حدیث نمبر: 9314
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ , عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ عَلَى غُلَامِ الْمُسْلِمِ ، وَلَا عَلَى فَرَسِهِ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 9315
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيِّ ، قَالَ : كُنَّا قُعُودًا مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ ، فَقَامَ رَجُلٌ فِي الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " أَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالشعثاء محاربی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ مؤذن نے اذان دی ایک آدمی اٹھا اور مسجد سے نکل گیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس آدمی نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔
حدیث نمبر: 9316
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي ، إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَصَوَّرُ بِي قَالَ شُعْبَةُ : أَوْ قَالَ : لَا يَتَشَبَّهُ بِي . " وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہوجائے اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا) ۔ اور جو شخص جان بوجھ کر میری طرف سے کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔
حدیث نمبر: 9317
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ , وَيُنَصِّرَانِهِ ، وَيُشْرِكَانِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے یہودی، عیسائی یا مشرک بنا دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 9318
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " خَيْرُكُمْ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَا أَدْرِي ذَكَرَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ، ثُمَّ يَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ قَوْمٌ يُحِبُّونَ السَّمَانَةَ ، يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت کا سب سے بہترین زمانہ وہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ سب سے بہتر ہے (اب یہ بات اللہ زیادہ جانتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ بعد والوں کا ذکر فرمایا یا تین مرتبہ) اس کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو موٹاپے کو پسند کرے گی اور گواہی کے مطالبے سے قبل ہی گواہی دینے کے لئے تیار ہوگی۔
حدیث نمبر: 9319
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيَّ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ ، فَفِي النَّارِ " ، يَعْنِي الْإِزَارَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شلوار کا جو حصہ ٹخنوں کے نیچے رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔
حدیث نمبر: 9320
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَفْلَسَ رَجُلٌ بِمَالِ قَوْمٍ ، فَرَأَى رَجُلٌ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دے دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔
حدیث نمبر: 9321
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ : الْخِتَانُ ، وَالِاسْتِحْدَادُ ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ ، وَقَصُّ الشَّارِبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں (١) ختنہ کرنا (٢) زیر ناف بال صاف کرنا (٣) بغل کے بال نوچنا۔ (٤) ناخن کاٹنا (٥) مونچھیں تراشنا
حدیث نمبر: 9322
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ الْقُرْدُوسِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، يَدَعُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ جَرَّايَ , الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ عِنْدَ اللَّهِ ، أَطْيَبُ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے ہر نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے لیکن روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا بندہ میری خاطر اپنا کھانا پینا ترک کرتا ہے لہٰذا روزہ میرے لئے ہوا اور میں خود ہی اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حدیث نمبر: 9323
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُوشِكُ مَنْ عَاشَ مِنْكُمْ أَنْ يَلْقَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ إِمَامًا مَهْدِيًّا ، وَحَكَمًا عَدْلًا ، فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ ، وَتَضَعُ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک منصف حکمران کے طور پر نزول فرمائیں گے۔ جو زندہ رہے گا وہ ان سے ملے گا وہ صلیب کو توڑ دیں گے۔ خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ کو موقوف کردیں گے اور ان کے زمانے میں جنگ موقوف ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 9324
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہوجائے اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
حدیث نمبر: 9325
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ ، فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةٍ وَسَبْعِ أَمْثَالِهَا ، فَإِنْ لَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ ، فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ ، فَإِنْ عَمَلَها كُتِبَتْ عليه سَيئةً واَحْدةً ، فإِنْ لم يَعْمَلْها لم تُكْتَبْ عليهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص نیکی کا ارادہ کرے لیکن اس پر عمل نہ کرسکے تب بھی اس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ اس نیکی کو کر گذرے تو اس کے لئے دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اگر عمل نہ کرسکے تو فقط ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور اگر کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرے لیکن اس پر عمل نہ کرے تو وہ گناہ اس کے نامہ اعمال میں درج نہیں کیا جاتا۔
