حدیث نمبر: 9235
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ ؟ " ، قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا ، وَأَحْسَنُكُمْ أَخْلَاقًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بہتر کون ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی یا رسول اللہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن کی عمر طویل ہو اور اخلاق بہترین ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9235
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، وقد صرح ابن إسحاق بالتحديث عند ابن حبان: 2981
حدیث نمبر: 9236
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الْجَلَبُ ، فَإِنْ ابْتَاعَ مُبْتَاعٌ ، فَصَاحِبُ السِّلْعَةِ بِالْخِيَارِ إِذَا وَرَدَتِ السُّوقَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے تاجروں سے باہر باہر ہی مل کر خریداری کرنے سے منع فرمایا ہے جو شخص اس طرح کوئی چیز خریدے تو بیچنے والے کو بازار اور منڈی میں پہنچنے کے بعد اختیار ہوگا (کہ وہ اس بیع کو قائم رکھے یا فسخ کردے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9236
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1519
حدیث نمبر: 9237
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ اللُّؤْلُئِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ سُرَيْجٌ فِي حَدِيثِهِ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَيَخْرُجَنَّ رِجَالٌ مِنَ الْمَدِينَةِ رَغْبَةً عَنْهَا ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کچھ لوگ مدینہ منورہ سے بےرغبتی کے ساتھ نکل جائیں گے حالانکہ اگر انہیں پتہ ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے زیادہ بہتر تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9237
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1381
حدیث نمبر: 9238
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَابِرٌ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ ، فَلْيُفْرِغْ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا فِي الْإِنَاءِ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِيمَ بَاتَتْ يَدُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9238
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 162، م: 278، ابن لهيعة - وإن کان سيئ الحفظ - قد توبع
حدیث نمبر: 9239
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ : وَقَدْ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ ، لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ إِلَّا اسْتُجِيبَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ بندہ مسلم اللہ سے جو دعاء کرتا ہے اللہ اسے وہ چیز ضرور عطاء فرما دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9239
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6400، م: 852، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 9240
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ذَوَّادُ بْنُ عُلْبَةَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَجِّرُ ، قَالَ : فَصَلَّيْتُ ، ثُمَّ جِئْتُ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ , اشِكَنَْبْ دَرْدْ ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " صَلِّ فَإِنَّ فِي الصَّلَاةِ شِفَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں جب بھی دوپہر کے وقت نکلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ہی پڑھتے ہوئے پایا (ایک دن میں حاضر ہوا تو) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فارسی میں پوچھا کہ تمہارے پیٹ میں درد ہو رہا ہے ؟ میں نے کہا کہ نہیں فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھو کیونکہ نماز میں شفاء ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9240
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ذوّاد وليث
حدیث نمبر: 9241
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ إِلَّا ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ : قَوْلُهُ حِينَ دُعِيَ إِلَى آلِهَتِهِمْ : إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89 ، وَقَوْلُهُ : فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا سورة الأنبياء آية 63 ، وَقَوْلُهُ لِسَارَةَ : إِنَّهَا أُخْتِي " ، قَالَ : " وَدَخَلَ إِبْرَاهِيمُ قَرْيَةً فِيهَا مَلِكٌ مِنَ الْمُلُوكِ أَوْ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ ، فَقِيلَ : دَخَلَ إِبْرَاهِيمُ اللَّيْلَةَ بِامْرَأَةٍ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ ، قَالَ : فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ الْمَلِكُ أَوْ الْجَبَّارُ : مَنْ هَذِهِ مَعَكَ ؟ ، قَالَ : أُخْتِي ، قَالَ : أَرْسِلْ بِهَا ، قَالَ : فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ ، وَقَالَ لَهَا : لَا تُكَذِّبِي قَوْلِي ، فَإِنِّي قَدْ أَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي ، إِنْ عَلَى الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ ، قَالَ : فَلَمَّا دَخَلَتْ إِلَيْهِ قَامَ إِلَيْهَا ، قَالَ : فَأَقْبَلَتْ تَوَضَّأ وَتُصَلِّي ، وَتَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ ، وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَى زَوْجِي ، فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْكَافِرَ ، قَالَ : فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ : قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : اللَّهُمَّ إِنَّهُ إِنْ يَمُتْ ، يُقَلْ : هِيَ قَتَلَتْهُ ، قَالَ : فَأُرْسِلَ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهَا ، فَقَامَتْ تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي ، وَتَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ ، وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَى زَوْجِي ، فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْكَافِرَ ، قَالَ : فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ : قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : اللَّهُمَّ إِنَّهُ إِنْ يَمُتْ ، يُقَلْ : هِيَ قَتَلَتْهُ ، قَالَ : فَأُرْسِلَ ، فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ , أَوْ الرَّابِعَةِ : مَا أَرْسَلْتُمْ إِلَيَّ إِلَّا شَيْطَانًا ، ارْجِعُوهَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ ، وَأَعْطُوهَا هَاجَرَ ، قَالَ : فَرَجَعَتْ ، فَقَالَتْ لِإِبْرَاهِيمَ : أَشَعَرْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَدَّ كَيْدَ الْكَافِرِ ، وَأَخْدَمَ وَلِيدَةً ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت ابرہیم علیہ السلام نے کبھی ایسی بات نہیں کہی جو حقیقت میں تو سچی اور بظاہر جھوٹ معلوم ہوتی ہو ہاں اس طرح کی تین باتیں کہی تھیں۔ پہلی دونوں باتیں تو یہ ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا میں بیمار ہوں اور یہ فرمایا تھا کہ یہ فعل (بت شکنی) بڑے بت کا ہے اور تیسری بات کی یہ صورت ہوئی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت سارہ علیہا السلام کا ایک گاؤں سے گذر ہوا وہاں ایک ظالم بادشاہ موجود تھا بادشاہ سے کسی نے کہا کہ یہاں ایک شخص آیا ہے جس کے ساتھ ایک نہایت حسین عورت ہے بادشاہ نے ایک آدمی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس بھیج کر دریافت کرایا کہ یہ عورت کون ہے ؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا میری بہن ہے پھر حضرت سارہ علیہا السلام کے پاس آکر فرمایا کہ روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی اور ایمان دار نہیں ہے اور اس ظالم نے مجھ سے تمہارے متعلق دریافت کیا تھا میں نے اس سے کہہ دیا کہ تم میری بہن ہو لہٰذا تم میری تکذیب نہ کرنا۔ اس کے بعد بادشاہ نے حضرت سارہ علیہا السلام کو بلوایا سارہ چلی گئیں بادشاہ غلط ارادے سے ان کی طرف بڑھا حضرت سارہ علیہا السلام وضو کر کے نماز پڑھنے لگیں اور کہنے لگیں کہ اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان رکھتی ہوں اور اپنے شوہر کے علاوہ سب سے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے تو اس کافر کو مجھ پر مسلط نہ فرما اس پر وہ زمین میں دھنس گیا حضرت سارہ علیہا السلام نے دعاء کی کہ اے اللہ اگر یہ اس طرح مرگیا تو لوگ کہیں گے کہ سارہ نے اسے قتل کیا ہے چنانچہ اللہ نے اسے چھوڑ دیا دوبارہ اس نے دست درازی کرنا چاہی لیکن پھر اسی طرح ہوا وہ زمین میں دھنسا اور رہا ہوا۔ تیسری یا چوتھی مرتبہ بادشاہ اپنے دربان سے کہنے لگا کہ تو میرے پاس آدمی کو نہیں لایا ہے بلکہ شیطان کو لایا ہے اسے ابراہیم کے پاس واپس بھیج دو یہ کہہ کر حضرت سارہ علیہا السلام کو خدمت کے لئے ہاجرہ علیہا السلام عطا فرمائی حضرت سارہ (علیہا السلام) حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس واپس آگئیں اور کہا اللہ تعالیٰ نے کافر کی دست درازی سے مجھے محفوظ رکھا اور اس نے مجھے خدمت کے لئے ہاجرہ دی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9241
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2217
حدیث نمبر: 9242
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , أَنَّهُ قَالَ : " مَرِضْتُ ، فَلَمْ يَعُدْنِي ابْنُ آدَمَ ، وَظَمِئْتُ ، فَلَمْ يَسْقِنِي ابْنُ آدَمَ . فَقُلْتُ : أَتَمْرَضُ يَا رَبِّ ؟ ! ، قَالَ : يَمْرَضُ الْعَبْدُ مِنْ عِبَادِي مِمَّنْ فِي الْأَرْضِ ، فَلَا يُعَادُ ، فَلَوْ عَادَهُ ، كَانَ مَا يَعُودُهُ لِي ، وَيَظْمَأُ فِي الْأَرْضِ ، فَلَا يُسْقَى ، فَلَوْ سُقِيَ كَانَ مَا سَقَاهُ لِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں بیمار ہوا لیکن ابن آدم نے میری عیادت نہیں کی مجھے پیاس لگی لیکن ابن آدم نے پانی نہیں پلایا میں نے عرض کیا پروردگار ! کیا آپ بھی بیمار ہوتے ہیں ؟ جواب ملا کہ زمین پر میرا کوئی بندہ بیمار ہوتا ہے اور اس کی بیمار پرسی نہیں کی جاتی اگر بندہ اس کی عیادت کے لئے جاتا ہے تو اسے وہی ثواب ملتا جو میری عیادت کرنے پر ملتا اور زمین پر میرا کوئی بندہ پیاسا ہوتا ہے لیکن اسے پانی نہیں پلایا جاتا۔ اگر کوئی اسے پانی پلاتا تو اسے وہی ثواب ملتا جو مجھے پانی پلانے پر ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9242
