حدیث نمبر: 8795
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ مُسْتَجَابَةٌ ، وَإِنْ كَانَ فَاجِرًا فَفُجُورُهُ عَلَى نَفْسِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مظلوم کی بددعاء ضرور قبول ہوتی ہے اگرچہ وہ فاسق و فاجر ہی ہو کیونکہ اس کے فسق و فجور کا تعلق اسی کی ذات سے ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8795
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى معشر
حدیث نمبر: 8796
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْلَا مَا فِي الْبُيُوتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالذُّرِّيَّةِ ، لَأَقَمْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ ، وَأَمَرْتُ فِتْيَانِي يُحْرِقُونَ مَا فِي الْبُيُوتِ بِالنَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو میں نماز عشاء کھڑی کرنے کا حکم دے کر اپنے نوجوانوں کو حکم دیتا کہ ان گھروں میں جو کچھ ہے اسے آگ لگا دیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8796
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2420، م: 651، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى معشر
حدیث نمبر: 8797
حَدَّثَنَا خَلَفُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا أُحِبُّ أَنَّ عِنْدِي أُحُدًا ذَهَبًا ، وَيَمُرُّ بِي ثَلَاثٌ وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ ، إِلَّا شَيْئًا أَعْدَدْتُهُ لِغَرِيمِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے پاس احد پہاڑ بھی سونے کا بن کر آجائے تو مجھے اس میں خوشی ہوگی کہ اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کردوں اور تین دن بھی مجھ پر نہ گذرنے پائیں کہ ایک دینار یا درہم بھی میرے پاس باقی نہ بچے سوائے اس چیز کے جو میں اپنے اوپر واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8797
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا سند محتمل للتحسين، خ: 2389، م: 991
حدیث نمبر: 8798
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا ، وَشَرُّهَا آخِرُهَا ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا ، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں کی صفوں میں پہلی صف سب سے بہترین اور آخری صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں آخری صف سب سے بہترین اور پہلی صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8798
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 440
حدیث نمبر: 8799
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ يَرْضَى لَكُمْ ثَلَاثًا ، وَيَسْخَطُ لَكُمْ ثَلَاثًا : يَرْضَى لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ، وَأَنْ تُنَاصِحُوا مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ أَمْرَكُمْ ، وَيَسْخَطُ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے تمہارے لئے تین باتوں کو ناپسند اور تین باتوں کو پسند کیا ہے پسند تو اس بات کو کیا ہے کہ تم صرف اس ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ بازی نہ کرو اور حکمرانوں کے خیرخواہ رہو اور ناپسند اس بات کو کیا ہے کہ زیادہ قیل و قال کی جائے مال کو ضائع کیا جائے اور کثرت سے سوال کئے جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8799
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1715
حدیث نمبر: 8800
حَدَّثَنَا خَلَفُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بِتَغْطِيَةِ الْوَضُوءِ ، وَإِيكَاءِ السِّقَاءِ ، وَإِكْفَاءِ الْإِنَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رات کو سوتے وقت وضو کا پانی ڈھانپ دینے مشکیزے کا منہ باندھ دینے اور برتنوں کو اوندھا کردینے کا حکم دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8800
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8801
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَا أَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ أَتَاهُ عَنِّي حَدِيثٌ وَهُوَ مُتَّكِئٌ فِي أَرِيكَتِهِ , فَيَقُولُ : اتْلُوا عَلَيَّ بِهِ قُرْآنًا ! مَا جَاءَكُمْ عَنِّي مِنْ خَيْرٍ قُلْتُهُ أَوْ لَمْ أَقُلْهُ ، فَأَنَا أَقُولُهُ ، وَمَا أَتَاكُمْ عَنِّي مِنْ شَرٍّ ، فَأَنَا لَا أَقُولُ الشَّرَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم میں سے کسی ایسے آدمی کے متعلق نہ سنوں کہ اس کے سامنے میری کوئی حدیث بیان کی جائے اور وہ مسہری پر ٹیک لگا کر بیٹھا ہو اور کہے کہ میرے سامنے تو قرآن پڑھو (حدیث نہ پڑھو) تمہارے پاس میرے حوالے سے خیر کی جو بات بھی پہنچے خواہ میں نے کہی ہو یا نہ کہی ہو وہ میری ہی کہی ہوئی ہے اور میرے حوالے سے جو غلط بات تم تک پہنچے تو یاد رکھو کہ میں غلط بات نہیں کہتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8801
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبي معشر
حدیث نمبر: 8802
