حدیث نمبر: 9354
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أما أحدهما فألجأه إلى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَلْجَأَهُ إِلَى عُمَرَ ، قَالَ أَحَدُهُمَا : " نَهَى عَنِ الزِّقَاقِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَعَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ " ، وَقَالَ الْآخَرُ : " نَهَى عَنِ الزِّقَاقِ ، وَالْمُزَفَّتِ ، وَعَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْجَرِّ أَوْ الْفَخَّارِ " ، شَكَّ مُحَمَّدٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہ " جن میں سے ایک صاحب رضی اللہ عنہ نے اس کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی ہے اور دوسرے نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف " کہ انہوں نے مشروبات کے لئے مٹکوں، مزفت دباء اور حنتم کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9354
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 1952
حدیث نمبر: 9355
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ حَرَكَةً فِي دُبُرِهِ ، فَأَشْكَلَ عَلَيْهِ أَحْدَثَ ، أَوْ لَمْ يُحْدِثْ ، فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا ، أَوْ يَجِدَ رِيحًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں اپنی دونوں سرینوں کے درمیان حرکت محسوس کرے اور اس مشکل میں پڑجائے کہ اس کا وضو ٹوٹا یا نہیں تو جب تک آواز نہ سن لے یا بدبو محسوس نہ ہونے لگے، اس وقت تک نماز توڑ کر نہ جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9355
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 362
حدیث نمبر: 9356
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَصَالِحٌ الْمُعَلِّمُ ، وحميد ، ويونس , عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ ، كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَتْ الْكَبَائِرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ نمازیں اور ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9356
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، م : 233 ، الحسن لم یسمع من أبي ھریرۃ ، و علي بن زید مجھول
حدیث نمبر: 9357
قَالَ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں زندگی اور موت کی آزمائش سے اور مسیح دجال کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9357
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 1377 ، م : 588
حدیث نمبر: 9358
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُخْتَلِعَاتُ وَالْمُنْتَزِعَاتُ ، هُنَّ الْمُنَافِقَاتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلا وجہ خلع لے کر شوہر سے اپنی جان چھڑانے والی عورتیں منافق ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9358
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف لانقطاعه ، الحسن لم یسمع من أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 9359
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : " الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي ، وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي ، مَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا ، قَذَفْتُهُ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ کبریائی میری اوپر کی چادر ہے اور عزت میری نیچے کی چادر ہے جو دونوں میں سے کسی ایک کے بارے میں مجھ سے جھگڑا کرے گا، میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9359
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 2620
حدیث نمبر: 9360
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَنَّهُ قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ أَبِي فَاطَّلَعَ أَبِي فِي دَارِ قَوْمٍ ، فَرَأَى امْرَأَةً ، فَقَالَ : أَمَا إِنَّهُمْ لَوْ فَقَئُوا عَيْنِي لَهُدِرَتْ ، ثُمَّ قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَة أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ اطَّلَعَ فِي دَارِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَفَقَئُوا عَيْنَهُ ، هُدِرَتْ " ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : عَيْنٌ .
مولانا ظفر اقبال
سہیل بن ابی صالح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ہمراہ چل رہا تھا کہ میرے والد نے ایک گھر میں جھانک کر دیکھا، ان کی نظر ایک عورت پر پڑگئی، وہ کہنے لگے کہ اگر یہ لوگ میری آنکھ پھوڑ دیتے تو یہ رائیگاں جاتی، پھر فرمایا کہ مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کوئی آدمی اجازت کے بغیر کسی کے گھر میں جھانک کر دیکھے اور وہ اسے کنکری دے مارے جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9360
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 6902 ، م : 2158
حدیث نمبر: 9361
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ بَابًا أَفْضَلُهَا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْعَظْمِ عَنِ الطَّرِيقِ ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان کے ستر سے زائد شعبے ہیں، جن میں سب سے افضل اور اعلیٰ " لاالہ الا اللہ " کہنا ہے اور سب سے ہلکا شعبہ راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے اور حیاء بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9361
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 9 ، م : 35
حدیث نمبر: 9362
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9362
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 2113
حدیث نمبر: 9363
