حدیث نمبر: 8398
وَبِإِسْنَادِهِ ، وَبِإِسْنَادِهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ أَرْسَلَ جِبْرِيلَ ، قَالَ : انْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا ، فَجَاءَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعَدَّ اللَّهُ لِأَهْلِهَا فِيهَا ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ ، فقَال : وَعِزَّتِكَ ، لَا يَسْمَعُ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا ، فَأَمَرَ بِهَا فَحُجِبَتْ بِالْمَكَارِهِ ، قَالَ : ارْجِعْ إِلَيْهَا ، فَانْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا " ، قَالَ : " فَرَجَعَ إِلَيْهَا ، فَإِذَا هِيَ قَدْ حُجِبَتْ بِالْمَكَارِهِ ، فَرَجَعَ إِلَيْهِ ، فقَالَ : وَعِزَّتِكَ ، قَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَدْخُلَهَا أَحَد ، قَالَ : اذْهَبْ إِلَى النَّارِ ، فَانْظُرْ إِلَيْهَا وَإِلَى مَا أَعْدَدْتُ لِأَهْلِهَا فِيهَا ، فجاءَها ، فَنَظَر إليها وإلى ما أعَّد لأهلها فيها ، فَإِذَا هِيَ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا ، فَرَجَعَ فقَالَ ، وَعِزَّتِك ، لَا يَسْمَعَ بِهَا أَحَدٌ فَيَدْخُلَهَا ، فَأَمَرَ بِهَا ، فَحُفَّتْ بِالشَّهَوَاتِ ، فر جع إليه قَالَ : وَعِزَّتِكَ ، لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا يَنْجُوَ مِنْهَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ نے جنت اور جہنم کو پیدا کیا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ جا کر اسے دیکھ آؤ اور میں نے اس میں جو چیزیں تیار کی ہیں وہ بھی دیکھ آؤ چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام گئے اور جنت اور اس میں مہیا کی گئی نعمتوں کو دیکھا اور واپس آکر بارگاہ الٰہی میں عرض کیا کہ آپ کی عزت کی قسم اس کے متعلق جو بھی سنے گا اس میں داخل ہونا چاہے گا اللہ کے حکم پر اسے ناپسندیدہ اور ناگوار چیزوں کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا اللہ نے فرمایا اب جا کر اسے اور اس کی نعمتوں کو دیکھ کر آؤ چنانچہ وہ دوبارہ گئے اس مرتبہ وہ ناگوار امور سے ڈھانپ دی گئی تھی وہ واپس آکر عرض رسا ہوئے کہ آپ کی عزت کی قسم مجھے اندیشہ ہے کہ اب اس میں کوئی داخل ہی نہیں ہوسکے گا۔ اللہ نے فرمایا کہ جا کر جہنم اور اہل جہنم کے لئے تیار کردہ سزائیں دیکھ کر آؤ جب وہ وہاں پہنچے تو اس کا ایک حصہ دوسرے پر چڑھے جا رہا تھا واپس آکر کہنے لگے کہ آپ کی عزت کی قسم کوئی شخص بھی جو اس کے متعلق سنے گا اس میں داخل ہونا نہیں چاہے گا اللہ کے حکم پر اسے خواہشات سے ڈھانپ دیا گیا اس مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کہنے لگے کہ آپ کی عزت کی قسم مجھے تو اندیشہ ہے کہ اب کوئی آدمی اس سے بچ نہیں سکے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8398
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8399
وَبِإِسْنَادِهِ ، وَبِإِسْنَادِهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَجُلَانِ مِنْ بَلي حي مِنْ قُضَاعَةَ أَسْلَمَا مَعَ رسولِ الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، وَاسْتُشْهِدَ أَحَدُهُمَا ، وَأُخِّرَ الْآخَرُ سَنَةً ، قَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ : فَأُرِيتُ الْجَنَّةَ ، فَرَأَيْتُ فِيهَا الْمُؤَخَّرَ مِنْهُمَا أُدْخِلَ قَبْلَ الشَّهِيدِ ، فَعَجِبْتُ لِذَلِكَ ، فَأَصْبَحْتُ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ للنبي اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَيْسَ قَدْ صَامَ بَعْدَهُ رَمَضَانَ وَصَلَّى سِتَّةَ آلَافِ رَكْعَةٍ أَوْ كَذَا وَكَذَا رَكْعَةً صَلَاةَ السَّنَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے قبیلہ قضاعہ کے ایک خاندان " بَلِی " کے دو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے ان میں سے ایک صاحب تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے شہید ہوگئے اور دوسرے صاحب ان کے بعد ایک سال مزید زندہ رہے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ اپنی طبعی موت مرنے والا اپنے دوسرے ساتھی سے کچھ عرصہ قبل ہی جنت میں داخل ہوگیا حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اس نے چھ ہزار رکعتیں نہیں پڑھیں اور ماہ رمضان کے روزے نہیں رکھے اور اتنی سنتیں نہیں پڑھیں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8399
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8400
حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ بَلِيٍّ وَهُمْ حَيٌّ مِنْ قُضَاعَةَ ، فَذَكَرَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8400
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا الإسناد فيه انقطاع، أبو سلمة لم يدرك طلحة، ولكن الواسطة بينهما أبو هريرة، فيكون الإسناد متصلا ، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8401
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَزْرَقِ ، قَالَ : تُوُفِّيَ بَعْضُ كَنَائِنِ مَرْوَانَ ، فَشَهِدَهَا النَّاسُ وَشَهِدَهَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، وَمَعَهَا نِسَاءٌ يَبْكِينَ ، فَأَمَرَهُنَّ مَرْوَانُ ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : دَعْهُنَّ ، فَإِنَّهُ مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنَازَةٌ مَعَهَا بَوَاكٍ فَنَهَرَهُنَّ عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُنَّ فَإِنَّ النَّفْسَ مُصَابَةٌ ، وَالْعَيْنَ دَامِعَةٌ ، وَالْعَهْدَ حَدِيثٌ " .
مولانا ظفر اقبال
عمروبن ازرق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مروان کے خاندان میں کوئی خاتون فوت ہوگئی لوگ جنازے میں آئے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف لائے جنازے کے ساتھ روتی ہوئی خواتین بھی تھیں مروان انہیں خاموش کرانے کا حکم دینے ہی لگا تھا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسے روک دیا اور فرمایا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا جس کے ساتھ کچھ رونے والیاں بھی تھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ ان پر رحم فرمائے انہیں جھڑکا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں چھوڑ دو کیونکہ دل مصیبت زدہ ہے آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں اور زخم ابھی ہرا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8401
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة ابن الأزرق
حدیث نمبر: 8402
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال : لَمَّا نَزَلَتْ : وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 ، جَعَلَ يَدْعُو بُطُونَ قُرَيْشٍ بَطْنًا بَطْنًا " يَا بَنِي فُلَانٍ ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّار " حَتَّى انْتَهَى إِلَى فَاطِمَةَ ، فَقَالَ : " يَا فَاطِمَةُ ابْنَةَ مُحَمَّدٍ ، أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ ، لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا ، غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ حکم نازل ہوا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک کر کے قریش کے ہر بطن کو بلایا اور فرمایا اے بنو فلاں اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ حتی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ تک پہنچے تو ان سے بھی فرمایا فاطمہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچاؤ میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں البتہ قرابت داری کا جو تعلق ہے اس کی تری میں تم تک پہنچاتا رہوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8402
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2753، م: 204
حدیث نمبر: 8403
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ " يَا بِلَالُ ، خَبِّرْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ مَنْفَعَةً فِي الْإِسْلَامِ ، فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ " قَالَ : مَا عَمِلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْإِسْلَامِ عَمَلًا أَرْجَى عِنْدِي مَنْفَعَةً مِنْ أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طُهُورًا تَامًّا قَطُّ فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ ، إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ لِرَبِّي مَا كُتِبَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے وقت حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا بلال مجھے اپنا کوئی ایسا عمل بتاؤ جو زمانہ اسلام میں کیا ہو اور تمہیں اس کا ثواب ملنے کی سب سے زیادہ امید ہو ؟ کیونکہ میں نے آج رات جنت میں تمہارے قدموں کی چاپ اپنے آگے سنی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے زمانہ اسلام میں اس کے علاوہ کوئی ایسا عمل نہیں کیا جس کا ثواب ملنے کی مجھے سب سے زیادہ امید ہو کہ میں نے دن یا رات کے جس حصے میں بھی وضو کیا اس وضو سے حسب توفیق نماز ضرور پڑھی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8403
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1149، م: 2458
حدیث نمبر: 8404
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي النَّوْفَلِيَّ ، عَنْ أَبِيهِ ذَكَرَهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَفْضَى بِيَدِهِ إِلَى ذَكَرِهِ لَيْسَ دُونَهُ سِتْرٌ ، فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوء " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ کی طرف لے جائے اور درمیان میں کوئی کپڑا نہ ہو تو اس پر وضواز سر نو واجب ہوگیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8404
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، يحيي ابن يزيد وأبوه ضعيفان، وهما متابعان
حدیث نمبر: 8405
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8405
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8406
