حدیث نمبر: 8835
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، مِائَةَ مَرَّةٍ ، لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ ، إِلَّا أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ ، أَوْ زَادَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح و شام سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ کہہ لے قیامت کے دن کوئی شخص اس سے افضل عمل والا نہیں آئے گا الاّ یہ کہ کسی اور نے بھی یہ کلمات اتنی ہی مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ کہے ہوں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8835
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2692
حدیث نمبر: 8836
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ بَدَا جَفَا ، وَمَنْ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ ، وَمَنْ أَتَى أَبْوَابَ السُّلْطَانِ افْتُتِنَ ، وَمَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنَ السُّلْطَانِ قُرْبًا إِلَّا ازْدَادَ مِنَ اللَّهِ بُعْدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دیہات میں رہتا ہو وہ اپنے ساتھ زیادتی کرتا ہے جو شخص شکار کے پیچھے پڑتا ہے وہ غافل ہوجاتا ہے جو بادشاہوں کے دروازے پر آتا ہے وہ فتنے میں مبتلا ہوتا ہے اور جو شخص بادشاہ کا جتنا قرب حاصل کرتا جاتا ہے اللہ سے اتنا ہی دور ہوتا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8836
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث ضعيف للاضطراب الذي وقع في إسناده
حدیث نمبر: 8837
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي أَبَا أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيَّ , قَالَ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَال : أَخْبَرَنِي عَمِّي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ فِي أَنْ يَمْشِيَ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ مُعْتَرِضًا وَهُوَ يُنَاجِي رَبَّهُ ، كَانَ أَنْ يَقِفَ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ مِائَةَ عَامٍ ، أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَخْطُوَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی شخص کو یہ معلوم ہوجائے کہ اپنے نمازی بھائی کے آگے سے گذرنے کی کیا سزا ہے تو اس یک نظروں میں وہاں سے گذرنے کی نسبت سو سال تک کھڑا رہنا زیادہ بہتر ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8837
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، وعبيد الله بن عبدالله مجهول، وعبيد الله بن عبدالرحمن ليس بذاك القوي، وفي الاسناد قلب
حدیث نمبر: 8838
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنِ الْحُصَيْنِ كَذَا قَالَ ، عَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْر ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ ، وَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ ، وَمَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ ، وَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ ، وَمَنْ أَكَلَ فَمَا تَخَلَّلَ فَلْيَلْفِظْ ، وَمَنْ لَاكَ بِلِسَانِهِ فَلْيَبْتَلِعْ ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ ، وَمَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا أَنْ يَجْمَعَ كَثِيبًا ، فَلْيَسْتَدْبِرْهُ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص سرمہ لگائے وہ طاق عدد کا خیال رکھے جو خیال رکھ لے تو بہت اچھا ورنہ کوئی حرج بھی نہیں ہے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے وہ طاق عدد کا خیال رکھے جو خیال رکھ لے تو بہت اچھا ورنہ کوئی حرج بھی نہیں ہے اور جو شخص کھانا کھائے تو خلال کو پھینک دے اور جو زبان سے چبا لیا ہو اسے نگل لے جو خیال رکھ لے تو بہت اچھا ورنہ کوئی حرج بھی نہیں ہے جو شخص بیت الخلاء آئے تو ستر کا خیال رکھے اگر اسے ٹیلے کے علاوہ کچھ نہ ملے تو اس کی طرف پشت کرلے کیونکہ شیطان بنی آدم کی شرمگاہوں سے کھلیتا ہے جو ایسا کرلے تو بہت اچھا ورنہ کوئی حرج بھی نہیں ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8838
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف حصين، ولجهالة أبي سعد
حدیث نمبر: 8839
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي بْنَ خَلِيفَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، فَسَمِعْنَا وَجْبَةً ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَدْرُونَ مَا هَذَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " هَذَا حَجَرٌ أُرْسِلَ فِي جَهَنَّمَ مُنْذُ سَبْعِينَ خَرِيفًا ، فَالْآنَ انْتَهَى إِلَى قَعْرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ہم نے ایک دھماکے کی آواز سنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیسی آواز ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی زیادہ جانتے ہیں فرمایا یہ ایک پتھر کی آواز ہے جیسے ستر سال پہلے جہنم میں لڑھکایا گیا تھا وہ پتھر اب اس کی تہہ میں پہنچا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8839
