حدیث نمبر: 8596
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا سَلَامَانُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْأَصْبَحِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ ، يُحَدِّثُونَكُمْ بِبِدَعٍ مِنَ الْحَدِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ ، لَا يَفْتِنُونَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عنقریب میری امت میں کچھ دجال اور کذاب لوگ آئیں گے تمہارے سامنے ایسی احادیث بیان کریں گے جو تم نے سنی ہوں گی اور نہ ہی تمہارے آباء و اجداد نے، ایسے لوگوں سے اپنے آپ کو بچانا اور ان سے دور رہنا کہیں وہ تمہیں فتنے میں مبتلا نہ کردیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8596
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث حسن ، وھذا إسناد ضعیف ، ابن لھیعة سیئ الحفظ
حدیث نمبر: 8597
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " لَوْلَا حَوَّاءُ ، لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر حضرت حواء نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8597
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، خ : 3330 ، م : 1470 ، وھذا إسناد ضعیف لضعف ابن لھیعة
حدیث نمبر: 8598
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ ابْنِ آدَمَ أَصَابَ مِنَ الزِّنَا لَا مَحَالَةَ ، فَالْعَيْنُ زِنَاهَا النَّظَرُ ، وَالْيَدُ زِنَاهَا اللَّمْسُ ، وَالنَّفْسُ تَهْوَى وَتُحَدِّثُ ، وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ وَيُكَذِّبُهُ الْفَرْجُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ نے ہر انسان پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ چھوڑا ہے جسے وہ لامحالہ پا کر ہی رہے گا آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے ہاتھ کا زنا چھونا ہے انسان کا نفس تمنا اور خواہش کرتا ہے جبکہ شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8598
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، خ : 6612، م : 2657 ، وھذا إسناد فیه ابن لھیعة سیئ الحفظ ، لکنه قد توبع
حدیث نمبر: 8599
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنَ الْمَغْرِبِ ، فَإِذَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ مِنَ الْمَغْرِبِ ، آمَنَ النَّاسُ كُلُّهُمْ ، وَذَلِكَ حِينَ لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا سورة الأنعام آية 158 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہوجائے جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو لوگ اللہ پر ایمان لے آئیں گے لیکن اس وقت کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8599
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، خ : 4636 ، م : 157 ، ابن لھیعة ، وإن کان سیئ الحفظ ، قد توبع
حدیث نمبر: 8600
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ ، فَإِنَّ خَيْرَ الْعَمَلِ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے اوپر اتنے عمل کا بوجھ ڈالا کرو جس کی تمہارے اندر طاقت ہو کیونکہ بہترین عمل وہ ہوتا ہے جو دائمی ہو اگرچہ مقدار میں تھوڑا ہی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8600
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وإسنادہ ضعیف کسابقه
حدیث نمبر: 8601
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لبَِنى عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : " يا بنى عبد المطلب ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ ، يَا بنى هاشم ، اشْتَرُوا أنَفْسَكُمْ مِنَ الِلَََََََّه ، يا بنى عبدِ منَافٍ ، اشَْتُروا أَنْفسَُكُمْ مِنَ الِله ، يا أُمَّ الزُّبَيْرِ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَيَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ ، اشْتَرِيَا أَنْفُسَكُمَا مِنَ اللَّهِ ، فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، وَاسْأَلَانِي مَا شِئْتُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدالمطلب سے فرمایا : کہ اے بنی عبد المطلب اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو اے بنی ہاشم اپنے آپ کو اللہ سے خرید لواے بنی عبدالمناف اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو اے پیغمبر اللہ کی پھوپھی۔ ام زبیر اور اے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آپ کو اللہ سے خرید لو کیونکہ میں اللہ کی طرف سے تمہارے لئے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا البتہ تم جو چاہو مجھ سے (مال و دولت) مانگ سکتی ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8601
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، خ : 3527 ، م : 206 ، وھذا إسناد فیه ابن لھیعة سیئ الحفظ ، وقد توبع
حدیث نمبر: 8602
وَبِإِسْنَادِهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، قَال : لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِمَالِي ، فَخَرَجَ بِهِ فَوَضَعَهُ فِي يَدِ زَانِيَةٍ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ : تُصُدِّقَ عَلَى فُلَانَةَ الزَّانِيَةِ ، ثُمَّ خَرَجَ بِمَالٍ َأَيْضًا ، فَوَضَعَهُ فِي يَدِ سَارِقٍ ، فَأَصْبَحَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَتَحَدَّثُونَ : تُصُدِّقَ عَلَى فُلَانٍ السَّارِقِ ، ثم ََّخَرَجَ بِمَالٍ أَيْضًا ، فَوَضَعَهُ فِي يَدِ رَجُلٍ غَنِيٍّ ، وقَالَ : لَوْ شِئْتُ لَقُلْتُ : لَا يَدْرِي حَيْثُ وَضَعَهُ ، فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى نَفْسِهِ ، فقال : وضعت صَدَقتي عند زانيةٍ ، ثمََََََََّ وضَعتْهُا عند سارقٍ ، ثمَََََََََّ وضَعتهُا عند غَني ! فَأُرِيَ فِي الْمَنَامِ أَنَّ صَدَقَتَكَ قَدْ قُبِلَتْ ، أَمَّا الزَّانِيَة ، فَلَعَلَّهَا تَعِفُّ عَنْ زِنَاهَا ، وَأَمَّا السَّارِقُ ، فَلَعَلَّهُ أَنْ يُغْنِيَهُ عَنِ السَّرِقَةِ ، وَأَمَّا الْغَنِيُّ , فَلَعَلَّهُ يَعْتَبِرُ فِي مَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص نے کہا کہ میں آج کی رات صدقہ دوں گا چنانچہ وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا اور انجانے میں ایک بدکار عورت کے ہاتھ میں دے آیا صبح کو لوگوں نے تذکرہ کیا کہ آج رات ایک بدکار عورت کو خیرات ملی دوسری رات کو پھر وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا اور ایک چور کے ہاتھ میں رکھ آیا صبح کو لوگوں نے تذکرہ کیا کہ آج رات ایک چور کو خیرات کا مال ملا تیسری رات کو وہ صدقہ کا مال لے کر پھر نکلا اور انجانے میں ایک دولت مند کو دے آیا صبح کو لوگوں نے تذکرہ کیا کہ آج رات ایک دولت مند کو صدقہ ملا وہ شخص کہنے لگا کہ چور کو زانیہ کو اور دولت مند شخص کو میں نے صدقہ کا مال دے دیا پھر اس نے خواب میں دیکھا کہ اس سے کہا گیا کہ تیرا صدقہ قبول ہوگیا تو نے جو چور کو صدقہ دیا تو اس کی وجہ سے شایدوہ چوری سے دست کش ہوجائے اور زانیہ کو جو تو نے صدقہ دیا تو ممکن ہے اس کی وجہ سے وہ زنا کاری چھوڑ دے باقی دولت مند بھی ممکن ہے کہ اس سے نصیحت حاصل کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8602
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح دون قوله : «من بني اسرائیل» ، خ : 1421 ، م : 1022 ، وھذا إسناد فیه ابن لھیعة سیئ الحفظ ، وقد توبع
حدیث نمبر: 8603
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ دَخَلَ مَسْجِدَنَا هَذَا لِيَتَعَلَّمَ خَيْرًا أَوْ لِيُعَلِّمَهُ ، كَانَ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَمَنْ دَخَلَهُ لِغَيْرِ ذَلِكَ ، كَانَ كَالنَّاظِرِ إِلَى مَا لَيْسَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص ہماری اس مسجد میں خیر سیکھنے سکھانے کے لئے داخل ہو وہ مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے اور جو کسی دوسرے مقصد کے لئے آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو کسی ایسی چیز کو دیکھنے لگے جسے دیکھنے کا اسے کوئی حق نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8603
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث ضعیف ، و اختلف علی سعید المقبري في إسنادہ ، و حمید مختلف فیه
حدیث نمبر: 8604
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَة ، يَقُولُ : " مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ كَأَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِي فِي جَبْهَتِهِ ، وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مِشْيَتِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَأَنَّمَا الْأَرْضُ تُطْوَى لَهُ ، إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا وَإِنَّهُ لَغَيْرُ مُكْتَرِثٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین کسی کو نہیں دیکھا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا سورج آپ کی پیشانی پر چمک رہا ہے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو تیز رفتار نہیں دیکھا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا زمین ان کے لئے لپیٹ دی گئی ہے ہم اپنے آپ کو بڑی مشقت میں ڈال کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل پاتے لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر مشقت کا کوئی اثر نظر نہ آتا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8604
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث حسن ، ابن لھیعة ، وإن کان سیئ الحفظ، قد توبع
حدیث نمبر: 8604M
وَعَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَعْطُوا الْعَامِلَ مِنْ عَمَلِهِ ، فَإِنَّ عَامِلَ اللَّهِ لَا يَخِيبُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مزدور کو اس کی مزدوری دے دیا کرو کیونکہ اللہ کا مزدور رسوا نہیں ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8604M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف من أجل ابن لھیعة
حدیث نمبر: 8605
وَبِإِسْنَادِهِ ، وَبِإِسْنَادِهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حضرت لوط علیہ السلام پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں وہ کسی مضبوط ستون کا سہارا ڈھونڈ رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8605
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، خ : 3387 ، م : 151 ، وھذا إسناد ضعیف لسوء حفظ ابن لھیعة
حدیث نمبر: 8606
وَبِإِسْنَادِهِ ، وَبِإِسْنَادِهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَيَفْرَحُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَى أَهْلِهِ بِخَلِفَتَيْنِ ؟ " قَالُوا : نَعَم ، قَالَ : " فَآيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَيَخْرُجُ بِهِمَا إِلَى أَهْلِهِ ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ خَلِفَتَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کے پاس دو حاملہ اونٹنیاں لے کر لوٹے ؟ صحابہ نے عرض کیا جی ہاں (ہر شخص چاہتا ہے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو آدمی قرآن کریم کی دو آیتیں لے کر اپنے گھر لوٹتا ہے اس کے لئے وہ دو آیتیں دو حاملہ اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8606
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، م: 802 ، وھذا إسناد ضعیف لسوء حفظ ابن لھیعة
حدیث نمبر: 8607
وَبِإِسْنَادِهِ ، وَبِإِسْنَادِهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ ، وَلَا يَدْعُو بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ قَدْ وَثِقَ بِعَمَلِهِ ، فَإِنَّهُ إِنْ مَاتَ أَحَدُكُمْ ، انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ ، وَإِنَّهُ لَا يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمْرُهُ إِلَّا خَيْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے اور موت آنے سے قبل اس کی دعاء نہ کرے الاّ یہ کہ اسے اپنے اعمال پر بہت زیادہ ہی بھروسہ ہو کیونکہ تم میں سے کوئی بھی جب مرجاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں جبکہ مومن اپنی زندگی میں خیر ہی کا اضافہ کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8607
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح دون قولہ : إلا أن یکون قد وثق بعمله ، خ : 7235 ، م : 2682 ، وإنھا زیادۃ منکرۃ ، وابن لھیعة سیئ الحفظ
حدیث نمبر: 8608
وَبِإِسْنَادِهِ ، وَبِإِسْنَادِهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " كُلُّ نَفْسٍ كُتِبَ عَلَيْهَا الصَّدَقَةُ كُلَّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ ، فَمِنْ ذَلِكَ أَنْ يَعْدِلَ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ ، وَأَنْ يُعِينَ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ ، فَيَحْمِلَهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ ، وَيَرْفَعَ مَتَاعَهُ عَلَيْهَا صَدَقَة ، وَيُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَمْشِي إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر شخص پر ہر دن میں جس میں سورج طلوع ہو صدقہ کرنا لازم قرار دیا گیا ہے اس کی صورت یہ ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے کسی آدمی کی مدد کرکے اسے سواری پر بٹھا دینا اور اس کا سامان اسے پکڑا دینا صدقہ ہے راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹانا بھی صدقہ ہے اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے اور نماز کے لئے اٹھنے والا ہر قدم بھی صدقہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8608
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، خ : 2707 ، م : 1009 ، و ھذا إسناد فیه ابن لھیعة ، لکنه قد توبع
حدیث نمبر: 8609
وَبِإِسْنَادِهِ ، وَبِإِسْنَادِهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ ، أَوْ نَصْرَانِيٌّ ، ثُمَّ يَمُوتُ وَلَا يُؤْمِنُ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اس امت میں یا کسی یہودی اور عیسائی کو میرا کلمہ پہنچے اور وہ اسے سنے اور اس وحی پر ایمان لائے بغیر مرجائے جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے تو وہ جہنمی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8609
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، م : 153 ، وھذا إسناد ضعیف ، فیه ابن لھیعة ، وقد توبع
حدیث نمبر: 8610
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ : كَذَّبَنِي عَبْدِي ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ لِيُكَذِّبَنِي ، وَشَتَمَنِي عَبْدِي ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَتْمِي ، فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ ، فَيَقُولُ : لَنْ يُعِيدَنِي كَالَّذِي بَدَأَنِي ، وَلَيْسَ آخِرُ الْخَلْقِ أَهْوَنُ عَلَيَّ أَنْ أُعِيدَهُ مِنْ أَوَّلِهِ ، فَقَدْ كَذَّبَنِي إِنْ قَالَهَا ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّاي ، فَيَقُولُ : اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا ، أَنَا اللَّهُ أَحَدٌ الصَّمَدُ ، لَمْ أَلِدْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرا بندہ میری ہی تکذیب کرتا ہے۔ حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے اور مجھے ہی برابھلا کہتا ہے حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تکذیب تو اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے ہمیں جس طرح پیدا کیا ہے دوبارہ اس طرح کبھی پیدا نہیں کرے گا حالانکہ میرے لئے دوسری مرتبہ پیدا کرنا پہلی مرتبہ سے زیادہ مشکل نہیں ہے (دونوں برابر ہیں) اور برا بھلا کہنا اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے حالانکہ میں تو وہ صمد (بےنیاز) ہوں جس نے کسی کو جنا اور نہ اسے کسی نے جنم دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8610
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، خ : 4975 ، وھذا إسناد ضعیف کسابقه
حدیث نمبر: 8611
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا اكْتَحَلَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَكْتَحِلْ وِتْرًا ، وَإِذَا اسْتَجْمَرَ فَلْيَسْتَجْمِرْ وِتْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص سرمہ لگائے تو طاق عدد میں سلائی اپنی آنکھوں میں پھیرے اور جب پتھروں سے استنجاء کرے تب بھی طاق عدد میں پتھر استعمال کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8611
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث حسن ، وھذا إسناد ضعیف لضعف ابن لھیعة
حدیث نمبر: 8612
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اكْتَحَلَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَكْتَحِلْ وِتْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص سرمہ لگائے تو طاق عدد میں سلائی اپنی آنکھوں میں پھیرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8612
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث حسن ، وھذا إسناد ضعیف ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8613
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا كَانَ ثَلَاثَةٌ جَمِيعًا ، فَلَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تین آدمی اکٹھے ہوں تو ایک کو چھوڑ کر صرف دو آدمی سرگوشی نہ کریں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8613
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف ، ابن لھیعة سیئ الحفظ
حدیث نمبر: 8614
وَبِإِسْنَادِهِ ، وَبِإِسْنَادِهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ " ، فَقَالَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُم " ، ثُمَّ قَالَ آخَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : " قَدْ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بلاحساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ سے دعاء کردیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرمادے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء کردی کہ اے اللہ اسے بھی ان میں شامل فرما پھر دوسرے نے کھڑے ہو کر بھی یہی عرض کیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8614
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وابن لھیعة متابع ، خ : 6542 ، م : 216
حدیث نمبر: 8615
وَبِإِسْنَادِهِ ، وَبِإِسْنَادِهِ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نِعْمَ الْقَوْمُ الْأَزْدُ ، طَيِّبَةٌ أَفْوَاهُهُمْ ، بَرَّةٌ أَيْمَانُهُمْ ، نَقِيَّةٌ قُلُوبُهُم " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قبیلہ ازد کے لوگ کتنی بہترین قوم ہیں ان کے منہ پاکیزہ ایمان عمدہ اور دل صاف ستھرے ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8615
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث حسن ، وقد تابع عبد الله بن وھب حسنا ، وحدیثه عن ابن لھیعة صالح
حدیث نمبر: 8616
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ عبدُ الَّله بن أحمد : قال أَبِي : لَمْ يَرْفَعْهُ قَالَ : جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَي ، فَقَالَ : أَجِبْ رَبَّكَ ، فَلَطَمَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ فَفَقَأَهَا ، فَرَجَعَ الْمَلَكُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَقَالَ : إِنَّكَ بَعَثْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَكَ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ ، وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي ، قَالَ : فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ ، وَقَال : ارْجِعْ إِلَى عَبْدِي فَقُلْ لَهُ : الْحَيَاةَ تُرِيدُ ؟ فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ ، فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ ، فَمَا دَارَتْ يَدُكَ مِنْ شَعَرَه ، فَإِنَّكَ تَعِيشُ لَهَا سَنَةً ، قَالَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : ثُمَّ الْمَوْتُ ، قَالَ : فَالْآنَ يَا رَبِّ مِنْ قَرِيبٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ملک الموت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جب ان کی روح قبض کرنے کے لئے پہنچے اور ان سے کہا کہ اپنے رب کی پکار پر لبیک کہئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک طمانچہ مار کر ان کی آنکھ پھوڑ دی وہ پروردگار کے پاس واپس جا کر کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیج دیا جو مرنا نہیں چاہتا اللہ نے ان کی آنکھ واپس لوٹا دی اور فرمایا : ان کے پاس واپس جا کر ان سے کہو کہ ایک بیل کی پشت پر ہاتھ رکھ دیں ان کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آگئے ہر بال کے بدلے ان کی عمر میں ایک سال کا اضافہ ہوجائے گا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا کہ اے پروردگار پھر کیا ہوگا فرمایا : پھر موت آئے گی انہوں نے کہا تو پھر ابھی سہی
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8616
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات لکن اختلف في رفعه و وقفه ، خ : 1339 ، م : 2372 ، وھذا إسناد فیه ابن لھیعة سیئ الحفظ
حدیث نمبر: 8617
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ احْتَكَرَ حُكْرَةً يُرِيدُ أَنْ يُغْلِيَ بِهَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، فَهُوَ خَاطِئٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص مسلمانوں پر گرانی کی نیت سے ذخیرہ اندوزی کرتا ہے وہ گناہگار ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8617
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لضعف أبي معشر
حدیث نمبر: 8618
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " الْأَبْعَدُ فَالْأَبْعَدُ أَفْضَلُ أَجْرًا عَنِ الْمَسْجِدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص مسجد سے جتنے فاصلے سے آتا ہے اس کا اجر اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8618
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف ، عبد الرحمن بن مھران مجھول
حدیث نمبر: 8619
حَدَّثَنَا الحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُخْبِرُ أَبَا قَتَادَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُبَايَعُ لِرَجُلٍ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ ، وَلَنْ يَسْتَحِلَّ هَذَا الْبَيْتَ إِلَّا أَهْلُهُ ، فَإِذَا اسْتَحَلُّوهُ فَلَا تَسْأَلْ عَنْ هَلَكَةِ الْعَرَبِ ، ثُمَّ تَأْتِي الْحَبَشَةُ فَيُخَرِّبُونَهُ خَرَابًا لَا يَعْمُرُ بَعْدَهُ أَبَدًا ، وَهُمْ الَّذِينَ يَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ایک آدمی سے بیعت لی جائے گی اور بیت اللہ کی حرمت اسی کے پاسبان پامال کریں گے اور جب لوگ بیت اللہ کی حرمت کو پامال کردیں۔ پھر عرب کی ہلاکت کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا بلکہ حبشی آئیں گے اور اسے اس طرح ویران کردیں گے کہ دوبارہ وہ کبھی آباد نہ ہوسکے گا اور یہی لوگ اس کا خزانہ نکالنے والے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8619
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8620
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ يَعْنِي ابْنَ النُّعْمَانِ ، وَحَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال : " حُرِّمَتْ الْخَمْرُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ ، وَيَأْكُلُونَ الْمَيْسِرَ ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا سورة البقرة آية 219 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، فَقَالَ النَّاسُ : مَا حَرَّمَ عَلَيْنَا ، إِنَّمَا قَالَ : فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ سورة البقرة آية 219 وَكَانُوا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمٌ مِنَ الْأَيَّامِ ، صَلَّى رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، أَمَّ أَصْحَابَهُ فِي الْمَغْرِب ، خَلَطَ فِي قِرَاءَتِهِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهَا آيَةً أَغْلَظَ مِنْهَا : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ سورة النساء آية 43 ، وَكَانَ النَّاسُ يَشْرَبُونَ حَتَّى يَأْتِيَ أَحَدُهُمْ الصَّلَاةَ وَهُوَ مُفِيقٌ ، ثُمَّ أُنْزِلَتْ آيَةٌ أَغْلَظُ مِنْ ذَلِكَ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ سورة المائدة آية 90 ، فَقَالُوا : انْتَهَيْنَا رَبَّنَا ، فَقَالَ النَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نَاسٌ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوْ مَاتُوا عَلَى فُرُشِهِمْ ، كَانُوا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ ، وَيَأْكُلُونَ الْمَيْسِر ، وَقَدْ جَعَلَهُ اللَّهُ رِجْسًا َمِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا سورة المائدة آية 93 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ لَتَرَكُوهَا كَمَا تَرَكْتُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شراب کی حرمت تین مختلف درجوں میں ہوئی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ شراب بھی پیتے تھے اور جوئے کا پیسہ بھی کھاتے تھے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان چیزوں کے متعلق سوال کیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ یہ لوگ شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ ان دونوں میں گناہ بہت زیادہ ہے اور لوگوں کے کچھ منافع بھی ہیں لوگ کہنے لگے کہ اس آیت میں شراب حرام تو نہیں قرار دی گئی اس میں تو اللہ نے صرف یہ فرمایا : ہے کہ ان میں گناہ بہت زیادہ ہے چنانچہ شراب پیتے رہے۔ حتیٰ کہ ایک دن مہاجرین میں سے ایک صحابی نے مغرب کی نماز میں لوگوں کی امامت کی تو (نشے کی وجہ سے) انہیں قرأت میں اشتباہ ہوگیا اس پر اللہ نے پہلے سے زیادہ سخت آیت نازل فرمائی کہ اے اہل ایمان نشے کی حالت میں نماز کے قریب بھی نہ جایا کرو تاآنکہ تمہیں یہ سمجھ آنے لگے کہ تم کیا کہہ رہے ہو لوگ پھر بھی شراب پیتے رہے البتہ نماز کے لئے اس وقت آتے جب اپنے ہوش و حواس میں ہوتے اس کے بعد تیسرے درجے میں اس سے بھی زیادہ سخت آیت نازل ہوئی کہ اے اہل ایمان شراب جوا بت اور پانسے کے تیر گندی چیزیں اور شیطانی کام ہیں ان سے بچو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ اس آیت کے نازل ہونے پر لوگ کہنے لگے کہ پروردگار اب ہم باز آگئے پھر کچھ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کچھ لوگ جو اللہ کے راستہ میں شہید ہوئے یا طبعی طور پر فوت ہوگئے اور وہ شراب بھی پیتے تھے اور جوئے کا پیسہ بھی کھاتے تھے (ان کا کیا بنے گا) جبکہ اللہ نے ان چیزوں کو گندگی اور شیطانی کام قرار دے دیا ہے ؟ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے ان کے لئے ان چیزوں میں کوئی حرج نہیں جو وہ پہلے کھاچکے بشرطیکہ اب متقی اور ایمان والے رہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر ان کی موجودگی میں شراب حرام ہوتی تو وہ بھی تمہاری طرح اسے چھوڑ ہی دیتے (اس لئے گھبرانے کی کوئی بات نہیں)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8620
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لضعف أبي معشر
حدیث نمبر: 8621
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ وَعَلَيْهِ مِنْ رَمَضَانَ شَيْءٌ لَمْ يَقْضِهِ ، لَمْ يُتَقَبَّلْ مِنْهُ ، وَمَنْ صَامَ تَطَوُّعًا ، وَعَلَيْهِ مِنْ رَمَضَانَ شَيْءٌ لَمْ يَقْضِهِ ، فَإِنَّهُ لَا يُتَقَبَّلُ مِنْهُ حَتَّى يَصُومَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص ماہ رمضان کو پائے اور اس پر گزشتہ رمضان کے کچھ روزے واجب ہوں جہنیں اس نے قضاء نہ کیا ہو تو اس کا موجودہ روزہ قبول نہ ہوگا اور جو شخص نفلی روزے رکھنا شروع کردے جبکہ اس کے ذمے رمضان کے کچھ روزے واجب ہوں جن کی قضاء نہ کرسکا تو اس کا وہ نفلی روزہ قبول نہ ہوگا تاآنکہ وہ فرض روزے مکمل کرلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8621
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف ، ابن لھیعة سیئ الحفظ
حدیث نمبر: 8622
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَنْثِرْ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَبِيتُ عَلَى خَيَاشِيمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے تو ناک کو اچھی طرح صاف کرلے کیونکہ شیطان اس کی ناک کے بانسے پر رات گذارتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8622
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، خ : 3295 ، م : 238 ، وھذا إسناد ضعیف ، ابن لھیعة سیئ الحفظ ، وھو متابع
حدیث نمبر: 8623
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الَّتِي أُقِيمَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اقامت ہونے کے بعد وقتی فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8623
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف ، ابن لھیعة سیئ الحفظ ، و أبو تمیم مجھول ، وقد صح الحدیث بلفظ : «... فلا صلاۃ إلا المکتوبة» ، م : 710
حدیث نمبر: 8624
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وقَالَ عَبْد اللَّهِ : وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَال : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ خَالِدٍ الدُّؤَلِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّ النَّضْرَ بْنَ سُفْيَانَ الدُّؤَلِيَّ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَلَعَاتِ الْيَمَنِ ، فَقَامَ بِلَالٌ يُنَادِي ، فَلَمَّا سَكَت ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ هَذَا يَقِينًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یمن کے کسی بالائی حصے میں تھے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان دینے کے لئے کھڑے ہوئے جب وہ اذان دے کر خاموش ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص بلال کے کہے ہوئے کلمات کی طرح یقین قلب کے ساتھ یہ کلمات کہے وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8624
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد محتمل للتحسین
حدیث نمبر: 8625
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مُنْتَظِرُ الصَّلَاةِ مِنْ بَعْدِ الصَّلَاة ، كَفَارِسٍ اشْتَدَّ بِهِ فَرَسُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى كَشْحِهِ ، تُصَلِّي عَلَيْهِ مَلَائِكَةُ اللَّهِ ، مَا لَمْ يُحْدِثْ أَوْ يَقُومُ ، وَهُوَ فِي الرِّبَاطِ الْأَكْبَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے والا آدمی اس مجاہد کی طرح ہوتا ہے جس کا گھوڑا اللہ کے راستہ میں اپنے پہلو پر تیار کھڑا ہو اس کے لئے اللہ کے فرشتے اس وقت تک دعاء مغفرت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ بےوضو نہ ہوجائے یا وہاں سے کھڑا نہ ہوجائے اور وہ رباط اکبر سب سے اہم چوکیداری میں شمار ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8625
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8626
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّب ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّا نَكُونُ بِهَذَا الرَّمْلِ ، فَلَا نَجِدُ الْمَاء ، وَيَكُونُ فِينَا الْحَائِضُ وَالْجُنُبُ وَالنُّفَسَاءُ ، فَيَأْتِي عَلَيْهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ لَا تَجِدُ الْمَاءَ ! قَالَ : " عَلَيْكَ بِالتُّرَابِ " ، يَعْنِي التَّيَمُّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں چار پانچ مہینے تک مسلسل صحرائی علاقوں میں رہتا ہوں ہم میں حیض و نفاس والی عورتیں اور جنبی مرد بھی ہوتے ہیں (پانی نہیں ملتا) تو آپ کی کیا رائے ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا : مٹی کو اپنے اوپر لازم کرلو (یعنی تیمم کرلیا کرو )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8626
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث حسن ، وھذا إسناد ضعیف لأجل المثنی
حدیث نمبر: 8627
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ الرَّاسِبِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أنه قَالَ : " وَيْلٌ لِلْأُمَرَاءِ ، وَيْلٌ لِلْعُرَفَاءِ ، وَيْلٌ لِلْأُمَنَاءِ ، لَيَتَمَنَّيَنَّ أَقْوَامٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ ذَوَائِبَهُمْ كَانَتْ مُعَلَّقَةً بِالثُّرَيَّا ، يَتَذَبْذَبُونَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، وَلَمْ يَكُونُوا عَمِلُوا عَلَى شَيْءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : امراء چوہدریوں اور حکومتی اہلکاروں کے لئے ہلاکت ہے یہ لوگ قیامت کے دن تمنا کریں گے کہ ان کی چوٹیاں ثریا ستارے سے لٹکی ہوتیں اور یہ آسمان و زمین کے درمیان تذبذب کا شکار ہوتے لیکن کسی ذمہ داری پر کام نہ کیا ہوتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8627
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8628
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِتَمَرَاتٍ ، فَقُلْتُ : ادْعُ اللَّهَ لِي فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ ، قَالَ : فَصَفَّهُنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، قَالَ : ثُمَّ دَعَا , فَقَالَ لِي : " اجْعَلْهُنَّ فِي مِزْوَدٍ ، فأَدْخِلْ يَدَكَ وَلَا تَنْثُرْهُ " ، قَالَ : فَحَمَلْتُ مِنْهُ كَذَا وَكَذَا وَسْقًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَنَأْكُلُ وَنُطْعِمُ ، وَكَانَ لَا يُفَارِقُ حَقْوِي ، فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، انْقَطَعَ عَنْ حَقْوِي فَسَقَطَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں کچھ کھجوریں لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا کہ ان میں برکت کی دعاء کردیجئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بکھیر کر اپنے ہاتھ پر رکھا اور دعاء کرکے فرمایا : کہ انہیں اپنے توشہ دان میں ڈال لو اور ہاتھ ڈال کر اس میں کھجوریں نکالتے رہنا اسے الٹا کرکے جھاڑنا نہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اس میں سے کتنے ہی وسق نکال نکال کر اللہ کے راستہ میں دئیے ہم خود بھی کھاتے کھلاتے رہے اور میں اس تھیلی کو اپنے سے کبھی جدا نہ کرتا تھا لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد وہ کہیں گر کر گم ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8628
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8629
حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يعني ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ مِنْ تَلْبِيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا لبیک الہ الحق۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8629
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8630
حَدَّثَنَا حُجَيْن بن المثُنى أَبُو عُمَرَ ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أُذَيْنٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْإِيمَانَ كُلَّهُ ، حَتَّى يَتْرُكَ الْكَذِبَ فِي الْمُزَاحَةِ ، وَيَتْرُكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک مذاق میں بھی جھوٹ بولنا چھوڑ نہ دے اور سچا ہونے کے باوجود جھگڑا ختم نہ کردے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8630
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف ، مکحول لم یسمع من أبي ھریرۃ ، و منصور مجھول
حدیث نمبر: 8631
حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ بن المثنى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، فَإِذَا قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، قَالَ لَهُ أَخُوه : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، فَإِذَا قِيلَ لَهُ : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، فَلْيَقُلْ : يَهْدِيكُمُ اللَّهُ ، وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو وہ الحمدللہ کہے۔ دوسرا مسلمان بھائی اس کی الحمدللہ سن کر اسے یرحمک اللہ کہے پھر چھینکنے والا یھدیکم اللہ و یصلح بالکم کہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8631
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 6224
حدیث نمبر: 8632
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ الشُّرْبِ مِنْ فَمِ السِّقَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزے کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے سے منع فرمایا : ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8632
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 5628
حدیث نمبر: 8633
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ فَرُّوخَ الْجُرَيْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِي ، يَقُولُ : تَضَيَّفْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ سَبْعًا ، فَكَانَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ وَخَادِمُهُ يَعْتَقِبُونَ اللَّيْلَ أَثْلَاثًا ، يُصَلِّي هَذَا ، ثُمَّ يُوقِظُ هَذَا ، وَيُصَلِّي هَذَا ، ثُمَّ يَرْقُدُ ، وَيُوقِظُ هَذَا ، قَالَ : قُلْتُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ تَصُومُ ؟ قَالَ : أَمَّا أَنَا ، فَأَصُومُ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ ثَلَاثًا ، فَإِنْ حَدَثَ لِي حَادِثٌ ، كَانَ آخِرُ شَهْرِي . قَالَ : قَالَ : وَسَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَيْنَ أَصْحَابِهِ تَمْرًا ، فَأَصَابَنِي سَبْعُ تَمَرَاتٍ ، إِحْدَاهُنَّ حَشَفَةٌ ، وَمَا فِيهِنَّ شَيْءٌ أَعْجَبُ إِلَيَّ مِنْهَا ، أَنَّهَا شَدَّتْ مَضَاغِي " .
مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سات دن تک حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے یہاں مہمان رہا انہوں نے اپنی بیوی اور خادم کے ساتھ رات کو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا پہلے ایک آدمی نماز پڑھتا پھر وہ دوسرے کو جگا دیتا وہ نماز پڑھ لیتا تو تیسرے کو جگا دیتا ایک دن میں نے پوچھا اے ابوہریرہ ! آپ روزہ کس ترتیب سے رکھتے ہیں ؟ فرمایا : کہ میں تو مہینے کے آغاز میں ہی تین روزے رکھ لیتا ہوں اور اگر کوئی مجبوری پیش آجائے تو مہینے کے آخر میں رکھ لیتا ہوں اور میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ کھجوریں تقسیم فرمائیں مجھے سات کھجوریں ملیں جن میں سے ایک کھجور گدر بھی تھی میرے نزدیک وہ ان میں سب میں سے زیادہ عمدہ تھی کہ اسے سختی سے مجھے چبانا پڑ رہا تھا ( اور میرے مسوڑھے اور دانت حرکت کر رہے تھے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8633
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 5441
حدیث نمبر: 8634
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ أَوْ رَجُلًا كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ ، ففقده رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَنْهُ ، فَقَالُوا : مَاتَ ، فَقَالَ : " أَلَا كُنْتُمْ آذَنْتُمُونِي بِهِ ! " قَالُوا : إِنَّهُ كَانَ لَيْلًا ، قَالَ : فَقَالَ : " دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ " فَدَلُّوهُ ، فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سیاہ فام عورت یا مرد مسجد نبوی کی خدمت کرتا تھا (مسجد میں جھاڑو دے کر صفائی ستھرائی کا خیال رکھتا تھا) ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ نظر نہ آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ تو فوت ہوگیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ وہ ایک عام آدمی تھا (اس لئے آپ کو زحمت دینا مناسب نہ سمجھا) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے اس کی قبر بتاؤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بتادی چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قبر پر جا کر اس کے لئے دعاء مغفرت کی
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8634
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 458 ، م : 956