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " أَكْثِرُوا مِنْ قَوْلِ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، فَإِنَّهَا كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لا حول و لا قوۃ الا باللہ کی کثرت کیا کرو کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں ایک اہم خزانہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8406
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8407
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ : ابْنُ نُفَيْلَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " ثَمَنُ الْجَرِيسَةِ حَرَامٌ ، وَأَكْلُهَا حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چوری کی ہوئی بکری کی قیمت حرام ہے اور اسے کھانا بھی حرام ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8407
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف يحيي وأبيه ، ولجهالة بشر
حدیث نمبر: 8408
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : وَأُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي الصَّلَاةِ ، أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ دوران نماز آسمان کی طرف آنکھیں اٹھا کر دیکھنے سے باز آجائیں ورنہ ان کی بصارتیں سلب کرلی جائیں گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8408
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 429، وهذا إسناد ضعيف، المبارك والحسن مدلسان، وقد عنعنا
حدیث نمبر: 8409
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " أَلَا مِنْ رَجُلٍ يَأْخُذُ بِمَا فَرَضَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ كَلِمَةً ، أَوْ كَلِمَتَيْنِ ، أَوْ ثَلَاثًا ، أَوْ أَرْبَعًا ، أَوْ خَمْسًا ، فَيَجْعَلُهُنَّ فِي طَرَفِ رِدَائِهِ ، فَيَتَعَلَّمُهُنَّ وَيُعَلِّمُهُنَّ ؟ " قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَقُلْتُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَابْسُطْ ثَوْبَكَ " ، قَالَ : فَبَسَطْتُ ثَوْبِي ، فَحَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ قَالَ : " ضُمَّ إِلَيْكَ " ، فَضَمَمْتُ ثَوْبِي إِلَى صَدْرِي ، فَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا أَكُونَ نَسِيتُ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ بَعْدُ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہے کوئی آدمی جو اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے فرض کیا ہوا ایک کلمہ یا دو تین چار پانچ کلمات حاصل کرے انہیں اپنی چادر کے کونے میں رکھے انہیں سیکھے اور دوسروں کو سکھائے ؟ میں نے اپنے آپ کو پیش کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اپنا کپڑا بچھاؤ چنانچہ میں نے اپنا کپڑا بچھا دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث بیان کی اور فرمایا کہ اسے اپنے جسم کے ساتھ لگا لو میں نے اسے اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا اسی وجہ سے میں امید رکھتا ہوں کہ اس کے بعد میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو حدیث بھی سنی ہے اسے کبھی نہیں بھولوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8409
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 118، م: 2492، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8410
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ضِرْسُ الْكَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَفَخِذُهُ مِثْلُ الْبَيْضَاءِ ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ كَمَا بَيْنَ قُدَيْدٍ وَمَكَّةَ ، وَكَثَافَةُ جِلْدِهِ اثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ ذِرَاعًا بِذِرَاعِ الْجَبَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن کافر کی ایک داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی اور اس کی کھال کی چوڑائی ستر گز ہوگی اور اس کی ران ورقان پہاڑ کے برابر ہوگی اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ قدید اور مکہ کے درمیانی فاصلے جتنی ہوگی اور اس کی کھال موٹائی جبار کے حساب سے بیالیس گز ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8410
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف محتمل للتحسين، عبدالرحمن فيه كلام من جهة حفظه، وأوله في، م: 2851
حدیث نمبر: 8411
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ رُضْوَانِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا يَرْفَعُهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَاتٍ ، وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سَخَطِ اللَّهِ لَا يُلْقِي لَهَا بَالًا يَهْوِي بِهَا فِي جَهَنَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بعض اوقات انسان اللہ کی رضامندی والی کوئی بات کرتا ہے وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا لیکن قیامت کے دن اسی ایک کلمہ کے نتیجے میں اللہ اس کے درجات بلند کر دے گا اور بعض اوقات انسان اللہ کی ناراضگی والا کوئی کلمہ بولتا ہے جس کی وہ کوئی پروا بھی نہیں کرتا لیکن قیامت کے دن وہ اسی ایک کلمے کے نتیجے میں جہنم میں لڑھکتا رہے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8411
