حدیث نمبر: 8875
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر رفع یدین فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8875
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8876
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ ، لَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ منورہ کے سوراخوں پر فرشتوں کا پہرہ ہے اس لئے یہاں دجال یا طاعون داخل نہیں ہوسکتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8876
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1880، م: 1379
حدیث نمبر: 8877
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَاهُنَا ؟ فَوَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَيَّ خُشُوعُكُمْ وَلَا رُكُوعُكُمْ ، إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میرا قبلہ یہاں سمجھتے ہو ؟ واللہ مجھ پر تمہارا خشوع مخفی ہوتا ہے اور نہ رکوع میں تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8877
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 418، م: 423
حدیث نمبر: 8878
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمَقَابِرِ ، فَقَالَ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَكُمْ لَاحِقُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان تشریف لے گئے وہاں پہنچ کر قبرستان والوں کو سلام کرتے ہوئے فرمایا اے جماعت مومنین کے مکینو ! تم پر سلام ہو ان شاء اللہ ہم بھی تم سے آکر ملنے والے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8878
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 249
حدیث نمبر: 8879
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَافَهُ ضَيْفٌ وَهُوَ كَافِرٌ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ ، فَشَرِبَ الْكَافِرُ حِلَابَهَا ، ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ ، ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ ، حَتَّى شَرِبَ حِلَابَ سَبْعِ شِيَاهٍ ، ثُمَّ إِنَّهُ أَصْبَحَ فَأَسْلَمَ ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ ، فَشَرِبَ حِلَابَهَا ، ثُمَّ أَمَرَ بِأُخْرَى ، فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤْمِنُ يَشْرَبُ فِي مِعًى وَاحِدٍ ، وَالْكَافِرُ يَشْرَبُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ایک مہمان آیا جو کہ کافر تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اس کے لئے ایک بکری کا دودھ دوہا گیا اس نے وہ سارادودھ پی لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بکری کو دوہنے کا حکم دیا وہ اس کا بھی دودھ پی گیا اس طرح کرتے کرتے وہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا اگلے دن اس نے اسلام قبول کرلیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اس کے لئے بکری کا دودھ دوہا گیا اس نے پی لیا دوسری بکری کو دوہنے کا حکم دیا تو وہ اسے پورا نہ کرسکا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8879
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2063
حدیث نمبر: 8880
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ ، قَالَ : لَمَّا نِمْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ، لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ ، لَمْ يَضُرَّكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ اسلم کے ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ آج رات جب میں سو رہا تھا تو مجھے ایک بچھو نے ڈس لیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم نے شام کو یہ جملے کہے ہوتے اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ما خلق تو وہ تمہیں کبھی نقصان نہ پہنچاتا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8880
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2709
حدیث نمبر: 8881
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْغَيْثِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَافِلُ الْيَتِيمِ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ ، أَنَا وَهُوَ كَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ ، إِذَا اتَّقَى اللَّهَ " ، وَأَشَارَ مَالِكٌ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے یا کسی دوسرے کے یتیم بچے کی پرورش کرنے والا، میں اور وہ جنت میں اس طرح ہوں گے بشرطیکہ وہ اللہ سے ڈرتا ہو امام مالک رحمہ اللہ نے شہادت والی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8881
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2983
حدیث نمبر: 8882
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً ، يُصَلِّي اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرَاً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو شخص کسی بھی نماز کی ایک رکعت پالے گویا اس نے پوری نماز پا لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8882
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 408
حدیث نمبر: 8883
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً ، فَقَدْ أَدْرَكَهَا كُلَّهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی بھی نماز کی ایک رکعت پالے گویا اس نے پوری نماز پا لی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8883
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 580، م: 607
حدیث نمبر: 8884
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " َنَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ ، وَعَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں مار کر بیع کرنے سے اور دھوکہ کی تجارت سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8884
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1513
حدیث نمبر: 8885
