حدیث نمبر: 8358
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ ؟ قَالَ : " الصَّلَاةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ " ، قَالَ : فَأَيُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ ؟ قَالَ : " شَهْرُ اللَّهِ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُحَرَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے پوچھا فرض نمازوں کے بعد کون سی نماز سب سے زیادہ افضل ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کے درمیانی حصے میں پڑھی جانے والی نماز سائل نے پوچھا کہ ماہ رمضان کے روزہ کے بعد کس دن کا روزہ سب سے زیادہ افضل ہے ؟ فرمایا اللہ کا مہینہ جسے تم محرم کہتے ہو (اس کے روزے افضل ہیں )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8358
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1163
حدیث نمبر: 8359
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ حَمَلَ السِّلَاحَ عَلَيْنَا فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے خلاف اسلحہ اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8359
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد جيد، م: 101
حدیث نمبر: 8360
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : " إِنَّ أَحَبَّ عِبَادِي إِلَيَّ ، أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے مجھے اپنے بندوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ وہ ہے جو افطار کا وقت ہوجانے کے بعد روزہ افطار کرنے میں جلدی کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8360
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف قرة
حدیث نمبر: 8361
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رِفَاعَةَ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَكْثَرَ مَا يَصُومُ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسَ ، فَقِيلَ لَهُ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْأَعْمَالَ تُعْرَضُ كُلَّ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ أَوْ كُلَّ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ ، فَيَغْفِرُ اللَّهُ عزَّّ وجلَّ لِكُلِّ مُسْلِمٍ أَوْ لِكُلِّ مُؤْمِنٍ إِلَّا الْمُتَهَاجِرَيْنِ ، فَيَقُولُ : أَخِّرْهُمَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھتے تھے کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیر اور جمعرات کے دن اعمال پیش کئے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو بخش دیتے ہیں سوائے ان دو آدمیوں کے جن کے درمیان آپس میں لڑائی جھگڑا ہو کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان دونوں کو چھوڑے رکھو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کرلیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8361
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2565، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن رفاعة ، ولكنه متابع
حدیث نمبر: 8362
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ فَرُّوخَ الضَّمْرِيُّ ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ يَحْلِفُ عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ ، وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ رَطْبٍ ، إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو مرد و عورت اس منبر کے قریب جھوٹی قسم کھائے اگرچہ ایک تر مسواک ہی کے بارے میں کیوں نہ ہو اس کے لئے جہنم واجب ہوگئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8362
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8363
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَفْرَكُ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً ، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا ، رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی مسلمان مرد کسی مسلمان عورت سے نفرت نہ کرے کیونکہ اگر اس کی ایک عادت ناپسند ہوگی تو دوسری عادت پسند بھی تو ہوسکتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8363
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1469
حدیث نمبر: 8364
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَذْهَبُ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْمَوَالِي يُقَالُ لَهُ : جَهْجَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دن اور رات کا چکر اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک موالی میں سے جہجاہ نامی ایک آدمی حکمران نہ بن جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8364
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2911
حدیث نمبر: 8365
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ : أَنَّ صِكَاكَ التُّجَّارِ خَرَجَتْ ، فَاسْتَأْذَنَ التُّجَّارُ مَرْوَانَ فِي بَيْعِهَا ، فَأَذِنَ لَهُمْ ، فَدَخَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ : أَذِنْتَ فِي بَيْعِ الرِّبَا ، وَقَدْ " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُشْتَرَى الطَّعَامُ ثُمَّ يُبَاعَ حَتَّى يُسْتَوْفَى " ، قَالَ سُلَيْمَانُ : فَرَأَيْتُ مَرْوَانَ بَعَثَ الْحَرَسَ فَجَعَلُوا يَنْتَزِعُونَ الصِّكَاكَ مِنْ أَيْدِي مَنْ لَا يَتَحَرَّجُ مِنْهُمْ .