حَدَّثَنَا خَلَفٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَأُرَاهُ ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ فِي الصَّلَاةِ إِلَى السَّمَاءِ ، أَوْ لَيَخْطِفَنَّ اللَّهُ أَبْصَارَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ دوران نماز آسمان کی طرف آنکھیں اٹھا کر دیکھنے سے باز آجائیں ورنہ ان کی بصارتیں سلب کرلی جائیں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8802
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 429، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 8803
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مِنْ أَيْنَ أَنْتَ ؟ " قَالَ : بَرْبَرِيٌّ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قُمْ عَنِّي " قَالَ : بِمِرْفَقِهِ هَكَذَا ، فَلَمَّا قَامَ عَنْهُ ، أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " إِنَّ الْإِيمَانَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ایک شخص شریک تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو ؟ اس نے کہا کہ میں بربری ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس سے اٹھ جاؤ جب وہ چلا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان ان لوگوں کے گلے سے بھی نیچے نہیں اترے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8803
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف و متنه منكر، صالح مختلط
حدیث نمبر: 8804
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي عِيدًا ، وَلَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا ، وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَصَلُّوا عَلَيَّ ، فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے قبر کو جشن منانے کی جگہ نہ بنانا اور اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنانا اور جہاں کہیں بھی ہو مجھ پر درود پڑھتے رہنا کیونکہ تمہارا درود مجھے پہنچتا رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8804
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8805
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَأْخُذَ أُمَّتِي بِمَأْخَذِ الْأُمَمِ وَالْقُرُونِ قَبْلَهَا ، شِبْرًا بِشِبْرٍ ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَمَا فَعَلَتْ فَارِسُ وَالرُّومُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَهَلْ النَّاسُ إِلَّا أُولَئِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میری امت گزشتہ امتوں والے اعمال میں بالشت بالشت بھر اور گز گز بھر مبتلا نہ ہوجائے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جیسے فارس اور روم کے لوگوں نے کیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو کیا ان کے علاوہ بھی پہلے کوئی لوگ گذرے ہیں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8805
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 7319
حدیث نمبر: 8806
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، يَعْنِي مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8806
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8807
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ صَدَاقُنَا إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ أَوَاقٍ ، وَطَبَّقَ بِيَدَيْهِ ، وَذَلِكَ أَرْبَعُ مِائَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود رہے ہمارا مہر دس اوقیہ چاندی ہوتا تھا اور انہوں نے اپنے ہاتھ جوڑ کر دکھائے یہ کل چار سو درہم کی مقدار بنتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8807
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8808
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنِّي رَأَيْتُنِي عَلَى قَلِيبٍ أَنْزِعُ بِدَلْوٍ ، ثُمَّ أَخَذَهَا أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ بِهَا ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ فِيهِمَا ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَرْحَمُهُ ، ثُمَّ أَخَذَهَا عُمَرُ ، فَإِنْ بَرِحَ يَنْزِعُ حَتَّى اسْتَحَالَتْ غَرْبًا ثُمَّ ضَرَبَتْ بِعَطَنٍ ، فَمَا رَأَيْتُ مِنْ نَزْعِ عَبْقَرِيٍّ أَحْسَنَ مِنْ نَزْعِ 63 عُمَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ خواب میں میں نے دیکھا کہ میں ایک حوض پر ڈول کھینچ کر لوگوں کو پانی پلا رہا ہوں پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور مجھے راحت پہنچانے کے لئے میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا اور ایک دو ڈول کھینچے لیکن اس میں کچھ کمزروی کے آثار تھے اللہ ان پر رحم فرمائے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے انہوں نے وہ ڈول لیا اور وہ ڈول ان کے ہاتھ میں آکر بڑا ڈول بن گیا لوگ اس سے سیراب ہوگئے اور میں نے عمر سے اچھا ڈول کھینچنے والا کوئی عبقری آدمی نہیں دیکھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8808
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3664، م: 2392
حدیث نمبر: 8809
