حدیث نمبر: 8755
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُحْشَرُ النَّاسُ ثَلَاثَةَ أَصْنَافٍ صِنْفًا مُشَاةً ، وَصِنْفًا رُكْبَانًا ، وَصِنْفًا عَلَى وُجُوهِهِمْ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ يَمْشُونَ عَلَى وُجُوهِهِمْ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَقْدَامِهِمْ ، قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ ، أَمَا إِنَّهُ يَتَّقُونَ بِكُلِّ حَدَبٍ وَشَوْكٍ " ، قَالَ عَفَّانُ : " يَتَّقُونَ بِوُجُوهِهِمْ كُلَّ حَدَبٍ وَشَوْكٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن تین اصناف کی صورت میں جمع ہوں گے ایک قسم پیدل چلنے والوں کی ہوگی ایک قسم سواروں کی ہوگی اور ایک قسم چہروں کے بل چلنے والوں کی ہوگی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! لوگ اپنے چہروں کے بل کیسے چلیں گے ؟ فرمایا جو ذات انہیں پاؤں پر چلاتی ہے وہ انہیں چہروں کے بل چلانے پر بھی قاد رہے اس لئے انہیں ہر پھسلن اور کانٹے سے اپنے چہروں کو بچانا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8755
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على وجهالة أوس
حدیث نمبر: 8756
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَقْتَصُّ الْخَلْقُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ ، حَتَّى الْجَمَّاءُ مِنَ الْقَرْنَاءِ ، وَحَتَّى للذَّرَّةُ مِنَ الذَّرَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن مخلوقات کو ایک دوسرے سے قصاص دلایا جائے گا حتیٰ کہ بےسینگ بکری کو سینگ والی بکری سے اور چیونٹی کو چیونٹی سے بھی قصاص دلوایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8756
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله: و حتى للذرة من الذرة ، وهذا إسناد حسن، م: 2582
حدیث نمبر: 8757
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الصَّلْتِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " انْتَهَيْتُ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا أَنَا فَوْقِي بِرَعْدٍ وَصَوَاعِقَ ، ثُمَّ أَتَيْتُ عَلَى قَوْمٍ بُطُونُهُمْ كَالْبُيُوتِ ، فِيهَا الْحَيَّاتُ ، تُرَى مِنْ خَارِجِ بُطُونِهِمْ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ أَكَلَةُ الرِّبَا ، فَلَمَّا نَزَلْتُ وَانْتَهَيْتُ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا ، فَإِذَا أَنَا بِرَهْجٍ وَدُخَانٍ وَأَصْوَاتٍ ، فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : الشَّيَاطِينُ يَحْرِفُونَ عَلَى أَعْيُنِ بَنِي آدَمَ أَنْ لَا يَتَفَكَّرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَرَأَتْ الْعَجَائِبَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شب معراج کے موقع پر جب ہم ساتویں آسمان پر پہنچے تو میری نگاہ اوپر کو اٹھ گئی وہاں بادل کی گرج چمک اور کڑک تھی پھر میں ایسی قوم کے پاس پہنچا جن کے پیٹ کمروں کی طرح تھے جن میں سانپ وغیرہ ان کے پیٹ کے باہر سے نظر آرہے تھے میں نے پوچھا جبرائیل علیہ السلام یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ سود خور ہیں۔ پھر جب میں آسمان دنیا پر واپس آیا تو میری نگاہیں نیچے پڑگئیں وہاں چیخ و پکار، دھواں اور آوازیں سنائی دیں میں نے پوچھا جبرائیل یہ کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ شیاطین ہیں جو بنی آدم کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں تاکہ وہ آسمان اور زمین کی شہنشاہی میں غور فکر نہ کرسکیں اگر ایسا نہ ہوتا تو لوگوں کو بڑے عجائبات نظر آتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8757
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف على وجهالة الصلت
حدیث نمبر: 8758
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْقِنْطَارُ اثْنَا عَشَرَ أَلْفَ أُوقِيَّةٍ ، كُلُّ أُوقِيَّةٍ خَيْرٌ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک قنطار میں بارہ ہزار اوقیہ ہوتے ہیں اور ہر اوقیہ زمین و آسمان کے درمیان کی تمام چیزوں سے بہتر ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8758
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث مضطرب سندا ومتنا، فقد اختلف فى رفعه، ووقفه
حدیث نمبر: 8759
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : نَهَى أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پکنے سے پہلے پھل کی خریدو فروخت سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8759
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1538، وهذا إسناد ضعيف لضعف عمر بن راشد
حدیث نمبر: 8760
