حدیث نمبر: 9274
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ قَوْمٍ يَجْتَمِعُونَ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، يَقْرَءُونَ وَيَتَعَلَّمُونَ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ ، إِلَّا حَفَّتْ بِهِمْ الْمَلَائِكَةُ ، وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ ، وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَسْلُكُ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ بِهِ الْعِلْمَ ، إِلَّا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ ، وَمَنْ يُبْطِئُ بِهِ عَمَلُهُ لَا يُسْرِعُ بِهِ نَسَبُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بھی لوگوں کی کوئی جماعت اللہ کے کسی گھر میں جمع ہو کر قرآن کریم کی تلاوت کرے اور آپس میں اس کا ذکر کرے اس پر سکینہ کا نزول ہوتا ہے رحمت الہٰی ان پر چھا جاتی ہے اور فرشتے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں اور اللہ اپنے پاس موجودفرشتوں کے سامنے ان کا تذکرہ فرماتا ہے اور جو شخص طلب علم کے لئے کسی راستے پر چلتا ہے اللہ اس کی برکت سے اس کے لئے جنت راستہ آسان کردیتا ہے اور جس کے عمل نے اسے پیچھے رکھا اس کا نسب اسے آگے نہیں لے جاسکے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9274
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2699
حدیث نمبر: 9275
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلِيمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9275
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 9276
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَاسْتَقْبَلَتْنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ ، فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُنَّ بِسِيَاطِنَا وَعِصِيِّنَا نَقْتُلُهُنَّ ، فَسُقِطَ فِي أَيْدِينَا ، فَقُلْنَا : مَا صَنَعْنَا وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ ؟ ! ، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " لَا بَأْسَ , صَيْدُ الْبَحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حج یا عمرے کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ راستے میں ٹڈی دل کا ایک غول نظر آیا ہم انہیں اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے اور وہ ایک ایک کر کے ہمارے سامنے گرنے لگے ہم نے سوچا کہ ہم تو محرم ہیں ان کا کیا کریں ؟ پھر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سمندر کے شکار میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9276
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جداً، أبو المهزم متروك الحديث
حدیث نمبر: 9277
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَمَّنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، سمعتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ ، وَطَعَامُ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الْأَرْبَعَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی کا کھانا دو کے لئے اور دو آدمیوں کا کھانا چار آدمیوں کے لئے کفایت کرجاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9277
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، خ: 5392، م: 2058، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي، ولإبهام الراوي عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 9278
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَالدَّجَّالَ ، وَالدُّخَانَ ، وَدَابَّةَ الْأَرْضِ ، وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ ، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ " ، وَكَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ إِذَا قَالَ : " وَأَمْرَ الْعَامَّةِ " ، قَالَ : أَيْ أَمْرُ السَّاعَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھ واقعات رونما ہونے سے قبل اعمال صالحہ میں سبقت کرلو سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال کا خروج، دھواں چھاجانا، دابۃ الارض کا خروج، تم میں سے کسی خاص آدمی کی موت یا سب کی عمومی موت۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9278
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2947
حدیث نمبر: 9279
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَحْسِبُ حَمَّادٌ , قَالَ : " إِنَّهُ مَنْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ يَنْعَمْ وَلَا يَبْؤَُسْ ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ ، فِي الْجَنَّةِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنت میں داخل ہوجائے گا وہ نازونعم میں رہے گا پریشان نہ ہوگا اس کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے اور اس کی جوانی فنانہ ہوگی اور جنت میں ایسی چیزیں ہوں گی جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کا خیال بھی گذرا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9279
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3244، م: 2824، 2836