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ , بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ ، وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ ، فَإِنْ جَهِلَ عَلَى أَحَدِكُمْ جَاهِلٌ , وَهُوَ صَائِمٌ ، فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے اے ابن آدم ! ہر نیکی کا بدلہ دس سے لے کر سات سو نیکیاں یا اس سے دگنی چوگنی ہیں لیکن روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا جہنم سے بچاؤ کے لئے روزہ ڈھال ہے، روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے اور اگر کوئی شخص تم سے روزے کی حالت میں جہالت کا مظاہرہ کرے تو تم یوں کہہ دو کہ میں روزے سے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9363
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، خ : 5223 ، 7492 ، م : 1151 ، 2761
حدیث نمبر: 9364
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ سَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا ، لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ أَوْ وَادِيَ الْأَنْصَارِ ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ " ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَمَا ظَلَمَ بِأَبِي وَأُمِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , لَآوَوْهُ وَنَصَرُوهُ . قَالَ : وَأَحْسَبُهُ ، قَالَ : وَوَاسَوْهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصاری دوسری وادی میں تو میں انصار کے ساتھ ان کی وادی میں چلوں گا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9364
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 3779 ، م : 76
حدیث نمبر: 9365
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ أَنْبَأَنِي , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الرَّبِيعِ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي لَنْ يَدَعُوهَا : التَّطَاعُنُ فِي الْأَنْسَابِ ، وَالنِّيَاحَةُ ، وَمُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا ، اشْتَرَيْتَ بَعِيرًا أَجْرَبَ ، أَوْ فَجَرِبَ فَجَعَلْتَهُ فِي مِائَةِ بَعِيرٍ ، فَجَرِبَتْ , مَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں میرے امتی کبھی ترک نہیں کریں گے۔ حسب نسب میں عار دلانا، میت پر نوحہ کرنا، بارش کو ستاروں سے منسوب کرنا اور بیماری کو متعدی سمجھنا، ایک اونٹ خارش زدہ ہوا اور اس نے سو اونٹوں کو خارش میں مبتلا کردیا، تو پہلے اونٹ کو خارش زدہ کس نے کیا ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9365
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9366
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : قَاسِمُ بْنُ مِهْرَانَ أَخْبَرَنِيهِ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا رَافِعٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ ، قَالَ : كَانَ يَقُولُ مَرَّةً : فَحَتَّهَا ، قَالَ : ثُمَّ قَالَ : قُمْتُ فَحَتَّيْتُهَا ، ثُمَّ قَالَ : " أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا كَانَ فِي صَلَاتِهِ أَنْ يُتَنَخَّعَ فِي وَجْهِهِ ، أَوْ يُبْزَقَ فِي وَجْهِهِ ، إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ قَدَمِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ , قَالَ : بِثَوْبِهِ هَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد میں قبلہ کی جانب بلغم لگا ہوا دیکھا تو لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا تم میں سے کسی کا کیا معاملہ ہے کہ اپنے رب کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوتا ہے اور پھر تھوک بھی پھینکتا ہے ؟ کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کرے گا کہ کوئی آدمی اس کے سامنے رخ کر کے کھڑا ہوجائے اور اس کے چہرے پر تھوک دے ؟ جب تم میں سے کوئی شخص تھوک پھینکنا چاہے تو اسے بائیں جانب یا پاؤں کی طرف تھوکنا چاہنے اور اگر اس کا موقع نہ ہو تو اس طرح اپنے کپڑے میں تھوک لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9366
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، و إسنادہ قوي ، خ : 416 ، م : 550
حدیث نمبر: 9367
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُوشِكُ أَنْ يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَيَقْتَتِلَ عَلَيْهِ النَّاسُ ، حَتَّى يُقْتَلَ مِنْ كُلِّ عَشَرَةٍ تِسْعَةٌ وَيَبْقَى وَاحِدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب دریائے فرات کا پانی ہٹ کر اس میں سے سونے کا ایک پہاڑ برآمد ہوگا لوگ اس کی خاطر آپس میں لڑنا شروع کردیں گے حتی کہ ہر دس میں سے نو آدمی مارے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9367
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 7119 ، م : 2894
حدیث نمبر: 9368
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى جَنْبِهِ الْأَيْمَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز فجر سے پہلے دو سنتیں پڑھ لے تو پہلو پر لیٹ جایا کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9368
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 9369
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْعَقْ أَصَابِعَهُ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ ذَلِكَ الْبَرَكَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھاچکے تو اسے اپنی انگلیاں چاٹ لینی چاہئیں کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ ان میں سے کس میں برکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9369
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، م : 2035 ، وھذا إ سناد ضعیف لإبھام الراوي
حدیث نمبر: 9370
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جانور سے مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کنویں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9370