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2569، وهذا إسناد ضعيف من أجل ابن لهيعة
حدیث نمبر: 9243
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ الْجَوَادُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ ، وَإِنَّ وَرَقَهَا لَيُخَمِّرُ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنت میں ایک درخت ایسا ہے کوئی بہترین سوار اس کے سائے میں سو سال تک چل سکتا ہے اور اس کے پتوں نے جنت کو ڈھانپ رکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9243
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: « وإن ورقها ليخمر الجنة » ، خ: 4881، م: 2826، وهذه الزيادة تفرد بها ابن لهيعة، وهو سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 9244
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا ، وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ ، وَأُومِنَ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ ، وَغُدِيَ عَلَيْهِ ، وَرِيحَ بِرِزْقِهِ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَكُتِبَ لَهُ أَجْرُ الْمُرَابِطِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو شخص سرحدوں کی حفاظت کرتا ہوا فوت ہوجائے وہ قبر کے عذاب سے محفوظ رہے گا اور بڑی گھبراہٹ کے دن مامون رہے گا صبح و شام اسے جنت سے رزق پہنچایا جائے گا اور قیامت تک اس کے لئے سرحدی محافظ کا ثواب لکھا جاتا رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9244
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبن لهيعة
حدیث نمبر: 9245
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ صِبْرَةَ ، وَعَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أنهما سمعا القاسم بن محمد ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ ، وَلَا يَقْبَلُ مِنْهَا إِلَّا الطَّيِّبَ ، يَقْبَلُهَا بِيَمِينِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، وَيُرَبِّيهَا لِعَبْدِهِ الْمُسْلِمِ , كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ أَوْ فَصِيلَهُ ، حَتَّى يُوَافَى بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلَ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بندہ جب حلال مال میں سے کوئی چیز صدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے قبول فرمالیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن وہاں سے احد پہاڑ کے برابر ادا کردیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9245
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1410، م: 1014، وهذا إسناد ضعيف لضعف عباد، وجهالة عبدالواحد
حدیث نمبر: 9246
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " دَخَلَ عَبْدٌ الْجَنَّةَ بِغُصْنِ شَوْكٍ عَلَى ظَهْرِ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ ، فَأَمَاطَهُ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی نے مسلمانوں کے راستے سے ایک کانٹے دار ٹہنی کو ہٹایا اس کی برکت سے وہ جنت میں داخل ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9246
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 652، م: 1914، إسماعيل بن عياش توبع
حدیث نمبر: 9247
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو عِنْدَ النَّوْمِ : " اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ ، وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ ، أَنْتَ الْأَوَّلُ لَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْآخِرُ لَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ لَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ لَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ ، وَأَغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹنے کے لئے آتے تو یوں فرماتے کہ اسے ساتوں آسمانوں، زمین اور ہر چیز کے رب ! دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے اللہ تورات انجیل اور قرآن نازل کرنے والے میں ہر شریر کے شر سے جس کی پیشانی آپ کے قبضے میں ہے آپ کی پناہ میں آتا ہوں آپ اول ہیں آپ سے پہلے کچھ نہیں آپ آخر ہیں آپ کے بعد کچھ نہیں آپ ظاہر ہیں آپ سے اوپر کچھ نہیں آپ باطن ہیں آپ سے پیچھے کچھ نہیں میرے قرضوں کو ادا فرمائیے اور مجھے فقروفاقہ سے بےنیاز فرما دیجئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9247
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2713، إسماعيل ابن عياش قد توبع
حدیث نمبر: 9248
حَدَّثَنَا خَلَفٌ بنِِ الوليدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا ، إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دنیا میں کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ قیامت کے دن اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9248
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2699، إسماعيل بن عياش قد توبع
حدیث نمبر: 9249