حدیث نمبر: 9326
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " الْفَأْرَةُ مِمَّا مُسِخَ ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّهُ يُوضَعُ لَهَا لَبَنُ اللِّقَاحِ فَلَا تَقْرَبُهُ ، وَإِذَا وُضِعَ لَهَا لَبَنُ الْغَنَمِ أَصَابَتْ مِنْهُ " . قَالَ : فَقَالَ لَهُ كَعْبٌ : أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فَأُنْزِلَتْ عَلَيَّ التَّوْرَاةُ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چوہا ایک مسخ شدہ قوم ہے اور اس کی علامت یہ ہے کہ اگر اس کے سامنے اونٹ کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے نہیں پیتا اور اگر بکری کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے پی لیتا ہے۔ کعب احبار رحمہ اللہ (جو نومسلم یہودی عالم تھے) کہنے لگے کہ کیا یہ حدیث آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ میں نے کہا کہ کیا مجھ پر تورات نازل ہوئی ہے ؟
حدیث نمبر: 9327
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " الْبَهِيمَةُ عَقْلُهَا جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ , وَالمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔
حدیث نمبر: 9328
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَّ صَوْتِهِ ، وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ ، وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ حَسَنَةً ، وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے ان کی برکت سے اس کی بخشش کردی جاتی ہے کیونکہ ہر تر اور خشک چیز اس کے حق میں گواہی دیتی ہے اور نماز میں باجماعت شریک ہونے والے کے لئے پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دو نمازوں کے درمیانی وقفے کے لئے کفارہ بنادیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 9329
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا امام اسی مقصد کے لئے ہوتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے اس لئے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنالک الحمد کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حدیث نمبر: 9330
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ أَظُنُّهُ حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " فِي كُلِّ الصَّلَوَاتِ يَقْرَأُ فِيهَا ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر نماز میں ہی قرأت کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرأت سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قراءت فرمائی ہے اس میں ہم بھی سراً قراءت کریں گے۔
حدیث نمبر: 9331
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " الْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ ، وَاللِّسَانُ يَزْنِي ، وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ ، وَالرِّجْلَانِ تَزْنِيَانِ ، وَيُحَقِّقُ ذَلِكَ ، أَوْ يُكَذِّبُهُ الْفَرْجُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ہر انسان کا بدکاری میں حصہ ہے چنانچہ) آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 9332
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فَأَتَى عَلَى جُمْدَانَ ، فَقَالَ : " هَذَا جُمْدَانُ , سِيرُوا , سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ " ، قَالُوا : وَمَا الْمُفَرِّدُونَ ؟ ، قَالَ : " الذَّاكِرُونَ اللَّهَ كَثِيرًا " ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفَرْ لِلْمُحَلِّقِينَ " ، قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِينَ ؟ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ " , قَالُوا : وَالْمُقَصِّرِينَ ؟ , قَالَ : " وَالْمُقَصِّرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مکہ مکرمہ کے کسی راستے میں چل رہے تھے حتیٰ کہ جمدان نامی جگہ پر پہنچ کر فرمایا یہ جمدان ہے روانہ ہوجاؤ اور " مفردون " سبقت لے گئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مفردون کون لوگ ہوتے ہیں ؟ فرمایا جو اللہ کا ذکر کثرت سے کرتے رہتے ہیں۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ حلق کرانے والوں کی بخشش فرما صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! قصر کرانے والوں کے لئے بھی دعا کیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا کہ اے اللہ ! حلق کرانے والوں کی مغفرت فرما۔ تیسری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قصر کرانے والوں کو بھی اپنی دعا میں شامل فرما لیا۔
حدیث نمبر: 9333
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا ، حَتَّى يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن حقداروں کو ان کے حقوق ادا کئے جائیں گے حتیٰ کہ بےسینگ بکری کو سینگ والی بکری سے " جس نے سینگ سے مارا ہوگا " بھی قصاص دلوایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 9334
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَسُومُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح بھیج دے یا اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع کرے۔