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَكَيمِ قَائِدُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَصَمُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَبِعَ جَنَازَةً ، قَالَ : " انْبَسِطُوا بِهَا ، وَلَا تَدِبُّوا دَبِيبَ الْيَهُودِ بِجَنَائِزِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جنازے میں شرکت کرتے تو فرماتے کشادگی کے ساتھ چلو اس طرح مت چلو جیسے یہودی اپنے جنازوں کے ساتھ چلتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8760
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جداً، عبدالحكيم متروك
حدیث نمبر: 8761
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو مَرْيَمَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُلْكُ فِي قُرَيْشٍ ، وَالْقَضَاءُ فِي الْأَنْصَارِ ، وَالْأَذَانُ فِي الْحَبَشَةِ ، وَالسُّرْعَةُ فِي الْيَمَن " وَقَالَ زَيْدٌ مَرَّةً يَحْفَظُهُ : " وَالْأَمَانَةُ فِي الْأَزْدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حکومت کی صلاحیت قریش میں ہے عہدہ قضا کی صلاحیت انصار میں ہے اذان کی صلاحیت حبشہ میں ہے اور تیز رفتاری اہل یمن میں ہے (راوی حدیث زید نے ایک مرتبہ یہ بھی کہا کہ امانت اہل ازد میں ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8761
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله رجال الصحيح، واختلف فى وقفه ورفعه والموقوف أصح
حدیث نمبر: 8762
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَوَضَّأُ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ وضو کرتے ہوئے اپنے اعضاء وضو کو صرف دو دو مرتبہ دھویا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8762
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8763
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ رَأْسِي ضُرِبَ ، فَرَأَيْتُهُ يَتَدَهْدَهُ ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " يَطْرُقُ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ فَيَتَهَوَّلُ لَهُ ، ثُمَّ يَغْدُو يُخْبِرُ النَّاسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے دیکھا کہ کسی نے میرے سر پر ضرب لگائی اور میں نے اسے لڑھکتے ہوئے دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے پھر فرمایا کہ تم میں سے کسی کے سامنے رات کے وقت شیطان آتا ہے اور اسے ڈراتا ہے پھر وہ آدمی صبح کو لوگوں کے سامنے یہ خبر بیان کرتا پھرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8763
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8764
حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو صَالِحٍ ، بِمَكَّةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَمِعْتُمْ نُهَاقَ الْحَمِيرِ بِاللَّيْلِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا ، فَإِنَّهَا رَأَتْ شَيْطَانًا ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ صُرَاخَ الدِّيَكَةِ بِاللَّيْلِ فَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ ، فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رات کے وقت گدھے کی آواز سنو تو اس نے شیطان کو دیکھا ہوگا اس لئے اللہ سے شیطان کے شر سے پناہ مانگا کرو اور جب تم رات کے وقت مرغ کی بانگ سنو تو یاد رکھو کہ اس نے کسی فرشتے کو دیکھا ہوگا اس لئے اس وقت سے اللہ کے فضل کا سوال کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8764
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3303، م: 2729
حدیث نمبر: 8765
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْمُهَزِّمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَة ، يَقُولُ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ ، فَاسْتَقْبَلَنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ ، فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُنَّ بِعِصِيِّنَا وَسِيَاطِنَا ، فَسُقِطَ فِي أَيْدِينَا وَقُلْنَا : مَا صَنَعْنَا وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ ! فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : " لَا بَأْسَ بِصَيْدِ الْبَحْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حج یا عمرے کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ راستے میں ٹڈی دل کا ایک غول نظر آیا ہم انہیں اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے اور وہ ایک ایک کرکے ہمارے سامنے گرنے لگے ہم نے سوچا کہ ہم تو محرم ہیں ان کا کیا کریں ؟ پھر ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سمندر کے شکار میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8765
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف جداً، مؤمل سيئ الحفظ، وأبو المهزم متروك الحديث
حدیث نمبر: 8766
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أُذَيْنٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْإِيمَانَ كُلَّهُ ، حَتَّى يَتْرُكَ الْكَذِبَ فِي الْمُزَاح ، وَالْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک مذاق میں بھی جھوٹ بولناچھوڑ نہ دے اور سچا ہونے کے باوجود جھگڑا ختم نہ کردے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8766
