حدیث نمبر: 9035
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيم ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " قُرَيشٌ , وَالْأَنْصَارُ , وَأَسْلَمُ , وَغِفَارٌ , وَمُزَيْنَة ، وَجُهَيْنَةُ , وَأَشْجَعُ مَوَالِيَّ ، لَيْسَ لَهُمْ دُونَ اللَّهِ وَلَا رَسُولِهِ مَوْلًى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، اسلم، غفار اور اشجع نامی قبائل میرے موالی ہیں اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ ان کا کوئی مولیٰ نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9035
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3504، م: 2520
حدیث نمبر: 9036
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَس ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : قَالَ : زَعَمَ ذَاكَ ثُمَامَةُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَعَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ ، فَلْيَغْمِسْهُ ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً ، وَالْآخَرِ دَوَاءً " ، وَقَالَ عَفَّان مَرَّةً : " فَإِنَّ أَحَدَ جَنَاحَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گرجائے تو وہ یاد رکھے کہ مکھی کے ایک پر میں شفاء اور دوسرے پر میں بیماری ہوتی ہے اس لئے اسے چاہئے کہ اس مکھی کو اس میں مکمل ڈبو دے (پھر اسے استعمال کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9036
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5782، له إسنادان: الأول منقطع ، فإن ثمامة لم يسمع من أبي هريرة ، والثاني صحيح
حدیث نمبر: 9037
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ إِنْسَانًا كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ أَسْوَدَ , فمَاتَ أَوْ مَاتَتْ , فَفَقَدَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " مَا فَعَلَ الْإِنْسَانُ الَّذِي كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِد ؟ " . قَالَ : فَقِيلَ لَهُ : مَاتَ . قَالَ : " فَهَلَّا آذَنْتُمُونِي بِهِ " . فَقَالُوا : إِنَّهُ كَانَ لَيْلًا . قَالَ : " فَدُلُّونِي عَلَى قَبْرِهَا " . قَالَ : فَأَتَى الْقَبْرَ فَصَلَّى عَلَيْهَا ، قَالَ ثَابِتٌ عِنْدَ ذَاكَ ، أَوْ فِي حَدِيثٍ آخَرَ : " إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوءَةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا بِصَلَاتِي عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک سیاہ فام عورت یا مرد مسجد نبوی کی خدمت کرتا تھا (مسجد میں جھاڑو دے کر صفائی ستھرائی کا خیال رکھتا تھا) ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نظر نہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ تو فوت ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ وہ رات کا وقت تھا (اس لئے آپ کو زحمت دینا مناسب نہ سمجھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کی قبر بتاؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بتادی چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قبر پر جا کر اس کے لئے دعاء مغفرت کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9037
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 458، م: 956
حدیث نمبر: 9038
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا خَلِيفَةُ بْنُ غَالِبٍ اللَّيْثِيٍُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة , أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَهُ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِِ ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ ، قَالَ : " الْإِيمَانُ بِاللَّهِ ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِِ " ، قَالَ فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ذَاكَ ؟ ، َقَالَ : فَأَيُّ الرِّقَابِ أَعْظَمُ أَجْرًا ؟ ، قَالَ : " أَغْلَاهَا ثَمَنًا ، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا " ، قَالَ : فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ؟ ، قَالَ : " فَتُعِينُ ضَائِعًا ، أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ " ، قَالَ : فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ذَاكَ ؟ ، قَالَ : " فَاحْبِسْ نَفْسَكَ عَنِ الشَّرِّ ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ حَسَنَةٌ تَصَدَّقْتَ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر جبکہ وہ (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی وہاں موجود تھے سوال کیا کہ اسے اللہ کے نبی ! کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ پر ایمان لانا اور اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا اس نے پوچھا کہ کس غلام کو آزاد کرنے کا ثواب سب سے زیادہ ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس کی قیمت زیادہ ہو اور وہ مالکوں کے نزدیک زیادہ نفیس ہو اس نے کہا اگر میں غلام آزاد کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہوں تو کیا کروں ؟ فرمایا کسی مزدور کو اس کے پاؤں پر کھڑا کردو یا کسی ضرورت مند کو کما کردے دو اس نے پوچھا کہ اگر میں اس کی طاقت بھی نہ رکھتا ہوں تو ؟ فرمایا پھر اپنے آپ کو شر اور گناہ کے کاموں سے بچا کر رکھو کیونکہ یہ بھی ایک عمدہ صدقہ ہے جو تم اپنی طرف سے دوگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9038
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، خ: 26، م: 83
حدیث نمبر: 9039
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عِسْلُ بْنُ سُفْيَانَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا طَلَعَ النَّجْمُ صَبَاحًا قَطُّ ، وَتَقُومُ عَاهَةٌ ، إِلَّا رُفِعَتْ عَنْهُمْ أَوْ خَفَّتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب صبح والا ستارہ طلوع ہوجائے تو کھیتوں کی مصبتیں ٹل جاتی ہیں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9039
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن
حدیث نمبر: 9040
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ صَوْتًا فَأَعْجَبَهُ ، فَقَالَ : " قَدْ أَخَذْنَا فَألَكَ مِنْ فِيكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی آواز سنی جو آپ کو اچھی لگی تو فرمایا کہ ہم نے تمہارے منہ سے اچھی فال لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9040
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بلفظ آخر، خ: 5755، م: 2223، وإسناده ضعيف لإبھام الراوي عن أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 9041
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ مَوْلَى أُمِّ بُرْثُنٍ حَدَّثَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " كَتَبَ اللَّهُ الْجُمُعَةَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَنَا فَاخْتَلَفُوا فيها ، وَهَدَانَا اللَّهُ لَهَا ، فَالنَّاسُ لَنَا فِيهَا تَبَعٌ ، فَلِلْيَهُودِ غَدًا ، وَلِلنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ہم سے پہلے لوگوں پر بھی جمعہ فرض کیا تھا لیکن وہ اس میں اختلاف کرنے لگے جب کہ اللہ نے ہمیں اس معاملے میں رہنمائی عطاء فرمائی چنانچہ اب لوگ اس دن کے متعلق ہمارے تابع ہیں کل کا دن (ہفتہ) یہودیوں کا ہے اور پرسوں کا دن (اتو ار) عیسائیوں کا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9041
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 876، م: 856
حدیث نمبر: 9042
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَفِرُّ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ الْبَقَرَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ کیونکہ شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورت بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9042
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 780
حدیث نمبر: 9043
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا تَكَلَّمْتَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَدْ لَغَوْتَ ، وَأَلْغَيْتَ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام جس وقت جمعہ کا خطبہ دے رہا ہو اور تم اپنے ساتھی سے بات کرو تو تم نے لغو کام کیا اور اسے بیکار کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9043
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 934، م: 851
حدیث نمبر: 9044
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ ، طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی زمین پر ناحق قبضہ کرتا ہے قیامت کے دن سات زمینوں سے اس ٹکڑے کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9044
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1611
حدیث نمبر: 9045
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا ، إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ قیامت کے دن میں اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9045
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2590
حدیث نمبر: 9046
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قال عبد الله بن أحمد : قَالَ فِيهَا كُلِّهَا : حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، هَكَذَا قَالَهَا أَبِي .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے قیامت کے دن ہلاکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9046
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 165، م: 242
حدیث نمبر: 9047
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ووهيب , قَالَا : حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسِهِ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے تو واپس آنے کے بعد اس جگہ کا سب سے زیادہ حقدار وہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9047
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2179
حدیث نمبر: 9048
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ , فَتُحْرِقَ ثِيَابَهُ حَتَّى تَخْلُصَ إِلَيْهِ ، خَيْرٌ له مِنْ أَنْ يَطَأَ عَلَى قَبْرِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص چنگاری پر بیٹھ جائے اور اس کے کپڑے جل جائیں اور آگ کا اثر اس کی کھال تک پہنچ جائے یہ کسی مسلمان کی قبر پر بیٹھنے سے بہت بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9048
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 971
حدیث نمبر: 9049
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ ، فَمَضْمَضَ وَغَسَلَ يَدَهُ ، وَصَلَّى " .
مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند سے ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کے شانے کا گوشت تناول فرمایا اور کلی کرکے ہاتھ دھو کر نماز پڑھا دی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9049
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9050
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَكَلَ ثَوْرَ أَقِطٍ ، فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ، وَصَلَّى " .
مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند سے ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پنیر کے کچھ ٹکڑے تناول فرمائے اور وضو کرکے عشاء پڑھائی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9050
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9051
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَلَا تَنَافَسُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دوسرے سے بغض، قطع رحمی اور مقابلہ نہ کر اور اے اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن کر رہا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9051
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2563
حدیث نمبر: 9052
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فَتَفَرَّقُوا عَنْ غَيْرِ ذِكْرِ اللَّهِ ، إِلَّا كَأَنَّمَا تَفَرَّقُوا عَنْ جِيفَةِ حِمَارٍ ، وَكَانَ ذَلِكَ الْمَجْلِسُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً " .
مولانا ظفر اقبال
گذشۃ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کچھ لوگ کسی جگہ اکٹھے ہوں اور اللہ کا ذکر کئے بغیر ہی جدا ہوجائیں تو یہ ایسے ہی ہے جیسے مردار گدھے کی لاش سے جدا ہوئے اور وہ مجلس ان کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9052
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9053
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ كُلَّ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ ، فَيُغْفَرُ ذَلِكَ الْيَوْمَ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، إِلَّا امْرَأً كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ ، فَيُقَالَ : أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر اس بندے کو بخش دیتے ہیں جو ان کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے ان دو آدمیوں کے جن کے درمیان آپس میں لڑائی جھگڑا ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان دونوں کو چھوڑے رکھو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کرلیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9053
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2565
حدیث نمبر: 9054
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الدِّينَ بَدَأَ غَرِيبًا ، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دین کی ابتداء اجنبیت میں ہوئی اور عنقریب یہ اپنی ابتدائی حالت پر لوٹ جائے گا سو خوشخبری ہے غرباء کے لئے (جو دین سے چمٹے رہیں گے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9054
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 145
حدیث نمبر: 9055
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ ، وَجَنَّةُ الْكَافِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا مومن کے لئے قیدخانہ اور کافر کے لئے جنت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9055
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2956
حدیث نمبر: 9056
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَاصُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ دَاءٍ إِلَّا فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ مِنْهُ شِفَاءٌ ، إِلَّا السَّامُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کلونجی میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9056
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5688، م: 2215
حدیث نمبر: 9057
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ مَثَلُ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ ، قَدْ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا ، فَكُلَّمَا هَمَّ الْمُتَصَدِّقُ بِصَدَقَةٍ ، اتَّسَعَتْ عَلَيْهِ حَتَّى تُعَفِّيَ أَثَرَهُ ، وَكُلَّمَا هَمَّ الْبَخِيلُ بِصَدَقَةٍ ، انْقَبَضَتْ عَلَيْهِ كُلُّ حَلْقَةٍ مِنْهَا إِلَى صَاحِبَتِهَا , وَتَقَلَّصَتْ عَلَيْهِ " ، قَالَ : فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَعْنِي يَقُولُ : " فَيَجْهَدُ أَنْ يُوَسِّعَهَا فَلَا تَتَّسِعُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کنجوس اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن کے جسم پر چھاتی سے لے کر ہنسلی کی ہڈی تک لوہے کے دو جبے ہوں خرچ کرنے والا جب بھی کچھ خرچ کرتا ہے اسی کے بقدر اس جبے میں کشادگی ہوتی جاتی ہے اور وہ اس کے لئے کھلتا جاتا ہے اور کنجوس آدمی کی جکڑ بندی ہی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مزید یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ اسے کشادہ کرنے کے لئے زور آزمائی کرتا ہے لیکن وہ کشادہ ہو نہیں پاتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9057
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1443، م: 1021
حدیث نمبر: 9058
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَرَى رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ ، قَالَ : " هَلْ تَرَوْنَ الشَّمْسَ بِنِصْفِ النَّهَارِ لَيْسَ فِي السَّمَاءِ سَحَابَةٌ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " هَلْ تَرَوْنَ الْقَمَرَ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي السَّمَاءِ سَحَابَةٌ ؟ " . قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَرَوُنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ ، كَمَا لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم قیامت کے دن اپنے پروردگار کو دیکھیں گے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا نصف النہار کے وقت جبکہ کوئی بادل بھی نہ ہو سورج کو دیکھ سکتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم رات کے وقت جبکہ کوئی بادل بھی نہ ہو " چودھویں کا چاند دیکھ سکتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم اپنے پروردگار کا دیدار ضرور کروگے اور تمہیں اسے دیکھنے میں کسی قسم کی مشقت نہیں ہوگی جیسے چاند اور سورج کو دیکھنے میں نہیں ہوتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9058
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، خ: 6573، م: 182
حدیث نمبر: 9059
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَكْثَرَ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي الْبَوْل " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اکثر عذاب قبر پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9059
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9060
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ سورة يوسف آية 50 ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَوْ كُنْتُ أَنَا ، لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآنی ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے " کی تفسیر میں فرمایا کہ اگر میں اتنا عرصہ جیل میں رہتا جتنا عرصہ حضرت یوسف علیہ السلام رہے تھے پھر مجھے نکلنے کی پیشکش ہوتی تو میں اسی وقت قبول کرلیتا اور کوئی عذر تلاش نہ کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9060