حدیث نمبر: 9280
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " حُسْنُ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن ظن بھی حسن عبادت کا ایک حصہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9280
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شتیر
حدیث نمبر: 9281
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خُثَيْمُ بْنُ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ فِي عَبْدِ الرَّجُلِ ، وَلَا فِي فَرَسِهِ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9281
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1464، م: 982
حدیث نمبر: 9282
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَحْسِبُ حَمَّادٌ : " أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَبِيعُ الْخَمْرَ فِي سَفِينَةٍ ، وَمَعَهُ فِي السَّفِينَةِ قِرْدٌ ، فَكَانَ يَشُوبُ الْخَمْرَ بِالْمَاءِ ، قَالَ فَأَخَذَ الْقِرْدُ الْكِيسَ ، ثُمَّ صَعِدَ بِهِ فَوْقَ الذَّرْوِْ ، وَفَتَحَ الْكِيسَ ، فَجَعَلَ يَأْخُذُ دِينَارًا فَيُلْقِهِ فِي السَّفِينَةِ ، وَدِينَارًا فِي الْبَحْرِ حَتَّى جَعَلَهُ نِصْفَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی تجارت کے سلسلے میں شراب لے کر کشتی پر سوار ہوا اس کے ساتھ ایک بندر بھی تھا وہ آدمی جب شراب بیچتا تو پہلے اس میں پانی کی ملاوٹ کرتا پھر اسے فروخت کرتا ایک دن بندر نے اس کے پیسوں کا بٹوہ پکڑا اور ایک درخت پر چڑھ گیا اور ایک ایک دینار سمندر میں اور دوسرا اپنے مالک کی کشتی میں پھینکنے لگا حتی کے اس نے برابر برابر تقسیم کردیا (یہیں سے مثال مشہور ہوگئی کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9282
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات ، والصواب وفقه
حدیث نمبر: 9283
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَأَى رَجُلًا مُبَقَّعَ الرِّجْلَيْنِ ، فَقَالَ أَحْسِنُوا الْوُضُوءَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَيْلٌ لِلْعَقِبِ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے ایڑیوں کو خشک چھوڑ دیا تھا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وضوخوب اچھی طرح کرو۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9283
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 165 ، م : 242
حدیث نمبر: 9284
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَاحِبٌ لَنَا ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ : " نَهَى عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ إِلَّا صَوْمًا مُتَتَابِعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے جمعہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے الاّ یہ کہ وہ تسلسل کے روزوں میں شامل ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9284
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، خ : 1985 ، م : 1144 ، وھذا إسناد ضعیف لإبھام الراوي عن أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 9285
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيِّ ، أَوْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فِي دُبُرِ صَلَاةِ الظُّهْرِ : " اللَّهُمَّ خَلِّصْ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، وَضَعَفَةَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ أَيْدِي الْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً , وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر کے بعد یہ دعاء فرماتے کہ اے اللہ ولید بن ولید سلمہ بن ہشام۔ عیاش بن ابی ربیعہ۔ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزوروں کو قریش کے ظلم و ستم سے نجات عطاء فرماء جو کوئی حیلہ نہیں کرسکتے اور نہ راہ پاسکتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9285
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح دون قوله : «دبر صلاۃ الظھر» ، خ : 6200 ، م : 675 ، وھذا إسناد ضعیف لضعف علي ، و عبید الله لم نجد له ترجمة
حدیث نمبر: 9286
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْكُفْرُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ ، وَالْفَخْرُ وَالرِّيَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ ، يَأْتِي الْمَسِيحُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ وَهِمَّتُهُ الْمَدِينَةَ ، حَتَّى إِذَا جَاءَ دُبُرَ أُحُدٍ ، ضَرَبَت الْمَلَائِكَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ ، وهُنَالِكَ يَهْلِكُ " ، وَقَالَ مَرَّةً : " صَرَفَت الْمَلَائِكَةُ وَجْهَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان (اور حکمت) یمن والوں میں بہت عمدہ ہے کفر مشرقی جانب ہے سکون و اطمینان بکریوں کے مالکوں میں ہوتا ہے جبکہ دلوں کی سختی اونٹوں کے مالکوں میں ہوتی ہے۔ مسیح دجال مشرق کی طرف سے آئے گا اور اس کی منزل مدینہ منورہ ہوگی یہاں تک کہ وہ احد کے پیچھے آکر پڑاؤ ڈالے گا پھر ملائکہ اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے اور وہیں وہ ہلاک ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9286
