حدیث نمبر: 9115
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يُبَالُ فِي الْمَاءِ الَّذِي لَا يَجْرِي ، ثُمَّ يُغْتَسَلُ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے غسل کرنے لگے۔
حدیث نمبر: 9116
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَقُولُ أَحَدُكُمْ : يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ الدَّهْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مت کہا کرو کہ زمانے کی تباہی ہو کیونکہ زمانے کا خالق بھی تو اللہ ہی ہے۔
حدیث نمبر: 9117
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ ، فَمَنْ وَافَقَ عِلْمَهُ , فَهُوَ عِلْمُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جماعت انبیاء (علیہم السلام) میں سے ایک نبی زمین پر لکیریں کھینچا کرتے تھے (جسے علم رمل کہتے ہیں) جس شخص کا علم ان کے موافق ہوجائے وہ اسے جان لیتا ہے۔
حدیث نمبر: 9118
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ غِرٌّ كَرِيمٌ ، وَإِنَّ الْفَاجِرَ خَبٌّ لَئِيمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن شریف اور بھولا بھالا ہوتا ہے جبکہ کافر دھوکے باز اور کمینہ ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 9119
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ ، وَالْمَلَائِكَةُ يَقُولُونَ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ , مَا لَمْ يُحْدِثْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے اور فرشتے اس کے لئے اس وقت تک دعاء مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہتا ہے اور کہتے رہتے ہیں کہ اے اللہ اس کی بخشش فرما اے اللہ اس پر رحم فرما جب تک وہ بےوضو نہ جائے۔
حدیث نمبر: 9120
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَحَاسَدُوا ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ، لَا يَبِيعَنَّ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَا تَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ بِبَيْعٍ ، وَأَيُّمَا امْرِئٍ ابْتَاعَ شَاةً فَوَجَدَهَا مُصَرَّاةً فَلْيَرُدَّهَا ، وَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، وَلَا يَسُمْ أَحَدُكُمْ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ، وَلَا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَتِهِ ، وَلَا تَسْأَلْ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا ، فَإِنَّ رِزْقَهَا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے بغض، حسد، دھوکہ بازی اور قطع رحمی نہ کیا کرو اور اے بندگان اللہ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہا کرو اور کوئی شہری کسی دیہاتی کے مال کو فروخت نہ کرے تاجروں سے باہر باہر ہی مت مل لیا کرو جو شخص کوئی بکری خریدے پھر اسے پتہ چلے کہ اس کے تھن بندھے ہوئے ہیں تو وہ اسے ایک صاع کھجوروں کے ساتھ واپس لوٹا سکتا ہے کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح بھیج دے یا اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع کرے اور کوئی عورت اپنی بہن (خواہ حقیقی ہو یا دینی) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے کہ جو کچھ اس کے پیالے یا برتن میں ہے وہ بھی اپنے لئے سمیٹ لے بلکہ نکاح کرلے کیونکہ اس کا رزق بھی اللہ کے ذمے ہے۔
حدیث نمبر: 9121
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " يُوشِكُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ أَنْ يَنْزِلَ حَكَمًا قِسْطًا ، وَإِمَامًا عَدْلًا ، فَيَقْتُلَ الْخِنْزِيرَ ، وَيَكْسِرَ الصَّلِيبَ ، وَتَكُونَ الدَّعْوَةُ وَاحِدَةً " . فَأَقْرِئُوهُ ، أَوْ أَقْرِئْهُ السَّلَامَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَأُحَدِّثُهُ فَيُصَدِّقُنِي ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ ، قَالَ : أَقْرِئُوهُ مِنِّي السَّلَامَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلا ام ایک منصف حکمران کے طور پر نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے اور ایک ہی دعوت رہ جائے گی تم انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے سلام کہہ دینا راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات کے وقت اس کی تصدیق کی اور مجھے بھی اس کی وصیت کی
حدیث نمبر: 9122
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " الصَّدَقَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى , وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اصل صدقہ تو دل کے غناء کے ساتھ ہوتا ہے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں
حدیث نمبر: 9123
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ : طُولِ الْحَيَاةِ ، وَكَثْرَةِ الْمَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بوڑھے آدمی میں دو چیزوں کی محبت جوان ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی
حدیث نمبر: 9124
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى أَنْ تَتَزَوَّجَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، أَوْ عَلَى خَالَتِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی عورت کو اس کی پھوپھی یا خالہ کے ساتھ نکاح میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے
حدیث نمبر: 9125
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ جَهَنَّمَ اسْتَأْذَنَتْ رَبَّهَا فَنَفَّسَهَا فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّتَيْنِ ، فَشِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ ، وَشِدَّةُ الْبَرْدِ مِنْ زَمْهَرِيرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ جہنم کی آگ نے اپنے پروردگار سے اجازت چاہی اللہ نے اسے سال میں دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دے دی (ایک مرتبہ سردی میں اور ایک مرتبہ گرمی میں) چنانچہ شدید ترین گرمی جہنم کی تپش کا ہی اثر ہوتی ہے اور شدید ترین سردی بھی جہنم کی ٹھنڈک کا اثر ہوتی ہے
حدیث نمبر: 9126
وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ ، فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب گرمی کی شدت ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے
حدیث نمبر: 9127
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنْ يُفْرَدَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ بِصَوْمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے جمعہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 9128
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرَى رُعَاةُ الشَّاءِ رُءُوسَ النَّاسِ ، وَأَنْ يُرَى الْحُفَاةُ الْعُرَاةُ الْجُوَّعُ يَتَبَارَوْنَ فِي الْبِنَاءِ ، وَأَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّهَا أَوْ رَبَّتَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علامات قیامت میں یہ بات بھی شامل ہے کہ بکریوں کے چرواہے لوگوں کے حکمران بن جائیں برہنہ یا ننگے بھوکے لوگ بڑی بڑی عمارتوں میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگیں اور لونڈی اپنی مالکن کو جنم دینے لگے۔
حدیث نمبر: 9129
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ : فَبُشْرَى مِنَ اللَّهِ ، وَحَدِيثُ النَّفْسِ ، وَتَخْوِيفٌ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا تُعْجِبُهُ فَلْيَقُصَّهَا إِنْ شَاءَ ، وَإِذَا رَأَى شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلَا يَقُصَّهُ عَلَى أَحَدٍ ، وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خواب کی تین قسمیں ہیں اچھے خواب تو اللہ کی طرف سے خوشخبری ہوتے ہیں بعض خواب انسان کا تخیل ہوتے ہیں اور بعض خواب شیطان کی طرف سے انسان کو غمگین کرنے کے لئے ہوتے ہیں جب تم سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے اچھا لگے تو اسے بیان کردے بشرطیکہ مرضی ہو اور اگر ایسا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو کسی کے سامنے اسے بیان نہ کرے بلکہ کھڑا ہو کر نماز پڑھنا شروع کردے۔
حدیث نمبر: 9130
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا ، تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مغرب سے سورج نکلنے کا واقعہ پیش آنے سے قبل جو شخص بھی توبہ کرلے اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی۔
حدیث نمبر: 9131
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔
حدیث نمبر: 9132
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّاسُ أَتْبَاعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ ، كُفَّارُهُمْ أَتْبَاعٌ لِكُفَّارِهِمْ ، وَمُسْلِمُوهُمْ أَتْبَاعٌ لِمُسْلِمِيهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دین کے معاملے میں تمام لوگ قریش کے تابع ہیں عام مسلمان قریشی مسلمانوں اور عام کافر قریشی کافروں کے تابع ہیں۔
حدیث نمبر: 9133
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " عَلَى كُلِّ عُضْوٍ مِنْ أَعْضَاءِ ابْنِ آدَمَ ، صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن آدم کے ہر عضو پر صدقہ ہے۔
حدیث نمبر: 9134
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَاللَّهِ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلًا ، فَيَنْطَلِقَ إِلَى هَذَا الْجَبَلِ ، فَيَحْتَطِبَ مِنَ الْحَطَبِ وَيَبِيعَهُ ، وَيَسْتَغْنِيَ بِهِ عَنِ النَّاسِ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ ، أَوْ حَرَمُوهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واللہ یہ بات بہت بہتر ہے تم میں سے کوئی آدمی رسی پکڑے پہاڑ کی طرف جائے لکڑیاں کاٹے انہیں بیچے اور اس کے ذریعے لوگوں سے مستغنی ہوجائے بہ نسبت اس کے کہ لوگوں کے پاس جا کر سوال کرے ان کی مرضی ہے کہ اسے کچھ دیں نہ دیں
