حدیث نمبر: 8319
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا كَامِلٌ يَعْنِي أَبَا الْعَلَاءِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، مُؤَذِّنًا كَانَ يُؤَذِّنُ لَهُمْ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ ، وَإِمَارَةِ الصِّبْيَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ستر کی دہائی اور بچوں کی حکومت سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8319
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة أبي صالح
حدیث نمبر: 8320
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ رَأْسِ السَّبْعِينَ ، وَمَنْ إِمَارَةِ الصِّبْيَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ستر کی دہائی اور بچوں کی حکومت سے اللہ کی پناہ مانگا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8320
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8320M
وَقَال : " لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى تَصِيرَ لِلُكَعِ ابْنِ لُكَعٍ " .
مولانا ظفر اقبال
اور فرمایا دنیا اس وقت فناء نہ ہوگی جب تک کہ زمام حکومت کمینہ ابن کمینہ کے ہاتھ میں نہ آجائے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8320M
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8321
حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا كَامِلٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا تَغَارُ ؟ قَالَ : " وَاللَّهِ ، إِنِّي لَأَغَارُ ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي ، وَمِنْ غَيْرَتِهِ نَهَى عَنِ الْفَوَاحِشِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ بھی غیرت کھاتے ہیں ؟ فرمایا واللہ میں سب سے زیادہ غیرت کھاتا ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ باغیرت ہے اور اسی وجہ سے اس نے بےحیائی کے کاموں سے منع کیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8321
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5220، م: 2760، وهذا إسناده ضعيف لجهالة أبي صالح
حدیث نمبر: 8322
حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَأَبُو الْمُنْذِرِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ , قَالَا : ثَنَا كَامِلٌ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى تَصِير للكُعَ " ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ : " حَتَّى تَصِيرَ لِلُكَعِ ابْنِ لُكَعٍ " ، وقَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ : " لِلَكِيعِ ابْنِ لَكِيعٍ " ، وقَالَ أَسْوَدُ : يَعْنِي الْمُتَّهَمَ ابْنَ الْمُتَّهَمِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا اس وقت تک فناء نہیں ہوگی جب تک کہ زمام حکومت کمینہ ابن کمینہ کے ہاتھ میں نہ آجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8322
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف الجهالة أبي صالح
حدیث نمبر: 8323
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ ، حَدَّثَنَا كَامِلٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمْ الْأَرْذَلُونَ ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا " ، قَالَ كَامِلٌ : بِيَدِهِ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہی ذلیل ہوں گے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8323
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الجهالة أبي صالح
حدیث نمبر: 8324
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا أَعْلَمُ شَكَّ مُوسَى ، قَالَ : " ذَرَارِيُّ الْمُسْلِمِينَ فِي الْجَنَّةِ يَكْفُلُهُمْ إِبْرَاهِيَمُ عَلَيْهِ السَّلَام " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں مسلمانوں کے بچوں کی کفالت حضرت ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8324
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8325
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا زَارَ الْمُسْلِمُ أَخَاهُ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، أَوْ عَادَهُ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : طِبْتَ وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات یا بیمار پرسی کے لئے جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تو کامیاب ہوگیا اور تو نے جنت میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8325
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف أبي سنان
حدیث نمبر: 8326
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يُحَدِّثُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ السَّهْمِيَّ قَامَ يُصَلِّي ، فَجَهَرَ بِصَلَاتِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا ابْنَ حُذَافَةَ ، " لَا تُسْمِعْنِي وَأَسْمِعْ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو اس میں اونچی آواز سے قرأت کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن حذافہ ! مجھے نہ سناؤ اپنے پروردگار کو سناؤ۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8326
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف النعمان
حدیث نمبر: 8327
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : ثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يُحَدِّثُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَن ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : " خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي ، فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ، ثُمَّ خَطَبَنَا وَدَعَا اللَّه عز وجلَّّّّّّّّّ ، وَحَوَّلَ وَجْهَهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ رَافِعًا يَدَهُ ، ثُمَّ قَلَبَ رِدَاءَهُ ، فَجَعَلَ الْأَيْمَنَ عَلَى الْأَيْسَرِ ، وَالْأَيْسَرَ عَلَى الْأَيْمَنِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ نماز استسقاء کے لئے باہر نکلے اور بغیر اذان و اقامت کے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر خطبہ ارشاد فرمایا اور اللہ سے دعاء کرتے رہے اور اپنا چہرہ قبلے کی جانب پھیرلیا ہاتھ بلند کر لئے تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر پلٹ لی اور دائیں کندھے پر اور بائیں کو نے کو دائیں کندھے پر رکھ لیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8327
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، النعمان ضعيف
حدیث نمبر: 8328
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ يُونُسَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، وأبو سلمة , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام إِذْ قَالَ : رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي سورة البقرة آية 260 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ شک کرنے کے ہم حقدار ہیں کیونکہ انہوں نے فرمایا تھا کہ پروردگار مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا ؟ اللہ نے فرمایا کیا تم ایمان نہیں لائے عرض کیا کیوں نہیں لیکن میں اپنے دل کو مطمئن کرنا چاہتا ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8328
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3372، م: 151
حدیث نمبر: 8329
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا ، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ، لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ " .
مولانا ظفر اقبال
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں حضرت لوط علیہ السلام پر وہ ایک مضبوط ستون کی پناہ ڈھونڈ رہے تھے اور اگر میں اتنا عرصہ جیل میں رہتا جتنا عرصہ حضرت یوسف علیہ السلام رہے تو میں آنے والے کی پیشکش کو قبول کرلیتا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8329
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3387، م: 151
حدیث نمبر: 8330
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْكُمْ أَحَدٌ يُدْخِلُهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ ، وَلَا يُنَجِّيهِ مِنَ النَّارِ " ، قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي رَبِّي بِرَحْمَةٍ مِنْهُ " ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَشَارَ وَهْبٌ يَقْبِضُهَا ، وَيَبْسُطُهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل کر کے جہنم سے نجات نہیں دلا سکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے یہ جملہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اشارہ فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8330
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5673، م: 2816
حدیث نمبر: 8331
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " أَكْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي الْبَوْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اکثر عذاب قبر پیشاب کی چھینٹوں سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8331
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8332
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا رُزَيْقٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلْمَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بِالسَّمَاءِ " ، يَعْنِي : ذَاتِ الْبُرُوجِ ، وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز میں اکثر سورت بروج اور سورت طارق کی تلاوت فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8332
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، أبو المهزم ضعيف
حدیث نمبر: 8333
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَبَّادٍ السَّدُوسِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْمُهَزِّمِ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَ أَنْ يُقْرَأَ بِالسَّماَوَاتِ فِي الْعِشَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز میں لفظ سماء سے شروع ہونے والی سورتوں کی تلاوت کا حکم دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8333
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8334
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا ، ورضَي َلُكْم َثَلًاثا : رَضِيَ لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا ، وَأَنْ تَنْصَحُوا لِوُلَاةِ الْأَمْرِ ، وَكَرِهَ لَكُمْ : قِيلَ وَقَالَ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے تمہارے لئے تین باتوں کو ناپسند اور تین باتوں کو پسند کیا ہے پسند تو اس بات کو کیا ہے کہ تم صرف اس ہی کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور حکمرانوں کے خیرخواہ رہو اور ناپسند اس بات کو کیا ہے کہ زیادہ قیل و قال کی جائے مال کو ضائع کیا جائے اور کثرت سے سوال کئے جائیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8334
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1715
حدیث نمبر: 8335
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ قَائِمًا ، وَعَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ ، وَأَنْ يَمْنَعَ الرَّجُلُ جَارَهُ أَنْ يَضَعَ خَشَبَةً فِي حَائِطِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے مشکیزے سے منہ لگا کر پانی پینے سے اور پڑوسی کو اپنی دیوار پر لکڑی رکھنے سے روکنے کی ممانعت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8335
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5627
حدیث نمبر: 8336
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ شَهْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ قَيْسٍ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ امْرِئٍ حَسِيبُ نَفْسِهِ ، لِيَشْرَبْ كُلُّ قَوْمٍ فِيمَا بَدَا لَهُم " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب بنو عبدالقیس کا وفد آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر شخص اپنے اپنے نفس کا خود محاسب ہے اور ہر قوم ان برتنوں میں نبیذ بنا سکتی ہے جو انہیں مناسب معلوم ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8336
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف شھر
حدیث نمبر: 8337
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8337
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2113
حدیث نمبر: 8338
