حدیث نمبر: 9155
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَيْسُورًا مَوْلَى قُرَيْشٍ فِي حَلْقَةِ سَعِيدٍ يُحَدِّثُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّهُ مَرَّ بِهِ فَتًى يَجُرُّ إِزَارَهُ ، فَوَكَزَهُ بِحَدِيدَةٍ كَانَتْ مَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَلَمْ يَبْلُغْكَ مَا قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى الَّذِي يَجُرُّ إِزَارَهُ بَطَرًا " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ ایک نوجوان حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرا وہ اپنا ازار کھینچتا ہوا چلا جا رہا تھا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اپنی چھڑی اسے چبھو کر فرمایا کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں ہے کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے ازار کو زمین سے کھینچتے ہوئے چلتا ہے اللہ اس پر نظر کرم نہیں فرماتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9155
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5788، م: 2087، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ميسور
حدیث نمبر: 9156
حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ الضَّبِّيُّ الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُحَدِّثُ نَفْسِي بِالْحَدِيثِ ، لَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَتَكَلَّمَ بِهِ ، قَالَ : " ذَلِكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے دل میں ایسے وساوس اور خیالات آتے ہیں کہ انہیں زبان پر لانے سے زیادہ مجھے آسمان سے نیچے گر جانا محبوب ہے (میں کیا کروں ؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو صریح ایمان ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9156
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 132
حدیث نمبر: 9157
حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ خَبَّبَ خَادِمًا عَلَى أَهْلِهَا فَلَيْسَ مِنَّا ، وَمَنْ أَفْسَدَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی نوکر کو اس کے اہل خانہ کے خلاف بھڑکاتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جو شخص کسی عورت کو اس کے شوہر کے خلاف بھڑکاتا ہے وہ بھی ہم میں سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9157
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 9158
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " ثَلَاثٌ فِي الْمُنَافِقِ ، وَإِنْ صَلَّى وَإِنْ صَامَ وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ : إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ ، وَإِذَا ائْتُمِنَ خَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں خواہ وہ نماز روزہ کرتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9158
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 33، م: 59
حدیث نمبر: 9159
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ كِتَابًا بِيَدِهِ لِنَفْسِهِ ، قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ ، فَوَضَعَهُ تَحْتَ عَرْشِهِ , فِيهِ : رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جب مخلوق کو وجود عطاء کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس کتاب میں جو اس کے پاس عرش پر ہے لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9159
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3194، م: 2751، شريك النخعي- وإن كان فى حفظه شيء- متابع، وقوله: « بيده » زيادة منكرة فى هذا الحديث
حدیث نمبر: 9160
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى ، كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ ، لَا يُنْقِصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا ، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ ، كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ ، لَا يُنْقِصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں کو ہدایت کی طرف دعوت دے اسے اتنا ہی اجر ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ملے گا اور ان کے اجر وثواب میں کسی قسم کی کمی نہ کی جائے گی اور جو شخص لوگوں کو گمراہی کی طرف دعوت دے اسے اتنا ہی گناہ ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ملے گا اور ان کے گناہ میں کسی قسم کی کمی نہ کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9160
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2674
حدیث نمبر: 9161
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، َقالَ : أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْ شَهِيدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بھی مدینہ منورہ کی مشقتوں اور سختیوں پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی بھی دوں گا اور سفارش بھی کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9161
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1378
حدیث نمبر: 9162
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، َقالَ : أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ التَّثَاؤُبَ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمائی شیطان کے اثر کی وجہ سے آتی ہے اس لئے جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ممکن ہو اسے روکے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9162
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2994
حدیث نمبر: 9163
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، َقالَ : أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَجْتَمِعُ كَافِرٌ ، وَقَاتِلُهُ فِي النَّارِ أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کافر اور اس کا مسلمان قاتل جہنم میں کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9163
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1891
حدیث نمبر: 9164
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، َقالَ : أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْعُقُوبَةِ ، مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ ، وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ ، مَا قَنَطَ مِنْ رَحْمَتِهِ أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بندہ مومن کو وہ سزائیں معلوم ہوجائیں جو اللہ نے تیار کر رکھی ہیں تو کوئی بھی جنت کی طمع نہ کرے (صرف جہنم سے بچنے کی دعا کرتے رہیں) اور اگر کافر کو اللہ کی رحمت کا اندازہ ہو جائے تو کوئی بھی جنت سے ناامید نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9164
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2755
حدیث نمبر: 9165
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، َقالَ : أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا عَدْوَى ، وَلَا صَفَرَ ، وَلَا هَامَةَ ، وَلَا نَوْءَ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیماری متعدی ہونے ماہ صفر کے منحوس ہونے مردے کی کھوپڑی کے کیڑے اور ستاروں کی تاثیر کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9165
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5717، م: 2220
حدیث نمبر: 9166
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، َقالَ : أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَأْتِي الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ ، وَهِمَّتُهُ الْمَدِينَةُ ، حَتَّى يَنْزِلَ دُبُرَ أُحُدٍ ، ثُمَّ تَصْرِفُ الْمَلَائِكَةُ وَجْهَهُ قِبَلَ الشَّامِ ، وَهُنَالِكَ يَهْلِكُ " . قَالَ عَبْد اللَّهِ : كَذَا قَالَ أَبِي فِي هَذِهِ الْأَحَادِيثِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسیح دجال مشرق کی طرف سے آئے گا اور اس کی منزل مدینہ منورہ ہوگی یہاں تک کہ وہ احد کے پیچھے آکر پڑاؤ ڈالے گا پھر ملائکہ اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے اور وہیں وہ ہلاک ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9166
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1380
حدیث نمبر: 9167
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنِ ابْنِ دِينَارٍ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي ، كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بُنْيَانًا ، فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ ، إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ مِنْ زَوَايَاهُ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ ، وَيَعْجَبُونَ لَهُ ، وَيَقُولُونَ : هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ ؟ ، قَالَ : فَأَنَا تِلْكَ اللَّبِنَةُ ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسے ہے جیسے کسی آدمی نے ایک نہایت حسین و جمیل اور مکمل عمارت بنائی البتہ اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ اس کے گرد چکر لگا تے تعجب کرتے اور کہتے جاتے تھے کہ ہم نے اس سے عمدہ عمارت کوئی نہیں دیکھی سوائے اس اینٹ کی جگہ کے سو وہ اینٹ میں ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9167
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3535، م: 2286
حدیث نمبر: 9168
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ مَوْلَى بَنِي تَِيمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ مَوْلَى بَنِي زُرَيْقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِ أَحَدِكُمْ ، فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ ، ثُمَّ لِيَطْرَحْهُ ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ شِفَاءً ، وَفِي الْآخَرِ دَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گرجائے تو وہ یاد رکھے کہ مکھی کے ایک پر میں شفاء اور دوسرے پر میں بیماری ہوتی ہے اس لئے اسے چاہئے کہ اس مکھی کو اس میں مکمل ڈبو دے (پھر اسے استعمال کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے) ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9168
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5782
حدیث نمبر: 9169
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ مَوْلَى بَنِي تَِيمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ مَوْلَى بَنِي زُرَيْقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ ، فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھونا چاہیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9169
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 172، م: 279
حدیث نمبر: 9170
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا سَمِعَ الشَّيْطَانُ الْمُنَادِيَ يُنَادِي بِالصَّلَاةِ ، وَلَّى وَلَهُ ضُرَاطٌ ، حَتَّى لَا يَسْمَعَ الصَّوْتَ ، فَإِذَا فَرَغَ رَجَعَ فَوَسْوَسَ ، فَإِذَا أَخَذَ فِي الْإِقَامَةِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شیطان اذان کی آواز سنتا ہے تو زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے اور انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور اقامت کے وقت بھی اسی طرح کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9170
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1232، م: 389
حدیث نمبر: 9171
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَجِدُ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِحَدِيثِ هَؤُلَاءِ ، وَهَؤُلَاءِ بِحَدِيثِ هَؤُلَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تم لوگوں میں سب سے بدترین شخص اس آدمی کو پاؤگے جو دوغلا ہو ان لوگوں کے پاس ایک رخ لے کر آتاہو اور ان لوگوں کے پاس دوسرا رخ لے کر آتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9171