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى عَلَى الْجِنَازَةِ , قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا ، وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا ، وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا ، وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا ، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز جنازہ پڑھاتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ ہمارے زندہ اور فوت شدہ موجود اور غائب چھوٹوں اور بڑوں مردوں اور عورتوں کی بخشش فرما اے اللہ تو ہم میں سے جسے زندہ رکھا اسلام پر زندہ رکھ اور جسے موت دے ایمان پر موت دے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8809
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب، لكنه قد توبع
حدیث نمبر: 8810
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ أَيِسَ أَنْ يُعْبَدَ بِأَرْضِكُمْ هَذِهِ ، وَلَكِنَّهُ قَدْ رَضِيَ مِنْكُمْ بِمَا تَحْقِرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان اس بات سے مایوس ہوگیا ہے کہ تمہاری اس سر زمین عرب میں دو باہرہ اس کی پوجا کی جائے گی البتہ وہ ایسی چیزوں پر خوش ہوگیا ہے جنہیں تم حقیر سمجھتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8810
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8811
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ تَرَوْا مَا قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ : مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ كَافِرِينَ ، يَقُولُونَ : الْكَوْكَبُ وَبِالْكَوْكَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو تو سہی کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے وہ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے بندوں پر جتنی بھی نعمتیں برسائیں ہمیشہ ایک گروہ نے ان کی ناشکری ہی کی اور یہی کہتے رہے کہ یہ فلاں ستارے کی تاثیر ہے اور یہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8811
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 72، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين
حدیث نمبر: 8812
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ يَعْنِي الصَّنْعَانِيَّ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى نَاسٍ جُلُوسٍ ، فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِكُمْ مِنْ شَرِّكُمْ ؟ " فَسَكَتَ الْقَوْمُ ، فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " خَيْرُكُمْ مَنْ يُرْجَى خَيْرُهُ وَيُؤْمَنُ شَرُّهُ ، وَشَرُّكُمْ مَنْ لَا يُرْجَى خَيْرُهُ وَلَا يُؤْمَنُ شَرُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک جگہ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس جا کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا کیا میں تمہیں بتاؤں کہ تم میں سب سے بہتر اور سب سے بدتر کون ہے ؟ لوگ خاموش رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اپنی بات دہرائی اس پر ان میں سے ایک آدمی بولا کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس سے خیر کی امید ہو اور اس کے شر سے امن ہو اور سب سے بدتر وہ ہے جس سے خیر کی توقع نہ ہو اور اس کے شر سے امن نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8812
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8813
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ ، أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَقُولُ الْعَبْدُ : مَالِي وَمَالِي ، وَإِنَّمَا لَهُ مِنْ مَالِهِ ثَلَاثٌ مَا أَكَلَ فَأَفْنَى ، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى ، أَوْ أَعْطَى فَأَقْنَى ، مَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کہتا پھرتا ہے میرا مال میرا مال حالانکہ اس کا مال تو صرف یہ تین چیزیں ہیں جو کھا کر فناء کردیا یا اللہ کے راستہ میں دے کر کسی کو خوش کردیا اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ سب لوگوں کے لئے رہ جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8813
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2959
حدیث نمبر: 8814
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَقَعَنَّ رَجُلٌ عَلَى امْرَأَةٍ وَحَمْلُهَا لِغَيْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص ایسی عورت سے مباشرت نہ کرے جو کسی دوسرے سے حاملہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8814
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف رشدين
حدیث نمبر: 8815
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ إِنْسَانٍ تَلِدُهُ أُمُّهُ يَلْكُزُهُ الشَّيْطَانُ بِحِضْنَيْهِ ، إِلَّا مَا كَانَ مِنْ مَرْيَمَ وَابْنِهَا ، أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الصَّبِيِّ حِينَ يَسْقُطُ كَيْفَ يَصْرُخُ ؟ " قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ : " فَذَاكَ حِينَ يَلْكُزُهُ الشَّيْطَانُ بِحِضْنَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیدا ہونے والے بچے کو شیطان کچو کے لگاتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم (علیہا السلام) کے ساتھ ایسا نہیں ہوا کیا تم اس بات کو دیکھتے نہیں کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو کسی طرح رو رہا ہوتا ہے ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہی تو ہے جو شیطان اسے کچوکے لگاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8815