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6478، فى هذا الإسناد عبدالرحمن، فيه كلام ينزله عن رتبة الصحيح
حدیث نمبر: 8412
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ كَشَاكِشٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " خَيْرُ الْكَسْبِ ، كَسْبُ يَدِ الْعَامِلِ إِذَا نَصَحَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین کمائی مزدور کے ہاتھ کی کمائی ہوتی ہے جبکہ وہ خیر خواہی سے کام کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8412
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8413
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ ، أَنَّهُ رَقِيَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ ، فَرَفَعَ فِي عَضُدَيْهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ ، فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ هُمْ الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ " فَمَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ ، فَقَالَ نُعَيْمٌ : لَا أَدْرِي قَوْلُهُ : " فمَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ " مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ مِنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ ؟ ! .
مولانا ظفر اقبال
نعیم بن عبداللہ ایک مرتبہ مسجد کی چھت پر چڑھ کر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے جو کہ وضو کر رہے تھے انہوں نے اپنے بازوؤں کو کہنیوں سے بھی اوپر تک دھویا ہوا تھا پھر وہ میری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن میری امت کے لوگ وضو کے نشانات سے روشن اور چمکدار پیشانی والے ہوں گے (اس لئے تم میں سے جو شخص اپنی چمک بڑھا سکتا ہو اسے ایسا کرلینا چاہئے )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8413
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 246
حدیث نمبر: 8414
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أتَدْرُونَ مَنْ الْمُفْلِسُ ؟ " قَالُوا : الْمُفْلِسُ فِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لَا لَهُ دِرْهَمَ وَلَا دِينَارَ وَلَا مَتَاعَ ، قَالَ : " الْمُفْلِسُ مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ يَأْتِي بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ عِرْضَ هَذَا ، وَقَذَفَ هَذَا ، وَأَكَلَ مَالَ هَذا ، وَضَرَبَ هَذَا ، فَيُقْعَدُ ، فَيَقْتَصُّ هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ ، أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَ عَلَيْهِ ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ " ، وقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ : " فَيَقْتَصُّ " ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ " قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْه " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہوتا ہے ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تو مفلس وہ ہوتا ہے جس کے پاس کوئی روپیہ پیسہ اور ساز و سامان نہ ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کا مفلس وہ آدمی ہوگا جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوٰۃ لے آئے گا لیکن کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا اسے بٹھا لیا جائے گا اور ہر ایک کو اس کی نیکیاں دے کر ان کا بدلہ دلوایا جائے گا اگر اس کے گناہوں کا فیصلہ مکمل ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں تو حقداروں کے گناہ لے کر اس پر لاد دئیے جائیں گے پھر اسے جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8414
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2581
حدیث نمبر: 8415
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الْعُقُوبَةِ مَا طَمِعَ فِي الْجَنَّةِ أَحَدٌ ، وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللَّهِ مِنَ الرَّحْمَةِ مَا قَنَطَ مِنَ الْجَنَّةِ أَحَدٌ ، خَلَقَ اللَّهُ مِائَةَ رَحْمَةٍ ، فَوَضَعَ رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ خَلْقِهِ يَتَرَاحَمُونَ بِهَا ، وَعِنْدَ اللَّهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ رَحْمَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بندہ مومن کو وہ سزائیں معلوم ہوجائیں جو اللہ نے تیار کر رکھی ہیں تو کوئی بھی جنت کی طمع نہ کرے (صرف جہنم سے بچنے کی دعا کرتے رہیں) اور اگر کافر کو اللہ کی رحمت کا اندازہ ہوجائے تو کوئی بھی جنت سے ناامید نہ ہو اللہ نے سو رحمتیں پیدا فرمائی ہیں ایک رحمت اپنے بندوں کے دل میں ڈال دی ہے جس سے وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں اور باقی ننانوے رحمتیں اللہ کے پاس ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8415
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2752
حدیث نمبر: 8416
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَيَّاشٍ مَوْلَى عَقِيلَةَ بِنْتِ طَلْقٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَوِّقَ حَبِيبَهُ طَوْقًا مِنْ نَارٍ ، فَلْيُطَوِّقْهُ طَوْقًا مِنْ ذَهَبٍ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُسَوِّرَ حَبِيبَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ ، فَلْيُسَوِّرْهُ بِسِوَارٍ مِنْ ذَهَبٍ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُحَلِّقَ حَبِيبَهُ حَلْقَةً مِنْ نَارٍ ، فَلْيُحَلِّقْهُ حَلْقَةً مِنْ ذَهَبٍ ، وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِالْفِضَّةِ ، الْعَبُوا بِهَا لَعِبًا ، الْعَبُوا بِهَا لَعِبًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے کسی دوست کو جہنم کی آگ کا طوق پہنانا چاہئے اسے سونے کا ہار پہنا دے اور جو اسے آگ کے کنگن پہنانا چاہے وہ اسے سونے کے کنگن پہنا دے اور جو اسے آگ کا چھلا پہنانا چاہے وہ اسے سونے کا چھلا پہنا دے البتہ چاندی استعمال کرلیا کرو اور اس کے ذریعے ہی دل بہلا لیا کرو (یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8416
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 8417
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَال : " الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے اس لئے تمہیں غور کرلینا چاہئے کہ تم کسے اپنا دوست بنا رہے ہو ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8417
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده جيد
حدیث نمبر: 8418
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، وَسُرَيْجٌ , قَالَا : ثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ " مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَأَنَا أَوْلَى بِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ سورة الأحزاب آية 6 فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ هَلَكَ وَتَرَكَ مَالًا ، فَلْيَرِثْهُ عَصَبَتُهُ مَنْ كَانُوا ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَلْيَأْتِنِي ، فَإِنِّي مَوْلَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں دنیا و آخرت میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو النبی اولی بالمومنین من انفسہم اس لئے جو شخص قرض چھوڑ کر جائے اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جو شخص مال چھوڑ کر جائے وہ اس کے ورثاء کا ہے خواہ وہ کوئی بھی ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8418
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2399، م: 1619
حدیث نمبر: 8419
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ ، وَصَامَ رَمَضَانَ ، فَإِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّة ، هَاجَرَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ جَلَسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا نُخْبِرُ النَّاسَ ؟ قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِهِ ، بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، فَإِذَا سَأَلْتُمْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ ، فَإِنَّهُ وَسَطُ الْجَنَّةِ ، وَأَعْلَى الْجَنَّةِ ، وَفَوْقَهُ عَرْشِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ ، وَمِنْهُ تَفَجَّرُ أَوْ تَنْفَجِرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ " شَكَّ أَبُو عَامِرٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے نماز قائم کرے اور رمضان کے روزے رکھے اللہ پر اس کا حق ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے خواہ وہ اللہ کے راستہ میں ہجرت کرے یا اپنے وطن مولود میں ہی بیٹھا رہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ کیا ہم لوگوں کو یہ بات نہ بتادیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو جاری رکھی اور فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں جہنیں اللہ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لئے تیار کر رکھا ہے دو درجوں کے درمیان زمین و آسمان کے درمیان جتنا فاصلہ ہے جب تم اللہ سے جنت مانگا کرو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو کیونکہ وہ جنت کا مرکز اور سب سے اعلیٰ ترین حصہ ہے اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8419
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وقد وهم فليح فى حال تحديثه لأبي عامر فى رواية هذا الحديث عن عبدالرحمن عن أبي هريرة، وانظر ما بعده
حدیث نمبر: 8420
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ أَوْ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ , قَالَ : فُلَيْح : وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ " ، وَقَالَ : أَفَلَا نُنَبِّئُ النَّاسَ بِذَلِكَ ؟ قَال : ثُمَّ حَدَّثَنَا بِهِ فَلَمْ يَشُكَّ يَعْنِي فُلَيْحًا ، قالَ : عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ .
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8420
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا هو الصواب فى رواية فلیح عن ھلال، عن عطاء، عن أبي هريرة ، وانظر ما قبله وما بعده
حدیث نمبر: 8421
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَهُ ، وَقَالَ : " وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ وَمِنْهُ تَنْفَجِرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8421
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8422
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الشَّيْخُ يَكْبَرُ وَيَضْعُفُ جِسْمُهُ ، وَقَلْبُهُ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَيْنِ طُولِ الْعُمُرِ ، وَالْمَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان بوڑھا ہوتا جاتا ہے اس کا جسم کمزور ہوتا جاتا ہے لیکن اس میں دو چیزوں کی محبت جوان ہوجاتی ہے لمبی زندگانی اور مال و دولت کی فراوانی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8422
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6420، م: 1046، وهذا الإسناد فيه فليح، وفيه كلام
حدیث نمبر: 8423
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، وَسُرَيْجٌ , قَالَا : ثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَزَاوَرُونَ فِيهَا " ، قَالَ سُرَيْجٌ : " لَيَتَرَاءَوْنَ فِيهَا كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَب الدََََََََََُرّيَّ ، والكَوكبَ الشَّرْقِيَّ ، وَالْكَوْكَبَ الْغَرْبِيَّ الْغَارِبَ فِي الْأُفُقِ الطَّالِعَ ، فِي تَفَاضُلِ الدَّرَجَاتِ " ، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّه ، أُولَئِكَ النَّبِيُّونَ ؟ قَالَ : " بَلَى وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، أَقْوَامٌ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ " . وَقَالَ سُرَيْج : " وأَقْوَامٌ آمَنُوا بِاللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل جنت ایک دوسرے کو جنت میں اسی طرح دیکھیں جیسے تم لوگ روشن ستارے کو مشرقی اور مغربی ستارے کو مختلف درجات میں کم وبیش دیکھتے ہو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا یہ لوگ انبیاء کرام رضی اللہ عنہ ہوں گے ؟ فرمایا نہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) کی تصدیق کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8423
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: متن الحديث صحيح لكن من حديث أبي سعيد، ولعل فليحا أخطأ، فجعله من حديث أبي هريرة، خ: 3256، م: 2831
حدیث نمبر: 8424
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَا يُصِيبُ الْمَرْءَ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ ، وَلَا وَصَبٍ ، وَلَا هَمٍّ ، وَلَا حُزْنٍ ، وَلَا غَمٍّ ، وَلَا أَذًى ، حَتَّى الشَّوْكَةَ يُشَاكُهَا ، إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کو جو پریشانی اور تکلیف دکھ اور غم اور ایذا پہنچتی ہے حتی کہ جو کانٹا بھی چبھتا ہے اللہ اس کے بدلے اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8424
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5641، م: 2573
حدیث نمبر: 8425
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَمْرِ بْنِ نَبْهَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ ، فَصَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهِنَّ وَضَرَّائِهِنَّ وَسَرَّائِهِنَّ ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُنَّ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَوْ ثِنْتَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَوْ ثِنْتَانِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ " أَوْ وَاحِدَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَوْ وَاحِدَةٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی مشکلات تکالیف اور خوشیوں پر صبر شکر کرے اللہ ان بچیوں پر اس کی مہربانی کے سبب اس شخص کو جنت میں اپنے فضل سے داخلہ عطاء فرمائے گا کسی نے پوچھا یا رسول اللہ اگر دو بیٹیاں ہوں تو ؟ فرمایا تب بھی یہی حکم ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ اگر ایک بیٹی ہو تو ؟ فرمایا تب بھی یہی حکم ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8425
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، ابن جريج وأبو الزبير مدلسان، وقد عنعنا
حدیث نمبر: 8426