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بلفظ: « إذ سمع وجبة » ، م: 2844، تفرد يزيد وأخطأ فى لفظ الحديث فرواه على الاخبار بسماع الصحابة في مجلس النبي ﷺ لصوت سقوط الحجر
حدیث نمبر: 8840
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي بْنَ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : كُنْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ ، وَهُوَ يُمِرُّ الْوَضُوءَ إِلَى إِبْطِهِ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، مَا هَذَا الْوُضُوءُ ؟ قَالَ : يَا بَنِي فَرُّوخَ ، أَنْتُمْ هَاهُنَا ؟ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ هَاهُنَا مَا تَوَضَّأْتُ هَذَا الْوُضُوءَ ، إِنِّي سَمِعْتُ خَلِيلِي ، يَقُولُ : " تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنَ الْمُؤْمِنِ إِلَى حَيْثُ يَبْلُغُ الْوُضُوءُ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوحازم کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا تھا وہ وضو فرما رہے تھے اور اپنے ہاتھ بغل تک دھو رہے تھے میں نے پوچھا ابوہریرہ ! یہ کیسا وضو ہے ؟ انہوں نے مجھے دیکھ کر فرمایا اے بنی فروخ تم یہاں اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم یہاں موجود ہو تو میں اس طرح کبھی وضو نہ کرتا (بہرحال اب تمہیں پتہ چل ہی گیا ہے تو سنو کہ) میں نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان کے اعضاء کی چمک وہاں تک پہنچتی ہے جہاں تک وضو کا پانی پہنچتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8840
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وإسناده قوي، م: 250
حدیث نمبر: 8841
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي بْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا وَلَمْ يُوصِ ، فَهَلْ يُكَفِّرُ عَنْهُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهُ ؟ فَقَال : نَعَمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے انہوں نے مال تو چھوڑا ہے لیکن کوئی وصیت نہیں کی کیا میرا ان کی طرف سے صدقہ کرنا صحیح ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں صحیح ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8841
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1630
حدیث نمبر: 8842
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَدْرُونَ مَنْ الْمُفْلِسُ ؟ " قَالُوا : الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ ، قَالَ : " إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا ، وَقَذَفَ هَذَا ، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا ، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا ، وَضَرَبَ هَذَا ، فَيُقْضَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ مَا عَلَيْهِ ، أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہوتا ہے ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ! ہمارے درمیان تو مفلس وہ ہوتا ہے جس کے پاس کوئی ورپیہ پیسہ اور ساز و سامان نہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کا مفلس وہ آدمی ہوگا جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا لیکن کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا اسے بٹھا لیا جائے گا اور ہر ایک کو اس کی نیکیاں دے کر ان کا بدلہ دلوایا جائے گا اگر اس کے گناہوں کا فیصلہ مکمل ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں تو حقداروں کے گناہ لے کر اس پر لاد دئیے جائیں گے پھر اسے جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8842
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2581
حدیث نمبر: 8843
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ ، وَاللِّسَانُ يَزْنِي ، وَالْيَدَانِ تزْنِيَانِ ، وَالرِّجْلَانِ تزْنِيَانِ ، يُحَقِّقُ ذَلِكَ الْفَرْجُ أَوْ يُكَذِّبُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (ہر انسان کا بدکاری میں حصہ ہے چنانچہ) آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8843
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6612، م: 2657
حدیث نمبر: 8844
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَنْبَأَنَا الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ : إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب انسان مرجاتا ہے تو تین اعمال کے علاوہ اس کے سارے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں ایک تو صدقہ جاریہ دوسرا نفع بخش علم تیسرا نیک اولاد جو اپنے والدین کے لئے دعاء کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8844
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1631
حدیث نمبر: 8845
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ " قِيلَ : مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتْهُ ، وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ ، وَإِذَا مَاتَ فَاتْبَعْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں کسی نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کون سے حقوق ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (١) ملاقات ہو تو سلام کرے (٢) دعوت دے تو قبول کرے (٣) خیرخواہی چاہے تو اس کی خیرخواہی کرے (٤) چھینکے تو اس کا جواب دے (٥) بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے (٦) مرجائے تو جنازے میں شرکت کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8845