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح ، وھذا إسناد حسن في المتابعات ، خ : 4388 ، م : 52 ، 1380
حدیث نمبر: 9287
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا تَقَدَّمُوا بَيْنَ يَدَيْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ ، إِلَّا رَجُلٌ كَانَ صِيَامَهُ ، فَلْيَصُمْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھا کرو البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزے رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9287
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 1914 ، م : 1082
حدیث نمبر: 9288
قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کرے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9288
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 37 ، م : 759
حدیث نمبر: 9289
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " . قَالَ عَفَّانُ : وَحَدَّثَنَا أَبَانُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کرے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9289
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 35 ، م : 760
حدیث نمبر: 9290
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حَكِيمٌ الْأَثْرَمُ ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَتَى حَائِضًا ، أَوْ امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا ، أَوْ كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ ، فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی حائضہ عورت سے یا کسی عورت کی پچھلی شرمگاہ میں مباشرت کرے یا کسی کاہن کی تصدیق کرے تو گویا اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی شریعت سے برأت ظاہر کردی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9290
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث محتمل للتحسین ، وھذا إسناد ضعیف لانقطاعه ، أبو تمیمة لا یعرف له سماع من أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 9291
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ حَمَّادٌ : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ حَمَّادٌ : أُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ رَجُلًا زَارَ أَخًا لَهُ فِي قَرْيَةٍ أُخْرَى ، فَأَرْصَدَ اللَّهُ عَلَى مَدْرَجَتِهِ مَلَكًا ، فَلَمَّا أَتَى عَلَيْهِ ، قَالَ الْمَلَكُ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ . قَالَ : أَزُورُ أَخًا لِي فِي هَذِهِ الْقَرْيَةِ . قَالَ : هَلْ لَهُ عَلَيْكَ مِنْ نِعْمَةٍ تَرُبُّهَا ؟ . قَالَ : لَا ، إِلَّا أَنِّي أَحْبَبْتُهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ . قَالَ : فَإِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكَ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَحَبَّكَ كَمَا أَحْبَبْتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی اپنے دینی بھائی سے ملاقات کے لئے جو دوسری بستی میں رہتا تھا روانہ ہوا اللہ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو بٹھا دیا جب وہ فرشتے کے پاس سے گذرا تو فرشتے نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں جا رہے ہو ؟ اس نے کہا کہ فلاں آدمی سے ملاقات کے لئے جا رہا ہوں فرشتے نے پوچھا کیا تم دونوں کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے ؟ اس نے کہا نہیں فرشتے نے پوچھا کہ کیا اس کا تم پر کوئی احسان ہے جس کے پاس تم جا رہے ہو ؟ اس نے کہا نہیں فرشتے نے پوچھا پھر تم اس کے پاس کیوں جا رہے ہو ؟ اس نے کہا کہ میں اس سے اللہ کی رضا کے لئے محبت کرتا ہوں فرشتے نے کہا کہ میں اللہ کے پاس سے تیری طرف قاصد بن کر آیا ہوں کہ اس کے ساتھ محبت کرنے کی وجہ سے اللہ تجھ سے محبت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9291
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 2567
حدیث نمبر: 9292
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَقْبَرَةِ ، فَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِهَا ، قَالَ : " سَلَامٌ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ ، وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا " . قَالُوا : أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي ، وَإِخْوَانِي الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ ، وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ " . قَالُوا : وَكَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ ، أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " فَإِنَّهُمْ يَأْتُونَ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنَ الْوُضُوءِ ، يَقُولُهَا ثَلَاثًا ، وَأَنَا فَرَطهُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، أَلَا لَيُذَادَنَّ رِجَالٌ عَنْ حَوْضِي كَمَا يُذَادُ الْبَعِيرُ الضَّالُّ ، أُنَادِيهِمْ أَلَا هَلُمَّ ، فَيُقَالُ : إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ . فَأَقُولُ : سُحْقًا ، سُحْقًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان تشریف لے گئے وہاں پہنچ کر قبرستان والوں کو سلام کرتے ہوئے فرمایا اے جماعت مومنین کے مکینو تم پر سلام ہو ان شاء اللہ ہم بھی تم سے آکر ملنے والے ہیں پھر فرمایا کہ میری تمنا ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھ سکیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم تو میرے صحابہ ہو میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی نہیں آئے اور جن کا میں حوض کوثر پر منتظرہوں گا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے جو امتی ابھی تک نہیں آئے آپ انہیں کیسے پہچانیں گے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر کسی آدمی کا سفید روشن پیشانی والا گھوڑا کالے سیاہ گھوڑوں کے درمیان ہو کیا وہ اپنے گھوڑے کو نہیں پہچان سکے گا ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر وہ لوگ بھی قیامت کے دن وضو کے آثار کی برکت سے روشن سفید پیشانی کے ساتھ آئیں گے اور میں حوض کوثر پر ان کا انتظار کروں گا۔ پھر فرمایا یاد رکھو تم میں سے کچھ لوگوں کو میرے حوض سے اس طرح دور کیا جائے گا جیسے گمشدہ اونٹ کو بھگایا جاتا ہے میں انہیں آواز دوں گا کہ ادھر آؤ لیکن کہا جائے گا کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد دین کو بدل ڈالا تھا تو میں کہوں گا کہ دور ہوں دور ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9292
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن في المتابعات
حدیث نمبر: 9293
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَزْرَقِ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ بِالسُّوقِ ، فَمُرَّ بِجِنَازَةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا ، فَعَابَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ وَانْتَهَرَهُمْ ، فَقَالَ لَهُ سَلَمَةُ بْنُ الْأَزْرَقِ : لَا تَقُلْ ذَلِكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَأَشْهَدُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ لَسَمِعْتُهُ يقول ، وَتُوُفِّيَتْ امْرَأَةٌ مِنْ كَنَائِنِ مَرْوَانَ ، فَشَهِدَهَا مَرْوَانُ ، فَأَمَرَ بِالنِّسَاءِ اللَّاتِي يَبْكِينَ , فَضُرِبْنَ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ : دَعْهُنَّ يَا أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ ، فَإِنَّهُ مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا ، وَأَنَا مَعَهُ وَمَعَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، فَانْتَهَرَ عُمَرُ اللَّاتِي يَبْكِينَ مَعَ الْجِنَازَةِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُنَّ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، فَإِنَّ النَّفْسَ مُصَابَةٌ ، وَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ ، وَإِنَّ الْعَهْدَ لَحَدِيثٌ " . قَالَ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ ؟ ، فَقَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن عمرو رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سلمہ بن ازرق حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بازار میں بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں وہاں سے جنازہ گذرا جس کے پیچھے رونے کی آوازیں آرہی تھیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے معیوب قرار دے کر انہیں ڈانٹا سلمہ بن ازرق کہنے لگے آپ اس طرح نہ کہیں میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ گواہی دیتاہوں کہ ایک مرتبہ مروان کے اہل خانہ میں سے کوئی عورت مرگئی عورتیں اکھٹی ہو کر اس پر رونے لگیں مروان کہنے لگا کہ عبد الملک جاؤ اور ان عورتوں کو رونے سے منع کرو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وہاں موجود تھے میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے خود سنا کہ ابوعبد الملک رہنے دو ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے بھی ایک جنازہ گذرا تھا جس پر رویا جارہا تھا میں بھی اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے انہوں نے جنازے کے ساتھ رونے والی عورتوں کو ڈانٹا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن خطاب رہنے دو کیونکہ آنکھ آنسو بہاتی ہے اور دل غمگین ہوتا ہے اور زخم ابھی ہرا ہے۔ انہوں نے پوچھا کیا یہ روایت آپ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں اس پر وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9293
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف ، سلمة مجھول
حدیث نمبر: 9294
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ الْغُبَرِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ : مِنَ النَّخْلَةِ ، وَالْعِنَبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے ایک کھجور اور ایک انگور۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9294
