَعْفَرِ بْنِ أَبِي وَحْشِيَّةَ ، وَعَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَتَنَازَعُونَ فِي الشَّجَرَةِ الَّتِي اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : أَحْسَبُهَا الْكَمْأَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَهِيَ شِفَاءٌ لِلسُّمِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے تو وہ اس درخت کے بارے میں اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے جو سطح زمین سے ابھرتا ہے اور اسے قرار نہیں ہوتا چنانچہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہمارے خیال میں وہ کھنبی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھنبی تو من (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفا ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجور ہے اور زہر کی شفا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9465
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث حسن دون قصة الشجرۃ ، وھذا إسناد ضعیف لضعف شھر
حدیث نمبر: 9466
حَدَّثَنَا فَزَارَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : أَخْبَرَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا , فَأَرْمَلَ فِيهَا الْمُسْلِمُونَ ، وَاحْتَاجُوا إِلَى الطَّعَامِ ، فَاسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ الْإِبِلِ ، فَأَذِنَ لَهُمْ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ : فَجَاءَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِبِلُهُمْ تَحْمِلُهُمْ وَتُبَلِّغُهُمْ عَدُوَّهُمْ ، يَنْحَرُونَهَا ؟ , بَلْ ادْعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِغَبَرَاتِ الزَّادِ ، فَادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ . قَالَ : " أَجَلْ " ، قَالَ : فَدَعَا بِغَبَرَاتِ الزَّادِ ، فَجَاءَ النَّاسُ بِمَا بَقِيَ مَعَهُمْ , فَجَمَعَهُ ، ثُمَّ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ بِالْبَرَكَةِ , وَدَعَا بِأَوْعِيَتِهِمْ فَمَلَأَهَا ، وَفَضَلَ فَضْلٌ كَثِيرٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عِنْدَ ذَلِكَ : " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمَا غَيْرَ شَاكٍّ دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں تشریف لے گئے وہاں مسلمانوں کو بھوک نے ستایا اور انہیں کھانے کی شدید حاجت نے آگھیرا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت مانگی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس اونٹ پر یہ سواری کرتے ہیں اور دشمن کے قریب پہنچتے ہیں کیا یہ اسی کو ذبح کردیں گے ؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان سے ان کے پاس متفرق طور پر جو چیزیں موجود ہیں وہ منگوا لیجئے اور اللہ سے اس میں برکت کی دعاء فرما لیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی رائے کو قبول کرلیا اور متفرق چیزیں جوت وشہ میں موجود تھیں، منگوا لیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس بچا کھچا کھانے کا سامان لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اکٹھا کیا اور اللہ سے اس میں برکت کی دعاء کی اور فرمایا کہ اپنے اپنے برتن لے کر آؤ سب کے برتن بھر گئے اور بہت سی مقدار بچ بھی گئی، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور جو شخص ان دونوں گواہیوں کے ساتھ اللہ سے ملے گا اور اسے ان میں کوئی شک نہ ہوا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9466
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، م : 27 ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة فزارۃ
حدیث نمبر: 9467
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ , فَقَالَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَنْتَ نَهَيْتَ النَّاسَ أَنْ يَصُومُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ؟ قَالَ : لَا لَعَمْرُ اللَّهِ ، غَيْرَ أَنِّي وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ ، وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ ، لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَصُومَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، إِلَّا فِي أَيَّامٍ يَصُومُهُ فِيهَا " . قال : فَجَاءَ آخَرُ , فَقَالَ : يَا قال : فَجَاءَ آخَرُ , فَقَالَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَنْتَ نَهَيْتَ النَّاسَ أَنْ يُصَلُّوا فِي نِعَالِهِمْ ؟ قَالَ : لَا لَعَمْرُ اللَّهِ ، غَيْرَ أَنِّي وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ ، وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " يُصَلِّي إِلَى هَذَا الْمَقَامِ وَإِنَّ عَلَيْهِ نَعْلَيْهِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَهُمَا عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالاوبر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا آپ ہی لوگوں کو جمعہ کے دن کا روزہ رکھنے سے منع کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں بخدا ! اس حرم کے رب کی قسم میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے تم میں سے کوئی شخص صرف جمعہ کا روزہ نہ رکھے، الاّ یہ کہ وہ اس کے معمول میں آجائے پھر دوسرا آدمی آیا اور کہنے لگا اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا آپ وہی ہیں جو لوگوں کو جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھنے سے روکتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا نہیں اس حرم کے رب کی قسم میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اسی جگہ پر کھڑے ہو کر جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے اور واپس جاتے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9467
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح لغیرہ ، خ : 1985 ، م : 1144 ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة الرجل الحارثي
حدیث نمبر: 9468
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ثُمَّ جَلَسَ لَمْ تَزَلْ الْمَلَائِكَةُ تَقُولُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ أَوْ يَقُومْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ کر وہیں بیٹھ جاتا ہے تو فرشتے اس کے لئے مسلسل دعاء مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ بےوضو نہ ہوجائے یا اپنی جگہ سے اٹھ کر نہ جائے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما، اے اللہ ! اس پر رحم فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9468
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، خ : 477 ، م : 649 ، وھذا إسناد فیه ابن إسحاق مدلس ، لکنه توبع
حدیث نمبر: 9469
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرِ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ فِرَاشَهُ فَلْيَنْزِعْ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ ثُمَّ لِيَنْفُضْ بِهَا فِرَاشَهُ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا حَدَثَ عَلَيْهِ بَعْدَهُ ، ثُمَّ لِيَضْطَجِعْ عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ ، ثُمَّ لِيَقُلْ : بِاسْمِكَ رَبِّي وَضَعْتُ جَنْبِي ، وَبِكَ أَرْفَعُهُ ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَارْحَمْهَا ، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا ، بِمَا حَفِظْتَ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص رات کو بیدارہو پھر اپنے بستر پر آئے تو اسے چاہے کہ اپنے تہبند ہی سے اپنے بستر کو جھاڑ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے پیچھے کیا چیز اس کے بستر پر آگئی ہو پھر یوں کہے کہ اے اللہ میں نے آپ کے نام کی برکت سے اپنا پہلو زمین پر رکھ دیا اور آپ کے نام سے ہی اٹھاؤں گا اگر میری روح کو اپنے پاس روک لیں تو اس کی مغفرت فرمائیے اور اگر بھیج دیں تو اس کی اسی طرح حفاظت فرمائیے جیسے آپ اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتے ہیں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9469
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 7393 ، م : 2714
حدیث نمبر: 9470
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِذَا زَنَتْ خَادِمُ أَحَدِكُمْ فَلْيَجْلِدْهَا وَلَا يُعَيِّرْهَا , فَإِنْ عَادَتْ الثَّانِيَةَ فَلْيَجْلِدْهَا وَلَا يُعَيِّرْهَا ، فَإِنْ عَادَتْ الثَّالِثَةَ فَلْيَجْلِدْهَا وَلَا يُعَيِّرْهَا ، فَإِنْ عَادَتْ الرَّابِعَةَ فَلْيَجْلِدْهَا ، وَلْيَبِعْهَا بِحَبْلٍ مِنْ شَعَرٍ , أَوْ بِضَفِيرٍ مِنْ شَعَرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کی باندی زنا کرے اور اس کا جرم ثابت ہوجائے تو اسے کوڑوں کی سزا دے لیکن اسے عار نہ دلائے پھر تیسری یا چوتھی مرتبہ یہی گناہ سرزد ہونے پر فرمایا کہ اسے بیچ دے خواہ اس کی قسمت صرف بالوں سے گندھی ہوئی ایک رسی ہی ملے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9470
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 2152 ، م : 1703
حدیث نمبر: 9471
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْإِسْلَامَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب ایمان مدینہ منورہ کی طرف ایسے سمٹ آئے گا جیسے سانپ اپنے بل میں سمٹ آتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9471
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 1876 ، م : 147
حدیث نمبر: 9472
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ الشَّهْرُ ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھا کرو، چاند دیکھ کر عید منایا کرو۔ اگر چاند نظر نہ آئے اور آسمان پر ابر چھایا ہو کیا تیس کی گنتی پوری کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9472
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، خ : 1909 ، م : 1081 ، وھذا إسناد ضعیف ، الحجاج بن أرطاۃ مدلس ، وقد عنعن