حدیث نمبر: 9075
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عن أَبِي يُونُسَ . ح وَحَسَنٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " الْمُكْثِرُونَ هُمْ الْأَقَلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا , وَهَكَذَا , وَهَكَذَا " . قَالَ يَحْيَى : " وَقَلِيلٌ مَا هُمْ " . قَالَ حَسَنٌ : وَأَشَارَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ , وَعَنْ يَمِينِهِ , وَعَنْ يَسَارِهِ , وَمِنْ خَلْفِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہی قیامت کے دن قلت کا شکار ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9075
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 9076
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي ، إِنْ ظَنَّ بِي خَيْرًا فَلَهُ ، وَإِنْ ظَنَّ شَرًّا فَلَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بندے کے ساتھ اس کے گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں اگر وہ خیر کا گمان کرتا ہے تو خیر کا معاملہ کرتا ہوں اور شر گمان کرتا ہے تو شر کا معاملہ کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9076
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 7405، م: 2675، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 9077
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْروٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ أَرَادَ أَنْ يَخْلُقَ مِثْلَ خَلْقِي ؟ ! فَلْيَخْلُقْ ذَرَّةً أَوْ حَبَّةً " . وَقَالَ يَحْيَى مَرَّةً : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " وَمَنْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو میری طرح تخلیق کرنے لگے ایسے لوگوں کو چاہئے کہ ایک ذرہ یا ایک دانہ پیدا کر کے دکھائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9077
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 7559، م: 2111، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 9078
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا ضَحَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ مِنْ أُضْحِيَّتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص قربانی کرے تو اسے چاہئے کہ اپنی قربانی کے جانور کا گوشت خود بھی کھائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9078
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ابن أبي ليلي
حدیث نمبر: 9079
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " النَّاسُ مَعَادِنُ ، خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا فِي الدِّينِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ چھپے ہوئے دفینوں (کان) کی طرح ہیں ان میں سے جو لوگ زمانہ جاہلیت میں بہترین تھے وہ زمانہ اسلام میں بھی بہترین ہیں بشرطیکہ وہ فقیہہ بن جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9079
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3496، م: 2526، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 9080
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ بَيَّاعِ الْمُلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ : ثُلَّةٌ مِنَ الأَوَّلِينَ وَقَلِيلٌ مِنَ الآخِرِينَ سورة الواقعة آية 13 - 14 ، شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، فَنَزَلَتْ : ثُلَّةٌ مِنَ الأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِنَ الآخِرِينَ سورة الواقعة آية 39 - 40 ، فَقَالَ : " أَنْتُمْ ثُلُثُ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، بَلْ أَنْتُمْ نِصْفُ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَتُقَاسِمُونَهُمْ النِّصْفَ الْبَاقِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ثلۃ من الاولین و قلیل من الآخرین " تو مسلمانوں پر یہ بات بڑی شاق گذری (کہ پچھلے لوگوں میں سے صرف تھوڑے سے لوگ جنت کے لئے ہوں گے) اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ایک گروہ پہلوں کا اور دوسرا گروہ پچھلوں کا ہوگا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ تمام اہل جنت کا ثلث بلکہ نصف ہوگے اور نصف باقی میں وہ تمہارے شریک ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9080
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 9081
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَبِّئْنِي بِأَحَقِّ النَّاسِ مِنِّي صُحْبَةً ، فَقَالَ : " نَعَمْ ، وَاللَّهِ لَتُنَبَّأَنَّ " ، قَالَ : مَنْ ؟ ، قَالَ : " أُمُّكَ " ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ ، قَالَ : " أُمُّكَ " ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ ، قَالَ : " أَبُوكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر یہ سوال پیش کیا کہ لوگوں میں عمدہ رفاقت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے ؟ فرمایا تمہیں اس کا جواب ضرور ملے گا اس نے کہا کون ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون ؟ فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون ؟ فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون ؟ فرمایا تمہارے والد۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9081
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5971، م: 2548
حدیث نمبر: 9082
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، رَفَعَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : " وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ خَلَقَ خَلْقًا كَخَلْقِي ، فَلْيَخْلُقُوا مِثْلَ خَلْقِي ، ذَرَّةً أَوْ ذُبَابَةً أَوْ حَبَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو میری طرح تخلیق کرنے لگے ایسے لوگوں کو چاہئے کہ ایک ذرہ یا ایک دانہ یا ایک مکھی پیدا کر کے دکھائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9082