حدیث نمبر: 9335
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ هَذَا الْحَرَّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے لہٰذا نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔
حدیث نمبر: 9336
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِذَا سَمِعَ الشَّيْطَانُ الْأَذَانَ ، وَلَّى وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ الصَّوْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان جب اذان کی آواز سنتا ہے زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے۔
حدیث نمبر: 9337
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " فُضِّلْتُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِسِتٍّ " ، قِيلَ : مَا هُنَّ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " أُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلِمِ ، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا ، وَأُرْسِلْتُ إِلَى الْخَلْقِ كَافَّةً ، وَخُتِمَ بِيَ النَّبِيُّونَ " . " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ عَلَيْهِم الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى قَصْرًا , فَأَكْمَلَ بِنَاءَهُ وَأَحْسَنَ بُنْيَانَهُ ، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ ، فَنَظَرَ النَّاسُ إِلَى الْقَصْرِ ، فَقَالُوا : مَا أَحْسَنَ بُنْيَانَ هَذَا الْقَصْرِ ، لَوْ تَمَّتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ ، أَلَا وَكُنْتُ أَنَا اللَّبِنَةَ ، أَلَا وَكُنْتُ أَنَا اللَّبِنَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے دیگر انبیاء پر چھ چیزوں میں فضیلت دی گئی ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا چیزیں ہیں ؟ فرمایا مجھے جوامع الکلم دیئے گئے ہیں رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے میرے لئے مال غنیمت کو حلال قرار دے دیا گیا ہے۔ میرے لئے زمین کو پاکیزگی بخش اور مسجد بنادیا گیا ہے مجھے ساری مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا اور نبیوں کا سلسلہ مجھ پر ختم کردیا گیا ہے۔ (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسے ہے جیسے کسی آدمی نے ایک نہایت حسین و جمیل اور مکمل عمارت بنائی البتہ اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ اس کے گرد چکر لگاتے تعجب کرتے اور کہتے جاتے تھے کہ ہم نے اس سے عمدہ عمارت کوئی نہیں دیکھی سوائے اس اینٹ کی جگہ کے سو وہ اینٹ میں ہوں۔
حدیث نمبر: 9338
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِنَّ مِنْبَرِي عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ ، وَمَا بَيْنَ مِنْبَرِي وَحُجْرَتِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا یہ منبر جنت کے دروازوں میں سے کسی دروازے پر ہوگا اور میرے منبر اور میرے حجرے کے درمیان کا حصہ جنت کا ایک باغ ہے۔
حدیث نمبر: 9339
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ عَبد الرَّحْمَن ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَقُولُ الْعَبْدُ : مَالِي ، وَإِنَّ مَا لَهُ مِنْ مَالِهِ ثَلَاثٌ : مَا أَكَلَ فَأَفْنَى ، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى ، أَوْ أَعْطَى فَأَقْنَى ، مَا سِوَى ذَلِكَ ذَاهِبٌ ، وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کہتا پھرتا ہے میرا مال، میرا مال، حالانکہ اس کا مال تو صرف یہ تین چیزیں ہیں جو کھا کر فناء کردیا، یا پہن کر پرانا کردیا، یا اللہ کے راستہ میں دے کر کسی کو خوش کردیا، اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ سب لوگوں کے لئے رہ جائے گا۔
حدیث نمبر: 9340
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا تَنْذِرُوا ، فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يُقَدِّمُ مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا ، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منت ماننے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس سے کوئی چیز وقت سے پہلے نہیں مل سکتی، البتہ منت کے ذریعے بخیل آدمی سے مال نکلوا لیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 9341
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَاصُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ " ، قَالُوا : وَمَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ , قَالَ " إِذَا لَقِيتَهُ سَلِّمْ عَلَيْهِ ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتْهُ ، وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ ، وَإِذَا مَاتَ فَاصْحَبْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں، صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیا ؟ فرمایا جب وہ تم سے ملے تو سلام کرو، جب دعوت دے تو قبول کرو، جب نصیحت کی درخواست کرے تو نصیحت (خیرخواہی) کرو جب چھینک کر الحمدللہ کہے تو (یرحمک اللہ کہہ کر) اسے جواب دو بیمار ہو تو عیادت کرو اور مرجائے توجنازے کے ساتھ جاؤ۔
حدیث نمبر: 9342
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا يَجْتَمِعُ كَافِرٌ وَقَاتِلُهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فِي النَّارِ أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کافر اور اس کا مسلمان قاتل جہنم میں کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔
حدیث نمبر: 9343