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قال : " كَانَ يَمُرُّ بِآلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِلَالٌ ، ثُمَّ هِلَالٌ ، لَا يُوقَدُ فِي شَيْءٍ مِنْ بُيُوتِهِمْ النَّارُ ، لَا لِخُبْزٍ ، وَلَا لِطَبِيخٍ ، فَقَالُوا : بِأَيِّ شَيْءٍ كَانُوا يَعِيشُونَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ ، قَالَ : الأسودانِ : التَّمْرِ وَالْمَاءِ ، وَكَانَ لَهُمْ جِيرَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، وَجَزَاهُمْ اللَّهُ خَيْرًا ، لَهُمْ مَنَائِحُ ، يُرْسِلُونَ إِلَيْهِمْ شَيْئًا مِنْ لَبَنٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آل مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر دو دو مہینے ایسے گذر جاتے تھے کہ ان کے گھروں میں آگ تک نہیں جلتی تھی نہ روٹی کے لئے اور نہ کھانا پکانے کے لئے، لوگوں نے ان سے پوچھا اے ابوہریرہ ! پھر وہ کس چیز کے سہارے زندگی گذارا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا دو کالی چیزوں یعنی کھجور اور پانی پر اور کچھ انصاری اللہ انہیں جزائے خیر عطاء فرمائے ان کے پڑوسی تھے ان کے پاس کچھ بکریاں تھیں جن کا وہ تھوڑا سا دودھ بھجوا دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9249
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر
حدیث نمبر: 9250
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " تَهَادَوْا ، فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تُذْهِبُ وَغَرَ الصَّدْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپس میں ہدایا کا تبادلہ کیا کرو کیونکہ ہدیہ سینے کے کینے دور کردیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9250
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر
حدیث نمبر: 9251
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ عَمَّرَ سِتِّينَ سَنَةً أَوْ سَبْعِينَ سَنَةً ، فَقَدْ عُذِرَ إِلَيْهِ فِي الْعُمُرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس شخص کو اللہ نے ساٹھ ستر سال تک زندگی عطاء فرمائی ہو عمر کے حوالے سے اللہ اس کا عذر پورا کردیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9251
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6419، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي معشر، وقد توبع
حدیث نمبر: 9252
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنِ الطُّهَوِيِّ ، عَنْ ذُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْمَلْنَا ، وَأَنْفَضْنَا ، فَآتَيْنَا عَلَى إِبِلٍ مَصْرُورَةٍ بِلِحَاءِ الشَّجَرِ ، فَابْتَدَرَهَا الْقَوْمُ لِيَحْلِبُوهَا ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذِهِ عَسَى أَنْ يَكُونَ فِيهَا قُوتُ أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، أَتُحِبُّونَ لَوْ أَنَّهُمْ أَتَوْا عَلَى مَا فِي أَزْوَادِكُمْ فَأَخَذُوهُ ؟ " ، ثُمَّ قَالَ : " إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَاشْرَبُوا ، وَلَا تَحْمِلُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے ہم مٹی اوڑھتے اور جھاڑتے چند ایسے اونٹوں کے پاس سے گذرے جن کے تھن بندھے ہوئے تھے اور وہ درختوں میں چر رہے تھے لوگ ان کا دودھ دوہنے کے لئے تیزی سے آگے بڑھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ہوسکتا ہے ایک مسلمان گھرانے کی روزی صرف اسی میں ہو کیا تم اس بات کو پسند کرو گے کہ وہ تمہارے توشہ دان کے پاس آئیں اور اس میں موجود سب کچھ لے جائیں ؟ پھر فرمایا اگر تم کچھ کرنا ہی چاہتے ہو تو صرف پی لیا کرو لیکن اپنے ساتھ مت لے جایا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9252
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الطهوي وذهبل ، والحجاج مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 9253
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ سِيلَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَدَعُوا رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ ، وَإِنْ طَرَدَتْكُمْ الْخَيْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی دو سنتیں نہ چھوڑا کرو اگرچہ تمہیں گھوڑے روندنے ہی کیوں نہ لگیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9253
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن سيلان
حدیث نمبر: 9254
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : " مَنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ، ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي ، وَمَنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ مِنَ النَّاسِ ، ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ أَكْثَرَ مِنْهُمْ وَأَطْيَبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے بندہ اگر مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اگر وہ مجھے کسی مجلس میں بیٹھ کر یاد کرتا ہے تو میں اس سے بہتر محفل میں اسے یاد کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9254
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7405، م: 2675
حدیث نمبر: 9255
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ : أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی بندے کے لئے مناسب نہیں ہے کہ یوں کہتا پھرے میں حضرت یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9255
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3416، م: 2376
حدیث نمبر: 9256
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، قَالَ : كَانَ بِالْمَدِينَةِ قَاضٍ ، يُقَالُ لَهُ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، قَالَ : فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ عَبْدًا أَصَابَ ذَنْبًا ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ , أَذْنَبْتُ ذَنْبًا فَاغْفِرْ لِي . فَقَالَ رَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ : عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ ، وَيَأْخُذُ بِهِ ، فَغَفَرَ لَهُ ، ثُمَّ مَكَثَ مَا شَاءَ اللَّهُ ، ثُمَّ أَذْنَبَ ذَنْبًا آخَرَ ، فَقَالَ أَيْ رَبِّ أَذْنَبْتُ ذَنْبًا ، فَاغْفِرْهُ ، فَقَالَ رَبُّهُ عَلِمَ عَبْدِي أَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ ، وَيَأْخُذُ بِهِ ، فَغَفَر له ، ثُمَّ مَكَثَ ما شاءَ الله ، ثُمَّ أَذْنَبَ ذَنْبًا أخَر ، فقال أَيْ رَبّ ، أَذْنَبْتُ ذَنْبًا ، فاغْفِرْه ، فقالَ رَبُّه عَلِمَ عَبْدِى أَنّ له رَبًَّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ ، ويَأْخُذُ به ، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک آدمی گناہ کرتا ہے پھر کہتا ہے کہ پروردگار ! مجھ سے گناہ کا ارتکاب ہوا مجھے معاف فرما دے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے گناہ کا کام کیا اور اسے یقین ہے کہ اس کا کوئی رب بھی ہے جو گناہوں کو معاف فرماتا یا ان پر مواخذہ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو تین مرتبہ مزید دہرایا کہ بندہ پھر گناہ کرتا ہے اور حسب سابق اعتراف کرتا ہے اور اللہ حسب سابق جواب دیتا ہے چوتھی مرتبہ آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے کو یقین ہے کہ اس کا کوئی رب بھی ہے جو گناہوں کو معاف فرماتا یا ان پر مواخذہ فرماتا ہے میں نے اپنے بندے کو معاف کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9256
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7507، م: 2758
حدیث نمبر: 9257
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " كَانَ زَكَرِيَّا نَجَّارًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت زکریا علیہ السلام پیشے کے اعتبار سے بڑھئی تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9257
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2379
حدیث نمبر: 9258
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ سِيلَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَدَعُوا رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ ، وَإِنْ طَرَدَتْكُمْ الْخَيْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
ہمارے پاس دستیاب نسخے میں یہاں لفظ " حدثنا " لکھا ہوا ہے جو کاتبین کی غلطی کو واضح کرنے کے لئے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9258
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن سيلان
حدیث نمبر: 9259
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : دَاوُدُ بْنُ فَرَاهِيجَ أَخْبَرَنِي قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " مَا كَانَ لَنَا طَعَامٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَّا الْأَسْوَدَانِ : التَّمْرُ , وَالْمَاءُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں ہمارے پاس سوائے دو کالی چیزوں " کھجور اور پانی " کے کھانے کی کوئی چیز نہ ہوتی تھی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9259
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9260
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَثَلُ الَّذِي يَسْمَعُ الْحِكْمَةَ وَيَتَّبِعُ شَرَّ مَا يَسْمَعُ , كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَى رَاعِيًا , فَقَالَ لَهُ : أَجْزِرْنِي شَاةً مِنْ غَنَمِكَ . فَقَالَ : اذْهَبْ فَخُذْ بِأُذُنِ خَيْرِهَا شَاةً . فَذَهَبَ فَأَخَذَ بِأُذُنِ كَلْبِ الْغَنَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کی مثال " جو کسی مجلس میں شریک ہو اور وہاں حکمت کی باتیں سنے لیکن اپنے ساتھی کو اس میں سے چن چن کر غلط باتیں ہی سنائے اس کی مثال شخص کی سی ہے جو کسی چرواہے کے پاس آئے اور اس سے کہے کہ اے چرواہے ! اپنے ریوڑ میں سے ایک بکری میرے لئے ذبح کردے وہ اسے جواب دے کہ جا کر ان میں سے جو بہتر ہو اس کا کان پکڑ کرلے آؤ اور وہ جا کر ریوڑ کے کتے کان پکڑ کرلے آئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9260
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف علي، ولجهالة أوس
حدیث نمبر: 9261
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الْأَغْنِيَاءُ ، وَيُدْفَعُ عَنْهَا الْفُقَرَاءُ ، وَمَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ , فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہوتا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے اور جو شخص دعوت ملنے کے باوجود نہ آئے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9261
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5177، م: 1432، وهذا إسناد ضعيف لضعف النعمان