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9061
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَحُسَيْنٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ . ح وَيَحْيَى بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لَغَنِيٍّ ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مالدار یا ہٹے کٹے صحیح سالم آدمی کے لئے زکوٰۃ کا پیسہ حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9061
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وفيه سالم كثير الإرسال عن الصحابة ولم يصرح بسماعه من أبي هريرة، لكنه متابع
حدیث نمبر: 9062
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالداری ساز و سامان کی کثرت سے نہیں ہوتی اصل مالداری تو دل کی مالداری ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9062
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6446، م: 1051
حدیث نمبر: 9063
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : " أَتَى جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فقَالَ : إِنِّي جِئْتُ الْبَارِحَةَ ، فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَدْخُلَ عَلَيْكَ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فِي الْبَيْتِ صُورَةٌ أَوْ كَلْب " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں رات کو آپ کے پاس آیا تھا اور تو کسی چیز نے مجھے آپ کے گھر میں داخل ہونے سے نہ رو کا البتہ گھر میں ایک آدمی کی تصویر تھی یا کتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9063
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9064
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُدْخِلُهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ ، وَلَا يُنَجِّيهِ مِنَ النَّارِ ، إِلَّا بِرَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ " ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَا أَنْتَ ؟ ، قَالَ : " وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ " . قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بِيَدِهِ , يَقْبِضُهَا وَيَبْسُطُهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل کرکے جہنم سے نجات نہیں دلا سکتا جب تک کہ اللہ کا فضل و کرم صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یارسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے یہ جملہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اشارہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9064
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816
حدیث نمبر: 9065
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِم ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ زَيْدٍ عَمِّي ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى بَابِ الْمَدِينَةِ فَمَرَّ شَابٌّ مِنْ قُرَيْشٍ كَأَنَّهُ مُسْتَرْخِي الْإِزَارِ ، قَالَ : ارْفَعْ إِزَارَكَ ، فَجَعَلَ يَعْتَذِرُ ، فَقَالَ : إِنَّهُ اسْتَرْخَى ، وَإِنَّهُ مِنْ كَتَّانٍ ، فَلَمَّا مَضَى ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي فِي حُلَّةٍ لَهُ مُعْجَبٌ بِنَفْسِهِ ، إِذْ خَسَفَ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
جریر بن زید کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ کے پاس باب مدینہ کے قریب بیٹھا ہوا تھا وہاں سے ایک قریشی نوجوان گذرا اس نے اپنی شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکا رکھی تھی حضرت سالم رحمہ اللہ نے اس سے فرمایا کہ اپنی شلوار اونچی کرو اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ چونکہ کتان کی ہے اس لئے خود ہی نیچے ہوجاتی ہے جب وہ چلا گیا تو حضرت سالم رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ہے کہ ایک آدمی اپنے قیمتی حلے میں ملبوس اپنے او پر فخر کرتے ہوئے تکبر سے چلا جا رہا تھا کہ اسی اثناء میں اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9065
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا إسناد حسن، خ: 5790، م: 2088
حدیث نمبر: 9066
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا ذَوَّادٌ أَبُو الْمُنْذِرِ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : مَا هَجَّرْتُ ، إِلَّا وَجَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ، قَالَ : فَصَلَّى , ثُمَّ قَالَ : " اشِكَنْبْ دَرْدْ ؟ " . قَالَ : قُلْتُ : لَا ، قَالَ : " قُمْ فَصَلِّ ، فَإِنَّ فِي الصَّلَاةِ شِفَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں جب بھی دوپہر کے وقت نکلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز ہی پڑھتے ہوئے پایا (ایک دن میں حاضر ہوا تو) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے فارغ ہو کر فارسی میں پوچھا کہ تمہارے پیٹ میں درد ہو رہا ہے ؟ میں نے کہا کہ نہیں فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھو کیونکہ نماز میں شفاء ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9066
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف ذوّاد وليث
حدیث نمبر: 9067
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَيَدَعَنَّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ الْمَدِينَةَ وَهِيَ خَيْرُ مَا يَكُونُ ، مُرْطِبَةٌ مُونِعَةٌ " ، فَقِيلَ : فَمَنْ يَأْكُلُهَا ؟ ، قَالَ : " الطَّيْرُ وَالسِّبَاعُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ مدینہ منورہ کو بہترین حالت میں ہونے کے باوجود ایک وقت میں آکر چھوڑ دیں گے کسی نے پوچھا کہ اسے کون کھائیں گے ؟ فرمایا وہاں صرف درندے اور پرندے رہ جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9067
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1874، م: 1389، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي المهزم
حدیث نمبر: 9068
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " هَذِهِ صَدَقَةُ قَوْمِي ، وَهُمْ أَشَدُّ النَّاسِ عَلَى الدَّجَّالِ " ، يَعْنِي بَنِي تَمِيمٍ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : مَا كَانَ قَوْمٌ مِنَ الْأَحْيَاءِ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْهُمْ ، فَأَحْبَبْتُهُمْ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوتمیم کے صدقات کے متعلق فرمایا یہ میری قوم کا صدقہ ہیں اور یہ لوگ دجال کے لئے سب سے زیادہ سخت قوم ثابت ہوں گے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبل ازیں مجھے اس قبیلے سے بہت نفرت تھی لیکن جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنا ہے میں ان سے محبت کرنے لگا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9068
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2543، م: 2525، وهذا إسناد ضعيف لابهام الراوي عن أبي زرعة
حدیث نمبر: 9069
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " نِعِمَّا لِلْمَمْلُوكِ إِذَا أَدَّى حَقَّ اللَّهِ ، وَحَقَّ مَوَالِيهِ " ، قَالَ كَعْبٌ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، لَا حِسَابَ عَلَيْهِ ، وَلَا عَلَى مُؤْمِنٍ مُزْهِدٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ غلام کیا ہی خوب ہے جو اللہ اور اپنے آقا کے حقوق دونوں کو ادا کرتا ہوکعب نے اس پر اپنی طرف سے یہ اضافہ کیا کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا اس کا اور دنیا سے بےرغبت مومن کا کوئی حساب نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9069
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2549، م: 1666
حدیث نمبر: 9070
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " اللَّهُمَّ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، فَأَيُّمَا مُسْلِمٍ لَعَنْتُهُ أَوْ آذَيْتُهُ ، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَقُرْبَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ میں بھی ایک انسان ہوں میں نے جس شخص کو بھی (نادانستگی میں) کوئی ایذاء پہنچائی ہو یا اسے لعنت کی ہو اسے اس شخص کے لئے باعث تزکیہ و قربت بنا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9070
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6361، م: 2601
حدیث نمبر: 9071
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ , أَنَّهُ قَالَ : " زَكَاةً وَرَحْمَةً " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9071
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 9072
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " أَلَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَيَخْتَصِمَنَّ كُلُّ شَيْءٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , حَتَّى الشَّاتَانِ فِيمَا انْتَطَحَتَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے قیامت کے دن حقداروں کو ان کے حقوق ادا کئے جائیں گے حتی کہ بےسینگ بکری کو سینگ والی بکری سے جس نے اسے سینگ مارا ہوگا بھی قصاص دلوایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9072
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: هذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ، لکن الحدیث صحيح، انظر، م: 2582
حدیث نمبر: 9073
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عن أبي هريرة . ح وَحَسَنٍ , قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدْ اقْتَرَبَ ، فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، يَبِيعُ قَوْمٌ دِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا قَلِيلٍ , الْمُتَمَسِّكُ يَوْمَئِذٍ بِدِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِ " ، أَوْ قَالَ : " عَلَى الشَّوْكِ " . قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ : " خَبَطِ الشَّوْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل عرب کے لئے ان فتنوں سے ہلاکت ہے جو قریب آگئے ایسے فتنے جو تاریک رات کے حصوں کی طرح ہوں گے اس زمانے میں ایک آدمی صبح کو مومن اور شام کو کافر ہوگا یا شام کو مومن اور صبح کو کافر ہوگا اور اپنے دین کو دنیا کے تھوڑے سے ساز و سامان کے عوض فروخت کردیا جائے گا۔ اور اس زمانے میں اپنے دین پر ثابت قدم رہنے والا مٹھی میں انگارے لینے والے شخص کی طرح ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9073
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: « المتمسك يومئذ بدينه ۔۔۔ الخ » فحسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 9074
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَّخِذُ عِنْدَكَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ ، إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، فَأَيُّمَا عَبْدٍ جَلَدْتُهُ ، أَوْ شَتَمْتُهُ ، أَوْ سَبَبْتُهُ ، فَاجْعَلْهَا لَهُ صَلَاةً وَقُرْبَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ میں تجھ سے یہ وعدہ لیتاہوں جس کی تو مجھ سے کبھی خلاف ورزی نہیں کرے گا میں نے انسان ہونے کے ناطے جس مسلمان کو کوئی اذیت پہنچائی ہو یا اسے برا بھلا کہا ہو یا اسے کوڑے مارے ہوں یا اسے لعنت کی ہو تو اس شخص کے حق میں اسے باعث رحمت و تزکیہ اور قیامت کے دن اپنی قربت کا سبب بنا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9074
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6361، م: 2601، وهذا إسناد ضعيف، ابن لهيعة سيئ الحفظ