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 1985
حدیث نمبر: 9295
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بن جعفر صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ البصرة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَشْهَدُ لَهُ ثَلَاثَةُ أَهْلِ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنَ بِخَيْرٍ ، إِلَّا قَال اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : قَدْ قَبِلْتُ شَهَادَةَ عِبَادِي عَلَى مَا عَلِمُوا ، وَغَفَرْتُ لَهُ مَا أَعْلَمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو بندہ مسلم فوت ہوجائے اور اس کے تین قریبی پڑوسی اس کے لئے خیر کی گواہی دے دیں اس کے متعلق اللہ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کی شہادت ان کے علم کے مطابق قبول کرلی اور اپنے علم کے مطابق جو جانتا تھا اسے پوشیدہ کر کے اسے معاف کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9295
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف لإبھام الشیخ البصري
حدیث نمبر: 9296
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : قَالَ مَعْمَرٌ : وَزَادَنِي غَيْرُ هَمَّامٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال : " أَكْذَبُ النَّاسِ الصُّنَّاعُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹے صنعت کار (یا مزدور) ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9296
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف لإبھام الراوي عن أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 9297
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ الْغُبَرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ : النَّخْلَةِ , وَالْعِنَبَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے ایک کھجور اور ایک انگور۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9297
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 1985
حدیث نمبر: 9298
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ . فَقَالَ : " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَمَا أَلْوَانُهَا ؟ " . قَالَ : رُمْكٌ . قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أليسَ رُبمَّا جَاءَتْ بِالْبَعِيرِ الْأَوْرَقِ ؟ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَعَمْ . قَالَ : " فَأَنَّى تَرَى ذَلِكَ ؟ " . قَالَ : أُرَاهُ نَزَعَهُ عِرْقٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَهَذَا نَزَعَهُ عِرْقٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنو فزارہ کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی ! میری بیوی نے ایک سیاہ رنگت والا لڑکا جنم دیا ہے دراصل وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بچے کا نسب خود ثابت نہ کرنے کی درخواست پیش کرنا چاہ رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ان کی رنگت کیا ہے ؟ اس نے کہا سرخ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں ! اس میں خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سرخ اونٹوں میں خاکستری رنگ کا اونٹ کیسے آگیا ؟ اس نے کہا کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اس بچے کے متعلق بھی یہی سمجھ لو کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9298
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 1985
حدیث نمبر: 9299
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ثَابِتٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : كُنَّا مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِطَرِيقِ مَكَّةَ إِذْ هَاجَتْ رِيحٌ ، فَقَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ : الرِّيحَ . قَالَ : فَلَمْ يَرُدُّوا إليه شَيْئًا . قَالَ : فَبَلَغَنِي الَّذِي سَأَلَ عَنْهُ مِنْ ذَلِكَ ، فَاسْتَحْثَثْتُ رَاحِلَتِي حَتَّى أَدْرَكْتُهُ ، فَقُلْتُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بَلَغَنِي أَنَّكَ سَأَلْتَ عَنِ الرِّيحِ ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ ، فَلَا تَسُبُّوهَا ، وَسَلُوا خَيْرَهَا ، وَاسْتَعِيذُوا بِهِ مِنْ شَرِّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حج پر جا رہے تھے کہ مکہ مکرمہ کے راستے میں تیز آندھی نے لوگوں کو آلیا لوگ اس کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہوگئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا آندھی کے متعلق کون شخص ہمیں حدیث سنائے گا ؟ کسی نے انہیں کوئی جواب نہ دیا مجھے پتہ چلا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے اس نوعیت کی کوئی حدیث دریافت فرمائی ہے تو میں نے اپنی سواری کی رفتار تیز کردی حتیٰ میں نے انہیں جا لیا اور عرض کیا کہ امیرالمومنین ! مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ نے آندھی کے متعلق کسی حدیث کا سوال کیا ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آندھی یعنی تیز ہوا اللہ کی مہربانی ہے کبھی رحمت لاتی ہے اور کبھی زحمت جب تم اسے دیکھا کرو تو اسے برا بھلا نہ کہا کرو بلکہ اللہ سے اس کی خیر طلب کیا کرو اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9299
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9300
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ الْأَصَمِّ ، قَالَ : كُنْتُ بِالْمَدِينَةِ مَعَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، فَمَرَّتْ بِهِمَا جِنَازَةٌ ، فَقَامَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَلَمْ يَقُمْ مَرْوَانُ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ , فَقَامَ " . فَقَامَ عِنْدَ ذَلِكَ مَرْوَانُ .
مولانا ظفر اقبال
یزید بن اصم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مروان بن حکم اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں تھا ان دونوں کے قریب سے ایک جنازہ گذرا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو کھڑے ہوگئے لیکن مروان کھڑا نہ ہوا اس پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے کوئی جنازہ گذرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے یہ سن کر مروان بھی کھڑا ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9300
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 9301
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ نَهَى عَنْ الْفَرَعِ وَالْعَتِيرَةِ " . قَالَ مُحَمَّدٌ : وَقَدْ سَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ مَعْمَرٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ رجب میں قربانی کرنے اور جانور کا سب سے پہلا بچہ بتوں کے نام قربان کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9301
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 5474 ، م: 1976
حدیث نمبر: 9302
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْوَلَدُ لِصَاحِبِ الْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بچہ بستر والے ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9302
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 6818 ، م: 1458
حدیث نمبر: 9303
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ دَعَا بِهَا فِي أُمَّتِهِ ، فَتُسْتَجَابُ لَهُ ، وَإِنِّي أُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ أُؤَخِّرَ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کی ایک دعاء ضرور قبول ہوتی ہے اور میں نے وہ اپنی دعاء قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لئے رکھ چھوڑی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9303
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 7474 ، م: 199
حدیث نمبر: 9304
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّهُ قَالَ : كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَأْتِي عَلَى النَّاسِ وَهُمْ يَتَوَضَّئُونَ فِي الْمَطْهَرَةِ ، فَيَقُولُ لَهُمْ : أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ ، أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے ایڑیوں کو خشک چھوڑ دیا تھا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وضوخوب اچھی طرح کرو۔ کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9304
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 165 ، م: 242
حدیث نمبر: 9305
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : كَانَ مَرْوَانُ يَسْتَعْمِلُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَكَانَ إِذَا رَأَى إِنْسَانًا يَجُرُّ إِزَارَهُ ، ضَرَبَ بِرِجْلِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ : قَدْ جَاءَ الْأَمِيرُ ، قَدْ جَاءَ الْأَمِيرُ ، ثُمَّ يَقُولُ : قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن زیاد کہتے ہیں کہ مروان حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ پر گورنر مقرر کردیا کرتا تھا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جب کسی آدمی کو اپنا تہبند زمین پر گھسیٹتے ہوئے دیکھتے تو اس کی ٹانگ پر مارتے اور پھر کہتے کہ امیر آگئے امیرآ گئے اور فرماتے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے ازار کو زمین پر کھینچتے ہوئے چلتا ہے اللہ اس پر نظر کرم نہیں فرماتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9305
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 5788 ، م: 2087
حدیث نمبر: 9306
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَحْفِهِمَا جَمِيعًا أَوْ انْعَلْهُمَا جَمِيعًا ، فَإِذَا لَبِسْتَ فَابْدَأْ بِالْيَمِنى ، وَإِذَا خَلَعْتَ فَابْدَأْ بِالْيُسْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دونوں جوتیاں پہنا کرو یا دونوں اتارا کرو جب تم میں سے کوئی شخص جوتی پہنے تو دائیں پاؤں سے ابتدا کرے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاؤں کی اتارے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9306
