حدیث نمبر: 8715
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ ، كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَتْ الْكَبَائِرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ نمازیں اور ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8715
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 233
حدیث نمبر: 8716
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ الْأَزْدِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ شُبَيْلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " مَنْ كَانَ أَصْبَحَ مِنْكُمْ صَائِمًا ، فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ ، وَمَنْ كَانَ أَصَابَ مِنْ غَدَاءِ أَهْلِهِ ، فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ یوم عاشورہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم میں سے جس نے روزہ رکھا ہو اسے اپنا روزہ مکمل کرنا چاہئے اور جس نے صبح کے وقت کچھ ناشتہ کرلیا ہو تو بقیہ دن کچھ نہ کھائے پئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8716
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالصمد، وجهالة أبيه
حدیث نمبر: 8717
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ شُبَيْلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُنَاسٍ مِنْ الْيَهُودِ قَدْ صَامُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، فَقَالَ : " مَا هَذَا مِنَ الصَّوْمِ ؟ " ، قَالُوا : هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي نَجَّى اللَّهُ مُوسَى وَبَنِي إِسْرَائِيلَ مِنَ الْغَرَقِ وَغَرَّقَ فِيهِ فِرْعَوْنَ ، وَهَذَا يَوْمُ اسْتَوَتْ فِيهِ السَّفِينَةُ عَلَى الْجُودِيِّ ، فَصَامَهُ نُوحٌ وَمُوسَى شُكْرًا لِلَّهِ تَعَالَى ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَحَقُّ بِمُوسَى وَأَحَقُّ بِصَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالصَّوْمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر کچھ یہودیوں کے پاس سے ہوا ان لوگوں نے یوم عاشورہ کا روزہ رکھا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ یہ کیسا روزہ ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ اللہ نے اس دن حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو غرق ہونے سے بچایا تھا اور فرعون کو غرق فرمایا تھا اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر جا کر رکی تھی۔ تو حضرت نوح اور موسیٰ (علیہم السلام) نے اللہ کا شکرادا کرنے کے لئے روزہ رکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا موسیٰ پر زیادہ حق بنتا ہے اور میں اس دن کا روزہ رکھنے کا زیادہ حقدار ہوں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8717
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه، ويشهد لقصة موسى منه حديث ابن عباس عند البخاري: 2004، و مسلم: 1130
حدیث نمبر: 8718
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَضِيَ لَكُمْ ثَلَاثًا ، وَكَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا : رَضِيَ لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَأَنْ تَنْصَحُوا لِمَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ أَمْرَكُمْ ، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا ، وَكَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے تمہارے لئے تین باتوں کو ناپسند اور تین باتوں کو پسند کیا ہے پسند تو اس بات کو کیا ہے کہ تم صرف اس ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو تفرقہ بازی مت کرو اور حکمرانوں کے خیرخواہ رہو اور ناپسند اس بات کو کیا ہے کہ زیادہ قیل و قال کی جائے مال کو ضائع کیا جائے اور کثرت سے سوال کئے جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8718
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1715
حدیث نمبر: 8719
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ ، لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، مَنْ قَالَهَا عَشْرَ مَرَّاتٍ حِينَ يُصْبِحُ ، كُتِبَ لَهُ بِهَا مِائَةُ حَسَنَةٍ ، وَمُحِيَ عَنْهُ بِهَا مِائَةُ سَيِّئَةٍ ، وَكَانَتْ لَهُ عَدْلَ رَقَبَةٍ ، وَحُفِظَ بِهَا يَوْمَئِذٍ حَتَّى يُمْسِيَ ، وَمَنْ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ حِينَ يُمْسِي ، كَانَ لَهُ مِثْلُ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت دس مرتبہ یہ کلمات کہہ لے۔ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک و لہ الحمد و ہو علی کل شیء قدیر تو یہ ایک غلام کو آزاد کرنے کے برابر ہوگا اور اس شخص کے لئے سو نیکیاں لکھی جائیں گی سو گناہ مٹا دئیے جائیں گے اور شام تک وہ شیطان سے اس کی حفاظت کا سبب ہوں گے اور جو شخص شام کو یہ عمل کرے تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8719
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3293، م: 2691
حدیث نمبر: 8720
حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ كِنَانَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا تَحْتَ ثَنِيَّةِ لِفْتٍ ، طَلَعَ عَلَيْنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مِنَ الثَّنِيَّةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : " انْظُرْ مَنْ هَذَا " قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے جب ثنیہ لفت کے نیچے پہنچے تو سامنے سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ طلوع ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ دیکھو یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ اللہ کا کتنا پیارا بندہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8720
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، وهذا إسناد ضعيف، رواية إسحاق عن أبى هريرة مرسلة
