حدیث نمبر: 9195
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ ، أَنَّهُ قَالَ : رَقِيتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ ، وَعَلَيْهِ سَرَاوِيلُ مِنْ تَحْتِ قَمِيصِهِ ، فَنَزَعَ سَرَاوِيلَهُ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ، وَرَفَعَ فِي عَضُدَيْهِ الْوُضُوءَ ، وَرِجْلَيْهِ ، فَرَفَعَ فِي سَاقَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَرِ الْوُضُوءِ ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ " .
مولانا ظفر اقبال
نعیم بن عبداللہ ایک مرتبہ مسجد کی چھت پر چڑھ کر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا انہوں نے قمیض کے نیچے شلوار پہن رکھی تھی انہوں نے شلوار اتاری اور وضو کرنے لگے اپنے چہرے اور ہاتھوں کو بازؤوں تک اور پاؤں کو پنڈلیوں تک دھویا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن میری امت کے لوگ وضو کے نشانات سے روشن اور چمکدار پیشانی والے ہوں گے (اس لئے تم میں سے جو شخص اپنی چمک بڑھا سکتا ہو اسے ایسا کرلینا چاہئے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9195
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي،خ: 136، م: 246
حدیث نمبر: 9196
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ خَتَنُ سَلَمَةَ الْأَبْرَشِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْرُونَ مَا يَكُونُ فِي ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دشمن سے آمنا سامنا ہونے کی تمنا مت کیا کرو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اس صورت میں کیا کچھ ہوسکتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9196
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، خ: 3026 معلقًا، م: 1741، وهذا | إسناد فيه ابن إسحاق مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 9197
حَدَّثَنَا هَارُونُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ إِسْحَاقَ مَوْلَى زَائِدَةَ حَدَّثَهُ , عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ ، وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ ، مُكَفِّرَاتٌ مَا بَيْنَهُنَّ ، مَا اجْتُنِبَتْ الْكَبَائِرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ نمازیں اور ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9197
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 233 وهذا إسناد ضعیف، عمر بن إسحاق مجھول
حدیث نمبر: 9198
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُؤْمِنُ مَألَفٌ ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ ، وَلَا يُؤْلَفُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن الفت کا مقام ہوتا ہے اس شخص میں کوئی خیر نہیں ہوتی جو کسی سے الفت کرے اور نہ اس سے کوئی الفت کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9198
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 9199
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ : سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَبْوَابَ الْجَنَّةِ تُفْتَحُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، إِلَّا رَجُلٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ ، فَيُقَالُ : أَنْظِرُوهُمَا حَتَّى يَصْطَلِحَا , مَرَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر اس بندے کو بخش دیتے ہیں جو ان کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے ان دو آدمیوں کے جن کے درمیان آپس میں لڑائی جھگڑا ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان دونوں کو چھوڑے رکھو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کرلیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9199
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2565
حدیث نمبر: 9200
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَيُّهَا النَّاسُ , " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ لَكُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، الصَّلَاةَ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا ، وَفِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اے لوگو ! اللہ نے تم پر تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی حضر میں نماز کی چار رکعتیں اور سفر میں دو رکعتیں فرض قرار دی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9200
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عبیدالله مختلف فيه، وفيه انقطاع بينه وبين أبي هريرة
حدیث نمبر: 9201
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَيَتَحَمَّدَنَّ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أُنَاسٍ ، مَا عَمِلُوا مِنْ خَيْرٍ قَطُّ ، فَيُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ بَعْدَمَا احْتَرَقُوا , فَيُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ ، بَعْدَ شَفَاعَةِ مَنْ يُشَفَّعُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر اپنا خصوصی کرم فرمائے گا جنہوں نے کبھی کوئی نیکی نہ کی ہوگی اور انہیں جہنم سے نکال لے گا اس وقت تک وہ جہنم کی آگ میں جل (کوئلہ بن) چکے ہوں گے اس کے بعد سفارش کرنے والے کی سفارش سے اپنی رحمت کے سبب انہیں جنت میں داخلہ عطاء فرمائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9201
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغیرہ، وفي ھذا الإسناد صالح، وھو مختلط
حدیث نمبر: 9202
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي زُمْرَةٌ ، هُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا ، تُضِيءُ وُجُوهُهُمْ إِضَاءَةَ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ " . فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيُّ ، يَرْفَعُ نَمِرَةً عَلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ . فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ " . ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ . قَالَ " سَبَقَكَ عُكَّاشَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمی جنت میں داخل ہوں گے جن کے چہرے چود ہویں رات کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ اپنی چادر اٹھاتے ہوئے کھڑے ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ ! اللہ سے دعاء کردیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرما دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء کردی کہ اے اللہ اسے بھی ان میں شامل فرما پھر ایک انصاری آدمی کھڑے ہو کر بھی یہی عرض کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9202
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 6542، م: 216
حدیث نمبر: 9203
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ يُونُسَ . وَعَلِيِّ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا ، وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9203
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5109، م: 1408
حدیث نمبر: 9204
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِذَا كَانَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الرَّحْمَةِ ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ماہ رمضان شروع ہوتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9204
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1899، م: 1079
حدیث نمبر: 9205
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ . وَعَتَّابٌ قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ فُلَانٍ الْخَثْعَمِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا زُرْعَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ سَفَرًا ، فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ ، وَالْخَلِيفَةُ فِي الْأَهْلِ ، قَالَ : وَأُرَاهُ ، يعني قَالَ : وَالْحَامِلُ عَلَى الظَّهْرِ , اللَّهُمَّ اصْحَبْنَا بِنُصْحٍ ، وَاقْلِبْنَا بِذِمَّةٍ نَعُوذُ بِكَ مِنْ مِلْحِ وَعْثَاءِ السَّفَرِ ، وَكَآبَةِ الْمُنْقَلَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی سفر کے ارادے سے نکلتے اور اپنی سواری پر سوار ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ تو ہی سفر میں میرا ساتھی اور اہل و عیال میں میرا جانشین ہے اور سواری کی پیٹھ پر بٹھانے والا ہے اے اللہ خیرخواہی کے ساتھ ہماری رفاقت فرما اور اپنی ذمہ داری میں واپس پہنچا ہم سفر کی مشکلات واپسی کی پریشانی سے تیری پناہ میں آتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9205
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، والراوي المبهم، هو عبدالله بن بشر، وهو صدوق، أو ولده عمير بن عبدالله، فهو ثقة
حدیث نمبر: 9206
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْأَجْلَحُ ، أَنَّ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً ، مَا دَعَا اللَّهَ فِيهَا عَبْدٌ مُؤْمِنٌ بِشَيْءٍ ، إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ بندہ مسلم اللہ سے جو دعاء کرتا ہے اللہ اسے وہ چیز ضرور عطاء فرما دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9206
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6400، م: 852
حدیث نمبر: 9207
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ ، وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے اسی میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی اسی دن وہ جنت میں داخل ہوئے اور اسی دن جنت سے باہر نکالے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9207
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 854
حدیث نمبر: 9208
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ . وَعَتَّابٌ قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ شَهِدَ الْجِنَازَةَ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا ، فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّى تُدْفَنَ وَقَالَ عَتَّابٌ : حَتَّى تُفْرَغَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ " . قِيلَ : وَمَا الْقِيرَاطَانِ ، يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہا اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے دو قیراط کی وضاحت دریافت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو عظیم پہاڑوں کے برابر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9208
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1325، م: 945
حدیث نمبر: 9209
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِنَّ الْيَهُودَ , وَالنَّصَارَى ، لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہود و نصاریٰ اپنے بالوں کو مہندی وغیرہ سے نہیں رنگتے سو تم ان کی مخالفت کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9209
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5899، م: 2103
حدیث نمبر: 9210
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَنْثُرْ ، وَمَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اسے ناک بھی صاف کرنا چاہئے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے اسے طاق عدد اختیار کرنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9210
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: اسناده صحيح، خ: 161، م: 237
حدیث نمبر: 9211
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لَهِيعَةَ بْنِ عُقْبَةَ ، وَعَنْ يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ لَهِيعَةَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " وَإِيَّاكُمْ وَالْخَيْلَ الْمُنَفِّلَةَ ، فَإِنَّهَا إِنْ تَلْقَ تَفِرَّ ، وَإِنْ تَغْنَمْ تَغْلُلْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے خوشبودار گھاس کھا کر موٹے ہونے والے گھوڑوں کے استعمال سے بچو کیونکہ اگر ان کا دشمن سے سامناہو تو وہ بھاگ جاتے ہیں اور اگر مال غنیمت مل جائے تو خیانت کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9211
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، وأبوه مستور
حدیث نمبر: 9212
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ ، وَالْعَشْرَ الْأَوَاسِطَ ، فَمَاتَ ، حِينَ مَاتَ ، وَهُوَ يَعْتَكِفُ عِشْرِينَ يَوْمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں کا اور درمیانے عشرے کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9212
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2044
حدیث نمبر: 9213
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ ، عَنْ جَهْمِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ مِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ ، وَقَلْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے عمر کی زبان اور دل پر حق کو رکھ دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9213
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله العمري، ولجهالة جهم
حدیث نمبر: 9214
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَا بَيْنَ مِنْبَرِي وَبَيْتِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین کا جو حصہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کا ایک باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر نصب کیا جائے گا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا یہ منبر جنت کے دروازوں میں سے کسی دروازے پر ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9214
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1196، م: 1391، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله بن عمر العمري
حدیث نمبر: 9215
حَدَّثَنَا نُوحٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَ ذَلِكَ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مِنْبَرِي عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ " .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9215
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1196، م: 1391، وهذا إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 9216
حَدَّثَنَا نُوحٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُوشِكُ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، حَتَّى تَصِيرَ مَسَالِحُهُمْ بِسِلَاحٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریب ہے کہ لوگ مدینہ منورہ لوٹ کر واپس آجائیں گے یہاں تک کہ ان کے اسلحہ ڈپو میں اسلحہ بھی واپس آجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9216
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عبدالله العمري
حدیث نمبر: 9217
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلَاثٍ : الْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ ، وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی۔ (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) چاشت کی دو رکعتوں کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9217
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 1178، م: 721
حدیث نمبر: 9218
حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : " بِرَّ أُمَّكَ " ، ثُمَّ عَادَ ، فَقَالَ : " بِرَّ أُمَّكَ " ، ثُمَّ عَادَ ، فَقَالَ : " بِرَّ أُمَّكَ " ، ثُمَّ عَادَ الرَّابِعَةَ ، فَقَالَ : " بِرَّ أَبَاكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کرو اس نے پوچھا اس کے بعد کون ؟ فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون ؟ فرمایا تمہاری والدہ چوتھی مرتبہ فرمایا تمہارے والد۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9218
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5971، م: 2548
حدیث نمبر: 9219
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمِّي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُشَاكُ بِشَوْكَةٍ فِي الدُّنْيَا ، يَحْتَسِبُهَا ، إِلَّا قُصَِّ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کو جو کانٹا بھی چبھتا ہے اور وہ اس پر صبر کرتا ہے اللہ اس کے بدلے اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9219
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عبيدالله بن عبدالله
حدیث نمبر: 9220
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، قَالَ : وَحَدَّثَ صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ أَيْضًا ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ ، يُضْحِكُ بِهَا جُلَسَاءَهُ ، يَهْوِي بِهَا مِنْ أَبْعَدِ مِنَ الثُّرَيَّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بعض اوقات آدمی اپنے دوستوں کو ہنسانے کے لئے کوئی بات کرتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں ثریا ستارے سے بھی دور کے فاصلے سے گرپڑتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9220
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف الزبير ، وانظر، خ: 6477
حدیث نمبر: 9221
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے پانچ اوقیہ چاندی سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9221
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9222
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ نَهَى عَنْ التَّلَقِّي ، وَأَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر باہر ہی تاجروں سے ملنے اور کسی شہری کو دیہاتی کا سامان (مال تجارت) فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9222
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2162، م: 1520
حدیث نمبر: 9223
حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اصل میں صدقہ تو دل کا غناء کے ساتھ ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9223
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1426
حدیث نمبر: 9224
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِلْعَبْدِ الْمَمْلُوكِ الْمُصْلِحِ أَجْرَانِ " ، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ ، لَوْلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَالْحَجُّ ، وَبِرُّ أُمِّي ، لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَمُوتَ وَأَنَا مَمْلُوكٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیک عبد مملوک کے لئے دہرا اجر ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے اگر جہاد فی سبیل اللہ، حج بیت اللہ اور والدہ کی خدمت نہ ہوتی تو میں غلامی کی حالت میں مرنا پسند کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9224
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2548، م: 1665
حدیث نمبر: 9225
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الصِّيَامُ جُنَّةٌ ، وَحِصْنٌ حَصِينٌ مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ جہنم کی آگ سے بچاؤ کے لئے ڈھال اور ایک مضبوط قلعہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9225
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9226
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " حَدٌّ يُعْمَلُ فِي الْأَرْضِ ، خَيْرٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ مِنْ أَنْ يُمْطَرُوا ثَلَاثِينَ صَبَاحًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین میں نافذ کی جانے والی ایک سزا لوگوں کے حق میں تیس دن تک مسلسل بارش ہونے سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9226
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف جرير
حدیث نمبر: 9227
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو ثِفَالٍ الْمُرِّيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ خَيْرٌ مِنَ السَّيِّدِ مِنَ الْمَعْزِ " . قَالَ دَاوُدُ : السَّيِّدُ : الْجَلِيلُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ بکری کے بڑے بچے سے بہتر ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9227
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبي ثفال
حدیث نمبر: 9228
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَافِعٍ ، أَخْبَرَهُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ نَهَى عَنِ الرَّمِيَّةِ ، أَنْ تُرْمَى الدَّابَّةُ ثُمَّ تُؤْكَلَ ، وَلَكِنْ تُذْبَحُ ، ثُمَّ يَرْمُوا إِنْ شَاءُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ جانور کو پتھر یا تیر مار کر ختم کردیا جائے اور پھر اسے کھالیا جائے اس لئے پہلے اسے ذبح کرنا چاہئے بعد میں اگر اس پر تیر ماریں تو ان کی مرضی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9228
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 9229
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أن أبا هريرة ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " قَرَصَتْ نَمْلَةٌ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ ، فَأُحْرِقَتْ ، فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ : فِي أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ ، أَهْلَكْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک نبی نے کسی درخت کے نیچے پڑاؤ کیا انہیں کسی چیونٹی نے کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے پورے بل کو آگ لگا دی اللہ نے ان کے پاس وحی بھیجی کہ ایک چیونٹی نے آپ کو کاٹا اور آپ نے تسبیح کرنے والی ایک پوری امت کو ختم کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9229
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3019، م: 2241
حدیث نمبر: 9230
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أُرَاهُ عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لِرَجُلٍ : أُوَدِّعْكَ كَمَا وَدَّعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ كَمَا وَدَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَوْدَعْتُكَ اللَّهَ الَّذِي لَا يُضَيِّعُ وَدَائِعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
موسیٰ بن وردان سے غالباً منقول ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی سے فرمایا میں تمہیں اس طرح رخصت کروں گا جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت فرمایا تھا میں تمہیں اس اللہ کے سپرد کرتا ہوں جو اپنی امانتوں کو ضائع نہیں فرماتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9230
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 9231
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ الْحَرَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَالْمُغِيرَةِ بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَا : سَمِعْنَاهُ يَقُولُ : " مَا كَانَ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَإِنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ بِيَدِهِ ، وَيَعِيهِ بِقَلْبِهِ ، وَكُنْتُ أَعِيهِ بِقَلْبِي ، وَلَا أَكْتُبُ بِيَدِي ، وَاسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكِتَابِ عَنْهُ ، فَأَذِنَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مجھ سے زیادہ بکثرت جاننے والا کوئی نہیں سوائے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے کیونکہ وہ ہاتھ سے لکھتے تھے اور دل میں محفوظ کرتے تھے جبکہ میں صرف دل میں محفوظ کرتا تھا ہاتھ سے لکھتا نہیں تھا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لکھنے کی اجازت مانگی تھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دے دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9231
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 113
حدیث نمبر: 9232
حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ صَدَقَةٌ ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے پانچ اوقیہ چاندی سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9232
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9233
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَلْجٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ : قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَةً مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي . قَالَ : " قُلْ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسا کلمہ نہ سکھاؤں جو جنت کا خزانہ ہے میں نے عرض کیا ضرور آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں کہا کرو لا حول و لا قوۃ الا باللہ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9233
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9234
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ ابْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَى عَبْدٍ نِعْمَةً ، إِلَّا وَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يَرَى أَثَرَهَا عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ اپنی نعمتوں کے آثار اپنے بندے پر دیکھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9234
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جداً، شريك سيئ الحفظ، وابن موهب متروك