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 7559، م: 2111، وهذا إسناد ضعيف من أجل شريك النخعي
حدیث نمبر: 9083
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَيْرٍ يَعْنِي عَبْدَ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَال عَلَى الْمِنْبَرِ : " أَشْعَرُ بَيْتٍ قَالَتْهُ الْعَرَبُ : أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ . وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برسر منبر فرمایا کسی شاعر نے جو سب سے زیادہ سچا شعر کہا ہے وہ یہ ہے کہ یاد رکھو اللہ کے علاوہ ہر چیزباطل (فانی) ہے اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی الصلت اسلام قبول کرلیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9083
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3841، م: 2256، وهذا إسناد ضعيف، شريك وإن كان سيئ الحفظ، قد توبع
حدیث نمبر: 9084
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، يَرْفَعُهُ ، قَالَ : " لَا تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا ، وَلَا تُؤْمِنُونَ حَتَّى تَحَابُّوا ، أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى رَأْسِ ذَلِكَ , أَوْ مِلَاكِ ذَلِكَ ؟ ، أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ " . وَرُبَّمَا قَالَ شَرِيكٌ : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ ؟ ، أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک کامل مومن نہ ہوجاؤ اور کامل نہیں ہوسکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرنے لگو کیا میں تمہیں ان چیزوں کی جڑ نہ بتادوں ؟ آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9084
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 54، وهذا إسناد فيه شريك، وقد توبع
حدیث نمبر: 9085
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9085
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 9086
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا يَرِيهِ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے اتنا بھر جائے کہ وہ سیراب ہوجائے اس سے بہت بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرپور ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9086
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6155، م: 2257، وهذا إسناد ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وقد توبع
حدیث نمبر: 9087
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ ، يَأْتِي الْجُرْحُ لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ ، وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے اور اللہ جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کسے زخم لگا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تروتازہ ہوگا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9087
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2803، م: 1876، شريك وإن كان سيئ الحفظ، قد توبع
حدیث نمبر: 9088
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، رَفَعَهُ , قَالَ : " نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ : وَهُوَ اشْتِرَاءُ الزَّرْعِ وَهُوَ فِي سُنْبُلِهِ بِالْحِنْطَةِ ، وَنَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ : وَهُوَ شِرَاءُ الثِّمَارِ بِالتَّمْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع محاقلہ یعنی پھل کی بیع جبکہ وہ خوشوں میں ہی ہو گندم کے بدلے کرنے سے منع فرمایا ہے اور بیع مزابنہ سے بھی منع فرمایا ہے جس کا معنی ہے پھل کی بیع کھجور کے بدلے کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9088
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1545، 1511
حدیث نمبر: 9089
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، رَفَعَهُ , قَالَ : " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ ، رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9089
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2113، شريك بن عبدالله وإن كان سيئ الحفظ، قد توبع
حدیث نمبر: 9090
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُبْعَثُ النَّاسُ وَرُبَّمَا قَالَ شَرِيكٌ : يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى نِيَّاتِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں کو ان کی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9090
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك وليث
حدیث نمبر: 9091
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَ الْحَسَنُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً ، وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام مِنْهُ الْحَيَاءُ وَالسِّتْرُ ، وَكَانَ يَسْتَتِرُ إِذَا اغْتَسَلَ ، فَطَعَنُوا فِيهِ بِعَوْرَةٍ ، قَالَ : فَبَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام يَغْتَسِلُ يَوْمًا ، وَضَعَ ثِيَابَهُ عَلَى صَخْرَةٍ ، فَانْطَلَقَتْ الصَّخْرَةُ بِثِيَابِهِ ، فَاتَّبَعَهَا نَبِيُّ اللَّهِ ضَرْبًا بِعَصَاهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : ثَوْبِي يَا حَجَرُ ، ثَوْبِي يَا حَجَرُ ، حَتَّى انْتَهَى بِهِ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، وَتَوَسَّطَهُمْ ، فَقَامَتْ ، وَأَخَذَ نَبِيُّ اللَّهِ ثِيَابَهُ , فَنَظَرُوا ، فَإِذَا أَحْسَنُ النَّاسِ خَلْقًا وَأَعْدَلُهُمْ صُورَةً ، فَقَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ : قَاتَلَ اللَّهُ أَفَّاكِي بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَكَانَتْ بَرَاءَتُهُ الَّتِي بَرَّأَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کے لوگ برہنہ ہو کر غسل کیا کرتے تھے جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام شرم حیاء کی وجہ سے تنہا غسل فرمایا کرتے تھے بنی اسرائیل کے لوگ ان کی شرم گاہ میں عیب لگانے لگے ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام غسل کرنے کے لئے گئے تو اپنے کپڑے حسب معمول اتار کر پتھر پر رکھ دئیے وہ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ گیا حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے پیچھے اے پتھر میرے کپڑے اے پتھر میرے کپڑے کہتے ہوئے دوڑے یہاں تک کہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت کے قریب پہنچ کر وہ پتھر رک گیا ان کی نظر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شرمگاہ پر پڑگئی تو انہوں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جسمانی اعتبار سے اور صورت کے اعتبار سے انتہائی حسین اور معتدل ہیں اور وہ کہنے لگے کہ بنی اسرائیل کے تہمت لگانے والے افراد پر اللہ کی مار ہو اس طرح اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بری کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9091
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 278، م: 339، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة، لكنه توبع
حدیث نمبر: 9092
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : وَأَحْسِبُهُ ذَكَرَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا هِجْرَةَ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، فَمَنْ هَجَرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَمَاتَ ، دَخَلَ النَّارَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین دن سے زیادہ قطع تعلقی جائز نہیں جو شخص تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے بول چال بند رکھے اور مرجائے تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9092
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات لكن منصورا شك في رفعه هنا، فالصحيح من الحديث مرفوعا: « لا هجرة فوق ثلاث » فقط، م: 2562
حدیث نمبر: 9093
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَمَّنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَرْقُدَنَّ جُنُبًا حَتَّى تَتَوَضَّأَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حالت جنابت میں مت سویا کرو بلکہ وضو کرلیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9093
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 9094
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " تَسَمَّوْا بِاسْمِي ، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر اپنا نام رکھ لیا کرو لیکن میری کنیت پر اپنی کنیت نہ رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9094
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3539، م: 2134
حدیث نمبر: 9095
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَقِيَ آدَمَ مُوسَى ، فَقَالَ : أَنْتَ آدَمُ الَّذِي خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ ، وَأَسْكَنَكَ جَنَّتَهُ ، وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ ، ثُمَّ صَنَعْتَ مَا صَنَعْتَ ؟ ! ، فَقَالَ آدَمُ لِمُوسَى : أَنْتَ الَّذِي كَلَّمَكَ اللَّهُ ، وَأَنْزَلَ عَلَيْكَ التَّوْرَاةَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَهَلْ تَجِدُهُ مَكْتُوبًا عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُخْلَقَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَحَجَّ آدَمُ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَام " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ عالم ارواح میں حضرت آدم و موسیٰ (علیہم السلام) کی باہم ملاقات ہوگئی حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ وہی آدم ہیں کہ اللہ نے آپ کو اپنے دست قدرت سے پیدا کیا اپنی جنت میں آپ کو ٹھہرایا اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا پھر آپ نے یہ کام کردیا ؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کیا تم وہی ہو جس سے اللہ نے کلام کیا اور اس پر تورات نازل فرمائی ؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا جی ہاں حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا کیا میری پیدائش سے قبل یہ حکم لکھا ہوا تم نے تورات میں پایا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! اس طرح حضرت آدم (علیہ الصلوۃ والسلام) حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آگئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9095
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4736، م: 2652
حدیث نمبر: 9096
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ دَاوُدَ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَكْثَرُ مَا يَلِجُ بِهِ الْإِنْسَانُ النَّارَ الْأَجْوَفَانِ الْفَمُ ، وَالْفَرْجُ ، وَأَكْثَرُ مَا يَلِجُ بِهِ الْإِنْسَانُ الْجَنَّةَ تَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو جوف دار چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ انسان کو سب سے زیادہ جہنم میں لے کر جائیں گی اور لوگوں کو سب سے زیادہ کثرت کے ساتھ جنت میں تقویٰ اور حسن اخلاق لے کر جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9096
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن بالمتابعات
حدیث نمبر: 9097
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمَسْتُورُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيُّ ، قَالَ : لَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَجُلٌ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ ، فَقَالَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْتَ نَهَيْتَ النَّاسَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ؟ ، قَالَ : " لَا , وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
