حدیث نمبر: 8438
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ ذَا الْوَجْهَيْنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں میں سب سے بدترین شخص اس آدمی کو پاؤگے جو دوغلا ہو۔
حدیث نمبر: 8439
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَرَقَ عَبْدُ أَحَدِكُمْ فَلْيَبِعْهُ وَلَوْ بِنَشٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا غلام چوری کرے تو اسے چاہئے کہ اسے فروخت کردے خواہ معمولی قیمت پر ہی ہو۔
حدیث نمبر: 8440
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ فِي سَنَةِ إِحْدَى وَخَمْسِينَ خَرَجْتُ مَعَ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ اشْتَرَى طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر قبضہ غلہ کی اگلی بیع سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 8441
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے۔
حدیث نمبر: 8442
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَقَّهَا ، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْجَدْبِ فَأَسْرِعُوا السَّيْرَ ، وَإِذَا أَرَدْتُمْ التَّعْرِيسَ فَتَنَكَّبُوا عَنِ الطَّرِيق " ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : أخبرنا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کسی سرسبز و شاداب علاقے میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دیا کرو ( اور انہیں اطمینان سے چرنے دیا کرو) اور اگر خشک زمین میں سفر کرو تو تیز رفتاری سے اس علاقے سے گذر جایا کرو اور جب رات کو پڑاؤ کرنا چاہو تو راستے سے ہٹ کر پڑاؤ کیا کرو
حدیث نمبر: 8443
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَفِرُّ مِنَ الْبَيْتِ إِنْ يَسْمَعْ سُورَةَ الْبَقَرَةِ تُقْرَأُ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ کیونکہ شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورت بقرہ کی تلاوت کی جاتی ہو۔
حدیث نمبر: 8444
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ أَبُو جُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عُطَارِدًا التَّمِيمِيَّ كَانَ يُقِيمُ حُلَّةَ حَرِيرٍ ، فَلَوْ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا إِذَا جَاءَكَ وُفُودُ النَّاسِ . فَقَالَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! عطارد تمیمی کھڑا ریشمی حلے بیچ رہا ہے اگر آپ ایک جوڑا خرید لیتے تو جب وفود آپ کے پاس آتے تو آپ بھی اسے پہن لیتے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا میں وہی شخص ریشم پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔
حدیث نمبر: 8445
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " وَاللَّهِ ، إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ ، وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ ، وَصَلَاةِ الصُّبْحِ ، بَعْدَمَا يَقُولُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْكافرين " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بخدا ! نماز میں میں تم سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوں ابوسلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز عشاء اور نماز فجر کی آخری رکعت میں سمع اللہ لمن حمدہ کہنے کے بعد قنوت نازلہ پڑھتے تھے جس میں مسلمانوں کے لئے دعاء اور کفار پر لعنت فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 8446
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا : طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَالدَّجَّالَ ، وَالدُّخَانَ ، وَالدَّابَّةَ ، وَخَاصَّةَ أَحَدِكُمْ ، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھ واقعات رونما ہونے سے قبل اعمال صالحہ میں سبقت کرلو سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال کا خروج، دھواں چھاجانا، دابۃ الارض کا خروج تم میں سے کسی خاص آدمی کی موت یا سب کی عمومی موت۔
حدیث نمبر: 8447
حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا يَنْبَغِي لِلصَّدِيقِ أَنْ يَكُونَ لَعَّانًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدیق یا دوست کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ لعنت کرنے والا ہو۔
حدیث نمبر: 8448
حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ يعنى ابن بلَال ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : سَعِّرْ ، فَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَخفْضُ ويَرْفَعُ ، وَلَكِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَلَيْسَ لِأَحَدٍ عِنْدِي مَظْلِمَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ چیزوں کے نرخ مقرر کردیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہنگے اور ارزاں اللہ ہی کرتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اللہ سے اس حال میں ملوں کہ میری طرف کسی کا کوئی ظلم نہ ہو۔
حدیث نمبر: 8449
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم " َلَعَنَ زَوَّارَاتِ الْقُبُور " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان جا کر (غیرشرعی حرکتیں کرنے والی) خواتین پر لعنت فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 8450
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أُحُدًا هَذَا يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ احد ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم سے محبت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8451
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَرَقَ الْعَبْدُ ، فَبِعْهُ وَلَوْ بِنَشٍّ " يَعْنِي بِنِصْفِ أُوقِيَّةٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا غلام چوری کرے تو اسے چاہئے کہ اسے فروخت کردے خواہ معمولی قیمت پر ہی ہو۔
حدیث نمبر: 8452
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم " لَعَنَ زَوَّارَاتِ الْقُبُور " .
