حدیث نمبر: 9394
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ سِتِّينَ سَنَةً ، فَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَيْهِ فِي الْعُمُرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اللہ نے ساٹھ سال تک زندگی عطاء فرمائی ہو اللہ تعالیٰ نے عمر کے معاملے میں اس کے لئے کوئی عذر نہیں چھوڑا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9394
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 6419
حدیث نمبر: 9395
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ الْمَالُ وَيَفِيضَ ، حَتَّى يَخْرُجَ الرَّجُلُ بِزَكَاةِ مَالِهِ فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَقْبَلُهَا مِنْهُ ، وَحَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا ، وَحَتَّى يَكْثُرَ الْهَرْجُ " ، قَالُوا : وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " الْقَتْلُ ، الْقَتْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مال کی اتنی کثرت اور ریل پیل نہ ہوجائے کہ ایک آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ نکالے تو اسے قبول کرنے والا نہ ملے اور جب تک سر زمین عرب دریاؤں اور نہروں سے لبریز نہ ہوجائے اور جب تک کہ " ہرج " کی کثرت نہ ہوجائے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہرج سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا قتل۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9395
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 7061 ، م : 2672
حدیث نمبر: 9396
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا ، وَمَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہمارے خلاف اسلحہ اٹھائے، وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جو شخص ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9396
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 101
حدیث نمبر: 9397
وَقَالَ : " مَنْ ابْتَاعَ شَاةً مُصَرَّاةً فَهُوَ فِيهَا بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، فَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا ، وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا ، وَرَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا جو شخص ایسی بکری خریدے جس کے تھن باندھے دئیے گئے ہوں تو اسے تین دن تک اختیار ہے کہ یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کر دے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9397
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 2150 ، م : 1524
حدیث نمبر: 9398
وَقَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ الْيَهُودَ ، فَيَقْتُلَهُمْ الْمُسْلِمُونَ حَتَّى يَخْتَبِئَ الْيَهُودِيُّ وَرَاءَ الْحَجَرِ أَوْ الشَّجَرَةِ ، فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوْ الشَّجَرُ : يَا مُسْلِمُ , يَا عَبْدَ اللَّهِ , هَذَا يَهُودِيٌّ خَلْفِي فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ ، إِلَّا الْغَرْقَدَ , فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرِ الْيَهُودِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے قتال نہ کرلیں، چنانچہ مسلمان انہیں خوب قتل کریں گے حتیٰ کہ اگر کوئی یہودی بھاگ کر کسی پتھر یا درخت کی آڑ میں چھپنا چاہے گا تو وہ پتھر اور درخت بولے گا اے بندہ اللہ اے مسلمان یہ میرے پیچھے یہودی ہے، آ کر اسے قتل کر لیکن غرقد درخت نہیں بولے گا کیونکہ وہ یہودیوں کا درخت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9398
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 2926 ، م : 2922
حدیث نمبر: 9399
وَقَالَ : " مِنْ أَشَدِّ أُمَّتِي لِي حُبًّا , نَاسٌ يَكُونُونَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ رَآنِي بِأَهْلِهِ وَمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا کہ میری امت میں مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے وہ لوگ ہوں گے جو میرے بعد آئیں گے اور ان میں سے ہر ایک کی خواہش یہ ہوگی کہ اپنے اہل خانہ اور مال و دولت کو خرچ کر کے کسی طرح میری زیارت کا شرف حاصل کرلیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9399
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 3589 ، م : 2832
حدیث نمبر: 9400
وَقَالَ : " مَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا " .
مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا جو شخص اپنے آقاؤں کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے عقد موالات کرتا ہے اس پر اللہ اور سارے فرشتوں کی لعنت ہے، اللہ اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں فرمائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9400
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 1508
حدیث نمبر: 9401
وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَالَ الْقَارِئُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقَالَ مَنْ خَلْفَهُ : اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، فَوَافَقَ قَوْلُهُ ذَلِكَ قَوْلَ أَهْلِ السَّمَاءِ : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ , غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا جب امام سمع اللہ لمن حمدہ کہے اور مقتدی اللہم ربنا و لک الحمد کہے اور اس کا یہ جملہ آسمان والوں کے اللہم ربنالک الحمد کے موافق ہوجائے تو اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9401
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 796 ، م : 409
حدیث نمبر: 9402
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّهُ كَانَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ ، وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوصالح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز پڑھتے ہوئے جب بھی سر کو جھکاتے یا بلند کرتے تو تکبیر کہتے اور فرماتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9402
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 795 ، م : 392
حدیث نمبر: 9403
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّهُ قَالَ : " شَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتْحَ مَا بَيْن الْمِرْفَقَيْنِ ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يَسْتَعِينُوا بِالرُّكَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ شکایت کی کہ جب وہ کشادہ ہوتے ہیں تو سجدہ کرنے میں مشقت ہوتی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھٹنوں سے مدد لیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9403
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ قوي
حدیث نمبر: 9404
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي ثِفَالٍ الْمُرِّيِّ ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " دَمُ عَفْرَاءَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ دَمِ سَوْدَاوَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نزدیک سانپ اور بچھو کو مارنے سے زیادہ محبوب خبیث جانور کو مارنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9404
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف لجھالة أبي ثفال
حدیث نمبر: 9405
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنَ الْحَبَشَةِ ، يُخَرِّبُ بَيْتَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوٹی چھوٹی پنڈلیوں والا ایک حبشی خانہ کعبہ کو ویران کر ڈالے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9405
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 1591 ، م : 2909
حدیث نمبر: 9405M
وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ ، يَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ قحطان کا ایک آدمی لوگوں کو اپنی لاٹھی سے ہانک نہ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9405M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 3518 ، م : 2910
حدیث نمبر: 9406
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْجُمُعَةِ ، فَلَمَّا قَرَأَ : وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ سورة الجمعة آية 3 ، قَالَ : مَنْ هَؤُلَاءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، فَلَمْ يُرَاجِعْهُ النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَأَلَهُ مَرَّةً , أَوْ مَرَّتَيْنِ , أَوْ ثَلَاثًا , وَفِينَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ ، قَالَ : فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ ، وَقَالَ : " لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا ، لَنَالَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورت جمعہ نازل ہوئی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے٫ آخرین منہم لما یلحقوا بہم (کچھ دوسرے بھی ہیں جو ان کے ساتھ آ کر اب تک نہیں ملے) کی تلاوت فرمائی تو کسی نے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کون لوگ ہوں گے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب نہ دیا حتی کہ سائل نے دو تین مرتبہ یہ سوال دہرایا، اس وقت ہمارے درمیان حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ حضرت سلمان رضی اللہ عنہ پر رکھ کر فرمایا اگر ایمان ثریا ستارے پر ہوا تو ان کی قوم کے کچھ لوگ اسے وہاں سے بھی حاصل کرلیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9406
