حدیث نمبر: 8518
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ خُطْبَةٍ لَيْسَ فِيهَا شَهَادَةٌ ، كَالْيَدِ الْجَذْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس خطبے میں توحید و رسالت کی گواہی نہ ہو وہ جذام کے مارے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8518
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ قوي
حدیث نمبر: 8519
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يعنى أَبَانُ الْعَطَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَن ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " الْمُؤْمِنُ يَغَارُ ، وَاللَّهُ يَغَارُ ، وَمِنْ غَيْرَةِ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ شَيْئًا حَرَّمَ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مومن غیرت مند ہوتا ہے اور اللہ اس سے بھی زیادہ غیور ہے۔ اور غیرت الٰہی کا یہ حصہ ہے کہ انسان ایسی چیزوں سے اجتناب کرے جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8519
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 5223 ، م : 2761
حدیث نمبر: 8520
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " كَانَتْ شَجَرَةٌ تُؤْذِي أَهْلَ الطَّرِيقِ ، فَقَطَعَهَا رَجُلٌ فَنَحَّاهَا عَنِ الطَّرِيقِ ، فَدَخَلَ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک درخت کی وجہ سے راستے میں گذرنے والوں کو تکلیف ہوتی تھی۔ ایک آدمی نے اسے کاٹ کر راستے سے ہٹا کر ایک طرف کردیا اور اس کی برکت سے اسے جنت میں داخلہ نصیب ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8520
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 1914
حدیث نمبر: 8521
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِنِصْفِ يَوْمٍ ، وَهُوَ خَمْسُ مِائَةِ عَامٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فقراء مومنین مالدار مسلمانوں کی نسبت پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8521
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8522
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا ابْنَ آدَمَ ، اعْمَلْ كَأَنَّكَ تُرَى ، وَعُدَّ نَفْسَكَ مَعَ الْمَوْتَى ، وَإِيَّاكَ وَدَعْوَةَ الْمَظْلُومِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن آدم یہ سوچ کر عمل کیا کر کہ تجھے کوئی دیکھ رہا ہے اپنے آپ کو مردوں میں شامل کیا کر اور مظلوم کی بددعا سے بچا کر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8522
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث قابل للتحسین، و إسنادہ ضعیف لضعف علي ، ولجھالة الواسطة بینه و بین أبي ھریرۃ
حدیث نمبر: 8523
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَوْسِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمْ جَاءَ فُلَانٌ مِنْ سَاعَةِ كَذَا ، جَاءَ فُلَانٌ مِنْ سَاعَةِ كَذَا ، جَاءَ فُلَانٌ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ ، جَاءَ فُلَانٌ فَأَدْرَكَ الصَّلَاةَ وَلَمْ يُدْرِكْ الْجُمُعَةَ ، إِذَا لَمْ يُدْرِكْ الْخُطْبَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جمعہ کے دن مسجد کے دروازے پر فرشتے لوگوں کے مراتب لکھتے ہیں کہ فلاں آدمی فلاں وقت آیا فلاں آدمی فلاں وقت آیا فلاں آدمی اس وقت آیا جب امام خطبہ دے رہا تھا فلاں آدمی آیا تو اسے صرف نماز ملی اور جمعہ نہیں ملا یہ اس وقت لکھتے ہیں جبکہ کسی کو خطبہ نہ ملا ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8523
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف ، له علتان : ضعف علي بن زید ، وجھالة أوس ، وقوله : «جاء فلان و الإمام یخطب» ، ھذا مخالف للمشھور ، انظر ، خ : 3211 ، م : 850
حدیث نمبر: 8524
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ مُرْدًا بِيضًا جِعَادًا ، مُكَحَّلِينَ أَبْنَاءَ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ ، عَلَى خَلْقِ آدَمَ ، سَبْعُونَ ذِرَاعًا فِي سَبْعَةِ أَذْرُع " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنتی جنت میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کے جسم بالوں سے خالی ہوں گے وہ نوعمر ہوں گے گورے چٹے رنگ والے ہوں گے گھنگھریالے بال سرمگیں آنکھوں والے ہوں گے ٣٣ سال کی عمر ہوگی حضرت آدم علیہ السلام کی شکل و صورت پر ساٹھ گز لمبے اور سات گز چوڑے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8524
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن بشواھدہ دون قوله : «في سبعة أذرع» ، فقد تفرد بھا علي بن زید ، وھو ضعیف
حدیث نمبر: 8525
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ قَيْسٍ ، وَحَبِيبٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : " فِي كُلِّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ ، فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكُمْ ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہر نماز میں ہی قرأت کی جاتی ہے البتہ جس نماز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (جہر کے ذریعے) قرأت سنائی ہے اس میں ہم بھی تمہیں سنائیں گے اور جس میں سراً قرأت فرمائی ہے اس میں ہم بھی سراً قرأت کریں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8525
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 772 ، م : 396
حدیث نمبر: 8526
