حدیث نمبر: 8478
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي لَعْنَ قُرَيْشٍ وَشَتْمَهُمْ ! يَسُبُّونَ مُذَمَّمًا ، وَأَنَا مُحَمَّدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں اس بات پر تعجب نہیں ہوتا کہ کس عجیب طریقے سے اللہ قریش کی دشنام طرازیوں کو مجھ سے دور کردیتا ہے ؟ وہ کس طرح مذمم پر لعنت اور سب و شتم کرتے ہیں جبکہ میرا نام تو محمد ہے (مذمم نہیں)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8478
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، خ: 3533
حدیث نمبر: 8479
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَجْلَانَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا يَجْتَمِعَانِ فِي النَّارِ اجْتِمَاعًا يَضُرُّ أَحَدَهُمَا مُسْلِمٌ قَتَلَ كَافِرًا ثُمَّ سَدَّدَ الْمُسْلِمُ أَوْ قَارَبَ ، وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي جَوْفِ عَبْدٍ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ ، وَلَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ الْإِيمَانُ وَالشُّحُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو آدمی جہنم میں اس طرح جمع نہیں ہوں گے کہ ان میں سے ایک دوسرے کو نقصان پہنچائے وہ مسلمان جو کسی کافر کو قتل کرے اور اس کے بعد سیدھا راستہ اختیار کرلے اور ایک مسلمان کے نتھنوں میں جہاد فی سبیل اللہ کا گرد و غبار اور جہنم کا دھواں اکھٹے نہیں ہوسکتے اسی طرح ایک مسلمان کے دل میں ایمان اور بخل اکھٹے نہیں ہوسکتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8479
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد قوي، م: 1891
حدیث نمبر: 8480
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " خَرَجَتْ امْرَأَتَانِ وَمَعَهُمَا صَبِيَّانِ ، فَعَدَا الذِّئْبُ عَلَى أَحَدِهِمَا ، فَأَخَذَتَا يَخْتَصِمَانِ فِي الصَّبِيِّ الْبَاقِي ، فَاخْتَصَمَتَا إِلَى دَاوُدَ ، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى مِنْهُمَا ، فَمَرَّتَا عَلَى سُلَيْمَانَ النَّبِيِّ , فَقَالَ : كَيْفَ أَمَرَكُمَا ؟ فَقَصَّتَا عَلَيْهِ الْقِصَّةَ ، فَقَالَ : ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّ الْغُلَامَ بَيْنَكُمَا ، فَقَالَتْ الصُّغْرَى : أَتَشُقُّهُ ؟ ! قَالَ : نَعَمْ ، قَالَتْ : لَا تَفْعَلْ ، حَظِّي مِنْهُ لَهَا ، فَقَالَ : هُوَ ابْنُكِ ، فَقَضَى بِهِ لَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو عورتیں تھیں ان کے ساتھ ان کے دو بیٹے تھے اچانک کہیں سے ایک بھیڑیا آیا اور ایک لڑکے کو اٹھا کرلے گیا وہ دونوں اپنا مقدمہ لے کر حضرت داؤد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئیں انہوں نے یہ فیصلہ فرما دیا کہ جو بچہ رہ گیا وہ بڑی والی کا ہے۔ وہ دونوں وہاں سے نکلیں تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے انہیں بلا لیا اور فرمانے لگے کہ تمہارا کیا مسئلہ ہے ؟ انہوں نے اپنا واقعہ بیان کیا حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا چھری لے کر آؤ میں اس بچے کو دو حصوں میں تقسیم کر کے تمہیں دیتا ہوں یہ سن کر چھوٹی والی کہنے لگی کہ اللہ آپ پر رحم فرمائے یہ اسی کا بچہ ہے (کم ازکم زندہ تو رہے گا) آپ اسے دو حصوں میں تقسیم نہ کریں چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے چھوٹی والی کے حق میں فیصلہ کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8480
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي، خ: 3427، م: 1720
حدیث نمبر: 8481
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا " ، قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ : فَإِنَّكَ تُدَاعِبُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ! فَقَالَ : " إِنِّي لَا أَقُولُ إِلَّا حَقًّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو ہمیشہ حق بات ہی کہتا ہوں کسی صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو ہمارے ساتھ مذاق بھی کرتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مذاق میں بھی ہمیشہ حق بات ہی کہتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8481
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8482
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَغَيْرِهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " الْأَكْثَرُونَ الْأَسْفَلُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہی قیامت کے دن نچلے درجے میں ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8482
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد
حدیث نمبر: 8483
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ الْعَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ فَقَالَ : " أَنَا وَالَّذِينَ مَعِي ، ثُمَّ الَّذِينَ عَلَى الْأَثَرِ ، ثُمَّ الَّذِينَ عَلَى الْأَثَرِ " ثُمَّ كَأَنَّهُ رَفَضَ مَنْ بَقِيَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بہتر انسان کون ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور میرے ساتھی اس کے بعد وہ لوگ جو ہمارے بعد ہوں گے پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے اس بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8483
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 8484
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " لَنْ يَزَالَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ عِصَابَةٌ عَلَى الْحَقِّ ، لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ ، حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک جماعت دین کے معاملے میں ہمیشہ حق پر رہے گی اور کسی مخالفت کرنے والے کی مخالفت اسے نقصان نہ پہنچا سکے گی یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے اور وہ اسی حال پر ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8484