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 4898 ، م : 2546
حدیث نمبر: 9407
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا ، أَدَّى اللَّهُ عَنْهُ ، وَمَنْ أَخَذَهَا يُرِيدُ يَعْنِي تَلَفَهَا ، أَتْلَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں کا مال (قرض پر) اداء کرنے کی نیت سے لیتا ہے اللہ وہ قرض اس سے اداء کروا دیتا ہے اور جو ضائع کرنے کی نیت سے لیتا ہے، اللہ اسے ضائع کروا دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9407
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 2387
حدیث نمبر: 9408
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام ، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِينَ سَنَةً بِالْقَدُومِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اسی سال کی عمر میں اپنے ختنے کئے، جس جگہ ختنے کئے اس کا نام " قدوم " تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9408
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 3356 ، م : 2370
حدیث نمبر: 9409
وَقَالَ : " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ ، وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے، جمعہ کا دن ہے اسی میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی، اسی دن وہ جنت میں داخل ہوئے اور اسی دن جنت سے باہر نکالے گئے اور قیامت بھی جمعہ کے دن ہی آئے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9409
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، م : 854
حدیث نمبر: 9410
قَالَ : " وَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِذَا أَحَبَّ عَبْدِي لِقَائِي أَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ ، وَإِذَا كَرِهَ لِقَائِي كَرِهْتُ لِقَاءَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور ارشاد باری تعالیٰ ہے جب میرا بندہ مجھ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے تو میں بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہوں اور جب وہ مجھ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے تو میں بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9410
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، و إسنادہ قوي ، خ : 7404 م : 2685
حدیث نمبر: 9411
وَقَالَ : " رَأْسُ الْكُفْرِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ ، وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ , وَالْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ , وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا کفر کا مرکز مشرق کی طرف ہے، فخروتکبر اونٹوں اور گھوڑوں کے مالکوں میں ہوتا ہے سکون و اطمینان بکریوں کے مالکوں میں ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9411
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ،خ : 3499، م : 52
حدیث نمبر: 9412
وَقَالَ : " تَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ أَشَدَّهُمْ كَرَاهِيَةً لِهَذَا الشَّأْنِ ، حَتَّى يَقَعَ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا تم دیکھو گے کہ جو آدمی اسلام قبول کرنے میں سب سے زیادہ نفرت کا اظہار کرتا تھا، اسلام قبول کرنے کے بعد تمہیں وہی سب سے بہتر آدمی نظر آئے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9412
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ،خ : 3496 ، م : 2526
حدیث نمبر: 9413
وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ ، يَقُولُ : " اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَام " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ دعاء فرماتے کہ اے اللہ ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزوروں کو قریش کے ظلم و ستم سے نجات عطاء فرما، اے اللہ ! قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما اور ان پر حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسی قحط سالی مسلط فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9413
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ،خ : 1006 ، م : 675
حدیث نمبر: 9414
وَقَالَ : " غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا قبیلہ غفار کی اللہ بخشش فرمائے اور قبیلہ اسلم کو اللہ سلامتی عطاء فرمائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9414
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 1006 ، م : 2515
حدیث نمبر: 9415
وَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ، وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے جو کچھ میں جانتا ہوں، اگر وہ تمہیں پتہ چل جائے تو تم آہ وبکاء کی کثرت کرنا شروع کردو اور ہنسنے میں کمی کردو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9415