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لِكُلِّ بَنِي آدَمَ حَظٌّ مِنَ الزِّنَا ، فَالْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ ، وَزِنَاهُمَا النَّظَرُ ، وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ ، وَزِنَاهُمَا الْبَطْشُ ، وَالرِّجْلَانِ تزْنِيَانِ ، وَزِنَاهُمَا الْمَشْيُ ، وَالْفَمُ يَزْنِي ، وَزِنَاهُ الْقُبَلُ ، وَالْقَلْبُ يَهْوَى وَيَتَمَنَّى ، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر انسان کا بدکاری میں حصہ ہے چنانچہ آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں اور ان کا زنا دیکھنا ہے ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا پکڑنا ہے پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اوان کا زنا چل کر جانا ہے منہ بھی زنا کرتا ہے اور اس کا زنا بوسہ دینا ہے دل خواہش اور تمنا کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8526
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 6612 ، م : 2657
حدیث نمبر: 8527
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ ، فَقَامَ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ ! فَقَالَ : " إِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گذرا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیونکہ موت کی ایک گھبراہٹ ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8527
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8528
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8528
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 2113
حدیث نمبر: 8529
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُنَجِّيهِ عَمَلُهُ " قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بھی نہیں فرمایا : مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8529
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 5673 ، م : 2816
حدیث نمبر: 8530
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّ فِي يَدِي سِوَارَيْنِ ، فَنَفَخْتُهُمَا فَرُفِعَا فَأَوَّلْتُ أَنَّ أَحَدَهُمَا مُسَيْلِمَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے دونوں ہاتھوں پر سونے کے دو کنگن رکھ دئیے گئے میں نے انہیں پھونک مار دی اور وہ غائب ہوگئے میں نے اس کی تعبیر دو کذابوں سے کی یعنی اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8530
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 4375 ، م : 2274
حدیث نمبر: 8531
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَََََََّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا بَاتَ أَحَدُكُمْ وَفِي يَدِهِ غَمَرٌ ، فَأَصَابَهُ شَيْءٌ ، فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کے ہاتھ پر چکنائی کے اثرات ہوں اور وہ انہیں دھوئے بغیر ہی سو جائے جس کی وجہ سے اسے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو وہ صرف اپنے آپ ہی کو ملامت کرے (کہ کیوں ہاتھ دھو کر نہ سویا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8531
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8532
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُخَلَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى رَجُلٍ جَامَعَ امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اپنی بیوی کے پاس پچھلی شرمگاہ میں آتا ہے اللہ اس پر نظر کرم نہیں فرمائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8532
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغیرہ ، وھذا إسناد ضعیف لجھالة الحارث
حدیث نمبر: 8533
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ فَكَتَمَهُ أَلْجَمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے اور وہ اسے خواہ مخواہ چھپائے تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8533
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8534
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ ، وَأَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ أَوْ الْفَرْضِ صَلَاةُ اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فرض نمازوں کے بعد سب سے زیادہ افضل نماز رات کے درمیانی حصے میں پڑھی جانے والی ہے اور ماہ رمضان کے روزوں کے بعدسب سے زیادہ افضل روزہ اللہ کے اس مہینے کا ہے جسے تم محرم کہتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8534
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 1163
حدیث نمبر: 8535
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ ابْنِ هُرْمُزَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ ، نَادَى مُنَادٍ : يَا أَهْلَ الْجَنَّة ، خُلُودًا فَلَا مَوْتَ فِيهِ ، وَيَا أَهْلَ النَّارِ ، خُلُودًا فَلَا مَوْتَ فِيهِ " ، قَالَ : وَذَكَرَ لِي خَالِدُ بْنُ يزَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ يَذْكُرُ مِثْلَهُ ، عَنْ جَابِرٍ ، وَعُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، إِلَّا أَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنْهُمَا : أَنَّ ذَلِكَ بَعْدَ الشَّفَاعَاتِ وَمَنْ يُخْرَجُ مِنَ النَّارِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو ایک منادی آواز لگائے گا کہ اے اہل جنت تم ہمیشہ اس میں رہوگے یہاں موت نہیں آئے گی اور اے اہل جہنم تم بھی ہمیشہ اس میں رہوگے یہاں موت نہیں آئے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8535
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح ، وإسنادہ قوي ، خ : 6545
حدیث نمبر: 8536
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا عَادَ الْمُسْلِمُ أَخَاهُ أَوْ زَارَهُ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاكَ وَتَبَوَّأْتَ فِي الْجَنَّةِ مَنْزِلًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات یا بیمار پرسی کے لئے جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تو کامیاب ہوگیا تیرا چلنا بہت اچھا ہوا اور تو نے جنت میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8536
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف لضعف أبي سنان
حدیث نمبر: 8537
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا أَطَاعَ الْعَبْدُ رَبَّهُ وَسَيِّدَهُ ، فَلَهُ أَجْرَانِ " ، قَالَ : فَلَمَّا أُعْتِقَ أَبُو رَافِعٍ بَكَى ، فَقِيلَ لَهُ : مَا يُبْكِيكَ ؟ قَالَ : كَانَ لِي أَجْرَانِ ، فَذَهَبَ أَحَدُهُمَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب کوئی غلام اللہ اور اپنے آقا دونوں کی اطاعت کرتا ہو تو اسے ہر عمل پر دہرا اجر ملتا ہے راوی کہتے ہیں کہ ابو رافع کو آزاد کیا گیا تو وہ رونے لگے کسی نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ مجھے دو اجر ملتے تھے اب ان میں سے ایک ختم ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8537
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 2549 ، م : 1666
حدیث نمبر: 8538
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " يَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ، فَإِذَا عَرَجَتْ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : لَهُمْ مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ ؟ فَيَقُولُونَ : جِئْنَاكَ مِنْ عِنْدِ عِبَادِكَ أَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ ، وَجِئْنَاكَ وَهُمْ يُصَلُّونَ ، فَإِذَا عَرَجَتْ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : لَهُمْ مِنْ أَيْنَ جِئْتُمْ ؟ قَالُوا : جِئْنَاكَ مِنْ عِنْدِ عِبَادٍك ، أَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ ، وَجِئْنَاكَ وَهُمْ يُصَلُّونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رات اور دن کے فرشتے نماز فجر اور نماز عصر کے وقت اکھٹے ہوتے ہیں جب دن کے فرشتے آسمانوں پر چڑھ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ تم کہاں سے آئے ہو وہ کہتے ہیں کہ آپ کے بندوں کے پاس سے آرہے ہیں جس وقت ہم ان سے رخصت ہوئے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے تھے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے پھر جب رات کے فرشتے آسمانوں پر چڑھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے بھی پوچھتا ہے کہ تم کہاں سے آرہے ہو ؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم آپ کے بندوں کے پاس سے آرہے ہیں جب ہم ان کے پاس گئے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس سے آئے وہ تب بھی نماز پڑھ رہے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8538
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 555 ، م : 632
حدیث نمبر: 8539
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " الْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ ، وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ ، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (ہر انسان کا بدکاری میں حصہ ہے چنانچہ) آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8539
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 6612 ، م : 2657
حدیث نمبر: 8540
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، أَنَّ أَبَا حَصِينٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ ذَكْوَانَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَه ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَلِّمْنِي عَمَلًا يَعْدِلُ الْجِهَادَ ، قَالَ : " لَا أَجِدُهُ " ، قَالَ : " هَلْ تَسْتَطِيعُ إِذَا خَرَجَ الْمُجَاهِدُ أَنْ تَدْخُلَ مَسْجِدًا فَتَقُومَ لَا تَفْتُرُ ، وَتَصُومَ لَا تُفْطِرُ ؟ " قَالَ : لَا أَسْتَطِيعُ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : إِنَّ فَرَسَ الْمُجَاهِدِ يَسْتَنُّ فِي طِوَلِهِ ، فَيُكْتَبُ لَهُ حَسَنَاتٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو جہاد کے برابر ہو ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے ایسا کوئی عمل نہیں ملتا کیا تم اس بات کی طاقت رکھتے ہو کہ جس وقت کوئی مجاہد روانہ ہو تو تم مسجد میں داخل ہو کر قیام کرلو اور اس میں کوتاہی نہ کرو اور اس طرح روزہ رکھو کہ بالکل افطار نہ کرو ؟ اس نے کہا کہ میرے اندر اتنی طاقت نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8540
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 2785 ، م : 1878
حدیث نمبر: 8541
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جَدِّي أَبُو أُمِّي أَبُو حَبِيبَةَ أَنَّهُ دَخَلَ الدَّارَ وَعُثْمَانُ مَحْصُورٌ فِيهَا ، وَأَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَسْتَأْذِنُ عُثْمَانَ فِي الْكَلَامِ ، فَأَذِنَ لَهُ ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَال : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ بَعْدِي فِتْنَةً وَاخْتِلَافًا " ، أَوْ قَالَ " اخْتِلَافًا وَفِتْنَةً " ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مِنَ النَّاسِ : فَمَنْ لَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " عَلَيْكُمْ بِالْأَمِينِ وَأَصْحَابِهِ " وَهُوَ يُشِيرُ إِلَى عُثْمَانَ بِذَلِكَ .
مولانا ظفر اقبال
ابوحبیبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوئے ان دنوں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ محصور تھے وہاں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے گفتگو کرنے کی اجازت طلب کر رہے تھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دے دی چنانچہ وہ کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا : کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میرے بعد فتنوں اور اختلافات کا سامنا کروگے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ہمارا کون ذمہ دار ہوگا ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے امیر اور اس کے ساتھیوں کی ہمراہی کو لازم پکڑنا یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ فرمایا :۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8541
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8542
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ زَوْجَتَانِ مِنْ حُورِ الْعِينِ ، عَلَى كُلِّ وَاحِدَةٍ سَبْعُونَ حُلَّةً ، يُرَى مُخُّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ الثِّيَابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اہل جنت میں سے ہر ایک کی دو دو بیویاں ہوں گی ہر ایک کے اوپر ستر جوڑے ہوں گے اور جن کی پنڈلیوں کا گودا کپڑوں کے باہر سے نظر آجائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8542
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 3254 ، م : 2834
حدیث نمبر: 8543
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَتْبَعُ حَمَامَةً ، فَقَالَ : " شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو ایک کبوتری کے پیچھے بھاگتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : کہ ایک شیطان دوسری شیطانہ کا پیچھا کر رہا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8543
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8544
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَة ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ ، ثُمَّ قَدْ حَرَّمَ عَلَيَّ دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے برابر اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ لاالہ اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار نہ کرلیں نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اس کے بعد سمجھ لیں کہ انہوں نے مجھ سے اپنی جان مال کو محفوظ کرلیا اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8544
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، م : 21
حدیث نمبر: 8545
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجُلَاسِ عُقْبَةُ بْنُ يَسَارٍ ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ شَمَّاخٍ ، قَالَ : شَهِدْتُ مَرْوَانَ ، سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْجِنَازَةِ ؟ فَقَالَ : مَعَ الَّذِي قُلْتُ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا ، وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا ، وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا لِلْإِسْلَامِ ، وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَا ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا ، جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
عثمان بن شماخ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان نے میری موجودگی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نماز جنازہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سی دعاء پڑھتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ آپ ہی اس کے رب ہیں آپ ہی نے اسے پیدا کیا آپ ہی نے اسلام کی طرف اس کی رہنمائی فرمائی اور آپ ہی نے اس کی روح قبض فرمائی آپ اس کے پوشیدہ اور ظاہر سب کو جانتے ہیں ہم آپ کے پاس اس کے سفارشی بن کر آئے ہیں آپ اسے معاف فرما دیجئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8545
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف ، فیه ثلاث علل : اضطراب إسنادہ ، وجھالة بعض رواته ، و روایة بعضھم له موقوفا
حدیث نمبر: 8546
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ " مَرَّتَيْنِ ، قَالُوا : فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ : " إِنِّي لَسْتُ فِي ذَلِكَ مِثْلَكُمْ ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي ، فَلَا تُكَلِّفُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ الْعَمَلِ مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ طَاقَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمائی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حال میں رات گذارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے اس لئے تم اپنی جانوں کو ایسے عمل میں مت تکلیف دو جس کی برداشت کی تم میں طاقت نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8546
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، خ : 1966 ، م : 1103 ، وھذا إسناد فیه حیان والد سلیم مجھول
حدیث نمبر: 8547
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُنا ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ اتَّخَذَ كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ زَرْعٍ وَلَا صَيْدٍ وَلَا مَاشِيَةٍ ، فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " ، قَالَ سُلَيْمٌ : وَأَحْسَبُهُ قَدْ قَالَ : " وَالْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص شکاری کتے اور کھیت یا ریوڑ کی حفاظت کی علاوہ شوقیہ طور پر کتے پالے اس کے ثواب میں سے روزانہ ایک قیراط کمی ہوتی رہے گی (اور ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8547
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، خ : 2322 ، م : 1575 ، وإسنادہ ضعیف لجھالة والد سلیم
حدیث نمبر: 8548
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا فَرْقَدٌ ، عَنْ يَزِيدَ أَخِي مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ أَكْذَبُ ، أَوْ مِنْ أَكْذَبِ النَّاسِ ، الصَّبَّاغِينَ وَالصَّوَّاغِينَ " ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً : " إِنَّ مِنْ أَكْذَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سب سے بڑھ کر جھوٹے لوگ رنگریز اور زگر ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8548
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف لضعف فرقد
حدیث نمبر: 8549
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُصَلِّي الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ؟ فَقَالَ : " أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی شخص نے پوچھا کہ کیا کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم میں سے ہر ایک کو دو دو کپڑے میسر ہیں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8549
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد حسن ، خ : 365 ، م : 515
حدیث نمبر: 8550
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وحَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَال : سَمِعْتُ ثَابِتًا ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ فِي الدُّنْيَا عِنْدَ إِفْطَارِهِ ، وَفَرْحَةٌ فِي الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : روزہ دار کو دو موقعوں پر فرحت اور خوشی حاصل ہوتی ہے چنانچہ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے ایک خوشی آخرت میں ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8550
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، الإسناد الأول حسن ، والثاني صحیح ، خ : 7492 ، م : 1151
حدیث نمبر: 8551
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا عِسْلُ بْنُ سُفْيَانَ التَّمِيمِيُّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کپڑا اس طرح لٹکانے سے منع فرمایا : ہے کہ وہ جسم کی ہیئت پر نہ ہو اور اس میں کوئی روک نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8551
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ ضعیف لضعف عسل
حدیث نمبر: 8552
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا خُثَيْمٌ يَعْنِي ابْنَ عِرَاكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَدِمَ الْمَدِينَةَ فِي رَهْطٍ مِنْ قَوْمِهِ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ ، وَقَدْ اسْتَخْلَفَ سِبَاعَ بْنَ عُرْفُطَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ ، قَالَ : فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى : بْ كهيعص 65 ، وَفِي الثَّانِيَةِ : وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ ، قَالَ : فَقُلْتُ لِنَفْسِي : وَيْلٌ لِفُلَانٍ ، إِذَا اكْتَالَ اكْتَالَ بِالْوَافِي ، وَإِذَا كَالَ كَالَ بِالنَّاقِصِ ، قَالَ : فَلَمَّا صَلَّى زَوَّدَنَا شَيْئًا حَتَّى أَتَيْنَا خَيْبَرَ ، وَقَدْ افْتَتَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ ، قَالَ : فَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ ، فَأَشْرَكُونَا فِي سِهَامِهِمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب وہ قبول اسلام کے لئے اپنی قوم کے ایک گروہ کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر گئے ہوئے تھے اور مدینہ منورہ پر سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب بنا گئے تھے وہ کہتے ہیں کہ جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر پڑھا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی رکعت میں سورت مریم اور دوسری میں سورت مطففین کی تلاوت فرمائی میں نے دل میں کہا کہ فلاں آدمی تو ہلاک ہوگیا کیونکہ جب وہ دوسروں سے ناپ کرل یتا ہے تو پورا پورا لیتا ہے اور جب دوسروں کو دیتا ہے تو گھٹا کردیتا ہے۔ بہرحال نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہمیں کچھ زاد راہ مرحمت فرمایا : یہاں تک کہ ہم خیبرپہنچ گئے اس وقت تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کو فتح فرما چکے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے بات کر کے ہمیں بھی مال غنیمت کے حصے میں شریک فرما لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8552
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 8553
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ جَارِ الْمَقَامِ ، فَإِنَّ جَارَ الْمُسَافِرِ إِذَا شَاءَ أَنْ يُزَالَ زَالَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مقامی پڑوسی کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو کیونکہ مسافر پڑوسی سے تو آدمی جس وقت جدا ہونا چاہے ہوسکتا ہے (مقامی اور رہائشی پڑوسی سے نہیں ہوسکتا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8553
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 8554
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ عزَّ وجلَََََََََِّ : فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ سورة يوسف آية 50 ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " لَوْ كُنْتُ أَنَا ، لَأَسْرَعْتُ الْإِجَابَةَ وَمَا ابْتَغَيْتُ الْعُذْرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت قرآنی ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے کی تفسیر میں فرمایا : کہ اگر میں اتناعرصہ جیل میں رہتا جتنا عرصہ حضرت یوسف علیہ السلام رہے تھے پھر مجھے نکلنے کی پیشکش ہوتی تو میں اسی وقت قبول کرلیتا اور کوئی عذر تلاش نہ کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8554
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8555
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ آمَنَ بِي عَشْرَةٌ مِنْ أَحْبَارِ الْيَهُودِ ، لَآمَنَ بِي كُلُّ يَهُودِيٍّ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر مجھ پر یہودیوں کے دس بڑے عالم ایمان لے آئیں تو روئے زمین کا ہر یہودی مجھ پر ایمان لے آئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8555
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح لغیرہ ، خ : 3941 ، م : 2793 ، أبو ھلال ، وإن کان فیه ضعف ، متابع
حدیث نمبر: 8556
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : قَالَ شُرَيْحُ بْنُ هَانِئٍ : بَيْنَمَا أَنَا فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ إِذْ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يُحِبُّ رَجُلٌ لِقَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، إِلَّا أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَلَا أَبْغَضَ رَجُلٌ لِقَاءَ اللَّهِ ، إِلَّا أَبْغَضَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " ، فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ لَئِنْ كَانَ مَا ذَكَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا ، لَقَدْ هَلَكْنَا ، فَقَالَتْ : إِنَّمَا الْهَالِكُ مَنْ هَلَكَ فِيمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " لَا يُحِبُّ رَجُلٌ لِقَاءَ اللَّهِ ، إِلَّا أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَلَا أَبْغَضَ رَجُلٌ لِقَاءَ اللَّهِ ، إِلَّا أَبْغَضَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " ، قَالَتْ : وَأَنَا أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ ، فَهَلْ تَدْرِي لِمَ ذَلِكَ ؟ إِذَا حَشْرَجَ الصَّدْرُ ، وَطَمَحَ الْبَصَرُ ، وَاقْشَعَرَّ الْجِلْدُ ، وَتَشَنَّجَتْ الْأَصَابِعُ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ ، وَمَنْ أَبْغَضَ لِقَاءَ اللَّهِ أَبْغَضَ اللَّهُ لِقَاءَهُ .
مولانا ظفر اقبال
شریح بن ہانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد نبوی میں تھا وہاں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو آدمی اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو آدمی اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے جو بات ذکر کی ہے اگر وہ صحیح ہے تو ہم ہلاک ہوگئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہلاک تو وہی ہوتا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ہلاک ہو بات کیا ہے ؟ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سنی ہوئی روایت ذکر کی انہوں نے فرمایا : میں گواہی دیتی ہوں کہ میں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کیا تم جانتے ہو کہ ایسا کیوں ہے ؟ جب دل دہلنے لگیں آنکھیں چکا چوند ہوجائیں جسم کی کھال کانپنے لگے اور انگلیوں میں تشنّج کی کیفیت پیدا ہوجائے (موت کا وقت قریب آجائے) اس وقت جو آدمی اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو آدمی اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8556
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 7504 ، م : 2685
حدیث نمبر: 8557
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " رَغِمَ أَنْفُ ، ثمَََّ رَغِمَ أَنْفُ ، ثمَََََََََََّ رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ ، أَحَدَهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا عِنْدَهُ الْكِبَرُ ، لَمْ يُدْخِلْهُ الْجَنَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا : اس آدمی کی ناک خاک آلودہ ہو جس کے والدین میں سے ایک یا دونوں پر اس کی موجودگی میں بڑھاپا آیا اور وہ اسے جنت میں داخل نہ کرا سکیں (خدمت کر کے انہیں خوش نہ کرنے کی وجہ سے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8557
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 7504 ، م : 2685 ، 2551