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3431، م: 2366
حدیث نمبر: 8816
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ ، أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَجْتَمِعُ الْكَافِرُ وَقَاتِلُهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِي النَّارِ أَبَدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کافر اور اس کا مسلمان قاتل جہنم میں کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8816
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1891
حدیث نمبر: 8817
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنِ الْعَلَاء ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُجْمَعُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ، ثُمَّ يَطْلُعُ عَلَيْهِمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ ، ثُمَّ يُقَالُ : أَلَا تَتَّبِعُ كُلُّ أُمَّةٍ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ ؟ فَيَتَمَثَّلُ لِصَاحِبِ الصَّلِيبِ صَلِيبُهُ ، وَلِصَاحِبِ الصُّوَرِ صُوَرُهُ ، وَلِصَاحِبِ النَّارِ نَارُهُ ، فَيَتَّبِعُونَ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ ، وَيَبْقَى الْمُسْلِمُونَ ، فَيَطْلُعُ عَلَيْهِمْ رَبُّ الْعَالَمِينَ ، فَيَقُولُ : أَلَا تَتَّبِعُونَ النَّاسَ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ، نعوذُِِ بالَََََّلهِِِ منكَ ، اللَّهُ رَبُّنَا ، وَهَذَا مَكَانُنَا حَتَّى نَرَى رَبَّنَا ، وَهُوَ يَأْمُرُهُمْ وَيُثَبِّتُهُمْ ، ثُمَّ يَتَوَارَى ، ثُمَّ يَطْلُعُ , فَيَقُولُ : أَلَا تَتَّبِعُونَ النَّاسَ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ، نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ ، اللَّهُ رَبُّنَا ، وَهَذَا مَكَانُنَا حَتَّى نَرَى رَبَّنَا ، وَهُوَ يَأْمُرُهُمْ وَيُثَبِّتُهُمْ " ، قَالُوا : وَهَلْ نَرَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ؟ " قَالُوا : لَا ، قَالَ : " فَإِنَّكُمْ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ تِلْكَ السَّاعَةَ ، ثُمَّ يَتَوَارَى ، ثُمَّ يَطْلُعُ فَيُعَرِّفُهُمْ نَفْسَهُ فَيَقُولُ : أَنَا رَبُّكُمْ ، أَنا رَبّّّّّّّّكم ، اتَّبِعُونِي ، فَيَقُومُ الْمُسْلِمُونَ ، وَيُوضَعُ الصِّرَاطُ ، فَهُمْ عَلَيْهِ مِثْلُ جِيَادِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ ، وَقَوْلُهُمْ عَلَيْهِ سَلِّمْ سَلِّمْ ، وَيَبْقَى أَهْلُ النَّارِ ، فَيُطْرَحُ مِنْهُمْ فِيهَا فَوْجٌ فَيُقَالُ : هَلْ امْتَلَأْتِ ؟ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ ثُمَّ يُطْرَحُ فِيهَا فَوْجٌ فَيُقَالُ : هَلْ امْتَلَأْتِ ؟ وَتَقُولُ : هَلْ مِنْ مَزِيدٍ ؟ حَتَّى إِذَا أُوعِبُوا فِيهَا ، وَضَعَ الرَّحْمَنُ عَزَّ وَجَلَّ قَدَمَهُ فِيهَا ، وَزَوَى بَعْضَهَا إِلَى بَعْضٍ ، ثُمَّ قَالَتْ : قَطْ قَطْ ، فَإِذَا صُيِّرَ أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي الْجَنَّةِ ، وَأَهْلُ النَّارِ فِي النَّارِ ، أُتِيَ بِالْمَوْتِ مُلَبَّبًا ، فَيُوقَفُ عَلَى السُّورِ الَّذِي بَيْنَ أَهْلِ النَّارِ ، وَأَهْلِ الْجَنَّةِ ، ثُمَّ يُقَالُ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، فَيَطَّلِعُونَ خَائِفِينَ ، ثُمَّ يُقَالُ : يَا أَهْلَ النَّارِ ، فَيَطَّلِعُونَ مُسْتَبْشِرِينَ يَرْجُونَ الشَّفَاعَةَ ، فَيُقَالُ : لِأَهْلِ الْجَنَّةِ ، وَلِأَهْلِ النَّارِ تَعْرِفُونَ هَذَا ؟ فَيَقُولُونَ : هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاء قَدْ عَرَفْنَاهُ ، هُوَ الْمَوْتُ الَّذِي وُكِّلَ بِنَا ، فَيُضْجَعُ فَيُذْبَحُ ذَبْحًا عَلَى السُّورِ ، ثُمَّ يُقَالُ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، خُلُودٌ لَا مَوْتَ ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ ، خُلُودٌ لَا مَوْتَ " ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ : " وَأُزْوِيَ بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ثُمَّ قَالَ : قَطْ ؟ قَالَتْ : قَطْ قَطْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تمام لوگوں کو ایک ٹیلے پر جمع کیا جائے گا پھر رب العلمین انہیں جھانک کر دیکھے گا پھر اعلان کیا جائے گا کہ ہر قوم ان کے پیچھے چلی جائے جن کی وہ عبادت کرتی تھی چنانچہ صلیب کے بچاری کے لئے صلیب تصویروں کے بچاری کے لئے تصویر اور آگ کے پجاری کے لئے آگ کی تمثیل پیش کردی جائے گی اور وہ اپنے معبودوں کے پیچھے چل پڑیں گے اور صرف مسلمان رہ جائیں گے پھر رب العلمین انہیں بھی جھانک کر دیکھے گا اور فرمائے گا تم لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں جا رہے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں اللہ ہمارا رب ہے اور جب تک ہم اپنے رب کو دیکھ نہیں لیتے یہیں رہیں گے وہ انہیں حکم دے گا اور ثابت قدم رکھے گا (پھر وہ چھپ جائے گا اور دوبارہ ظاہر ہو کری ہی سوال جواب کرے