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1240، م: 2162
حدیث نمبر: 8846
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْكُفْرُ قِبَلَ الْمَشْرِقِ ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ ، وَالْفَخْرُ وَالرِّيَاءُ فِي الْفَدَّادِينَ وَالْخَيْلُ وَالْوَبَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان یمن والوں کا بہت عمدہ ہے کفر مشرق کی جانب ہے سکون و اطمینان بکری والوں میں ہوتا ہے فخر و ریاکاری گھوڑوں اور اونٹوں کے مالکوں میں ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8846
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52
حدیث نمبر: 8847
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال : " لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقُ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، حَتَّى تُقَادَ الشَّاةُ الْجَلْحَاءُ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن حقداروں کو ان کے حقوق ادا کئے جائیں گے حتی کے بےسینگ بکری کو سینگ والی بکری سے جس نے اسے سینگ مارا ہوگا بھی قصاص دلوایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8847
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2582
حدیث نمبر: 8848
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال : " بَادِرُوا فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا ، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا ، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان فتنوں کے آنے سے پہلے جو تاریک رات کے حصوں کی طرح ہوں گے اعمال صالحہ کی طرف سبقت کرلو اس زمانے میں آدمی صبح کو مومن اور شام کو کافر ہوگا یا شام کو مومن اور صبح کو کافر ہوگا اور اپنے دین کو دنیا کے تھوڑے سے ساز و سامان کے عوض فروخت کردیا کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8848
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 118
حدیث نمبر: 8849
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أبي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا : طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، أوِ الدَّجَّالَ ، أوِ الدُّخَانَ ، أوِ الدَّابَّةَ ، أَوْ خَاصَّةَ أَحَدِكُمْ ، أَوْ أَمْرَ الْعَامَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھ واقعات رونما ہونے سے قبل اعمال صالحہ میں سبقت کرلو سورج کا مغرب سے طلوع ہونا دجال کا خروج دھواں چھا جانا دابۃ الارض کا خروج تم میں سے کسی خاص آدمی کی موت یا سب کی عمومی موت۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8849
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2947
حدیث نمبر: 8850
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا ، فَإِذَا طَلَعَتْ آمَنَ النَّاسُ حِينَئِذٍ أَجْمَعُونَ ، وَيَوْمَئِذ لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا سورة الأنعام آية 158 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ جائے جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا اور لوگ اسے دیکھ لیں گے تو اللہ پر ایمان لے آئیں گے لیکن اس وقت کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8850
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2114
حدیث نمبر: 8851
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْجَرَسُ مَزَامِيرُ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھنٹی شیطان کا باجا ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8851
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4636، م: 157
حدیث نمبر: 8852
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : سَعِّرْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّمَا يَرْفَعُ اللَّهُ وَيَخْفِضُ ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَيْسَ لِأَحَدٍ عِنْدِي مَظْلَمَةٌ " ، قَالَ آخَرُ : سَعِّرْ ، فَقَالَ : " ادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چیزوں کے نرخ مقرر کردیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نرخ مہنگے اور ارزاں اللہ ہی کرتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اللہ سے اس حال میں ملوں کہ میری طرف کسی کا کوئی ظلم نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8852
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8853
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اتَّقُوا اللَّعَّانَيْنِ " ، قَالُوا : وَمَا اللَّعَّانَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الَّذِي يَتَخَلَّى فِي طَرِيقِ النَّاسِ ، أَوْ فِي ظِلِّهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو لعنت زدہ کاموں سے بچو صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کام کون سے ہیں ؟ فرمایا لوگوں کی گذرگاہ میں یا سایہ کی جگہ (آرام گاہ) میں اپنے پیٹ کا بوجھ ہلکا کرنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8853
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 269
حدیث نمبر: 8854
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے اس پر دس رحمتیں بھیجتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8854
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 408
حدیث نمبر: 8855
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کی ایذا رسانی سے دوسرا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8855
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 46
حدیث نمبر: 8856
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُبَّ صَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ صِيَامِهِ الْجُوعُ وَالْعَطَشُ ، وَرُبَّ قَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ قِيَامِهِ السَّهَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کتنے ہی روزہ دار ایسے ہوتے ہیں جن کے حصے میں صرف بھوک پیاس آتی ہے اور کتنے ہی تراویح میں قیام کرنے والے ہیں جن کے حصے میں صرف شب بیداری آتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8856
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 8857
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بُعِثْتُ مِنْ خَيْرِ قُرُونِ بَنِي آدَمَ قَرْنًا فَقَرْنًا ، حَتَّى بُعِثْتُ مِنَ الْقَرْنِ الَّذِي كُنْتُ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے زمانے کے تسلسل میں بنی آدم کے سب سے بہترین زمانے میں منتقل کیا جاتا رہا ہے یہاں تک کہ مجھے اس زمانے میں مبعوث کردیا گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8857
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وإسناده جيد، خ: 3557
حدیث نمبر: 8858
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ ظَنَنْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، أَلَّا يَسْأَلَنِي عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَحَدٌ أَوَّلَ مِنْكَ ، لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْحَدِيثِ ، أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ خَالِصَةً مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ قیامت کے دن آپ کی شفاعت کے بارے میں سب سے زیادہ خوش نصیب کون ہوگا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا یہی گمان تھا کہ اس چیز کے متعلق میری امت میں سب سے پہلے تم ہی سوال کرو گے کیونکہ میں علم کے بارے تمہارے حرص دیکھ رہا ہوں جو شخص خلوص دل کے ساتھ لاالہ الا اللہ کی گواہی دیتا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8858
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد جيد ، خ: 6570
حدیث نمبر: 8859
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ شَيْخًا يَمْشِي بَيْنَ ابْنَيْهِ ، مُتَوَكِّئًا عَلَيْهِمَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا شَأْنُ هَذَا الشَّيْخِ ؟ " قَالَ ابْنَاهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَ عَلَيْهِ نَذْرٌ ، فَقَالَ لَهُ : " ارْكَبْ أَيُّهَا الشَّيْخُ ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ غَنِيٌّ عَنْكَ وَعَنْ نَذْرِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عمر رسیدہ آدمی کو اپنے دو بیٹوں کے درمیان ان کا سہارا لے کر چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کہ ان بزرگ کا کیا معاملہ ہے ؟ (یہ سوار کیوں نہیں ہوجاتے ؟ ) اس کے بیٹوں نے بتایا کہ یا رسول للہ صلی اللہ علیہ وسلم انہوں نے منت مان رکھی تھی (اسے پورا کرنے کے لئے سوار نہیں ہو رہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بزرگو ! سوار ہوجاؤ اللہ آپ اور آپ کی منت سے بڑا غنی ہے (وہ قبول کرلے گا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8859
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وإسناده جيد، م: 1643
حدیث نمبر: 8860
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ النَّذْرَ لَا يُقَرِّبُ مِنَ ابْنِ آدَمَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ اللَّهُ قَدَّرَهُ لَهُ ، وَلَكِنَّ النَّذْرَ مُوَافِقٌ الْقَدَرَ ، فَيُخْرَجُ بِذَلِكَ مِنَ الْبَخِيلِ مَا لَمْ يَكُنْ الْبَخِيلُ يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا فیصلہ نہیں کیا ابن آدم کی منت اسے وہ چیز نہیں دلا سکتی البتہ اس منت کے ذریعے کنجوس آدمی سے پیسے نکلوا لئے جاتے ہیں وہ منت مان کر وہ کچھ دے دیتا ہے جو اپنے بخل کی حالت میں کبھی نہیں دیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8860
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده جيد، خ: 6694 ، م: 1640
حدیث نمبر: 8861
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي بْنَ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " دَعَا اللَّهُ جِبْرِيلَ ، فَأَرْسَلَهُ إِلَى الْجَنَّةِ ، فَقَالَ : انْظُرْ إِلَيْهَا وَمَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : وَعِزَّتِكَ ، لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا ، فَحُجِبَتْ بِالْمَكَارِهِ ، فَقَالَ : ارْجِعْ إِلَيْهَا فَانْظُرْ إِلَيْهَا ، فَرَجَعَ إِلَيْهَا ، فَقَال : وَعِزَّتِكَ ، لَقَدْ خَشِيتُ أَلَّا يَدْخُلَهَا أَحَدٌ ، ثُمَّ أَرْسَلَهُ إِلَى النَّارِ ، فَقَالَ : اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا وَمَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا ، فَرَجَعَ إِلَيْه ، فَقَالَ : وَعِزَّتِكَ لَا يَدْخُلُهَا أَحَدٌ يَسْمَعُ بِهَا ، فَحُجِبَتْ بِالشَّهَوَاتِ ، ثُمَّ قَالَ : عُدْ إِلَيْهَا فَانْظُرْ إِلَيْهَا ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ ، فَقَال : وَعِزَّتِكَ ، لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَبْقَى أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (جب اللہ نے جنت اور جہنم کو پیدا کیا تو) حضرت جبرائیل علیہ السلام کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ جا کر اسے دیکھ آؤ اور میں نے اس میں جو چیزیں تیار کی ہیں وہ بھی دیکھ آؤ چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام گئے اور جنت اور اس میں مہیا کی گئی نعمتوں کو دیکھا اور واپس آکر بارگاہ الٰہی میں عرض کیا کہ آپ کی عزت کی قسم اس کے متعلق جو بھی سنے گا اس میں داخل ہونا چاہے گا اللہ کے حکم پر اسے ناپسندیدہ اور ناگوار چیزوں کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا اللہ نے فرمایا اب جا کر اسے اور اس کی نعمتوں کو دیکھ کر آؤ چنانچہ وہ دوبارہ گئے اس مرتبہ وہ ناگوار امور سے ڈھانپ دی گئی تھی وہ واپس آکر عرض رسا ہوئے کہ آپ کی عزت کی قسم مجھے اندیشہ ہے کہ اب اس میں کوئی داخل ہی نہیں ہوسکے گا۔ اللہ نے نے فرمایا کہ اب جا کر جہنم اور اہل جہنم کے لئے تیار کردہ سزائیں دیکھ کر آؤ جب وہ وہاں پہنچے تو اس کا ایک حصہ دوسرے پر چڑھے جا رہا تھا واپس آکر کہنے لگے کہ آپ کی عزت کی قسم کوئی شخص بھی جو اس کے متعلق سنے گا اس میں داخل ہونا نہیں چاہے گا اللہ کے حکم پر اسے خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا اس مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ کی عزت کی قسم مجھے تو اندیشہ ہے کہ اب کوئی آدمی اس سے بچ نہیں سکے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8861
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8862
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي بْنَ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنَ الصُّبْحِ يَوْمًا ، فَأَتَى النِّسَاءَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَوَقَفَ عَلَيْهِنَّ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ، مَا رَأَيْتُ مِنْ نَوَاقِصِ عُقُولٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِقُلُوبِ ذَوِي الْأَلْبَابِ مِنْكُنَّ ، فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَتَقَرَّبْنَ إِلَى اللَّهِ مَا اسْتَطَعْتُنَّ " ، وَكَانَ فِي النِّسَاءِ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَأَتَتْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَأَخْبَرَتْهُ بِمَا سَمِعَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَتْ حُلِيًّا لَهَا ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : فَأَيْنَ تَذْهَبِينَ بِهَذَا الْحُلِيِّ ؟ فَقَالَتْ : أَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ لَا يَجْعَلَنِي مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَقَالَ : وَيْلَكِ ، هَلُمِّي فَتَصَدَّقِي بِهِ عَلَيَّ وَعَلَى وَلَدِي ، فَإِنَّا لَهُ مَوْضِعٌ ، فَقَالَتْ : لَا وَاللَّهِ حَتَّى أَذْهَبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَتْ تَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَذِهِ زَيْنَبُ تَسْتَأْذِنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ : " أَيُّ الزَّيَانِبِ هِيَ ؟ " فَقَالُوا : امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : " ائْذَنُوا لَهَا " ، فَدَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي سَمِعْتُ مِنْكَ مَقَالَةً ، فَرَجَعْتُ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فَحَدَّثْتُهُ ، وَأَخَذْتُ حُلِيًّا أَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكَ ، رَجَاءَ أَنْ لَا يَجْعَلَنِي اللَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَقَالَ لِي ابْنُ مَسْعُودٍ : تَصَدَّقِي بِهِ عَلَيَّ وَعَلَى وَلَدِي ، فَإِنَّا لَهُ مَوْضِعٌ ، فَقُلْتُ : حَتَّى أَسْتَأْذِنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَصَدَّقِي بِهِ عَلَيْهِ وَعَلَى بَنِيهِ فَإِنَّهُمْ لَهُ مَوْضِعٌ " ، ثُمَّ قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ مَا سَمِعْتُ مِنْكَ حِينَ وَقَفْتَ عَلَيْنَا : " مَا رَأَيْتُ مِنْ نَوَاقِصِ عُقُولٍ قَطُّ وَلَا دِينٍ أَذْهَبَ بِقُلُوبِ ذَوِي الْأَلْبَابِ مِنْكُنَّ " ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَمَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعُقُولِنَا ؟ فَقَالَ : " أَمَّا مَا ذَكَرْتُ مِنْ نُقْصَانِ دِينِكُنَّ : فَالْحَيْضَةُ الَّتِي تُصِيبُكُنَّ ، تَمْكُثُ إِحْدَاكُنَّ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَمْكُثَ لَا تُصَلِّي وَلَا تَصُومُ ، فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ دِينِكُنَّ ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتُ مِنْ نُقْصَانِ عُقُولِكُنَّ : فَشَهَادَتُكُنَّ ، إِنَّمَا شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ نِصْفُ شَهَادَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر پڑھ کر واپس ہوئے تو مسجد میں موجود خواتین کے قریب سے گذرتے ہوئے وہاں رک گئے اور فرمایا اے گروہ خواتین بڑے بڑے عقلمندوں کے دلوں پر قبضہ کرنے والی ناقص العقل والدین کوئی مخلوق میں نے تم سے بڑھ کر نہیں دیکھی اور میں نے دیکھا ہے کہ قیامت کے دن اہل جہنم میں تمہاری اکثریت ہوگی اس لئے حسب استطاعت اللہ سے قرب حاصل کرنے کے لئے صدقہ خیرات کیا کرو۔ ان خواتین میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ بھی تھیں انہوں نے گھر آکر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنایا اور اپنا زیور لے کر چلنے لگیں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کہاں لے جارہی ہو ؟ انہوں نے کہا کہ میں اس کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل کرنا چاہتی ہوں تاکہ اللہ مجھے جہنمیوں میں سے نہ کردے انہوں نے فرمایا بھئی یہ میرے پاس لاؤ اور مجھ پر اور میرے بچے پر اسے صدقہ کردو کہ ہم تو اس کے مستحق بھی ہیں ان کی اہلیہ نے کہا واللہ ایسا نہیں ہوسکتا میں اسے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے پاس جاؤں گی۔ چنانچہ وہ چلی گئیں اور کاشانہ نبوت میں داخل ہونے کے لئے اجازت چاہی لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ زینب اجازت چاہتی ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون سی زینب ؟ (کیونکہ یہ کئی عورتوں کا نام تھا) لوگوں نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ فرمایا انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو چنانچہ وہ اندر داخل ہوگئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے آپ سے ایک حدیث سنی تھی میں اپنے شوہر ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس واپس پہنچی تو انہیں بھی وہ حدیث سنائی اور اپنا زیور لے کر آنے لگی کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل کروں اور امید یہ تھی کہ اللہ مجھے اہل جہنم میں شمار نہیں فرمائے گا تو مجھ سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہنے لگے یہ مجھ پر اور میرے بچے پر صدقہ کردو کیونکہ ہم اس کے مستحق ہیں میں نے ان سے کہا کہ پہلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لوں گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ ان پر صدقہ کردو کیونکہ وہ واقعی اس کے مستحق ہیں۔ پھر وہ کہنے لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو بتائیے کہ جب آپ ہمارے پاس آکر کھڑے ہوئے تھے تو میں نے ایک بات اور بھی سنی تھی کہ میں نے بڑے بڑے عقلمندوں کے دلوں پر قبضہ کرنے والی ناقص العقل والدین کوئی مخلوق تم سے بڑھ کر نہیں دیکھی تو یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے دین اور عقل میں نقصان سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا تمہیں اپنے دین کا نقصان یاد نہیں ہے کہ وہ ایام جو تمہیں پیش آتے ہیں اور جب تک اللہ کی مرضی ہوتی ہے تم رکی رہتی ہو نماز روزہ نہیں کرسکتی ہو یہ تو دین کا نقصان ہے اور جہاں تک عقل کے ناقص ہونے کی بات ہے تو وہ تمہاری گواہی ہے کہ عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے نصف ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8862
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد، م: 80
حدیث نمبر: 8863
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ ، أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا پھر فرمائے گا کہ میں ہوں بادشاہ کہاں ہیں زمین کے بادشاہ ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8863
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 6519، م: 2787
حدیث نمبر: 8864
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْحَمِيمَ لَيُصَبُّ عَلَى رُءُوسِهِمْ ، فَيَنْفُذُ الْجُمْجُمَةَ حَتَّى يَخْلُصَ إِلَى جَوْفِهِ ، فَيَسْلُتَ مَا فِي جَوْفِهِ حَتَّى يَمْرُقَ مِنْ قَدَمَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل جہنم کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلاجائے گا جو ان کی کھوپڑی میں سوراخ کرتا ہوا پیٹ تک پہنچے گا اور اس میں موجود ساری آنتوں کو باہر نکال دے گا یہاں تک کہ پیروں کے راستے باہر نکل آئے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8864
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبي السمح
حدیث نمبر: 8865
