حدیث نمبر: 7279
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُفْيَانُ : سَأَلْتُهُ أنا عَنْهُ : كَيْفَ الطَّعَامُ ، أَيْ طَعَامُ الْأَغْنِيَاءِ ؟ قَالَ : أَخْبَرَنِي الْأَعْرَجُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " شَرُّ الطَّعَامِ ، طعامُ الْوَلِيمَةُ ، يُدْعَى إِلَيْهَا الْأَغْنِيَاءُ ، وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ ، فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہوتا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے اور جو شخص دعوت ملنے کے باوجود نہ آئے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7279
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5177، م: 1432، قال الحافظ في الفتح: أول هذا الحديث موقوف ولكن آخره يقتضي رفعه.
حدیث نمبر: 7280
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " ، قال عبد الله بن أحمد : قَالَ أَبِي : سَمِعْتُهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ مِنْ سُفْيَانَ ، وَقَالَ مَرَّةً : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ " ، وَقَالَ مَرَّةً : " مَنْ قَامَ " ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے۔ اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہو جائیں گے میرے والد فرماتے ہیں کہ میں نے سفیان سے یہ حدیث چار مرتبہ سنی ہے اور اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کرلے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7280
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2014، م: 760.
حدیث نمبر: 7281
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ يَعْنِي رَمَضَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام رمضان کی ترغیب دیتے ہوئے سنا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7281
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 37، م: 759.
حدیث نمبر: 7282
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رِوَايَةً : " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ ، فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ ، حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایتہ مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھونہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7282
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 162، م: 278.
حدیث نمبر: 7283
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ أَخْبَرَهُمْ ، أَنَّهُ قَدْ مَاتَ ، فَاسْتَغْفَرُوا لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب شاہ حبشہ نجاشی کا انتقال ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ کو ان کے انتقال کی اطلاع دی چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ عنم نے ان کے لئے استغفار کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7283
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1245، م: 951.
حدیث نمبر: 7284
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَنْ أَدْرَكَ مِنْ صَلَاةٍ رَكْعَةً ، فَقَدْ أَدْرَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص کسی بھی نماز کی ایک رکعت پالے گویا اس نے پوری نماز پالی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7284
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 580، م: 607.
حدیث نمبر: 7285
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ امام کے بھول جانے پر سبحان اللہ کہنے کا حکم مرد مقتدیوں کے لئے ہے اور تالی بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7285
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1203، م: 422.
حدیث نمبر: 7286
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْتِي أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ ، فَيَلْبِسُ عَلَيْهِ ، حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى ، فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ، وَهُوَ جَالِسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آ کر اسے اشتباہ میں ڈال دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ؟ جس شخص کے ساتھ ایسا معاملہ ہو تو اسے چاہیے کہ جب وہ قعدہ اخیرہ میں بیٹھے تو سہو کے دو سجدے کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7286
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1232، م: 389.
حدیث نمبر: 7287
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ ، فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ ، إِلَّا السَّامَ " . قَالَ سُفْيَانُ السَّامُ : الْمَوْتُ ، وَهِيَ الشُّونِيزُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کلونجی کا استعمال اپنے اوپر لازم کر لو کیونکہ اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7287
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5688، م: 2215.
حدیث نمبر: 7288
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَوْ سَعِيدٍ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ ، وَالْمُزَفَّتِ أَنْ يُنْتَبَذَ فِيهِ " . وَيَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ : " وَاجْتَنِبُوا الْحَنَاتِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت نامی برتنوں میں نبیذ بنانے اور پینے سے منع فرمایا ہے اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ حنتم نامی برتن استعمال کرنے سے بھی اجتناب کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7288
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1993.
حدیث نمبر: 7289
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَبْصَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَقْرَعُ يُقَبِّلُ حَسَنًا ، فَقَالَ : لِي عَشَرَةٌ مِنَ الْوَلَدِ ، مَا قَبَّلْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ قَطُّ ! قَالَ : " إِنَّهُ مَنْ لَا يَرْحَمُ ، لَا يُرْحَمُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک مرتبہ اقرع بن حابس نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرات حسن رضی اللہ عنہ کو چوم رہے ہیں وہ کہنے لگے کہ میرے تو دس بیٹے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی کو کبھی نہیں چوما ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو کسی پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7289
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5995، م: 2318.
حدیث نمبر: 7290
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : رَجُلٌ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَلَكْتُ ، قَالَ : " وَمَا أَهْلَكَكَ " ، قَالَ : وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ ، فَقَالَ : " أَتَجِدُ رَقَبَةً ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " تَسْتَطِيعُ تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ " قَالَ : لَا ، قَالَ : " اجْلِسْ " ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرْقٍ فِيهِ تَمْرٌ ، وَالْعَرْقُ الْمِكْتَلُ الضَّخْم ، قَالَ : " تَصَدَّقْ بِهَذَا " ، قَالَ : عَلَى أَفْقَرَ مِنَّا ؟ ! مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَفْقَرُ مِنَّا ، قَال : فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : " أَطْعِمْهُ أَهْلَكَ " . وَقَالَ مَرَّةً : فَتَبَسَّمَ حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ ، وَقَالَ : " أَطْعِمْهُ عِيَالَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہلاک ہو گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تجھے کس چیز نے ہلاک کر دیا ؟ اس نے کہا کہ میں نے رمضان کے مہینے میں دن کے وقت اپنی بیوی سے جماع کر لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک غلام آزاد کردو اس نے کہا کہ میرے پاس غلام نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دو مہینوں کے مسلسل روزے رکھ لو اس نے کہا مجھ میں اتنی طاقت نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو اس نے کہا کہ میرے پاس اتنا کہاں ؟ نبی کریم نے فرمایا : بیٹھ جاؤ اتنی دیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے ایک بڑا ٹوکرا آیا جس میں کھجوریں تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ لے جاؤ اور اپنی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مدینہ منورہ کے اس کونے سے لے کر اس کونے تک ہم سے زیادہ ضرورت مند گھرانہ کوئی نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا : جاؤ تم اور تمہارے اہل خانہ ہی اسے کھا لیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7290
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6709، م: 1111.
حدیث نمبر: 7291
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحُرَقِيِّ ، فِي بَيْتِهِ عَلَى فِرَاشِهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَيُّمَا صَلَاةٍ لَا يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، فهي خداج ، ثم هي خداج ، ثم هي خداج " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَقَالَ قَبْلَ ذَلِكَ حَبِيبِي عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ ، قَالَ : فَقَالَ يَا فَارِسِيُّ ، اقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي ، وَقَالَ مَرَّةً : لِعَبْدِي مَا سَأَلَ ، فَإِذَا قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 ، قَال : حَمِدَنِي عَبْدِي ، فَإِذَا قَالَ : الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 3 ، قَالَ : مَجَّدَنِي عَبْدِي ، أَوْ أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي ، فَإِذَا قَالَ : مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 ، قَالَ : فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِي ، فَإِذَا قَالَ : إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ سورة الفاتحة آية 5 ، قَالَ : فَهَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي ، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ، وَقَالَ مَرَّةً : مَا سَأَلَنِي ، فَيَسْأَلُهُ عَبْدُهُ : اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 6 - 7 ، قَالَ : هَذَا لِعَبْدِي ، ولَكَ مَا سَأَلْتَ ، وَقَالَ مَرَّةً : وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نماز میں سورت فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ نامکمل ہے نامکمل ہے نامکمل ہے اور یہ بات مجھ سے پہلے میرے حبیب علیہ السلام نے بھی فرمائی ہے پھر فرمایا : کہ اے فارسی ! سورت فاتحہ پڑھا کرو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ارشادباری تعالیٰ ہے میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دیا ہے ( اور میرا بندہ جو مانگے گا اسے وہ ملے گا) چنانچہ جب بندہ الحمد للہ رب العلمین کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری تعریف بیان کی جب بندہ کہتا ہے الرحمن الرحیم۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے میری بزرگی یا ثناء بیان کی جب بندہ کہتا ہے مالک یوم الدین تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرے بندے نے اپنے آپ کو میرے سپرد کر دیاجب بندہ ایاک نعبد وایاک نستعین کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرا بندہ مجھ سے جو مانگے گا اسے وہ ملے گا پھر جب بندہ اھدناالصراط المستقیم سے آخر تک پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ میرے بندے کے لئے ہے اور جو تو نے مجھ سے مانگاوہ تجھے مل کر رہے گا ایک دوسری روایت میں ہے کہ میرے بندے نے مجھ سے جو مانگا وہ اسے ملے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7291
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 395.
حدیث نمبر: 7292
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا ، فَسَأَلَهُ : " كَيْفَ تَبِيعُ ؟ " فَأَخْبَرَهُ ، فَأُوحِيَ إِلَيْهِ : أَدْخِلْ يَدَكَ فِيهِ ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ ، فَإِذَا هُوَ مَبْلُولٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے آدمی پر ہوا جو گندم بیچ رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کس حساب بیچ رہے ہو ؟ اس نے قیمت بتائی اسی اثناء میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی ہوئی کہ اس گندم کے ڈھیر میں اپنا ہاتھ ڈال کر دیکھئے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں ہاتھ ڈالا تو وہ اندر سے گیلا نکلا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دھوکہ دینے والا ہم میں سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7292
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 102.
حدیث نمبر: 7293
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْيَمِينُ الْكَاذِبَةُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ ، مَمْحَقَةٌ لِلْكَسْبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جھوٹی قسم کھانے سے سامان تو بک جاتا ہے لیکن برکت مٹ جاتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7293
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2087، م: 1606.
حدیث نمبر: 7294
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَرْفَعُهُ : " إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ ، يَضَعُ يَدَهُ عَلَى فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو اپنے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7294
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2994.
حدیث نمبر: 7295
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عِرَاكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ ، وَلَا عَبْدِهِ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ مسلمان پر اس کے گھوڑے اور غلام کی زکوٰۃ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7295
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1464، م: 982.
حدیث نمبر: 7296
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " إِنْ هَمَّ عَبْدِي بِحَسَنَةٍ ، فاكْتُبُوها ، فَإِنْ عَمِلَهَا ، فَاكْتُبُوهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ ، فَلَا تَكْتُبُوهَا ، فَإِنْ عَمِلَهَا ، فَاكْتُبُوهَا بِمِثْلِهَا ، فَإِنْ تَرَكَهَا ، فَاكْتُبُوهَا حَسَنَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ (اپنے فرشتوں سے) فرماتے ہیں اگر میرا کوئی بندہ نیکی کا ارادہ کرے تو اسے لکھ لیا کرو پھر اگر وہ اس پر عمل کرلے تو اسے دس گنا بڑھا کر لکھ لیا کرو اور اگر وہ کسی گناہ کا ارادہ کرے تو اسے مت لکھا کرو اگر وہ گناہ کر گزرے تو صرف ایک ہی گناہ لکھا کرو اور اگر اسے چھوڑ دے تو ایک نیکی لکھ لیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7296
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7501، م: 130.
حدیث نمبر: 7297
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " لَا يَأْتِي النَّذْرُ عَلَى ابْنِ آدَمَ بِشَيْءٍ لَمْ أُقَدِّرْهُ عَلَيْهِ ، وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ أَسْتَخْرِجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ ، يُؤْتِينِي عَلَيْهِ مَا يُؤْتِينِي عَلَى الْبُخْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ارشاد باری تعالیٰ ہے میں نے جس چیز کا فیصلہ نہیں کیا ابن آدم کی منت اسے وہ چیز نہیں دلا سکتی البتہ اس منت کے ذریعے میں کنجوس آدمی سے پیسہ نکلوا لیتاہوں وہ مجھے منت مان کر وہ کچھ دے دیتا ہے جو اپنے بخل کی حالت میں کبھی نہیں دیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7297
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6694، م: 1640.
حدیث نمبر: 7298
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " يَا ابْنَ آدَمَ ، أَنْفِقْ ، أُنْفِقْ عَلَيْكَ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ : " يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى سَحَّاءُ ، لَا يَغِيضُهَا شَيْءٌ ، اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے ابن آدم ! خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا اور فرمایا : اللہ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوا اور خوب سخاوت کرنے والا ہے اسے کسی چیز سے کمی نہیں آتی اور وہ رات دن خرچ کرتا رہتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7298
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7419، م: 993.
حدیث نمبر: 7299
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، رِوَايَةً ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7299
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3194، م: 2751.
حدیث نمبر: 7300
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَجْعَلْ فِي أَنْفِهِ ، ثُمَّ لِيَسْتَنْثِرْ " ، وَقَالَ مَرَّةً : " لِيَنْثُرْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے اسے ناک بھی صاف کرنی چاہیے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7300
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 162، م: 237.
حدیث نمبر: 7301
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا رَجُلٌ يَمْنَحُ أَهْلَ بَيْتٍ نَاقَةً ، تَغْدُو بِعُسٍّ ، وَتَرُوحُ بِعُسٍّ ، إِنَّ أَجْرَهَا لَعَظِيمٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ یاد رکھو جو آدمی کسی گھروالوں کو ایسی اونٹنی بطور ہدیہ کے دیتا ہے جو صبح بھی برتن بھر کر دودھ دے اور شام کو بھی برتن بھر دے اس کا ثواب بہت عظیم ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7301
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2629، م: 1019.
حدیث نمبر: 7302
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، وَابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ ، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَالْجُرْحُ يَثْعَبُ دَمًا ، اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ ، وَالرِّيحُ رِيحُ مِسْكٍ " . وَأَفْرَدَهُ سُفْيَانُ مَرَّةً : عَنْ أَبِي الزِّنَادِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کے راستے میں جس کسی شخص کو کوئی زخم لگتا ہے اور اللہ جانتا ہے کہ اس کے راستے میں کسے زخم لگا ہے وہ قیامت کے دن اسی طرح تر و تازہ ہو گا جیسے زخم لگنے کے دن تھا اس کا رنگ تو خون کی طرح ہو گا لیکن اس کی بو مشک کی طرح عمدہ ہو گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7302
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2803، م: 1876.
حدیث نمبر: 7303
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ ، وَقَالَ مَرَّةً : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا ، وَلَا دِرْهَمًا ، مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي ، وَمَئُونَةِ عَامِلِي ، فَهُوَ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے ورثاء دینار و درہم کی تقسیم نہیں کریں گے میں نے اپنی بیویوں کے نفقہ اور اپنے عامل کی تنخواہوں کے علاوہ جو کچھ چھوڑا ہے وہ سب صدقہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7303
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ:2776، م: 1760.
حدیث نمبر: 7304
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ ، فَلْيَقُلْ : إِنِّي صَائِمٌ " . قال عبد الله بن أحمد : قَالَ أَبِي : لَمْ نَكُنْ نُكَنِّيهِ بِأَبِي الزِّنَادِ ، كُنَّا نُكَنِّيهِ بِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اگر تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے اور وہ روزے سے ہو تو اسے یہ کہہ دینا چاہئے کہ میں روزے سے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7304
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1150.
حدیث نمبر: 7305
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَلَقَّوْا الْبَيْعَ ، وَلَا تُصَرُّوا الْغَنَمَ ، وَالْإِبِلَ لِلْبَيْعِ ، فَمَنْ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ ، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ : إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا ، وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا بِصَاعِ تَمْرٍ ، لَا سَمْرَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تاجروں سے باہر باہر ہی مل کر سودا مت کیا کرو اور اچھے داموں فروخت کرنے کے لئے بکری یا اونٹنی کا تھن مت باندھا کرو جو شخص (اس دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی اونٹنی یا بکری خرید لے تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہے جو اس کے حق میں بہتر ہو یا تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے (اور معاملہ رفع دفع کر دے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کر دے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7305
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524
حدیث نمبر: 7306
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ ، مُسْلِمُهُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِهِمْ ، وَكَافِرُهُمْ تَبَعٌ لِكَافِرِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ اس دین کے معاملے میں تمام لوگ قریش کے تابع ہیں عام مسلمان قریشی مسلمانوں اور عام کافر قریشی کافروں کے تابع ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7306
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3495، م: 1818.
حدیث نمبر: 7307
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُصَلِّي الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى مَنْكِبَيْه شَيْءٌ " . وَقَالَ مَرَّةً " عَاتِقِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کوئی شخص اس طرح ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھوں پر کپڑے کا کوئی حصہ بھی نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7307
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 359، م: 516.
حدیث نمبر: 7308
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ ثَلَاثَ عُقَدٍ ، بِكُلِّ عُقْدَةٍ يَضْرِبُ عَلَيْكَ لَيْلًا طَوِيلًا فَارْقُدْ ، وَقَالَ مَرَّةً : يَضْرِبُ عَلَيْهِ بِكُلِّ عُقْدَةٍ لَيْلًا طَوِيلًا ، قَالَ : وَإِذَا اسْتَيْقَظَ ، فَذَكَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ ، فَإِذَا تَوَضَّأَ ، انْحَلَّتْ عُقْدَتَانِ ، فَإِذَا صَلَّى ، انْحَلَّتْ الْعُقَدُ ، وَأَصْبَحَ طَيِّبَ النَّفْسِ نَشِيطًا ، وَإِلَّا أَصْبَحَ خَبِيثَ النَّفْسِ كَسْلَانً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : شیطان تم میں سے کسی ایک کے سر کے جوڑ کے پاس تین گرہیں لگاتا ہے ہر گرہ پر وہ یہ کہتا ہے کہ رات بڑی لمبی ہے آرام سے سوجا اگر بندہ بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرلے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے وضو کرلے تو دو گرہیں کھل جاتی ہیں اور نماز پڑھ لے تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں اور اس کی صبح اس حال میں ہوتی ہے کہ اس کا دل مطمئن اور وہ چست ہوتا ہے ورنہ وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ اس کا دل گندہ اور وہ خود سست ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7308
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1142، م: 776.
حدیث نمبر: 7309
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " أُرْسِلَ عَلَى أَيُّوبَ رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَجَعَلَ يَقْبِضُهَا فِي ثَوْبِهِ ، فَقِيلَ : يَا أَيُّوبُ ، أَلَمْ يَكْفِكَ مَا أَعْطَيْنَاكَ ؟ ! قَالَ : أَيْ رَبِّ ، وَمَنْ يَسْتَغْنِي عَنْ فَضْلِكَ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً مروی ہے کہ ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوب علیہ السلام پر سونے کی ٹڈیاں برسائیں حضرت ایوب علیہ السلام انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے اتنی دیر میں آواز آئی کہ اے ایوب ! کیا ہم نے تمہیں جتنا دے رکھا ہے وہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار ! آپ کے فضل سے کون مستغنی رہ سکتا ہے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7309
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 279، لكن هو هنا موقوف على أبي هريرة.
حدیث نمبر: 7310
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَحْنُ الْآخِرُونَ ، وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، بَيْدَ كُلِّ أُمَّةٍ ، وَقَالَ مَرَّةً : " بَيْدَ أَنَّ " وَجَمَعَهُ ابْنُ طَاوُسٍ ، فَقَالَ : قَالَ أَحَدُهُمَا : " بَيْدَ أَنَّ " ، وَقَالَ الْآخَرُ : : بَايْدَ كُلِّ أُمَّةٍ أُوتِيَتْ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا ، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) ثُمَّ هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ، فَاخْتَلَفُوا فِيهِ ، فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ ، فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ ، فَلِلْيَهُودِ غَدٌ ، وَلِلنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم یوں تو سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب پر سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا : تھا لیکن وہ اس میں اختلافات کا شکار ہوگئے چنانچہ اللہ نے ہماری اس کی طرف رہنمائی فرما دی اب اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پرسوں کا دن (ا تو ار) ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7310
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 876، م: 855.
حدیث نمبر: 7311
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ ، فَأَيُّمَا رَجُلٍ آذَيْتُهُ ، أَوْ جَلَدْتُهُ ، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَصَلَاةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی ایک انسان ہوں جیسے دوسرے لوگوں کو غصہ آتا ہے مجھے بھی آتا ہے (اے اللہ) میں نے جس شخص کو بھی (نادانستگی میں) کوئی ایذا پہنچائی ہو یا کوڑا مارا ہو اسے اس شخص کے لئے باعث تزکیہ و رحمت بنا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7311
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6361، م: 2601.
حدیث نمبر: 7312
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان تجارت فروخت نہ کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7312
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 7313
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ " ، وَقَالَ مَرَّةً : " لَوْ أَنَّ امْرَأً اطَّلَعَ بِغَيْرِ إِذْنِكَ ، فَحَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ ، فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ جُنَاحٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر کوئی آدمی تمہاری اجازت کے بغیر تمہارے گھر میں جھانک کر دیکھے اور تم اسے کنکری دے مارو جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7313
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6902، م: 2158.
حدیث نمبر: 7314
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُلْ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ ، وَلَكِنْ لِيَعْزِمْ بِالْمَسْأَلَةِ ، فَإِنَّهُ لَا مُكْرِهَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ تم میں سے کوئی شخص جب دعا کرے تو یوں نہ کہا کرے کہ اے اللہ ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف فرما دے بلکہ پختگی اور یقین کے ساتھ دعا کرے کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7314
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7477، م: 2679.
حدیث نمبر: 7315
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو الدَّوْسِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ دَوْسًا قَدْ عَصَتْ وَأَبَتْ ، فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ ، فَاسْتَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ ، فَقَالَ النَّاسُ : هَلَكُوا ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائتِ بِهِمْ ، اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَاْئتِ بِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ قبیلہ دوس کے لوگ نافرمانی اور انکار پر ڈٹے ہوئے ہیں اس لئے آپ ان کے خلاف بد دعا کیجئے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی جانب رخ کر کے دونوں ہاتھ اٹھا لئے لوگ کہنے لگے کہ قبیلہ دوس کے لوگ تو ہلاک ہوگئے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ ! قبیلہ دوس کو ہدایت عطا فرما اور انہیں یہاں پہنچا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7315
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6397، م: 2524.
حدیث نمبر: 7316
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ ، وَلَكِنْ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مالداری ساز و سامان کی کثرت سے نہیں ہوتی اصل مالداری تو دل کی مالداری ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7316
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6446، م: 1051.
حدیث نمبر: 7317
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلًا ، فَيَحْتَطِبَ ، فَيَحْمِلَهُ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَيَأْكُلَ أَوْ يَتَصَدَّقَ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا أَغْنَاهُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ، فَيَسْأَلَهُ أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ ذَلِكَ بِأَنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بخدا ! یہ بات بہت بہتر ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی رسی پکڑے لکڑیاں باندھے اور اپنی پیٹھ پر لاد کر اسے بیچے اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی خود کھائے یا صدقہ کر دے بہ نسبت اس کے کہ کسی ایسے آدمی کے پاس جائے جسے اللہ نے اپنے فضل سے مال اور دولت عطاء فرما رکھی ہو اور اس سے جا کر سوال کرے اس کی مرضی ہے کہ اسے کچھ دے یا نہ دے کیونکہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7317
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1470، م: 1042.
حدیث نمبر: 7318
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ ، وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا ، وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَزْنِي حِينَ يَزْنِي ، وَهُوَ مُؤْمِنٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جس وقت کوئی شخص چوری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا جس وقت کوئی شخص شراب پیتا ہے وہ مومن نہیں رہتا اور جس وقت کوئی شخص بدکاری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 7318
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2475، م: 57.