گا) صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم اپنے پروردگار کو دیکھ سکیں گے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں چود ہویں رات کا چاند دیکھنے میں کسی قسم کی مشقت ہوتی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اس وقت تمہیں اسے دیکھنے میں بھی کوئی مشقت نہیں ہوگی بہرحال تیسری مرتبہ پوشیدہ ہونے کے بعدجب وہ ظاہر ہوگا تو انہیں اپنی معرفت عطاء فرمادے گا اور انہیں بتادے گا کہ میں ہی تمہارا رب ہوں تم میرے پیچھے آجاؤ چنانچہ مسلمان اٹھ کھڑے ہوں گے اور پل صراط قائم کردیا جائے گا اور مسلمان اس پر بہترین گھوڑوں اور عمدہ شہسواروں کی طرح گذرجائیں گے اور کہتے جائیں گے سلم سلم جہنمی رہ جائیں گے اور انہیں فوج در فوج جہنم میں پھینک دیا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا کہ کیا تو بھر گئی ؟ اور وہ کہے گی کہ کچھ بھی ہے ؟ اس میں ایک اور فوج پھینک دی جائے گی اور پھر یہی سوال جواب ہوں گے حتی کہ رحمان اس میں اپنا قدم رکھ دے گا اور جہنم کے حصے سکڑج ائیں گے اور وہ کہے گی بس بس بس پھر جب جنتی جنت میں چلے جائیں گے اور جہنمی جہنم میں تو موت کو لا کر پل صراط پر کھڑا کردیا جائے گا اور اہل جنت کو پکار کر بلایا جائے گا وہ خوفزدہ ہو کر جھانکیں گے کہ کہیں انہیں جنت سے نکال تو نہیں دیا جائے گا پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے کہ جی پروردگار ! یہ موت ہے پھر اہل جہنم کو پکار کر آواز دی جائے گی وہ اس خوشی سے جھانک کر دیکھیں گے کہ شاید انہیں اس جگہ سے نکلنا نصیب ہوجائے پھر ان سے بھی پوچھا جائے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے جی ہاں یہ موت ہے چنانچہ اللہ کے حکم پر اسے پل صراط پر ذبح کردیا جائے گا اور دونوں گروہوں سے کہا جائے گا کہ تم جن حالات میں رہ رہے ہو۔ اس میں تم ہمیشہ ہمیش رہوگے اس میں کبھی موت نہ آئے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8817
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وله إسنادان: الأول صحيح ، والثاني قوي ، خ: 6573، م: 182
حدیث نمبر: 8818
حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " كَفَّارَةُ الْمَجَالِسِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کفارہ مجلس یہ ہے کہ انسان مجلس سے اٹھتے وقت یوں کہہ لے۔ سبحانک اللہم وبحمدک استغفرک واتوب الیک ''
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8818
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، إسماعيل بن عياش - وإن كان مختلطا فى روايته عن غير أهل بلده وهذا منها - قد توبع
حدیث نمبر: 8819
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، يَقُولُ : حدثنا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں جزو ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8819
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6988، م: 2263
حدیث نمبر: 8820
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ، يَقْرَأُ ، فَقَالَ : " لَقَدْ أُعْطِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ السَّلَام " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا ابوموسیٰ اشعری کو حضرت داؤدعلیہ السلام جیسا سُر عطاء کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8820
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8821
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ هُمْ الضُّعَفَاءُ وَالْمَظْلُومُونَ ، أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ ؟ كُلُّ شَدِيدٍ جَعْظَرِيٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جنتی کمزور اور مظلوم لوگ ہوں گے کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جہنمی ہر بیوقوف اور متکبر آدمی ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8821
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف البراء
حدیث نمبر: 8822
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشِرَارِكُمْ ؟ " فَقَالَ : " هُمْ الثَّرْثَارُونَ الْمُتَشَدِّقُونَ ، أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُم ؟ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں بدترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ واہی تباہی بکنے والے اور لوگوں کا مذاق اڑانے والے لوگ کیا میں تمہیں بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جو تم میں سے بہترین اخلاق والے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8822
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8823
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي خَلِيلِي الصَّادِقُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْثٌ إِلَى السِّنْدِ وَالْهِنْدِ " ، فَإِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُ فَاسْتُشْهِدْتُ ، فَذاِكَ ، وَإِنْ أَنَا ، فَذَكَرَ كَلِمَةً ، رَجَعْتُ وَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ قَدْ أَعْتَقَنِي مِنَ النَّارِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ مجھ سے میرے خلیل و صادق پیغمبر اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ اس امت میں ایک لشکر سندھ اور ہند کی طرف بھی جائے گا اگر میں نے وہ زمانہ پایا اور شہید ہوگیا تو بہت اچھا اور اگر میں زندہ واپس آگیا تو میں ابوہریرۃ المحرر ہوں گا جو جہنم کی آگ سے آزاد ہوچکا ہوگا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8823