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 5856 ، م: 2097
حدیث نمبر: 9307
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامٍه ، فَإِنْ لَمْ يُجْلِسْهُ مَعَهُ ، فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ ، أَوْ لُقْمَةً أَوْ لُقْمَتَيْنِ ، شُعْبَةُ شَكَّ ، فَإِنَّهُ وَلِيَ عِلَاجَهُ وَحَرَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اس کی کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک دو لقمے ہی اسے دے دے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9307
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 2557 ، م: 1663
حدیث نمبر: 9308
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ الْحَسَنَ أَخَذَ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ ، فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كِخْ كِخْ أَلْقِهَا ، أَمَا شَعَرْتَ أَنَّا أَهْلَ بَيْتٍ لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے صدقہ کی کھجور لے کر منہ میں ڈال لی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے نکالو کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ ہم آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9308
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 3072 ، م: 1069
حدیث نمبر: 9309
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم أَبُو الْقَاسِمِ : " لَوْ أَنَّ الْأَنْصَارَ سَلَكُوا وَادِيًا أَوْ شِعْبًا ، وَسَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ ، وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ " . قَالَ : فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : مَا ظَلَمَ بِأَبِي وَأُمِّي , لَقَدْ آوَوْهُ وَنَصَرُوهُ , وَكَلِمَةً أُخْرَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصاری دوسری وادی میں تو میں انصار کے ساتھ ان کی وادی میں چلوں گا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9309
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 3779 ، م: 76
حدیث نمبر: 9310
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ ، فَمَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَهُوَ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ ، إِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَرَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ " . قَالَ : " وَلَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا ، فَإِنَّ مَالَهَا مَا كُتِبَ لَهَا ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا تَلَقَّوْا الْأَجْلَابَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اچھے داموں فروخت کرنے کے لئے بکری یا اونٹنی کا تھن مت باندھا کرو جو شخص (اس دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے جو اس کے حق میں بہتر ہو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے ( اور معاملہ رفع دفع کر دے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کر دے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔ کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے پیالے میں جو کچھ ہے وہ سمیٹ لے کیونکہ اسے وہی ملے گا جو اس کے لئے لکھ دیا گیا ہے اور ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو اور تاجروں سے باہر باہر ہی مل کر سودا مت کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9310
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، خ : 2151 ، م: 1524 ، وھذا إسناد منقطع ، إبراھیم النخعي لم یسمع من أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 9311
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ ، وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس طرح حج کرے کہ اس میں اپنی عورتوں سے بےحجاب بھی نہ ہو اور کوئی گناہ کا کام بھی نہ کرے وہ اس دن کی کیفیت لے کر اپنے گھر لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9311
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 1819 ، م: 1350
حدیث نمبر: 9312
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَيَّارٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ ، وَلَمْ يَفْسُقْ ، رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس طرح حج کرے کہ اس میں اپنی عورتوں سے بےحجاب بھی نہ ہو اور کوئی گناہ کا کام بھی نہ کرے وہ اس دن کی کیفیت لے کر اپنے گھر لوٹے گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9312
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 1521 ، م: 1350
حدیث نمبر: 9313
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا وُضُوءَ إِلَّا مِنْ حَدَثٍ أَوْ رِيحٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وضواسی طرح واجب ہوتا ہے جب حدث لاحق ہو یا خروج ریح ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9313
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح