حدیث نمبر: 8995
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا أَفْلَسَ الرَّجُلُ ، فَوَجَدَ غَرِيمُهُ مَتَاعَهُ عِنْدَ الْمُفْلِسِ بِعَيْنِهِ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس آدمی کو مفلس قرار دے دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8995
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2402، م: 1559
حدیث نمبر: 8996
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ يَعْنِي الصَّائِغَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِلْمُؤْمِنِ زَوْجَتَانِ ، يُرَى مُخُّ سُوقِهِمَا ، مِنْ فَوْقِ ثِيَابِهِمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل جنت میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا گودا کپڑوں کے باہر سے نظر آجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8996
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3254، م: 2834
حدیث نمبر: 8997
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ ، فَفَقَئُوا عَيْنَهُ ، فَلَا دِيَةَ لَهُ وَلَا قِصَاصَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کوئی آدمی اجازت کے بغیر کسی کے گھر میں جھانک کر دیکھے اور وہ اسے کنکری دے مارے جس سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو اس کی کوئی دیت اور قصاص نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8997
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6902، م: 2158
حدیث نمبر: 8998
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8998
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2113
حدیث نمبر: 8999
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمَدِينَةِ : " لَتَتْرُكَنَّهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ ، مُذَلَّلَةً لِلْعَوَافِي " يَعْنِي السِّبَاعَ وَالطَّيْرَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ مدینہ منورہ کو بہترین حالت میں ہونے کے باوجود ایک وقت میں آکر چھوڑ دیں گے اور وہاں صرف درندے اور پرندے رہ جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8999
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1874، م: 1389
حدیث نمبر: 9000
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَيَرْتَقِيَنَّ جَبَّارٌ مِنْ جَبَابِرَةِ بَنِي أُمَيَّةَ عَلَى مِنْبَرِي هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب میرے اس منبر پر بنو امیہ کے ظالموں میں سے ایک ظالم قابض ہوجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9000
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف علي، ولجهالة الراوي عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 9001
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ حَمَّادٌ : وَثَابِتٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9001
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 38، م: 760، وللحديث هنا إسنادان: الأول حسن، والثاني مرسل ضعيف
حدیث نمبر: 9002
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنْ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُدْخِلُهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ " ، قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ وَفَضْلٍ " وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرسکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9002
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816
حدیث نمبر: 9003
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي بْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچہ بستر والے کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9003
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6818، م: 1458
حدیث نمبر: 9004
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى الَّذِي يَجُرُّ إِزَارَهُ بَطَرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے ازار کو زمین پر کھینچتے ہوئے چلتا ہے اللہ اس پر نظر کرم نہیں فرماتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9004
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5788، م: 2087
حدیث نمبر: 9005
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعَجْمَاءُ جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمْسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جانور سے مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خوان رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9005
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
حدیث نمبر: 9006
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً ، فَهُوَ بِالْخِيَارِ ، إِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص (دھوکے کا شکار ہو کر) ایسی بکری خرید لے جس کے تھن باندھ دئیے گئے ہوں تو اس جانور کو اپنے پاس ہی رکھے ( اور معاملہ رفع دفع کردے) یا پھر اس جانور کو مالک کے حوالے کردے اور ساتھ میں ایک صاع کھجور بھی دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9006
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2151، م: 1524
حدیث نمبر: 9007
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، وَعَطَاءٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَزْنِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَغُلُّ حِينَ يَغُلُّ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَنْتَهِبُ حِينَ يَنْتَهِبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ " ، وَقَالَ عَطَاءٌ 63 : " وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ وَهُوَ مُؤْمِنٌ " ، قَالَ بَهْزٌ : فَقِيلَ لَهُ ، قَالَ : إِنَّهُ يُنْتَزَعُ مِنْهُ الْإِيمَانُ ، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَقَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ قَتَادَةُ : وَفِي حَدِيثِ عَطَاءٍ : " نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ وَهُوَ مُؤْمِنٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس وقت کوئی شخص چوری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا جس وقت کوئی شراب پیتا ہے وہ مومن نہیں رہتا اور جس وقت کوئی شخص بدکاری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا جس وقت کوئی شخص مال غنیمت میں خیانت کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا اور جس وقت کوئی شخص ڈاکہ ڈالتا ہے وہ مومن نہیں رہتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9007
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح من جهة عطاء، وأما الحسن البصري فلم یسمع من أبي هريرة، خ: 2475، م: 57
حدیث نمبر: 9008
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ ، وَمَا زَادَ اللَّهُ رَجُلًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا ، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدقہ کے ذریعے مال کم نہیں ہوتا اور جو آدمی کسی ظلم سے درگذر کرلے اللہ اس کی عزت میں ہی اضافہ فرماتا ہے اور جو آدمی اللہ کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ اسے رفعتیں ہی عطاء کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9008
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2588
حدیث نمبر: 9009
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَاللَّفْظِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَاللَّفْظِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ : مَا الْغِيبَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ " ، قَالَ : أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنْ كَانَ فِي أَخِيكَ مَا تَقُولُ ، فَقَدْ اغْتَبْتَهُ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا تَقُولُ ، فَقَدْ بَهَتَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا یا رسول اللہ ! غیبت کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر ایک ایسے عیب کے ساتھ کرو جو اس میں نہ ہو کسی نے پوچھا کہ یہ بتائیے اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو جو میں اس کی غیر موجودگی میں بیان کروں تو کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر تمہارا بیان کیا ہوا عیب اس میں موجود نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9009
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2589
حدیث نمبر: 9010
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ " ، قَالُوا : قَصُرَتْ الصَّلَاةُ ؟ قَالَ : " فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھولے سے ظہر کی دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیا نماز میں کمی ہوگئی ہے ؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے دو رکعتیں مزید ملائیں اور سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کر لئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9010
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 482، م: 573
حدیث نمبر: 9011
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ائْتُوا الصَّلَاةَ وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ ، فَصَلُّوا مَا أَدْرَكْتُمْ ، وَاقْضُوا مَا سَبَقَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کے لئے اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9011
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 908، م: 602
حدیث نمبر: 9012
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا ، أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ إِلَّا الْكَعْبَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9012
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1190، م: 1394
حدیث نمبر: 9013
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا بَاتَتْ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا ، لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو عورت (کسی ناراضگی کی بنا پر) اپنے شوہر کا بستر چھوڑ کر (دوسرے بستر پر) رات گذارتی ہے اس پر ساری رات فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں تاآنکہ وہ واپس آجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9013
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5194، م: 1436
حدیث نمبر: 9014
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الْمُطَوِّسِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ فِي غَيْرِ رُخْصَةٍ رَخَّصَهَا اللَّهُ لَهُ ، فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ الدَّهْرَ كُلَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بغیر کسی عذر کے رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دے یا توڑ دے اس سے ساری عمر کے روزے بھی اس ایک روزے کے بدلے میں قبول نہیں کئے جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9014
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة المطوّس وأبيه
حدیث نمبر: 9015
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ ، وَقَالَ : أَبُو عَوَانَةَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ ، وَمَنْ أَطَاعَ الْأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي ، وَمَنْ عَصَى الْأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي ، وَالْأَمِيرُ مِجَنٌّ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ ، فَإِنَّهُ إِذَا وَافَقَ ذَلِكَ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَكُمْ ، وَإِنْ صَلَّى قَاعِدًا فَصَلُّوا قُعُودًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی درحقیقت اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔ اور امیر کی حیثیت ڈھال کی سی ہوتی ہے لہٰذا جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو۔ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9015
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 734، م: 414
حدیث نمبر: 9016
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا وَتَبِعَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ " ، فَقَالَ لَهُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَإِنَّك تُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِيَدِهِ ، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى عَائِشَةَ ، فَصَدَّقَتْ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَاللَّهِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَا كَانَ يَشْغَلُنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّفْقُ فِي الْأَسْوَاقِ ، مَا كَانَ يُهِمُّنِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا كَلِمَةً يُعَلِّمُنِيهَا أَوْ لُقْمَةً يَلْقُمُنِيهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی نماز جنازہ پڑھے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا یہ حدیث سن کر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا ابوہریرہ ! سوچ سمجھ کر حدیث بیان کرو کیونکہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بہت کثرت کے ساتھ احادیث نقل کرتے ہو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق کردی پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ابوعبدالرحمن اللہ کی قسم مجھے بازاروں میں معاملات کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراض نہیں کرنے دیتا تھا میرا تو مقصد یہی تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات مجھے سمجھا دیں یا کوئی لقمہ مجھے کھلا دیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9016
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1325، م: 945
حدیث نمبر: 9017
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدِ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَنَّهُ " نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَنَائِمِ حَتَّى تُقْسَمَ ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُحْرَزَ مِنْ كُلِّ عَارِضٍ ، وَأَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ حَتَّى يَحْتَزِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم سے قبل مال غنیمت اور ہر آفت سے محفوظ ہونے سے قبل پھل کی خریدو فروخت سے منع فرمایا ہے نیز کمر کسنے سے قبل نماز پڑھنے سے بھی منع فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9017
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الراوي عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 9018
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا شَكَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْوَةَ قَلْبِهِ ، فَقَالَ : " امْسَحْ رَأْسَ الْيَتِيمِ ، وَأَطْعِمْ الْمِسْكِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے دل کی سختی کی شکایت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ (اگر تم اپنے دل کو نرم کرنا چاہتے ہو) تو مسکینوں کو کھانا کھلایا کرو اور یتیم کے سر پر شفقت کے ساتھ ہاتھ پھیرا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9018
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لانقطاعه ، سقط رجل مبهم بين أبي عمران وبين أبي هريرة
حدیث نمبر: 9019
حَدَّثَنَا عَفَّان ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شِبْرًا بِغَيْرِ حَقِّهِ ، طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضيِنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کی زمین پر ناحق قبضہ کرتا ہے قیامت کے دن سات زمینوں سے اس ٹکڑے کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9019
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1611
حدیث نمبر: 9020
حَدَّثَنَا عَفَّان ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ : " هُنَّ أَيَّامُ طُعْم " ، قَالَ أَبُو عَوَانَة : يَعْنِي أَيَّامَ التَّشْرِيق .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایام تشریق کھانے پینے کے دن ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9020
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9021
حَدَّثَنَا عَفَّان ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قِيل : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا الطِّيَرَةُ ؟ قَالَ : " لَا طَائِر " ، ثَلَاثَ مَرَّات ، وَقَالَ : " خَيْرُ الْفَأْلِ الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے ہی مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! شگون بد سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں البتہ بہترین فال اچھا کلمہ ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9021
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5557، م: 2223
حدیث نمبر: 9022
حَدَّثَنَا عَفَّان ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ : " إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمْ الْإِقَامَةَ , فَلْيَأْتِ عَلَيْهِ السَّكِينَةُ , فَمَا أَدْرَكَ فَلْيُصَلِّ ، وَمَا فَاتَهُ فَلْيُتِمَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اقامت کی آواز سنے تو اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرے جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرے اور جو رہ جائے اسے مکمل کرلیا کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9022
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 908، م: 602
حدیث نمبر: 9023
حَدَّثَنَا عَفَّان ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَعَنَ اللَّهُ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ فِي الْحُكْمِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فیصلہ کرنے میں (خصوصیت کے ساتھ) رشوت لینے والے اور دینے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9023
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9024
حَدَّثَنَا عَفَّان ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا تَمَنَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَنْظُرْ مَا الَّذِي يَتَمَنَّى ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا الَّذِي يُكْتَبُ لَهُ مِنْ أُمْنِيَّتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص تمنا کرے تو دیکھ لے کہ کس چیز کی تمنا کر رہا ہے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کی تمنا میں سے کیا لکھا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9024
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عمر عند التفرد
حدیث نمبر: 9025
حَدَّثَنَا عَفَّان ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أُحُدًا هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ " . قَال عبد الله : قَالَ أَبِي فِيهَا كُلِّهَا ، فِي هَذِهِ الْأَرْبَعَة : قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9025
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9026
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " خُذُوا مِنَ الشَّوَارِب ، وَأَعْفُوا اللِّحَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مونچھیں خوب تراشا کرو اور داڑھی کو خوب بڑھایا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9026
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5893، م: 259
حدیث نمبر: 9027
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا يَزَالُونَ يَسْأَلُونَ حَتَّى يُقَالَ : هَذَا اللَّهُ خَلَقَنَا ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ؟ " . قَالَ : فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَة فَوَاللَّهِ إِنِّي لَجَالِسٌ يَوْمًا , إِذْ قَالَ لِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ : هَذَا اللَّهُ خَلَقَنَا ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ عَزَّ وَجَل ؟ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَة فَجَعَلْتُ أُصْبُعَيَّ فِي أُذُنَيَّ ، ثُمَّ صِحْتُ ، فَقُلْتُ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ , اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَد ، لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ .
مولانا ظفر اقبال
اور یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ سوالات کرتے کرتے یہاں تک جا پہنچیں گے کہ ہمیں تو اللہ نے پیدا کیا لیکن اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ واللہ میں ایک دن بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عراقی آدمی آیا اور کہنے لگا کہ ہمیں تو اللہ نے پیدا کیا ہے لیکن اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ اس کا سوال سن کر میں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور زور سے چیخا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل سچ فرمایا تھا اللہ یکتا اور بےنیاز ہے اس نے کسی کو جنم دیا اور نہ کسی نے اسے جنم دیا اور کوئی بھی اس کا ہم سر نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9027
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3276، م: 135
حدیث نمبر: 9028
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَغَارُ ، وَمِنْ غَيْرَةِ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حُرِّمَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ غیرت مند ہے اور اللہ کی غیرت یہ ہے کہ انسان اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کے قریب جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9028
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5223، م: 2761
حدیث نمبر: 9029
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيُوتِرْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص پتھر سے استنجاء کرے تو طاق عدد میں پتھر استعمال کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9029
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 161، م: 237
حدیث نمبر: 9030
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِذَا أَبَقَ الْعَبْدُ ، وَقَالَ مَرَّةً : إِذَا سَرَقَ العبد فَبِعْهُ ، وَلَوْ بِنَشٍّ " . وَالنَّشُّ : نِصْفُ الْأُوقِيَّةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسی کا غلام چوری کرکے بھاگ جائے تو اسے چاہئے کہ اسے فروخت کردے خواہ معمولی قیمت پر ہی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9030
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عمر ضعيف فيما تفرد به
حدیث نمبر: 9031
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَعَنَ اللَّهُ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ فِي الْحُكْمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فیصلہ کرنے میں (خصوصیت کے ساتھ) رشوت لینے والے اور دینے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9031
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 9032
حَدَّثَنَا عَفَّان ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ : عِيَادَةُ الْمَرِيضِ ، وَشُهُودُ الْجِنَازَةِ ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جو ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا حق ہیں مریض کی بیمار پرسی کرنا جنازہ میں شرکت کرنا اور چھینکنے والے کو جبکہ وہ الحمدللہ کہے چھینک کا جواب (یرحمک اللہ کہہ کر) دینا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9032
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1240، م: 2162
حدیث نمبر: 9033
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَة ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَش ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَكْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي الْبَوْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اکثر عذاب قبر پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9033
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 9034
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 9034
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح