حدیث نمبر: 8558
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے کہ پھر اس سے غسل کرنے لگے۔
حدیث نمبر: 8559
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " يُوشِكُ أَنْ يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ ، يَقْتَتِلُ عَلَيْهِ النَّاسُ حَتَّى يُقْتَلَ مِنْ كُلِّ عَشْرَةٍ تِسْعَةٌ ، وَيَبْقَى وَاحِدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عنقریب دریائے فرات کا پانی ہٹ کر اس میں سے سونے کا ایک پہاڑ برآمد ہوگا لوگ اس کی خاطر آپس میں لڑنا شروع کردیں گے حتی کہ ہر دس میں سے نو آدمی مارے جائیں گے اور صرف ایک آدمی بچے گا۔
حدیث نمبر: 8560
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَتَى أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا ، وَمَعَهَا صِنَابُهَا وَأُدُمُهَا ، فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْ ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَأْكُلُوا ، فَأَمْسَكَ الْأَعْرَابِيُّ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْكُلَ ؟ " قَالَ : إِنِّي أَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ ، قَالَ : " إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمْ أَيَّامَ الْغُرِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بھنا ہوا خرگوش لے کر آیا اس کے ساتھ چٹنی اور سالن بھی تھا اس نے یہ سب چیزیں لا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روکے رکھا اور اس میں سے کچھ بھی نہ کھایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو کھانے کا حکم دے دیا اس دیہاتی نے بھی ہاتھ روکے رکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم کیوں نہیں کھا رہے ؟ اس نے کہا کہ میں ہر مہینے تین روزے رکھتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم روزے رکھنا ہی چاہتے ہو تو پھر ایام بیض کے روزے رکھا کرو۔
حدیث نمبر: 8561
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ أَبِي إِلَى الشَّامِ ، فَكَانَ أَهْلُ الشَّام ، يَمُرُّونَ بِأَهْلِ الصَّوَامِعِ فَيُسَلِّمُونَ عَلَيْهِمْ ، فَسَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ ، وَاضْطَرُّوهُمْ إِلَى أَضْيَقِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
سہل بن ابی صالح رحمتہ اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ شام کی طرف روانہ ہوا (میں نے دیکھا کہ) شام کے لوگ جب کسی گرجے کے لوگوں پر گذرتے تو انہیں سلام کرتے میں نے اس موقع پر اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ہے کہ انہیں سلام کرنے میں پہل نہ کرو اور انہیں تنگ راستے کی طرف مجبور کردو۔
حدیث نمبر: 8562
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا عَلَى الْفِطْرَةِ ، حَتَّى يَكُونَ أَبَوَاهُ اللَّذَانِ يُهَوِّدَانِهِ أو َيُنَصِّرَانِهِ ، كَمَا تُنْتِجُونَ أَنْعَامَكُمْ ، هَلْ تَكُونُ فِيهَا جَدْعَاءُ ؟ حَتَّى تَكُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَهَا " ، قَالَ رَجُلٌ : فَأَيْنَ هُمْ ؟ قَالَ : " اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ " ، قَالَ قَيْسٌ : مَا أَرَى ذَلِكَ الرَّجُلَ إِلَّا كَانَ قَدَرِيًّا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے بعد میں اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے تمہارے یہاں جانور پیدا ہوتا ہے کیا تم اس میں کوئی نکٹا محسوس کرتے ہو ؟ بعد میں تم خود ہی اس کی ناک کاٹ دیتے ہو ایک آدمی نے پوچھا کہ یہ بچے کہاں ہوں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ زیادہ جانتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر کیا کرتے ؟
حدیث نمبر: 8563
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا وَلَّوْا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مردہ لوگوں کی جوتیوں کی آہٹ تک سنتا ہے جب وہ واپس جا رہے ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8564
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا تُسَافِرْ امْرَأَةٌ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا مَعَ ذِي رَحِمٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی عورت اپنے اہل خانہ میں سے کسی محرم کے بغیر تین دن کا سفر نہ کرے۔
حدیث نمبر: 8565
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّام ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : " أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ شِقْصًا مِنْ مَمْلُوكٍ ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ ، وَغَرَّمَهُ بَقِيَّةَ ثَمَنِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کسی غلام کو اپنے حصے کے بقدر آزاد کردیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آزادی کو نافذ فرما دیا اور اسے بقیہ قیمت کا ضامن مقرر فرما دیا۔
حدیث نمبر: 8566
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ وَجَدَ مَتَاعَهُ عِنْدَ مُفْلِسٍ بِعَيْنِهِ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس آدمی کو مفلس قرار دے دیا گیا ہو اور کسی شخص کو اس کے پاس بعینہ اپنا مال مل جائے تو دوسروں کی نسبت وہ اس مال کا زیادہ حقدار ہے۔
حدیث نمبر: 8567
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ لِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ : مَا تَقُولُ فِي الْعُمْرَى ؟ قُلْتُ : حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمر بھر کے لئے کسی چیز کو وقف کردینا صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 8568
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ يَمِيلُ لِإِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَة ، وَأَحَدُ شِقَّيْهِ سَاقِطٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کو دوسری پر ترجیح دیتا ہو (ناانصافی کرتا ہو) وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے جسم کا ایک حصہ گر چکا ہوگا۔
حدیث نمبر: 8569
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " أُمْطِرَ أَوْ تَسَاقَطَ عَلَى أَيُّوبَ فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ ، فَجَعَلَ يَلْتَقِطُ ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ : يَا أَيُّوبُ ، أَفَلَمْ أُوَسِّعْ عَلَيْكَ ؟ قَالَ : بَلَى ! وَلَكِنِّي لَا غِنَى بِي عَنْ فَضْلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام پر سونے کی ٹڈیاں برسائیں حضرت ایوب علیہ السلام انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے اتنی دیر میں آواز آئی کہ اے ایوب ! کیا ہم نے تمہیں جتنا دے رکھا ہے وہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار ! آپ کے فضل یا رحمت سے کون مستغنی رہ سکتا ہے ؟
حدیث نمبر: 8570
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ صَلَّى يَعْنِي مِنَ الصُّبْحِ رَكْعَةً ، ثُمَّ طَلَعَتْ الشَّمْسُ ، فَلْيُصَلِّ إِلَيْهَا أُخْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کو طلوع آفتاب سے قبل نماز فجر کی ایک رکعت مل جائے تو اس کے ساتھ دوسری رکعت بھی شامل کرلے۔
حدیث نمبر: 8571 /1
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ ، أَطْيَبُ أَوْ قَالَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : روزہ دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے۔
حدیث نمبر: 8571 /2
قَالَ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : وَأَحْسَبُهُ قَالَ : " عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ مُنَادٍ يُنَادِي فِي السَّمَاءِ السَّابِعَةِ : أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا ، وَأَعْطِ أَوْ عَجِّلْ لِمُمْسِكٍ تَلَفًا " .
مولانا ظفر اقبال
اور غالباً یہ بھی فرمایا : عرش کے دائیں جانب ساتویں آسمان پر ایک فرشتہ یہ کہتا ہے کہ اے اللہ خرچ کرنے والے کو اس کا بدل عطاء فرما اور روک کر رکھنے والے کا مال جلد ہلاک فرما۔
حدیث نمبر: 8571 /3
قَالَ : قَالَ : وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ ، وَكَسْبِ الْأَمَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگانے والے اور باندیوں کی جسم فروشی کی کمائی سے منع فرمایا : ہے۔
حدیث نمبر: 8572
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ : مَعْرُوفٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وَتْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی ہے کہ وتر پڑھے بغیر نہ سوؤں۔
حدیث نمبر: 8573
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْعَتَكِيِّ وَهُوَ يَحْيَى بْنُ مَالِكٍ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ ، فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے۔
حدیث نمبر: 8574
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، وَأَبَانُ , قَالَا : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ، وَأَجْهَدَ نَفْسَهُ ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ ، أَنْزَلَ أَوْ لَمْ يُنْزِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب مرد اپنی بیوی کے چاروں کونوں کے درمیان بیٹھ جائے اور کوشش کرلے تو اس پر غسل واجب ہوگیا خواہ انزال ہو یا نہ ہو۔
حدیث نمبر: 8575
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقَدَّمُوا بَيْنَ يَدَيْ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ وَلَا يَوْمَيْنِ ، إِلَّا رَجُلٌ كَانَ صِيَامَهُ ، فَلْيَصُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھا کرو البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزہ رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہئے
حدیث نمبر: 8576
قَالَ : قَالَ : وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " ، قَالَ عَفَّانُ : وَحَدَّثَنَا أَبَانُ L18 فِي هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 8577
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ يَعْنِي الْأَحْوَلَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ ، فَمَضْمَضَ ثَلَاثًا ، وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ، وَغَسَلَ يَدَيْهِ ثَلَاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ، وَوَضَّأَ قَدَمَيْه " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک مرتبہ وضو کیا تو اس میں تین مرتبہ کلی کی تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا تین مرتبہ چہرہ دھویا تین مرتبہ ہاتھ دھوئے سر کا مسح کیا اور دونوں پاؤں دھوئے۔
حدیث نمبر: 8578
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُثْمَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 8579
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا تَهْجُرُ امْرَأَةٌ فِرَاشَ زَوْجِهَا ، إِلَّا لَعَنَتْهَا مَلَائِكَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو عورت (کسی ناراضگی کی بنا پر) اپنے شوہر کا بستر چھوڑ کر (دوسرے بستر پر) رات گذارتی ہے اس پر ساری رات فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں (تاآنکہ وہ واپس آجائے)
حدیث نمبر: 8580
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ ، قَالَ : " إِيمَانٌ لَا شَكَّ فِيهِ ، وَغَزْوٌ لَا غُلُولَ فِيهِ ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ " ، وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : وَحَجَّةٌ مَبْرُورَةٌ تُكَفِّرُ خَطَايَا تِلْكَ السَّنَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! سب سے افضل عمل کون سا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کے نزدیک سب سے افضل عمل اللہ پر ایمان ہے جس میں کوئی شک نہ ہو اور ایسا جہاد ہے جس میں خیانت نہ ہو اور حج مبرور ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حج مبرور اس سال کے سارے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 8581
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ ، يَقُولُ : " ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَهُنَّ ، لَا شَكَّ فِيهِنَّ : دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ ، وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ ، وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تین قسم کے لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان کی قبولیت میں کوئی شک و شبہ نہیں مظلوم کی دعاء مسافر کی دعاء اور باپ کی اپنے بیٹے کی متعلق دعاء۔
حدیث نمبر: 8582
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ عِسْلٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ السَّدْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کپڑا اس طرح لٹکانے سے منع فرمایا : ہے کہ وہ جس کی ہیئت پر نہ ہو اور اس میں کوئی روک نہ ہو۔
حدیث نمبر: 8583
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيد ، عَنْ أَبِي هرَيْرَةَ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمَّا بَلَغَهُ مَوْتُ النَّجَاشِيِّ صَلَّى عَلَيْهِ ، وَصَفُّوا خَلْفَهُ ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نجاشی کی موت کی اطلاع ملی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں باندھ لیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس میں چار تکبیرات کہیں۔
حدیث نمبر: 8584
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : " أَبْرِدُوا عن الصَّلَاةِ ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ ، فِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔ اور ہر نماز میں ہی قرأت کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرأت سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قرأت فرمائی ہے اس میں ہم بھی سراً قرأت کریں گے۔
حدیث نمبر: 8585
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، فَقَدْ أَدْرَكَ ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً أَوْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، فَقَدْ أَدْرَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص طلوع آفتاب سے قبل فجر کی نماز کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی اور جو شخص غروب آفتاب سے قبل نماز عصر کی ایک رکعت پالے اس نے وہ نماز پا لی۔
حدیث نمبر: 8586
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ ، فَلْيُفْرِغْ عَلَى يَدَيْهِ مِنْ إِنَائِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ تین مرتبہ دھو لے۔
حدیث نمبر: 8587
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ ذَكَرَ : " أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، سَأَلَ بَعْضَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يُسَلِّفَهُ أَلْفَ دِينَارٍ ، قَالَ : ائْتِنِي بِشُهَدَاءَ أُشْهِدُهُمْ ، قَالَ : كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا ، قَالَ : ائْتِنِي بِكَفِيلٍ ، قَالَ : كَفَى بِاللَّهِ كَفِيلًا ، قَالَ : صَدَقْتَ ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى . فَخَرَجَ فِي الْبَحْرِ ، فَقَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ الْتَمَسَ مَرْكَبًا يَقْدَمُ عَلَيْهِ لِلْأَجَلِ الَّذِي كَانَ أَجَّلَهُ ، فَلَمْ يَجِدْ مَرْكَبًا ، فَأَخَذَ خَشَبَةً فَنَقَرَهَا ، وَأَدْخَلَ فِيهَا أَلْفَ دِينَارٍ وَصَحِيفَةً مَعَهَا إِلَى صَاحِبِهَا ، ثُمَّ زَجَّجَ مَوْضِعَهَا ، ثُمَّ أَتَى بِهَا الْبَحْرَ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ إِنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ أَنِّي اسْتَلَفْتُ مِنْ فُلَانٍ أَلْفَ دِينَارٍ ، فَسَأَلَنِي كَفِيلًا ، فَقُلْتُ : كَفَى بِاللَّهِ كَفِيلًا ، فَرَضِيَ بِكَ ، وَسَأَلَنِي شَهِيدًا ، فَقُلْتُ : كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا ، فَرَضِيَ بِكَ ، وَإِنِّي قَدْ جَهِدْتُ أَنْ أَجِدَ مَرْكَبًا أَبْعَثُ إِلَيْهِ بِالَّذِي أََعطْاني ، فَلَمْ أَجِدْ مَرْكَبًا ، وَإِنِّي اسْتَوْدَعْتُكَهَا ، فَرَمَى بِهَا فِي الْبَحْرِ حَتَّى وَلَجَتْ فِيهِ ، ثُمَّ انْصَرَفَُ ، يَنْظُرُ وَهُوَ فِي ذَلِكَ يَطْلُبُ مَرْكَبًا يَخْرُجُ إِلَى بَلَدِهِ ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ أَسْلَفَهُ يَنْظُرُ لَعَلَّ مَرْكَبًا يَجِيءُ بِمَالِهِ ، فَإِذَا بِالْخَشَبَةِ الَّتِي فِيهَا الْمَال ، فَأَخَذَهَا لِأَهْلِهِ حَطَبًا ، فَلَمَّا كَسَرَهَا وَجَدَ الْمَالَ وَالصَّحِيفَةَ ، ثُمَّ قَدِمَ الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ تَسَلَّفَ مِنْهُ ، فَأَتَاهُ بِأَلْفِ دِينَار ، وَقَال : َوَاللَّهِ مَا زِلْتُ جَاهِدًا فِي طَلَبِ مَرْكَبٍ لِآتِيَكَ بِمَالِكَ ، فَمَا وَجَدْتُ مَرْكَبًا قَبْلَ الَّذِي أَتَيْتُ فِيهِ ، قَالَ : هَلْ كُنْتَ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِشَيْءٍ ؟ قَالَ : أَلَمْ أُخْبِرْكَ أَنِّي لَمْ أَجِدْ مَرْكَبًا قَبْلَ هَذَا الَّذِي جِئْتُ فِيهِ ؟ قَالَ : فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَدَّى عَنْكَ الَّذِي بَعَثْتَ بِهِ فِي الْخَشَبَةِ ، فَانْصَرِفْ بِأَلْفِكَ رَاشِدًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شخص نے دوسرے شخص سے ہزار دینار قرض مانگے اس شخص نے گواہ طلب کئے قرض مانگنے والا کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ شہادت کے لئے کافی ہے وہ کہنے لگا کہ اچھا کسی کی ضمانت دے دو قرض مانگنے والے نے جواب دیا کہ اللہ ہی ضمانت کے لئے کافی ہے اس نے کہا کہ تم سچ کہتے ہو یہ کہہ کر ایک معین مدت کے لئے اس نے اسے ایک ہزار اشرفیاں دے دیں روپیہ لینے والا روپیہ لے کر بحری سفر کو نکلا اور اپنا کام پورا کر کے واپس ہونے کے لئے جہاز کی تلاش کی تاکہ مقررہ مدت کے اندر قرض ادا کردے لیکن جہاز نہ ملا مجبوراً ایک (کھوکھلی) لکڑی کے اندر اس نے اشرفیاں بھریں اور قرض خواہ کے نام ایک خط بھی اس میں رکھ کر خوب مضبوط منہ بند کرکے دریا میں لکڑی ڈال دی اور کہنے لگا کہ الہٰی تو واقف ہے کہ میں نے فلاں شخص سے ہزار اشرفیاں قرض مانگی تھیں اور جب اس نے ضمانت مانگی تھی تو میں نے کہہ دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ضمانت کے لئے کافی ہے وہ تیری ضمانت پر راضی ہوگیا تھا پھر اس نے گواہ طلب کئے تھے اور میں نے کہہ دیا تھا کہ اللہ ہی شہادت کے لئے کافی ہے اس نے تیری شہادت پر رضامند ہو کر مجھے روپیہ دے دیا تھا اب میں نے جہاز کی تلاش میں بہت کوشش کی تاکہ روپیہ اس کو پہنچا دوں لیکن جہاز مجھے نہ ملا اب میں نے یہ اشرفیاں تیرے سپرد کرتا ہوں یہ کہہ کر اس نے وہ لکڑی سمندر میں ڈال دی اور لکڑی پانی میں ڈوب گئی لکڑی ڈال کر وہ واپس آگیا اور واپسی میں بھی جہاز کی جستجو کرتا رہا تاکہ اپنے شہر کو پہنچ جائے۔ اتفاقاً ایک روزقرض خواہ دریا پر یہ دیکھنے کو گیا کہ شاید کوئی جہاز میرا مال لایا ہو (جہاز تو نہ ملا وہی اشرفیاں بھری ہوئی لکڑی نظر پڑی) یہ گھر کے ایندھن کے لئے اس کو لے آیا لیکن توڑنے کے بعد مال اور خط برآمد ہوا کچھ مدت کے بعد قرض دار بھی آگیا اور ہزار اشرفیاں ساتھ لایا اور کہنے لگا اللہ کی قسم میں برابر جہاز کی تلاش میں کوشش کرتا رہا تاکہ تمہارا مال تم کو پہنچا دوں لیکن اس سے پہلے جہاز نہ ملا قرض خواہ نے دریافت کیا کہ تم نے مجھے کچھ بھیجا تھا ؟ قرض دار کہنے لگا کہ ہاں بتاتا ہوں چونکہ اس سے پہلے مجھے جہاز نہ ملا تھا اس لئے میں نے لکڑی میں بھر کر روپیہ بھیج دیا تھا قرض خواہ کہنے لگا تو بس جو مال تم نے لکڑی میں بھر کر بھیجا تھا وہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف سے مجھے پہنچا دیا لہٰذا تم کامیابی کے ساتھ اپنے یہ ہزار دینار واپس لے جاؤ۔
حدیث نمبر: 8588
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْأَسْوَدِ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّاد ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ فِي الْمَسْجِدِ ضَالَّة ، فَلْيَقُلْ لَهُ لَا أَدَّاهَا اللَّهُ إِلَيْكَ ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کسی آدمی کو مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرتے ہوئے سنا تو اسے چاہئے کہ یوں کہہ دے اللہ کرے تجھے وہ چیز نہ ملے کیونکہ مساجد (اس قسم کے اعلانات کے لئے) نہیں بنائی گئیں۔
حدیث نمبر: 8589
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ ، بِمَكَّةَ ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ لِمَرْوَانَ : أَحْلَلْتَ بَيْعَ الرِّبَا ! ، فَقَالَ مَرْوَانُ : مَا فَعَلْتُ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَحْلَلْتَ بَيْعَ الصُّكُوكِ وَقَدْ " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الطَّعَامِ حَتَّى يَسْتَوْفِيَ " ، قَالَ : فَخَطَبَ النَّاسَ مَرْوَانُ ، فَنَهَى عَنْ بَيْعِهَا ، قَالَ سُلَيْمَانُ : فَنَظَرْتُ إِلَى حَرَسِ مَرْوَانَ يَأْخُذُونَهَا مِنْ أَيْدِي النَّاسِ .
مولانا ظفر اقبال
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ تجار کے درمیان چیک کا رواج پڑگیا تاجروں نے مروان سے ان کے ذریعے خریدو فروخت کی اجازت مانگی اس نے انہیں اجازت دے دی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو وہ اس کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا : کہ تم نے سودی تجارت کی اجازت دے دی جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبضہ سے قبل غلہ کی اگلی بیع سے منع فرمایا : ہے ؟ چنانچہ مروان نے لوگوں سے خطاب کیا اور انہیں اس سے منع کردیا۔ سلیمان کہتے ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ مروان نے محافظوں کا ایک دستہ بھیجا جو غیرمزاحم لوگوں کے ہاتھوں سے چیک چھیننے لگے۔
حدیث نمبر: 8590
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نُعْمَانُ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ الْجَزَرِيَّ ، عَنِ ابْنِ شِهَاب ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ ، وَيَشْرَبْ بِيَمِينِه ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ ، وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص جب بھی کھانا کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور دائیں ہاتھ سے پیئے کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھاتا پیتا ہے۔
حدیث نمبر: 8591
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، أَخْبَرَنَا أَبُو يُونُسَ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَوْلَا حَوَّاءُ ، لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا الدَّهْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر حضرت حواء نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتیں۔
حدیث نمبر: 8592
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُفْتَحُ الْأَرْيَافُ ، فَيَأْتِي نَاسٌ إِلَى مَعَارِفِهِمْ ، فَيَذْهَبُونَ مَعَهُمْ ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ " قَالَهَا مَرَّتَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عنقریب سرسبز و شاداب زمینیں فتح ہوں گی لوگ اپنے اپنے ساز و سامان کو لے کر یہاں سے وہاں منتقل ہوجائیں گے حالانکہ اگر انہیں معلوم ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے زیادہ بہتر تھا یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ دہرایا۔
حدیث نمبر: 8593
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا يَجْتَمِعُ الْإِيمَانُ وَالْكُفْرُ فِي قَلْبِ امْرِئٍ ، وَلَا يَجْتَمِعُ الصِّدْقُ وَالْكَذِبُ جَمِيعًا ، وَلَا تَجْتَمِعُ الْخِيَانَةُ وَالْأَمَانَةُ جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک آدمی کے دل میں ایمان اور کفر جمع نہیں ہوسکتے جھوٹ اور سچ ایک جگہ اکھٹے نہیں ہوسکتے اور خیانت اور امانت ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے۔
حدیث نمبر: 8594
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِلَّا شَقِيٌّ " ، قِيلَ : وَمَنْ الشَّقِيُّ ؟ قَالَ : " الَّذِي لَا يَعْمَلُ بِطَاعَةٍ ، وَلَا يَتْرُكُ لِلَّهِ مَعْصِيَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جہنم میں صرف وہی داخل ہوگا جو شقی ہوگا کسی نے پوچھا کہ شقی کون ہے ؟ فرمایا : جو نیکی کا کوئی کام کرے نہیں اور گناہ کا کوئی کام چھوڑے نہیں۔
حدیث نمبر: 8595
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدَكُمْ هَذَا ذَهَبًا أُنْفِقُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ ، فَيَمُرُّ بِي ثَلَاثَةٌ وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا شَيْئًا ، أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر میرے پاس احد پہاڑ سونے کا بن کر آجائے تو مجھے اس میں خوشی ہوگی کہ اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کردوں اور تین دن بھی مجھ پر نہ گذرنے پائیں کہ ایک دینار یا درہم بھی میرے پاس باقی بچے سوائے اس چیز کے جو میں اپنے اوپر واجب الاداء قرض کی ادائیگی کے لئے روک لوں۔
…