حدیث نمبر: 9262
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا طِيَرَةَ ، وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْفَأْلُ ؟ ، قَالَ : " الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ ، يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں ہے البتہ " فال " سب سے بہتر ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! " فال " سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا اچھا کلمہ جو تم میں سے کوئی سنے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9262
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5755، م: 2223
حدیث نمبر: 9263
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا يُورَدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیمار جانوروں کو تندرست جانوروں کے پاس نہ لایا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9263
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5770، م: 2220
حدیث نمبر: 9264
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ ، سَأَلَ عَنْهُ ، فَإِنْ قِيلَ : هَدِيَّةٌ ، أَكَلَ ، وَإِنْ قِيلَ : صَدَقَةٌ ، قَالَ : " كُلُوا " ، وَلَمْ يَأْكُلْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آپ کے گھر کے علاوہ کہیں اور سے کھانا آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق دریافت فرماتے اگر بتایا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تناول فرما لیتے اور اگر بتایا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو لوگوں سے فرما دیتے کہ تم کھالو اور خود نہ کھاتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9264
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2576، م: 1077
حدیث نمبر: 9265
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، رَأَى رَجُلًا مُبَقَّعَ الرِّجْلَيْنِ ، فَقَالَ : أَحْسِنُوا الْوُضُوءَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن زیادہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے ایڑیوں کو خشک چھوڑ دیا تھا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ وضو خوب اچھی طرح کرو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جہنم کی آگ سے ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9265
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 165، م: 242
حدیث نمبر: 9266
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الدَّابَّةُ الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جانور کے زخم سے مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دیئے گئے ہوں تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9266
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
حدیث نمبر: 9266M
وَمَنْ ابْتَاعَ شَاةً فَوَجَدَهَا مُصَرَّاةً ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ ، إِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9266M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524
حدیث نمبر: 9267
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : إن رسولَ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِتَمْرٍ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ ، فَأَمَرَ فِيهِ بِأَمْرٍ ، فَحَمَلَ الْحَسَنَ أَوِ الْحُسَيْنَ عَلَى عَاتِقِهِ ، فَجَعَلَ لُعَابُهُ يَسِيلُ عَلَيْهِ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ ، فَإِذَا هُوَ يَلُوكُ تَمْرَةً ، فَحَرَّكَ خَدَّهُ , وَقَالَ : " أَلْقِهَا يَا بُنَيَّ ، أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ آلَ مُحَمَّدٍ لَا يَأْكُلُونَ الصَّدَقَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ کی کھجوریں لائی گئیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق ایک حکم دے دیا اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ یا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے کندھے پر بٹھا لیا ان کا لعاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بہنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر دیکھا تو ان کے منہ میں ایک کھجور نظر آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ ڈال کر منہ میں سے وہ کھجور نکالی اور فرمایا کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9267
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1485، م: 1069
حدیث نمبر: 9268
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَطَاعَ الْعَبْدُ رَبَّهُ وَسَيِّدَهُ ، فَلَهُ أَجْرَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی غلام اللہ اور اپنے آقا دونوں کی اطاعت کرتا ہو تو اسے ہر عمل پر دہرا اجر ملتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9268
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9269