حدیث نمبر: 8721
حَدَّثَنَا مَكِّيٌّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مِنْبَرِي هَذَا عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا یہ منبر جنت کے دروازوں میں سے کسی دروازے پر ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8721
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1196، م: 1391
حدیث نمبر: 8722
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ ، وَأَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ كُرَيْزٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَلَا تَحَاسَدُوا ، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا ، الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَحْقِرُهُ وَلَا يَخْذُلُه ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ : دَمُهُ قَالَ إِسْمَاعِيلُ فِي حَدِيثِهِ : وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ ، التَّقْوَى هَاهُنَا ، التَّقْوَى هَاهُنَا ، يُشِيرُ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثًا ، بحَسْبُ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپس میں ایک دوسرے سے حسد نہ کرو۔ دھوکہ نہ دو بغض نہ رکھو۔ قطع تعلقی نہ کرو اور تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع نہ کرے اور اے اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن کر رہو۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہوتا ہے۔ اس پر ظلم نہیں کرتا اسے بےیارو مددگار نہیں چھوڑتا اس کی تحقیر نہیں کرتا ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی جان مال اور عزت و آبرو قابل احترام ہے تقویٰ یہاں ہوتا ہے یہ کہہ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ فرمایا کسی مسلمان کے شر کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8722
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده جيد م: 2564
حدیث نمبر: 8723
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ المُبَارَكٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ تُدَاعِبُنَا ، قَالَ : " إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو ہمیشہ حق بات ہی کہتا ہوں کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو ہمارے ساتھ مذاق بھی کرتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مذاق میں بھی ہمیشہ حق بات ہی کہتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8723
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8724
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنِ ابْنِ مُطَرِّفٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ عُدِيَ عَلَى مَالِي ؟ قَالَ : " فَانْشُدْ اللَّهَ " ، قال : فَإِنْ أَبَوْا ، قال : " فانشُدِ اللهِ " ، قال : فإنْ أَبَوْا ، قال : " فَقَاتِلْ ، فَإِنْ قُتِلْتَ فَفِي الْجَنَّةِ ، وَإِنْ قَتَلْتَ فَفِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ اگر کوئی شخص میرے مال پر دست درازی کرے تو میں کیا کروں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اللہ کا واسطہ دو اس نے پوچھا اگر وہ نہ مانے تو ؟ فرمایا پھر اللہ کا واسطہ دو تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے قتال کرو اگر تم مارے گئے تو جنت میں اور اگر تم نے اسے مار دیا تو جہنم میں جاؤگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8724
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 140، وسقط من هذا الإسناد عمرو من بين يزيد وابن مطرف
حدیث نمبر: 8725
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُوتِرْ " . " وَإِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ " . " وَلَا يَمْنَعْ فَضْلَ مَاءٍ لِيَمْنَعَ بِهِ الْكَلَأَ " . " وَمِنْ حَقِّ الْإِبِلِ أَنْ تُحْلَبَ عَلَى الْمَاءِ يَوْمَ وِرْدِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص پتھر سے استنجاء کرے تو طاق عدد میں پتھر استعمال کرے۔ جب کوئی کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ مار دے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے۔ اور زائد پانی استعمال کرنے سے کسی کو روکا نہ جائے کہ اس کے ذریعے زائد گھاس روکی جا سکے۔ اور اونٹ کا حق ہے کہ جب اسے پانی کے گھاٹ پر لایا جائے تب اسے دوہا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8725
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن، خ: 2354، 161 م: 237، 1566
حدیث نمبر: 8726
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 ، دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا ، فَعَمَّ وَخَصَّ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، يَا مَعْشَرَ بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، يَا مَعْشَرَ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، يَا مَعْشَرَ بَنِي هَاشِمٍ ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ ، يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ، أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ ، فَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، إِلَّا أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبِلَالِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ حکم نازل ہوا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک قریش کے ہر بطن کو بلایا اور فرمایا اے گروہ قریش ! اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ اے گروہ بنو کعب بن لؤی اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ اے گروہ بنو عبد مناف اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ اے گروہ بنو ہاشم ! اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں البتہ قرابت داری کا جو تعلق ہے اس کی تری میں تم تک پہنچاتا رہوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8726
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2753، م: 204
حدیث نمبر: 8727
حَدَّثَنَا حُسنٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . . . فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا " يَعْنِي فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8727
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8728
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا مَنْ أَبَى " ، قَالُوا : وَمَنْ يَأْبَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا ہر امتی قیامت کے دن جنت میں داخل ہوجائے گا سوائے انکار کرنے والوں کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ عنم نے پوچھا یارسول اللہ ! انکار کرنے والے کون ہیں ؟ فرمایا جو میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو میری نافرمانی کرے گا وہ انکار کرنے والا ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8728
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 7280
حدیث نمبر: 8729
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ فِي مَجْلِسِهِ حَدِيثًا ، جَاءَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَة ؟ قَالَ : فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ ، فَقَالَ : بَعْضُ الْقَوْمِ سَمِعَ فَكَرِهَ مَا قَالَ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ لَمْ يَسْمَعْ ، حَتَّى إِذَا قَضَى حَدِيثَهُ ، قَالَ : " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ ؟ " قَالَ : هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِذَا ضُيِّعَتْ الْأَمَانَةُ فَانْتَظِرْ السَّاعَةَ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ أَوْ قَالَ مَا إِضَاعَتُهَا ؟ قَالَ : " إِذَا تَوَسَّدَ الْأَمْرَ غَيْرُ أَهْلِهِ ، فَانْتَظِرْ السَّاعَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مجلس میں بیٹھے احادیث بیان فرما رہے تھے کہ اسی اثناء میں ایک دیہاتی آگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! قیامت کب آئے گی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو جاری رکھی اس پر کچھ لوگ کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سن تو لی لیکن ناگواری گذری اور کچھ لوگ کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سنی ہی نہیں حتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی بات مکمل کرچکے تو فرمایا کہ قیامت کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ موجود ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امانت ضائع ہونے لگے تو قیامت کا انتظار کرو اس نے پوچھا یا رسول اللہ امانت ضائع ہونے سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا جب معاملات نااہلوں کے سپرد کئے جانے لگیں تو قیامت کا انتظار کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8729
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 59
حدیث نمبر: 8730
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَكَانَ يُدَايِنُ النَّاسَ ، فَيَقُولُ لِرَسُولِهِ : خُذْ مَا تَيَسَّرَ ، وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ ، لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا ، فَلَمَّا هَلَكَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ : هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ ؟ قَالَ : لَا ، إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لِي غُلَامٌ ، وَكُنْتُ أُدَايِنُ النَّاسَ ، فَإِذَا بَعَثْتُهُ يَتَقَاضَى قُلْتُ لَهُ : خُذْ مَا تَيَسَّرَ ، وَاتْرُكْ مَا عَسُرَ وَتَجَاوَزْ ، لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَتَجَاوَزُ عَنَّا ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : قَدْ تَجَاوَزْتُ عَنْكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی تھا جس نے کبھی نیکی کا کوئی کام نہ کیا تھا البتہ وہ لوگوں کو قرض دیتا تھا اور اپنے قاصد سے کہہ دیتا تھا کہ جو آسانی سے دے سکے اس سے واپس لے لینا اور جو تنگدست ہو اسے چھوڑ دینا اور اس سے درگذر کرنا شاید اللہ ہم سے بھی درگذر فرما لے جب وہ فوت ہوا تو اللہ نے اس سے پوچھا کہ تو نے کبھی کوئی نیکی بھی کی ہے ؟ اس نے کہا کہ نہیں البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میرا ایک غلام تھا اور میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا جب میں اپنے غلام کو قرض کا تقاضا کرنے کے لئے بھیجتا تو اس سے کہہ دیتا تھا کہ جو آسانی سے دے سکے اس سے واپس لے لینا اور جو تنگدست ہو اسے چھوڑ دینا اور درگذر کرنا شاید اللہ ہم سے بھی درگذر فرما لے اس پر اللہ نے فرمایا کہ میں نے تجھ سے درگذر کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8730
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وإسناده قوي، خ: 3480، م: 1562
حدیث نمبر: 8731
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الأَنْدرَاَوَرْدِى ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ الْمُؤْمِنَ عِنْدِي لبِمَنْزِلَةِ كُلِّ خَيْرٍ ، يَحْمَدُنِي وَأَنَا أَنْزِعُ نَفْسَهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میری نگاہوں میں اپنے بندہ مومن کے لئے ہر موقع پر خیر ہی خیر ہے وہ میری حمد بیان کر رہا ہوتا ہے کہ میں اس کے دونوں پہلؤوں سے اس کی روح کھینچ لیتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8731
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 8732
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ ، وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ كَالَّذِي يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیواؤں اور مسکینوں کی خدمت کرنے والا مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے یا اس شخص کی طرح ہے جو ساری رات قیام اور سارا دن صیام میں رہتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8732
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 5353، م: 2982
حدیث نمبر: 8733
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا ، أَدَّاهَا اللَّهُ عَنْهُ ، وَمَنْ أَخَذَهَا يُرِيدُ إِتْلَافَهَا ، أَتْلَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَل " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص لوگوں کا مال (قرض پر) اداء کرنے کی نیت سے لیتا ہے اللہ وہ قرض اس سے اداء کروا دیتا ہے اور جو ضائع کرنے کی نیت سے لیتا ہے اللہ اسے ضائع کروا دیتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8733
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 2387
حدیث نمبر: 8734
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا ، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ ، وَلْيَفْعَلْ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی بات پر قسم کھالے بعد میں اسی کام میں بھلائی نظر آئے تو اپنی قسم کا کفارہ دے دے اور جس کام میں بہتری ہو وہ کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8734
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1650
حدیث نمبر: 8735
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ ابْنِ الْأَزْرَقِ ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ ، وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ ، عَطِشْنَا ، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ ؟ قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ ، الْحِلُّ مَيْتَتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ ہم لوگ سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ پینے کے لئے تھوڑا سا پانی رکھتے ہیں اگر اس سے وضو کرنے لگیں تو ہم پیاسے رہ جائیں کیا سمندر کے پانی سے ہم وضو کرسکتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سمندر کا پانی پاکیزگی بخش ہے اور اس کا مردار (مچھلی) حلال ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8735
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد اختلف فى إسناد هذا الحديث
حدیث نمبر: 8736
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاء ، مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ ، وَالنَّاسُ بَنُو آدَمَ ، وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ ، لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ فَخْرَهُمْ بِرِجَالٍ ، أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللَّهِ مِنْ عِدَّتِهِمْ مِنَ الْجِعْلَانِ الَّتِي تَدْفَعُ بِأَنْفِهَا النَّتَنَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا تعصب اور اپنے آباواجداد پر فخر کرنا دور کردیا ہے۔ اب یا تو کوئی شخص متقی مسلمان ہوگا یا بدبخت گناہ گار ہوگا سب لوگ آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور آدم علیہ السلام کی پیدائش مٹی سے ہوئی تھی لوگ آپنے آباؤ اجداد پر فخر کرنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ کی نگاہوں میں وہ اس بکری سے بھی زیادہ حقیرہوں گے جس کے جسم سے بدبو آنا شروع ہوگئی ہو اور وہ اسے اٹھانے کے لئے پیسے دینے پر تیار ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8736
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8737
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبًا بِهَا نَفْسُهُ مُحْتَسِبًا ، وَسَمِعَ وَأَطَاعَ ، فَلَهُ الْجَنَّةُ أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَخَمْسٌ لَيْسَ لَهُنَّ كَفَّارَةٌ الشِّرْكُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ بِغَيْرِ حَقٍّ ، أَوْ نَهْبُ مُؤْمِنٍ ، أَوْ الْفِرَارُ يَوْمَ الزَّحْفِ ، أَوْ يَمِينٌ صَابِرَةٌ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالًا بِغَيْرِ حَقٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اپنے مال کی زکوٰۃ دل کی خوشی سے اور ثواب کی نیت سے ادا کرتا ہو اور بات سن کر مانتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا اور پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کا کوئی کفارہ نہیں اللہ کے ساتھ شرک ناحق کسی کو قتل کرنا کسی مسلمان پر بہتان باندھنا میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا اور جھوٹی قسم کھانا جس سے دوسرے کا مال ناحق حاصل کرلیا جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8737
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، المتوكل أو أبو المتوكل مجهول، وبقية مدلس وقد عنعن
حدیث نمبر: 8738
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " حَدٌّ يُقَامُ فِي الْأَرْضِ ، خَيْرٌ لِلنَّاسِ مِنْ أَنْ يُمْطَرُوا ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین میں نافذ کی جانے والی ایک سزا لوگوں کے حق میں تیس چالیس دن تک مسلسل بارش ہونے سے بہتر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8738
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف جرير
حدیث نمبر: 8739
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَارُونُ هُوَ ابْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ تَرَوْا إِلَى مَا قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي مِنْ نِعْمَةٍ ، إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِهَا كَافِرِينَ ، يَقُولُونَ : الْكَوْكَبُ وَبِالْكَوْكَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو تو سہی کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے وہ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے بندوں پر جتنی بھی نعمتیں برسائیں ہمیشہ ایک گروہ نے ان کی ناشکری ہی کی اور یہی کہتے رہے کہ یہ فلاں ستارے کی تاثیر ہے اور یہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8739
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 72
حدیث نمبر: 8740
حَدَّثَنَا رَجُلٌ قَدْ سَمَّاهُ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے غسل کرنے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8740
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 239، م: 282
حدیث نمبر: 8741
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّكُمْ الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ آثَارِ الطُّهُورِ " ، فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن تم لوگ وضو کے نشانات سے روشن اور چمکدار پیشانی والے ہوگے اس لئے تم میں سے جو شخص اپنی چمک بڑھا سکتا ہو اسے ایسا کرلینا چاہئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8741
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، م: 246، وهذا إسناد ضعيف، ليث ضعيف، وكعب مجهول
حدیث نمبر: 8742
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، إِذْ ذَاكَ وَنَحْنُ بِالْمَدِينَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَجِيءُ الْأَعْمَالُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَتَجِيءُ الصَّلَاةُ ، فَتَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَنَا الصَّلَاةُ ، فَيَقُولُ : إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ ، فَتَجِيءُ الصَّدَقَةُ ، فَتَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَنَا الصَّدَقَةُ ، فَيَقُولُ : إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ ، ثُمَّ يَجِيءُ الصِّيَامُ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَنَا الصِّيَامُ ، فَيَقُولُ : إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ ، ثُمَّ تَجِيءُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكَ ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ ، ثُمَّ يَجِيءُ الْإِسْلَامُ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ أَنْتَ السَّلَامُ ، وَأَنَا الْإِسْلَامُ ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ ، بِكَ الْيَوْمَ آخُذُ ، وَبِكَ أُعْطِي " ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ : وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ سورة آل عمران آية 85 ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّ الْحَسَنَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اعمال صالحہ بارگاہ الٰہی میں پیش ہوں گے چنانچہ نماز آکر کہے گی کہ پروردگار میں نماز ہوں ارشاد ہوگا کہ تو بھلائی پر ہے پھر زکوٰۃ آئے گی اور کہے گی کہ پروردگار میں زکوٰۃ ہوں ارشاد ہوگا کہ تو بھلائی پر ہے پھر روزہ آکر کہے گا کہ پروردگار میں روزہ ہوں ارشاد ہوگا کہ تو بھی بھلائی پر ہے اسی طرح سارے اعمال آتے جائیں گے اور اللہ فرماتے جائیں گے کہ تو بھلائی پر ہے پھر اسلام آئے گا اور کہے گا کہ پروردگار تو سلام ہے اور میں اسلام ہوں اللہ فرمائے گا کہ تو بھی بھلائی پر ہے آج میں تیری ہی وجہ سے مواخذہ کروں گا اور تیری ہی وجہ سے عطاء کروں گا ارشاد ربانی ہے جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو تلاش کرتا ہے تو وہ اس کی جانب سے قبول نہ ہوگا اور وہ شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8742
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عباد ضعيف، والحسن لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 8743
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ مَوْلَى يَزِيدَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يقوَلَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ إِنْ تُعْطِ الْفَضْلَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ ، وَإِنْ تُمْسِكْهُ فَهُوَ شَرٌّ لَكَ ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ، وَلَا يَلُومُ اللَّهُ عَلَى الْكَفَافِ ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد نبوی منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے آدم اگر تو اپنی ضرورت سے زائد چیز کسی کو دے دے تو وہ تیرے حق میں بہتر ہے اور اگر اپنے پاس روک کر رکھے تو تیرے حق میں ہی برا ہے اور ان لوگوں سے ابتداء کر جو تیری ذمہ داری میں ہیں اور اللہ بقدر کفایت روکنے پر ملامت نہیں کرتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8743
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8744
وَبِإِسْنَادِهِ ، وَبِإِسْنَادِهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : مُرْنِي بِأَمْرٍ ، وَلَا تُكْثِرْ عَلَيَّ حَتَّى أَعْقِلَهُ ، قَالَ : " لَا تَغْضَبْ " فَأَعَادَ عَلَيْهِ ، قَالَ : " لَا تَغْضَبْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ مجھے کسی ایک بات پر عمل کرنے کا حکم دے دیجئے زیادہ باتوں کا نہیں تاکہ میں اسے اچھی طرح سمجھ جاؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غصہ نہ کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8744
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6116
حدیث نمبر: 8745
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ فَبَاعُوهَا ، وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودیوں پر اللہ کی لعنت ہو ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا لیکن وہ اسے بیچ کر اس کی قیمت کھانے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8745
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2224، م: 1583
حدیث نمبر: 8746
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مِرَايَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُصَلِّي الْمَلَائِكَةُ عَلَى نَائِحَةٍ ، وَلَا عَلَى مُرِنَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی نوحہ کرنے والی یا آہ بکاء کرنے والی عورت کے لئے فرشتے دعاء مغفرت نہیں کرتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8746
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قابل للتحسين
حدیث نمبر: 8747
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَهُوَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بِنَاءُ الْجَنَّةِ لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کی عمارت میں ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8747
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، عمران متابع
حدیث نمبر: 8748
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ مِنَ الدُّعَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک دعاء سے زیادہ کوئی چیز معزز نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8748
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قابل للتحسين
حدیث نمبر: 8749
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ الْهِفَّانِيُّ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُول : ُسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلَانِ ، أَحَدُهُمَا مُجْتَهِدٌ فِي الْعِبَادَةِ ، وَالْآخَرُ مُسْرِفٌ عَلَى نَفْسِهِ ، وَكَانَا مُتَآخِيَيْنِ ، فَكَانَ الْمُجْتَهِدُ لَا يَزَالُ يَرَى عَلَى الْآخَرِ ذَنْبًا ، فَيَقُولُ : وَيْحَكَ أَقْصِرْ ، فَيَقُولُ : الْمُذْنِب خَلِّنِي وَرَبِّي " فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي عَامِرٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بنی اسرائیل میں دو آدمی تھے ان میں سے ایک بڑا عبادت گذار اور دوسرا بہت گناہ گار تھا دونوں میں بھائی چارہ تھا عبادت گذار جب بھی دوسرے شخص کو گناہ کرتے ہوئے دیکھتا تو اس سے کہتا کہ اس سے باز آجا لیکن وہ جواب دیتا کہ تو مجھے اور میرے رب کو چھوڑ دے۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8749
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، عكرمة صدوق لكن قد روى أحاديث غرائب
حدیث نمبر: 8750
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَوْ آمَنَ عَشَرَةٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ ، آمَنُوا بِي كُلُّهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر مجھ پر یہودیوں کے دس بڑے عالم ایمان لے آئیں تو روئے زمین کا ہر یہودی مجھ پر ایمان لے آئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8750
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3941، م: 2793، أبو هلال وإن كان فيه ضعف، متابع
حدیث نمبر: 8751
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي أَبُو الْجُلَاسِ عُقْبَةُ بْنُ سَيَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ شَمَّاخٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ مَرْوَانَ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ : كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ ؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا ، وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا ، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا ، جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
عثمان بن شماخ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے میری موجودگی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نماز جنازہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سی دعاء پڑھتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ آپ ہی اس کے رب ہیں آپ ہی نے اسے پیدا کیا آپ ہی نے اسلام کی طرف اس کی رہنمائی فرمائی اور آپ ہی نے اس کی روح قبض فرمائی آپ اس کے پوشیدہ اور ظاہر سب کو جانتے ہیں ہم آپ کے پاس اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں آپ اسے معاف فرما دیجئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8751
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، فيه ثلاث علل: اضطراب إسناده ، وجهالة بعض رواته ورواية بعضهم له موقوفا
حدیث نمبر: 8752
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَطْفِئُوا السُّرُجَ ، وَأَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ ، وَخَمِّرُوا الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کو سوتے وقت چراغ بجھا دیا کرو دروازے بند کردیا کرو اور کھانے پینے کی چیزیں ڈھانپ دیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8752
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، الحسن لم يسمع من أبى هريرة
حدیث نمبر: 8753
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ نہ بتاؤں ؟ یوں کہا کرو لا قوۃ الا باللہ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8753
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله: تحت العرش ، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8754
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ , عن أبيه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ السَّنَةُ أَنْ لَا يَكُونَ مَطَرٌ ، وَلَكِنَّ السَّنَةَ أَنْ تُمْطِرَ السَّمَاءُ وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قحط سالی یہ نہیں ہے کہ بارشیں نہ ہوں قحط سالی یہ ہے کہ آسمان سے بارشیں تو خوب برسیں لیکن زمین سے پیداوار نہ نکلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8754
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2904