حدیث نمبر: 9135
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو الْهَجَرِيُّ ، فِيمَا أَحْسَبُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " بَيْنَمَا امْرَأَةٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ تُرْضِعُ ابْنًا لَهَا ، إِذْ مَرَّ بِهَا فَارِسٌ مُتَكَبِّرٌ عَلَيْهِ شَارَةٌ حَسَنَةٌ ، فَقَالَتْ الْمَرْأَةُ : اللَّهُمَّ لَا تُمِتْ ابْنِي هَذَا حَتَّى أَرَاهُ مِثْلَ هَذَا الْفَارِسِ ، عَلَى مِثْلِ هَذَا الْفَرَسِ . قَالَ : فَتَرَكَ الصَّبِيُّ الثَّدْيَ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَ هَذَا الْفَارِسِ . قَالَ : ثُمَّ عَادَ إِلَى الثَّدْيِ يَرْضَعُ ، ثُمَّ مَرُّوا بِجِيفَةٍ حَبَشِيَّةٍ أَوْ زِنْجِيَّةٍ تُجَرُّ ، فَقَالَتْ : أُعِيذُ ابْنِي بِاللَّهِ أَنْ يَمُوتَ مِيتَةَ هَذِهِ الْحَبَشِيَّةِ أَوْ الزِّنْجِيَّةِ ، فَتَرَكَ الثَّدْيَ ، وَقَالَ : اللَّهُمَّ أَمِتْنِي مِيتَةَ هَذِهِ الْحَبَشِيَّةِ أَوْ الزِّنْجِيَّةِ ، فَقَالَتْ أُمُّهُ : يَا بُنَيَّ , سَأَلْتُ رَبَّكَ أَنْ يَجْعَلَكَ مِثْلَ ذَلِكَ الْفَارِسِ ، فَقُلْتَ : اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ ، وَسَأَلْتُ رَبَّكَ أَلَّا يُمِيتَكَ مِيتَةَ هَذِهِ الْحَبَشِيَّةِ أَوْ الزِّنْجِيَّةِ ، فَسَأَلْتَ رَبَّكَ أَنْ يُمِيتَكَ مِيتَتَهَا ! . قَالَ : فَقَالَ الصَّبِيُّ : إِنَّكِ دَعَوْتِ رَبَّكِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِثْلَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، وَإِنَّ الْحَبَشِيَّةَ أَوْ الزِّنْجِيَّةَ كَانَ أَهْلُهَا يَسُبُّونَهَا وَيَضْرِبُونَهَا وَيَظْلِمُونَهَا ، فَتَقُولُ : حَسْبِيَ اللَّهُ ، حَسْبِيَ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک عورت تھی جو اپنے لڑکے کو دودھ پلارہی تھی اتفاقا ادھر سے ایک سوار زردوزی کے کپڑے پہنے نکلا عورت نے کہا الٰہی میرے بچے کو اس کی طرح کردے بچہ نے ماں کی چھاتی چھوڑ کر سوار کی طرف رخ کرکے کہا الٰہی مجھے ایسا نہ کرنا یہ کہہ کر پھر دودھ پینے لگا کچھ دیر کے بعد ادھر سے لوگ ایک باندی کو لے گزرے (جس کو راستے میں مارتے جارہے تھے) عورت نے کہا میں اپنے بچے کو اللہ کی پناہ میں دیتی ہوں کہ وہ اس حبشی عورت کی طرح مرے بچہ نے فورا دودھ پیناچھوڑ کر کہا الٰہی مجھے ایسا ہی کرنا ماں نے بچہ سے کہا تو نے یہ کیوں خواہش کی ؟ بچہ نے جواب دیا وہ سوار ظالم تھا (اس لئے میں نے ویسا نہ ہونے کی دعا کی) اور اس باندی کو لوگ گالیاں دے رہے ہیں اس پر ظلم و ستم کررہے ہیں اور وہ یہی کہے جارہی ہے " مجھے اللہ کافی ہے۔
حدیث نمبر: 9136
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ ، وَمُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَعَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا صَامَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا ، فَنَسِيَ فَأَكَلَ وَشَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ، فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ رکھے اور بھولے سے کچھ کھا پی لے تو اسے اپنا روزہ پھر بھی پورا کرنا چاہئے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے۔
حدیث نمبر: 9137
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ خِلَاسٍ ، وَمُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمانے کو برا بھلا مت کہا کرو کیونکہ زمانے کا خالق بھی تو اللہ ہی ہے۔
حدیث نمبر: 9138
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " . قَالَ : قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ : " عَبْدِي تَرَكَ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ وَشَرَابَهُ ، ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي ، وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے ارشادباری تعالیٰ ہے روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا میرا بندہ میری رضاحاصل کرنے کے لئے اپنی خواہشات اور کھانا پینا ترک کردیتا ہے۔
حدیث نمبر: 9139
حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَأَرَادَ الطُّهُورَ ، فَلَا يَضَعَنَّ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔
حدیث نمبر: 9140
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ ، وَاللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ ، إِنَّ الْمِسْكِينَ الْمُتَعَفِّفُ " ، اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : لا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا سورة البقرة آية 273 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہوتا جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیں اصل مسکین سوال سے بچنے والا آدمی ہوتا ہے اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو کہ وہ لوگوں سے لگ لپٹ کر سوال نہیں کرتے۔
حدیث نمبر: 9141
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ ، وَأُوتِيتُ جَوَامِعَ الْكَلَامِ ، وَبَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ ، أُوتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ ، فَوُضِعَتْ فِي يَدِي "
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے مجھے جوامع الکلم کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے اور ایک مرتبہ سوتے ہوئے زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں میرے پاس لا کر میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔
حدیث نمبر: 9142
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الْبَرِيَّةِ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " رَجُلٌ آخِذٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، كُلَّمَا كَانَتْ هَيْعَةٌ اسْتَوَى عَلَيْهِ ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِي يَلِيهِ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . قَالَ : " الرَّجُلُ فِي ثُلَّةٍ مِنْ غَنَمِهِ ، يُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ . أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ الْبَرِيَّةِ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . قَالَ : " الَّذِي يُسْأَلُ بِاللَّهِ ، وَلَا يُعْطِي بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں مخلوق میں سب سے بہتر آدمی کے بارے نہ بتاؤں ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا وہ آدمی جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے اللہ کے راستہ میں نکل پڑا ہو اور جہاں ضرورت ہو وہ اس پر سوار ہوجائے کیا میں تمہیں اس کے بعد والے درجے پر فائز آدمی کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے کہا کیوں نہیں فرمایا وہ آدمی جو اپنی بکریوں کے ریوڑ میں ہو نماز قائم کرتا اور زکوٰۃ ادا کرتا ہو کیا میں تمہیں مخلوق میں سب سے بدتر آدمی کے بارے نہ بتاؤں ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے کہا کیوں نہیں فرمایا وہ آدمی جو اللہ کے نام پر کسی سے کچھ مانگے لیکن اسے کچھ نہ ملے۔
حدیث نمبر: 9143
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، قَالَ : قَالَ الزُّهْرِيُّ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ ، فَأُرِيدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، أَنْ أَخْتَبِئَ دَعْوَتِي لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ ، شَفَاعَةً لِأُمَّتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کی ایک دعاء ضرور قبول ہوتی ہے اور میں نے اپنی وہ دعاء قیامت کے دن اپنی امت کے شفاعت کے لئے رکھ چھوڑی ہے۔
حدیث نمبر: 9144
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی مار ہو یہودیوں پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
حدیث نمبر: 9145
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، قَالَ : قَالَ الزُّهْرِيُّ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ الْأَعْرَجَ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ سَأَلهَ جَارَهُ أَنْ يَضَعَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ ، فَلَا يَمْنَعْهُ " ، ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ ؟ ! ، وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی کسی کا پڑوسی اس کے دیوار میں اپنا شہتیر گاڑنے کی اجازت مانگے تو اسے منع نہ کرے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث لوگوں کے سامنے بیان کی تو لوگ سر اٹھا اٹھا کر انہیں دیکھنے لگے (جیسے انہیں اس پر تعجب ہوا ہو) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر فرمانے لگے کیا بات ہے کہ میں تمہیں اعراض کرتا ہوا دیکھ رہا ہوں واللہ میں اسے تمہارے کندھوں کے درمیان مار کر (نافذ کرکے) رہوں گا۔
حدیث نمبر: 9146
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، وَأَبُو الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 9147
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ ، فَقَدْ لَغَوْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام جس وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا۔
حدیث نمبر: 9148
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، قَالَ : قَالَ الزُّهْرِيُّ : إِنَّ أَبَا عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِنَّهُ ليُسْتَجَابُ لِأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ ، فَيَقُولُ : قَدْ دَعَوْتُ رَبِّي فَلَمْ يَسْتَجِبْ لِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری دعاء ضرور قبول ہوگی بشرطیکہ جلد بازی نہ کی جائے جلد بازی سے مراد یہ ہے کہ آدمی یوں کہنا شروع کردے کہ میں نے اپنے رب سے اتنی دعائیں کیں وہ قبول ہی نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 9149