محمد بن جعفر کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملا اس وقت وہ خانہ کعبہ کا طواف کررہے تھے اس نے کہا کہ اے ابوہریرہ ! کیا آپ نے لوگوں کو جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا بیت اللہ کے رب کی قسم ! نہیں بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9097
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9098
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ الْأَنْصَارِيَّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ فَيْرُوزَ الدَّانَاج ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ الصَّائِغُ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : ثَلَاثَةٌ حَفِظْتُهُنَّ عَنْ خَلِيلِي أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَتْرُ قَبْلَ النَّوْمِ ، وَصَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے تین چیزیں محفوظ کی ہیں۔ (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٣) چاشت کے وقت دو رکعتیں پڑھنے کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9098
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1178، م: 721
حدیث نمبر: 9099
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ مَوْلَى حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَزْرَقِ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَحَدِ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ بْنِ قُصَيٍّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ جَاءَهُ نَاسٌ صَيَّادُونَ فِي الْبَحْرِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا أَهْلُ أَرْمَاثٍ ، وَإِنَّا نَتَزَوَّدُ مَاءً يَسِيرًا إِنْ شَرِبْنَا مِنْهُ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا نَتَوَضَّأُ بِهِ ، وَإِنْ تَوَضَّأْنَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا نَشْرَبُ ، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ ؟ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ ، فَهُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سمندر میں شکار کرنے والے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگ سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ پینے کے لئے تھوڑا سا پانی رکھتے ہیں اگر اس سے وضو کرنے لگیں تو ہم پیاسے رہ جائیں اور اگر پی لیں تو وضو کے لئے پانی نہیں ملتا کیا سمندر کے پانی سے ہم وضو کرسکتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سمندر کا پانی پاکیزگی بخش ہے اور اس کا مردار (مچھلی) حلال ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9099
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، ووقع فى إسناد المصنف هنا خطأ، والصواب أنه من رواية سعيد بن سلمة عن المغيرة ابن أبي بردة عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 9100
حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9100
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف فى إسناد هذا الحديث کما في « العلل » للدارقطني 49/3، 50
حدیث نمبر: 9101
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ : أَنْصِتْ ، فَقَدْ لَغَوْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام جس وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا اور تم اپنے ساتھی کو صرف یہ کہو کہ خاموش رہو تو تم نے لغو کام کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9101
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 934، م: 851
حدیث نمبر: 9102
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ ، وَيُنَصِّرَانِهِ ، وَيُمَجِّسَانِهِ ، كَمَثَلِ الْبَهِيمَةِ تُنْتِجُ الْبَهِيمَةَ ، هَلْ تَكُونُ فِيهَا جَدْعَاءُ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے یہودی عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ایک جانور کے یہاں جانور پیدا ہوتا ہے کیا تم اس میں کوئی نکٹا محسوس کرتے ہو ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9102
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 934، م: 851
حدیث نمبر: 9103
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے نابالغ فوت ہوجانے والے بچوں کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس بات کو زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا اعمال سر انجام دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9103
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1384، م: 2659
حدیث نمبر: 9104
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَمَمْتُمْ النَّاسَ فَخَفِّفُوا ، فَإِنَّ فِيهِمْ الْكَبِيرَ ، وَالضَّعِيفَ وَالصَّغِيرَ " . وَقَالَ فِي حَدِيثٍ آخَرَ : عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ مولى عَمْرِو بْنِ خِدَاشٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم امام بن کر نماز پڑھایا کرو تو ہلکی نماز پڑھایا کرو کیونکہ نمازیوں میں عمر رسیدہ کمزور اور بچے سب ہی ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9104
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ 703، م: 467، وهذا إسناد ضعيف، أبو الوليد لم يعرف
حدیث نمبر: 9105
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے لہذا نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9105
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 533 ، م: 615
حدیث نمبر: 9106