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ وُهَيْبٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ ، وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِغَزْوٍ ، مَاتَ عَلَى شُعْبَةِ نِفَاقٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں مرجائے کہ جہاد کیا ہو اور نہ ہی اس کے دل میں جہاد کا خیال آیا ہو وہ نفاق کے ایک شعبے پر مرا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8865
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 1910
حدیث نمبر: 8866
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، سَمِعْتُ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ احْتَبَسَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، إِيمَانًا بِاللَّهِ وَتَصْدِيقًا لِمَوْعُودِهِ ، كَانَ شِبَعُهُ وَرِيُّهُ وَبَوْلُهُ وَرَوْثُهُ حَسَنَاتٍ فِي مِيزَانِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے گھوڑے کو اللہ کے راستہ میں روکے رکھے اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے وعدے کو سچا سمجھتے ہوئے تو اس کا کھانے سے سیراب ہونا پینے سے سیراب ہونا پیشاب اور لید قیامت کے دن اس شخص کے ترازو میں نیکیاں بن جائیں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8866
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 2853
حدیث نمبر: 8867
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ : يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا سورة الزلزلة آية 4 ، قَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا أَخْبَارُهَا ؟ " ، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " فَإِنَّ أَخْبَارَهَا : أَنْ تَشْهَدَ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ وَأَمَةٍ بِمَا عَمِلَ عَلَى ظَهْرِهَا ، أَنْ تَقُولَ : عَمِلْتَ عَلَيَّ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا " ، قَالَ : " فَهُوَ أَخْبَارُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس دن زمین اپنی ساری خبریں بیان کردے گی اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ زمین کی خبروں سے کیا مراد ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں فرمایا زمین کی خبروں سے مراد یہ ہے کہ زمین ہر مرد و عورت کے متعلق ان تمام اعمال کی گواہی دے گی جو انہوں نے اس کی پشت پر رہ کر کئے ہوں گے اور وہ کہے گی کہ تو نے فلاں دن فلاں عمل کیا تھا یہ مراد ہے زمین کی خبروں سے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8867
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، يحيى ضعيف
حدیث نمبر: 8868
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْن المُبَارَكٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عِيسَى الثَّقَفِيِّ ، عَنْ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ ، فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الْأَهْلِ ، مَثْرَاةٌ فِي الْمَالِ ، مَنْسَأَةٌ فِي أَثَرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا سلسلہ نسب اتنا تو سیکھ لو کہ جس سے صلہ رحمی کرسکو کیونکہ صلہ رحمی سے اس شخص کے ساتھ محبت بڑھتی ہے مال میں اضافہ ہوتا ہے اور مصائب ٹل جاتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8868
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8869
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھی بات بھی صدقہ ہے اور جو قدم نماز کی طرف اٹھاؤ وہ بھی صدقہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8869
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 2707، م: 1009
حدیث نمبر: 8870
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ المُبَارَكٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَظَلَّكُمْ شَهْرُكُمْ هَذَا ، لَمَحْلُوفُ رَسُولِ اللَّهِ ، مَا مَرَّ بِالْمُؤْمِنِينَ شَهْرٌ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْهُ ، وَلَا بِالْمُنَافِقِينَ شَهْرٌ شَرٌّ لَهُمْ مِنْهُ ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَكْتُبُ أَجْرَهُ وَنَوَافِلَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُدْخِلَهُ ، وَيَكْتُبُ إِصْرَهُ وَشَقَاءَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُدْخِلَهُ ، وَذَلِكَ أَنَّ الْمُؤْمِنَ يُعِدُّ فِيهِ الْقُوَّةَ لِلْعِبَادَةِ مِنَ النَّفَقَةِ ، وَيُعِدُّ الْمُنَافِقُ اتِّبَاعَ غَفْلَةِ النَّاسِ ، وَاتِّبَاعَ عَوْرَاتِهِمْ ، فَهُوَ غُنْمٌ لِلْمُؤْمِنِ يَغْتَنِمُهُ الْفَاجِرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مہینہ تم پر سایہ فگن ہوا پیغمبر اللہ قسم کھاتے ہیں کہ مسلمانوں پر ماہ رمضان سے بہتر کوئی مہینہ سایہ فگن نہیں ہوتا اور منافقین پر رمضان سے زیادہ سخت کوئی مہینہ نہیں آتا اللہ تعالیٰ اس کے آنے سے پہلے اس کا اجر اور نوافل لکھنا شروع کردیتا ہے اور منافقین کا گناہوں پر اصرار اور بدبختی بھی پہلے سے لکھنا شروع کردیتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اس مہینے میں عبادت کے لئے طاقت مہیا کرتے ہیں اور منافقین لوگوں کی غفلتوں اور عیوب کو تلاش کرتے ہیں گویا یہ مہنیہ مسلمان کے لئے غنیمت ہے جس پر گناہ گار لوگ رشک کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8870
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف كثير
حدیث نمبر: 8871
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَة ، يقولَ : " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ ، فَاسْتَقْبَلَنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ ، فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُنَّ بِسِيَاطِنَا وَعِصِيِّنَا فَنَقْتُلُهُنَّ ، فَسُقِطَ فِي أَيْدِينَا ، فَقُلْنَا : مَا نَصْنَعُ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ ؟ ! فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَا بَأْسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حج یا عمرے کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ راستے میں ٹڈی دل کا ایک غول نظر آیا ہم انہیں اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے اور وہ ایک ایک کرکے ہمارے سامنے گرنے لگے ہم نے سوچا کہ ہم تو محرم ہیں ان کا کیا کریں ؟ پھر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (سمندر کے شکار میں) کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8871
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جداً، أبو المهزم متروك الحديث ،
حدیث نمبر: 8872
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ ، لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ ، لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اذان اور صف اول میں نماز کا کیا ثواب ہے اور پھر انہیں یہ چیزیں قرعہ اندازی کے بغیر حاصل نہ ہو سکیں تو وہ ان دونوں کا ثواب حاصل کرنے کے لئے قرعہ اندازی کرنے لگیں اور اگر لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ جلدی نماز میں آنے کا کتنا ثواب ہے تو وہ اس کی طرف سبقت کرنے لگیں اور اگر انہیں یہ معلوم ہوجائے کہ نماز عشاء اور نماز فجر کا کتنا ثواب ہے تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرور شرکت کریں خواہ انہیں گھسٹ گھسٹ کر ہی آنا پڑے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8872
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 615، م: 437
حدیث نمبر: 8873
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، مِائَةَ مَرَّةٍ ، كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشَرَةِ رِقَابٍ ، وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ ، وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا امْرُؤٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، وَمَنْ قَالَ : فِي يَوْمٍ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، مِائَةَ مَرَّةٍ ، حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دن میں تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے لاالہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد و ہو علی کل شیء قدیر۔ تو یہ دس غلاموں کو آزاد کرنے کے برابر ہوگا اور اس کے لئے سو نیکیاں لکھی جائیں گی سو گناہ مٹا دئیے جائیں گے اور شام تک وہ شیطان سے اس کی حفاظت کا سبب ہوں گے اور کوئی شخص اس سے افضل عمل نہیں پیش کرسکے گا سوائے اس شخص کے جو اس سے زیادہ عمل کرے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دن میں سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ کہہ لے اس کے سارے گناہ مٹا دئیے جائیں گے خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8873
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وهو فى الحقيقة حديثان، خ: 3293، 6405، م: 2691
حدیث نمبر: 8874
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي وَهُوَ بِطَرِيقٍ ، إِذْ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ ، فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا ، فَشَرِبَ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ ، يَأْكُلُ الثَّرَى مِنَ الْعَطَشِ ، فَقَالَ : لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنَ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي بَلَغَنِي ، فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ مَاءً ، ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ حَتَّى رَقِيَ بِهِ ، فَسَقَى الْكَلْبَ ، فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی راستے میں چلا جا رہا تھا کہ اسے پیاس نے شدت سے ستایا اسے قریب ہی ایک کنواں مل گیا اس نے کنوئیں میں اتر کر اپنی پیاس بجھائی اور باہر نکل آیا اچانک اس کی نظر ایک کتے پر پڑی جو پیاس کے مارے کیچڑ چاٹ رہا تھا اس نے اپنے دل میں سوچا کہ اس کتے کو بھی اسی طرح پیاس لگ رہی ہوگی جیسے مجھے لگ رہی تھی چنانچہ وہ دوبارہ کنوئیں میں اترا اپنے موزے کو پانی سے بھرا اور اسے منہ سے پکڑ لیا اور باہر نکل کر کتے کو وہ پانی پلا دیا اللہ نے اس کے اس عمل کی قدر دانی فرمائی اور اسے بخش دیا صحابہ رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جانوروں میں بھی ہمارے لئے اجر رکھا گیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر تر جگر رکھنے والی چیز میں اجر رکھا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8874
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2363، م: 2244