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، منصور مجهول، ومكحول لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 8767
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ يَسَارٍ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَيْسَ لِي إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ وَأَنَا أَحِيضُ فِيهِ ، قَالَ : " فَإِذَا طَهُرْتِ فَاغْسِلِي مَوْضِعَ الدَّمِ ثُمَّ صَلِّي فِيهِ " ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ لَمْ يَخْرُجْ أَثَرُهُ ؟ قَالَ : " يَكْفِيكِ الْمَاءُ وَلَا يَضُرُّكِ أَثَرُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خولہ بنت یسار رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہو کر کہنے لگیں یا رسول اللہ ! میرے پاس صرف ایک کپڑا ہے اور اس میں مجھ پر ناپاکی کے ایام بھی آتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم پاک ہوجایا کرو تو جہاں خون لگا ہو، وہ دھو کر اس میں ہی نماز پڑھ لیا کرو، انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! اگر خون کے دھبے کا نشان ختم نہ ہو ؟ فرمایا پانی کافی ہے، اس کا نشان ختم نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8767
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وقد روي عن ابن لهيعة هذا الحديث عبدالله بن وهب وغيره وخالفوا فيه موسى، وهو المحفوظ
حدیث نمبر: 8768
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَدِينِيُّ وَذَلِكَ قَبْلَ الْمِحْنَةِ قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَلَمْ يُحَدِّثْ أَبِي عَنْهُ بَعْدَ الْمِحْنَةِ بِشَيْءٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سینگی لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8768
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد قد اختلف فيه على الحسن، والحسن لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 8769
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ تَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ ، فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ ، قَالُوا : اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ ، اخْرُجِي حَمِيدَةً ، وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ ، قَال : فَلَا يَزَالُ يُقَالُ ذَلِكَ حَتَّى تَخْرُجَ ، ثُمَّ يُعْرَجَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ ، فَيُسْتَفْتَحُ لَهَا ، فَيُقَالُ : مَنْ هَذَا ؟ فَيُقَالُ : فُلَانٌ ، فَيَقُولُون : مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الطَّيِّبَةِ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الطَّيِّبِ ، ادْخُلِي حَمِيدَةً ، وَأَبْشِرِي بِرَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ ، قَالَ : فَلَا يَزَالُ يُقَالُ لَهَا حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي فِيهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السَّوْءُ ، قَالُوا : اخْرُجِي أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ ، اخْرُجِي ذَمِيمَةً ، وَأَبْشِرِي بِحَمِيمٍ وَغَسَّاقٍ ، وَآخَرَ مِنْ شَكْلِهِ أَزْوَاجٍ ، فَلَا يَزَالُ حَتَّى تَخْرُجَ ، ثُمَّ يُعْرَجَ بِهَا إِلَى السَّمَاءِ ، فَيُسْتَفْتَحُ لَهَا فَيُقَالُ : مَنْ هَذَا ؟ فَيُقَالُ : فُلَانٌ ، فَيُقَالُ : لَا مَرْحَبًا بِالنَّفْسِ الْخَبِيثَةِ ، كَانَتْ فِي الْجَسَدِ الْخَبِيثِ ، ارْجِعِي ذَمِيمَةً ، فَإِنَّهُ لَا يُفْتَحُ لَكِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ ، فَتُرْسَلُ مِنَ السَّمَاءِ ، ثُمَّ تَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ فَيُجْلَسُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ ، فَيُقَالُ لَهُ : مِثْلُ مَا قِيلَ لَهُ فِي الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ ، وَيُجْلَسُ الرَّجُلُ السَّوْءُ ، فَيُقَالُ لَهُ : مِثْلُ مَا قِيلَ فِي الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب المرگ آدمی کے پاس فرشتے آتے ہیں اگر وہ نیک آدمی ہو تو اس سے کہتے ہیں کہ اے نفس طیبہ ! جو پاکیزہ جسم میں رہا یہاں سے نکل قابل تعریف ہو کر نکل اور روح و ریحان کی خوشبخری قبول کر اور اس رب سے ملاقات کر جو تجھ سے ناراض نہیں اس کے سامنے یہ جملے بار بار دہراتے جاتے ہیں حتی کہ اس کی روح نکل جاتی ہے اس کے بعد اسے آسمان پر لے جایا جاتا ہے، دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے آواز آتی ہے کون ؟ جواب دیا جاتا ہے فلاں آسمان والے کہتے ہیں اس پاکیزہ نفس کو جو پاکیزہ جسم میں رہا خوش آمدید، قابل تعریف ہو کر داخل ہو جاؤ اور روح و ریحان اور ناراض نہ ہونے والے رب سے ملاقات کی خوشخبری قبول کرو، یہی جملے اس سے ہر آسمان میں کہے جاتے ہیں یہاں تک کہ اسے اس آسمان پر لے جایا جاتا ہے جہاں پروردگار عالم خود موجود ہے۔ اور اگر وہ گناہ گار آدمی ہو تو فرشتے کہتے ہیں کہ اے خبیث روح! جو خبیث جسم میں رہی نکل قابل مذمت ہو کر نکل، کھولتے ہوئے پانی اور کانٹے دار کھانے کی خوشخبری قبول کر اور اس کے علاوہ دیگر انواع و اقسام کے عذاب کی خوشخبری بھی قبول کر اس کے سامنے یہ جملے بار بار دہرائے جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کی روح نکل جاتی ہے فرشتے اسے لے کر آسمانوں پر چڑھتے ہیں اور دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں پوچھا جاتا ہے کون ؟ بتایا جاتا ہے کہ فلاں، وہاں سے جواب آتا ہے کہ اس خبیث روح کو جو خبیث جسم میں رہی کوئی خوش آمدید نہیں اسی حال میں قابل مذمت واپس لوٹ تیرے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے چنانچہ وہ آسمان سے واپس آکر قبر میں چلی جاتی ہے۔ پھر نیک آدمی کو قبر میں بٹھایا جاتا ہے اور اس سے وہی تمام جملے کہے جاتے ہیں جو پہلی مرتبہ کہے گئے تھے اور گناہ گار آدمی کو بھی اس کی قبر میں بٹھایا جاتا ہے اور اس سے بھی وہی کچھ کہا جاتا ہے جو پہلے کہا جا چکا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8769
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8770
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَلُّوا عَلَيَّ ، فَإِنَّهَا زَكَاةٌ لَكُمْ ، وَاسْأَلُوا اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ ، فَإِنَّهَا دَرَجَةٌ فِي أَعَلَى الْجَنَّةِ لَا يَنَالُهَا إِلَّا رَجُلٌ ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم مجھ پر درود بھیجا کرو کیونکہ یہ تمہارے لئے باعث تزکیہ ہے اور اللہ سے میرے لئے وسیلہ مانگا کرو یہ جنت کے سب سے اعلیٰ ترین درجے کا نام ہے جو صرف ایک آدمی کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ بھی میں ہوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8770
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، شريك سيئ الحفظ، وليث ضعيف، وكعب مجهول
حدیث نمبر: 8771
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَاهُنَا ؟ مَا يَخْفَى عَلَيَّ شَيْءٌ مِنْ خُشُوعِكُمْ وَرُكُوعِكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میرا قبلہ یہاں سمجھتے ہو ؟ واللہ مجھ پر تمہارا خشوع مخفی ہوتا ہے اور نہ رکوع میں تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8771
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 418، م: 423
حدیث نمبر: 8772
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي الْأَوْبَرِ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ : أَنْتَ الَّذِي تَنْهَى النَّاسَ أَنْ يُصَلُّوا وَعَلَيْهِمْ نِعَالُهُمْ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ وَرَبِّ هَذِهِ الْحُرْمَةِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي إِلَى هَذَا الْمَقَامِ وَعَلَيْهِ نَعْلَاهُ ، وَانْصَرَفَ وَهُمَا عَلَيْهِ " . وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ " صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي أَيَّامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوالاوبر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کیا آپ وہی ہیں جو لوگوں کو جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے اور واپس جاتے دیکھا ہے البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف جمعہ کے دن کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا الاّ یہ کہ وہ اس کے معمولات میں شامل ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8772
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، خ: 1985، م: 1144، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى الأوبر
حدیث نمبر: 8773
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعْنَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ لِلْمَسْجِدِ ، لَمْ يُقْبَلْ لَهَا صَلَاةٌ حَتَّى تَغْسِلَهُ عَنْهَا اغْتِسَالَهَا مِنَ الْجَنَابَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اپنے گھر سے خوشبو لگا کر مسجد کے ارادے سے نکلے اللہ اس کی نماز کو قبول نہیں کرتا یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس جا کر اسے اس طرح دھوئے جیسے ناپاکی کی حالت میں غسل کیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8773
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث محتمل للتحسين، وإسناده ضعيف لضعف ليث، وجهالة عبدالكريم
حدیث نمبر: 8774
