حدیث نمبر: 8915
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بن سعيد ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ ، وَإِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ ، لَا يَدْخُلُهُ الشَّيْطَانُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ کیونکہ شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورت بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہو۔
حدیث نمبر: 8916
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بن سعيد ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بن محمد ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَعْنِي قَالَ لِنِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ : " لَا يَمُوتُ لِإِحْدَاكُنَّ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَتَحْتَسِبُهُ ، إِلَّا دَخَلَتْ الْجَنَّةَ " ، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ : أَوْ اثْنَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَوْ اثْنَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ انصاری خواتین سے فرمایا تم میں سے جو عورت اپنے تین بچے آگے بھیجے (فوت ہوجائیں) اور وہ ان پر صبر کرے وہ جنت میں داخل ہوگی کسی عورت نے پوچھا اگر دو ہوں تو کیا حکم ہے ؟ فرمایا دو ہوں تب بھی یہی حکم ہے۔
حدیث نمبر: 8917
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ ، لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ منورہ کے دروازوں پر فرشتوں کا پہرہ ہے اس لئے یہاں دجال طاعون داخل نہیں ہو سکتا۔
حدیث نمبر: 8918
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخَصِيبِ ، فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَظَّهَا مِنَ الْأَرْضِ ، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي السَّنَةِ ، فَبَادِرُوا بها نِقْيَهَا ، وَإِذَا عَرَّسْتُمْ ، فَاجْتَنِبُوا الطُّرُقَ ، فَإِنَّهَا طُرُقُ الدَّوَابِّ ، وَمَأْوَى الْهَوَامِّ بِاللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی سرسبز و شاداب علاقے میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دیا کرو (اور انہیں اطمینان سے چرنے دیا کرو) اور اگر خشک زمین میں سے سفر کرو تو تیز رفتاری سے اس علاقے سے گذر جایا کرو اور جب رات کو پڑاؤ کرنا چاہو تو راستے سے ہٹ کر پڑاو کیا کرو کیونکہ وہ رات کے وقت چوپاؤں کا راستہ اور کیڑے مکوڑوں کا ٹھکانہ ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 8919
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا هِجْرَةَ بَعْدَ ثَلَاثٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین دن کے بعد بھی قطع تعلقی رکھنا صحیح نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 8920
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى نَاسٍ جُلُوسٍ ، فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ ؟ " قَالَ : فَسَكَتُوا ، فَقَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، أَخْبِرْنَا بِخَيْرِنَا مِنْ شَرِّنَا ، قَالَ : " خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ ، وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ ، وَشَرُّكُمْ مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ ، وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ ایک جگہ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس جا کر کھڑے ہوئے ہوگئے اور فرمایا کیا میں تمہیں بتاؤں کہ تم میں سب سے بہتر اور سب سے بدتر کون ہے ؟ لوگ خاموش رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اپنی بات دہرائی اس پر ان میں سے ایک آدمی بولا کیوں نہیں یا رسول اللہ فرمایا تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس سے خیر کی امید ہو اور اس کے شر سے امن ہو اور سب سے بدتر وہ ہے جس سے خیر کی توقع نہ ہو اور اس کے شر سے امن نہ ہو۔
حدیث نمبر: 8921
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ : هَذِهِ النَّارُ جُزْءٌ مِنْ مِائَةِ جُزْءٍ مِنْ جَهَنَّمَ»
حدیث نمبر: 8922
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: «لَا يَجْتَمِعُ الْكَافِرُ وَقَاتِلُهُ فِي النَّارِ أَبَدًا»
مولانا ظفر اقبال
اور گذشہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کافر اور اس کا مسلمان قاتل جہنم میں کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔
حدیث نمبر: 8923
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنَّ الْعَبْدَ يَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ يَزِلُّ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بعض اوقات انسان کوئی بات کرتا ہے وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا لیکن قیامت کے دن اسی ایک کلمہ کے نتیجے میں مشرق سے مغرب تک کے درمیانی فاصلے میں جہنم میں لڑھکتا رہے گا۔
حدیث نمبر: 8924
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، مَا تَقُولُونَ ؟ هَلْ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ ؟ " قَالُوا : لَا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ ، قَالَ : " ذَاكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ، يَمْحُو اللَّهُ بِهَا الْخَطَايَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر تم میں سے کسی کے گھر کے دروازے کے سامنے ایک نہر بہہ رہی ہو اور وہ اس سے روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو کیا خیال ہے کہ اس کے جسم پر میل باقی رہے گا ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کوئی میل کچیل نہ رہے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز پنجگانہ کی مثال بھی یہی ہے کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8925
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ لَمْ يَقُلْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 8926
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْإِيمَانُ أَرْبَعَةٌ وَسِتُّونَ بَابًا ، أَرْفَعُهَا وَأَعْلَاهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان کے چونسٹھ شعبے ہیں جن میں سب سے افضل اور اعلیٰ لا الہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے ہلکا شعبہ راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے۔
حدیث نمبر: 8927
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلنَّاسِ : " أَحْسِنُوا صَلَاتَكُمْ ، فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ خَلْفِي كَمَا أَرَاكُمْ أَمَامِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا میں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے اپنے آگے اور سامنے کی چیزیں دیکھ رہا ہوتا ہوں اس لئے تم خوب اچھی طرح نماز ادا کیا کرو۔
حدیث نمبر: 8928
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يُلْدَغُ مُؤْمِنٌ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان کو ایک ہی سوارخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاسکتا۔
حدیث نمبر: 8929
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، وَالْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سَبَقَ دِرْهَمٌ دِرْهَمَيْنِ " ، قَالُوا : وَكَيْفَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " كَانَ لِرَجُلٍ دِرْهَمَانِ ، فَتَصَدَّقَ أَجْوَدَهمُا ، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ إِلَى عُرْضِ مَالِهِ فَأَخَذَ مِنْهُ مِائَةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ فَتَصَدَّقَ بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایک درہم دو درہموں پر سبقت لے گیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ کیسے ؟ فرمایا ایک آدمی کے پاس صرف دو درہم تھے اس نے ان میں سے بھی ایک صدقہ کردیا دوسرا آدمی اپنے لمبے چوڑے مال کے پاس پہنچا اور اس میں سے ایک لاکھ درہم نکال کر صدقہ کردئیے۔
حدیث نمبر: 8930
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَنْ يَزَالَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ عِصَابَةٌ عَلَى الْحَقِّ ، لَا يَضُرُّهُمْ خِلَافُ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک جماعت دین کے معاملے میں ہمیشہ حق پر رہے گی اور کسی مخالفت کرنے والے کی مخالفت اسے نقصان نہ پہنچاسکے گی یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور وہ اسی پر قائم ہوگی۔
حدیث نمبر: 8931
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بن حكيم ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، وَالْمُؤْمِنُ مَنْ آمَنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان وہ ہوتا ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مومن وہ ہوتا ہے جس کی طرف سے لوگوں کو اپنی جان اور مال کا امن ہو۔
حدیث نمبر: 8932
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " عَلَى كُلِّ نَفْسٍ مِنْ بَنِي آدَمَ كُتِبَ حَظُّهُ مِنَ الزِّنَا ، أَدْرَكَ ذَلِكَ لَا مَحَالَةَ ، فَالْعَيْنُ زِنَاهَا النَّظَرُ ، وَالْآذَانُ زِنَاهَا الِاسْتِمَاعُ ، وَالْيَدُ زِنَاهَا الْبَطْشُ ، وَالرِّجْلُ زِنَاهَا الْمَشْيُ ، وَاللِّسَانُ زِنَاهُ الْكَلَامُ ، وَالْقَلْبُ يَهْوَى وَيَتَمَنَّى ، وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ وَيُكَذِّبُهُ الْفَرْجُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے ہر انسان پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ چھوڑا ہے جسے وہ لا محالہ پا کر ہی رہے گا آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے کان کا زنا سننا ہے ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے پاؤں کا زنا چلنا ہے زبان کا زنا بولنا ہے انسان کا تمنا اور خواہش کرتا ہے جبکہ شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔
حدیث نمبر: 8933
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ ذَا زَبِيبَتَيْنِ ، يَتْبَعُ صَاحِبَهُ وَهُوَ يَتَعَوَّذُ مِنْهُ ، وَلَا يَزَالُ يَتْبَعُهُ حَتَّى يُلْقِمَهُ أُصْبُعَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (جس شخص کے پاس مال و دولت ہو اور وہ اس کا حق ادا نہ کرتا ہو) قیامت کے دن اس مال کو گنجا سانپ جس کے منہ میں دو ھاریں ہوں گی بنادیا جائے گا اور وہ اپنے مالک کا پیچھا کرے گا یہاں تک کہ اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے کر چبانے لگے گا۔
حدیث نمبر: 8934
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ فِي حُبِّ اثْنَتَيْنِ طُولِ الْحَيَاةِ ، وَكَثْرَةِ الْمَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بوڑھے آدمی میں دو چیزوں کی محبت جوان ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔
حدیث نمبر: 8935
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ يَعْنِي الشَّافِعِيَّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، وأبي الزناد ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " نَهَى عَنْ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھو کر یا کنکری پھینک کر خریدو فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 8936
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي تَمِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ ، وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ ، لَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دینار ایک دینار کے بدلے میں اور ایک درہم ایک درہم کے بدلے میں ہوگا اور ان کے درمیان کمی پیشی نہیں ہوگی۔
حدیث نمبر: 8937
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا تَلَقَّوْا السِّلَعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص دوسرے کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے کوئی شہری کسی دیہاتی کے لئے بائع (بچنے والا) نہ بنے آپس میں ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو اور باہر ہی باہر جا کر تاجروں سے مل کر سامان مت خریدو۔
حدیث نمبر: 8938
وَقَالَ : " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ ، وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو کسی مالدار کے حوالے کردیا جائے تو اسے اس ہی کا پیچھا کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 8939
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ يَسَارٍ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ ، وَأَنَا أَحِيضُ فِيهِ ، فَكَيْفَ أَصْنَعُ ؟ فَقَالَ : " إِذَا طَهُرْتِ فَاغْسِلِيهِ ، ثُمَّ صَلِّي فِيهِ " فَقَالَتْ : فَإِنْ لَمْ يَخْرُجْ الدَّمُ ؟ قَالَ : " يَكْفِيكِ الْمَاءُ ، وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خولہ بنت یسار رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہو کر کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس صرف ایک کپڑا ہے اور اس میں مجھ پر ناپاکی کے ایام بھی آتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم پاک ہوجایا کرو تو جہاں خون لگا ہو وہ دھو کر اس میں ہی نماز پڑھ لیا کرو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر خون کے دھبے کا نشان ختم نہ ہو تو ؟ فرمایا پانی کافی ہے اس کا نشان ختم نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑھتا۔
حدیث نمبر: 8940
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُنْضِي شَيَاطِينَهُ كَمَا يُنْضِي أَحَدُكُمْ بَعِيرَهُ فِي السَّفَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن اپنے پیچھے لگنے والے شیاطین کو اس طرح دبلا کردیتا ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص دوران سفر اپنے اونٹ کو دبلا کردیتا ہے۔
حدیث نمبر: 8941
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَصْحَابَ الصُّوَرِ الَّذِينَ يَعْمَلُونَهَا ، يُعَذَّبُونَ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن مصوروں کو جو تصویر سازی کرتے ہیں عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جن کی تخلیق کی تھی انہیں زندگی بھی دو ۔
حدیث نمبر: 8942
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ ، أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ ، فَهُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً ، وَأَلْيَنُ قُلُوبًا ، وَالْكُفْرُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ ، وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ وَالْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے اور کفر مشرقی جانب ہے غرور تکبر گھوڑوں اور اونٹوں کے مالکوں میں ہوتا ہے اور سکون و اطمینان بکریوں کے مالکوں میں ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 8943
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بن سعيد ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَأَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِي فِي وَجْهِهِ ، وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مَشْيِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَأَنَّمَا الْأَرْضُ تُطْوَى لَهُ ، إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا ، وَإِنَّهُ لَغَيْرُ مُكْتَرِثٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین کسی کو نہیں دیکھا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا سورج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر چمک رہا ہے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو تیز رفتار نہیں دیکھا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا زمین ان کے لئے لپیٹ دی گئی ہے ہم اپنے آپ کو بڑی مشقت میں ڈال کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل پاتے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر مشقت کا کوئی اثر نظر نہ آتا تھا۔
حدیث نمبر: 8944
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " حُفَّتْ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ ، وَحُفَّتْ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جہنم کو پسندیدہ خواہشات سے اور جنت کو ناپسندیدہ (مشکل) امور سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 8945
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ دَرَّاجٍ ، عَنْ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سَافِرُوا تَصِحُّوا ، وَاغْزُوا تَسْتَغْنُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفر کیا کرو صحت مند رہوگے اور جہاد کیا کرو مستغنی رہا کرو گے۔
حدیث نمبر: 8946
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ فِي حُبِّ اثْنَيْنِ طُولِ الْحَيَاةِ ، وَكَثْرَةِ الْمَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بوڑھے آدمی میں دو چیزوں کی محبت جوان ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔
حدیث نمبر: 8947
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ ، عَنْ مُحْصِنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ، ثُمَّ رَاحَ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا ، أَعْطَاهُ اللَّهُ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ صَلَّاهَا أَوْ حَضَرَهَا ، لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح کرے پھر نکل کر مسجد پہنچے لیکن وہاں پہنچنے پر معلوم ہو کہ لوگ تو نماز پڑھ چکے اللہ تعالیٰ اسے باجماعت نماز کا ثواب عطاء فرمائیں گے اور پڑھنے والوں کے ثواب میں کسی قسم کی کمی نہ ہوگی۔
حدیث نمبر: 8948
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا ضَيْفٍ نَزَلَ بِقَوْمٍ ، فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا ، فَلَهُ أَنْ يَأْخُذَ بِقَدْرِ قِرَاهُ ، وَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی قوم کے یہاں مہمان بنے لیکن صبح تک محروم ہی رہے تو وہ مہمان نوازی کی حد تک کسی سے بھی کچھ لے کر کھا سکتا ہے اور اس پر کوئی گناہ نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 8949
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو زُبَيْدٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ ، فَأَمَّا اللُّبْسَتَانِ : فَإِنَّهُ يَلْتَحِفُ فِي ثَوْبِهِ ، وَيُخْرِجُ شِقَّهُ ، أَوْ يَحْتَبِي بِثَوْبٍ وَاحِدٍ ، فَيُفْضِي بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَاءِ ، وَأَمَّا الْبَيْعَتَانِ : فَالْمُلَامَسَةُ أَلْقِ إِلَيَّ ، وَأُلْقِ إِلَيْكَ ، وَأَلْقِ الْحَجَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کی خریدو فروخت اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے لباس تو یہ ہے کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرہ سا بھی کپڑا نہ ہو اور یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے اور دو قسم کی بیع سے منع فرمایا ہے (١) ملامسہ یعنی مشتری (خریدنے والا) یوں کہے کہ تم میری طرف کوئی چیز ڈال دو یا میں تمہاری طرف ڈال دیتاہوں اور (٢) پتھر پھینکنے کی بیع۔
حدیث نمبر: 8950
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو زُبَيْدٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ سَأَلَهُمْ : " أعَلَيْهِ دَيْنٌ ؟ " فَإِنْ قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " تَرَكَ وَفَاءً ؟ " فَإِنْ قَالُوا : نَعَمْ ، صَلَّى عَلَيْهِ ، وَإِلَّا قَالَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی جنازہ لایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے یہ سوال پوچھتے کہ اس شخص پر کوئی قرض ہے ؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے کہ اسے اداء کرنے کے لئے اس نے کچھ مال چھوڑا ہے ؟ اگر لوگ کہتے جی ہاں ! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھادیتے اور اگر وہ ناں میں جواب دیتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما دیتے کہ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو۔
حدیث نمبر: 8951
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الزُّهْرِيُّ ، وَكَانَ مِنَ الْقَارَةِ ، وَهُوَ حَلِيفٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُمْ كَانُوا يَحْمِلُونَ اللَّبِنَ لِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ ، قَالَ : فَاسْتَقْبَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَارِضٌ لَبِنَةً عَلَى بَطْنِهِ ، فَظَنَنْتُ أَنَّهَا قَدْ شُقَّتْ عَلَيْهِ ، قُلْتُ : نَاوِلْنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " خُذْ غَيْرَهَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَإِنَّهُ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ تعمیر مسجد کے لئے اینٹیں اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کام میں ان کے ساتھ شریک تھے اسی اثناء میں میرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آمنا سامنا ہوگیا تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ پر اینٹ رکھی ہوئی ہے میں سمجھا کہ شاید اٹھانے میں دشواری ہو رہی ہے اس لئے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ مجھے دے دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوہریرہ دوسری اینٹ لے لو کیونکہ اصل زندگانی تو آخرت کی ہے۔
حدیث نمبر: 8952
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ صَالِحَ الْأَخْلَاقِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے مبعوث ہی اس لئے کیا گیا ہے کہ عمدہ اخلاق کی تکمیل کردوں۔
حدیث نمبر: 8953
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَلَيْكَ السَّمْعَ وَالطَّاعَةَ فِي عُسْرِكَ وَيُسْرِكَ ، وَمَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ ، وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ " ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ : الطَّاعَةُ ، وَلَمْ يَقُلْ : السَّمْعَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تنگی اور آسانی نشاط اور سستی اور دوسروں کو تم پر ترجیح دیئے جانے کی صورت میں بہرحال تم امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا اپنے اوپر لازم کرلو۔
حدیث نمبر: 8954
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ نُمَيْلَةَ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ فَسُئِلَ عَنْ أَكْلِ الْقُنْفُذِ ، فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ : قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا سورة الأنعام آية 145 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، فَقَالَ شَيْخٌ عِنْدَه : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " خَبِيثٌ مِنَ الْخَبَائِثِ " ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : إِنْ كَانَ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهُوَ كَمَا قَالَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت نمیلہ فزاری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا کہ کسی نے ان سے سیہ (ایک خاص قسم کا جانور) کے متعلق پوچھا انہوں نے اس کے سامنے یہ آیت تلاوت فرما دی " قل لا اجد فیما اوحی الی محرما " الی آخرہ، تو ایک بزرگ کہنے لگے کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ گندی چیزوں میں سے ایک ہے اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی ہے تو اسی طرح ہے جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔
…