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6058، م: 2526
حدیث نمبر: 9172
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا ، فَيُؤْمِنَ النَّاسُ أَجْمَعُونَ ، فَيَوْمَئِذٍ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ ، أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا الْيَهُودَ ، فَيَفِرَّ الْيَهُودِيُّ وَرَاءَ الْحَجَرِ ، فَيَقُولَ الْحَجَرُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، يَا مُسْلِمُ ، هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي . وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ ، حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمْ الشَّعَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو سب لوگ اللہ پر ایمان لے آئیں گے لیکن اس وقت کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی ہو اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم یہودیوں سے قتال نہ کرلو اس وقت اگر کوئی یہودی بھاگ کر کسی پتھر کے پیچھے چھپ جائے گا تو وہ پتھر کہے گا اے بندہ اللہ اے مسلمان یہ میرے پیچھے ایک یہودی چھپا ہوا ہے اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہ کرلو جن کی جوتیاں بالوں کی ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9172
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2926، 2929، 4636، م: 157، 2912
حدیث نمبر: 9173
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قَالَ : " مَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا َيُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ " . " وَالْمَدِينَةُ حَرَامٌ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا أَوْ آوَى مُحْدِثًا ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ " . " وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَى بِهَا أَدْنَاهُمْ ، فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ، لَا يَقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے آقا کے علاوہ کسی اور کو اپنا آقا کہنا شروع کردے اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے قیامت کے دن اللہ اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں کرے گا اور تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ایک جیسی ہے ایک عام آدمی بھی اگر کسی کو امان دے دے تو اس کا لحاظ کیا جائے گا جو شخص کسی مسلمان کی امان کو توڑے اس پر اللہ کی فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے قیامت کے دن اس کا کوئی فرض یا نفل قبول نہیں ہوگا مدینہ منورہ حرم ہے جو شخص اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے قیامت کے دن اللہ اس سے کوئی فرض یا نفلی عبادت قبول نہ کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9173
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1508
حدیث نمبر: 9174
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَوَكَّلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِحِفْظِ امْرِئٍ خَرَجَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَتَصْدِيقٌ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ ، حَتَّى يُوجِبَ لَهُ الْجَنَّةَ ، أَوْ يُرْجِعَهُ إِلَى بَيْتِهِ ، أَوْ مِنْ حَيْثُ خَرَجَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی حفاظت اپنے ذمہ لے رکھی ہے جو اس کے راستے میں نکلے کہ اگر وہ صرف میرے راستے میں جہاد کی نیت سے نکلا ہے اور مجھ پر ایمان رکھتے ہوئے اور میرے پیغمبر کی تصدیق کرتے ہوئے روانہ ہوا ہے تو مجھ پر یہ ذمہ داری ہے کہ اسے جنت میں داخل کروں یا اس حال میں اس کے ٹھکانے کی طرف واپس پہنچا دوں کہ وہ ثواب یا مال غنیمت کو حاصل کرچکا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9174
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3123، م: 1876
حدیث نمبر: 9175
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ كُلِمَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ ُكلِمَ فِي سَبِيلِهِ ، يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جُرْحُهُ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ جُرِحَ ، لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ ، وَرِيحُهُ رِيحُ مِسْكٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے اور اللہ جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کسے زخم لگا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تروتازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9175
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2803، م: 1876
حدیث نمبر: 9176
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى ، قَالَ : فَقَالَ مُوسَى : يَا آدَمُ ، أَنْتَ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ ، وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ ، أَغْوَيْتَ النَّاسَ وَأَخْرَجْتَهُمْ مِنَ الْجَنَّةِ ؟ ! ، قَالَ : فَقَالَ آدَمُ : أَنْتَ مُوسَى أَنْتَ اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِكَلَامِهِ ، تَلُومُنِي عَلَى عَمَلٍ أَعْمَلُهُ ، كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ ؟ ! ، قَالَ : فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام میں مباحثہ ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ اے آدم ! آپ کو اللہ نے اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اور آپ کے اندر روح پھونکی آپ نے لوگوں شرمندہ کیا اور جنت سے نکلوا دیا ؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا اے موسیٰ اللہ نے تمہیں اپنے سے ہم کلام ہونے کے لئے منتخب کیا کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کرتے ہو جس کا فیصلہ اللہ نے میرے متعلق میری پیدائش سے چالیس برس پہلے کرلیا تھا ؟ اس طرح حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9176
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6614، م: 2652
حدیث نمبر: 9177
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ يُكْنَى أَبَا الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، يَا بَنِي هَاشِمٍ ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، يَا أُمَّ الزُّبَيْرِ عَمَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، سَلَانِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوعبدالمطلب سے فرمایا کہ اے بنی عبدالمطلب اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو اے بنی ہاشم اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو میں اللہ کے سامنے تمہارے لئے کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اے پیغمبر اللہ کی پھوپھی ام زبیر اور اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو کیونکہ میں اللہ کی طرف سے تمہارے لئے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا البتہ تم جو چاہو مجھ سے مال و دولت مانگ سکتی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9177
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2527، م: 206
حدیث نمبر: 9178
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا ذَاكُمْ يُحَوَّلُ ذَهَبًا ، يَكُونُ عِنْدِي بَعْدَ ثَلَاثٍ مِنْهُ شَيْءٌ ، إِلَّا شَيْئًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ . إِنَّ الْأَكْثَرِينَ هُمْ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا ، وَهَكَذَا ، وَهَكَذَا ، وَهَكَذَا ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ " , عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ ، وَوَرَاءَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ تمہارا یہ احد پہاڑ سونے کا بنادیا جائے اور تین دن گذرنے کے بعد اس میں سے میرے پاس کچھ بچ جائے سوائے اس چیز کے جو میں نے قرض کی ادائیگی کے لئے رکھ لوں کیونکہ قیامت کے دن مال و دولت کی ریل پیل والے لوگوں کے پاس ہی تھوڑا ہوگا سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں اور بائیں آگے بھیج دیں ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9178
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2389، م: 991
حدیث نمبر: 9179
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، أَوْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ ، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9179
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 887، م: 252
حدیث نمبر: 9180
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ , قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ بِإِسْنَادِهِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9180
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، وأنظر ما قبله
حدیث نمبر: 9181
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9181
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1220، م: 545
حدیث نمبر: 9182
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ ، فَلْيَفْتَتِحْ صَلَاتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص تہجد کی نماز کے لئے اٹھے تو اسے چاہئے کہ اس کا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9182
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 768
حدیث نمبر: 9183
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ذَكْوَانَ أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ سَجْدَةً ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ ، وَمَنْ أَدْرَكَ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ سَجْدَةً ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی اور جو شخص غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9183
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 556، م: 608
حدیث نمبر: 9184
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ ، فَأَطْعَمَهُ طَعَامًا , فَلْيَأْكُلْ مِنْ طَعَامِهِ ، وَلَا يَسْأَلْهُ عَنْهُ ، فَإِنْ سَقَاهُ شَرَابًا مِنْ شَرَابِهِ , فَلْيَشْرَبْ مِنْ شَرَابِهِ ، وَلَا يَسْأَلْهُ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے اور وہ اسے کھانا کھلائے تو جانے والے کو کھا لینا چاہیے البتہ خود سے سوال نہیں کرنا چاہیے اسی طرح اگر پینے کے لئے کوئی چیز دی تو پی لینی چاہیے البتہ خود سے سوال نہیں کرنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9184
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف مسلم
حدیث نمبر: 9185
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ أَوْ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ ، سَأَلَهُمْ : " هَلْ تَرَكَ دَيْنًا ؟ " . فَإِنْ قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " هَلْ تَرَكَ وَفَاءً ؟ " ، فَإِنْ قَالُوا : نَعَمْ . صَلَّى عَلَيْهِ ، وَإِنْ قَالُوا : لَا . قَالَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی جنازہ لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے یہ سوال پوچھتے کہ اس شخص پر کوئی قرض ہے ؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے کہ اسے اداء کرنے کے لئے اس نے کچھ مال چھوڑا ہے ؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں ! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتے اور اگر وہ ناں میں جواب دیتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیتے کہ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9185
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6731، م: 1619
حدیث نمبر: 9186
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ أَبَدًا اجْتِمَاعًا يَضُرُّ أَحَدَهُمَا " . قَالُوا : مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : " مُؤْمِنٌ يَقْتُلُهُ كَافِرٌ ، ثُمَّ يُسَدَّدُ بَعْدَ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو آدمی جہنم میں اس طرح جمع نہیں ہوں گے کہ ان میں سے ایک دوسرے کو نقصان پہنچائے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا وہ مسلمان جو کسی کافر کو قتل کرے اور اس کے بعد سیدھا راستہ اختیار کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9186
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1891
حدیث نمبر: 9187
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ ، لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا إِيمَانًا بِي ، وَتَصْدِيقًا بِرُسُلِي ، أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، أَوْ أُرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ ، الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ نَائِلًا مَا نَالَ ، مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے متعلق اپنے ذمے یہ بات لے رکھی ہے جو اس کے راستے میں نکلے کہ اگر وہ صرف میرے راستے میں جہاد کی نیت سے نکلا ہے اور مجھ پر ایمان رکھتے ہوئے اور میرے پیغمبر کی تصدیق کرتے ہوئے روانہ ہوا ہے تو مجھ پر یہ ذمہ داری ہے کہ اسے جنت میں داخل کروں یا اس کے ٹھکانے کی طرف واپس پہنچا دوں کہ وہ ثواب یا مال غنیمت کو حاصل کرچکا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9187
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3123، م: 1876
حدیث نمبر: 9188
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، َقَالَ : قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُجْرَحُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُجْرَحُ فِي سَبِيلِهِ ، إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ جُرِحَ ، لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ وَرِيحُهُ رِيحُ مِسْكٍ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے اور اللہ جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کسے زخم لگا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تروتازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9188
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2803، م: 1876
حدیث نمبر: 9189
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9189
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 9190
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " كَانَ يُعْرَضُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ ، عُرِضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ (حضرت جبرائیل علیہ السلام) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر سال ایک مرتبہ قرآن کریم کا دور کرتے تھے اور جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس سال دو مرتبہ دور فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9190
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4998
حدیث نمبر: 9191
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِاِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ ، فَلَا يَرْفُثْ ، وَلَا يَجْهَلْ ، فَإِنْ جُهِلَ عَلَيْهِ ، فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کا کسی دن روزہ ہو تو اسے چاہئے کہ بےتکلف نہ ہو اور جہالت کا مظاہرہ بھی نہ کرے اگر کوئی شخص اس کے سامنے جہالت دکھائے تو اسے کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9191
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1894، م: 1151
حدیث نمبر: 9192
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " أَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ ، فَإِنَّ فَيْحَهَا مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے لہٰذا نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9192
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 533، م: 615
حدیث نمبر: 9193
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَسَّانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا يُكْلَمُ عَبْدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ ، يَجِيءُ جُرْحُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ وَرِيحُهُ رِيحُ مِسْكٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے اور اللہ جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کسے زخم لگا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تروتازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9193
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 2803، م: 1876
حدیث نمبر: 9194
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ كَانَ قَالَهُ : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي ، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ الْوُضُوءِ " . وقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَقَدْ كُنْتُ أَسْتَنُّ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ ، وَبَعْدَ مَا أَسْتَيْقِظُ ، وَقَبْلَ مَا آكُلُ ، وَبَعْدَ مَا آكُلُ ، حِينَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا قَالَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اسے ہر وضو کے ساتھ مسواک کا حکم دیتا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ہے میں سونے سے پہلے بھی مسواک کرتا ہوں سو کر اٹھنے کے بعد بھی کھانے سے پہلے بھی اور کھانے کے بعد بھی مسواک کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9194
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي،خ: 887، م: 252