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ يَعْنِي ابْنَ خَالِدٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " كَرَمُ الرَّجُلِ دِينُهُ ، وَمُرُوءَتُهُ عَقْلُهُ ، وَحَسَبُهُ خُلُقُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کی سخاوت اس کا دین اس کی مروت اس کی عقل اور اس کا حسب اخلاق ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8774
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، مسلم سيئ الحفظ وكثير الأوهام
حدیث نمبر: 8775
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ قَبِيصَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، أنهَ قَالَ : " يَخْرُجُ مِنْ خُرَاسَانَ رَايَاتٌ سُودٌ ، لَا يَرُدُّهَا شَيْءٌ حَتَّى تُنْصَبَ بِإِيلِيَاءَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خراسان سے سیاہ جھنڈے نکلیں گے انہیں کوئی چیز لوٹا نہ سکے گی یہاں تک کہ وہ بیت المقدس پر جا کر نصب ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8775
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، رشدين ضعيف، منكر الحديث
حدیث نمبر: 8776
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي نَعِيمَةَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ جَلِيسِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ ، وَمَنْ أُفْتِيَ بِفُتْيَا بِغَيْرِ عِلْمٍ ، كَانَ إِثْمُ ذَلِكَ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ ، وَمَنْ اسْتَشَارَ أَخَاهُ فَأَشَارَ عَلَيْهِ بِأَمْرٍ وَهُوَ يَرَى الرُّشْدَ غَيْرَ ذَلِكَ ، فَقَدْ خَانَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے جس شخص کو غیرمستند فتوی دے دیا گیا ہو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہے اور جس شخص سے اس کا مسلمان بھائی کوئی مشورہ مانگے اور وہ اسے درست مشورہ نہ دے تو اس نے خیانت کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8776
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعف لضعف رشدين وجهالة عمرو، وأما القسم الأول من الحديث صحيح متواتر ، خ: 110، م: 3
حدیث نمبر: 8777
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْأَخْنَسِيِّ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ ، فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ " ، حَدَّثَنَاه بَعْدَ ذَلِكَ الْخُزَاعِيَّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، وَالْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو لوگوں کے درمیان جج بنادیا جائے گویا اسے بغیر چھری کے ذبح کردیا گیا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8777
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8778
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنِ الْعَلَاء ِبن عبد الرحمن ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " جُزُّوا الشَّوَارِبَ ، وَاعْفُوا اللِّحَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مونچھیں خوب تراشا کرو اور داڑھی کو خوب بڑھایا کرو
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8778
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5893، م: 260
حدیث نمبر: 8779
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَخِيهِ عَبَّادٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْأَرْبَعِ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ : وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ میں چار چیزوں سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے ایسے دل سے جو خشیت اور خشوع سے خالی ہو ایسے نفس سے جو کبھی سیراب نہ ہو اور ایسی دعاء سے جو قبول نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8779
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، عباد لم يرو عنه غير أخيه، وذكره العجلي وابن حبان وابن خلفون فى الثقات
حدیث نمبر: 8780
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُجِيرُ عَلَى أُمَّتِي أَدْنَاهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا ایک ادنیٰ امتی بھی کسی کو امان دے سکتا ہے ( اور پوری امت پر اس کی پابندی ضروری ہوگی)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8780
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، م: 1508
حدیث نمبر: 8781
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ بِلَالٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ سَلْمَانَ الْأَغَرِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا يَنْبَغِي لِذِي الْوَجْهَيْنِ أَنْ يَكُونَ أَمِينًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی دوغلے آدمی کا امین ہونا ممکن نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8781
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8782