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ ، قَدْ كَفَاهُ حَرَّهُ وَعَمَلَهُ ، فَإِنْ لَمْ يُقْعِدْهُ مَعَهُ لِيَأْكُلَ ، فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً مِنْ طَعَامِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا پکانے میں اس کی گرمی اور محنت سے کفایت کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائے اگر ایسا نہیں کرسکتا تو ایک لقمہ لے کر ہی اسے دے دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9269
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2557، م: 1663
حدیث نمبر: 9270
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ ، لِعَلَّاتٍ أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى ، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ ، وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ ، وَإِنَّهُ نَازِلٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ ، فَاعْرِفُوهُ رَجُلًا مَرْبُوعًا إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ ، عَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُمَصَّرَانِ ، كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ وَإِنْ لَمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ ، فَيَدُقُّ الصَّلِيبَ ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ ، وَيَدْعُو النَّاسَ إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمِلَلَ كُلَّهَا إِلَّا الْإِسْلَامَ ، وَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ ، وَتَقَعُ الْأَمَنَةُ عَلَى الْأَرْضِ ، حَتَّى تَرْتَعَ الْأُسُودُ مَعَ الْإِبِلِ ، وَالنِّمَارُ مَعَ الْبَقَرِ ، وَالذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ ، وَيَلْعَبَ الصِّبْيَانُ بِالْحَيَّاتِ لَا تَضُرُّهُمْ ، فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) علاتی بھائیوں (جن کا باپ ایک ہو مائیں مختلف ہوں) کی طرح ہیں ان سب کی مائیں مختلف اور دین ایک ہے اور میں تمام لوگوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں اور عنقریب وہ زمین پر نزول بھی فرمائیں گے اس لئے تم جب انہیں دیکھنا تو مندرجہ ذیل علامات سے انہیں پہچان لینا۔ وہ درمیانے قد کے آدمی ہوں گے سرخ وسفید رنگ ہوگا گیروے رنگے ہوئے دو کپڑے ان کے جسم پر ہوں گے ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپکتے ہوئے محسوس ہوں گے گو کہ انہیں پانی کی تری بھی نہ پہنچی ہو پھر وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ موقوف کردیں گے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں گے ان کے زمانے میں اللہ اسلام کے علاوہ تمام ادیان کو مٹا دے گا اور ان ہی کے زمانے میں مسیح دجال کو ہلاک کروائے گا اور روئے زمین پر امن وامان قائم ہوجائے گا حتی کہ سانپ اونٹ کے ساتھ چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑئیے بکریوں کے ساتھ ایک گھاٹ سے سیراب ہوں گے اور بچے سانپوں سے کھیلتے ہوں گے اور وہ سانپ انہیں نقصان نہ پہنچائیں گے اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک زمین پر رہ کر فوت ہوجائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ ادا کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9270
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وفي الإسناد انقطاع، لم يثبت سماع قتادة من عبدالرحمن
حدیث نمبر: 9271
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " عَجِبَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رِجَالٍ يُقَادُونَ إِلَى الْجَنَّةِ فِي السَّلَاسِلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہمارے رب کو اس قوم پر تعجب ہوتا ہے جسے زنجیروں میں جکڑ کر جنت کی طرف لے جایا جاتا ہے (ان کے اعمال انہیں جہنم کی طرف لے جارہے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی نظر کرم انہیں جنت کی طرف لے جا رہی ہوتی ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9271
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3010
حدیث نمبر: 9272
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَبْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو قبر پر جا کر اس کے لئے دعاء مغفرت کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9272
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 458، م: 956
حدیث نمبر: 9273
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الرَّحِمَ شُجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ ، تَقُولُ يَا رَبِّ إِنِّي قُطِعْتُ ، يَا رَبِّ إِنِّي أُسِيءَ إِلَيَّ ، يَا رَبِّ إِنِّي ظُلِمْتُ ، يَا رَبِّ . قَالَ : فَيُجِيبُهَا أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ ، وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رحم رحمن کا ایک جزو ہے جو قیامت کے دن آئے گا اور عرض کرے گا کہ اے پروردگار مجھے توڑا گیا مجھ پر ظلم کیا گیا پروردگار میرے ساتھ برا سلوک کیا گیا اللہ اسے جواب دے گا کیا تو اس پر بات پر راضی نہیں ہے کہ میں اسے جوڑوں گا جو تجھے جوڑے گا اور میں اسے کاٹوں گا جو تجھے کاٹے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9273
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5988، م: 2554، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن عبدالجبار مجهول