حدیث نمبر: 8239
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ ، رَأَيْتُ أَنِّي أَنْزِعُ عَلَى حَوْضِي أَسْقِي النَّاسَ ، فَأَتَانِي أَبُو بَكْرٍ ، فَأَخَذَ الدَّلْوَ مِنْ يَدِي لِيُرِفَّهُ ، حَتَّى نَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ ، وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ ، قَالَ : فَأَتَانِي ابْنُ الْخَطَّابِ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ، فَأَخَذَهَا مِنِّي ، فَلَمْ يَنْزِعْ رَجُلٌ حَتَّى تَوَلَّى النَّاسُ ، وَالْحَوْضُ يَتَفَجَّرُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں سو رہا تھا خواب میں میں نے دیکھا کہ میں اپنے حوض پر ڈول کھینچ کر لوگوں کو پانی پلا رہا ہوں پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور مجھے راحت پہنچانے کے لئے میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا اور دو ڈول کھینچے لیکن اس میں کچھ کمزوری کے آثار تھے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اللہ ان کی مغفرت فرمائے انہوں نے وہ ڈول لیا ان کے بعد کسی آدمی کو ڈول کھینچنے کی نوبت نہیں آئی یہاں تک کہ لوگ سیراب ہو کر چلے گئے اور حوض میں سے پانی ابھی بھی ابل رہا تھا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8239
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 7022، م: 2392
حدیث نمبر: 8240
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا خُوزَ وَكِرْمَانَ ، قَوْمًا مِنَ الْأَعَاجِمِ حُمْرَ الْوُجُوهِ ، فُطْسَ الْأُنُوفِ ، صِغَارَ الْأَعْيُنِ ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم خوز اور کرمان جو عجمیوں کی ایک قوم ہے سے جنگ نہ کرلو ان کے چہرے سرخ ناکیں چپٹی ہوئی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی اور ان کے چہرے چپٹی ہوئی کمان کی مانند ہوں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8240
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3590، م: 2912
حدیث نمبر: 8241
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا أَقْوَامًا نِعَالُهُمْ الشَّعْرُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہ کرو جن کی جوتیاں بالوں سے بنی ہوں گی
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8241
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8242
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخُيَلَاءُ وَالْفَخْرُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تکبر اور فخر گھوڑے اور اونٹ والوں میں ہوتا ہے اور سکون و اطمینان بکری والوں میں ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8242
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4388، م: 52
حدیث نمبر: 8243
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ ، مُسْلِمُهُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِهِمْ ، وَكَافِرُهُمْ تَبَعٌ لِكَافِرِهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دین کے معاملے میں تمام لوگ قریش کے تابع ہیں عام مسلمان قریشی مسلمانوں اور عام کافر قریشی کافروں کے تابع ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8243
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3495، م: 1818
حدیث نمبر: 8244
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ ، صالحُ نِسَاءُ قُرَيْشٍ ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ ، وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو بچپن میں اپنی اولاد پر شفیق اور اپنے شوہر کی اپنی ذات میں سب سے بڑی محافظ ہوتی ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8244
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5082، م: 2527
حدیث نمبر: 8245
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَيْنُ حَقٌّ " ، وَنَهَى عَنِ الْوَشْمِ .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نظر لگنا برحق ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جسم گدوانے سے منع فرمایا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8245
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 5740، م: 2187
حدیث نمبر: 8246
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتْ الصَّلَاةُ هِيَ تَحْبِسُهُ ، لَا يَمْنَعُهُ إِلَّا انْتِظَارُهَا " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی جب تک نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے اسے نماز ہی میں شمار کیا جاتا ہے نماز کا انتظار ہی اسے مسجد میں روک کر رکھتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8246
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 477، م: 649
حدیث نمبر: 8247
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے اور تم صدقات و خیرات میں ان لوگوں سے ابتداء کرو جو تمہاری ذمہ داری میں آتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8247
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1426
حدیث نمبر: 8248
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ " ، قَالُوا : كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ مِنْ عَلَّاتٍ ، وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى ، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ ، فَلَيْسَ بَيْنَنَا نَبِيٌّ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمام لوگوں میں دین و آخرت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریب ہوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیسے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام انبیاء (علیہم السلام) باپ شریک بھائی ہیں اور ان کی مائیں مختلف ہیں اور ان کا دین ایک ہی ہے میرے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8248
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3442، م: 2365
حدیث نمبر: 8249
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أُوتِيتُ بِخَزَائِنِ الْأَرْضِ ، فَوُضِعَ فِي يَدَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، فَكَبُرَا عَلَيَّ وَأَهَمَّانِي ، فَأُوحِيَ إِلَيَّ : أَنْ انْفُخْهُمَا ، فَنَفَخْتُهُمَا فَذَهَبَا ، فَأَوَّلْتُهُمَا الْكَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا صَاحِبُ صَنْعَاءَ ، وَصَاحِبُ الْيَمَامَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ میں سو رہا تھا اسی دوران میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اور میرے دونوں ہاتھوں پر سونے کے دو کنگن رکھ دئیے گئے مجھے وہ بڑے گراں گذرے چنانچہ مجھ پر وحی آئی کہ انہیں پھونک مار دو چنانچہ میں نے انہیں پھونک مار دی اور وہ غائب ہوگئے میں نے اس کی تعبیر ان دو کذابوں سے کی جن کے درمیان میں ہوں یعنی صنعا والا (اسود عنسی) اور یمامہ والا (مسیلمہ کذاب)
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8249
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4375، م: 2274
حدیث نمبر: 8250
وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ وَاحِدٌ منكُمْ بِمُنْجِيهِ عَمَلُهُ ، وَلَكِنْ سَدِّدُوا وَقَارِبُوا " ، قَالُوا : وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ " وَلَا أَنَا ، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ وَفَضْلٍ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا البتہ سیدھے اور قریب رہو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8250
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، خ: 5673، م: 2816
حدیث نمبر: 8251
وَقَالَ : وَقَالَ : " نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ وَلِبْسَتَيْنِ : أَنْ يَحْتَبِيَ أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى فَرْجِهِ مِنْهُ شَيْءٌ ، وَأَنْ يَشْتَمِلَ فِي إِزَارِهِ إِذَا مَا صَلَّى ، إِلَّا أَنْ يُخَالِفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقِهِ ، وَنَهَى عَنِ اللَّمْسِ وَالنَّجْشِ " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کی خریدو فروخت اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے لباس تو یہ ہے کہ انسان ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھے اور اس کی شرمگاہ پر ذرا سا بھی کپڑا نہ ہو اور یہ کہ نماز پڑھتے وقت انسان اپنے ازار میں لپٹ کر نماز پڑھے الاّ یہ کہ وہ اس کے دو کنارے مخالف سمت سے اپنے کندھوں پر ڈال لے اور بیع ملامسہ اور نجش سے منع فرمایا ہے۔ فائدہ : بیع ملامسہ کا مطلب یہ ہے کہ خریدار یہ کہہ دے کہ میں جس چیز پر ہاتھ رکھ دوں وہ اتنے روپے کی میری ہوگئی اور نجش سے مراد دھوکہ ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8251
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2145، م: 1511
حدیث نمبر: 8252
وَقَال : " الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " .
مولانا ظفر اقبال
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چوپائے کا زخم رائیگاں ہے کنوئیں میں گر کر مرنے والے کا خون رائیگاں ہے کان میں مرنے والے کا خون بھی رائیگاں ہے اور وہ دفینہ جو کسی کے ہاتھ لگ جائے اس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8252
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 2355، م: 1710
حدیث نمبر: 8253
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أنا أَشْبَهُكُمْ صَلاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَه " ، قَالَ : " رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ " ، وَكَانَ يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ ، َإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْن ، قَال : " اللَّهُ أَكْبَرُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نماز کے اعتبار سے میں تم سب سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہہ ہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو ربنا و لک الحمد کہتے جب رکوع میں جاتے یا رکوع سے سر اٹھاتے یا دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوتے تو ہر موقع پر تکبیر کہتے
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8253
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 795، م: 392
حدیث نمبر: 8254
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِم ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ مِنْ بَنِي آدَمَ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ بِإِصْبَعِهِ ، إِلَّا مَرْيَم وابنها " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر پیدا ہونے والے بچے کو شیطان اپنی انگلی سے کچوکے لگاتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہ السلام کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8254
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 3431، م: 2366
حدیث نمبر: 8255
عن رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قال : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِه ، إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى مَا وَرَائِي كَمَا أَنْظُرُ إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيَّ ، فَسَوُّوا صُفُوفَكُمْ ، وَأَحْسِنُوا رُكُوعَكُمْ ، وَسُجُودَكُم " .
مولانا ظفر اقبال
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں اپنے پیچھے بھی اسی طرح دیکھتا ہوں جیسے اپنے آگے اور سامنے کی چیزیں دیکھ رہا ہوتا ہوں اس لئے تم اپنی صفیں سیدھی رکھا کرو اور اپنے رکوع و سجود کو خوب اچھی طرح ادا کیا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8255
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 418، م: 423
حدیث نمبر: 8256
وَبِإِسْنَادِه ، وَبِإِسْنَادِه ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال : " لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ مِنْ حَوْلِ الْمَسْجِدِ لَا يَشْهَدُونَ الْعِشَاَء ، أَوْ لَّا حَرِّقَنَّ حَوْلَ بُيُوتِهِمْ بِحُزَمِ الْحَطَب " .
مولانا ظفر اقبال
اور گزشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد کے ارد گرد رہنے والے جو لوگ نماز عشاء میں نہیں آتے وہ نماز ترک کرنے سے باز آجائیں ورنہ میں ان کے گھروں کے پاس لکڑیوں کے گٹھے جمع کر کے انہیں آگ لگا دوں گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8256
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 2420، م: 651
حدیث نمبر: 8257
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الَّأَسْوَدِ بْنِ الََْعَلَاءِ الثَّقَفِيّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَة ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَال : " مِنْ حِينِ يَخْرُجُ أَحَدُكُمْ مِنْ بَيْتِهِ إِلَى مَسْجِدِهِ فَرِجْلٌ تَكْتُبُ حَسَنَةً ، وَالْأُخْرَى تَمْحُو سَيِّئَة " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص اپنے گھر سے میری مسجد کے لئے نکلے تو اس کے ایک قدم پر نیکی لکھی جاتی ہے اور دوسرا قدم اس کے گناہ مٹاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8257
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 477، م: 666
حدیث نمبر: 8258
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ يَعْنِي الزَّيَّاتَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنِ اْلأَغَرِّ أَبِي مُسْلِم ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، وأبي سعيدٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَال : " فَيُنَادِي مَعَ ذَلِك : إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا , وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلاَ تَسْقَمُوا أَبَدًا ، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشُبُّوا فَلاَ تَهْرَمُوا أَبَدًا ، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا فَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا " قَال : َيَتَنَادَوْنَ بِهَذِهِ الْأَرْبَعَةِ .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اہل جنت میں یہ منادی کردی جائے گی کہ تم زندہ رہو گے کبھی نہ مرو گے ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ ہو گے ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے کبھی غم نہ دیکھو گے یہ چار انعامات منادی کر کے سنائیں جائیں گے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8258
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8259
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، وَقَالَ لَنَا : وَاللَّهِ مَا خَلَقَ اللَّهُ مُؤْمِنًا يَسْمَعُ بِي ولَا يَرَانِي إِلَا أَحَبَّنِي ، قُلْت : وَمَا عِلْمُكَ بِذَلِكَ يَا أَبَا هُرَيْرَة ؟ قَالََ : إِنَّ أُمِّي كَانَتْ امْرَأَةً مُشْرِكَة ، وَإِنِّي كُنْتُ أَدْعُوهَا إِلَى الَّأْسْلام ، وَكَانَتْ تَأْبَى عَلَيَّ ، فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا ، فَأَسْمَعَتْنِي فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْرَهُ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الْإسْلام ، وَكَانَتْ تَأْبَى عَلَيّ ، وَإِنِّي دَعَوْتُهَا الْيَوْمَ فَأَسْمَعَتْنِي فِيكَ مَا أَكْرَهُ ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ اهْدِ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ " . فَخَرَجْتُ أَعْدُو أُبَشِّرُهَا بِدُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَتَيْتُ الْبَابَ إِذَا هُوَ مُجَافٍ ، وَسَمِعْتُ خَضْخَضَةَ الْمَاءِ ، وَسَمِعْتُ خَشْفَ رِجْلٍ يَعْنِي وَقْعَهَا ، فَقَالَتْ : يَا أَبَا هُرَيْرَة ، كَمَا أَنْتَ ، ثُمَّ فَتَحَتْ الْبَابَ وَقَدْ لَبِسَتْ دِرْعَهَا وَعَجِلَتْ عَنْ خِمَارِهَا ، فَقَالَتْ : إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْكِي مِنَ الْفَرَحِ كَمَا بَكَيْتُ مِنَ الْحُزْنِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَبْشِرْ ، فَقَدْ اسْتَجَابَ اللَّهُ دُعَاءَكَ ، وَقَدْ هَدَى أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُحَبِّبَنِي أَنَا وَأُمِّي إِلَى عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ وَيُحَبِّبُهُمْ إِلَيْنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَكَ هَذَا وَأُمَّهُ إِلَى عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ وَحَبِّبْهُمْ إِلَيْهِمَا " ، فَمَا خَلَقَ اللَّهُ مُؤْمِنًا يَسْمَعُ بِي ولَا يَرَانِي ، أَوْ يَرَى أُمِّي إِلّا وَهُوَ يُحِبُّنِي .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ واللہ اللہ جس مومن کو پیدا کرتا ہے اور وہ میرے متعلق سنتا ہے یا مجھے دیکھتا ہے تو مجھ سے محبت کرنے لگتا ہے راوی نے پوچھا کہ اے ابوہریرہ آپ کو اس کا علم کیسے ہوا ؟ فرمایا دراصل میری والدہ مشرک عورت تھیں میں انہیں اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا لیکن وہ ہمیشہ انکار کردیتی تھیں ایک دن میں نے انہیں دعوت دی تو میرے کانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسی بات سننا پڑی جو مجھے ناگوار گذری میں روتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یارسول اللہ میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا اور وہ ہمیشہ انکار کردیتی تھیں آج میں نے انہیں دعوت دی تو میرے کانوں کو آپ کے متعلق ایسی بات سننا پڑی جو مجھے ناگوار گذری آپ اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ماں کو ہدایت عطاء فرما دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرما دی کہ اے اللہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ماں کو ہدایت عطاء فرما میں دوڑتا ہوا نکلا تاکہ اپنی والدہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی بشارت دوں جب میں گھر کے دروازے پر پہنچا تو وہ اندر سے بند تھا مجھے پانی گرنے کی آواز آئی اور پاؤں کی آہٹ محسوس ہوئی والدہ نے اندر سے کہا کہ ابوہریرہ تھوڑی دیر رکے رہوتھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا تو وہ اپنی قمیض پہن چکی تھیں اور جلدی سے دوپٹہ اوڑھ لیا تھا مجھے دیکھتے ہی کہنے لگیں انی اشہد ان لا الہ الا اللہ و ان محمدا عبدہ و رسولہ یہ سنتے ہی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ خوشی کے آنسو لئے حاضر ہوا جیسے پہلے غم کے مارے رو رہا تھا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! مبارک ہو اللہ نے آپ کی دعا قبول کرلی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ماں کو ہدایت نصیب فرما دی۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ مومن بندوں کے دل میں میری اور میری والدہ کی محبت پیدا فرما دے اور ان کی محبت ان دونوں کے دلوں میں ڈال دے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرما دی کہ اے اللہ اپنے مومن بندوں کے دل میں اپنے اس بندے اور اس کی والدہ کی محبت پیدا فرما اور ان کی محبت ان کے دلوں میں پیدا فرما اس کے بعد اللہ نے جو مومن بھی پیدا کیا اور وہ میرے بارے سنتا یا مجھے دیکھتا ہے یا میری والدہ کو دیکھتا ہے تو وہ مجھ سے محبت کرنے لگتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8259
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وهذا إسناد حسن، م: 2491
حدیث نمبر: 8260
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وابن لهيعة ، قالا : حَدَّثَنَا أَبُو اْْلَأسْوَدِ يَتِيمُ عُرْوَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَة هَلْ صَلَّيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْخَوْف ؟ فَقَالَ : أَبُو هُرَيْرَةَ : نَعَمْ ، فَقَالَ : مَتَى ؟ قَالَ : عَامَ غَزْوَةِ نَجْدٍ ، " قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلاةِ الْعَصْرِ ، وَقَامَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ ، وَطَائِفَةٌ أُخْرَى مُقَابِلَةَ الْعَدُوِّ ظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرُوا جَمِيعًا الَّذِينَ مَعَهُ وَالَّذِينَ يُقَابِلُونَ الْعَدُوَّ ، ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَاحِدَةً ، ثُمَّ رَكَعَتْ مَعَهُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ ، ثُمَّ سَجَدَ ، وَسَجَدَتْ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ ، وَالآخَرُونَ قِيَامٌ مُقَابِلَةَ الْعَدُوّ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَامَتْ الطَّائِفَةُ الَّتِي مَعَهُ ، فَذَهَبُوا إِلَى الْعَدُوِّ فَقَابَلُوهُمْ ، وَأَقْبَلَتْ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلَةَ الْعَدُوِّ ، فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ كَمَا هُوَ ، ثُمَّ قَامُوا ، فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً أُخْرَى ، وَرَكَعُوا مَعَهُ ، وَسَجَدُوا مَعَهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ تُقَابِلُ الْعَدُوَّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ وَمَنْ تَبِعَهُ ، ثُمَّ كَانَ التَّسْلِيمُ ، فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمُوا جَمِيعًا ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ ، وَلِكُلِّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَتَانِ رَكْعَتَانِ " .
مولانا ظفر اقبال
ایک مرتبہ مروان بن حکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! مروان نے پوچھا کب ؟ انہوں نے فرمایا غزوہ نجد کے سال اور وہ اس طرح کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر کے لئے کھڑے ہوئے ایک گروہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا اور دوسرا دشمن کے مد مقابل جس کی پشت قبلہ کی طرف تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور سب لوگوں نے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں شریک تھے یا دشمن سے قتال کر رہے تھے۔ تکبیر کہی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رکوع کیا پیچھے والے گروہ نے بھی رکوع کیا پھر سجدہ کیا تو پیچھے والے گروہ نے بھی سجدہ کیا دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ساتھ والا گروہ بھی کھڑا ہوگیا یہ لوگ دشمن سے جا کر لڑنے لگے اور دشمن کے مد مقابل جو گروہ لڑ رہا تھا وہ یہاں آگیا انہوں نے سب سے پہلے رکوع سجدہ کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے رہے جب وہ کھڑے ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوسری رکعت پڑھائی اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع سجدہ کیا پھر دشمن کا مد مقابل گروہ بھی آگیا اور اس نے پہلے رکوع سجدہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر مقتدی بیٹھے رہے پھر سلام پھیر دیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو سب نے اکٹھے ہی سلام پھیر دیا اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی دو رکعتیں ہوئیں اور ہر گروہ کی بھی دو دو رکعتیں ہوئیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8260
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8261
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَن ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْغِفَارِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَة ، يَقُول : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتْبَعُ الْحَرِيرَ مِنَ الثِّيَابِ فَيَنْزِعُهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ریشمی کپڑوں کا پیچھا کرتے تھے اور انہیں اتار دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8261
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، وإسناده قوي، خ: 6419
حدیث نمبر: 8262
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَن ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَتَتْ عَلَيْهِ سِتُّونَ سَنَةً ، فَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَيْهِ فِي الْعُمُرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اللہ نے ساٹھ سال تک زندگی عطاء فرمائی ہو اللہ اس کا عذر پورا کردیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8262
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8263
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَن ، حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ ، قال : سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، قَال : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُول : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " شَرُّ مَا فِي رَجُلٍ شُحٌّ هَالِعٌ ، وَجُبْنٌ خَالِعٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انسان میں سب سے بدترین چیز بےصبرے پن کے ساتھ بخل اور حد سے زیادہ بزدل ہونا ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8263
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8264
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال : " مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ طِيبٌ فَلاَ يَرُدَّهُ ، فَإِنَّهُ خَفِيفُ الْمَحْمَلِ ، طَيِّبُ الرَّائِحَةِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے سامنے خوشبو پیش کی جائے اسے وہ رد نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اس کا بوجھ ہلکا اور مہک عمدہ ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8264
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2253
حدیث نمبر: 8265
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَة ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، قَال : كَتَبَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُرْمُزْ مَوْلًى مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ يُذْكَر ، َعنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَال : " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَحَمَلَ مِنْ عُلُوِّهَا ، وَحَمَلَ فِي قَبْرِهَا ، وَقَعَدَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَهُ ، آبَ بِقِيرَاطَيْنِ مِنَ الَأجْرِ ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی جنازہ کے ساتھ شریک ہو اسے کندھا دے قبر میں مٹی ڈالے اور دفن سے فراغت ہونے تک انتظار کرتا رہے اسے دو قیراط کے برابر ثواب ملے گا جن میں سے ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوگا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8265
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عبدالله بن هرمز، وأما أصل الحديث فصحيح، انظر فى خ: 1325 و م: 945
حدیث نمبر: 8266
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ مِنْ كِتَابِهِ ، قَالَ : ثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَمْرِو الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي نُعَيْمَةَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مُسْلِمِ بْنِ يَسَار ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " مَنْ تَقَوَّلَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّار ، وَمَنْ اسْتَشَارَهُ أَخُوهُ الْمُسْلِمُ ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ بِغَيْرِ رُشْدٍ ، فَقَدْ خَانَه ، وَمَنْ أَفْتَى بِفُتْيَا غَيْرِ ثَبْتٍ ، فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى مَنْ أَفْتَاهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے جس شخص سے اس کا مسلمان بھائی کوئی مشورہ مانگے اور وہ اسے درست مشورہ نہ دے تو اس نے خیانت کی اور جس شخص کو غیرمستند فتوی دے دیا گیا ہو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8266
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة عمرو، أما القسم الأول من الحديث صحيح متواتر، خ: 110، م: 3
حدیث نمبر: 8267
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ الْخَوْلانِيُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " سَيَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يُحَدِّثُونَكُمْ مَا لَمْ تَسْمَعُوا بِهِ أَنْتُمْ وَلا آبَاؤُكُمْ ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب آخر زمانے میں میری امت میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو تمہارے سامنے ایسی احادیث بیان کریں گے جو تم نے سنی ہوں گی اور نہ ہی تمہارے آباء و اجداد نے ایسے لوگوں سے اپنے آپ کو بچانا اور ان سے دور رہنا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8267
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4830، م: 2554
حدیث نمبر: 8268
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنِ الأَْعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال : " إِذَا سَمِعْتُمْ أَصْوَاتَ الدِّيَكَة ، فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا ، فَاسْأَلُوا اللَّهَ وَارْغَبُوا إِلَيْهِ ، وَإِذَا سَمِعْتُمْ نُهَاقَ الْحَمِيرِ ، فَإِنَّهَا رَأَتْ شَيْطَانًا ، فَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ مَا رَأَتْ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم (رات کے وقت) مرغ کی بانگ سنو تو یاد رکھو کہ اس نے کسی فرشتے کو دیکھا ہوگا اس لئے اس وقت اللہ کے فضل کا سوال کرو اور جب (رات کے وقت) گدھے کی آواز سنو تو اس نے شیطان کو دیکھا ہوگا اس لئے اللہ سے شیطان کے شر سے پناہ مانگا کرو۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8268
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3303، م: 2729
حدیث نمبر: 8269
حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنِ الأْعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم . . . . ، فذكر معناه .
مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8269
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 8270
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَن ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيد ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَمَانَا بِاللَّيْلِ فَلَيْسَ مِنَّا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص رات کو ہم پر تیر اندازی کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8270
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن، وفي هذا الإسناد ضعف من جهة يحيى، فهو لين الحديث
حدیث نمبر: 8271
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال : " حَقُّ الْمُؤْمِنِ عَلَى الْمُؤْمِنِ سِتُّ خِصَالٍ : أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَه , وَيُشَمِّتَهُ إِذَا عَطَسَ ، وَإِنْ دَعَاهُ أَنْ يُجِيبَهُ ، وَإِذَا مَرِضَ أَنْ يَعُودَهُ ، وَإِذَا مَاتَ أَنْ يَشْهَدَهُ ، وَإِذَا غَابَ أَنْ يَنْصَحَ لَهُ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں (١) ملاقات ہو تو سلام کرے (٢) چھینکے تو اس کا جواب دے (٣) دعوت دے تو قبول کرے (٤) بیمار ہو تو عیادت کرے (٥) مرجائے تو جنازے میں شرکت کرے (٦) پیٹھ پیچھے اس کی خیر خواہی کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8271
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 1240، م: 2162، فى هذا الإسناد ضعف، عبدالله فيه لين
حدیث نمبر: 8272
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى سَلْمَانَ الْخَيْرَ ، فقَالَ : " إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ يُرِيدُ أَنْ يَمْنَحَكَ كَلِمَاتٍ تَسْأَلُهُنَّ الرَّحْمَنَ تَرْغَبُ إِلَيْهِ فِيهِنَّ ، وَتَدْعُوَ بِهِنَّ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، قلَ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ صِحَّةَ إِيمَانٍ ، وَإِيمَانًا فِي خُلُقٍ حَسَن ، وَنَجَاحًا يَتْبَعُهُ فَلاَحٌ يَعْنِي وَرَحْمَةً مِنْكَ ، وَعَافِيَةً وَمَغْفِرَةً مِنْكَ ، وَرِضْوَانًا " , قَالَ أَبِي : وَهُنَّ مَرْفُوعَةٌ فِي الْكِتَابِ : " يَتْبَعُهُ فَلاَحٌ وَرَحْمَةٌ مِنْكَ ، وَعَافِيَةٌ وَمَغْفِرَةٌ مِنْكَ ، وَرِضْوَانٌ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو جو سلمان الخیر کے نام سے مشہور تھے وصیت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے نبی تمہیں چند کلمات کا تحفہ دینا چاہتے ہیں جن کے ذریعے تم رحمان سے سوال کرسکو اس کی طرف اپنی رغبت ظاہر کرسکو اور رات دن ان کلمات کے ذریعے اسے پکارا کرو چنانچہ تم یوں کہا کرو کہ اے اللہ میں تجھ سے ایمان کی درستگی کی درخواست کرتا ہوں ایمان کے ساتھ حسن اخلاق اور ایسی کامیابی جس میں دارین کی فلاح آجائے چاہتا ہوں اور آپ سے آپ کی رحمت عافیت مغفرت اور رضامندی کا طلبگار ہوں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8272
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عبدالله، فيه ضعف، ثم هو منقطع، ابن حجيرة ليست له رواية عن أبي هريرة
حدیث نمبر: 8273
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ الَأعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ وَجَدَ سَعَةً فَلَمْ يُضَحِّ ، فَلا يَقْرَبَنَّ مُصلََّانَا " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس گنجائش ہو اور وہ پھر بھی قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8273
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، عبدالله ابن عياش ضعيف يعتبر به، وقد اضطرب فيه أيضاً
حدیث نمبر: 8274
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلاَنَ ، عَنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَزَالُ لِهَذَا الأْمْرِ أَوْ عَلَى هَذَا الَأمْرِ عِصَابَةٌ عَلَى الْحَقِّ ، ولا يَضُرُّهُمْ خِلاَفُ مَنْ خَالَفَهُمْ ، حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک جماعت دین کے معاملے میں ہمیشہ حق پر رہے گی اور کسی مخالفت کرنے والے کی مخالفت اسے نقصان نہ پہنچا سکے گی یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8274
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده قوي
حدیث نمبر: 8275
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، حَدَّثَنِي أَبُو خَيْرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ، قَالَ أَبُو خَيْرَةَ : لا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآْخِرِ ، مِنْ ذُكُورِ أُمَّتِي ، فَلا يَدْخُلْ الْحَمَّامَ إِلَّا بِمِئْزَر ، وَمَنْ كَانَتْ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ مِنْ إِنَاثِ أُمَّتِي ، فَلا تَدْخُلْ الْحَمَّامَ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے مردوں میں سے جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ تہبند کے بغیر حمام میں نہ جایا کرے اور میری امت کی عورتوں میں سے جو خاتون اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو وہ حمام میں بالکل نہ جایا کرے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8275
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو خيرة لا يعرف
حدیث نمبر: 8276
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّد ، ٍوَابْنُ جَعْفَر حَدَّثَنِي شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أنه قال : " أَنَّ سُورَةً مِنَ الْقُرْآنِ ، ثَلَاثِينَ آيَةً ، شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتَّى غُفِرَ لَهُ وَهِي : تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ سورة الملك آية 1 " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قرآن کریم میں تیس آیات پر مشتمل ایک سورت ایسی ہے جس نے ایک آدمی کے حق میں سفارش کی حتٰی کہ اس کی بخشش ہوگئی اور وہ سورت ملک ہے۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8276
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لعلل
حدیث نمبر: 8277
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : تَفَرَّجَ النَّاسُ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ لَهُ نَاتِلٌ الشَّامِيُّ : أَيُّهَا الشَّيْخُ ، حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ أَوَّلَ النَّاسِ يُقْضَى فِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةٌ : رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ ، فَعَرَفَهَا ، فَقَالَ وَمَا عَمِلْتَ فِيهَا ؟ قَالَ قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى قُتِلْتُ ، قَالَ : كَذَبْتَ ، وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِيُقَالَ : هُوَ جَرِيءٌ ، فَقَدْ قِيلَ ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَيُسْحَبُ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ . وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ وَقَرَأَ الْقُرْآنَ ، فَأُتِيَ بِهِ لِيُعَرِّفَهُ نِعَمَهُ ، فَعَرَفَهَا ، فَقَالَ : مَا عَمِلْتَ فِيهَا ؟ قَال : تَعَلَّمْتُ فِيكَ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ ، وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ ، فَقَال : كَذَبْتَ ، وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ لِيُقَالَ : هُوَ عَالِمٌ ، فَقَدْ قِيلَ ، وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ : هُوَ قَارِئٌ ، فَقَدْ قِيلَ ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ ، فَيُسْحَبُ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ . وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ فَعَرَفَهَا ، فَقَالَ : مَا عَمِلْتَ فِيهَا ؟ قَالَ : مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ ، قَالَ : كَذَبْتَ ، وَلَكِنَّكَ فَعَلْتَ ذَلِكَ لِيُقَالَ : هُوَ جَوَّادٌ ، فَقَدْ قِيلَ . ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَيُسْحَبُ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ " .
مولانا ظفر اقبال
سلمان بن یسار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مجلس درس ختم ہوئی اور لوگ چھٹ گئے تو ناتل شامی نام کے ایک شخص نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ حضرت ! ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے جن لوگوں کا فیصلہ ہوگا وہ تین قسم کے لوگ ہوں گے ایک تو وہ آدمی جو شہید ہوگا اسے لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس پر اپنے انعامات گنوائے گا وہ ان سب کا اعتراف کرے گا اللہ پوچھے گا کہ پھر تو نے کیا عمل سر انجام دیا ؟ وہ عرض کرے گا کہ میں نے آپ کی راہ میں جہاد کیا حتی کہ میں شہید ہوگیا اللہ فرمائے گا کہ تو جھوٹ بولتا ہے تو نے اس لئے قتال کیا تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے سو وہ کہا جاچکا اس کے بعد حکم ہوگا اور اسے چہرے کے بل گھسیٹتے ہوئے لے جا کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ دوسرا وہ آدمی جس نے علم سیکھا اور سکھایا ہوگا اور قرآن پڑھ رکھا ہوگا اسے لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس کے سامنے اپنے انعامات شمار کروائے گا اور وہ ان سب کا اعتراف کرے گا اللہ پوچھے گا کہ تو نے کیا عمل سر انجام دیا ؟ وہ کہے گا کہ میں نے علم حاصل کیا اور تیری رضاء کے لئے دوسروں کو سکھایا اور تیری رضاء کے لئے قرآن پڑھا اللہ فرمائے گا کہ تو جھوٹ بولتا ہے تو نے علم اس لئے حاصل کیا تھا کہ تجھے عالم کہا جائے سو وہ کہا جا چکا اور تو نے قرآن اس لئے پڑھا تھا کہ تجھے قاری کہا جائے سو وہ کہا جا چکا اس کے بعد حکم ہوگا اور اسے بھی چہرے کے بل گھسیٹتے ہوئے لے جا کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ تیسرا وہ آدمی ہوگا جس پر اللہ نے کشادگی فرمائی اور اسے ہر قسم کا مال عطاء فرمایا ہوگا اسے لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس کے سامنے اپنے انعامات شمار کروائے گا اور وہ ان سب کا اعتراف کرے گا اللہ پوچھے گا کہ پھر تو نے ان میں کیا عمل سر انجام دیا ؟ وہ عرض کرے گا کہ تو جھوٹ بولتا ہے تو نے یہ کام اس لئے کیا تھا کہ تجھے بڑا سخی کہا جائے سو وہ کہا جا چکا۔ اس کے بعد حکم ہوگا اور اسے بھی چہرے کے بل گھسیٹتے ہوئے جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8277
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1905
حدیث نمبر: 8278
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْزِلُنَا غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِذَا فَتَحَ اللَّهُ الْخَيْفُ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ " .
مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کل ہم ان شاء اللہ فتح ہونے کی صورت میں خیف بن کنانہ میں پڑاؤ کریں گے جہاں قریش کے لوگوں نے کفر پر ایک دوسرے کے ساتھ قسمیں کھائی تھیں۔
حوالہ حدیث مسند احمد / مسند المكثرين من الصحابة / حدیث: 8278
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4284، م: 1314