حدیث نمبر: 7239
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ نَبِيٍّ ، وَلَا وَالي ، إِلَّا وَلَهُ بِطَانَتَانِ : بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوهُ خَبَالًا ، وَمَنْ وُقِيَ شَرَّهُمَا ، فَقَدْ وُقِيَ ، وَهُوَ مَعَ الَّتِي تَغْلِبُ عَلَيْهِ مِنْهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی نبی یا حکمران ایسا نہیں ہے کہ اس کے دو قسم کے مشیر نہ ہوں ایک گروہ اسے نیکی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا گروہ (اس بدنصیبی میں اپنا کردار ادا کرنے میں) کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ جو ان دونوں کے شر سے بچ گیا وہ محفوظ رہا اور جو گروہ اس پر غالب آگیا اس کا شمار انہی میں ہو گا۔
حدیث نمبر: 7240
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَدِ يَوْمَ النَّحْرِ ، وَهُوَ بِمِنًى : " نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ ، حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ " . يَعْنِي بِذَلِكَ الْمُحَصَّبَ ، وَذَلِكَ أَنَّ قُرَيْشًا وَكِنَانَةَ تَحَالَفَتْ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ ، وَلَا يُبَايِعُوهُمْ ، حَتَّى يُسْلِمُوا إِلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر سے اگلے دن (گیارہ ذی الحجہ کو) جبکہ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم منٰی ہی میں تھے فرمایا : کہ کل ہم (ان شاء اللہ) خیف بنی کنانہ جہاں قریش نے کفر پر قسمیں کھائی تھیں میں پڑاو کریں گے مراد وادی محصب تھی دراصل واقعہ یہ ہے کہ قریش اور بنوکنانہ نے بنوہاشم اور بنوعبدالمطلب کے خلاف باہم یہ معاہدہ کر لیا تھا کہ قریش اور بنوکنانہ ان سے باہمی مناکحت اور خریدو فروخت نہیں کریں گے تاآنکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالے کر دیں۔
حدیث نمبر: 7241
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي قُرَّةُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " إِنَّ أَحَبَّ عِبَادِي إِلَيَّ ، أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ارشادباری تعالیٰ ہے مجھے اپنے بندوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ وہ بندہ ہے جو افطار کا وقت ہوجانے کے بعد روزہ افطار کرنے میں جلدی کرے۔
حدیث نمبر: 7242
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ . وَأَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْبٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، الْمَعْنَى ، قَالَ : لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ ، ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، لَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا ، وَلَا تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ ، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ : إِمَّا أَنْ يَفْدِيَ ، وَإِمَّا أَنْ يَقْتُلَ " ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ ، يُقَالُ لَهُ : أَبُو شَاهٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اكْتُبُوا لِي ، فَقَالَ رسول الله صلى الله عليه وسلم : " اكْتُبُوا لأبى شاهٍ " ، فَقَالَ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِلَّا الْإِذْخِرَ ، فَإِنَّهُ لِقُبُورِنَا ، وَبُيُوتِنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِلَّا الْإِذْخِرَ " . فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ : وَمَا قَوْلُهُ " اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ " ؟ وَمَا يَكْتُبُوا لَهُ ؟ قَالَ : يَقُولُ : اكْتُبُوا لَهُ خُطْبَتَهُ الَّتِي سَمِعَهَا . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : لَيْسَ يُرْوَى فِي كِتَابَةِ الْحَدِيثِ شَيْءٌ أَصَحُّ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ ، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ ، قَالَ : " اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ " مَا سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خُطْبَتَهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر مکہ مکرمہ کو فتح کروا دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا : اللہ نے مکہ مکرمہ سے ہاتھیوں کو دور کیا اور اپنے رسول اور مومنین کو اس پر تسلط عطاء فرمایا : میرے لئے بھی اس میں قتال دن کے کچھ حصے میں حلال کیا گیا ہے اس کے بعد یہ قیامت تک کے لئے حرام ہے اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اس کے شکار کو خوفزدہ نہ کیا جائے اور یہاں کی گری پڑی چیز اٹھانا کسی کے لئے حلال نہیں الاّ یہ کہ وہ اس کا اعلان کر دے اور جس شخص کا کوئی عزیز مارا گیا ہو اسے دو میں سے کسی ایک بات کا اختیار ہے جو وہ اپنے حق میں بہتر سمجھے یا تو فدیہ لے لے یا پھر قاتل کو قصاصا قتل کر دے۔ _x000D_ یہ خطبہ سن کر یمن کا ایک آدمی کھڑا ہوا جس کا نام ابوشاہ تھا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! مجھے یہ خطبہ لکھ کر عنایت فرما دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ یہ خطبہ لکھ کر ابو شاہ کو دے دو اسی اثناء میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! اذخرنامی گھاس کو مستثنٰی کردیجئے کیونکہ وہ ہماری قبروں اور گھروں میں استعمال ہوتی ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے مستثنٰی کر دیا۔ _x000D_ راوی کہتے ہیں کہ میں نے امام اوزاعی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ ابوشاہ کو لکھ کر دے دو سے کیا مراد ہے ؟ وہ اسے کیا لکھ کردیتے ؟ انہوں نے فرمایا : کہ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ ابوشاہ کو وہ خطبہ لکھ کر دے دو جو انہوں نے سنا ہے۔ نیز امام احمد رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ فرماتے ہیں کہ کتابت حدیث کی اجازت سے متعلق اس سے زیادہ کوئی صحیح حدیث مروی نہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو وہ خطبہ لکھنے کا حکم دیا تھا۔
حدیث نمبر: 7243
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَهَبَ أَصْحَابُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي ، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ ، وَلَهُمْ فُضُولُ أَمْوَالٍ يَتَصَدَّقُونَ بِهَا ، وَلَيْسَ لَنَا مَا نَتَصَدَّقُ بِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَاتٍ ، إِذَا عَمِلْتَ بِهِنَّ أَدْرَكْتَ مَنْ سَبَقَكَ ، وَلَا يَلْحَقُكَ إِلَّا مَنْ أَخَذَ بِمِثْلِ عَمَلِكَ ؟ " قَالَ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " تُكَبِّرُ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَتَخْتِمُهَا بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوذرغفاری رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا : یا رسول اللہ مال و دولت والے تو اجر وثواب کے ڈھیر لے گئے جیسے ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں جیسے ہم روزہ رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں اور ان کے پاس زائد مال بھی ہے جسے وہ صدقہ کرتے ہیں جبکہ ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں کہ ہم انہیں صدقہ کر سکیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ بتادوں کہ اگر تم ان پر عمل کرنے لگو تو اپنے سے سبقت لے جانے والوں کو پالو اور کوئی تمہارے مرتبے کو نہ پہنچ سکے ؟ الاّ یہ کہ کوئی شخص تمہاری طرح ہی اس پر عمل کرنا شروع کر دے انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر نماز کے بعد ٣٣ مرتبہ اللہ اکبر ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ ٣٣ مرتبہ الحمد اللہ پڑھ لیا کرو اور آخر میں یہ کہہ لیا کرو۔ لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد و ہو علی کل شیء قدیر۔
حدیث نمبر: 7244
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : حَفِظْنَاهُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَمَّنَ الْقَارِئُ ، فَأَمِّنُوا ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُؤَمِّنُ ، فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب امام آمین کہے تو تم بھی اس پر آمین کہو کیونکہ فرشتے بھی اس پر آمین کہتے ہیں اور جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہو جائے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہو جائیں گے۔
حدیث نمبر: 7245
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ : " يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ ، يَسُبُّ الدَّهْرَ ، وَأَنَا الدَّهْرُ ، بِيَدِي الْأَمْرُ ، أُقَلِّبُ اللَّيْلَ ، وَالنَّهَارَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ارشادباری تعالیٰ ہے ابن آدم مجھے ایذاء پہنچاتا ہے وہ زمانے کو گالی دیتا ہے حالانکہ زمانہ پیدا کرنے والا تو میں ہوں تمام امور میرے ہاتھ میں ہیں اور میں ہی دن رات کو الٹ پلٹ کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 7246
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے لہٰذا جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھا کرو۔
حدیث نمبر: 7247
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اشْتَكَتْ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا ، فَقَالَتْ : أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا ، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ : نَفَسٌ فِي الشِّتَاءِ ، وَنَفَسٌ فِي الصَّيْفِ ، فَأَشَدُّ مَا يَكُونُ مِنَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک مرتبہ جہنم کی آگ نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں شکایت کرتے ہوئے کہا کہ میرے ایک حصے نے دوسرے حصے کو کھالیا ہے اللہ نے اسے دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دے دی ایک مرتبہ سردی میں اور ایک مرتبہ گرمی میں چنانچہ شدید ترین گرمی جہنم کی تپش کا ہی اثر ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 7248