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 6637
حدیث نمبر: 9416
وَقَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ " ، قَالُوا : فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " إِنِّي لَسْتُ فِي ذَا مِثْلَكُمْ ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي ، فَاكْلَفُوا مَا لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمائی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں تم میری طرح نہیں ہو میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔ اس لئے تم اپنے اوپر عمل کا اتنا بوجھ ڈالو جسے برداشت کرنے کی تم میں طاقت موجود ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9416
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 1966 ، م : 1103
حدیث نمبر: 9417
وَقَالَ : " فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ لَا يَقْطَعُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا ہے کہ اگر کوئی سوار اس کے سائے میں سو سال تک چلتا رہے تب بھی اسے قطع نہ کرسکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9417
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 4881 ، م : 2826
حدیث نمبر: 9418
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى يَعْنِي الْمَخْزُومِيَّ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کا وضو نہ ہو اس کی نماز نہیں ہوتی اور جو شخص اللہ کا نام لے کر وضو شروع نہ کرے اس کا وضو نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9418
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف لجھالة یعقوب ، و والدہ سلمة
حدیث نمبر: 9419
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْخَرَّاطِ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ جَاءَ مَسْجِدِي هَذَا ، لَمْ يَأْتِ إِلَّا لِخَيْرٍ يَتَعَلَّمُهُ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَمَنْ جَاءَ لِغَيْرِ ذَلِكَ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ رَجُلٍ يَنْظُرُ إِلَى مَتَاعِ غَيْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہماری اس مسجد میں صرف خیر سیکھنے سکھانے کے لئے داخل ہو، وہ مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے اور جو کسی دوسرے مقصد کے لئے آئے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو کسی ایسی چیز کو دیکھنے لگے جو دوسرے کا سامان ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9419
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث ضعیف ، اختلف في إسنادہ علی المقبري ، وحمید مختلف فیه
حدیث نمبر: 9420
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : مَا رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، إِلَّا قَالَ : " يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى طَاعَتِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی آسمان کی طرف اپنا سر اٹھا کر دیکھتے تو فرماتے اے دلوں کو پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنی اطاعت پر ثابت قدم رکھ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9420
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لضعف صالح
حدیث نمبر: 9421
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَفْتَحُ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَابَ مَسْأَلَةٍ ، إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ ، يَأْخُذُ الرَّجُلُ حَبْلَهُ فَيَعْمِدُ إِلَى الْجَبَلِ ، فَيَحْتَطِبُ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَأْكُلُ بِهِ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ مُعْطًى أَوْ مَمْنُوعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے اوپر " سوال " کا دروازہ کھولتا ہے، اللہ اس پر فقروفاقہ کا دروازہ کھول دیتا ہے، آدمی رسی پکڑ کر پہاڑ پر جائے لکڑیاں کاٹ کر اپنی پیٹھ پر لاد کر اسے بیچے اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی خود کھائے یا صدقہ کردے، یہ بہت بہتر ہے اس سے کہ لوگوں سے جا کر سوال کرے، اس کی مرضی ہے کہ اسے کچھ دے یا نہ دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9421
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 1470 ، م : 1042
حدیث نمبر: 9422
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حَرَّمَ كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے کو حرام قرار دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9422
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 1933
حدیث نمبر: 9423