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَجُلٌ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي قَرَابَةً أَصِلُهُمْ وَيَقْطَعُونِي ، وَأَحْلُمُ عَنْهُمْ فَيَجْهَلُونَ عَلَيَّ ، وَأُحْسِنُ إِلَيْهِمْ وَيُسِيئُونَ إِلَيَّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِنْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَأَنَّمَا تُسِفُّهُمْ الْمَلَّ ، وَلَا يَزَالُ مَعَكَ مِنَ اللَّهِ ظَهِيرٌ عَلَيْهِمْ ، مَا دُمْتَ عَلَى ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ میرے کچھ رشتے دار ہیں میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں لیکن وہ مجھ سے قطع رحمی کرتے ہیں میں ان کے ساتھ حسن سلوک کرتا ہوں لیکن وہ میرے ساتھ برا سلوک کرتے ہیں میں ان سے درگذر کرتا ہوں لیکن وہ میرے ساتھ جہالت سے پیش آتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر واقعۃ حقیقت اسی طرح ہے جیسے تم نے بیان کی تو گویا تم انہیں جلتی ہوئی راکھ کھلا رہے ہو اور جب تک تم اپنی روش پر قائم رہو گے اللہ کی طرف سے تمہارے ساتھ ایک مددگار رہے گا۔
حدیث نمبر: 9344
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ سورة البقرة آية 284 ، فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَى صَحَابَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ جَثَوْا عَلَى الرُّكَبِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُلِّفْنَا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا نُطِيقُ الصَّلَاةَ ، وَالصِّيَامَ ، وَالْجِهَادَ ، وَالصَّدَقَةَ ، وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْكَ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا نُطِيقُهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " أَتُرِيدُونَ أَنْ تَقُولُوا كَمَا قَالَ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا ؟ ، بَلْ قُولُوا : سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ، غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ، فَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ، غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ " ، فَلَمَّا أَقَرَّ بِهَا الْقَوْمُ ، وَذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ ، أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي إِثْرِهَا : آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ سورة البقرة آية 285 ، فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ نَسَخَهَا اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ عَفَّانُ : قَرَأَهَا سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ : يُفَرِّقُ ، فَأَنزلَ الله عزَّ وَجلَّ : لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ سورة البقرة آية 286 ، فَصَارَ لَهُ مَا كَسَبَتْ مِنْ خَيْرٍ ، وَعَلَيْهِ مَا اكْتَسَبَتْ مِنْ شَرٍّ ، فَسَّرَ الْعَلَاءُ هَذَا : رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا سورة البقرة آية 286 ، قَالَ : نَعَمْ ، رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا سورة البقرة آية 286 ، قَالَ : نَعَمْ ، رَبَّنَا وَلا تُحَمِّلْنَا مَا لا طَاقَةَ لَنَا بِهِ سورة البقرة آية 286 ، قَالَ : نَعَمْ ، وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ سورة البقرة آية 286 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سورت بقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی " کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے، وہ سب اللہ کی ملکیت میں ہے، تم اپنے دلوں کی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تم سے اس کا حساب خود ہی لے لے گا پھر جسے چاہے گا معاف فرما دے گا اور جسے چاہے گا سزا دے دے گا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے " تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ پر یہ بات بڑی گراں گذری چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اب تک جتنے اعمال نماز، روزہ، جہاد اور صدقہ کا مکلف بنایا گیا ہے، ہم ان کی طاقت نہیں رکھتے تھے لیکن اب آپ پر جو آیت نازل ہوئی ہے، ہم میں اس کی طاقت نہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم وہی بات کہنا چاہتے ہوں جو تم سے پہلے یہودیوں اور عیسائیوں نے کہی تھی کہ ہم نے سن لیا لیکن مانیں گے نہیں تمہیں یوں کہنا چاہئے کہ ہم نے سن لیا اور مانیں گے بھی، پروردگار ! ہم آپ سے آپ کی مغفرت کے طلب گار ہیں اور آپ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے یہی کہنا شروع کردیا کہ ہم نے سن لیا اور مانگیں گے بھی، پروردگار ! ہم آپ سے مغفرت کے طلب گار ہیں اور آپ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ جب انہوں نے اس کا اقرار کرلیا اور ان کی زبانوں نے اپنی عاجزی ظاہر کردی تو اس کے بعد ہی اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی " آمن الرسول بما انزل الیہ " الی آخرہ کہ پیغمبر اور مومنین اپنے رب کی طرف سے نازل ہونے والی وحی پر ایمان لے آئے ان میں سے ہر ایک اللہ پر اس کے فرشتوں کتابوں اور پیغمبروں پر ایمان لے آیا اور یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے پیغمبروں میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں روا رکھتے اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور مانیں گے بھی، پروردگار ! ہمیں معاف فرما تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے جب انہوں نے یہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے مذکورہ حکم کو منسوخ کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمادی کہ " اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتے، اس کے لئے وہی ہے جو اس نے کمایا اور اسی کا وبال ہے جو اس نے کیا " علماء اس کی تفسیر یہ بیان کرتے ہیں کہ انسان خیر کا جو کام کرتا ہے اس کا فائدہ اسی کو ہوگا اور برائی کا جو کام کرتا ہے، اسی کا نقصان بھی اسی کو ہوگا، پروردگار ! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر بیٹھیں تو ہم سے مؤاخذہ نہ فرما " اللہ نے جواب دیا کہ ٹھیک ہے " پروردگار ہم پر پہلے لوگوں حیسا بوجھ نہ ڈال " اللہ نے جواب دیا ٹھیک ہے " پروردگار ! ہم پر ایسی چیزوں کا بار نہ ڈال جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے " اللہ نے جواب دیا ٹھیک ہے " ہم سے درگذر فرما، ہمیں معاف فرما ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا آقا ہے، لہٰذا کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔
حدیث نمبر: 9345
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَهُوَ يُصَلِّي ، فَقَالَ : " يَا أُبَيُّ " . فَالْتَفَتَ ، فَلَمْ يُجِبْهُ ، ثُمَّ صَلَّى أُبَيٌّ فَخَفَّفَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكَ ، أَيْ رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " وَعَلَيْكَ " ، قَالَ : " مَا مَنَعَكَ أَيْ أُبَيُّ إِذْ دَعَوْتُكَ أَنْ تُجِيبَنِي ؟ " . قَالَ : " أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ، كُنْتُ فِي الصَّلَاةِ . قَالَ : " أَفَلَسْتَ تَجِدُ فِيمَا أَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ أَنْ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ سورة الأنفال آية 24 " . قَالَ : قَالَ : بَلَى ، أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ، لَا أَعُودُ . قَالَ : " أَتُحِبُّ أَنْ أُعَلِّمَكَ سُورَةً لَمْ تَنْزِلْ فِي التَّوْرَاةِ ، وَلَا فِي الزَّبُورِ ، وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ ، وَلَا فِي الْفُرْقَانِ ، مِثْلُهَا ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ . أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تَخْرُجَ مِنْ هَذَا الْبَابِ حَتَّى تَعْلَمَهَا " . قَالَ : فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ، يُحَدِّثُنِي ، وَأَنَا أَتَبَطَّأُ مَخَافَةَ أَنْ يَبْلُغَ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ الْحَدِيثَ ، فَلَمَّا أَنْ دَنَوْنَا مِنَ الْبَابِ ، قُلْتُ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ، مَا السُّورَةُ الَّتِي وَعَدْتَنِي ؟ . قَالَ : " فَكَيْفَ تَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ ؟ " . قَالَ : فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ أُمَّ الْقُرْآنِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِي التَّوْرَاةِ ، وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ ، وَلَا فِي الزَّبُورِ ، وَلَا فِي الْفُرْقَانِ ، مِثْلَهَا وَإِنَّهَا لَلسَّبْعُ مِنَ الْمَثَانِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف تشریف لے گئے وہ نماز پڑھ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کا نام لے کر پکارا وہ ایک لمحے کو متوجہ ہوئے لیکن جواب نہیں دیا اور نماز ہلکی کر کے فارغ ہوتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا السلام علیک ای رسول اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دے کر فرمایا ابی جب میں تمہیں آواز دی تھی تو تمہیں اس کا جواب دینے سے کس چیز نے روکا تھا ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نماز میں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے مجھ پر وحی نازل فرمائی ہے کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی کہ " اللہ اور رسول جب تمہیں ایسی چیز کی طرف بلائیں جس میں تمہاری حیات کا راز پوشیدہ ہے تو ان کی پکار پر لبیک کہا کرو ؟ " انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیوں نہیں، میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ تمہیں کوئی ایسی سورت سکھا دوں جس کی مثال تورات، زبور، انجیل اور خود قرآن میں بھی نازل نہیں ہوئی ؟ میں نے عرض کیا ضرور یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے امید ہے کہ تم اس دروازے سے نہ نکلنے پاؤ گے کہ اسے سیکھ چکے ہوگے، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے باتیں کرنے لگے میں اس اندیشے سے کہ کہیں بات مکمل ہونے سے پہلے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم دروازے تک نہ پہنچ جائیں، آہستہ آہستہ چلنے لگا جب ہم لوگ دروازے کے قریب پہنچے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون سی سورت ہے جسے سکھانے کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نماز میں کیا پڑھتے ہو ؟ میں نے سورت فاتحہ پڑھ کر سنا دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، اللہ نے تورات، زبور، انجیل اور خود قرآن میں اس جیسی سورت نازل نہیں فرمائی اور یہی سورت " سبع مثانی " کہلاتی ہے۔
حدیث نمبر: 9346
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ , أَنَّ فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ أَتَى أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَبَخْتَرُ فِي حُلَّةٍ لَهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، كَانَ يَتَبَخْتَرُ فِي حُلَّةٍ لَهُ قَدْ أَعْجَبَتْهُ ، جُمَّتُهُ وَبُرْدَاهُ إِذْ خُسِفَ بِهِ الْأَرْضُ ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پہلے لوگوں میں ایک آدمی اپنے قیمتی حلے میں ملبوس اپنے اوپر فخر کرتے ہوئے تکبر سے چلا جا رہا تھا کہ اسی اثناء میں اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا، اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔
حدیث نمبر: 9347
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ ، فَالْغَرِيمُ أَحَقُّ بِمَتَاعِهِ إِذَا وَجَدَهُ بِعَيْنِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دے دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔
حدیث نمبر: 9348
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَرَأَ : إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ، فَسَجَدَ ، قُلْتُ : لِمَ أَرَاكَ سَجَدْتَ فِيهَا ؟ . قَالَ : " لَوْ لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْجُدُ فِيهَا مَا سَجَدْتُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کو دیکھا کہ انہوں نے سورت انشقاق کی تلاوت کی اور آیت سجدہ پر پہنچ کر سجدہ تلاوت کیا میں نے عرض کیا کہ میں نے آپ کو اس سورت میں سجدہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں سجدہ کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی سجدہ نہ کرتا۔
حدیث نمبر: 9349
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " الْيَمِينُ الْكَاذِبَةُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ ، مَمْحَقَةٌ لِلْكَسْبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جھوٹی قسم کھانے سے سامان تو بک جاتا ہے لیکن برکت مٹ جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 9350
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : وَكَانَ يَبْتَدِئُ حَدِيثَهُ بِأَنْ يَقُولَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو الْقَاسِمِ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابوالقاسم صادق ومصدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔
حدیث نمبر: 9351
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي ، إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي ، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهمُ ، وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا ، وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا ، وَمَنْ جَاءَنِي يَمْشِي جِئْتُهُ مُهَرْوِلًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے میں اپنے بندے کے اپنے متعلق گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں بندہ جب بھی مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے پاس موجود ہوتا ہوں اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اگر وہ مجھے کسی مجلس میں بیٹھ کر یاد کرتا ہے تو میں اس سے بہتر محفل میں اسے یاد کرتا ہوں اگر وہ ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں پورے ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔
حدیث نمبر: 9352
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ : يَا جِبْرِيلُ ، إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ . قَالَ : فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام ، قَالَ : ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَاءِ : إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا ، قَالَ : فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ . وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا ، دَعَا جِبْرِيلَ ، فَقَالَ : يَا جِبْرِيلُ ، إِنِّي أُبْغِضُ فُلَانًا ، فَأَبْغِضْهُ . قَالَ : فَيُبْغِضُهُ جِبْرِيلُ ، ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضُوهُ ، قَالَ : فَيُبْغِضُهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ، ثُمَّ تُوضَعُ لَهُ الْبَغْضَاءُ فِي الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے کہتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو چنانچہ جبرائیل اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جبرائیل علیہ السلام آسمان والوں سے کہتے ہیں کہ تمہارا پروردگار فلاں شخص سے محبت کرتا ہے اس لئے تم بھی اس سے محبت کرو۔ چنانچہ سارے آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اس کے بعد زمین والوں میں اس کی مقبولیت ڈال دی جاتی ہے۔ اور جب کسی بندے سے نفرت کرتا ہے تب بھی جبرائیل علیہ السلام کو بلا کر فرماتا ہے کہ اے جبریل ! میں فلاں بندے سے نفرت کرتا ہوں تم بھی اس سے نفرت کرو اور جبرائیل علیہ السلام آسمان والوں سے کہتے ہیں کہ تمہارا پروردگار فلاں شخص سے نفرت کرتا ہے اس لئے تم بھی اس سے نفرت کرو۔ چنانچہ سارے آسمان والے اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں پھر یہ نفرت زمین والوں کے دل میں ڈال دی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 9353
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " مَا احْتَذَى النِّعَالَ وَلَا انْتَعَلَ ، وَلَا رَكِبَ الْمَطَايَا ، وَلَا لَبِسَ الْكُورَ ، مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَفْضَلُ مِنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ " ، يَعْنِي فِي الْجُودِ وَالْكَرَمِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جود و سخاوت میں حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے زیادہ کسی افضل شخص نے جوتے نہیں پہنے یا پہنائے، یا سواری پر سوار ہوا یا بہترین لباس زیب تن کیا۔
…