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، أَوْ يَتَنَاجَشُوا ، أَوْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ، أَوْ يَبِيعَ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ ، وَلَا تَسْأَلْ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا ، لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا ، أَوْ إِنَائِهَا ، وَلْتَنْكِحْ ، فَإِنَّمَا رِزْقُهَا عَلَى اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے مال کو فروخت کرے یا بیع میں دھوکہ دے یا کوئی آدمی اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح بھیج دے یا اپنے بھائی کی بیع پر اپنی بیع کرے اور کوئی عورت اپنی بہن (خواہ حقیقی ہو یا دینی) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے کہ جو کچھ اس کے پیالے یا برتن میں ہے وہ بھی اپنے لئے سمیٹ لے بلکہ نکاح کرلے کیونکہ اس کا رزق بھی اللہ کے ذمے ہے۔
حدیث نمبر: 7249
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَمَسْجِدِي ، وَالْمَسْجِدِ الْأَقْصَى " . قَالَ سُفْيَانُ : " وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثِ مَسَاجِدَ ، سَوَاءً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : صرف تین مسجدوں کی طرف خصوصیت سے کجاوے کس کر سفر کیا جائے ایک تو مسجد حرام دوسرے میری یہ مسجد (مسجد نبوی) اور تیسرے مسجد اقصیٰ ۔
حدیث نمبر: 7250
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قِيلَ لَهُ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فقَالَ : نَعَمْ : " إِذَا أَتَيْتُمْ الصَّلَاةَ ، فَلَا تَأْتُوهَا ، وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ ، وَأْتُوهَا وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ ، فَصَلُّوا ، وَمَا فَاتَكُمْ ، فَاقْضُوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نماز کے لئے دوڑتے ہوئے مت آیا کرو بلکہ اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کر لیا کرو۔
حدیث نمبر: 7251
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُصَلِّي أَحَدُنَا فِي ثَوْبٍ ؟ قَالَ : " أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ ؟ " . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَتَعْرِفُ أَبَا هُرَيْرَةَ ! يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، وَثِيَابُهُ عَلَى الْمِشْجَبِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی شخص نے پوچھا کہ ہم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں ؟ اس حدیث کو بیان کر کے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کیا تم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو جانتے ہو ؟ وہ ایک کپڑے میں نماز پڑھتا تھا اور اس کے کپڑے لکڑی کے ڈنڈے پر ہوتے تھے۔
حدیث نمبر: 7252
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَأْتُوا الصَّلَاةَ ، وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ ، وَلَكِنْ امْشُوا إِلَيْهَا ، وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ ، فَصَلُّوا ، وَمَا فَاتَكُمْ ، فَأَتِمُّوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نماز کے لئے دوڑتے ہوئے مت آیا کرو بلکہ اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کر لیا کرو۔
حدیث نمبر: 7253
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ ، فِيمَا سِوَاهُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری تمام مسجدوں سے سوائے مسجد حرام کے ایک ہزار گنا زیادہ ہے۔
حدیث نمبر: 7254
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وأبى سَلَمَة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے۔
حدیث نمبر: 7255
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا ، وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا " ، ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَأَسْرَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ ، وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ ، أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ ، أَوْ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی مسجد نبوی میں آیا دو رکعتیں پڑھیں اور یہ دعا کرنے لگا کہ اے اللہ ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم فرما اور اس میں کسی کو ہمارے ساتھ شامل نہ فرما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : تو نے وسعت والے اللہ کو پابند کر دیا تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اس دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا لوگ جلدی سے اس کی طرف دوڑے یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو مشکل میں ڈالنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے اس کے پیشاب کی جگہ پر پانی کا ایک ڈول بہا دو ۔
حدیث نمبر: 7256
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا فَرَعَةَ ، وَلَا عَتِيرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسلام میں ماہ رجب میں قربانی کرنے کی کوئی حیثیت نہیں اسی طرح جانور کا سب سے پہلا بچہ بتوں کے نام قربان کرنے کی بھی کوئی حیثیت نہیں۔
حدیث نمبر: 7257