مولانا ظفر اقبال
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ تجار کے درمیان چیک کا رواج پڑگیا تاجروں نے مروان سے ان کے ذریعے خریدو فروخت کی اجازت مانگی اس نے انہیں اجازت دے دی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو وہ اس کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ تم نے سودی تجارت کی اجازت دے دی جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبضہ سے قبل غلہ کی اگلی بیع سے منع فرمایا ہے ؟ سلیمان کہتے ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ مروان نے محافظوں کا ایک دستہ بھیجاجو غیرمزاحم لوگوں کے ہاتھوں سے چیک چھیننے لگے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8365
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، والمرفوع منه صحيح، م: 1528
حدیث نمبر: 8366
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : " مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍ ، لِإِمَامٍ كَانَ بِالْمَدِينَةِ " ، قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ : فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ ، فَكَانَ يُطِيلُ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ ، وَيُخَفِّفُ الْأُخْرَيَيْنِ ، وَيُخَفِّفُ الْعَصْرَ ، وَيَقْرَأُ فِي الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ ، وَيَقْرَأُ فِي الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْعِشَاءِ مِنْ وَسَطِ الْمُفَصَّلِ ، وَيَقْرَأُ فِي الْغَدَاةِ بِطُوَالِ الْمُفَصَّل ، قَالَ الضَّحَّاكُ : وَحَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : " مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ صَلَاةً بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْفَتَى " ، يَعْنِي عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ الضَّحَّاكُ : فَصَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَكَانَ يَصْنَعُ مِثْلَ مَا قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے مشابہہ ہو سوائے فلاں شخص کے راوی کہتے ہیں کہ وہ نماز ظہر میں پہلی دو رکعتوں کو نسبتاً لمبا اور آخری دو رکعتوں کو مختصر پڑھتا تھا عصر کی نماز ہلکی پڑھتا تھا مغرب میں قصار مفصل میں سے کسی سورت کی تلاوت کرتا عشاء میں اوساط مفصل میں سے اور نماز فجر میں طوال مفصل میں سے قرأت کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8366
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8367
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي مُزَرِّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَمِّي سَعِيدٌ أَبُو الْحُبَابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا خَلَقَ الْخَلْقَ ، قَامَتْ الرَّحِمُ فَأَخَذَتْ بِحَقْوِ الرَّحْمَنِ ، قَالَتْ : هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ مِنَ الْقَطِيعَةِ . قَالَ : أَمَا تَرْضَيْ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ ، وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ ؟ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ : فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ أَفَلا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا سورة محمد آية 22 - 24 .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے جب مخلوق کو پیدا فرمایا تو رحم نے کھڑے ہو کر عرش رحمن کے پائے پکڑ لئے اور کہا کہ قطع تعلقی سے پناہ مانگنے والے کا یہ مقام ہے اللہ نے فرمایا کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ جو تجھے جوڑے میں اس سے جڑوں اور جو توڑے میں اس سے اپنا ناطہ توڑ لوں ؟ اگر تم چاہو تو اس کی تصدیق کے لئے یہ آیت پڑھ لو۔ فہل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض و تقطعوا ارحامکم اولئلک الذین لعنہم اللہ فاصمہم و اعمی ابصارہم افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8367
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4830 ، م: 2545
حدیث نمبر: 8368
حََّدثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَال : ثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَحْلُوفُ رَسُولِ اللَّهِ ، مَا أَتَى عَلَى الْمُسْلِمِينَ شَهْرٌ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْ رَمَضَانَ ، وَلَا أَتَى عَلَى الْمُنَافِقِينَ شَهْرٌ شَرٌّ مِنْ رَمَضَانَ ، وَذَلِكَ لِمَا يُعِدُّ الْمُؤْمِنُونَ فِيهِ مِنَ الْقُوَّةِ لِلْعِبَادَةِ ، وَمَا يُعِدُّ فِيهِ الْمُنَافِقُونَ مِنْ غَفَلَاتِ النَّاسِ وَعَوْرَاتِهِمْ ، هُوَ غَنْمٌ وَالْمُؤْمِنُ يَغْتَنِمُهُ الْفَاجِرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مسلمان پر ماہ رمضان سے بہتر کوئی مہینہ سایہ فگن نہیں ہوتا اور منافقین پر رمضان سے زیادہ سخت کوئی مہینہ نہیں آتا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اس مہینے میں عبادت کے لئے طاقت مہیا کرتے ہیں اور منافقین لوگوں کی غفلتوں اور عیوب کو تلاش کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8368
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، كثير ليس بالقوي
حدیث نمبر: 8369
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الصَّلَاةِ جَاءَهُ الشَّيْطَانُ ، فَأَبَسَ بِهِ كَمَا يَأْبِسُ الرَّجُلُ بِدَابَّتِهِ ، فَإِذَا سَكَنَ لَهُ أَضْرَطَ بَيْنَ أَلْيَتَيْهِ لِيَفْتِنَهُ عَنْ صَلَاتِهِ ، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ ، فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا لَا يُشَكُّ فِيهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اسے اس طرح چمکارتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے جانور کو چمکارتا ہے جب وہ اس کے قابو میں آجاتا ہے وہ اس کی دونوں سرینوں کے درمیان ہوا خارج کردیتا ہے تاکہ اسے نماز سے بہکا دے اس لئے تم میں سے کوئی شخص اگر ایسی کیفیت محسوس کرے تو جب تک آواز نہ سن لے یا بدبو محسوس نہ ہونے لگے اس وقت تک نماز توڑ کر نہ جائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8369
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، م: 362
حدیث نمبر: 8370
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا كَانَ فِي الْمَسْجِدِ جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَأَبَسَ بِهِ كَمَا يَأْبِسُ الرَّجُلُ بِدَابَّتِهِ ، فَإِذَا سَكَنَ لَهُ زَنَقَهُ أَوْ أَلْجَمَهُ " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَأَنْتُمْ تَرَوْنَ ذَلِكَ ، أَمَّا الْمَزْنُوقُ فَتَرَاهُ مَائِلًا كَذَا ، لَا يَذْكُرُ اللَّهَ ، وَأَمَّا الْمَلْجُومُ فَفَاتِحٌ فَاهُ لَا يَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اسے اس طرح چمکارتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے جانور کو چمکارتا ہے جب وہ اس کے قابو میں آجاتا ہے تو وہ اس کا جبڑا باندھ دیتا ہے یا منہ میں لگام دے دیتا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اسی وجہ سے تم پہلے آدمی کو دیکھو گے کہ وہ ادھر ادھر ڈول رہا ہے اور اللہ کا ذکر نہیں کر رہا اور دوسرے آدمی کو دیکھو گے کہ اس کا منہ کھلا ہوا ہے اور وہ اللہ کا ذکر نہیں رہا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8370
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8371
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ الْإِيمَانَ بِاللَّهِ وَالْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ أَفْضَلِ الْأَعْمَالِ عِنْدَ اللَّهِ ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنَا صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ ، مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ ، يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، فَكَيْفَ قُلْتَ ؟ " قَالَ : إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنَا صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ ، مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ ، يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، كَيْفَ قُلْتَ ؟ " قَالَ : إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنَا صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ ، مُقْبِلٌ غَيْرَ مُدْبِر ، يُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، إِلَّا الدَّيْنَ ، فَإِنَّ جِبْرِيلَ سَارَّنِي بِذَلِكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان باللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کو اللہ کے نزدیک افضل اعمال میں سے قرار دیا ایک آدمی کھڑے ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتائیے کہ اگر میں اللہ کے راستہ میں شہید ہوجاؤں میں اپنے دین پر ثابت قدم رہا ہوں اور ثواب کی نیت سے جہاد میں شریک ہوں میں آگے بڑھتا رہا ہوں اور پیٹھ نہ پھیری ہو تو کیا اللہ میرے گناہوں کو معاف فرما دے گا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس نے یہی سوال تین مرتبہ کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرتبہ یہی جواب دیا آخری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوائے قرض کے کہ یہ بات مجھے حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ابھی ابھی کان میں بتائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8371
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8372
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : ثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لِلْعَبْدِ الْمُصْلِحِ الْمَمْلُوكِ أَجْرَانِ " ، وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ ، لَوْلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَالْحَجُّ ، وَبِرُّ أُمِّي ، لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَمُوتَ وَأَنَا مَمْلُوكٌ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیک عبد مملوک کے لئے دہرا اجر ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے اگر جہاد فی سبیل اللہ حج بیت اللہ اور والدہ کی خدمت نہ ہوتی تو میں غلامی کی حالت میں مرنا پسند کرتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8372
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2548، م: 1665
حدیث نمبر: 8373
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظُ ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ ، وَأَبَا هُرَيْرَة ، يَقُولَانِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي مَدِينَتِهِمْ ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ ، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ ، وَإِنِّي عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَإِنَّ إِبْرَاهِيمَ سَأَلَكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ، كَمَا سَأَلَكَ إِبْرَاهِيمُ لِأَهْلِ مَكَّةَ ، وَمِثْلَهُ مَعَهُ ، إِنَّ الْمَدِينَةَ مُشْتَبِكَةٌ بِالْمَلَائِكَةِ ، عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مِنْهَا مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا ، لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ ، فَمَنْ أَرَادَهَا بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دعا کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ ! اہل مدینہ کے لئے ان کا مدینہ مبارک فرما اور ان کے صاع اور مد میں برکت عطاء فرما اے اللہ ابراہیم آپ کے بندے اور خلیل تھے اور میں آپ کا بندہ اور رسول ہوں ابراہیم نے آپ سے اہل مکہ کے لئے دعا مانگی تھی میں آپ سے اہل مدینہ کے لئے ویسی ہی دعا مانگ رہا ہوں جیسی ابراہیم نے اہل مکہ کے لئے مانگی تھی اور اتنی ہی اور بھی۔ پھر فرمایا کہ مدینہ منورہ ملائکہ کے جال میں جکڑا ہوا ہے اس کے ہر سوارخ پر دو فرشتے اس کی حفاظت کے لئے مقرر ہیں یہاں طاعون اور دجال داخل نہیں ہوسکتے جو اس کے ساتھ کوئی ناپاک ارادہ کرے گا اللہ اسے اس طرح پگھلا دے گا جیسے نمک پانی میں پگھل جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8373
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1880، م: 1379 ، 1386
حدیث نمبر: 8374
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ أَحَدُنَا مُخْتَصِرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8374
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1220، م: 545، وهذا إسناد ضعيف، أبو جعفر الرازي سيئ الحفظ، وقد توبع
حدیث نمبر: 8375
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی آدمی کا پیٹ پیپ سے اتنا بھر جائے کہ وہ سیراب ہوجائے اس سے بہت بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرپور ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8375
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6155، م: 2257، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8376
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي الْمُؤَدِّبَ ، وَاسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبِ ، وَرَوَى عَنْهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَ : ثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ : مَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ ؟ فَيَقُولُ : اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، فَيَقُول : مَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ ؟ فَيَقُولُ : اللَّهُ ، فَيَقُولُ : مَنْ خَلَقَ اللَّهَ ؟ فَإِذَا أَحَسَّ أَحَدُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا فَلْيَقُلْ : آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے ایک آدمی کے پاس شیطان آتا ہے اور اس سے پوچھتا ہے کہ آسمان کو کس نے پیدا کیا ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہ پوچھتا ہے کہ زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ وہ کہتا ہے اللہ نے پھر وہ پوچھتا ہے کہ اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟ جب تم میں سے کوئی شخص ایسے خیالات محسوس کرے تو اسے یوں کہہ لینا چاہئے آمنت باللہ و برسلہ (میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8376
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3276، م: 134
حدیث نمبر: 8377
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الذِّرَاعَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دستی کا گوشت پسند تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8377
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8378
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ الثَّقَفِيُّ ثِقَةٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَمِينُكَ مَا يُصَدِّقُكَ بِهِ صَاحِبُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمہاری قسم کا وہی مفہوم معتبر ہوگا جس کی تصدیق تمہارا ساتھی (قسم لینے والا) بھی کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8378
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1653، وهذا إسناد ضعيف جداً، عبدالله ابن سعيد متروك
حدیث نمبر: 8379
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ بْنُ عُمَرَ الْيَشْكُرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَار ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْإِقَامَةِ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اقامت ہونے کے بعد وقتی فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8379
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 710
حدیث نمبر: 8380
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سُوقٍ مِنْ أَسْوَاقِ الْمَدِينَةِ ، فَانْصَرَفَ وَانْصَرَفْتُ مَعَهُ ، فَجَاءَ إِلَى فِنَاءِ فَاطِمَةَ فَنَادَى الْحَسَنَ ، فَقَالَ : " أَيْ لُكَعُ ، أَيْ لُكَعُ ، أَيْ لُكَعُ " قَالَهُ : ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ، قَالَ : فَانْصَرَفَ ، وَانْصَرَفْتُ مَعَهُ ، فَجَاءَ إِلَى فِنَاءِ عَائِشَةَ ، فَقَعَدَ ، قَالَ : فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : ظَنَنْتُ أَنَّ أُمَّهُ حَبَسَتْهُ لِتَجْعَلَ فِي عُنُقِهِ السِّخَابَ ، فَلَمَّا جَاءَ الْتَزَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْتَزَمَ هُوَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ ، فَأَحِبَّهُ ، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ کے کسی بازار میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب واپس آئے تو میں بھی ان کے ساتھ آگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کے گھر کے صحن میں پہنچ کر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو آوازیں دینے لگے او بچے او بچے لیکن کسی نے کوئی جواب نہ دیا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس آگئے اور میں بھی لوٹ آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے آکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے صحن میں بیٹھ گئے اتنی دیر میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ بھی آگئے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ ان کی والدہ نے انہیں گلے میں لونگ وغیرہ کا ہار پہنانے کے لئے روک رکھا تھا وہ وہ آتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چمٹ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انہیں اپنے ساتھ چمٹا لیا اور تین مرتبہ فرمایا اے اللہ میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما اور اس سے محبت کرنے والوں سے محبت فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8380
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5884
حدیث نمبر: 8381
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى , قَالَا : ثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ ، وَلَا يَصْعَدُ إِلَى اللَّهِ إِلَّا الطَّيِّبُ ، فَإِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُهَا بِيَمِينِهِ ، ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ ، حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ جب حلال مال میں سے ایک کھجور صدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے قبول فرما لیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور اللہ کی طرف حلال چیز ہی چڑھ کر جاتی ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاتھ میں بڑھتے بڑھتے وہ ایک پہاڑ کے برابر بن جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8381
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1410، م: 1014
حدیث نمبر: 8382
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَقْوَامٌ أَفْئِدَتُهُمْ مِثْلُ أَفْئِدَةِ الطَّيْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایسی اقوام بھی داخل ہوں گی جن کے دل پرندوں کے دلوں کی طرح ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8382
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2840
حدیث نمبر: 8383
حَدَّثَنَاه يَعْقُوبُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَبْد اللَّهِ : وَهُوَ الصَّوَابُ ، يَعْنِي لَمْ يَذْكُرْ أَبَا هُرَيْرَةَ : " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَقْوَامٌ أَفْئِدَتُهُمْ مِثْلُ أَفْئِدَةِ الطَّيْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں ایسی اقوام بھی داخل ہوں گی جن کے دل پرندوں کے دلوں کی طرح ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8383
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد مرسل، وانظر ماقبله، وهو الصواب
حدیث نمبر: 8384
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ : " بِنَوْمٍ عَلَى وِتْرٍ ، وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے (میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا) (١) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٢) جمعہ کے دن غسل کرنے کی (٣) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8384
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، خ: 1178، م: 721
حدیث نمبر: 8385
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ سَفَرًا لِيُوَدِّعَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " : أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَف " , فَلَمَّا وَلَّى قَالَ : " اللَّهُمَّ اطْوِ لَهُ الْبَعِيدَ ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا وہ سفر پر جانا چاہ رہا تھا کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی وصیت فرما دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی اور ہر بلندی پر تکبیر کہنے کی وصیت کرتا ہوں جب اس شخص نے واپسی کے لئے پشت پھیری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ اس کے لئے زمین کو لپیٹ دے اور سفر کو آسان فرما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8385
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8386
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا لَمْ تَجْتَبُوا دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا ؟ فَقِيلَ لَهُ : وَهَلْ تَرَى ذَلِكَ كَائِنًا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ ، عَنْ قَوْلِ الصَّادِقِ الْمَصْدُوقِ ، قَالُوا : وَعَمَّ ذَاكَ ؟ قَالَ : " تُنْتَهَكُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ ، فَيَشُدُّ اللَّهُ عزّ وجَّل قُلُوبَ أَهْلِ الذِّمَّةِ ، فَيَمْنَعُونَ مَا بِأَيْدِيهِم " وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ ، لَيَكُونَنَّ مَرَّتَيْنِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے کرتے تھے کہ اس وقت کا کیا عالم ہوگا جب تم دینار اور درہم کے ٹیکس اکھٹے نہ کرسکو گے ؟ کسی نے پوچھا کہ اے ابوہریرہ ! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسا بھی ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا ہاں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیشین گوئی فرمائی ہے لوگوں نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوگا ؟ فرمایا اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ توڑ دیا جائے گا پھر اللہ بھی ذمیوں کا دل سخت کردے گا اور وہ اپنے مال و دولت کو روک لیں گے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے ایسا ہو کر رہے گا (یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا )
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8386
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، علقه البخاري: 3180
حدیث نمبر: 8387
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ شَاذَانُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " كَانَ رَجُلٌ يُدَايِنُ النَّاسَ ، وَكَانَ يَقُولُ لِفَتَاهُ : إِذَا أَتَيْتَ مُعْسِرًا ، فَتَجَاوَزْ عَنْهُ ، لَعَلَّ اللَّهَ يَتَجَاوَزُ عَنَّا ، فَلَقِيَ اللَّهَ فَتَجَاوَزَ عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جو لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے نوجوان سے کہہ دیتا تھا کہ جب تم کسی تنگدست سے قرض وصول کرنے جاؤ تو اس سے درگذر کرنا شاید اللہ ہم سے بھی درگذر کرے چنانچہ (موت کے بعد) جب اللہ سے اس کی ملاقات ہوئی تو اللہ نے اس سے درگذر فرمایا (اسے معاف فرمایا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8387
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3480، م: 1562
حدیث نمبر: 8388
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَحْسِرُ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَل ِمنْ ذَهَب ، أَوْ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَحْسِرَ الْفُرَاتُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَيَقْتَتِلَ عَلَيْهِ النَّاسُ فَيُقْتَلَ مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ " يَا بُنَيَّ ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهُ ، فَلَا تَكُونَنَّ مِمَّنْ يُقَاتِلُ عَلَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے قریب دریائے فرات کا پانی ہٹ کر اس میں سے سونے کا ایک پہاڑ برآمد ہوگا لوگ اس کی خاطر آپس میں لڑنا شروع کردیں گے حتی کہ ہر سو میں سے ننانوے آدمی مارے جائیں گے بیٹا اگر تم وہ زمانہ پاؤ تو اس کی خاطر لڑنے والوں میں سے نہ ہونا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8388
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2894
حدیث نمبر: 8389
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةَ الْمَهْرِيُّ ، قَالَ : قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ : يَا مَهْرِيُّ ، " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ ، وَكَسْبِ الْحَجَّامِ ، وَكَسْبِ الْمُومِسَةِ ، وَعَنْ كَسْبِ عَسْبِ الْفَحْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگانے والے کی اور جسم فروشی کی کمائی اور کتے کی قیمت سے اور سانڈ کی جفتی پر دی جانے والی قیمت سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8389
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2283، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الفضل و معاوية
حدیث نمبر: 8390
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ عَلِيمًا حَكِيمًا ، غَفُورًا رَحِيمًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن سات حرفوں پر نازل ہوا ہے مثلا علیماً حکیماً غفوراً رحیما۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8390
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8391
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْكَرِيمَ ابْنَ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ، يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بَنِ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شریف ابن شریف ابن شریف حضرت یوسف بن یعقوب بن ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ہیں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8391
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8392
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ، ثُمَّ جَاءَنِي الدَّاعِي ، لَأَجَبْتُهُ ، إِذْ جَاءَهُ الرَّسُولُ ، فَقَالَ : ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ : مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ ، إِنَّ رَبِّي بِكَيْدِهِنَّ عَلِيمٌ . وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى لُوطٍ ، إِنْ كَانَ لَيَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ، إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ : لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً ، أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ، وَمَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ بَعْدِهِ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا فِي ثَرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا کہ اگر میں اتنا عرصہ جیل میں رہتا جتنا عرصہ حضرت یوسف علیہ السلام رہے تھے پھر نکلنے کی پیشکش ہوتی تو میں اسی وقت قبول کرلیتا جب کہ ان کے پاس قاصد پہنچا تو انہوں نے فرمایا اپنے آقا کے پاس جا کر اس سے یہ تو پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے میرا رب ان کے مکر سے خوب واقف ہے اور حضرت لوط علیہ السلام پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں وہ کسی مضبوط ستون کا سہارا ڈھونڈ رہے تھے جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کاش کہ میرے پاس تم سے مقابلہ کرنے کی طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط ستون کا سہارا لے لیتا ان کے بعد اللہ نے جو نبی بھی مبعوث فرمایا انہیں اپنی قوم کے صاحب ثروت لوگوں میں سے بنایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8392
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3387، م: 151
حدیث نمبر: 8393
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُحِبُّ الْفَأْلَ الْحَسَنَ ، وَيَكْرَهُ الطِّيَرَةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اچھی فال کو پسند اور بدشگونی کو ناپسند فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8393
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 5755، م: 2223
حدیث نمبر: 8394
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ ، فَمَنْ قَطَعْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ قِطْعَةً ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہوں ممکن ہے کہ تم میں سے بعض لوگ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ چرب لسان ہوں اس لئے جس شخص کو (اس چرب لسانی میں آکر) میں اس کے بھائی کا کوئی حصہ کاٹ کر دوں تو وہ سمجھ لے کہ میں اسے جہنم کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8394
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 8395
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ له رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ أَخَذَتْكَ أُمُّ مِلْدَمٍ قَطُّ ؟ " قَالَ : وَمَا أُمُّ مِلْدَمٍ ؟ قَالَ : " حَرٌّ يَكُونُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ " قَالَ : مَا وَجَدْتُ هَذَا قَطُّ ، قَالَ : " فَهَلْ أَخَذَكَ هَذَا الصُّدَاعُ قَطُّ ؟ " قَالَ : وَمَا هَذَا الصُّدَاعُ ؟ قَالَ : " عِروْقٌ تَضْرِبُ عَلَى الْإِنْسَانِ فِي رَأْسِهِ " قَالَ : مَا وَجَدْتُ هَذَا قَطُّ ، قال : فَلَمَّا وَلَّى قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کبھی تمہیں ام ملدم نے اپنی گرفت میں لیا ہے ؟ اس نے کہا کہ ام ملدم کس چیز کا نام ہے ؟ فرمایا جسم اور گوشت کے درمیان حرارت کا نام ہے اس نے کہا کہ میں نے تو اپنے جسم میں کبھی یہ چیز محسوس نہیں کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہیں کبھی صداع نے پکڑا ہے ؟ اس نے پوچھا کہ صداع سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ رنگیں جو انسان کے سر میں چلتی ہیں (اور ان کی وجہ سے سر میں درد ہوتا ہے) اس نے کہا کہ میں نے اپنے جسم میں کبھی یہ تکلیف محسوس نہیں کی جب وہ چلا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی جہنمی کو دیکھنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ اس شخص کو دیکھ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8395
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن وفي متنه نكارة
حدیث نمبر: 8396
وَبِإِسْنَادِهِ ، وَبِإِسْنَادِهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " افْتَرَقَتْ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى أَوْ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہودی ٧١ یا ٧٢ فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے اور میری امت ٧٣ فرقوں میں بٹ جائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8396
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8397
وَبِإِسْنَادِهِ ، وَبِإِسْنَادِهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسٌ مِنْ حَقِّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ رَدُّ التَّحِيَّةِ ، وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ ، وَشُهُودُ الْجِنَازَةِ ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں سلام کا جواب دینا دعوت کو قبول کرنا جنازے میں شرکت کرنا مریض کی بیمار پرسی کرنا چھینک کا جواب دینا جبکہ چھینکنے والا الحمدللہ کہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8397
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 1240، م: 2162