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَنْبَغِي لِلصَّدِيقِ أَنْ يَكُونَ لَعَّانًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدیق یا دوست کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ لعنت کرنے والا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8782
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2597
حدیث نمبر: 8783
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْجَرَسُ مِزْمَارُ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھنٹی شیطان کا باجا ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8783
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2114
حدیث نمبر: 8784
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، قالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمانوں کے درمیان صلح نافذ ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8784
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8785
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " جُزُّوا الشَّوَارِبَ ، وَاعْفُوا اللِّحَى ، وَخَالِفُوا الْمَجُوسَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مونچھیں خوب تراشا کرو اور داڑھی کو خوب بڑھایا کرو اور مجوسیوں کی مخالفت کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8785
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 8592، م: 260
حدیث نمبر: 8786
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَخَلَ الْبَصَرُ ، فَلَا إِذْنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب آنکھیں اندر داخل ہوگئیں تو اجازت لینے کی کوئی حیثیت نہ رہی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8786
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8787
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ عَامِرٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّائِبَةَ وَبَحَرَ الْبَحِيرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے جہنم میں عمرو بن عامر خزاعی کو اپنی آنتیں کھینچتے ہوئے دیکھا ہے یہ وہ پہلا شخص تھا جس نے جانوروں کو بتوں کے نام پر چھوڑنے کا اور بحیرہ بنانے کا رواج قائم کیا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8787
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3521، م: 2856
حدیث نمبر: 8788
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو یہودیوں پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8788
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 437، م: 530
حدیث نمبر: 8789
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " حَرَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ كُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ، وَالْمُجَثَّمَةَ ، وَالْحِمَارَ الْإِنْسِيَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلی سے شکار کرنے والے ہر درندے ٹکٹکی پر باندھ کر نشانہ سیدھا کئے ہوئے جانور اور پالتو گدھوں کو حرام قرار دے دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8789
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 1933
حدیث نمبر: 8790
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجًا أَوْ قَالَ : زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ أُرَاهُ قَالَ : فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، دَعَتْهُ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ : يَا مُسْلِمُ ، هَذَا خَيْرٌ هَلُمَّ إِلَيْهِ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : هَذَا رَجُلٌ لَا تُودَى عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَا نَفَعَنِي مَالٌ قَطُّ إِلَّا مَالُ أَبِي بَكْرٍ " ، قَالَ : فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ ، وَقَالَ : وَهَلْ نَفَعَنِي اللَّهُ إِلَّا بِكَ ، وَهَلْ نَفَعَنِي اللَّهُ إِلَّا بِكَ ، وَهَلْ نَفَعَنِي اللَّهُ إِلَّا بِكَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے مال میں سے ایک یا دو جوڑے والی چیزیں اللہ کے راستے میں خرچ کرے اسے جنت کے داروغہ بلاتے ہیں کہ اے مسلمان یہ خیر ہے اس کی طرف آگے بڑھ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اس شخص پر کوئی تباہی نہیں آسکتی اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر کے مال نے مجھے جتنا نفع پہنچایا ہے اتنا کسی کے مال نے نفع نہیں پہنچایا یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور عرض کیا یا رسول اللہ میں اور میرا مال آپ ہی کا تو ہے اللہ نے مجھے آپ کے ذریعے فائدہ پہنچایا ہے (تین مرتبہ)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8790
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1897، م: 1027
حدیث نمبر: 8791