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِنٌّ مِنَ الْإِبِلِ ، فَجَاءَهُ يَتَقَاضَاهُ ، فَطَلَبُوا لَهُ فَلَمْ يَجِدُوا إِلَّا سِنًّا فَوْقَ سِنِّهِ ، فَقَالَ : " أَعْطُوهُ " . فَقَالَ : أَوْفَيْتَنِي أَوْفَى اللَّهُ لَكَ . قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے کے لئے آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اس کے اونٹ جتنی عمر کا ایک اونٹ تلاش کرکے لے آؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے تلاش کیا لیکن مطلوبہ عمر کا اونٹ نہ مل سکا ہر اونٹ اس سے بڑی عمر کا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے بڑی عمر کا ہی اونٹ دے دو وہ دیہاتی کہنے لگا کہ آپ نے مجھے پورا پورا ادا کیا اللہ آپ کو پورا پورا عطاء فرمائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے سب سے بہترین وہ ہے جو اداء قرض میں سب سے بہترین ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9106
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2305، م: 1601
حدیث نمبر: 9107
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ، ثُمَّ جَهَدَها ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مرد اپنی بیوی کے چاروں کونوں کے درمیان بیٹھ جائے اور کوشش کرلے تو اس پر غسل واجب ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9107
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 291، م: 348
حدیث نمبر: 9108
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا ، مَا لَمْ تُكَلِّمْ بِهِ أَوْ تَعْمَلْ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کو یہ چھوٹ دی گئی ہے کہ اس کے ذہن میں جو وسوسے پیدا ہوتے ہیں ان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا بشرطیکہ وہ اس وسوسے پر عمل نہ کرے یا اپنی زبان سے اس کا اظہار نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9108
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ، 5269، م: 127
حدیث نمبر: 9109
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ نَبْهَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَلَا تَنَافَسُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے بغض نہ کیا کرو دھوکہ اور حسد نہ کیا کرو اور بندگان خدا ! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9109
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6724، م: 2563
حدیث نمبر: 9110
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا الشَّاعِرُ : أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ ، وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی شاعرنے جو سب سے سچا شعر کہا ہے وہ یہ ہے کہ یاد رکھو اللہ کے علاوہ ہر چیز باطل (فانی) ہے اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی الصلت اسلام قبول کرلیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9110
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3841، م: 2256
حدیث نمبر: 9111
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ الْأُكْلَةُ وَالْأُكْلَتَانِ ، أَوْ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ ، وَلَكِنْ الْمِسْكِينُ الَّذِي لَا يَسْأَلُ شَيْئًا ، وَلَا يُفْطَنُ بِمَكَانِهِ فَيُعْطَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسکین وہ نہیں ہوتا جسے دو کھجوریں یا ایک دو لقمے لوٹا دیں اصل مسکین وہ ہوتا ہے جو لوگوں سے بھی کچھ نہ مانگے اور دوسروں کو بھی اس کی ضروریات کا علم نہ ہو کہ لوگ اس پر خرچ ہی کردیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9111
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1479، م: 1039
حدیث نمبر: 9112
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، يَدَعُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَشَهْوَتَهُ مِنْ أَجْلِي ، الصَّوْمُ جُنَّةٌ ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ : فَرْحَةٌ حِينَ يُفْطِرُ ، وَفَرْحَةٌ حِينَ يَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا روزہ دار کو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب اللہ سے ملاقات کرے گا اور اللہ اسے بدلہ عطاء فرمائے گا تب بھی وہ خوش ہوگا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9112
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7492، م: 1151
حدیث نمبر: 9113
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو بچپن میں اپنی اولاد پر شفیق اور اپنے شوہر کی ذات میں سب سے بڑی محافظ ہوتی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9113
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5082، م: 2527
حدیث نمبر: 9114
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ ذَكْوَانَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " يَشْتُمُنِي ابْنُ آدَمَ وَمَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتُمَنِي , وَيُكَذِّبُنِي ، وَمَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُكَذِّبَنِي ، أَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ : قَوْلُهُ : إِنَّ لِي وَلَدًا ، وَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ : قَوْلُهُ : لَنْ يُعِيدَنِي كَمَا بَدَأَنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرا بندہ میری ہی تکذیب کرتا ہے حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے اور مجھے ہی برا بھلا کہتا ہے حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تکذیب تو اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے ہمیں جسطرح پیدا کیا ہے دوبارہ اس طرح پیدا نہیں کرے گا اور برا بھلا کہنا اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9114
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3193