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 6913 ، م : 1710
حدیث نمبر: 9371
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " الرَّكَائِزُ " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9371
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 2355 ، م : 1710
حدیث نمبر: 9372
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مُعَاوِيَةَ الْمَهْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : يَا مَهْرِيُّ ، " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ ، وَكَسْبِ الْمُومِسَةِ ، وَكَسْبِ الْحَجَّامِ ، وَكَسْبِ عَسِيبِ الْفَحْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے والے کی اور جسم فروشی کی کمائی اور کتے کی قیمت سے اور سانڈ کی جفتی پر دی جانے والی قیمت سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9372
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، خ : 2283 ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة الفضل و جھالة حال المھري
حدیث نمبر: 9373
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْجُرَيْرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ ، يَقُولُ : تَضَيَّفْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ سَبْعًا ، قَالَ : وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ تَمْرًا ، فَأَصَابَنِي سَبْعُ تَمَرَاتٍ ، إِحْدَاهُنَّ حَشَفَةٌ ، فَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَعْجَبَ إِلَيَّ مِنْهَا ، شَدَّتْ مَضَاغِي " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سات دن تک حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے یہاں مہمان رہا میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ کھجوریں تقسیم فرمائیں مجھے سات کھجوریں ملیں جن میں سے ایک کھجور گدر بھی تھی میرے نزدیک وہ ان سب میں سے زیادہ عمدہ تھی کہ اسے سختی سے مجھے چبانا پڑ رہا تھا ( اور میرے مسوڑھے اور دانت حرکت کر رہے تھے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9373
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 5411
حدیث نمبر: 9374
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ ، مَا كَانَ فِي مُصَلَّاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ ، تَقُولُ الْمَلَائِكَةُ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ ، حَتَّى يَنْصَرِفَ ، أَوْ يُحْدِثَ " ، قُلْتُ : وَمَا يُحْدِثُ ؟ قَالَ : " يَفْسُو ، أَوْ يَضْرِطُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور فرشتے اس کے لئے اس وقت تک دعاء مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ اس پر رحم فرما جب تک وہ بےوضو نہ ہوجائے۔ راوی نے " بےوضو " ہونے کا مطلب پوچھا تو فرمایا آہستہ سے یا زور سے ہوا خارج ہوجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9374
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 477 ، م : 649
حدیث نمبر: 9375
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ مُرْدًا بِيضًا جِعَادًا مُكَحَّلِينَ ، أَبْنَاءَ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ ، عَلَى خَلْقِ آدَمَ سَبْعِينَ ذِرَاعًا فِي سَبْعَةِ أَذْرُعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنتی جنت میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کے جسم بالوں سے خالی ہوں گے وہ نوعمر ہوں گے گورے چٹے رنگ والے ہوں گے گھنگھریالے بال سرمگیں آنکھوں والے ہوں گے ٣٣ سال کی عمر ہوگی حضرت آدم علیہ السلام کی شکل و صورت پر ساٹھ گز لمبے اور سات گز چوڑے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9375
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن بطرقه و شواھدہ دون قوله : في سبعة أذرع، فقد تفرد بھا علي ، وھو ضعیف
حدیث نمبر: 9376
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " صُومُوا الْهِلَالَ لِرُؤْيَتِهِ ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ چاند کو دیکھ کر روزہ رکھا کرو، چاند دیکھ کر عید منایا کرو، اگر چاند نظر نہ آئے اور آسمان پر ابر چھایا ہو تو تیس کی گنتی پوری کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9376
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 1909 ، م : 1081
حدیث نمبر: 9377
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9377
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح خ : 5396 ، م : 2062
حدیث نمبر: 9378
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ بْنِ شُبْرُمَةَ الضَّبِّيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ ؟ ، قَالَ : " أَنْ تَتَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ ، تَخْشَى الْفَقْرَ ، وَتَأْمُلُ الْبَقَاءَ ، وَلَا تَمَهَّلْ ، حَتَّى إِذَا بَلَغَتَ الْحُلْقُومَ ، قُلْتَ : لِفُلَانٍ كَذَا ، وَلِفُلَانٍ كَذَا ، وَقَدْ كَانَ لِفُلَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک کہ آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس موقع کے صدقہ کا ثواب سب سے زیادہ ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ تم تندرستی کی حالت میں صدقہ کرو جبکہ مال کی حرص تمہارے اندر موجود ہو۔ تمہیں فقروفاقہ کا اندیشہ ہو۔ اور تمہیں اپنی زندگی باقی رہنے کی امید ہو اس وقت سے زیادہ صدقہ خیرات میں تاخیر نہ کرو کہ جب روح حلق میں پہنچ جائے تو تم یہ کہنے لگو کہ فلاں کو اتنا دے دیا جائے اور فلاں کو اتنا دے دیا جائے حالانکہ وہ تو فلاں (ورثاء) کا ہوچکا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9378
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح خ : 1419 ، م : 1032
حدیث نمبر: 9379
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كَانَتْ شَجَرَةٌ تُؤْذِي أَهْلَ الطَّرِيقِ فَقَطَعَهَا رَجُلٌ فَنَحَّاهَا ، فَدَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک درخت کی وجہ سے راستے میں گذرنے والوں کو تکلیف ہوتی تھی، ایک آدمی نے اسے کاٹ کر راستے سے ہٹا کر ایک طرف کردیا اور اس کی برکت سے اسے جنت میں داخلہ نصیب ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9379
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 1914
حدیث نمبر: 9380
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الْكَرِيمَ ابْنَ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ : يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاق بْنِ إِبْرَاهِيمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شریف، ابن شریف، ابن شریف، ابن شریف، حضرت یوسف بن یعقوب بن ابراہیم خلیل اللہ (علیہم السلام) ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9380
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9381
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ فَرَاهِيجَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " مَا كَانَ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ إِلَّا الْأَسْوَدَانِ : التَّمْرُ , وَالْمَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سعادت میں ہمارے پاس سوائے دو کالی چیزوں " کھجور اور پانی " کے کھانے کی کوئی چیز نہ ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9381
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9382
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيَّ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي مَسْجِدٍ ، فَخَرَجَ رَجُلٌ وَقَدْ أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ , قَالَ : فَقَالَ : " أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالشعثاء محاربی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ مؤذن نے اذان دی ایک آدمی اٹھا اور مسجد سے نکل گیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس آدمی نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9382
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9383
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَّرَ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، حَتَّى كَادَ يَذْهَبُ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ قُرَابُهُ ، قَالَ ثُمَّ جَاءَ وَفِي النَّاسِ رِقَّةٌ , وَهُمْ عِزُونَ ، فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا ، ثُمَّ قَالَ : " لَوْ أَنَّ رَجُلًا نَدَبَ النَّاسَ إِلَى عَرْقٍ أَوْ مِرْمَاتَيْنِ لَأَجَابُوا لَهُ ، وَهُمْ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا فَيَتَخَلَّفَ عَلَى أَهْلِ هَذِهِ الدُّورِ الَّذِينَ يَتَخَلَّفُونَ عَنْ هَذِهِ الصَّلَاةِ ، فَأُحَرِّقَهَا عَلَيْهِمْ بِالنِّيرَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عشاء کو اتنا مؤخر کردیا کہ قریب تھا کہ ایک تہائی رات ختم ہوجاتی، پھر وہ مسجد میں تشریف لائے تو لوگوں کو متفرق گروہوں میں دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید غصہ آیا اور فرمایا اگر کوئی آدمی لوگوں کے سامنے ایک ہڈی یا دو کھروں کی پیشکش کرے تو وہ ضرور اسے قبول کرلیں، لیکن نماز چھوڑ کر گھروں میں بیٹھے رہیں گے، میں نے یہ ارادہ کرلیا تھا کہ ایک آدمی کو حکم دوں کہ جو لوگ نماز سے ہٹ کر اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں ان کی تلاش میں نکلے اور ان کے گھروں کو آگ لگا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9383
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 2420 ، م : 651
حدیث نمبر: 9384
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو المُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ فَاطِمَةَ ، أَوْ أُمَّ سَلَمَةَ ، أَنْ تَجُرَّ ذَيْلَهَا ذِرَاعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ یا حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ اپنے کپڑے کا دامن ایک گز تک لمبا رکھ سکتی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9384
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف جدا ، أبو المھزم متروك
حدیث نمبر: 9385
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ ، وَمَنْ أَطَاعَ الْأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي ، إِنَّمَا الْأَمِيرُ مِجَنٌّ ، فَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَوْ قُعُودًا ، فَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، فَإِنَّهُ إِذَا وَافَقَ قَوْلُ أَهْلِ الْأَرْضِ قَوْلَ أَهْلِ السَّمَاءِ ، غُفِرَ لَهُ مَا مَضَى مِنْ ذَنْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی درحقیقت اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ اور امیر کی حیثیت ڈھال کی سی ہوتی ہے لہذا جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو کیونکہ جس کا یہ قول فرشتوں کے موافق ہوجائے تو اس کی بخشش کردی جاتی ہے اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9385
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 734 ، م : 1835 ، 414
حدیث نمبر: 9386
قَال : " وَيَهْلِكُ قَيْصَرُ فَلَا يَكُونُ قَيْصَرُ بَعْدَهُ ، وَيَهْلِكُ كِسْرَى فَلَا يَكُونُ كِسْرَى بَعْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا قیصرہلاک ہوجائے تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا اور کسری ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسری نہیں رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9386
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 3618 ، م : 2918
حدیث نمبر: 9387