مولانا ظفر اقبال
کاتبین کی غلطی سے احادیث کی سند اور متن میں گڑبڑ ہوگئی ہے ہمارے پاس دستیاب نسخے میں اس نمبر پر کوئی حدیث درج نہیں ہے بلکہ صرف لفظ حدثنا لکھا ہوا ہے۔
حدیث نمبر: 8453
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " لَيَنْزِلَنَّ الدَّجَّالُ خُوزَ وَكَرْمَانَ فِي سَبْعِينَ أَلْفًا ، وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے دجال ستر ہزار آدمیوں کے ساتھ خوز اور کرمان میں ضرور اترے گا ان لوگوں کے چہرے چپٹی ہوئی کمانوں کی طرح ہوں گے۔
حدیث نمبر: 8454
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا خَرَجَ إِلَى الْعِيدَيْنِ رَجَعَ فِي غَيْرِ الطَّرِيقِ الَّذِي خَرَجَ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عیدین کے لئے نکلتے تو واپسی پر دوسرے راستے کو اختیار فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 8455
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ : أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي ، الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ارشاد فرمائیں گے میری خاطر آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ میرے جلال کی قسم آج میں انہیں اپنے سائے میں جبکہ میرے سائے کے علاوہ کہیں کوئی سایہ نہیں جگہ عطاء کروں گا۔
حدیث نمبر: 8456
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، ثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ الشَّيْخَ " قَالَ يُونُسُ : أَظُنُّهُ قَالَ : " يَهْرَمُ وَيَضْعُفُ جِسْمُهُ ، وَقَلْبُهُ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَيْنِ : طُولِ الْحَيَاةِ ، وَحُبِّ الْمَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان بوڑھا ہوتا جاتا ہے اس کا جسم کمزور ہوتا جاتا ہے لیکن اس میں دو چیزوں کی محبت جوان ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔
حدیث نمبر: 8457
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبِي طُوَالَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ ، لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا ، لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ سُرَيْجٌ : فِي حَدِيثِهِ : يَعْنِي رِيحَهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایسا علم جس کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہو صرف اس لئے حاصل کرے کہ دنیاوی ساز و سامان حاصل کرسکے گا تو قیامت کے دن وہ جنت کی خوشبو بھی نہ سونگھ سکے گا۔
حدیث نمبر: 8458
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " تُفْتَحُ الْبِلَادُ وَالْأَمْصَارُ ، فَيَقُولُ الرِّجَالُ لِإِخْوَانِهِمْ : هَلُمُّوا إِلَى الرِّيفِ ، وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ، لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب مختلف ممالک اور شہر فتح ہونے لگیں گے تو لوگ اپنے بھائیوں سے کہیں گے کہ آؤ سرسبز و شاداب علاقوں میں چل کر رہتے ہیں حالانکہ اگر انہیں معلوم ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے بہتر تھا اور جو شخص بھی مدینہ منورہ کی مشقتوں اور سختیوں پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی بھی دوں گا اور سفارش بھی کروں گا۔
حدیث نمبر: 8459
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالَا : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَبْلَ السَّاعَةِ سِنُونَ خَدَّاعَةٌ ، يُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ ، وَيُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ ، وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِين ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ ، وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ " ، قَالَ سُرَيْجٌ : " وَيَنْظُرُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت سے پہلے لوگوں پر ایسے سال آئیں گے جو دھوکے کے سال ہوں گے ان میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا سمجھا جائے گا خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن سمجھا جائے گا اور اس میں رویبضہ کلام کرے گا (کسی نے پوچھا کہ رویبضہ سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا بیوقوف آدمی بھی عوام کے معاملات میں بولنا شروع کردے گا)
حدیث نمبر: 8460
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنَّ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَنَفَخْتُهُمَا فَرُفِعَا ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ أَحَدَهُمَا مُسَيْلِمَة ، وَالْآخَرَ الْعَنْسِيُّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے دونوں ہاتھوں پر سونے کے دو کنگن رکھ دئیے گئے میں نے انہیں پھونک مار دی اور وہ غائب ہوگئے میں نے اس کی تعبیر دو کذابوں سے کی یعنی اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب۔
حدیث نمبر: 8461
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، قَالَ : وَحَدَّثَنِي بُكَيْرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْثٍ ، فَقَالَ : " إِنْ وَجَدْتُمْ فُلَانًا وَفُلَانًا لِرَجُلَيْنِ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَحْرِقُوهُمَا بِالنَّارِ " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَدْنَا الْخُرُوجَ : " إِنِّي كُنْتُ أَمَرْتُكُمْ أَنْ تُحْرِقُوا فُلَانًا وَفُلَانًا بِالنَّارِ ، وَإِنَّ النَّارَ لَا يُعَذِّبُ بِهَا إِلَّا اللَّهُ تَعَالَى ، فَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ہمیں ایک لشکر کے ساتھ بھیجا اور قریش کے دو آدمیوں کا نام لے کر فرمایا اگر تم ان دونوں کو پاؤ تو انہیں آگ میں جلا دینا پھر جب ہم لوگ روانہ ہونے کے ارادے سے نکلنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے فلاں فلاں آدمیوں کے متعلق یہ حکم دیا تھا کہ انہیں آگ میں جلا دینا لیکن آگ کا عذاب صرف اللہ ہی دے سکتا ہے اس لئے اگر تم انہیں پاؤ تو انہیں قتل کردینا۔
حدیث نمبر: 8462
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ، وَلَكِنْ افْسَحُوا يَفْسَحْ اللَّهُ لَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے بلکہ کشادگی پیدا کرلیا کرو اللہ تمہارے لئے کشادگی فرمائے گا۔
حدیث نمبر: 8463
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَضُبٍّ عَلَيْهَا تَمْرٌ وَسَمْنٌ ، فَقَالَ : " كُلُوا فَإِنِّي أَعَافُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ سات عدد گوہ پیش کی گئیں جن پر کجھوریں اور گھی بھی تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگ اسے کھالو میں اس سے پرہیز کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 8464
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَخْلَةٍ جَرْبَاءَ قَدْ أَخْرَجَهَا أَهْلُهَا ، فَقَالَ : " أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بکری کے پاس سے گذرے جس کی کھال اتری ہوئی تھی اور وہ خارش زدہ تھی اسے اس کے مالکوں نے نکال پھینکا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارا خیال ہے کہ یہ اپنے مالکوں کی نظر میں حقیر ہوگئی ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں فرمایا اللہ کی نگاہوں میں دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے جتنی یہ بکری اپنے مالکوں کی نگاہ میں حقیر ہے۔
حدیث نمبر: 8465
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ يسَأَلَ عَنْهُ ، فَإِنْ قِيلَ لَهُ : هَدِيَّةٌ ، أَكَلَ ، وَإِنْ قِيلَ : صَدَقَةٌ ، قَالَ : " كُلُوا " وَلَمْ يَأْكُلْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آپ کے گھر کے علاوہ کہیں اور سے کھانا آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق دریافت فرماتے اگر بتایا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے تناول فرما لیتے اور اگر بتایا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو لوگوں سے فرما دیتے کہ تم کھالو اور خود نہ کھاتے۔
حدیث نمبر: 8466
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، وَعُدِّلَتْ الصُّفُوفُ ، حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ وَانْتَظَرْنَا أَنْ يُكَبِّرَ انْصَرَفَ ، فَقَالَ : " عَلَى مَكَانِكُمْ " فَدَخَلَ بَيْتَهُ ، وَمَكَثْنَا عَلَى هَيْئَتِنَا حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا وَرَأْسُهُ يَنْطِفُ وَقَدْ اغْتَسَلَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کی اقامت ہونے لگی اور لوگ صفیں درست کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور اپنے مقام پر کھڑے ہوگئے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکبیر کے منتظر تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ یہیں ٹھہرو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ہم لوگ اسی طرح کھڑے رہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب واپس آئے تو غسل فرما رکھا تھا اور سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے۔
حدیث نمبر: 8467
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ ، فَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ : إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا ، فَتَجَاوَزْ عَنْهُ ، لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا ، فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جو لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوجوانوں سے کہہ دیتا تھا کہ جب تم کسی تنگدست سے قرض وصول کرنے جاؤ تو اس سے درگذر کرنا شاید اللہ ہم سے بھی درگذر کرے چنانچہ (موت کے بعد) جب اللہ سے اس کی ملاقات ہوئی تو اللہ نے اس سے درگذر فرمایا (اسے معاف فرمایا)
حدیث نمبر: 8468
حَدَّثَنَا فَزَارَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ قَدْ كَانَ فِيمَا مَضَى قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ نَاسٌ يُحَدَّثُونَ ، وَإِنَّهُ إِنْ كَانَ فِي أُمَّتِي هَذِهِ مِنْهُمْ أَحَدٌ ، فَإِنَّهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گزشتہ امتوں میں سے کچھ لوگ محدث (ملہم من اللہ) ہوتے تھے اگر میری امت میں کوئی شخص ایسا ہے تو وہ عمر بن خطاب ہیں۔ رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 8469
وحَدَّثَنَاه يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مرسلاً بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 8470
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : حَدَّثَنِي ابْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي فِي الْجَنَّةِ ، فَإِذَا امْرَأَةٌ تَوَضَّأُ إِلَى جَنْبِ قَصْرٍ ، فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا : لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ فَوَلَّيْتُ مُدْبِرًا " ، وَعُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ حِينَ يَقُولُ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عِنْدَهُ مَعَ الْقَوْمِ ، فَبَكَى عُمَرُ حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : أَعَلَيْكَ بِأَبِي أَنْتَ أَغَارُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دن میں نے خواب میں اپنے آپ کو جنت میں دیکھا وہاں ایک عورت ایک محل کی جانب وضو کر رہی تھی میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہے مجھے تمہاری غیرت یاد آگئی اور میں واپس پلٹ آیا جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات فرما رہے تھے اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی اللہ ان پر رحمتیں نازل فرمائے لوگوں میں بیٹھے ہوئے تھے وہ یہ سن کر رو پڑے اور کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا میں آپ پر غیرت کھاؤں گا ؟
حدیث نمبر: 8471
حَدَّثَنَا فَزَارَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالٍ يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ فِي الْجَنَّةِ كَمَا تَرَاءَوْنَ أَوْ تَرَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَارِبَ فِي الْأُفُقِ وَالطَّالِعَ ، فِي تَفَاضُلِ الدَّرَجَاتِ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُولَئِكَ النَّبِيُّونَ ! قَالَ : " بَلَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، وَأَقْوَامٌ آمَنُوا بِاللَّهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل جنت ایک دوسرے کو جنت میں اسی طرح دیکھیں گے جیسے تم لوگ روشن ستارے کو مختلف درجات میں کم و بیش دیکھتے ہو صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا یہ لوگ انبیاء کرام (علیہم السلام) ہوں گے ؟ فرمایا نہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) کی تصدیق کی۔
حدیث نمبر: 8472
حَدَّثَنَا فَزَارَةُ ، أَخْبَرَنَا فُلَيْحٌ ، وَسُرَيْجٌ , قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الشَّيْخُ يَكْبَرُ وَيَضْعُفُ جِسْمُهُ ، وَقَلْبُهُ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ طُولِ الْحَيَاةِ ، وَحُبِّ الْمَالِ " ، َقَالَ سُرَيْجٌ : " حُبِّ الْحَيَاةِ ، وَحُبِّ الْمَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان بوڑھا ہوتا جاتا ہے اس کا جسم کمزور ہوتا جاتا ہے لیکن اس میں دو چیزوں کی محبت جوان ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔
حدیث نمبر: 8473
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ ، وَالْمُسْتَوْصِلَةَ ، وَالْوَاشِمَةَ ، وَالْمُسْتَوْشِمَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بال ملانے والی اور ملوانے والی پر جسم گودنے والی اور گدوانے والی عورتوں پر اللہ کی لعنت ہو۔
حدیث نمبر: 8474
حَدَّثَنَا فَزَارَةُ بْنُ عَمْرٍ ، أَخْبَرَنِي فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ ، وَصَامَ رَمَضَانَ ، فَإِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، هَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ جَلَسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا نُنَبِّئُ النَّاسَ بِذَلِكَ ؟ قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، فَإِذَا سَأَلْتُمْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فاَسأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ ، فَإِنَّهَا أَوْسَطُ الْجَنَّةِ ، وَأَعْلَى الْجَنَّةِ ، وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے نماز قائم کرے اور رمضان کے روزے رکھے اللہ پر اس کا حق ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے خواہ وہ اللہ کے راستہ میں ہجرت کرے یا اپنے وطن مولود میں ہی بیٹھا رہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم لوگوں کو یہ بات نہ بتادیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو جاری رکھی اور فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لئے تیار کر رکھا ہے دو درجوں کے درمیان زمین و آسمان کے درمیان جتنا فاصلہ ہے جب تم اللہ سے جنت مانگا کرو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو۔ کیونکہ وہ جنت کا مرکز اور سب سے اعلیٰ ترین حصہ ہے اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔
حدیث نمبر: 8475
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ يعنى ابن الهاد ، عَنْ عَمْرٍو بْنِ قُهَيْدِ بْنِ مُطَرِّفٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ عُدِيَ عَلَى مَالِي ؟ قَالَ : " فانْشُدْ اللَّهَ " ، قَالَ : فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ ؟ قَالَ : " انْشُدْ اللَّهَ " ، قَالَ : فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ ؟ قَالَ : " فَانْشُدْ اللَّهَ " ، قَالَ : فَإِنْ أَبَوْا عَلَيَّ ؟ قَالَ : " فَقَاتِلْ ، فَإِنْ قُتِلْتَ فَفِي الْجَنَّةِ ، وَإِنْ قَتَلْتَ فَفِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ اگر کوئی شخص میرے مال پر دست درازی کرے تو میں کیا کروں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اللہ کا واسطہ دو اس نے پوچھا اگر وہ نہ مانے تو ؟ فرمایا پھر اللہ کا واسطہ دو چوتھی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے قتال کرو اگر تم مارے گئے تو جنت میں اور اگر تم نے اسے مار دیا تو جہنم میں جاؤ گے۔
حدیث نمبر: 8476
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قُهَيْدٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 8477
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال : شَكَا أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ مَشَقَّةَ السُّجُودِ عَلَيْهِمْ إِذَا تَفَرَّجُوا ، فقَالَ : " اسْتَعِينُوا بِالرُّكَبِ " ، قَالَ ابْنُ عَجْلَانَ : وَذَلِكَ أَنْ يَضَعَ مِرْفَقَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ إِذَا أَطَالَ السُّجُودَ وَأَعْيَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ شکایت کی کہ جب وہ کشادہ ہوتے ہیں تو سجدہ کرنے میں مشقت ہوتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے گھٹنوں سے مدد لیا کرو۔ راوی حدیث ابن عجلان کہتے ہیں کہ جب سجدہ طویل ہوجائے اور آدمی تھک جائے تو اپنی کہنیاں گھٹنوں پر رکھ لے۔
…