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8485
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ الذُّبَابَ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءٌ ، وَفِي الْآخَرِ شِفَاءٌ ، فَإِذَا وَقَعَ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ ، فَإِنَّهُ يَتَّقِي بِالَّذِي فِيهِ الدَّاءُ ، فَلْيغِْمْسه ثُمَّ يُخْرِجُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گرجائے تو وہ یاد رکھے کہ مکھی کے ایک پر میں شفاء اور دوسرے میں بیماری ہوتی ہے اور وہ بیماری والے پر کے ذریعے اپنا بچاؤ کرتی ہے (پہلے اسے برتن میں ڈالتی ہے) اس لئے اسے چاہئے کہ اس مکھی کو اس میں مکمل ڈبو دے (پھر اسے استعمال کرنا اس کی مرضی پر موقوف ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8485
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي والحديث صحيح، خ: 5782
حدیث نمبر: 8486
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا ، وَشَرُّهَا آخِرُهَا ، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخٍِِرُهَا ، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں کی صفوں میں پہلی صف سب سے بہترین اور آخری صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں آخری صف سب سے بہترین اور پہلی صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8486
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد جيد، م: 440
حدیث نمبر: 8487
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَتَوَضَّأُ أَحَدُكُمْ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهُ وَيُسْبِغُهُ ، ثُمَّ يَأْتِي الْمَسْجِدَ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِيهِ ، إِلَّا تَبَشْبَشَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِ كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِطَلْعَتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اور خوب اچھی طرح اور مکمل احتیاط سے کرے پھر مسجد میں آئے اور اس کا مقصد صرف نماز پڑھنا ہی ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوتے ہیں جیسے کسی مسافر کے اپنے گھر پہنچنے پر اس کے اہل خانہ خوش ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8487
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبي عبيدة
حدیث نمبر: 8488
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ لَيْثٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَخِيهِ عَبَّادِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْأَرْبَعِ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ ، وَمِنْ دُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ میں چار چیزوں سے آپ کی پناہ میں آتاہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دے ایسے دل سے جو خشیت اور خشوع سے خالی ہو ایسے نفس سے جو کبھی سیراب نہ ہو اور ایسی دعاء سے جو قبول نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8488
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، عباد لم يرو عنه غير أخيه، وذكره العجلي وابن حبان وابن خلفون فى جملة الثقات
حدیث نمبر: 8489
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُسَافِرُ لَيْلَةً ، إِلَّا وَمَعَهَا رَجُلٌ ذُو حُرْمَةٍ مِنْهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان عورت کے لئے حلال نہیں ہے کہ اپنے اہل خانہ میں سے کسی محرم کے بغیر ایک دن کا بھی سفر کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8489
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1088، م: 1339
حدیث نمبر: 8490
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ ، أَعَزَّ جُنْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ ، فَلَا شَيْءَ بَعْدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اسی نے اپنے لشکر کو غالب کیا اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں پر تنہا غالب آگیا اس کے بعد کوئی چیز نہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8490
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4114، م: 2724
حدیث نمبر: 8491
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَحَجَّاجٌ , قَالَا : حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ يُونُسُ : عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ ، وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيَّ ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کو کچھ نہ کچھ معجزات ضرور دیئے گئے جن پر لوگ ایمان لاتے رہے اور مجھے جو معجزہ دیا گیا ہے وہ اللہ کی وحی ہے جو وہ میری طرف بھیجتا ہے اور مجھے امید ہے کہ تمام انبیاء سے زیادہ قیامت کے دن میرے پیروکار ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8491
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4981، م: 152
حدیث نمبر: 8492
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : إِنَّ عَبْدِي الْمُؤْمِنَ عِنْدِي بِمَنْزِلَةِ كُلِّ خَيْر ، يَحْمَدُنِي وَأَنَا أَنْزِعُ نَفْسَهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میری نگاہوں میں اپنے بندہ مومن کے لئے ہر موقع پر خیر ہی خیر ہے وہ میری حمد بیان کر رہا ہوتا ہے کہ میں اس کے دونوں پہلوؤں سے اس کی روح کھینچ لیتاہوں (مرتے وقت بھی وہ میری حمد کر رہا ہوتا ہے)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8492
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 8493
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " وَاللَّهِ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے واللہ میں دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ توبہ و استغفار کرتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8493
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6307
حدیث نمبر: 8494
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ اسْتَمَعَ إِلَى آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى ، كُتِبَ لَهُ حَسَنَةٌ مُضَاعَفَةٌ ، وَمَنْ تَلَاهَا كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص قرآن کی ایک آیت سنتا ہے اس کے لئے بڑھا چڑھا کر نیکی لکھی جاتی ہے اور جو اس کی تلاوت کرتا ہے وہ اس کے لئے قیامت کے دن باعث نور ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8494
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عباس لين الحديث ، والحسن لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 8495
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عِسْلُ بْنُ سُفْيَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا طَلَعَ النَّجْمُ ذَا صَبَاحٍ ، رُفِعَتْ الْعَاهَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب صبح والا ستارہ طلوع ہوجائے تو (کھیتوں کی) مصیبتیں ٹل جاتی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8495
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن
حدیث نمبر: 8496
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، وَحَمَّادٌ , عَنْ عِسْلٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّدْلِ " ، يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کپڑا لٹکانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8496
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عسل
حدیث نمبر: 8497
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ مِنْ تَلْبِيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَبَّيْكَ إِلَهَ الْحَقِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا لبیک الہ الحق۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8497
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8498
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَرَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِجِذْلِ شَوْكٍ فِي الطَّرِيقِ ، فَقَالَ : لَأُمِيطَنَّ هَذَا الشَّوْكَ عَنِ الطَّرِيقِ أَنْ لَا يَعْقِرَ رَجُلًا مُسْلِمًا " ، قَال " فَغُفِرَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی نے گذرتے ہوئے مسلمانوں کے راستے سے ایک کانٹے دار ٹہنی کو ہٹایا تاکہ کوئی مسلمان زخمی نہ ہوجائے اس کی برکت سے اس کی بخشش ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8498
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 652، م: 1914
حدیث نمبر: 8499
َحَدَّثَنَا َحَدَّثَنَا عَفَّانُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْعَقَنَّ أَصَابِعَهُ ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيَّتِهِنَّ الْبَرَكَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھاچکے تو اسے اپنی انگلیاں چاٹ لینی چاہئیں کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ ان میں سے کس حصے میں برکت ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8499
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2035
حدیث نمبر: 8500
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ : إِنِّي قَدْ أَحْبَبْتُ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ ، قَالَ : فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ، قَالَ : ثُمَّ يُنَادِي فِي السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ ، قَالَ : فَيُحِبُّونَهُ ، قَالَ : ثُمَّ يَضَعُ اللَّهُ لَهُ الْقَبُولَ فِي الْأَرْضِ ، فَإِذَا أَبْغَضَ ، فَمِثْلُ ذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے بلا کر کہتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو چنانچہ جبرائیل علیہ السلام اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور آسمان والوں سے کہتے ہیں کہ تمہارا پروردگار فلاں شخص سے محبت کرتا ہے اس لئے تم بھی اس سے محبت کرو چنانچہ سارے آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اس کے بعد زمین والوں میں اس کی مقبولیت ڈال دی جاتی ہے اور جب کسی بندے سے نفرت کرتا ہے تب بھی اسی طرح ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8500
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7485، م: 2637
حدیث نمبر: 8501
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذَا " وَعَقَدَ وُهَيْبٌ تِسْعِينَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا : آج سد یاجوج ماجوج میں اتنا بڑا سوراخ ہوگیا ہے راوی نے انگوٹھے سے نوے کا عدد بنا کر دکھایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8501
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح ، خ : 3347 ، م : 3881
حدیث نمبر: 8502
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّمَا الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ ، فَإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا ، وَلَا تُكَبِّرُوا حَتَّى يُكَبِّرَ ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا ، وَلَا تَرْكَعُوا حَتَّى يَرْكَعَ ، وَإِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقُولُوا : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا ، وَلَا تَسْجُدُوا حَتَّى يَسْجُدَ ، وَإِنْ صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : امام کو تو مقررہی اس لئے کیا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے اس لئے جب وہ تکبیرک ہے تو تم بھی تکبیرکہوکہنے سے پہلے تکبیر نہ کہوجب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اس کے رکوع کرنے سے پہلے رکوع نہ کرو جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا و لک الحمد کہو جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو اور اس کے سجدہ کرنے سے پہلے تم سجدہ نہ کرو اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8502
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد قوي ، خ : 734 ، م : 414
حدیث نمبر: 8503
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، بَيْدَ أَنَّ كُلَّ أُمَّةٍ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا ، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ ، فَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ ، فَهَدَانَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ ، فَغَدًا لِلْيَهُودِ ، وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى " فَسَكَتَ . فَقَالَ : " حَقُّ اللَّهِ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ أَنْ يَغْتَسِلَ فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ ، يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَجَسَدَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم یوں تو سب سے آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے سبقت لے جائیں گے فرق صرف اتنا ہے کہ ہر امت کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی جب کہ ہمیں بعد میں کتاب ملی پھر یہ جمعہ کا دن اللہ نے ان پر مقرر فرمایا : تھا لیکن وہ اس میں اختلاف کا شکار ہوگئے چنانچہ اللہ نے ہماری اس کی طرف رہنمائی فرما دی اب اس میں لوگ ہمارے تابع ہیں اور یہودیوں کا اگلا دن (ہفتہ) ہے اور عیسائیوں کا پرسوں کا دن (اتوار) ہے پھر کچھ دیر خاموش رہ کر فرمایا : ہر مسلمان پر اللہ کا حق ہے کہ ہر سات دن میں تو اپنا سر اور جسم دھو لیا کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8503
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 896 ، م : 849
حدیث نمبر: 8504
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ ، فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ ، وَلَا تَحَسَّسُوا ، وَلَا تَجَسَّسُوا ، وَلَا تَبَاغَضُوا ، وَلَا تَدَابَرُوا ، وَلَا تَنَافَسُوا ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بدگمانی کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہوتی ہے کسی کی جاسوسی اور ٹوہ نہ لگاؤ باہم مقابلہ نہ کرو ایک دوسرے کو دھوکہ نہ دو قطع رحمی نہ کرو بغض نہ رکھو اور بندگان اللہ آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8504
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 6724 ، م : 2563
حدیث نمبر: 8505
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمَنْ أَطَاعَ الْأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو میری اطاعت کرتا ہے گویا وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور جو شخص میرے امیر کی اطاعت کرتا ہے وہ میری اطاعت کرتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8505
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 2957 ، م: 1835
حدیث نمبر: 8506
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رُؤْيَا الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمان آدمی کا خواب اجزاء نبوت میں سے سترواں جزو ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8506
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ قوي
حدیث نمبر: 8507
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَن ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " أَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْمَفْرُوضَةِ صَلَاةٌ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ ، وَأَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُحَرَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ فرض نمازوں کے بعد سب سے زیادہ افضل نماز رات کے درمیان حصے میں پڑھی جانے والی ہے اور ماہ رمضان کے روزوں کے بعد سب سے زیادہ افضل روزہ اللہ کے اس مہینے کا ہے جسے تم محرم کہتے ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8507
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 1163
حدیث نمبر: 8508
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهِ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي " ، قَالَ عَاصِمٌ : قَالَ : أَبِي : فَحَدَّثَنِيهِ ابْنُ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ ، قَالَ : رَأَيْتَهُ ؟ قُلْتُ : إِي وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُ ، قَالَ : فَذَكَرْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ ، قَالَ : إِنِّي وَاللَّهِ قَدْ ذَكَرْتُهُ وَنَعَتُّهُ فِي مِشْيَتِهِ ، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّهُ كَانَ يُشْبِهُهُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جسے خواب میں میری زیارت نصیب ہو جائے اسے یقین کرلینا چاہئے کہ اس نے میری ہی زیارت کی ہے کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8508
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح ، و إسنادہ قوي ، خ : 6993 ، م : 2266
حدیث نمبر: 8509
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ أَبِي جَالِسًا وَعِنْدَهُ غُلَامٌ ، فَقَامَ الْغُلَامُ فَقَعَدْتُ فِي مَقْعَدِ الْغُلَامِ ، فَقَالَ لِي أَبِي : قُمْ عَنْ مَقْعَدِهِ ، إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَنْبَأَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسِهِ فَرَجَعَ إِلَيْهِ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " ، غَيْرَ أَنَّ سُهَيْلًا ، قَالَ : لَمَّا أَقَامَنِي تَقَاصَرْتُ فِي نَفْسِي .
مولانا ظفر اقبال
سہیل بن ابی صالح رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد صاحب کے پاس بیٹھا ہوا تھا ان کے پاس ایک غلام بھی بیٹھا ہوا تھا وہ غلام کھڑا ہوا اور میں اس کی جگہ جا کر بیٹھ گیا والد صاحب نے مجھ سے کہا کہ اس کی جگہ سے اٹھو کیونکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر جائے تو واپس آنے کے بعد اس جگہ کا سب سے زیادہ حقدار وہی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8509
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 2179
حدیث نمبر: 8510
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ عَجْلَانَ أَبِي مُحَمَّد ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ ، وَلَا يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ مَا لَا يُطِيقُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : غلام کا حق ہے کہ اسے کھانا اور لباس مہیا کیا جائے اور تم انہیں کسی ایسے کام کا مکلف مت بناؤ جس کی وہ طاقت نہ رکھتے ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8510
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح ، وھذا إسناد جید ، م : 1662
حدیث نمبر: 8511
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ السَّنَةَ لَيْسَ بِأَنْ لَا يَكُونَ فِيهَا مَطَرٌ ، وَلَكِنَّ السَّنَةَ أَنْ تُمْطِرَ السَّمَاءُ وَلَا تُنْبِتَ الْأَرْضُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قحط سالی یہ نہیں ہے کہ بارشیں نہ ہوں قحط سالی یہ ہے کہ آسمان سے بارشیں تو خوب برسیں لیکن زمین سے پیداوار نہ نکلے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8511
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 2904
حدیث نمبر: 8512
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ صَفْوَانَ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمٍ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَسُهَيْلٍ ، عن صفوان بن سليم عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ اللَّجْلَاجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا يَجْتَمِعُ شُحٌّ وَإِيمَانٌ فِي قَلْبِ رَجُلٍ ، وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدُخَانُ جَهَنَّمَ فِي وَجْهِ عَبْدٍ " ، قَالَ حَمَّادٌ : وَقَالَ أَحَدُهُمَا : الْقَعْقَاعُ بْنُ اللَّجْلَاجِ ، وَقَالَ الْآخَرُ : اللَّجْلَاجُ بْنُ الْقَعْقَاعِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک مسلمان کے دل میں ایمان اور بخل اکٹھے نہیں ہوسکتے اسی طرح ایک مسلمان کے نتھنوں میں جہاد فی سبیل اللہ کا گرد و غبار اور جہنم کا دھواں اکٹھے نہیں ہوسکتے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8512
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حدیث صحیح بطرقه وشواھدہ ، وھذا إسناد فیه القعقاع ، وقد اختلف في اسمه ، وھو مقبول ، یعني عند المتابعة
حدیث نمبر: 8513
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوَوْنَ بِهِ خَيْرٌ ، فَفِي الْحِجَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جن چیزوں کے ذریعے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں سے کسی چیز میں کوئی خیر ہے تو وہ سینگی لگوانے میں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8513
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحیح لغیرہ ، وھذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8514
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ : قَدْ هَلَكَ النَّاسُ ، فَهُوَ أَهْلَكُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم کسی آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ لوگ تباہ ہوگئے تو سمجھ لو کہ وہ ان میں سب سے زیادہ تباہ ہونے والا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8514
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 2623
حدیث نمبر: 8515
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ! قَالَ : " تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ " ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا شَيْئًا أَبَدًا ، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ایسا عمل بتائیے جس پر عمل پیرا ہونے کے بعد میں جنت میں داخل ہوجاؤں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی عبادت کرو شرک مت کرو فرض نماز قائم کرو فرض زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو وہ دیہاتی کہنے لگا واللہ میں اس میں اپنی طرف سے کبھی کمی بیشی نہیں کروں گا جب وہ چلا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص کسی جنتی آدمی کو دیکھنا چاہتا ہے وہ اسے دیکھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8515
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 1397 ، م : 14
حدیث نمبر: 8516
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَجَهْدِهَا ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا ، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَة " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص بھی مدینہ منورہ کی مشقتوں اور سختیوں پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی بھی دوں گا اور سفارش بھی کروں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8516
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، م : 1378
حدیث نمبر: 8517
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَيْكُمْ بِهَذِهِ الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ ، فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ شَيْءٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کلونجی کا استعمال اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ اس میں (موت کے علاوہ) ہر بیماری کی شفاء ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8517
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسنادہ صحیح ، خ : 5688 ، م : 2215