حدیث نمبر: 7199
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنِّي أَنْظُرُ أَوْ إِنِّي لَأَنْظُرُ مَا وَرَائِي ، كَمَا أَنْظُرُ إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيَّ ، فَسَوُّوا صُفُوفَكُمْ ، وَأَحْسِنُوا رُكُوعَكُمْ وَسُجُودَكُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے اپنے آگے اور سامنے کی چیزیں دیکھ رہا ہوتا ہوں اس لئے تم اپنی صفیں سیدھی رکھا کرو اور اپنے رکوع و سجود کو خوب اچھی طرح ادا کیا کرو۔
حدیث نمبر: 7200
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقَدَّمُوا بَيْنَ يَدَيْ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ ، وَلَا يَوْمَيْنِ ، إِلَّا رَجُلًا كَانَ يَصُومُ صَوْمًا ، فَلْيَصُمْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھا کرو البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزہ رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہئے۔
حدیث نمبر: 7201
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ ، قَالَ : ذَكَرَهَا أَبُو هُرَيْرَةَ وَنَسِيَهَا مُحَمَّدٌ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، وَأَتَى خَشَبَةً مَعْرُوضَةً فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : بِيَدِهِ عَلَيْهَا ، كَأَنَّهُ غَضْبَانُ ، وَخَرَجَتْ السَّرَعَانُ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ ، قَالُوا : قُصِرَتْ الصَّلَاةُ ، قَالَ : وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدَيْهِ طُولٌ ، يُسَمَّى : ذَا الْيَدَيْنِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَسِيتَ أَمْ قُصِرَتْ الصَّلَاةُ ؟ فَقَالَ : " لَمْ أَنْسَ ، وَلَمْ تُقْصَرْ الصَّلَاةُ " ، قَالَ : " كَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، قال : فَجَاءَ فَصَلَّى الَّذِي تَرَكَ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ كَبَّرَ ، فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ ، أَوْ أَطْوَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ " . قَالَ : فَكَانَ مُحَمَّدٌ يُسْأَلُ ثُمَّ سَلَّمَ ؟ فَيَقُولُ : نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ ، قَالَ : ثُمَّ سَلَّمَ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کی دو میں سے کوئی ایک نماز (جس کا نام حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا تھا راوی محمد بھول گئے۔ غالباً مغرب یا عشاء) پڑھائی اور دو رکعتیں پڑھا کر ہی سلام پھیر دیا اور مسجد میں موجود اس تنے کے پاس تشریف لائے جو چوڑائی میں تھا اور اپنے ہاتھ سے ایسا اشارہ کیا گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں ہوں جلد باز قسم کے لوگ مسجد سے نکلنے اور کہنے لگے کہ نماز کی رکعتیں کم ہو گئیں اس وقت لوگوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تھے لیکن اس معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے میں انہیں ہیبت محسوس ہوئی انہی لوگوں میں ایک اور آدمی بھی تھا جس کے ہاتھ کچھ زیادہ لمبے تھے اور اسی بناء پر اسے ذوالیدین کہا جاتا تھا اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ بھول گئے یا نماز کی رکعتیں کم ہو گئی ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھولا ہوں اور نہ ہی نماز کی رکعتیں کم ہوئی ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا ایسا ہی ہے جیسے ذوالیدین کہہ رہے ہیں ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے ان کی تائید کی اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے اور جتنی رکعتیں چھوٹ گئی تھیں انہیں ادا کیا اور سلام پھیر کر اللہ اکبر کہا اور نماز کے سجدہ کی طرح یا اس سے کچھ طویل سجدہ کیا پھر سر اٹھا کر تکبیر کہی (اور بیٹھ گئے پھر دوبارہ تکبیر کہہ کر دوسرا سجدہ کیا جو پہلے کی طرح یا اس سے کچھ طویل تھا پھر سجدہ سے سر اٹھا کر (تکبیر کہی) محمدنامی راوی سے جب پوچھا جاتا تھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سلام پھیرا ؟ تو وہ کہتے کہ مجھے خبردی گئی ہے کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا۔
حدیث نمبر: 7202
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ ، هُمْ أَرَقُّ أَفْئِدَةً ، الْإِيمَانُ يَمَانٍ ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ ، وَالْفِقْهُ يَمَانٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے پاس اہل یمن آئے ہیں یہ لوگ نرم دل ہیں اور ایمان حکمت اور فقہ اہل یمن میں بہت عمدہ ہے۔
حدیث نمبر: 7203
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُنَجِّيهِ عَمَلهُ " ، قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي رَبِّي بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ ، وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي رَبِّي مِنْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَرَحْمَةٍ " . مَرَّتَيْنِ ، أَوْ ثَلَاثًا .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا : مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے یہ جملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ دہرایا۔
حدیث نمبر: 7204
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ . وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ إِلَى أَهْلِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، حَتَّى يُقْتَصَّ لِلشَّاةِ الْجَمَّاءِ مِنَ الشَّاةِ الْقَرْنَاءِ تَنْطَحُهَا " . وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ يَعْنِي فِي حَدِيثِهِ : " يُقَادَ لِلشَّاةِ الْجَلْحَاءِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن حقداروں کو ان کے حقوق ادا کئے جائیں گے حتی کہ بےسینگ بکری کو سینگ والی بکری سے جس نے اسے سینگ مارا ہو گا بھی قصاص دلوایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 7205
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ . وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِئِ ، مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آپس میں گالی گلوچ کرنے والے دو آدمی جو کچھ بھی کہیں اس کا گناہ گالی گلوچ کی ابتداء کرنے والے پر ہو گا جب تک کہ مظلوم حد سے تجاوز نہ کرے۔
حدیث نمبر: 7206
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ ، وَلَا عَفَا رَجُلٌ عَنْ مَظْلَمَةٍ ، إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ عِزًّا ، وَلَا تَوَاضَعَ عبدٌ لله ، إلا رفعه الله " . وقال ابن جعفر : " رجل أو أحد ، إلا رفعه الله " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : صدقہ کے ذریعے مال کم نہیں ہوتا ہے اور جو آدمی کسی ظلم سے درگزر کرلے اللہ اس کی عزت میں اضافہ فرماتا ہے اور جو آدمی اللہ کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ اسے رفعتیں ہی عطاء کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 7207
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ . وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْيَمِينُ الْكَاذِبَةُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ ، مَمْحَقَةٌ لِلْكَسْبِ " . وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : " لِلبَرَكَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جھوٹی قسم کھانے سے سامان تو بک جاتا ہے لیکن برکت مٹ جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 7208
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّذْرِ " ، وَقَالَ : " إِنَّهُ لَا يُقَدِّمُ شَيْئًا ، وَلَكِنَّهُ يَسْتَخْرِجُ مِنَ الْبَخِيلِ " . وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ : " يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منت ماننے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اس سے کوئی چیز وقت سے پہلے نہیں مل سکتی البتہ منت کے ذریعہ بخیل آدمی سے مال نکلوا لیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 7209
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَرْفَعُ اللَّهُ بِهِ الدَّرَجَاتِ ، وَيُكَفِّرُ بِهِ الْخَطَايَا ؟ إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعے اللہ درجات بلند فرماتا ہے اور گناہوں کا کفارہ بناتا ہے طبعی ناپسندیدگی کے باوجود (خاص طور پر سردی کے موسم میں) خوب اچھی طرح وضو کرنا کثرت سے مسجدوں کی طرف قدم اٹھانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔
حدیث نمبر: 7210
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤْمِنُ يَغَارُ ، الْمُؤْمِنُ يَغَارُ ، الْمُؤْمِنُ يَغَارُ ، وَاللَّهُ أَشَدُّ غَيْرًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مومن غیرت مند ہوتا ہے مومن غیرت کرتا ہے مومن باغیرت ہوتا ہے اور اللہ اس سے بھی زیادہ غیور ہے۔
حدیث نمبر: 7211
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَقِيتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَنَا جُنُبٌ ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ ، حَتَّى قَعَدَ ، فَانْسَلَلْتُ ، فَأَتَيْتُ الرَّحْلَ ، فَاغْتَسَلْتُ ، ثُمَّ جِئْتُ وَهُوَ قَاعِدٌ ، فَقَالَ : " أَيْنَ كُنْتَ ؟ " فَقُلْتُ : لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَجْلِسَ إِلَيْكَ وَأَنَا جُنُبٌ ، فَانْطَلَقْتُ ، فَاغْتَسَلْتُ ، فَقَالَ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ! إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ناپاکی کی حالت میں میری ملاقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گئی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتارہا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جگہ بیٹھ گئے میں موقع پا کر پیچھے سے کھسک گیا اور اپنے خیمے میں آ کر غسل کیا اور دوبارہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی وہیں تشریف فرما تھے مجھے دیکھ کر پوچھنے لگے کہ تم کہاں چلے گئے تھے ؟ میں نے عرض کیا کہ جس وقت آپ سے ملاقات ہوئی تھی۔ میں ناپاکی حالت میں تھا مجھے ناپاکی کی حالت میں آپ کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اچھا نہ لگا اس لئے میں چلا گیا اور غسل کیا (پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سبحان اللہ ! مومن تو ناپاک نہیں ہوتا۔
حدیث نمبر: 7212
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِكُمْ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا ، وَأَحْسَنُكُمْ أَعْمَالًا " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : سَأَلْتُ أَبِي ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَسُهيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ؟ قَالَ : لَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا ذَكَرَ الْعَلَاءَ إِلَّا بِخَيْرٍ ، وَقَدَّمَ أَبَا صَالِحٍ عَلَى الْعَلَاءِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بہتر کون ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی یا رسول اللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن کی عمر طویل ہو اور عمل بہترین ہو۔
حدیث نمبر: 7213
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ ، عَنْ بَرَكَةَ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُدُّ يَدَيْهِ ، حَتَّى إِنِّي لَأَرَى بَيَاضَ إِبْطَيْهِ " . وَقَالَ سُلَيْمَانُ : يَعْنِي فِي الِاسْتِسْقَاءِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح ہاتھ پھیلائے ہوئے دیکھا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک بغل کی سفیدی دیکھ رہا تھا راوی کہتے ہیں کہ یہ نماز استسقاء کا موقع تھا۔
حدیث نمبر: 7214
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْجُمُعَةَ عَلَى مَنْ قَبْلَنَا ، فَاخْتَلَفُوا فِيهَا ، وَهَدَانَا اللَّهُ لَهَا ، فَالنَّاسُ لَنَا فِيهَا تَبَعٌ ، غَدًا لِلْيَهُودِ ، وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ نے ہم سے پہلے لوگوں پر بھی جمعہ فرض کیا تھا لیکن وہ اس میں اختلاف کرنے لگے جب کہ اللہ نے ہمیں اس معاملے میں رہنمائی عطاء فرمائی چنانچہ اب لوگ اس دن کے متعلق ہمارے تابع ہیں کل کا دن (ہفتہ) یہودیوں کا ہے اور پرسوں کا دن (اتوار) عیسائیوں کا ہے۔
حدیث نمبر: 7215
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا ، يَهْوِي بِهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بعض اوقات انسان کوئی بات کرتا ہے وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا لیکن قیامت کے دن اسی ایک کلمہ کے نتیجے میں ستر سال تک جہنم میں لڑھکتا رہے گا
حدیث نمبر: 7216
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيد ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَدْرَكْتَ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، فَصَلِّ عَلَيْهَا أُخْرَى " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تمہیں طلوع آفتاب سے قبل نماز فجر کی ایک رکعت مل جائے تو اس کے ساتھ دوسری رکعت بھی شامل کر لو۔
حدیث نمبر: 7217
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ بَنِي هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى ، فَأَلْقَتْ جَنِينًا ، " فَقَضَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ ، أَوْ أَمَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بنوہذیل کی دو عورتوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا ان میں سے ایک نے دوسری کو جو امید سے تھی پتھر دے مارا اس کے پیٹ کا بچہ مرا ہوا پیدا ہو گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلے میں ایک غرہ یعنی غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا : ۔
حدیث نمبر: 7218
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ بِالْمَدِينَةِ مَا ذَعَرْتُهَا ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اگر میں مدینہ منورہ میں ہر نوں کو دیکھ بھی لوں تب بھی انہیں نہ ڈراؤں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مدینہ منورہ کے دونوں کونوں کی درمیانی جگہ حرم ہے۔
حدیث نمبر: 7219
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ ، وَلَكِنَّ الشَّدِيدَ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پہلوان وہ نہیں ہے جو کسی کو پچھاڑ دے اصل پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔
حدیث نمبر: 7220
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يُكَبِّرُ ، كُلَّمَا خَفَضَ ، وَرَفَعَ وَيَقُولُ " إِنِّي أَشْبَهُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
مولانا ظفر اقبال
ابوسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نماز پڑھتے ہوئے جب بھی سر کو جھکاتے یا بلند کرتے تو تکبیر کہتے اور فرماتے کہ میں تم سب سے زیادہ نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہہ ہوں۔
حدیث نمبر: 7221
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ تَوَضَّأَ ، فَلْيَنْثُرْ ، وَمَنْ اسْتَجْمَرَ ، فَلْيُوتِرْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص وضو کرے اسے ناک بھی صاف کرنا چاہیے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے اسے طاق عدداختیار کرنا چاہیے۔
حدیث نمبر: 7222
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَن ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، تُسَافِرُ يَوْمًا ، وَلَيْلَةً ، إِلَّا مَعَ ذِي رَحِمٍ مِنْ أَهْلِهَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کسی ایسی عورت کے لئے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں ہے کہ اپنے اہل خانہ میں سے کسی محرم کے بغیر ایک دن کا بھی سفر کرے۔
حدیث نمبر: 7223
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا بَيْنَ بَيْتِي ، وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ ، وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : زمین کا جو حصہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کا ایک باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر نصب کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 7224
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ ، فَأَكْلُهُ حَرَامٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر وہ درندہ جو کچلی والے دانتوں سے شکار کرتا ہو اسے کھانا حرام ہے۔
حدیث نمبر: 7225
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنَ الْعَذَابِ ، يَمْنَعُ أَحَدَكُمْ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ ، وَنَوْمَهُ ، فَإِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ نَهْمَتَهُ مِنْ سَفَرِهِ ، فَلْيُعَجِّلْ إِلَى أَهْلِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سفر بھی عذاب کا ایک ٹکڑا ہے جو تم میں سے کسی کو اس کے کھانے پینے اور نیند سے روک دیتا ہے پس جب تم میں سے کوئی شخص اپنی ضرورت کو پورا کرچکے تو وہ جلد از جلد اپنے گھر کو لوٹ آئے۔
حدیث نمبر: 7226
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ ، وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ ، لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ ، وَلَوْ يَعْلَمُوا مَا فِي التَّهْجِيرِ ، لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ ، وَلَوْ يَعْلَمُوا مَا فِي الْعِشَاءِ ، وَالصُّبْحِ ، لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اذان اور صف اول میں نماز کا کیا ثواب ہے اور پھر انہیں یہ چیزیں قرعہ اندازی کے بغیرحاصل نہ ہوسکیں تو وہ ان دونوں کا ثواب حاصل کرنے کے لئے قرعہ اندازی کرنے لگیں اور اگر لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ جلدی نماز میں آنے کا کتنا ثواب ہے تو وہ اس کی طرف سبقت کرنے لگیں اور اگر انہیں یہ معلوم ہو جائے کہ نماز عشاء اور نماز فجر کا کتنا ثواب ہے تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرور شرکت کریں خواہ انہیں گھسٹ گھسٹ کر ہی آنا پڑے۔
حدیث نمبر: 7227
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ ، حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ ، فَيَقُولَ : يَا لَيْتَنِي كُنْتُ مَكَانَكَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک (ایسا نہ ہو جائے کہ) ایک آدمی دوسرے کی قبر پر سے گزرے گا اور کہے گا کہ اے کاش ! میں تیری جگہ ہوتا۔
حدیث نمبر: 7228
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ ، حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ ، قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ تیس کے قریب دجال و کذاب لوگ نہ آ جائیں جن میں سے ہر ایک کا گمان یہی ہو گا کہ وہ اللہ کا پیغمبر ہے۔
حدیث نمبر: 7229
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ " كَذَاكَ عِلْمِي ، قَالُوا : إِنَّكَ تُوَاصِلُ ؟ قَالَ : " إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي ، رَبِّي وَيَسْقِينِي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے اپنے آپ کو بچاؤ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمائی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ تو اس طرح تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس معاملے میں میں تمہاری طرح نہیں ہوں میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب خود ہی مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 7230
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عبدُ الرحمن ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَأْتُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ ، وَأْتُوهَا وَعَلَيْكُمْ السَّكِينَةُ ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ ، فَصَلُّوا وَمَا فَاتَكُمْ ، فَأَتِمُّوا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نماز کے لئے دوڑتے ہوئے مت آیا کرو بلکہ اطمینان اور سکون کے ساتھ آیا کرو جتنی نماز مل جائے وہ پڑھ لیا کرو اور جو رہ جائے اسے مکمل کر لیا کرو۔
حدیث نمبر: 7231
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ . وَرَوْحٌ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ رَوْحٌ : ابْنِ مَعْمَرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : رَوْحٌ : أَبُو الْحُبَابِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ : قَالَ رَوْحٌ : يَوْمَ الْقِيَامَةِ : أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي ؟ الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي ، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ارشاد فرمائیں گے میری خاطرآپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ میرے جلال کی قسم ! آج میں انہیں اپنے سائے میں جبکہ میرے سائے کے علاوہ کہیں سایہ نہیں۔ جگہ عطاء کروں گا۔
حدیث نمبر: 7232
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُمِرْتُ بِقَرْيَةٍ تَأْكُلُ الْقُرَى ، يَقُولُونَ يَثْرِبُ ، وَهِيَ الْمَدِينَةُ تَنْفِي النَّاسَ ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے ایسی بستی میں جانے کا حکم ملا جو دوسری تمام بستیوں کو کھآ جائے گی۔ لوگ اسے یثرب کہتے ہیں حالانکہ اس کا صحیح نام مدینہ ہے اور مدینہ لوگوں کے گناہوں کو ایسے دور کردیتا ہے جیسے لوہار کی بھٹی لوہے کے میل کچیل کو دور کردیتی ہے۔
حدیث نمبر: 7233
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حدثنا مَالِكٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ الزُّرَقي ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ فِي مَاءِ الْبَحْرِ : " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ ، الْحَلَالُ مَيْتَتُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے پانی کے متعلق فرمایا : کہ اس کا پانی پاکیزگی بخش ہے اور اس کا مردار (مچھلی) حلال ہے
حدیث نمبر: 7234
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ ، لَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ ، وَلَا الطَّاعُونُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مدینہ منورہ کے سوراخوں پر فرشتوں کا پہرہ ہے اس لئے یہاں دجال یا طاعون داخل نہیں ہوسکتا۔
حدیث نمبر: 7235
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُصِبْ مِنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ جس شخص کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتے ہیں اسے وہ بھلائی پہنچا دیتے ہیں۔
حدیث نمبر: 7236
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا ، فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ ، أَوْ مَا فِي دُونِ خَمْسَةٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا یعنی پانچ وسق یا اس سے زیادہ مقدار کو اندازے سے بیچنے کی رخصت عطاء فرمائی ہے۔
حدیث نمبر: 7237
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الْآخِرِ ، فَلْيَتَعَوَّذْ مِنْ أَرْبَعٍ : مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ، وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص قعدہ اخیرہ سے فارغ ہو جائے تو اسے چاہئے کہ چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے عذاب جہنم سے عذاب قبر سے زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے شر سے۔
حدیث نمبر: 7238
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ ، وَصَفَّ النَّاسُ صُفُوفَهُمْ ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَامَ مَقَامَهُ ، ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ : أَنْ مَكَانَكُمْ ، فَخَرَجَ وَقَدْ اغْتَسَلَ ، وَرَأْسُهُ يَنْطِفُ ، فَصَلَّى بِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کی اقامت ہونے لگی اور لوگ صفیں درست کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور اپنے مقام پر کھڑے ہوگئے تھوڑی دیر بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو ہاتھ کے اشارے سے فرمایا : کہ تم لوگ یہیں ٹھہرو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے جب واپس آئے تو غسل فرما رکھا تھا اور سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
…