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقِيلَ لَهُ مَرَّةً رَفَعْتَهُ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، وَقَالَ مَرَّةً : يَبْلُغُ بِهِ : : " يَقُولُونَ : الْكَرْمُ ، وَإِنَّمَا الْكَرْمُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگ انگور کو کرم کہتے ہیں حالانکہ اصل کرم تو مومن کا دل ہے۔
حدیث نمبر: 7258
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ، كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِكَةٌ ، يَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طُوِيَتْ الصُّحُفُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مساجد کے ہر دروازے پر فرشتے آ جاتے ہیں اور پہلے دوسرے نمبر پر آنے والے نمازی کا ثواب لکھتے رہتے ہیں اور جب امام نکل آتا ہے تو صحیفے اور کھاتے لپیٹ دئیے جاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 7259
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُهَجِّرُ إِلَى الْجُمُعَةِ ، كَالْمُهْدِي بَدَنَةً ، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ ، كَالْمُهْدِي بَقَرَةً ، وَالَّذِي يَلِيهِ ، كَالْمُهْدِي كَبْشًا " ، حَتَّى ذَكَرَ الدَّجَاجَة ، وَالْبَيْضَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جمعہ میں سب سے پہلے آنے والا اونٹ قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے دوسرے نمبر پر آنے والا گائے ذبح کرنے والے کی طرح تیسرے نمبر پر آنے والا مینڈھا قربان کرنے والے کی طرح ثواب پاتا ہے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرغی اور انڈے کا بھی ذکر فرمایا : ۔
حدیث نمبر: 7260
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : لَمَّا رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَة ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ دعا فرماتے کہ اے اللہ ! ولید بن ولید۔ سلمہ بن ہشام۔ عیاش بن ابی ربیعہ۔ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزوروں کو قریش کے ظلم وستم سے نجات عطا فرما۔ اے اللہ ! قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما اور ان پر حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسی قحط سالی مسلط فرما۔
حدیث نمبر: 7261
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّة : رِوَايَةً : " خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ : الْخِتَانُ ، وَالِاسْتِحْدَادُ ، وَقَصُّ الشَّارِبِ ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں (١) ختنہ کرنا (٢) زیر ناف بال صاف کرنا (٣) مونچھیں تراشنا (٤) ناخن کاٹنا (٥) بغل کے بال نوچنا۔
حدیث نمبر: 7262
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَوْ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَحَدِهِمَا أَوْ كِلَيْهِمَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بچہ بستر والے کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 7263
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ ، حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ ، نِعَالُهُمْ الشَّعْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہ کر لو جن کے چہرے چپٹی کمانوں کی طرح ہوں گے اور ان کی جوتیاں بالوں سے بنی ہوں گی۔
حدیث نمبر: 7264
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ وَلَدًا أَسْوَدَ ، قَالَ : " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَمَا أَلْوَانُهَا ؟ " قَالَ : حُمْرٌ ، قَالَ : " هَلْ فِيهَا أَوْرَقُ ؟ " قَالَ : إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا ، قَالَ : " أَنَّى أَتَاهُ ذَلِكَ ؟ " قَالَ : عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ ، قَالَ : " وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنوفزارہ کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی ! میری بیوی نے ایک سیاہ رنگت والا لڑکا جنم دیا ہے دراصل وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بچے کا نسب خود سے ثابت نہ کرنے کی درخواست پیش کرنا چاہ رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ان کی رنگت کیا ہے ؟ اس نے کہا سرخ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں ! اس میں خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سرخ اونٹوں میں خاکستری رنگ کا اونٹ کیسے آگیا ؟ اس نے کہا کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر اس بچے کے متعلق بھی یہی سمجھ لو کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو۔
حدیث نمبر: 7265
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَمُوتُ لِمُسْلِمٍ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ ، فَيَلِجَ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوگئے ہوں ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ اس کے باوجود جہنم میں داخل ہو جائے الاّ یہ کہ قسم پوری کرنے کے لئے جہنم میں جانا پڑے (ہمشہ جہنم میں نہیں رہے گا)
حدیث نمبر: 7266
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا ، وَطَهُورًا " . قَالَ سُفْيَانُ : أُرَاهُ عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ .
مولانا ظفر اقبال
امام زہری رحمہ اللہ سے مرسلاً مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے لئے زمین کو مسجد اور پاکیزگی بخش قرار دے دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر: 7267
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً : " أَسْرِعُوا بِجَنَائِزِكُمْ ، فَإِنْ كَانَ صَالِحًا قَدَّمْتُمُوهُ إِلَيْهِ ، وَإِنْ كَانَ سِوَى ذَلِكَ ، فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ " . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى : وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى : يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ ، فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً ، خَيْرٌ تُقَدِّمُوهَا إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً اور مرفوعاً دونوں طرح مروی ہے کہ جنازے لے جانے میں جلدی سے کام لیا کرو کیونکہ اگر میت نیک ہو تو تم اسے خیر کی طرف لے جا رہے ہو اور اگر میت گناہ گار ہو تو وہ ایک شر ہے جسے تم اپنے کندھوں سے اتار رہے ہو۔
حدیث نمبر: 7268
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا هَلَكَ كِسْرَى ، فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ ، وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرَ ، فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ رہے گا اور جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستہ میں ضرور خرچ کرو گے۔
حدیث نمبر: 7269
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُوشِكُ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا ، يَكْسِرُ الصَّلِيبَ ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ ، وَيَفِيضُ الْمَالُ ، حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام منصف حکمران کے طور پر نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کر دیں گے جزیہ کو موقوف کر دیں گے اور مال پانی کی طرح بہائیں گے یہاں تک کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔
حدیث نمبر: 7270
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ سَمِعَ ابْنَ أُكَيْمَةَ ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَاةً يَظُنُّ أَنَّهَا الصُّبْحُ ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ ، قَالَ : " هَلْ قَرَأَ مِنْكُمْ أَحَدٌ ؟ " قَالَ رَجُلٌ : أَنَا ، قَالَ : " أَقُولُ : مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ ؟ ! " . قَالَ مَعْمَرٌ : عَنِ الزُّهْرِيِّ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا يَجْهَرُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ سُفْيَانُ : خَفِيَتْ عَلَيَّ هَذِهِ الْكَلِمَةُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کوئی نماز پڑھائی ہمارا گمان یہ ہے کہ وہ فجر کی نماز تھی نماز سے فارغ ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے قرأت کی ہے ؟ ایک آدمی نے کہا کہ میں نے قرأت کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تب ہی تو میں کہوں کہ میرے ساتھ قرآن میں جھگڑا کیوں کیا جا رہا تھا ؟_x000D_ امام زہری رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد لوگ جہری نمازوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قرأت کرنے سے رک گئے راوی حدیث سفیان کہتے ہیں کہ یہ آخری جملہ مجھ پر مخفی رہا (میں سن نہیں سکا)
حدیث نمبر: 7271
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ ، فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً ، قَرَّبْتُمُوهَا إِلَى الْخَيْرِ ، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ ذَلِكَ ، شَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ " . قال عبد الله بن أحمد : قَالَ أَبِي : وَوَافَقَ سُفْيَانَ مَعْمَرٌ ، وَابْنُ أَبِي حَفْصَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جنازے کو لے جانے میں جلدی سے کام کرو کیونکہ اگر نیک ہو تو تم اسے خیر کی طرف لے جا رہے ہو اور اگر میت گناہ گار ہو تو وہ ایک شر ہے جسے تم اپنے کندھوں سے اتار رہے ہو۔
حدیث نمبر: 7272
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَفْصَةَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 7273
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يقَولَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَيُهِلَّنَّ ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ حَاجًّا ، أَوْ مُعْتَمِرًا ، أَوْ لَيَثْنِيَنَّهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ایسا ضرور ہو گا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مقام فج الروحاء سے حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام باندھیں گے۔
حدیث نمبر: 7274
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، سمعا أبا هريرة ، يبلغ به النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ ، فَخَالِفُوهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہود و نصاریٰ اپنے بالوں کو مہندی وغیرہ سے نہیں رنگتے سو تم ان کی مخالفت کرو۔
حدیث نمبر: 7275
رقم الحديث: 7101
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : إِنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ ، إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مِسْكِينًا ، أصحب رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي ، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَشْغَلُهُمْ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ ، وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمْ الْقِيَامُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ ، فَحَضَرْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا ، فَقَالَ : " مَنْ يَبْسُطْ رِدَاءَهُ ، حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي ، ثُمَّ يَقْبِضْهُ إِلَيْهِ ، فَلَنْ يَنْسَى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي ؟ " وَبَسَطْتُ بُرْدَةً عَلَيَّ ، حَتَّى قَضَى حَدِيثَهُ ، ثُمَّ قَبَضْتُهَا إِلَيَّ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا نَسِيتُ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ .
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : إِنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ ، إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مِسْكِينًا ، أصحب رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي ، وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَشْغَلُهُمْ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ ، وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمْ الْقِيَامُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ ، فَحَضَرْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا ، فَقَالَ : " مَنْ يَبْسُطْ رِدَاءَهُ ، حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي ، ثُمَّ يَقْبِضْهُ إِلَيْهِ ، فَلَنْ يَنْسَى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي ؟ " وَبَسَطْتُ بُرْدَةً عَلَيَّ ، حَتَّى قَضَى حَدِيثَهُ ، ثُمَّ قَبَضْتُهَا إِلَيَّ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا نَسِيتُ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ .
مولانا ظفر اقبال
عبد الرحمن اعرج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ علیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بکثرت حدیثیں بیان کرتے ہیں (اللہ کے یہاں سب کے جمع ہونے کا وعدہ ہے میں تو ایک مسکین آدمی تھا) اور اپنے پیٹ بھرنے کے لئے گزارے کے بقد ر کھانا حاصل کرنے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چمٹا رہتا تھا (مجھے وہاں سے اتنا کھانا مل جاتا تھا کہ پیٹ بھر جائے پھر سارا دن بارگاہ نبوت میں ہی رہتا) جب کہ مہاجرین بازاروں اور منڈیوں میں تجارت میں مشغول رہتے اور انصاری صحابہ اپنے اموال و باغات کی خبرگیری میں مصروف رہتے تھے۔ میں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کون ہے جو میری گفتگو ختم ہونے تک اپنی چادر (میرے بیٹھنے کے لئے) بچھادے پھر اسے جسم سے چمٹا لے ؟ پھر وہ مجھ سے سنی ہوئی کوئی بات ہرگز نہ بھولے گا۔ چنانچہ میں نے اپنے جسم پر جو چادر اوڑھ رکھی تھی وہ بچھا دی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو مکمل فرمائی تو میں نے اسے اپنے جسم پر لپیٹ لیا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس دن کے بعد میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بات بھی سنی اسے کبھی نہیں بھولا۔
حدیث نمبر: 7276
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ : أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، وَاللَّهِ لَوْلَا آيَتَانِ فِي كِتَابِ اللَّهِ ، مَا حَدَّثْتُ حَدِيثًا ، ثُمَّ يَتْلُو هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى سورة البقرة آية 159 ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
اعرج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ بڑی کثرت سے حدیثیں بیان کرتے ہیں اگر کتاب اللہ میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں کبھی ایک حدیث بھی بیان نہ کرتا۔ پھر وہ ان دو آیتوں کی تلاوت فرماتے جو لوگ ہماری نازل کردہ واضح دلیلوں اور ہدایت کی باتوں کو چھپاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 7277
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : إِنَّكُمْ تَقُولُونَ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ . . . فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 7278
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَقُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدَكُمْ جَارُهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ ، فَلَا يَمْنَعْهُ " . فَلَمَّا حَدَّثَهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ طَأْطَئُوا رُؤُوسَهُمْ ، فَقَالَ : مَا لِي أَرَاكُمْ مُعْرِضِينَ ؟ ! وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کا پڑوسی اس کی دیوار میں اپنا شہتیر گاڑنے کی اجازت مانگے تو اسے منع نہ کرے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جب یہ حدیث لوگوں کے سامنے بیان کی تو لوگ سر اٹھا اٹھا کر انہیں دیکھنے لگے (جیسے انہیں اس پر تعجب ہوا ہو) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر فرمانے لگے کیا بات ہے کہ میں تمہیں اعراض کرتا ہوا دیکھ رہاہوں واللہ میں اسے تمہارے کندھوں کے درمیان مار کر (نافذ کر کے) رہوں گا۔
…