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف البراء ولانقطاعه ، الحسن البصري لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 8824
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَتَقُم السَّاعَةُ وَثَوْبُهُمَا بَيْنَهُمَا لَا يَطْوِيَانِهِ وَلَا يَتَبَايَعَانِهِ ، وَلَتَقُمِ السَّاعَةُ وَقَدْ حَلَبَ لِقْحَتَهُ لَا يَطْعَمُهُ ، وَلَتَقُمِ السَّاعَةُ وَقَدْ رَفَعَ لُقْمَتَهُ إِلَى فِيهِ وَلَا يَطْعَمُهَا ، وَلَتَقُمِ السَّاعَةُ وَالرَّجُلُ يَلِيطُ حَوْضَهُ لَا يَسْقِي مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو آدمیوں کے درمیان خریدو فروخت ہو رہی ہوگی کہ قیامت قائم ہوجائے گی ابھی کپڑا ان دونوں کے درمیان ہی ہوگا انہوں نے اسے لپیٹا ہوگا اور نہ ہی خریدو فروخت مکمل ہوگی اسی طرح ایک آدمی نے اپنے جانور کا دودھ دوہا ہوگا لیکن ابھی پہننے کی نوبت نہ آئی ہوگی کہ قیامت قائم ہوجائے گی ایک آدمی نے لقمہ اٹھا کر اپنے منہ کے قریب کیا ہوگا ابھی کھانے نہیں پایا ہوگا کہ قیامت قائم ہوجائے اور ایک آدمی اپنے حوض کی لپائی کر رہا ہوگا اسے سیراب نہ کرسکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8824
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6506، م: 2954
حدیث نمبر: 8825
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يُصْرَفُ عَنِّي شَتْمُ قُرَيْشٍ ، يَشْتِمُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ ، وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں اس بات پر تعجب نہیں ہوتا کہ کس عجیب طریقے سے قریش کی دشنام طرازیوں کو مجھ سے دور کردیا جاتا ہے ؟ وہ کس مذمم پر لعنت اور سب و شتم کرتے ہیں جبکہ میرا نام تو محمد ہے (مذمم نہیں)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8825
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3533
حدیث نمبر: 8826
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَأَسْلَمُ وَغِفَارٌ وَجُهَيْنَةُ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ مُزَيْنَةَ أَوْ مُزَيْنَةُ وَمَنْ كَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ ، خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ وطَيِّئٍ وَغَطَفَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے قیامت کے دن قبیلہ اسلم غفار اور مزینہ و جہنیہ کا کچھ حصہ اللہ کے نزدیک بنو اسد بنو طئی اور بنو غطفان سے بہتر ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8826
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3523، م: 2521
حدیث نمبر: 8827
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَنْعَمُ لَا يَيْئَسُ ، وَلَا تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ ، فِي الْجَنَّةِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص جنت میں داخل ہوجائے گا وہ ناز و نعم میں رہے گا پریشان نہ ہوگا اس کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے اور اس کی جوانی فنا نہ ہوگی اور جنت میں ایسی چیزیں ہوں گی جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کا خیال بھی گذرا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8827
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3244، م: 2824
حدیث نمبر: 8828
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّتْ سَحَابَةٌ ، فَقَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ ؟ " قَالَ : قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " الْعَنَانُ ، وَرَوَايَا الْأَرْضِ ، يَسُوقُهُ اللَّهُ إِلَى مَنْ لَا يَشْكُرُهُ مِنْ عِبَادِهِ وَلَا يَدْعُونَهُ ، أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ فَوْقَكُمْ ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " الرَّقِيعُ ، مَوْجٌ مَكْفُوفٌ ، وَسَقْفٌ مَحْفُوظٌ ، أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ " ، ثم قَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا الَّتِي فَوْقَهَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " سَمَاءٌ أُخْرَى ، أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ " حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ، ثُمَّ قَال : " أَتَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " الْعَرْشُ " ، قَالَ : " أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ السَّابِعَة ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَتَدْرُونَ مَا تَحْتَكُمْ ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَم ، قَالَ : " أَرْضٌ أَتَدْرُونَ مَا تَحْتَهَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " أَرْضٌ أُخْرَى ، أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَهَا وَبَيْنَهَا ؟ " قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ " حَتَّى عَدَّ سَبْعَ أَرَضِينَ ، ثُمَّ قَالَ : " وَايْمُ اللَّهِ ، لَوْ دَلَّيْتُمْ أَحَدَكُمْ بِحَبْلٍ إِلَى الْأَرْضِ السُّفْلَى السَّابِعَةِ لَهَبَطَ " ثُمَّ قَرَأَ : هُوَ الأَوَّلُ وَالآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ سورة الحديد آية 3 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آسمان پر سے ایک بادل گذرا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا چیز ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا یہ عنان ہے جو زمین کی تراوٹ کو ان لوگوں کے پاس ہانک کرلے جا رہا ہے جو اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے اور اسے کبھی نہیں پکارتے کیا تم جانتے ہو کہ یہ تمہارے اوپر کیا چیز ہے ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی زیادہ جانتے ہیں فرمایا اس کا نام رقیع ہے یہ ایک لپٹی ہوئی موج ہے اور محفوظ چھت ہے کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے اور اس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں فرمایا پانچ سو سال فاصلہ ہے۔ پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اس کے اوپر کیا ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا دوسرا آسمان ہے کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے اور اس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں ؟ فرمایا پانچ سو سال کا فاصلہ ہے یہاں تک کہ ساتوں آسمان گنوانے کے بعد فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اس کے اوپر کیا ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا اس کے اوپر عرش ہے کیا تم جانتے ہو کہ اس کے اور ساتویں آسمان کے درمیان کتن ا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا پانچ سو سال کا فاصلہ ہے کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے نیچے کیا ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا زمین ہے کیا تم جانتے ہو کہ اس کے نیچے کیا ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا دوسری زمین ہے کیا تم جانتے ہو کہ ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا سات سو سال کا فاصلہ ہے یہاں تک کہ ساتوں زمینیں گنوا دیں پھر فرمایا واللہ اگر تم میں سے کوئی شخص رسی سے لٹک کر ساتویں زمین تک اترنا چاہے تو اتر سکتا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی وہی اول و آخر اور ظاہر و باطن ہے اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8828
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، الحكم ضعيف، وقتادة مدلس وعنعنه، والحسن لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 8829
حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَبِيعَةَ فَلَمْ أُنْكِرْ ، قَالَ : " الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ ، أَوْ أَفْضَلُ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ ، وَكُلٌّ خَيْرٌ ، احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَلَا تَعْجِزْ ، فَإِنْ غَلَبَكَ أَمْرٌ فَقُلْ قَدَّرَ اللَّهُ ، وَمَا شَاءَ صَنَعَ ، وَإِيَّاكَ وَاللَّوَّ ، فَإِنَّ اللَّوَّ يُفْتَحُ مِنَ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی نگاہوں میں طاقتور مسلمان کمزور مسلمان کی نسبت زیادہ بہتر افضل اور محبوب ہے اور ہر ایک ہی بھلائی میں ہے ایسی چیزوں کی حرص کرو جن کا تمہیں فائدہ ہو اور تم اس سے عاجز نہ آجاؤ اگر کوئی معاملہ تم پر غالب آنے لگے تو یوں کہہ لو کہ اللہ نے اسی طرح مقرر فرمایا تھا اور اللہ جو چاہتا ہے کر گذرتا ہے اور اگر مگر سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ اگر مگر شیطان کا دروازہ کھولتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8829
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وقد اختلف فى إسناده، م: 2664
حدیث نمبر: 8830
حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ بَرَكَةَ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى أَرَى بَيَاضَ إِبْطَيْهِ " ، قَالَ أَبِي وَهُوَ أَبُو الْمُعْتَمِرِ : لَا أَظُنُّهُ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعاء میں اس طرح ہاتھ پھیلاتے تھے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغل کی سفیدی دیکھ لیتا تھا راوی کہتے ہیں کہ میرے خیال کے مطابق یہ نماز استسقاء کا موقع تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8830
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8831
حَدَّثَنَا عَارِمٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : قَالَ أَبِي ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : هَلْ يُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْهَهُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ؟ قَالَ : فَقِيلَ : نَعَمْ ، فَقَالَ : وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى ، يَمِينًا يَحْلِفُ بِهَا ، لَئِنْ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ ، لَأَطَأَنَّ عَلَى رَقَبَتِهِ ، أَوْ لَأُعَفِّرَنَّ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ ، قَالَ : فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي ، زَعَمَ لَيَطَأُ عَلَى رَقَبَتِهِ ، قَالَ : فَمَا فَجَأَهُمْ مِنْهُ إِلَّا وَهُوَ يَنْكُصُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَيَتَّقِي بِيَدَيْهِ ، قَال : فقَالُوا : لَهُ مَا لَكَ ؟ قَالَ : إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَهَؤُلَاءِ أَجْنِحَةٌ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَوْ دَنَا مِنِّي لَخَطَفَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عُضْوًا عُضْوًا " ، قَالَ : فَأُنْزِلَ لَا أَدْرِي فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ شَيْءٍ بَلَغَه إِنَّ الإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى إِنَّ إِلَى رَبِّكَ الرُّجْعَى أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى يَعْنِي أَبَا جَهْلٍ أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى كَلَّا لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ قَالَ : يَدْعُو قَوْمَهُ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ قَالَ : يَعْنِي الْمَلَائِكَةَ كَلَّا لا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ سورة العلق آية 6 - 19 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں سے ابوجہل کہنے لگا کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری موجودگی میں اپنا چہرہ زمین پر رکھتے ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں اس پر وہ کہنے لگا کہ لات اور عزی کی قسم اگر میں نے انہیں ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو ان کی گردن کو اپنے پاؤں تلے روند دوں گا اور ان کا چہرہ مٹی میں ملا دوں گا یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز پڑھ رہے تھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن پر اپنا ناپاک پاؤں رکھنے کے لئے آگے بڑھا لیکن پھر اچانک ہی الٹے پاؤں واپس بھاگ پڑا اور اپنے ہاتھوں سے کسی چیز سے بچنے لگا۔ سرداران قریش نے اس سے پوچھا کیا ہوا ؟ وہ کہنے لگا کہ میرے اور ان کے درمیان آگ کی ایک خندق حائل ہوگئی اور مختلف ہاتھ میری طرف بڑھنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کا ایک عضو اچک کرلے جاتے اور اسی موقع پر سورت علق کی یہ آخری آیات نازل ہوئی ان الانسان لیطغی الی آخرہ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8831
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2797
حدیث نمبر: 8832
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قالَ : " أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي ، الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ارشاد فرمائیں گے میری خاطر آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ میرے جلال کی قسم آج میں انہیں اپنے سائے میں جبکہ میرے سائے کے علاوہ کہیں کوئی سایہ نہیں جگہ عطاء کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8832
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2566
حدیث نمبر: 8833
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّا ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا ، وَحَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ بَيْنَ الْعِرَاقِ وَمَكَّةَ لَا يَخَافُ إِلَّا ضَلَالَ الطَّرِيقِ ، وَحَتَّى يَكْثُرَ الْهَرْجُ " ، قَالُوا : وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْقَتْلُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک سر زمین عرب دریاؤں اور نہروں سے لبریز نہ ہوجائے اور جب تک ایک سوار عراق اور مکہ کے درمیان سفر کرے اور اس سفر میں سوائے راہ بھٹکنے کے کوئی اور اندیشہ نہ ہو اور جب تک کہ ہرج کی کثرت نہ ہوجائے صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہرج سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا قتل۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8833
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7061، م: 2672
حدیث نمبر: 8834
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنَ زَكَرِيَّا ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَحَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَكَبَّرَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، فَتِلْكَ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ ، ثُمَّ قَالَ : تَمَامُ الْمِائَةِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَه ، لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، غُفِرَ لَهُ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہر نماز کے بعد ٣٣ مرتبہ اللہ اکبر۔ ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ۔ ٣٣ مرتبہ الحمد اللہ پڑھ لیا کرے اور ننانوے تک پہنچ کر سو کی تکمیل کے لئے اور آخر میں یہ کہہ لیا کرو۔ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد و ہو علی کل شیء قدیر۔ تو اس کے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8834
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 597