حدیث نمبر: 8279
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَغْفِرُ اللَّهُ لِلُوطٍ ، إِنَّهُ أَوَى إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت لوط علیہ السلام کی مغفرت فرمائے وہ ایک مضبوط ستون کی پناہ ڈھونڈ رہے تھے۔
حدیث نمبر: 8280
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَانِ لَهُمَا ، جَاءَ الذِّئْبُ فَأَخَذَ أَحَدَ الِابْنَيْنِ ، فَتَحَاكَمَا إِلَى دَاوُدَ ، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى ، فَخَرَجَتَا فَدَعَاهُمَا سُلَيْمَانُ ، فَقَالَ : هَاتُوا السِّكِّينَ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا ، فَقَالَتْ الصُّغْرَى : يَرْحَمُكَ اللَّهُ ، هُوَ ابْنُهَا ، لَا تَشُقَّهُ ، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَاللَّهِ إِنْ عَلِمْنَا مَا السِّكِّينُ إِلَّا يَوْمَئِذٍ ، وَمَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو عورتیں تھیں ان کے ساتھ ان کے دو بیٹے بھی تھے اچانک کہیں سے ایک بھیڑیا آیا اور ایک لڑکے کو اٹھا کرلے گیا وہ دونوں اپنا مقدمہ لے کر حضرت داؤد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئیں انہوں نے یہ فیصلہ فرما دیا کہ جو بچہ رہ گیا ہے وہ بڑی والی کا ہے وہ دونوں وہاں سے نکلیں تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے انہیں بلالیا اور فرمانے لگے کہ چھری لے کر آؤ میں اس بچے کو دو حصوں میں تقسیم کر کے تمہیں دے دیتا ہوں یہ سن کر چھوٹی والی کہنے لگی کہ اللہ آپ رحم فرمائے یہ اسی کا بچہ ہے (کم از کم زندہ تو رہے گا) آپ اسے دو حصوں میں تقسیم نہ کریں چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے چھوٹی والی کے حق میں فیصلہ کردیا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ واللہ چھری کے لئے عربی میں سکین کا لفظ ہمارے علم میں اسی دن آیا اس سے پہلے ہم اسے مدیہ کہتے تھے۔
حدیث نمبر: 8281
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيَمُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ بَعْدَمَا أَتَتْ عَلَيْهِ ثَمَانُونَ سَنَةً ، وَاخْتَتَنَ بِالْقَدُومِ " مُخَفَّفَةً .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے اسی سال کی عمر میں اپنے ختنے کئے جس جگہ ختنے کئے اس کا نام قدوم تھا۔
حدیث نمبر: 8282
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ رَجُلٌ : لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بصَدَقَةً ، فَأَخْرَجَ صَدَقَتَهُ ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ : تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ ، ثم َقَالَ : لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ ، فَأَخْرَجَ صَدَقَتَهُ ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِق ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ : تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى سَارِقٍ ، ثُمَّ قَالَ : لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ ، فَأَخْرَجَ الصَّدَقَةَ ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِي ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ : تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى غَنِيٍّ ، فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ ، عَلَى سَارِقٍ ، وَعَلَى زَانِيَةٍ ، وَعَلَى غَنِيٍّ ، قَالَ : فَأُتِيَ فَقِيلَ لَهُ : أَمَّا صَدَقَتُكَ فَقَدْ تُقُبِّلَتْ ، أَمَّا الزَّانِيَةُ ، فَلَعَلَّهَا يَعْنِي أَنْ تَسْتَعِفَّ بِهِ ، وَأَمَّا السَّارِقُ ، فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَغْنِيَ بِهِ ، وَأَمَّا الْغَنِيُّ ، فَلَعَلَّهُ أَنْ يَعْتَبِرَ فَيُنْفِقَ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک شخص نے کہا کہ میں آج کی رات صدقہ دوں گا چنانچہ وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا اور انجانے میں ایک زانیہ عورت کے ہاتھ میں دے آیا صبح کو لوگوں نے تذکرہ کیا کہ آج رات ایک زانیہ عورت کو خیرات ملی وہ شخص کہنے لگا کہ آج رات میں صدقہ دوں گا چنانچہ دوسری رات کو پھر وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا اور ایک چور کے ہاتھ میں رکھ آیا صبح کو لوگوں نے تذکرہ کیا کہ آج رات ایک چور کو خیرات کا مال ملا اس شخص نے کہا کہ میں آج پھر صدقہ دوں گا چنانچہ (تیسری رات کو) وہ صدقہ کا مال لے کر پھر نکلا اور انجانے میں ایک دولت مند کو دے آیا صبح کو لوگوں نے تذکرہ کیا کہ آج رات ایک مال دار کو صدقہ ملا وہ شخص کہنے لگا کہ الہٰی تیرا شکر ہے کہ چور کو زانیہ کو اور دولت مند شخص کو (میرا صدقہ کا مال دلوایا ہاتف کے ذریعہ) اس سے کہا گیا کہ تیرا صدقہ قبول ہوگیا تو نے جو چور کو صدقہ دیا تو اس کی وجہ سے شاید وہ چوری سے دست کش ہوجائے اور زانیہ کو جو تو نے صدقہ دیا تو ممکن ہے اس کی وجہ سے وہ زنا کاری چھوڑ دے باقی دولت مند بھی ممکن ہے کہ اس سے نصیحت حاصل کرے اور اللہ تعالیٰ نے جو مال اس کو عطا فرمایا ہے اس کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرے۔
حدیث نمبر: 8283
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَاد ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرةَ ، قَال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ ابْنِ آدَمَ تَأْكُلُهُ الْأَرْضُ ، إِلَّا عَجْبَ الذَّنَبِ ، فَإِنَّهُ مِنْهُ خُلِقَ ، وَمِنْهُ يُرَكَّبُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین ابن آدم کا سارا جسم کھاجائے گی سوائے ریڑھ کی ہڈی کے کہ اسی سے انسان پیدا کیا جائے گا اور اسی سے اس کی ترکیب ہوگی۔
حدیث نمبر: 8284
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : بَعَث رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ عَلَى الصَّدَقَةِ ، فَقِيلَ مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَالْعَبَّاسُ عَمُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِي صلى الله عليه وسلم : " مَا ينَقَمَ ابْنُ جَمِيلٍ إِلَّا أَنَّهُ أَنْ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ ، وَأَمَّا خَالِدٌ ، فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا ، فَقَدْ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَأَمَّا الْعَبَّاسُ ، فَهِيَ عَلَيَّ وَمِثْلُهَا " ، ثُمَّ قَالَ " أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ ؟ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا کسی نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا کہ ابن جمیل حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ ادا نہیں کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن جمیل سے یہی چیز تو ناراض کرتی ہے کہ وہ پہلے تنگدست تھے پھر اللہ نے انہیں مال و دولت عطا فرمائی (اور اب وہ زکوٰۃ ادا نہیں کر رہے) باقی رہے خالد تو تم ان پر ظلم کرتے ہو کیونکہ انہوں نے تو اپنی زرہیں بھی اللہ کے راستہ میں وقف کر رکھی ہیں اور باقی رہے عباس رضی اللہ عنہ تو وہ میرے ذمے ہیں پھر فرمایا کیا یہ بات تمہارے علم میں نہیں کہ انسان کا چچا اس کے باپ کے مرتبے میں ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 8285
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حدیث نمبر: 8286
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِر ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال : " مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ يَعْنِي مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا بِيَدِهِ رَايَتَان رَايَةٌ بِيَدِ مَلَكٍ ، وَرَايَةٌ بِيَدِ شَيْطَانٍ ، فَإِنْ خَرَجَ لِمَا يُحِبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، اتَّبَعَهُ الْمَلَكُ بِرَايَتِهِ ، فَلَمْ يَزَلْ تَحْتَ رَايَةِ الْمَلَكِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ ، وَإِنْ خَرَجَ لِمَا يُسْخِطُ اللَّهَ ، اتَّبَعَهُ الشَّيْطَانُ بِرَايَتِهِ ، فَلَمْ يَزَلْ تَحْتَ رَايَةِ الشَّيْطَانِ ، حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب بھی کوئی شخص اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اس کے دروازے پر دو جھنڈے ہوتے ایک جھنڈا فرشتے کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور دوسرا شیطان کے ہاتھ میں ہوتا ہے اگر وہ اللہ کی رضا والے عمل کے لئے نکلتا ہے تو فرشتہ اپنا جھنڈا لے کر اس کے پیچھے پیچھے راونہ ہوجاتا ہے اور وہ گھر لوٹنے تک فرشتے کے جھنڈے تلے ہوتا ہے اور اگر وہ اللہ کی ناراضگی والے عمل کے لئے نکلتا ہے تو شیطان اپنا جھنڈا لے کر اس کے پیچھے روانہ ہوجاتا ہے اور وہ گھر واپس آنے تک شیطان کے جھنڈے تلے رہتا ہے
حدیث نمبر: 8287
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِر ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال : " لَعَنَ َرسولُ اللَّهِ الْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے والے اور کروانے والے دونوں پر لعنت فرمائی ہے
حدیث نمبر: 8288
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِر ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قَالَ : " لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقُ إِلَى أَهْلِهَا ، حَتَّى تُقَادَ الشَّاةُ الْجَمَّاءُ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن حقداروں کو ان کے حقوق ادا کئے جائیں گے حتی کہ بےسینگ بکری کو سینگ والی بکری سے جس نے اسے سینگ مارا ہوگا بھی قصاص دلوایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 8289
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِر ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال : " الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا مؤمن کے لئے قیدخانہ اور کافر کے لئے جنت ہے۔
حدیث نمبر: 8290
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِير ، عَنِ ابْنِ يَعْقُوبَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَبَقَ الْمُفَرِّدُونَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَنْ الْمُفَرِّدُون ؟ قَالَ " الَّذِينَ يُهْتَرُونَ فِي ذِكْرِ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مفردون سبقت لے گئے صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ مفردون کون لوگ ہوتے ہیں ؟ فرمایا جو اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8291
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ " ، قال عبد الله بن أحمد : وَفِي كِتَابِ أَبِي : وَطُولُهُ سِتُّونَ ذِرَاعًا ، فَلَا أَدْرِي حَدَّثَنَا بِهِ أَمْ لَا ! .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے (میرے والد صاحب کی کتاب میں یہ بھی تھا کہ حضرت آدم علیہ السلام کا قد ساٹھ ہاتھ تھا اب مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے ہم سے یہ بیان کیا تھا یا نہیں) ؟
حدیث نمبر: 8292
حَدَّثَنا َأَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ الْيَمَامِيِّ ، قَالَ : قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ : يَا يَمَامِيُّ ، لَا تَقُولَنَّ لِرَجُلٍ وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ ، أَوْ لَا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ أَبَدًا ، قُلْتُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، إِنَّ هَذِهِ لَكَلِمَةٌ يَقُولُهَا أَحَدُنَا لِأَخِيهِ وَصَاحِبِهِ إِذَا غَضِبَ ، قَالَ : فَلَا تَقُلْهَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلَانِ ، كَانَ أَحَدُهُمَا مُجْتَهِدًا فِي الْعِبَادَةِ ، وَكَانَ الْآخَرُ مُسْرِفًا عَلَى نَفْسِهِ ، فَكَانَا مُتَآخِيَيْنِ ، فَكَانَ الْمُجْتَهِدُ لَا يَزَالُ يَرَى الْآخَرَ عَلَى ذَنْبٍ ، فَيَقُولُ : يَا هَذَا ، أَقْصِرْ ، فَيَقُولُ : خَلِّنِي وَرَبِّي ، أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا ؟ ! قَالَ : إِلَى أَنْ رَآهُ يَوْمًا عَلَى ذَنْبٍ اسْتَعْظَمَهُ ، فَقَالَ لَهُ : وَيْحَكَ ، أَقْصِرْ ، قَالَ : خَلِّنِي وَرَبِّي ، أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا ؟ ! قَالَ : فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ ، أَوْ لَا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ أَبَدًا ، قَالَ : أَحَدُهُمَا ، قَالَ : فَبَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِمَا مَلَكًا ، فَقَبَضَ أَرْوَاحَهُمَا ، وَاجْتَمَعَا عنده ، فَقَالَ لِلْمُذْنِبِ : اذْهَبْ فَادْخُلْ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي ، وَقَالَ لِلْآخَرِ : أَكُنْتَ بِي عَالِمًا ، أَكُنْتَ عَلَى مَا فِي يَدِي خَازِنًا ، اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ ، قَالَ : فَوَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ ، لَتَكَلَّمَ بِالْكَلِمَةِ أَوْبَقَتْ دُنْيَاهُ وَآخِرَتَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
ضمضم بن جوس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے یمامی کسی آدمی کے متعلق یہ ہرگز نہ کہنا کہ واللہ تیری بخشش کبھی نہیں ہوگی یا اللہ تجھے کبھی جنت میں داخل نہیں کرے گا میں نے عرض کیا کہ اے ابوہریرہ یہ تو ہم میں سے ہر شخص غصہ کے وقت اپنے بھائی اور ساتھی سے کہہ دیتا ہے ؟ فرمایا لیکن تم پھر بھی نہ کہنا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بنی اسرائیل میں دو آدمی تھے ان میں سے ایک بڑا عبادت گذار تھا اور دوسرا بہت بدکار وگناہگار تھا عبادت گذار نے گناہگار سے یہ کہہ دیا کہ واللہ تیری کبھی بخشش نہ ہوگی یا اللہ تجھے کبھی جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ اللہ نے ان دونوں کے پاس ملک الموت کو بھیجا اور اس نے دونوں کی روح قبض کرلی اور وہ دونوں اللہ کے حضور اکٹھے ہوئے اللہ نے گناہگار سے فرمایا کہ تو میرے رحم و کرم سے جا اور جنت میں داخل ہوجا اور دوسرے سے فرمایا کیا تو میرے فیصلوں کو جانتا تھا ؟ کیا تو میرے قبضے میں موجود ہوگیا تھا ؟ اسے جہنم میں لے جاؤ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے اس نے صرف ایک کلمہ ایسا بولا جس نے اس کی دنیا و آخرت کو تباہ و برباد کردیا۔
حدیث نمبر: 8293
حَدَّثَنَا أَبُو عَاَمِرٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، مِنْ أَهْلِ قُبَاءَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُول : " إِنْ طَالَتْ بكْ مُدَّةٌ ، أَوْشَكَ أَنْ تَرَوْا قَوْمًا يَغْدُونَ فِي سَخَطِ اللَّهِ ، وَيَرُوحُونَ فِي لَعْنَةِ اللَّهِ ، فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو عنقریب تم ایک ایسی قوم کو دیکھو گے جس کی صبح اللہ کی ناراضگی میں اور شام اللہ کی لعنت میں ہوگی اور ان کے ہاتھوں میں گائے کی دموں کی طرح ڈنڈے ہوں گے۔
حدیث نمبر: 8294
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ عُرِضَ لَهُ شَيْءٌ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسْأَلَهُ ، فَلْيَقْبَلْهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ بن مانگے کچھ مال و دولت عطاء فرما دیں تو اسے قبول کرلینا چاہئے کیونکہ یہ رزق ہے جو اللہ نے اس کے پاس بھیجا ہے۔
حدیث نمبر: 8295
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : إِنِّي إِذَا رَأَيْتُكَ طَابَتْ نَفْسِي ، وَقَرَّتْ عَيْنِي ، فَأَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ ، قَالَ : " كُلُّ شَيْءٍ خَلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْمَاءِ " . قَالَ : أَنْبِئْنِي بِأَمْرٍ إِذَا أَخَذْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، قَالَ : " أَفْشِ السَّلَامَ ، وَأَطْعِمْ الطَّعَامَ ، وَصِلْ الْأَرْحَامَ ، وَصَلِّ وَالنَّاسُ نِيَامٌ ، ثُمَّ ادْخُلْ الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ " ، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ : وَأَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْءٍ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میں آپ کو دیکھتا ہوں تو میرا دل ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور آنکھوں کو قرار آجاتا ہے آپ مجھے ہر چیز کی اصل بتائیے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر چیز پانی سے پیدا کی گئی ہے میں نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتا دیجئے کہ اگر میں اسے تھام لوں تو جنت میں داخل ہوجاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سلام پھیلاؤ طعام کھلاؤ صلہ رحمی کرو اور راتوں کو جس وقت لوگ سو رہے ہوں تم قیام کرو اور سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔
حدیث نمبر: 8296
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتُكَ طَابَتْ نَفْسِي ، وَقَرَّتْ عَيْنِي ، فَأَنْبِئْنِي عَنْ كُلِّ شَيْء . . . " فَذَكَرَ مَعْنَاهُ .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حدیث نمبر: 8297
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِر ، حَدَّثَنَا أَبُو مَوْدُودٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُول : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ دَخَلَ هَذَا الْمَسْجِدَ فَبَزَقَ أَوْ تَنَخَّمَ ، أَوْ تَنَخَّعَ ، فَلْيَحْفِرْ فِيهِ وَلْيُبْعِدْ ، فَلْيَدْفِنْهُ ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ ، فَفِي ثَوْبِهِ ثُمَّ لِيَخْرُجْ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو کر ناک صاف کرنا یا تھوکنا چاہے تو اسے چاہئے کہ وہ دور چلا جائے اور اسے دفن کر دے اگر ایسا نہ کرسکے تو اپنے کپڑے میں تھوک لے۔
حدیث نمبر: 8298
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِر ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " مَنْ أُرِيدَ مَالُهُ بِغَيْرِ حَقٍّ فَقُتِلَ ، فَهُوَ شَهِيدٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کا مال ناحق اس سے چھیننے کی کوشش کی جائے اور وہ اس کی حفاطت کرتے ہوئے مارا جائے تو وہ شہید ہے
حدیث نمبر: 8299
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِر , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ تَمْرٍ ، فَجَعَلْتُهُ فِي مِكْتَلٍ لَنَا ، فَعَلَّقْنَاهُ فِي سَقْفِ الْبَيْتِ ، فَلَمْ نَزَلْ نَأْكُلُ مِنْهُ حَتَّى كَانَ آخِرُهُ أَصَابَهُ أَهْلُ الشَّامِ حَيْثُ أَغَارُوا عَلَى الْمَدِينَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ کھجوریں عطاء فرمائیں میں نے اسے ایک تھیلی میں رکھ لیا اور اس تھیلی کو اپنے گھر کی چھت میں لٹکا لیا ہم اس میں سے کھجور نکال کر کھاتے رہتے (لیکن وہ کم نہ ہوتیں) لیکن جب شام والوں نے مدینہ منورہ پر حملہ کیا تو وہ ان کے ہاتھ لگ گئی۔
حدیث نمبر: 8300
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ ، حَدَّثَنَا عَمْروُ بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلَّمَ : " الزَّانِي الْمَجْلُودُ لَا يَنْكِحُ إِلَّا مِثْلَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوڑوں سے پٹا ہوا زانی اپنے ہی جیسے رشتے سے نکاح کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 8301
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : أَقَمْتُ بِالْمَدِينَةِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ سَنَةً ، فَقَالَ لِي ذَاتَ يَوْمٍ وَنَحْنُ عِنْدَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ : لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا لَنَا ثِيَابٌ إِلَّا الْبِرَادُ الْمُفَتَّقَةُ ، وَإِنَّهُ لَيَأْتِي عَلَى أَحَدِنَا الْأَيَّامُ مَا يَجِدُ طَعَامًا يُقِيمُ بِهِ صُلْبَهُ ، حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَأْخُذُ الْحَجَرَ فَيَشُدُّهُ عَلَى أَخْمَصِ بَطْنِهِ ، ثُمَّ يَشُدُّهُ بِثَوْبِهِ لِيُقِيمَ بِهِ صُلْبَه ، " فَقَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَنَا تَمْرًا " ، فَأَصَابَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنَّا سَبْعَ تَمَرَاتٍ فِيهِنَّ حَشَفَةٌ ، فَمَا سَرَّنِي أَنَّ لِي مَكَانَهَا تَمْرَةً جَيِّدَةً ، قَالَ : قُلْتُ : لِم ؟ قَالَ : تَشُدُّ لِي مِنْ مَضْغِي . قَالَ : فَقَالَ لِي : مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ ؟ قُلْتُ مِنَ الشَّامِ ، قَالَ : فَقَالَ لِي : هَلْ رَأَيْتَ حَجَرَ مُوسَى ؟ قُلْتُ : وَمَا حَجَرُ مُوسَى ؟ قَالَ : إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالُوا لِمُوسَى قَوْلًا تَحْتَ ثِيَابِهِ فِي مَذَاكِيرِهِ ، قَالَ : فَوَضَعَ ثِيَابَهُ عَلَى صَخْرَةٍ وَهُوَ يَغْتَسِلُ ، قَالَ : فَسَعَتْ ثِيَابُهُ ، قَالَ : فَتَبِعَهَا فِي أَثَرِهَا وَهُوَ يَقُولُ : يَا حَجَرُ ، أَلْقِ ثِيَابِي ، حَتَّى أَتَتْ بِهِ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَرَأَوْا مُسْتَوِيًا حَسَنَ الْخَلْقِ ، فَلَجَبَهُ ثَلَاثَ لَجَبَاتٍ ، فَوَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ ، لَوْ كُنْتُ نَظَرْتُ ، لَرَأَيْتُ لَجَبَاتِ مُوسَى فِيهِ .
مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ میں ایک سال تک حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی رفاقت میں رہا ہوں ایک دن جب کہ ہم حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے قریب تھے وہ مجھ سے کہنے لگے کہ میں نے اپنے آپ پر وہ وقت بھی دیکھا ہے کہ ہمارے پاس سوائے پھٹی پرانی چادروں کے کوئی دوسرے کپڑے نہ ہوتے تھے اور ہم پر کئی کئی دن ایسے گذر جاتے تھے کہ اتنا کھانا بھی نہ ملتا تھا جس سے کمر سیدھی ہوجائے حتی کہ ہم لوگ اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتے تھے تاکہ اسی کے ذریعے کمر سیدھی ہوجائے۔ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان کچھ کجھوریں تقسیم فرمائیں اور ہم میں سے ہر ایک کے حصے میں سات سات کھجوریں آئیں جن میں ایک کھجور گدر بھی تھی مجھے اس کی جگہ عمدہ کھجور ملنے کی کوئی تمنا نہ پیدا ہوئی میں نے پوچھا کیوں ؟ فرمایا مجھے چبانے میں دشواری ہوتی پھر مجھ سے فرمایا تم کہاں سے آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا شام سے فرمایا کیا تم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا پتھر دیکھا ہے ؟ میں نے پوچھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا کیسا پتھر ہے ؟ فرمایا کہ ایک مرتبہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شرمگاہ کے متعلق انتہائی نازیبا باتیں کہیں ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے غسل کرنے کے لئے اپنے کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھے وہ ان کے کپڑے لے کر بھاگ گیا حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے اے پتھر میرے کپڑے دے دے اے پتھر میرے کپڑے دے دے کہتے ہوئے دوڑے یہاں تک کہ وہ پتھر بنی اسرائیل کے پاس پہنچ کر رک گیا انہوں نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تو بالکل تندرست ہیں اور ان کی جسامت بھی انتہائی عمدہ ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے غصے میں آ کر اس پتھر پر تین ضربیں لگائیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جان ہے اگر میں اسے دیکھ پاتا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ضربوں کے نشان بھی نظر آجاتے۔
حدیث نمبر: 8302
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا فَرْقَدٌ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَكْذَبَ النَّاسِ الصَّوَّاغُونَ ، وَالصَّبَّاغُونَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے بڑھ کر جھوٹے رنگریز اور زرگر ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 8303
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا : حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، قَالَ : ثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَبَادَرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا : طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَالدَّجَّال ، وَالدُّخَانَ ، وَدَابَّةَ الْأَرْضِ ، وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ ، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ " ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ : وَكَانَ قَتَادَةُ إِذَا قَالَ : " وَأَمْرَ الْعَامَّةِ " ، قَالَ : وَأَمْرَ السَّاعَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھ واقعات رونما ہونے سے قبل اعمال صالحہ میں سبقت کرلو سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دجال کا خروج، دھواں چھاجانا، دابۃ الارض کا خروج تم میں سے کسی خاص آدمی کی موت یا سب کی عمومی موت۔
حدیث نمبر: 8304
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَدِّي سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " هَلَاكُ أُمَّتِي عَلَى يَدِ غِلْمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ " ، قَالَ مَرْوَانُ : وَهُوَ مَعَنَا فِي الْحَلْقَةِ قَبْلَ أَنْ يَلِيَ شَيْئًا , فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ غِلْمَةً ، قَالَ : وَأَمَا وَاللَّهِ لَوْ أَشَاءُ أَقُولُ : بَنُو فُلَانٍ وَبَنُو فُلَانٍ ، لَفَعَلْتُ ، قَالَ : فَقُمْتُ أَخْرُجُ أَنَا مَعَ أَبِي وَجَدِّي إِلَى مَرْوَانَ بَعْدَمَا مُلِّكُوا ، فَإِذَا هُمْ يُبَايِعُونَ الصِّبْيَانَ مِنْهُمْ ، وَمَنْ يُبَايِعُ لَهُ وَهُوَ فِي خِرْقَةٍ ، قَالَ لَنَا : هَلْ عَسَى أَصْحَابُكُمْ هَؤُلَاءِ أَنْ يَكُونُوا الَّذِينَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَذْكُرُ أَنَّ هَذِهِ الْمُلُوكَ يُشْبِهُ بَعْضُهَا بَعْضًا ؟ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں ہوگی یہ حدیث سن کر مروان نے جو ہمارے ساتھ درس حدیث کے حلقے میں بیٹھا ہوا تھا اور ابھی گورنر نہیں بنا تھا کہا کہ ان لڑکوں پر اللہ کی لعنت ہو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا واللہ اگر میں چاہوں تو ان کے قبیلوں کے نام تک بتاسکتا ہوں راوی کہتے ہیں کہ جب مروان گورنر بن گیا تو میں اپنے والد اور دادا کے ساتھ روانہ ہوا وہ لوگ بچوں سے بھی بیعت لے رہے تھے اور جس کے لئے بیعت لے رہے تھے وہ ایک چادر میں لپٹا ہوا تھا اس نے ہم سے کہا کہ شاید تمہارے ان ساتھیوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بادشاہوں کے متعلق ایک حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہو کہ یہ ایک دوسرے کے مشابہہ ہیں۔
حدیث نمبر: 8305
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ : الْمَطْعُونُ ، وَالْمَبْطُونُ ، وَالْغَرِقُ ، وَصَاحِبُ الْهَدْم ، وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شہداء پانچ طرح کے لوگ ہیں طاعون میں مبتلا ہو کر مرنا بھی شہادت ہے پیٹ کی بیماری میں مرنا بھی شہادت ہے دریا میں غرق ہو کر مرنا بھی شہادت ہے گر کر مرنا بھی شہادت ہے جہاد فی سبیل اللہ میں مارا جانا بھی شہادت ہے۔
حدیث نمبر: 8306
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نُعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ ، ويشرب بيمينه ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ ، وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب بھی کھانا کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور دائیں ہاتھ سے پیئے کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھاتا پیتا ہے۔
حدیث نمبر: 8307
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ يَذْكُرُونَ الْكَمْأَةَ ، وَبَعْضُهُمْ يَقُولُ : جُدَرِيُّ الْأَرْضِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْكَمْأَةُ مِنَ الْمَنِّ ، وَمَاؤُهَا شِفَاءٌ لِلْعَيْنِ ، وَالْعَجْوَةُ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَهِيَ شِفَاءٌ مِنَ السُّمِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس تشریف لائے تو وہ اس درخت کے بارے میں اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے جو سطح زمین سے ابھرتا ہے اور اسے قرار نہیں ہوتا چنانچہ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہمارے خیال میں وہ کھنبی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھنبی تو من (جو بنی اسرائیل پر نازل ہوا تھا) کا حصہ ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفاء ہے اور عجوہ کھجور جنت کی کھجو رہے اور وہ زہر کی شفاء ہے۔
حدیث نمبر: 8308
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَال : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَأْخُذَ أُمَّتِي مَا أَخَذَ الْأُمَمَ وَالْقُرُونَ قَبْلَهَا ، شِبْرًا بِشِبْرٍ ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَمَا فَعَلَتْ فَارِسُ وَالرُّومُ ؟ قَالَ : " وَهَلْ النَّاسُ إِلَّا أُولَئِك ؟ ! " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک میری امت گزشتہ امتوں والے اعمال میں بالشت بالشت بھر اور گز گز بھر مبتلا نہ ہوجائے صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ کیا جیسے فارس اور روم کے لوگوں نے کیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو کیا ان کے علاوہ بھی پہلے کوئی لوگ گذرے ہیں ؟
حدیث نمبر: 8309
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، وَأَبُو سَلَمَةَ , قَالَا : ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنَ بِلَالٍ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَعَنَ الرَّجُلَ يَلْبَسُ لُبْسَةَ الْمَرْأَةِ ، وَالْمَرْأَةَ تَلْبَسُ لُبْسَةَ الرَّجُلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کا لباس پہننے والے مردوں اور مردوں کا لباس پہننے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 8310
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ سَفَرًا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي ، قَالَ : " أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ ، وَالتَّكْبِيرِ عَلَى كُلِّ شَرَفٍ " ، فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ ازْوِ لَهُ الْأَرْضَ ، وَهَوِّنْ عَلَيْهِ السَّفَرَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا وہ سفر پر جانا چاہ رہا تھا کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی وصیت فرما دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی اور ہر بلندی پر تکبیر کہنے کی وصیت کرتا ہوں جب اس شخص نے واپسی کے لئے پشت پھیری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ اس کے لئے زمین کو لپیٹ دے اور سفر کو آسان فرما۔
حدیث نمبر: 8311
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ ، وَالْقِلَّةِ ، وَالذِّلَّةِ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ ، أَوْ أُظْلَمَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ میں فقر و فاقہ قلت اور ذلت سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور اس بات سے کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے
حدیث نمبر: 8312
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِيُسَلِّمْ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي ، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ ، وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِير " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاہئے کہ سوار پیدل کو ، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو اور تھوڑے لوگ زیادہ کو سلام کریں۔
حدیث نمبر: 8313
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَأَبُو الْمُنْذِرِ , قَالَا : ثَنَا مَالِكٌ , عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ زُفَرِ بْنِ صَعْصَعَةَ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ , يَقُولُ : " هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا ؟ إِنَّهُ لَيْسَ يَبْقَى بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی نماز سے فارغ ہو کر صحابہ رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کر کے بیٹھتے تو فرماتے کہ تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب تو نہیں دیکھا ؟ میرے بعد نبوت کا کوئی جزو سوائے اچھے خوابوں کے باقی نہیں رہا۔
حدیث نمبر: 8314
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي لَبِيدٍ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَنِي جِبْرِيلُ بِرَفْعِ الصَّوْتِ فِي الْإِهْلَالِ ، فَإِنَّهُ مِنْ شَعَائِرِ الْحَجِّ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبرائیل نے مجھے بلند آواز سے تلبیہ پڑھنے کا حکم پہنچایا ہے کیونکہ تلبیہ شعائر حج میں سے ہے۔
حدیث نمبر: 8315
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّمْسَ لَمْ تُحْبَسْ لِبَشَرٍ إِلَّا لِيُوشَعَ لَيَالِيَ سَارَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوائے یوشع علیہ السلام کے اور کسی کے لئے سورج کو محبوس نہیں کیا گیا ان کے ساتھ یہ واقعہ ان دنوں میں پیش آیا تھا جب انہوں نے بیت المقدس کی طرف پیش قدمی کی تھی۔
حدیث نمبر: 8316
حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص حصول علم کے راستے پر چلتا ہے اللہ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 8317
حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَزُورًا فَانْتَهَبَهَا النَّاسُ ، فَنَادَى مُنَادِيهِ : إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنِ النُّهْبَةِ ، فَجَاءَ النَّاسُ بِمَا أَخَذُوا ، فَقَسَمَهُ بَيْنَهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ ذبح کیا لوگ اسے چھین کرلے گئے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ منادی کردی کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں لوٹ مار سے منع کرتے ہیں چنانچہ لوگوں نے جو گوشت لیا تھا وہ سب واپس لے آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان کے درمیان تقسیم فرما دیا۔
حدیث نمبر: 8318
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُبَاشِرْ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ ، وَلَا الرَّجُلُ الرَّجُلَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت دوسری عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے اسی طرح کوئی مرد دوسرے مرد کے ساتھ ایسا نہ کرے۔
…