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " ابْنَا الْعَاصِ مُؤْمِنَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عاص بن وائل کے دونوں بیٹے (ہشام اور عمرو) مومن ہیں
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8338
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8339
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8339
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2559، م: 2612
حدیث نمبر: 8340
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ ، وَذِرَاعًا فِِِِذِِراعًا ، وَبَاعًا فَبَاعًا ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمُوهُ " ، قَالُوا : وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ أَهْلُ الْكِتَابِ ؟ قَالَ " فَمَه " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم لوگ گزشتہ امتوں والے اعمال میں بالشت بالشت بھر اور گز گز بھر مبتلا ہوجاؤگے حتٰی کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی داخل ہوجاؤگے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ اہل کتاب ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اور کون ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8340
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7319
حدیث نمبر: 8341
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : حدثني ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ، فَقَالَ : " خَلَقَ اللَّهُ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ ، وَخَلَقَ الْجِبَالَ فِيهَا يَوْمَ الْأَحَدِ ، وَخَلَقَ الشَّجَرَ فِيهَا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ ، وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ ، وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ ، وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ ، وَخَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام بَعْدَ الْعَصْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، آخِرَ الْخَلْقِ فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ ، فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اللہ نے ہفتہ کے دن مٹی کو پیدا فرمایا اتوار کے دن پہاڑوں کو پیر کے دن درختوں کو منگل کے دن ناپسندیدہ امور اور بدھ کے دن نور کو پیدا کیا اور جمعرات کے دن اس میں جانداروں کو بسایا جمعہ کے دن نماز عصر کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق فرمائی یہ آخری تخلیق تھی جو جمعہ کی آخری ساعتوں میں عصر اور رات کے درمیان وجود میں آئی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8341
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: الأصح أنه موقوف على كعب الأحبار، وليس من قول النبي صلى الله عليه وسلم ، م: 2789
حدیث نمبر: 8342
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي بْنَ الْمُسَيَّبِ ، حَدَّثَنِي أَبُو زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي دَارَ قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَدُونَهُمْ دَارٌ ، فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سُبْحَانَ اللَّهِ ، تَأْتِي دَارَ فُلَانٍ وَلَا تَأْتِي دَارَنَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِأَنَّ فِي دَارِكُمْ كَلْبًا " ، قَالُوا : فَإِنَّ فِي دَارِهِمْ سِنَّوْرًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ السِّنَّوْرَ سَبُعٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے گھر تشریف لے جاتے تھے ان کے پیچھے بھی ایک گھر تھا ان لوگوں پر یہ بات گراں گذری اور وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ! آپ فلاں کے گھر تو تشریف لاتے ہیں ہمارے گھر تشریف نہیں لاتے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہارے گھر میں کتا ہے وہ کہنے لگے کہ ان لوگوں کے گھر میں بھی تو بلی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلی (ایسا) درندہ ہے (جو رحمت کے فرشتوں کو آنے سے نہیں روکتا)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8342
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف عيسی
حدیث نمبر: 8343
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُبْرُمَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُعْدِي شَيْءٌ شَيْئًا ، لَا يُعْدِي شَيْءٌ شَيْئًا " ، ثَلَاثًا ، قَالَ : فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ النُّقْبَةَ تَكُونُ بِمِشْفَرِ الْبَعِيرِ أَوْ بِعَجْبِهِ ، فَتَشْمَلُ الْإِبِلَ جَرَبًا ! قَالَ : فَسَكَتَ سَاعَةً ، ثم قَالَ : " مَا أَعْدَى الْأَوَّلَ ؟ ! لَا عَدْوَى ، وَلَا صَفَرَ ، وَلَا هَامَةَ ، خَلَقَ اللَّهُ كُلَّ نَفْسٍ فَكَتَبَ حَيَاتَهَا ، وَمَوْتَهَا ، وَمُصِيبَاتِهَا ، وَرِزْقَهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی ایک دیہاتی کہنے لگا کہ پھر اونٹوں کا کیا معاملہ ہے جو صحراء میں ہر نوں کی طرح چوکڑیاں بھرتے ہیں اچانک ان میں ایک خارشی اونٹ شامل ہوجاتا ہے اور سب کو خارش زدہ کردیتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر خاموش رہ کر اس سے پوچھا کہ اس پہلے اونٹ کو خارش کہاں سے لگی ؟ کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی صفر کا مہینہ منحوس نہیں ہوتا اور کھوپڑی سے کیڑا نکلنے کی کوئی حقیقت نہیں ہے اللہ نے ہر انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کی زندگی موت مصیبت اور رزق سب لکھ دیا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8343
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 5717، م: 2220، محمد بن طلحة، وإن روى له الشيخان، ينحط عن رتبة الصحيح، لكنه متابع
حدیث نمبر: 8344
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُبْرُمَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ النَّاسِ أَحَقُّ مِنِّي بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ ؟ قَالَ : " أُمُّكَ " ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " ثُمَّ أُمُّكَ " ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " ثُمَّ أُمُّكَ " ، قَالَ : ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ : " ثم أَبَوكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ سوال پیش کیا کہ لوگوں میں عمدہ رفاقت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے ؟ فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون ؟ فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون ؟ فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون۔ فرمایا تمہارے والد۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8344
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وإسناده كسابقه ، خ: 5971، م: 2548
حدیث نمبر: 8345
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ضِرْسُ الْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلُ أُحُدٍ ، وَعَرْضُ جِلْدِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا ، وَفَخِذُهُ مِثْلُ وَرِقَانَ ، وَمَقْعَدُهُ مِنَ النَّارِ مِثْلُ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ الرَّبَذَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن کافر کی ایک ڈاڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی اور اس کی کھال کی چوڑائی ستر گز ہوگی اور اس کی ران ورقان پہاڑ کے برابر ہوگی اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ میرے اور رہذہ کے درمیانی فاصلے جتنی ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8345
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن، م: 2851
حدیث نمبر: 8346
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَحَدُهُمَا أَشْرَفُ مِنَ الْآخَرِ ، فَعَطَسَ الشَّرِيفُ فَلَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ ، فَلَمْ يُشَمِّتْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَعَطَسَ الْآخَرُ فَحَمِدَ اللَّهَ ، فَشَمَّتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : فَقَالَ الشَّرِيفُ عَطَسْتُ عِنْدَكَ فَلَمْ تُشَمِّتْنِي ، وَعَطَسَ هَذَا عِنْدَكَ فَشَمَّتَّهُ ! فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا ذَكَرَ اللَّهَ فَذَكَرْتُهُ ، وَإِنَّكَ نَسِيتَ اللَّهَ فَنَسِيتُكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مجلس میں دو آدمیوں کو چھینک آئی ان میں سے ایک دوسرے کی نسبت زیادہ معزز تھا لیکن اس نے چھینکے کے بعد الحمد اللہ نہیں کہا لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب نہیں دیا اور دوسرے نے الحمد اللہ کہا لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دے دیا وہ آدمی کہنے لگا کہ مجھے چھینک آئی تو آپ نے جواب نہیں دیا اور اسے چھینک آئی تو أپ نے اسے جواب دے دیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے اللہ کو یاد کیا تھا چنانچہ میں نے بھی اسے یاد رکھا اور تم نے اسے بھلا دیا لہذا میں نے بھی تمہیں بھلا دیا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8346
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8347
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ ظَالِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يُحَدِّثُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا الْقَاسِمِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ ، يَقُولُ : " هَلَاكُ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ غِلْمَةٍ أُمَرَاءَ سُفَهَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ مروان بن حکم کو حدیث سناتے ہوئے فرمایا کہ میں نے ابوالقاسم جو کہ صادق و مصدوق تھے صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں ہوگی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8347
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة مالك
حدیث نمبر: 8348
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا ، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ ، فَقَالَ : يَأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ سورة المؤمنون آية 51 , وَقَالَ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ سورة البقرة آية 172 . ثُمَّ ذَكَرَ : " الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ ، أَشْعَثَ أَغْبَرَ ، ثُمَّ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ ، يَا رَبّ ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ ، وَغُذِّيَ بِالْحَرَامِ ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو ! اللہ پاکیزہ ہے اور پاکیزہ چیزوں ہی کو قبول کرتا ہے اور اس نے عام مسلمانوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو پیغمبروں کو دیا ہے چنانچہ ارشاد ہے اے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو میں تمہارے اعمال کو جانتا ہوں اور فرمایا اے ایمان والو ! ہماری دی ہوئی پاکیزہ چیزیں کھایا کرو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے آدمی کا ذکر کیا جو طویل سفر کر کے آیا ہو اس کے بال بکھرے ہوئے ہوں گرد و غبار سے وہ اٹا ہوا ہو اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا اٹھا کر یا رب یا رب کر رہا ہو جبکہ اس کا کھانا بھی حرام کا ہو پینا بھی حرام کا ہو لباس بھی حرام کا ہو اور اس کی غذا بھی حرام کی ہو تو اس کی دعا کہاں سے قبول ہو ؟
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8348
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8349
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَفْضُلُ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ عَلَى الْوَحْدَةِ سَبْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت ستائیس درجے زیادہ ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8349
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 648، م: 649
حدیث نمبر: 8350
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُوَطِّنُ قَالَ ابْنُ أَبِي بَكْرٍ : لَا يُوَطِّنُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ الْمَسَاجِدَ لِلصَّلَاةِ وَالذِّكْرِ ، إِلَّا تَبَشْبَشَ اللَّهُ بِهِ حَتَّى يَخْرُجَ ، كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِغَائِبِهِمْ إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو مسلمان مسجد کو اپنا وطن بنائے اور اس کا مقصد صرف ذکر کرنا اور نماز پڑھنا ہی ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے کسی مسافر کے اپنے گھر پہنچنے پر اس کے اہل خانہ خوش ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8350
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: رجاله ثقات، لكن روي الحديث بزیادة رجل مجهول وهو الذي رجحه الدارقطني
حدیث نمبر: 8351
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَان ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَبَا قَتَادَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " يُبَايَعُ لِرَجُلٍ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ ، وَلَنْ يَسْتَحِلَّ الْبَيْتَ إِلَّا أَهْلُهُ ، فَإِذَا اسْتَحَلُّوهُ فَلَا تَسْأَلْ عَنْ هَلَكَةِ الْعَرَبِ ، ثُمَّ تَأْتِي الْحَبَشَةُ فَيُخَرِّبُونَهُ خَرَابًا لَا يَعْمُرُ بَعْدَهُ أَبَدًا ، وَهُمْ الَّذِينَ يَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ایک آدمی سے بیعت لی جائے گی اور بیت اللہ کی حرمت اسی کے پاسبان پامال کریں گے اور جب لوگ بیت اللہ کی حرمت کو پامال کردیں پھر عرب کی ہلاکت کے متعلق سوال نہ کرنا بلکہ حبشی آئیں گے اور اسے اس طرح ویران کردیں گے کہ دوبارہ کبھی آباد نہ ہوسکے گا اور یہی لوگ اس کا خزانہ نکالنے والے ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8351
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8352
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ كَانَ يَنْعَتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَانَ شَبْحَ الذِّرَاعَيْنِ ، أَهْدَبَ أَشْفَارِ الْعَيْنَيْنِ ، بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ ، يُقْبِلُ جَمِيعًا وَيُدْبِرُ جَمِيعًا ، بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي ، لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا ، وَلَا صَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بھرے ہوئے۔ آنکھوں کی پلکیں لمبی اور گھنی اور دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری طرح متوجہ ہوتے اور پوری طرح رخ پھیرتے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں وہ فحش گو یا بتکلف بےحیاء نہ بنتے تھے اور نہ ہی بازاروں میں شور مچاتے پھرتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8352
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن
حدیث نمبر: 8353
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ : ثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ذَكَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " أَنَّ الْعَبْدَ الْمَمْلُوكَ لَيُحَاسَبُ بِصَلَاتِهِ ، فَإذا نَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا ، قِيلَ : لِمَ نَقَصْتَ مِنْهَا ؟ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، سَلَّطْتَ عَلَيَّ مَلِيكًا شَغَلَنِي عَنْ صَلَاتِي ، فَيَقُولُ : قَدْ رَأَيْتُكَ تَسْرِقُ مِنْ مَالِهِ لِنَفْسِكَ ، فَهَلَّا سَرَقْتَ لِنَفْسِكَ مِنْ عَمَلِكَ أَوْ عَمَلِهِ , قَالَ : فَيَتَّخِذُ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحُجَّةَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب عبد مملوک سے نماز کا حساب ہوگا اور اس میں کچھ کمی واقع ہوگی تو اس سے پوچھا جائے گا کہ تو نے اس میں کوتاہی کیوں کی ؟ وہ عرض کرے گا کہ پروردگار تو نے مجھ پر ایک مالک مسلط کر رکھا تھا جس نے مجھے نماز سے روکے رکھا اللہ فرمائے گا کہ میں نے تجھے اس کے مال میں سے اپنے لئے کچھ چوری کرتے ہوئے دیکھا تھا تو کیا اپنے لئے اس کا عمل نہیں چوری کرسکتا تھا ؟ اس طرح اس پر حجت تمام ہوجائے گی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8353
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، المبارك مشهور بالتدليس وقد عنعنه ، والحسن لم يسمع من أبي هريرة
حدیث نمبر: 8354
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فُضَالَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " كُلُّ سُلَامَى مِنَ ابْنِ آدَمَ صَدَقَةٌ حِينَ يُصْبِحُ " فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ سَلَامَكَ عَلَى عِبَادِ اللَّهِ صَدَقَةٌ ، وَإِمَاطَتَكَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ ، وَإِنَّ أَمْرَكَ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ ، وإن َنَهْيَكَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ " ، وَحَدَّثَ أَشْيَاءَ مِنْ نَحْوِ هَذَا لَمْ أَحْفَظْهَا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انسان کے ہر جوڑ پر صبح کے وقت صدقہ واجب ہوتا ہے مسلمانوں کو یہ بات بڑی مشکل معلوم ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا اللہ کے بندوں کو سلام کرنا بھی صدقہ ہے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا بھی صدقہ ہے امر باالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا بھی صدقہ ہے اس کے علاوہ بھی کچھ چیزیں بیان فرمائیں جو مجھے یاد نہیں رہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8354
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8355
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا مَنْ لَا يَرْجُو أَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ ، إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَه " ، قَالَ الْحَسَنُ : فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَبْلُغُهُمْ هَذَا عَنْ نَبِيِّهِمْ فَيَجْعَلُونَ حَرِيرًا فِي ثِيَابِهِمْ وَفِي بُيُوتِهِمْ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دنیا میں تو وہی شخص ریشم پہنتا ہے جسے آخرت میں اسے پہننے کی امید نہ ہو اور دنیا میں وہی شخص ریشم پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8355
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8356
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " الْعَيْنُ تَزْنِي ، وَالْقَلْبُ يَزْنِي ، فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ ، وَزِنَا الْقَلْبِ التَّمَنِّي ، وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ مَا هُنَالِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ آنکھ بھی زنا کرتی ہے اور دل بھی آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے دل کا زنا تمنا اور خواہش کرنا ہے جبکہ شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8356
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 6612، م: 2657، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 8357
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ : " صَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ ، وَالْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت کی ہے میں انہیں مرتے دم تک نہ چھوڑوں گا (١) ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنے کی (٢) سونے سے پہلے نماز وتر پڑھنے کی (٣) جمعہ کے دن غسل کرنے کی۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8357
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، خ: 1178، م: 721، وهذا إسناد ضعيف، المبارك مدلس وقد عنعنه، والحسن البصري لم يسمع من أبي هريرة