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ يَسَارٍ أَبَا الْحُبَابِ أخْبَرَهُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا طَيِّبًا ، وَلَا يَصْعَدُ إلى السَّمَاءَ إِلَّا طَيِّبٌ ، إِلَّا وَهُوَ يَضَعُهَا فِي يَدِ الرَّحْمَنِ أَوْ فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ ، فَيُرَبِّيهَا لَهُ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى إِنَّ التَّمْرَةَ لَتَكُونُ مِثْلَ الْجَبَلِ الْعَظِيمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ جب حلال مال میں سے کوئی چیز صدقہ کرتا ہے تو اللہ " جو حلال قبول کرتا ہے " اسے قبول فرما لیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے، اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک کھجور ایک بڑے پہاڑ کی طرح ہوجاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9423
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 1410 ، م : 1014
حدیث نمبر: 9424
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ لِلْمَسَاجِدِ أَوْتَادًا الْمَلَائِكَةُ جُلَسَاؤُهُمْ ، إِنْ غَابُوا يَفْتَقِدُونَهُمْ ، وَإِنْ مَرِضُوا عَادُوهُمْ ، وَإِنْ كَانُوا فِي حَاجَةٍ أَعَانُوهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ مسجد کی میخیں ہوتے ہیں ملائکہ ان کے ہم نشین ہوتے ہیں، اگر وہ غائب ہوں تو ملائکہ انہیں تلاش کرتے ہیں، بیمار ہوجائیں تو عیادت کرتے ہیں اور اگر کسی کام میں مصروف ہوں تو ان کی مدد کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9424
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف ، ابن لھیعة سیئ الحفظ
حدیث نمبر: 9425
وَقَالَ : " جَلِيسُ الْمَسْجِدِ عَلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ : أَخٍ مُسْتَفَادٍ ، أَوْ كَلِمَةٍ مُحْكَمَةٍ ، أَوْ رَحْمَةٍ مُنْتَظَرَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا مسجد کے ہم نشین میں تین خصلتیں ہوتی ہیں فائدہ پہنچانے والا بھائی، حکمت کی بات یا وہ رحمت جس کا انتظار ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9425
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف کسابقه
حدیث نمبر: 9426
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْعَرَقَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيَذْهَبُ فِي الْأَرْضِ سَبْعِينَ بَاعًا ، وَإِنَّهُ لَيَبْلُغُ إِلَى أَفْوَاهِ النَّاسِ ، أَوْ إِلَى آنَافِهِمْ " . شَكَّ ثَوْرٌ بِأَيِّهِمَا قَالَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں کا پسینہ زمین میں ستر ہاتھ تک چلا جائے گا اور لوگوں کے منہ یا کانوں تک پہنچ جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9426
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 6432 ، م : 2863
حدیث نمبر: 9427
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ أَبِي مَالِكٍ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا أُحِبُّ أَنَّ عِنْدِي أُحُدًا ذَهَبًا ، يَأْتِي عَلَيَّ ثَالِثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ ، إِلَّا شَيْءٌ أَرْصُدُهُ فِي قَضَاءِ دَيْنٍ يَكُونُ عَلَيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے پاس احد پہاڑ بھی سونے کا بن کر آجائے تو مجھے اس میں خوشی ہوگی کہ اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کر دوں اور تین دن بھی مجھ پر نہ گذرنے پائیں کہ ایک دیناریا درہم بھی میرے پاس باقی نہ بچے، سوائے اس چیز کے جو میں اپنے اوپر واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9427
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 2389 ، م : 991
حدیث نمبر: 9428
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْإِمَامُ ضَامِنٌ ، وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ ، فَأَرْشَدَ اللَّهُ الْأَئِمَّةَ وَغَفَرَ لِلْمُؤَذِّنِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار، اے اللہ ! اماموں کی رہنمائی فرما اور موذنین کی مغفرت فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9428
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 9429
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ ، فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ ، وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ سے ملاقات کرے گا تب بھی وہ خوش ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9429
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 7492 ، م : 1151
حدیث نمبر: 9430
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى حِرَاءٍ هُوَ ، وَأَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ ، وَعُثْمَانُ ، وَعَلِيٌّ ، وَطَلْحَةُ ، وَالزُّبَيْرُ ، فَتَحَرَّكَتْ الصَّخْرَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " اهْدَأْ فَمَا عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ ، أَوْ صِدِّيقٌ ، أَوْ شَهِيدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غارحراء پر کھڑے تھے، آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان و علی و طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ بھی تھے اسی اثناء میں پہاڑ کی ایک چٹان ہلنے لگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا رک جا کہ تجھ پر سوائے ایک نبی، صدیق اور شہید کے اور کوئی نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9430
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح ، وإسنادہ قوي ، م : 2417
حدیث نمبر: 9431
وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو بَكْرٍ ، نِعْمَ الرَّجُلُ عُمَرُ ، نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ، نِعْمَ الرَّجُلُ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ ، نِعْمَ الرَّجُلُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ ، نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر بہترین آدمی ہیں، عمر بہترین آدمی ہیں، ابوعبیدہ بن الجراح بہترین آدمی ہیں، اسید بن حضیر بہترین آدمی ہیں، ثابت بن قیس بہترین آدمی ہیں، معاذ بن جبل بہترین آدمی ہیں، معاذ بن عمرو بن الجموح بہترین آدمی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9431
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ قوي
حدیث نمبر: 9432
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ يَعْنِي الْقَارِيَّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كَانَ دَاوُدُ النَّبِيُّ فِيهِ غَيْرَةٌ شَدِيدَةٌ ، وَكَانَ إِذَا خَرَجَ أُغْلِقَتْ الْأَبْوَابُ ، فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَى أَهْلِهِ أَحَدٌ حَتَّى يَرْجِعَ ، قَالَ : فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ وَأُغْلِقَتِ الدَّارُ ، فَأَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ تَطَّلِعُ إِلَى الدَّارِ ، فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ وَسَطَ الدَّارِ ، فَقَالَتْ لِمَنْ فِي الْبَيْتِ : مِنْ أَيْنَ دَخَلَ هَذَا الرَّجُلُ الدَّارَ ، وَالدَّارُ مُغْلَقَةٌ ؟ ، وَاللَّهِ لَتُفْتَضَحُنَّ بِدَاوُدَ ، فَجَاءَ دَاوُدُ ، فَإِذَا الرَّجُلُ قَائِمٌ وَسَطَ الدَّارِ ، فَقَالَ لَهُ دَاوُدُ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا الَّذِي لَا أَهَابُ الْمُلُوكَ ، وَلَا يَمْتَنِعُ مِنِّي شَيْءٌ . فَقَالَ دَاوُدُ : أَنْتَ وَاللَّهِ مَلَكُ الْمَوْتِ فَمَرْحَبًا بِأَمْرِ اللَّهِ ، فَرَمَلَ دَاوُدُ مَكَانَهُ حَيْثُ قُبِضَتْ رُوحُهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ شَأْنِهِ , وَطَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ سُلَيْمَانُ لِلطَّيْرِ : أَظِلِّي عَلَى دَاوُدَ ، فَأَظَلَّتْ عَلَيْهِ الطَّيْرُ حَتَّى أَظْلَمَتْ عَلَيْهِمَا الْأَرْضُ ، فَقَالَ لَهَا سُلَيْمَانُ : اقْبِضِي جَنَاحًا جَنَاحًا " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : يُرِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ فَعَلَتِ الطَّيْرُ ، وَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يده , وَغَلَبَتْ عَلَيْهِ يَوْمَئِذٍ الْمَصْرَحِيَّةُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت داؤدعلیہ السلام میں غیرت کا مادہ بہت زیادہ تھا وہ جب گھر سے باہر جاتے تو ان کے گھر کے دروازے بند کر دئیے جاتے اور ان کی واپسی تک ان کے اہل خانہ کے پاس کوئی بھی نہ جاسکتا تھا، ایک دن حسب معمول اور اپنے گھر سے نکلے اور دورازے بند ہوگئے تو ان کی اہلیہ نے گھر میں جھانک کر دیکھا، وہاں وسط گھر میں ایک آدمی کھڑا ہوا دکھائی دیا، انہوں نے گھر میں موجود لوگوں سے پوچھا کہ گھر کا دروازہ تو بند ہے یہ آدمی گھر میں کیسے داخل ہوگیا ؟ بخدا ! تم داؤد کے سامنے شرمندہ کرواؤ گے۔ تھوڑی دیر بعد حضرت داؤدعلیہ السلام واپس آئے تو دیکھا کہ گھر کے عین بیچ میں ایک آدمی کھڑا ہے، انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ اس نے کہا کہ میں وہ ہوں جو بادشاہوں سے نہیں ڈرتا اور کوئی چیز مجھے روک نہیں سکتی، حضرت داؤد علیہ السلام نے فرمایا بخدا ! تم ملک الموت ہو حکم الٰہی کو خوش آمدید اور مٹی پر لیٹ گئے جہاں ان کی روح قبض ہوگئی اور فرشتہ اپنے کام سے فارغ ہوگیا۔ جب سورج طلوع ہوا تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کو حکم دیا کہ حضرت داؤدعلیہ السلام پر سایا کریں، چنانچہ پرندوں نے ان پر سایا کرلیا، پھر جب زمین پر تاریکی چھا گئی تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے پرندوں سے فرمایا ایک ایک پر کو سمیٹو، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پرندوں کی کیفیت عملی طور پر دکھائی اور اپنا ہاتھ بند کرلیا، اس دن لمبے پروں والا شکرہ غالب آگیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9432
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف لانقطاعه ، فإن المطلب لم یسمع من أبي ھریرۃ