وَقَالَ : " اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ خَمْسٍ : مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ ، وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ، وَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا پانچ چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرو، عذاب جہنم سے، قبر سے زندگی اور موت کی آزمائش سے اور مسیح دجال کے فتنے سے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9387
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 1377 ، م : 588
حدیث نمبر: 9388
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَوْ آمَنَ بِي عَشَرَةٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ ، لَآمَنَ بِي كُلُّ يَهُودِيٍّ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ " . قَالَ كَعْبٌ : اثْنَا عَشَرَ ، مِصْدَاقُهُمْ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھ پر یہودیوں کے دس بڑے عالم ایمان لے آئیں تو روئے زمین کا ہر یہودی مجھ پر ایمان لے آئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9388
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح لغیرہ، خ : 3941 ، م : 2793 ، أبو ھلال وإن کان فیه ضعف ، متابع
حدیث نمبر: 9389
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَيْسٌ ، وحَبِيبٌ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّهُ قَالَ : " فِي كُلِّ الصَّلَوَاتِ يُقْرَأُ ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ ، وَمَا أَخْفَى عَنَّا أَخْفَيْنَا عَنْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر نماز میں ہی قرأت کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرأت سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قراءت فرمائی ہے اس میں ہم بھی سراً قرأت کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9389
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 772 ، م : 396
حدیث نمبر: 9390
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَنْبَأَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، بِمِنًى يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَاضَاهُ , فَأَغْلَظَ لَهُ ، قَالَ : فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ . فَقَالَ : " دَعُوهُ , فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا " . قَالَ : " اشْتَرُوا لَهُ بَعِيرًا ، فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ " . قَالُوا : لَا نَجِدُ إِلَّا سِنًّا أَفْضَلَ مِنْ سِنِّهِ . قَالَ : " فَاشْتَرُوهُ فَأَعْطُوهُ إِيَّاهُ ، فَإِنَّ مِنْ خَيْرِكُمْ أَحْسَنَكُمْ قَضَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے کے لئے آیا اور اس میں سختی کی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اسے مارنے کا ارادہ کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو کیونکہ حقداربات کرسکتا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے فرمایا اس کے اونٹ جتنی عمر کا ایک اونٹ خرید کرلے آؤ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے تلاش کیا لیکن مطلوبہ عمر کا اونٹ نہ مل سکا ہر اونٹ اس سے بڑی عمر کا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے بڑی عمر کا ہی اونٹ خرید کر دے دو ، تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو اداء قرض میں سب سے بہترین ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9390
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 2306 ، م : 1601
حدیث نمبر: 9391
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَحْسَبُ حَمَّادٌ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَنْعَمُ لَا يَبْأَسُ ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ . فِي الْجَنَّةِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنت میں داخل ہوجائے گا وہ نازونعم میں رہے گا پریشان نہ ہوگا اس کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے اور اس کی جوانی فنا نہ ہوگی اور جنت میں ایسی چیزیں ہوں گی جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کا خیال بھی گذر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9391
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 3244 ، م : 2824
حدیث نمبر: 9392
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ مِنْ قَبِيلَةٍ يُقَالُ لَهَا قَارَةُ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَنَزَلَ بَلَدُ بَابِ مِصْرَ ، فَقِيلَ لَهُ : ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بُعِثْتُ فِي خَيْرِ قُرُونِ بَنِي آدَمَ قَرْنًا فَقَرْنًا ، حَتَّى كُنْتُ مِنَ الْقَرْنِ الَّذِي كُنْتُ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے زمانے کے تسلسل میں بنی آدم کے سب سے بہترین زمانے میں منتقل کیا جاتا رہا ہے، یہاں تک کہ مجھے اس زمانے میں مبعوث کردیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9392
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح ، و إسنادہ جید ، خ : 3557
حدیث نمبر: 9393
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : مَا لِعَبْدِي الْمُؤْمِنِ عِنْدِي جَزَاءٌ ، إِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا ، ثُمَّ احْتَسَبَهُ إِلَّا الْجَنَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں جس شخص کی دونوں پیاری آنکھوں کا نور ختم کر دوں اور وہ صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے تو میں اس کے لئے جنت کے سوا کسی دوسرے ثواب پر راضی نہیں ہوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9393
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح ، و إسنادہ جید ، خ : 6424