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ خُبَيْبٍ يَعْنِي بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین کا جو حصہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کا ایک باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر نصب کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8885
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1196، م: 1391
حدیث نمبر: 8886
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَجْلِدْهَا وَلَا يُعَيِّرْهَا ، فَإِنْ عَادَتْ فَلْيَجْلِدْهَا وَلَا يُعَيِّرْهَا ، فَإِنْ عَادَتْ فَلْيَجْلِدْهَا وَلَا يُعَيِّرْهَا ، فَإِنْ عَادَتْ فِي الرَّابِعَةِ فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعَرٍ ، أَوْ ضَفِيرٍ مِنْ شَعَرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کی باندی زنا کرے اور اس کا جرم ثابت ہوجائے تو اسے کوڑوں کی سزا دے لیکن اسے عار نہ دلائے پھر تیسری یا چوتھی مرتبہ یہی گناہ سرزد ہونے پر فرمایا کہ اسے بیچ دے خواہ اس کی قیمت صرف بالوں سے گندھی ہوئی ایک رسی ہی ملے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8886
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2152، م: 1703
حدیث نمبر: 8887
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَرَّمَ عَلَى لِسَانِي مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ " ، ثُمَّ جَاءَ بَنُو فُلَانٍ ، فَقَالَ : " مَا أَرَاكُمْ إِلَّا قَدْ خَرَجْتُمْ مِنَ الْحَرَمِ " ، ثُمَّ نَظَرَ فَقَالَ : " بَلْ أَنْتُمْ فِيهِ ، بَلْ أَنْتُمْ فِيهِ " ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ : ثُمَّ جَاءَ بَنُو جَارِيَةَ ، وَإِنَّمَا هُمْ بَنُو حَارِثَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری زبانی مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کا درمیانی علاقہ حرم قرار دیا گیا ہے تھوڑی دیر بعد بنو حارثہ کے کچھ لوگ آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا میرا خیال ہے کہ تم لوگوں کی رہائش حرم سے باہر نکل رہی ہے پھر تھوڑی دیر غور کرنے کے بعد فرمایا نہیں تم حرم کے اندر ہی ہو نہیں تم حرم کے اندر ہی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8887
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1869، م: 1372
حدیث نمبر: 8888
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِيه ، قَالَ : وَكَانَ نَازِلًا عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ بِالْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي صَلَاةً لَيْسَتْ بِالْخَفِيفَةِ ، وَلَا بِالطَّوِيلَةِ ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ : نَحْوًا مِنْ صَلَاةِ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : فَقُلْتُ لأبِي هُرَيْرَةَ : أَهَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي ؟ قَالَ : وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ صَلَاتِي ؟ قَالَ : قُلْتُ : خَيْرًا ، أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْأَلَكَ ، قَالَ : فَقُلْتُ : نَعَمْ ، أَوْ أَوْجَزَ .
مولانا ظفر اقبال
ابو خالد رحمہ اللہ جو مدینہ منورہ میں ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے مہمان تھے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جو بہت مختصر تھی اور نہ بہت لمبی میں نے ان سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح نماز پڑھایا کرتے تھے (جیسے آپ ہمیں پڑھاتے ہیں) حضرت ابوہریر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہیں میری نماز میں کیا چیز اوپری اور اجنبی محسوس ہوتی ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میں یوں ہی اس کے متعلق آپ سے پوچھنا چاہ رہا تھا فرمایا ہاں بلکہ اس سے بھی مختصر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8888
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8889
حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الصَّاغَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ مُيَسَّرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا ، وَإِذَا قَالَ : وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، فَقُولُوا : آمِينَ ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا ، فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام کو تو مقرر ہی اس لئے کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے اس لئے جب وہ تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو جب وہ قرأت کرے تو تم خاموش رہو جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا و لک الحمد " کہو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8889
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 734، م: 414، وهذا إسناد ضعيف لضعف محمد بن ميسر، لكنه متابع
حدیث نمبر: 8890
حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ فِتْيَانِي فَيَجْمَعُوا حَطَبًا ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا يَؤُمُّ النَّاسَ ، ثُمَّ أُخَالِفُ إِلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الصَّلَاةِ ، فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّ لَهُ بِشُهُودِهَا عَرْقًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ ، لَشَهِدَهَا ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهَا لَأَتَوْهَا وَلَوْ حَبْوًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا ارادہ ہوا کہ میں اپنے جوانوں کو حکم دوں وہ لکڑیاں جمع کریں پھر میں ایک آدمی کو حکم دوں جو لوگوں کی امامت کرے اور میں پیچھے سے ان لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز میں شریک نہیں ہوتے اور ان کے گھروں کو آگ لگادوں واللہ اگر ان میں سے کسی کو پتہ چل جائے کہ نماز میں آنے سے اسے ایک موٹی تازی سری یا دو عمدہ کھر ملیں گے تو وہ ضرور اس میں شرکت کرے حالانکہ اگر انہیں اس کے ثواب کا پتہ ہوتا تو وہ نماز میں ضرور شرکت کرتے خواہ انہیں گھٹنوں کے بل گھس کر آنا پڑتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8890
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2420، م: 651، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي سعد
حدیث نمبر: 8891
حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام کو یاد دلانے کے لئے سبحان اللہ کہنا مردوں کے لئے ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8891
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1203،م: 622، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي سعد
حدیث نمبر: 8892
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا ، مَا تَرَكْتُهُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَئُونَةِ عَامِلِي يَعْنِي عَامِلَ أَرْضِهِ فَهُوَ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے ورثاء دینار و درہم کی تقسیم نہیں کریں گے میں نے اپنی بیویوں کے نفقہ اور اپنی زمین کے عامل کی تنخواہوں کے علاوہ جو کچھ چھوڑا ہے وہ سب صدقہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8892
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2776، م: 1760
حدیث نمبر: 8893
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ ، إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی اولاد اپنے والد کے جرم کا بدلہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی (باپ کے جرم کا بدلہ اس کی اولاد سے نہیں لیا جائے گا) البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے باپ کو غلامی کی حالت میں پائے تو اسے خرید کر آزاد کر دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8893
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1510
حدیث نمبر: 8894
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنِ الْأَغْرِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي : قَالَ اللَّهُ : " الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي ، وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي ، فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا أَدْخَلْتُهُ جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے کہ کبریائی میری اوپر کی چادر ہے اور عزت میری نیچے کی چاد رہے جو دونوں میں سے کسی ایک کے بارے مجھ سے جھگڑا کرے گا میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8894
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2620
حدیث نمبر: 8895
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ ، قَالَ : " لَا يَزْنِي الزَّانِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ ، وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس وقت کوئی شخص بدکاری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا جس وقت کوئی شخص چوری کرتا ہے وہ مومن نہیں رہتا جس وقت کوئی شراب پیتا ہے وہ مومن نہیں رہتا اور توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8895
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2475، م: 57
حدیث نمبر: 8896
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمَطْلُ ظُلْمُ الْغَنِيِّ ، وَمَنْ أُتْبِعَ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرض کی ادائیگی میں مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو کسی مالدار کے حوالے کردیا جائے تو اسے اس ہی کا پیچھا کرنا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8896
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2288، م: 1564
حدیث نمبر: 8897
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ يَتَقَاضَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْتَمِسُوا لَهُ مِثْلَ سِنِّ بَعِيرِهِ " قَالَ : فَالْتَمَسُوا لَهُ ، فَلَمْ يَجِدُوا إِلَّا فَوْقَ سِنِّ بَعِيرِهِ ، قَالَ : " فَأَعْطُوهُ فَوْقَ بَعِيرِهِ " فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : أَوْفَيْتَنِي أَوْفَاكَ اللَّهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ خَيْرَكُمْ خَيْرُكُمْ قَضَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے کے لئے آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اس کے اونٹ جتنی عمر کا ایک اونٹ تلاش کرکے لے آؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے تلاش کیا لیکن مطلوبہ عمر کا اونٹ نہ مل سکا ہر اونٹ اس سے بڑی عمر کا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اسے بڑی عمر ہی کا اونٹ دے دو وہ دیہاتی کہنے لگا کہ آپ نے مجھے پورا پورا ادا کیا اللہ آپ کو پورا پورا عطاء فرمائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے سب سے بہترین وہ ہے جو اداء قرض میں سب سے بہتر ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8897
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2305، م: 1601
حدیث نمبر: 8898
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَسَحَّرُوا ، فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سحری کھایا کرو کیونکہ سحری کے کھانے میں برکت ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8898
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن أبي ليلى
حدیث نمبر: 8899
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي نَعْلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8899
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف للرجل المبهم، وهو أبو الأوبر لا يعرف
حدیث نمبر: 8900
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ ، فَإِنَّ حَرَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ظہر کی نماز ٹھنڈی کرکے پڑھا کرو کیونکہ گرمی کی شدت جن ہم کی تپش کا اثر ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8900
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 533، م: 615
حدیث نمبر: 8901
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي غاضرةٍ ، قال : قَيل لِمَرْوَانَ : هَذَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى الْبَابِ ، قَالَ : ائْذَنُوا لَهُ ، قَالَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " أَوْشَكَ الرَّجُلُ أَنْ يَتَمَنَّى أَنَّهُ خَرَّ مِنَ الثُّرَيَّا وَأَنَّهُ لَمْ يَتَوَلَّ أَوْ يَلِ ، شَكَّ أَبُو بَكْرٍ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا " . قَالَ : قَالَ : وَسَمِعْتُهُ , يَقُولُ : " إِنَّ هَلَاكَ الْعَرَبِ بِيَدَيْ فِتْيَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ " ، قَالَ : قَالَ مَرْوَانُ : بِئْسَ وَاللَّهِ الْفِتْيَةُ هَؤُلَاءِ .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ مروان کو بتایا گیا کہ اس کے دروازے پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہیں اس نے کہا کہ انہیں اندر بلاؤ جب وہ اندر آگئے تو مروان نے کہا کہ اے ابوہریرہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان یہ تمنا کرے گا کاش وہ ثریا ستارے کی بلندی سے گر جاتا لیکن کاروبار حکومت میں سے کوئی ذمہ داری اس کے حوالے نہ کی جاتی۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عرب کی ہلاکت قریش کے چند نوجوانوں کے ہاتھوں ہوگی مروان کہنے لگا واللہ وہ تو بدترین نوجوان ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8901
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، الرجل المبهم هو يزيد بن شريك، لم نقف له على ترجمة
حدیث نمبر: 8902
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ " ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ تُوَاصِلُ ! قَالَ : " إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ ، إِنِّي أَظَلُّ عِنْدَ رَبِّي يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8902
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1965، م: 1103
حدیث نمبر: 8903
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَرَآهُمْ عِزِينَ مُتَفَرِّقِينَ ، قَالَ : فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا ، مَا رَأَيْنَاهُ غَضِبَ غَضَبًا أَشَدَّ مِنْهُ ، قَالَ : " وَاللَّهِ ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يَؤُمُّ النَّاسَ ، ثُمَّ أَتَتَبَّعَ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي دُورِهِمْ ، فَأُحَرِّقَهَا عَلَيْهِمْ " وَرُبَّمَا قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو لوگوں کو متفرق گروہوں میں دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا شدید غصہ آیا کہ ہم نے اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے شدید غصے میں کبھی نہ دیکھا تھا اور فرمایا واللہ میں نے یہ ارادہ کرلیا تھا کہ ایک آدمی کو لوگوں کی امامت کا حکم دوں اور جو لوگ نماز سے ہٹ کر اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں ان کی تلاش میں نکلوں اور ان کے گھروں کو آگ لگا دوں (بعض اوقات راوی نماز عشاء کی قید بھی لگاتے تھے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8903
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2420، م: 651
حدیث نمبر: 8904
حَدَّثَنَا أَسْوَد بن عامر ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ ، إِلَّا مِن أَمْرِ حَقَّ ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے برابر اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ لاالہ الا اللہ کا اقرار نہ کرلیں جب وہ یہ کلمہ پڑھ لیں تو سمجھ لیں کہ انہوں نے مجھ سے اپنی جان مال کو محفوظ کرلیا سوائے اس کے حق کے اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8904
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 21
حدیث نمبر: 8905
حَدَّثَنَا أَسْوَد بن عامر ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " اثْنَانِ هُمَا كُفْرٌ النِّيَاحَةُ ، وَالطَّعْنُ فِي النَّسَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کرتے تھے دو چیزیں کفر ہیں ایک تو نوحہ کرنا اور دوسرا کسی کے نسب پر طعنہ مارنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8905
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 67
حدیث نمبر: 8906
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُؤْتَ بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَبْشًا أَمْلَحَ ، فَيُقَالُ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، تَعْرِفُونَ هَذَا ؟ قال : فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ مُشْفِقِينَ ، قَالَ : يَقُولُونَ : نَعَمْ ، قَالَ : ثُمَّ يُنَادَى أَهْلُ النَّارِ تَعْرِفُونَ هَذَا ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَيُذْبَحُ ، ثُمَّ يُقَالُ : خُلُودٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَخُلُودٌ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن موت کو ایک مینڈھے کی شکل میں لا کر پل صراط پر کھڑا کردیا جائے گا اور اہل جنت کو پکار کر بلایا جائے گا وہ خوفزدہ ہو کر جھانکیں گے کہیں انہیں جنت سے نکال تو نہیں دیا جائے گا پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم اسے پہنچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے کہ جی (پروردگار) یہ موت ہے) پھر اہل جہنم کو پکار کر آوازدی جائے گی کہ کیا تم اسے پہنچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے جی ہاں (یہ موت ہے) چنانچہ اللہ کے حکم پر اسے پل صراط پر ذبح کردیا جائے اور دونوں گروہوں سے کہا جائے گا کہ تم جن حالات میں رہ رہے ہو۔ اس میں تم ہمیشہ ہمیش رہوگے ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8906
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8907
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَهُ ، إِلَّا أَنَّهُ زَادَ فِيهِ : " فيُؤْتَى بِهِ عَلَى الصِّرَاطِ فَيُذْبَحُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8907
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8908
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، أَنْبَأَنَا أَبُو حَصِينٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِغَنِيٍّ ، وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مالدار یا ہٹے کٹے صحیح سالم آدمی کے لئے زکوٰۃ کا پیسہ حلال نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8908
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه سالم كثير الإرسال عن الصحابة، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 8909
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ ، وَالْإِمَامُ ضَامِنٌ ، اللَّهُمَّ أَرْشِدْ الْأَئِمَّةَ ، وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار اے اللہ اماموں کی رہنمائی فرما اور موذنین کی مغفرت فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8909
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8910
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَبَّاسٍ مَوْلَى عَقِيلَةَ بِنْتِ طَلْقٍ الْغِفَارِيَّةِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُحَلِّقَ حَبِيبَهُ حَلْقَةً مِنْ نَارٍ ، فَلْيَجْعَلْ لَهُ حَلْقَةً مِنْ ذَهَبٍ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَوِّقَ حَبِيبَهُ طَوْقًا مِنْ نَارٍ ، فَلْيُطَوِّقْهُ طَوْقًا مِنْ ذَهَبٍ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُسَوِّرَ حَبِيبَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ ، فَلْيُسَوِّرْهُ سِوَارًا مِنْ ذَهَبٍ ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِالْفِضَّةِ ، فَالْعَبُوا بِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے دوست کو آگ کا چھلا پہنانا چاہے وہ اسے سونے کا چھلا پہنا دے البتہ چاندی استعمال کرلیا کرو اور اس کے ذریعے ہی دل بہلا لیا کرو اور جو شخص اپنے دوست کو جہنم کی آگ کا طوق پہنانا چاہے وہ اسے سونے کا ہار پہنا دے اور جو اسے آگ کے کنگن پہنانا چاہے وہ اسے سونے کے کنگن پہنا دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8910
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 8911
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ ، نَادَى مُنَادٍ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، خُلُودٌ لَا مَوْتَ فِيهِ ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ ، خُلُودٌ لَا مَوْتَ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو ایک منادی آواز لگائے گا کہ اے اہل جنت تم ہمیشہ اس میں رہوگے یہاں موت نہیں آئے گی اور اے اہل جہنم تم بھی ہمیشہ اس میں رہوگے یہاں موت نہیں آئے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8911
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وإسناده قوي، خ: 6545
حدیث نمبر: 8912
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ الْجُلَاحِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ نَاسًا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : إِنَّا نَبْعُدُ فِي الْبَحْرِ ، وَلَا نَحْمِلُ مِنَ الْمَاءِ إِلَّا الْإِدَاوَةَ وَالْإِدَاوَتَيْنِ ، لِأَنَّا لَا نَجِدُ الصَّيْدَ حَتَّى نَبْعُدَ ، أَفَنَتَوَضَّأُ بِمَاءِ الْبَحْرِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، فَإِنَّهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ ، الطَّهُورُ مَاؤُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ ہم لوگ سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ پینے کے لئے تھوڑا سا پانی رکھتے ہیں اگر اس میں وضو کرنے لگیں تو ہم پیاسے رہ جائیں کیا سمندر کے پانی سے ہم وضو کرسکتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سمندر کا پانی پاکیزگی بخش ہے اور اس کا مردار (مچھلی) حلال ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8912
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده مختلف فيه
حدیث نمبر: 8913
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَة بن سعيد ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَوَّلُ مَنْ يُدْعَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُقَالُ : هَذَا أَبُوكُمْ آدَمُ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، فَيَقُولُ لَهُ رَبُّنَا : أَخْرِجْ نَصِيبَ جَهَنَّمَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ وَكَمْ ؟ فَيَقُولُ : مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ " فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِذَا أُخِذَ مِنَّا مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُينَ ، فَمَاذَا يَبْقَى مِنَّا ؟ قَالَ : " إِنَّ أُمَّتِي فِي الْأُمَمِ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن سب سے پہلے جس شخص کو بلایا جائے گا اس کے متعلق کہا جائے گا کہ یہ تمہارے باپ آدم علیہ السلام ہیں حضرت آدم علیہ السلام عرض کریں گے کہ پروردگار میں حاضر ہوں پروردگار کا ارشاد ہوگا کہ جہنم کا حصہ اپنی اولاد میں سے نکالو وہ پوچھیں گے پروردگار کتنا ؟ ارشاد ہوگا ہر سو میں سے ننانوے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ جب ہر سو میں سے ہمارے ننانوے آدمی لے لئے جائیں گے تو پیچھے کیا بچے گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دوسری امتوں کے مقابلے میں میری امت کی مثال کالے بیل میں سفید بال کی سی ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8913
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 6529
حدیث نمبر: 8914
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَهَلَّ رَمَضَانُ ، غُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ ، وَفُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ ، وَصُفِّدَتْ الشَّيَاطِينُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ماہ رمضان شروع ہوتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8914
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 1899 م: 1079