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ بَعْدَ الرُّكُوعِ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَالْمُسْلِمِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ " . قَالَ : فَوَافَقَهُ الْقَاسِمُ ، عَلَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر کی دوسری رکعت کے رکوع سے اٹھتے تو یہ دعاء فرماتے کہ اے اللہ ! ولید بن ولید۔ سلمہ بن ہشام۔ عیاش بن ابی ربیعہ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزوروں کو قریش کے ظلم و ستم سے نجات عطاء فرما اس قاسم نے ان کی اس بات میں موافقت کی کہ نبی نے دعائے قنوت وتر کے بعد پڑھی ہے۔
حدیث نمبر: 9150
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فَضْلُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ ، عَلَى صَلَاةِ أَحَدِكُمْ ، وَحْدَهُ خَمْسَةٌ وَعِشْرُونَ جُزْءًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے۔
حدیث نمبر: 9151
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وملائكة َالنَّهَارِ ، فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ، قَالَ : فَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ، قَالَ : فَتَصْعَدُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ ، وَتَثْبُتُ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ ، قَالَ : وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ ، قَالَ : فَيَصْعَدُ مَلَائِكَةُ النَّهَار ، وَتَثْبُتُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ ، قَالَ : فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ : كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي ، قَالَ : فَيَقُولُونَ : أَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ ، وَتَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ " . قَالَ سُلَيْمَانُ : وَلَا أَعْلَمُهُ ، إِلَّا قَدْ قَالَ فِيهِ : " فَاغْفِرْ لَهُمْ يَوْمَ الدِّينِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات اور دن کے فرشتے نماز فجر اور نماز عصر کے وقت اکھٹے ہوتے ہیں پھر جو فرشتے تمہارے درمیان رات رہ چکے ہوتے ہیں وہ فجر کے وقت آسمانوں پر چڑھ جاتے ہیں اس طرح عصر کے وقت جمع ہوتے ہیں تو دن والے فرشتے آسمان پر چڑھ جاتے ہیں اور رات کے فرشتے رہ جاتے ہیں اللہ تعالیٰ باوجودیکہ ہر چیز جانتا ہے ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا ؟ وہ کہتے ہیں کہ جس وقت ہم ان سے رخصت ہوئے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے تھے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے۔
حدیث نمبر: 9152
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ ؟ " . قَالَ : قُلْنَا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَؤْهُنَّ فِي الصَّلَاةِ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْهُنَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کے پاس تین صحت مند حاملہ اونٹنیاں لے کر لوٹے ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں (ہر شخص چاہتا ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی قرآن کریم کی تیس آیتیں نماز میں پڑھتا ہے اس کے لئے وہ تین آیتیں تین حاملہ اونٹنیوں سے بھی بہتر ہیں۔
حدیث نمبر: 9153
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خُبَيْبٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ مِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي ، وَإِنَّ مَا بَيْنَ مِنْبَرِي وَبَيْنَ بَيْتِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ، وَصَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي كَأَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ ، إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ زمین کا جو حصہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کا ایک باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر نصب کیا جائے گا اور میری اس مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب مسجد حرام کے علاوہ دیگر تمام مساجد میں ایک ہزار نمازیں پڑھنے کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 9154
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قال : حدثني الْمِسْوَرِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَ حَدِيثِ خُبَيْبٍ ، عَنْ حَفْصٍ ، لَمْ يَزِدْ وَلَمْ يَنْقُصْ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
…