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ ، وَأَفْضَلُ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ ، وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ ، احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَلَا تَعْجَزْ ، فَإِنْ غَلَبَكَ أَمْرٌ فَقُلْ : قَدَّرَ اللَّهُ ، وَمَا شَاءَ صَنَع ، وَإِيَّاكَ وَاللَّوَّ ، فَإِنَّ اللَّوَّ تُفْتَحُ مِنَ الشَّيْطَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی نگاہوں میں طاقتور مسلمان کمزور مسلمان کی نسبت زیادہ بہتر افضل اور محبوب ہے اور ہر ایک ہی بھلائی میں ہے ایسی چیزوں کی حرص کرو جن کا تمہیں فائدہ ہو اور تم اس سے عاجز نہ آجاؤ اگر کوئی معاملہ تم پر غالب آنے لگے تو یوں کہہ لو کہ اللہ نے اسی طرح مقدر فرمایا تھا اور اللہ جو چاہتا ہے کر گذرتا ہے اور اگر مگر سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ اگر مگر شیطان کا دروازہ کھولتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8791
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وقد اختلف فى إسناد هذا الحديث، م: 2664
حدیث نمبر: 8792
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيَدَعَنَّ النَّاسُ فَخْرَهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، أَوْ لَيَكُونَنَّ أَبْغَضَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْخَنَافِسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ اپنے آباء و اجداد پر فخر کرنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ کی نگاہوں میں وہ گبریلے سے بھی زیادہ حقیر ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8792
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى معشر
حدیث نمبر: 8793
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مِكْرَزٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَجُلٌ يُرِيدُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَهُوَ يَبْتَغِي مِنْ عَرَضِ الدُّنْيَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا أَجْرَ لَهُ " ، فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِكَ ، وَقَالُوا لِلرَّجُلِ : عُدْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّهُ لَمْ يَفْقَهْ ، فَأَعَادَ ذَلِكَ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، كُلَّ ذَلِكَ يَقُولُ : " لَا أَجْرَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ رکھتا ہے لیکن اس کا مقصد دنیاوی ساز و سامان کا حصول ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا لوگوں پر یہ چیز بڑی گراں گذری انہوں نے اس آدمی سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوبارہ مسئلہ پوچھو ہوسکتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بات اچھی طرح نہ سمجھ سکے ہوں اس نے دوبارہ وہی سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا اس نے سہ بارہ وہی سوال کیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8793
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة يزيد
حدیث نمبر: 8794
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ أَعْجَبَهُ صِحَّتُهُ وَجَلَدُهُ ، قَالَ : فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَتَى أَحْسَسْتَ أُمَّ مِلْدَم ؟ " قَالَ : وَأَيُّ شَيْءٍ أُمُّ مِلْدَمٍ ؟ قَالَ : " الْحُمَّى " ، قَالَ : وَأَيُّ شَيْءٍ الْحُمَّى ؟ قَالَ : " سَخَنَةٌ تَكُونُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَالْعِظَامِ " ، قَال : مَا بِذَلِكَ لِي عَهْدٌ ، قَالَ : " فَمَتَى أَحْسَسْتَ بِالصُّدَاعِ ؟ " قَالَ : وَأَيُّ شَيْءٍ الصُّدَاعُ ؟ قَالَ : " ضَرَبَانٌ يَكُونُ فِي الصُّدْغَيْنِ وَالرَّأْسِ " ، قَالَ : مَا لِي بِذَلِكَ عَهْدٌ ، قَالَ : فَلَمَّا قَفَّا أَوْ وَلَّى الْأَعْرَابِيُّ , قَالَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک صحت مند دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کبھی تمہیں " ام ملدم " نے اپنی گرفت میں لیا ہے ؟ اس نے کہا کہ " ام ملدم " کس چیز کا نام ہے ؟ فرمایا بخار اس نے پوچھا بخار کیا ہوتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جسم اور گوشت کے درمیان حرارت کا نام ہے اس نے کہا کہ میں نے تو اپنے جسم میں کبھی یہ چیز محسوس نہیں کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہیں کبھی صداع نے پکڑا ہے ؟ اس نے پوچھا کہ صداع سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ رگیں جو انسان کے سر میں چلتی ہیں (اور ان کی وجہ سے سر میں درد ہوتا ہے) اس نے کہا کہ میں نے اپنے جسم میں کبھی یہ تکلیف محسوس نہیں کی جب وہ چلا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی جہنمی کو دیکھنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ اس شخص کو دیکھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8794
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبى معشر