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، هَلْ أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ كَنْزٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ تَحْتَ الْعَرْشِ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي . قَالَ : " أَنْ تَقُولَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " ، قَالَ أَبُو بَلْجٍ : وَأَحْسَبُ أَنَّهُ قَالَ : " فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , يَقُول : أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ " . قَالَ : فَقُلْتُ : لِعَمْرٍو ! قَالَ أَبُو بَلْجٍ : قَالَ عَمْرٌو قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ؟ فَقَالَ : لَا ، إِنَّهَا فِي سُورَةِ الْكَهْفِ وَلَوْلا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ سورة الكهف آية 39 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا میں تمہیں ایک ایسا کلمہ نہ سکھاؤں جو جنت کا خزانہ ہے اور عرش کے نیچے سے آیا ہے میں نے کہا ضرور میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں کہا کرو۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ جسے سن کر اللہ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے سر تسلیم خم کردیا اور اپنے آپ کو سپرد کردیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8426
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح دون قوله: «تحت العرش» وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8427
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَبِيعُ الْخَمْرَ فِي سَفِينَةٍ ، وَكَانَ يَشُوبُهُ بِالْمَاءِ ، وَكَانَ مَعَهُ فِي السَّفِينَةِ قِرْدٌ ، قَالَ : فَأَخَذَ الْكِيسَ وَفِيهِ الدَّنَانِيرُ ، قَالَ : فَصَعِدَ الذَّرْوَ يَعْنِي الدَّقَلَ فَفَتَحَ الْكِيسَ ، فَجَعَلَ يُلْقِي فِي الْبَحْرِ دِينَارًا وَفِي السَّفِينَةِ دِينَارًا ، حَتَّى لَمْ يَبْقَ فِيهِ شَيْءٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک آدمی تجارت کے سلسلے میں شراب لے کر کشتی پر سوار ہوا اس کے ساتھ ایک بندر بھی تھا بندرنے اس کے پیسوں کا بٹوہ پکڑا اور ایک درخت پر چڑھ گیا اور ایک دینار سمندر میں اور دوسرا اپنے مالک کی کشتی میں پھینکنے لگا حتی کہ اس نے برابر برابر تقسیم کردیا (یہیں سے مثال مشہور ہوگئی کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8427
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات، والصواب وقفه
حدیث نمبر: 8428
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ ، وَشَرُّهَا الْمُؤَخَّرُ ، وَشَرُّ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُقَدَّمُ ، وَخَيْرُهَا الْمُؤَخَّرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردوں کی صفوں میں پہلی صف سب سے بہترین اور آخری صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے اور عورتوں کی صفوں میں آخری صف سب سے بہترین اور پہلی صف سب سے زیادہ شر کے قریب ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8428
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 440
حدیث نمبر: 8429
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَة : أَهَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِكُمْ ؟ قَالَ : " وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ صَلَاتِي ؟ " قَالَ : قُلْتُ : أَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ ذَلِكَ . قَالَ : نَعَمْ ، وَأَوْجَزُ . قَالَ : " وَكَانَ قِيَامُهُ قَدْرَ مَا يَنْزِلُ الْمُؤَذِّنُ مِنَ الْمَنَارَةِ وَيَصِلُ إِلَى الصَّفِّ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوخالد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح آپ کو نماز پڑھایا کرتے تھے ؟ (جیسے آپ ہمیں پڑھاتے ہیں) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تمہیں میری نماز میں کیا چیز اوپری اور اجنبی محسوس ہوتی ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میں اسی کے متعلق آپ سے پوچھنا چاہ رہا تھا فرمایا ہاں بلکہ اس سے بھی مختصر راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا قیام صرف اتنا ہوتا تھا کہ مؤذن مینار سے نیچے اتر کر صف تک پہنچ جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8429
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8430
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا ، وَأُذُنَانِ يَسْمَعُ بِهِمَا ، وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ ، فَيَقُولُ : إِنِّي وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ : بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ ، وَبِكُلِّ مَنْ ادَّعَى مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ ، وَالْمُصَوِّرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن جہنم سے ایک کھوپڑی برآمد ہوگی جس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھتی ہوگی اور دو کان ہوں گے جن سے وہ سنتی ہوگی اور ایک زبان ہوگی جس سے وہ بولتی ہوگی اور وہ کہے گی کہ مجھے تین قسم کے لوگوں پر مسلط کیا گیا ہے ہر سرکش ظالم پر اللہ کے ساتھ دوسروں کو معبود بنانے والوں پر اور تصویر بنانے والوں پر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8430
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8431
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " كَيْفَ بِكُمْ إِذَا نَزَلَ فِيكُمْ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہاری اس وقت کیا کیفیت ہوگی جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام تم میں نزول فرمائیں گے اور تمہاری امامت تم ہی میں کا ایک فرد کرے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8431
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3449، م: 155
حدیث نمبر: 8432
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ ، لَا وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ ، لَا وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ " قَالُوا : وَمَنْ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " جَارٌ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ " قِيلَ : وَمَا بَوَائِقُهُ ؟ قَالَ : " شَرُّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا واللہ وہ شخص مومن نہیں ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ کون ؟ فرمایا وہ پڑوسی جس کے بوائق سے دوسرا پڑوسی محفوظ نہ ہو کسی نے بوائق کا معنی پوچھا تو فرمایا شر۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8432
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8433
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَأْخُذَ أُمَّتِي أَخْذَ الْأُمَمِ قَبْلَهَا ، شِبْرًا بِشِبْرٍ ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ " فقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَمَا فَعَلَتْ فَارِسُ والرُّومُ ؟ قَالَ : " وَمَا النَّاسُ إِلَّا أُولَئِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میری امت گزشتہ امتوں والے اعمال میں بالشت بالشت بھر اور گز گز بھر مبتلانہ ہوجائے صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ کیا جیسے فارس اور روم کے لوگوں نے کیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو کیا ان کے علاوہ بھی پہلے کوئی لوگ گذرے ہیں ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8433
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7319
حدیث نمبر: 8434
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَتَى أَعْرَابِيٌّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ قَدْ شَوَاهَا وَمَعَهَا صِنَابُهَا وَأَدَمُهَا ، فَوَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَأْكُلْ ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَأْكُلُوا ، فَأَمْسَكَ الْأَعْرَابِيُّ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَأْكُلَ ؟ " قَالَ : إِنِّي أَصُومُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ . قَالَ : " إِنْ كُنْتَ صَائِمًا ، فَصُمْ الْأَيَّامَ الْغُرَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بھنا ہوا خرگوش لے کر آیا اس کے ساتھ چٹنی اور سالن بھی تھا اس نے یہ سب چیزیں لا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روکے رکھا اور اس میں سے کچھ بھی نہ کھایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو کھانے کا حکم دے دیا اس دیہاتی نے بھی ہاتھ روکے رکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تم کیوں نہیں کھا رہے ؟ اس نے کہا کہ میں ہر مہینے تین روزے رکھتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم روزے رکھنا ہی چاہتے ہو تو پھر ایام بیض کے روزے رکھا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8434
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8435
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ ، اعْتَكَفَ عِشْرِينَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8435
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2044
حدیث نمبر: 8436
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ ، وَعُمَرَ : " ادْنُوَا فَكُلَا " ، قَالَا : إِنَّا صَائِمَانِ . قَالَ : " ارْحَلُوا لِصَاحِبَيْكُمْ ، اعْمَلُوا لِصَاحِبَيْكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مر الظہران نامی جگہ پر کھانا پیش کیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے فرمایا آئیے کھانا کھائیے دونوں حضرات نے عرض کیا کہ ہم روزے سے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اپنے دونوں ساتھیوں کے لئے سواری تیار کرو اپنے ساتھیوں کے لئے محنت کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8436
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8437
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْرَعُ قَبَائِلِ الْعَرَبِ فَنَاءً قُرَيْشٌ ، وَيُوشِكُ أَنْ تَمُرَّ الْمَرْأَةُ بِالنَّعْلِ ، فَتَقُولَ : إِنَّ هَذَا نَعْلُ قُرَشِيٍّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قبائل عرب میں سب سے جلدی قبیلہ قریش فنا ہوگا عنقریب ایک عورت جوتی لے کر گذرے گی اور کہے گی کہ یہ ایک قریشی کی جوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8437
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح