حدیث نمبر: 8675
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ : عِيَادَةُ الْمَرِيضِ ، وَشُهُودُ الْجِنَازَةِ ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جو ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا حق ہیں مریض کی بیمار پرسی کرنا نماز جنازہ میں شرکت کرنا اور چھینکنے والے کو جبکہ وہ الحمدللہ کہے چھینک کا جواب (یرحمک اللہ کہہ کر) دینا۔
حدیث نمبر: 8676
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ لَهِيعَةَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الْوَرْدِ ، قَالَ إِسْحَاقُ : الْمَدِيني ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يقوَلَ : " إِيَّاكُمْ وَالْخَيْلَ الْمُنَفِّلَةَ ، فَإِنَّهَا إِنْ تَلْقَ تَفِرَّ ، وَإِنْ تَغْنَمْ تَغُلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے خوشبو دار گھاس کھا کر موٹے ہونے والے گھوڑوں کے استعمال سے بچو کیونکہ اگر ان کا دشمن سے سامنا ہو تو وہ بھاگ جاتے ہیں اور اگر مال غنیمت مل جائے تو خیانت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8677
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اكْتَحَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْتَحِلْ وِتْرًا ، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ فَلْيَسْتَجْمِرْ وِتْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص سرمہ لگائے تو طاق عدد میں سلائی اپنی آنکھوں میں پھیرے اور جب پتھروں سے استنجاء کرے تب بھی طاق عدد میں پتھر استعمال کرے۔
حدیث نمبر: 8678
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ أَعْرَابِيًّا غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ ، فَأَصَابَهُ مِنْ سَهْمِهَا دِينَارَانِ ، فَأَخَذَهُمَا الْأَعْرَابِيُّ فَجَعَلَهُمَا فِي عَبَاءَتِهِ ، وَخَيَّطَ عَلَيْهِمَا ، وَلَفَّ عَلَيْهِمَا ، فَمَاتَ الْأَعْرَابِيُّ ، فَوَجَدُوا الدِّينَارَيْنِ ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " كَيَّتَان " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے غزوہ خیبر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی اسے دو دینار اپنے حصے میں سے ملے اس نے انہیں لے کر اپنی عباء میں رکھ کر سی لیاجب وہ فوت ہوا تو لوگوں کو وہ دو دینار ملے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جہنم کے دو انگارے ہیں۔
حدیث نمبر: 8679
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْرَجُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّكْبِيرُ فِي الْعِيدَيْنِ سَبْعًا قَبْلَ الْقِرَاءَةِ ، وَخَمْسًا بَعْدَ الْقِرَاءَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عیدین میں سات تکبیرات قرأت سے پہلے (پہلی رکعت میں) ہیں اور پانچ تکبیرات قرأت کے بعد دوسری رکعت میں ہیں۔
حدیث نمبر: 8680
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " أَهْلُ الْجَنَّةِ رَشْحُهُمْ الْمِسْكُ وَوُقُودُهُمْ الْأَلُوَّةُ " ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ لَهِيعَةَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَا الْأَلُوَّةُ ؟ قَالَ : الْعُودُ الْهِنْدِيُّ الْجَيِّدُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اہل جنت کا پسینہ مشک کی طرح خوشبو دار ہوگا اور ان کی انگیٹھیوں میں عود ہندی ڈالا جائے گا (جس سے ہر چارسو فضا معطر ہوجائے گی)
حدیث نمبر: 8681
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ الْعَطَّارَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذَاكَرُوا الْكَمَأَةَ ، فَقَالُوا : هِيَ جُدَرِيُّ الْأَرْضِ ، وَمَا نَرَى أَكْلَهَا يَصْلُح ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " الْكَمَأَةُ مِنَ الْمَنِّ ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے تو وہ اس درخت کے بارے میں اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے جو سطح زمین سے ابھرتا ہے اور اسے قرار نہیں ہوتا چنانچہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہمارے خیال میں وہ کھنبی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھنبی تو من (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفا ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجور ہے اور زہر کی شفا ہے۔
حدیث نمبر: 8682
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي الْعَلَاء وهو ابنُ عبد الرحمنُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَقَرَأَ عَلَيْهِ أُبَيٌّ أُمَّ الْقُرْآنِ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا أُنْزِلَ فِي التَّوْرَاةِ ، وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ ، وَلَا فِي الزَّبُورِ ، وَلَا فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهَا ، إِنَّهَا السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے سورت فاتحہ کی تلاوت کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تورات انجیل اور زبور بلکہ خود قرآن میں بھی اس جیسی دوسری سورت نازل نہیں ہوئی یہ وہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے عطاء ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 8683
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ : أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُصُّ عَلَى الْمِنْبَرِ : وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ سورة الرحمن آية 46 ، فَقُلْتُ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ النبي اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّانِيَةَ : وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَانِ سورة الرحمن آية 46 ، فَقُلْتُ في الثَّانِيَةَ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّالِثَةَ : وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتَان سورة الرحمن آية 46 ، فَقُلْتُ الثَّالِثَةَ : وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : " نَعَمْ ، وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي الدَّرْدَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے دوران وعظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے اس کے لئے دو جنتیں ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! خواہ وہ زنا اور چوری ہی کرتا پھرے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی آیت پڑھی کہ جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے اس کے لئے دو جنتیں ہیں تین مرتبہ اسی طرح سوال و جواب ہوئے تیسری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اگرچہ ابو درداء کی ناک خاک آلودہ ہوجائے۔
حدیث نمبر: 8684
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سُهَيْلٍ نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ ، فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ ، وَصُفِّدَتْ الشَّيَاطِينُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ماہ رمضان شروع ہوتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 8685
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سُهَيْلٍ نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ : إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے۔
حدیث نمبر: 8686
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا عُمْرَى ، فَمَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر بھر کے لئے کسی چیز کو وقف کرنے کی کوئی حیثیت نہیں جس شخص کو ایسی چیز دی گئی ہو وہ اس کی ہوگئی۔
حدیث نمبر: 8687
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظَ يَصِيحُ فِي الْمَسْجِدِ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَرَادَ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ ، أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اللہ اسے اس طرح پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 8688
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ : عِيَادَةُ الْمَرِيضِ ، وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جو ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا حق ہیں مریض کی بیمار پرسی کرنا نماز جنازہ میں شرکت کرنا اور چھینکنے والے کو جبکہ وہ الحمدللہ کہے چھینک کا جواب (یرحمک اللہ کہہ کر) دینا۔
حدیث نمبر: 8689
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا تَمَنَّى أَحَدُكُمْ ، فَلْيَنْظُرْ مَا يَتَمَنَّى ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا يُكْتَبُ لَهُ مِنْ أُمْنِيَّتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص تمنا کرے تو دیکھ لے کہ کس چیز کی تمنا کر رہا ہے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اس کی تمنا میں کیا لکھا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 8690
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، بَاعَدَهُ اللَّهُ مِنْ جَهَنَّمَ سَبْعِينَ خَرِيفًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ کی رضا کے لئے ایک دن روزہ رکھتا ہے اللہ اسے جہنم سے ستر سال کے فاصلے پر دور کردیتا ہے۔
حدیث نمبر: 8691
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ مُؤَذِّنُ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ خَيْرَ الْكَسْبِ كَسْبُ يَدَيْ عَامِلٍ إِذَا نَصَحَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین کمائی مزدور کے ہاتھ کی کمائی ہوتی ہے جبکہ وہ خیرخواہی سے کام کرے۔
حدیث نمبر: 8692
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أُمَيَّةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ كُنْتُ خَصْمَهُ خَصَمْتُهُ رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُوَفِّهِ أَجْرَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تین قسم کے آدمی ایسے ہیں قیامت کے دن جن کا خصم میں ہوں گا اور جس کا خصم میں ہوں میں اس پر غالب آجاؤں گا ایک تو وہ آدمی جو میرے ساتھ کوئی وعدہ کرے پھر مجھے دھوکہ دے (وعدہ خلافی کرے) دوسرا وہ آدمی جو کسی آزاد آدمی کو بیچ ڈالے اور اس کی قیمت کھاجائے اور تیسرا وہ آدمی جو کسی شخص سے مزدوری کروائے مزدوری تو پوری لے لیکن اس کی اجرت پوری نہ دے۔
حدیث نمبر: 8693
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، قَالَ : سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، عَنْ السَّبْقِ ، فَقَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " لَا سَبْقَ إِلَّا فِي خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صرف اونٹ یا گھوڑے میں ریس لگائی جاسکتی ہے۔
حدیث نمبر: 8694
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا وَدَّعَ أَحَدًا ، قَالَ : " أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكَ ، وَأَمَانَتَكَ ، وَخَوَاتِيمَ عَمَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو رخصت کرتے تو یوں فرماتے کہ میں تمہارا دین، امانت اور اعمال کا خاتمہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 8695
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ ، حَدَّثَنِي مَوْلًى لِأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَضِّئْنِي ، فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوءٍ فَاسْتَنْجَى ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي التُّرَابِ فَمَسَحَهَا ، ثُمَّ غَسَلَهَا ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رِجْلَاكَ لَمْ تَغْسِلْهُمَا ! قَالَ : " إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا کہ مجھے وضو کراؤ چنانچہ میں وضو کا پانی لایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے استنجاء کیا پھر اپنے ہاتھ مٹی میں ڈال کر ان پر مٹی ملی پھر انہیں دھویا پھر مکمل وضو کیا آخر میں موزوں پر بھی مسح فرمایا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ نے پاؤں نہیں دھوئے ؟ فرمایا میں نے وضو کی حالت میں یہ موزے پہنے تھے۔
حدیث نمبر: 8696
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ يَعْنِي ابْنَ زَائِدَةَ بْنِ نَشِيطٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يعنى " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَا ابْنَ آدَمَ ، تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى ، وَأَسُدَّ فَقْرَكَ ، وَإِلَّا تَفْعَلْ مَلَأْتُ صَدْرَكَ شُغْلًا ، وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے اے ابن آدم میری عبادت کے لئے اپنے آپ کو فارغ کرلے میں تیرے سینے کو مالداری سے بھر دوں گا اور تیرے فقر کے آگے بند باندھ دوں گا اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے میں مصروفیات بھر دوں گا اور تیرا فقر زائل نہ کروں گا۔
حدیث نمبر: 8697
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَامِلٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى تَصِيرَ لِلُكَعِ ابْنِ لُكَعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا اس وقت تک فناء نہ ہوگی جب تک کہ زمام حکومت کمینہ ابن کمینہ کے ہاتھ میں نہ آجائے۔
حدیث نمبر: 8698
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا كَامِلٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُكْثِرِينَ يَعْنِي هُمْ الْأَقَلُّونَ ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہی قلت کا شکار ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں۔
حدیث نمبر: 8699
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ طُولِ الْحَيَاةِ ، وَكَثْرَةِ الْمَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بوڑھے آدمی میں دو چیزوں کی محبت جوان ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔
حدیث نمبر: 8700
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " لَمَّا قَضَى اللَّهُ الْخَلْقَ ، كَتَبَ فِي كِتَابٍ فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ : إِنَّ رَحْمَتِي غَلَبَتْ غَضَبِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جب مخلوق کو وجود عطاء کرنے کا فیصلہ فرمایا تو اس کتاب میں جو اس کے پاس عرش پر ہے ' لکھا کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔
حدیث نمبر: 8701
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَبِيحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَيْرُ الصَّدَقَةِ الْمَنِيحَةُ ، تَغْدُو بِأَجْرٍ وَتَرُوحُ بِأَجْرٍ ، وَمَنِيحَةُ النَّاقَةِ كَعِتَاقَةِ الْأَحْمَر ، وَمَنِيحَةُ الشَّاةِ كَعِتَاقَةِ الْأَسْوَدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بہترین صدقہ وہ دودھ دینے والی بکری ہے جو صبح و شام اجر کا سبب بنتی ہے دودھ دینے والی اونٹنی کا صدقہ کسی سرخ رنگت والے کو آزاد کرنے کی طرح ہے اور دودھ دینے والی بکری کا صدقہ کسی سیاہ فام کو آزاد کرنے کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 8702
حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " جُهْدُ الْمُقِلِّ ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! کون سا صدقہ سب سے افضل ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مالی طور پر قلت کے شکار آدمی کا محنت کرکے صدقہ نکالنا (سب سے افضل ہے) اور (یاد رکھو) صدقہ میں ابتداء ان لوگوں سے کرو جو تمہاری ذمہ داری میں ہیں۔
حدیث نمبر: 8703
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " لَيْسَ السَّنَةُ بِأَنْ لَا تُمْطَرُوا ، وَلَكِنَّ السَّنَةَ أَنْ تُمْطَرُوا ثُمَّ تُمْطَرُوا فَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ شَيْئًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قحط سالی یہ نہیں ہے کہ بارشیں نہ ہوں قحط سالی یہ ہے کہ آسمان سے بارشیں تو خوب برسیں لیکن زمین سے پیداوار نہ نکلے۔
حدیث نمبر: 8704
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَلَائِكَةً فُضُلًا ، يَتَّبِعُونَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ ، يَجْتَمِعُونَ عِنْدَ الذِّكْرِ ، فَإِذَا مَرُّوا بِمَجْلِسٍ عَلَا بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ حَتَّى يَبْلُغُوا الْعَرْشَ ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ ، وَهُوَ أَعْلَمُ : مِنْ أَيْنَ جِئْتُم ؟ فَيَقُولُونَ : مِنْ عِنْدِ عَبِيدٍ لَكَ ، يَسْأَلُونَكَ الْجَنَّةَ ، وَيَتَعَوَّذُونَ بِكَ مِنَ النَّارِ ، وَيَسْتَغْفِرُونَكَ ، فَيَقُولُ عزََّ وجلَّ : يَسْأَلُونِي جَنَّتِي ، هَلْ رَأَوْهَا ، فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا ؟ وَيَتَعَوَّذُونَ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ ، فَكَيْفَ لَوْ رَأَوْهَا ؟ فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُمْ ، فَيَقُولُونَ : رَبَّنَا ، إِنَّ فِيهِمْ عَبْدَكَ الْخَطَّاءَ فُلَانًا ، مَرَّ بِهِمْ لِحَاجَةٍ لَهُ ، فَجَلَسَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : أُولَئِكَ الْجُلَسَاءُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيسُهُم " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے جو لوگوں کا نامہ اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ ہوتے ہیں اس کام پر مقرر ہیں کہ وہ زمین میں گھومتے پھریں یہ فرشتے جہاں کچھ لوگوں کو ذکر کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو وہ سب اکھٹے ہو کر آجاتے ہیں اور ان لوگوں کو آسمان دنیا تک ڈھانپ لیتے ہیں۔ ( پھر جب وہ آسمان پر جاتے ہیں تو) اللہ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہے کہ تم کہاں سے آئے ہو وہ کہتے ہیں کہ ہم آپ کے بندوں کے پاس سے آئے ہیں وہ لوگ جنت کی طلب کر رہے تھے جہنم سے آپ کی پناہ مانگ رہے تھے اور آپ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے تھے اللہ پوچھتا ہے کہ کیا انہوں نے جنت کو دیکھا ہے ؟ اگر وہ جنت کو دیکھ لیتے تو کیا ہوتا ؟ جہنم سے وہ پناہ مانگ رہے تھے اگر وہ جہنم کو دیکھ لیتے تو کیا ہوتا ؟ میں نے ان سب کے گناہوں کو معاف فرما دیا فرشتے کہتے ہیں کہ ان میں تو فلاں گنہگار آدمی بھی شامل تھا جو ان کے پاس خود نہیں آیا تھا بلکہ کوئی ضرورت اور مجبوری اسے لے آئی تھی اللہ فرماتا ہے کہ یہ ایسی جماعت ہے جن کے ساتھ بیٹھنے والا کبھی محروم نہیں رہتا۔
حدیث نمبر: 8705
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ بن أبى صالح ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَلَائِكَةً سَيَّارَةً فُضُلًا ، يَلْتَمِسُونَ مَجَالِسَ الذِّكْرِ " ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 8706
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُرَى عَضَلَةُ سَاقِهِ مِنْ تَحْتِ إِزَارِهِ إِذَا اتَّزَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تہبند باندھتے تو تہبند کے ورے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلی کی مچھلی نظر آتی تھی۔
حدیث نمبر: 8707
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَوَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةِ الْبَدْرِ ، فَاسْتَزَدْتُ ، فَزَادَنِي مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعِينَ أَلْفًا ، فَقُلْتُ : أَيْ رَبِّ ، إِنْ لَمْ يَكُنْ هَؤُلَاءِ مُهَاجِرِي أُمَّتِي ؟ ! قَالَ : إِذَنْ أُكْمِلَهُمْ لَكَ مِنَ الْأَعْرَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب سے درخواست کی تو اس نے مجھ سے وعدہ کرلیا کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمیوں کو چودھویں رات کے چاند کی طرح چمکتا دمکتاجنت میں داخل کرے گا میں نے اپنے پروردگار سے اس میں مزید اضافہ کی درخواست کی تو اس نے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار کا اضافہ کردیا میں نے پوچھا پروردگار اگر یہ لوگ میری امت کے مہاجر نہ ہوئے تو ؟ ( اگر مہاجرین کی تعداد کم ہوئی تو ؟ ) اللہ نے فرمایا کہ پھر میں یہ تعداد دیہاتیوں سے پوری کروں گا۔
حدیث نمبر: 8708
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى السُّلَمِيُّ الدَّقِيقِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ : لَوْ أَنَّ عِبَادِي أَطَاعُونِي ، لَأَسْقَيْتُهُمْ الْمَطَرَ بِاللَّيْلِ ، وَأَطْلَعْتُ عَلَيْهِمْ الشَّمْسَ بِالنَّهَارِ ، وَلَمَا أَسْمَعْتُهُمْ صَوْتَ الرَّعْدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد نبوی مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر میرے بندے میری اطاعت کرنے لگیں تو میں رات کو انہیں بارش سے سیراب کروں دن میں ان پر سورج کو روشن کروں اور انہیں بادلوں کی گرج نہ سناؤں۔
حدیث نمبر: 8709
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ حُسْنِ عِبَادَةِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن ظن بھی حسن عبادت کا ایک حصہ ہے۔
حدیث نمبر: 8710
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَدِّدُوا إِيمَانَكُم " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ نُجَدِّدُ إِيمَانَنَا ؟ قَالَ : " أَكْثِرُوا مِنْ قَوْلِ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے ایمان کی تجدید کرتے رہا کرو کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہم اپنے ایمان کی تجدید کیسے کرسکتے ہیں ؟ لا الہ الا اللہ کی کثرت کیا کرو۔
حدیث نمبر: 8711
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا ، أَوْ وَضَعَ لَهُ ، أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی تنگدست مقروض کو مہلت دے دے یا معاف کردے اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطاء فرمائے گا۔
حدیث نمبر: 8712
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ كَلَامٍ أَوْ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لَا يُفْتَحُ بِذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَهُوَ أَبْتَرُ أَوْ قَالَ أَقْطَعُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ کام یا کلام جس کا آغاز اللہ کے ذکر سے نہ کیا جائے وہ دم بریدہ رہتا ہے۔
حدیث نمبر: 8713
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ الْأَزْدِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ شُبَيْلِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ لِثَوْبَانَ : " كَيْفَ أَنْتَ يَا ثَوْبَانُ إِذْ تَدَاعَتْ عَلَيْكُمْ الْأُمَمُ كَتَدَاعِيكُمْ عَلَى قَصْعَةِ الطَّعَامِ يُصِيبُونَ مِنْهُ ؟ ! " قَالَ ثَوْبَانُ : بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمِنْ قِلَّةٍ بِنَا ؟ قَالَ : " لَا ، بل أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ كَثِيرٌ ، وَلَكِنْ يُلْقَى فِي قُلُوبِكُمْ الْوَهَنُ " ، قَالُوا : وَمَا الْوَهَنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " حُبُّكُمْ الدُّنْيا ، وَكَرَاهِيَتُكُمْ الْقِتَالَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ثوبان رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ثوبان ! اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب تمہارے خلاف دنیا کی قومیں ایک دوسرے کو ایسے دعوت دیں گی جیسے کھانے کی میز پر دعوت دی جاتی ہے ؟ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا اس وقت ہماری تعداد کم ہونے کی بنا پر ایسا ہوگا ؟ فرمایا نہیں بلکہ اس وقت تمہاری تعداد بہت زیادہ ہوگی لیکن تمہارے دلوں میں وہن " ڈال دیا جائے گا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہن کیا چیز ہے ؟ فرمایا دنیا سے محبت اور جہاد سے نفرت۔
حدیث نمبر: 8714
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ كَانَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ ، وَلَا يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرما لیتے تھے اپنی ذات کے لئے صدقہ قبول نہ فرماتے تھے۔
…